51.4K
33

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Shiddat Junon) Episode 4

“تم غلط کررہے ہو اس معصوم کیساتھ”
عریش اسے نیچے آتا دیکھتے ہوئے اسے پھر سے بتانے لگا آبراش مڑ کر اسے دیکھنے لگا
“تم مت بولو”
وہ مختصر سا سرد لہجے میں جواب دیتے ساتھ خاموشی سے کچن کی طرف بڑھ گیا اور عریش اسے جاتا دیکھنے لگ گیا
آبراش نے اپنے لیے کافی بنائی کافی بنانے کے بعد وہ سیدھا روم کی طرف بڑھ گیا ہاتھ میں کافی کا کپ تھامے وہ کمرے میں داخل ہوا جہاں وہ بیڈ پر پرسکون سونے میں مصروف تھی اسکے چہرے پر ایک نظر ڈالے شیری بلب کی روشنی اسکے چہرے کی خوبصورتی مزید اضافہ کررہی تھی وہ ایک نظر اس پر ڈال کر اسکے ساتھ آکر بیٹھا کافی پینے لگ گیا
“تم غلط کررہے ہو اس معصوم کیساتھ”
عریش کی کہی گئی بات آبراش کے کانوں سے ٹکرائی اس نے ایک نظر پھر سے اس معصوم چہرے پر ڈالی
“میں غلط نہیں کررہا ہوں اس خود غلط کیا ہے اپنے ساتھ”
آبراش دل میں کہتے ساتھ کافی کا گھونٹ بھرتا سائیڈ ٹیبل پر کہ رکھ کر لیٹ گیا اسی وقت مہمل نے کروٹ لی اور وہ آبراش کے بلکل قریب ہو گئی اسکا چہرہ بھی آبراش کے قریب تھا آبراش کی نظر اسکے چہرے پر گئی اسکی گرم گرم سانسیں اپنے چہرے پر محسوس کرکے آبراش نے چہرہ قریب کیا اور اسکے چہرے کے ہر نقوش کو بہت غور سے دیکھنے لگا بڑی بڑی آنکھیں جن کی گھنی پلکیں پتلی تیکھی سی ناک گلابی لب اور وہ اسکے چہرے کے قریب ہوکر اپنی سانسیں اسکے چہرے پر جھلسانے لگا لیکن وہ گہری نیند سو رہی تھی آبراش خود پر قابو ناپاتے ہوئے اپنے لب مہمل کی ناک پر رکھ گیا اور شدت سے اس پر اپنے ہونٹ لمس محسوس کروایا وہ نیند میں ہلکا سا کسمسائی آبراش نے اسکی کمر پر ہاتھ ڈال کر اسے اپنے قریب کیا


صبح مہمل کی آنکھ کھلی وہ اٹھی اور بیڈ کراؤن کیساتھ ٹیک لگا گئی وہ گلاس وال سے آتی روشنی پر ایک نظر ڈال کر آس پاس دیکھنے لگی آبراش کہیں بھی موجود نہیں تھا
“ساتھ رہنا ہے تو سب کی عادت ڈال لوں مسز آبراش شاہ”
آبراش کے رات والے کہے گئے الفاظ یاد کرتے ہی چہرے پر دلفریب مسکراہٹ آئی
“مسز آبراش شاہ”
وہ زیرِ لب چہرے پر مسکراہٹ سجائے بولی اسے یہ لفظ بےحد اچھا لگ رہا تھا
“لیکن گئے کہاں ہے”
وہ منہ بنائے ادھر ادھر پورے کمرے میں نظر گھمائے سوچتے ہوئے بیڈ سے اٹھی سلیپر پہن کر وہ واشروم میں فریش ہونے کیلیے چلی گئی
کچھ ہی دیر میں وہ فریش ہوکر آئی تو ٹیبل پر ٹرے میں ناشتہ پڑا تھا وہ دیکھتے ہی مسکرائی اور سامنے وہ شخص اسے نظر انداز کرتا خود پر پرفیوم چھڑکنے لگا اسکا اس طرح نظر انداز کرنا مہمل کو سخت ناگوار گزرا
“کس کے لیے ہے یہ”
وہ ٹرے کی طرف اشارہ کیے آبراش کو مخاطب کرنے لگی جو شیشے سے اسے اپنی طرف دیکھتا دیکھ چکا تھا
“تمہارا”
وہ اسے لفظی جواب دیتا جیکٹ پہننے لگ گیا مہمل کے چہرے پر مسکراہٹ آئی
“آپ نے خود بنایا ہے “
وہ پیار سے معصومیت سے اسکے قریب آکر پوچھنے لگی اسکے قریب آنے پر آبراش نے ایک نظر اسے دیکھا اور کوئی جواب دیے بغیر باہر کی طرف بڑھنے لگا
“آئی ایم گیٹینگ لیٹ”
وہ سرد لہجے میں اسے جواب دیتے ساتھ باہر کی طرف بڑھ گیا
“اینگری مین کہیں کے”
تپ کر منہ بنائے کہتے ساتھ بالوں کو کیچڑ میں قید کیے ناشتہ کرنے لگ گئی


“وہ کسی اور کی ہوگئی ہے”
اسکے ساتھ موجود اسکا ساتھی اسے کہنے لگا وہ منہ پر سگریٹ لیے گہرے گہرے کش لگانے میں مصروف تھا اسکی بات سن کر وہ اپنی آنکھیں اسکی طرف کرگیا
“ہوجائے کسی اور کی لیکن میں بھی اسے اتنی ہی شدت سے چاہوں گا گا”
وہ سرد و سپاٹ لہجے میں اس کو جواب دیتے ساتھ دوبارہ سگریٹ منہ سے لگا گیا
“کچھ بھی نہیں ہے یہ پاگل پن ہے تمہارا”
وہ اسکی حالت دیکھ کر بولا
“پاگل پن ہے تو پاگل پن صحیح وہ سکون ہے میرا سکون”
وہ اپنی گولڈن بلیش سرخ آنکھیں کھڑکی سے باہر کی طرف کیے بولا جس پر وہ شخص خاموش ہو گیا
ماضی۔۔۔۔
“امی جلدی سے روٹی دیں”
ایک دس سالہ لڑکا اپنی والدہ کو پکارتے ہوئے کہنے لگا
“نہیں امی پہلے مجھے”
تبھی سات سالہ معصوم سی بچی فوراً اس لڑکے کیساتھ آکر بیٹھتے ہوئے بولی
“امی پہلے میری پیاری بہن کو دے دیں “
وہ مسکراتے ہوئے اس کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا
“تم دونوں کو ساتھ دیتی ہوں “
تبھی انکی والدہ کی آواز آئی جس پر دونوں مسکرائے
“کیا ہوا بھائی”
اسکا ساتھی اسکے ساتھ آکر کھڑا ہوتے ہوئے پوچھنے لگا اسکی بات پر کوبرہ حال میں لوٹا آنکھوں میں نمی تھی
“کچھ نہیں”
وہ سرد و سپاٹ لہجے میں جواب دیتے ساتھ سگریٹ پھینکتا کمرے کی طرف بڑھ گیا


“آپ لوگ کہاں رہ گئے تھے میں کتنا زیادہ ڈر گئی تھی اتنے بڑے گھر میں اکیلا چھوڑ گئے تھے مجھے”
مہمل ان دونوں کو آتا دیکھ فوراً خوفزدہ سی ان دونوں کی طرف بڑھی جس پر آبراش اور عریش نے ایک دوسرے کو دیکھا
“عادت بنانی ہوگی”
وہ اسے سنجیدگی سے جواب دیتے ساتھ صوفے پر بیٹھا اور عریش روم کی طرف بڑھ گیا
“کوئی احساس ہے بیوی نے صبح کے صرف دو ٹوسٹ کھائیں ہے بھوک سے جان نکل رہی ہے میری رات کے آٹھ بج رہے ہیں بھوک لگ رہی ہے “
وہ مسلسل بولتی چلی جارہی تھی جب آبراش نے اسکے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر اسے خاموش کروایا وہ اسے دیکھنے لگ گئی
“بھوک لگی ہے “
وہ اس کی سیاہ آنکھوں پر اپنی بلیو آنکھیں ڈالے اس سے پوچھنے لگا جس پر مہمل گھبراتے ہوئے اثبات میں سر ہلا گئی
آبراش نے اپنی انگلی اسکے ہونٹوں سے ہٹائی اور اٹھا
“کیا میں آسکتی ہوں”
مہمل اسے کچن کی جانب بڑھتا دیکھتے آہستگی سے اجازت لینے لگی جس پر وہ سر کو خم دے گیا اور دونوں کچن کی طرف بڑھ گئے
وہ اس کیلیے پاستہ بنا رہا تھا اور وہ اسے دیکھ رہی تھی
“واؤ اینگری مین تم تو بہترین شیف بھی ہو کیسے کاٹ رہے ہو مجھے بھی سیکھا دو”
وہ۔ اسے سبزیاں کاٹتا دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہنے لگی جس پر آبراش نے اس پر نظر ڈالی
“پھر تم خود بنانا”
وہ اسے گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے گھمبیر لہجے میں اسے بولا مہمل نے اسکی جانب دیکھا
“نہیں مجھے نہیں سیکھنا ہے کوئی بات نہیں ہم ادھر الٹا کرلیں گے شوہر بیوی کو کھانا بنا کر کھلاتا ہے”
وہ اسکی بات سے فوراً اپنا سیکھنے کا ارادہ ترک کرتی اپنا مشورہ دینے لگی اس کی بات پر آبراش نفی میں سر ہلا گیا
“ویسے آپ اور کیا کیا کر لیتے ہو”
مہمل دو منٹ کی خاموشی کے بعد پھر سے اسے مخاطب کر گئی
“تم جو کہو گی کرلوں گا”
وہ پاستہ میں چمچ ہلاتا اسے دیکھے بغیر بولا جس پر مہمل مسکرائی
“فلمیں دیکھتے ہو نا جو ایسے ڈائلاگ مار رہے ہو ہے نا”
مہمل اسے ہنستے ہوئے کہنے لگی اسکی مسکراہٹ دیکھ کر آبراش کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی جو وہ اگلے ہی لمحے چھپا گیا جب اس نے اسے پہلی دفعہ دیکھا تھا سب سے زیادہ مسکراہٹ ہی اسے اسکی پسند آئی تھی وہ پلک چھپکائے اسکی مسکراہٹ دیکھنے میں مصروف رہا
“اور کتناٹائم ہے “
وہ اپنی ہنسی روکتی نظر پاستے پر ڈال کر معصومیت سے پوچھنے لگی جس پر اس نے اسے دو منٹ کہا اور پھر پلیٹ میں ڈال کر اسکی طرف بڑھایا
“تھینکیو اینگری مین”
وہ پاستہ تھامے اسے مسکراتے ہوئے دیکھتے ساتھ کہتی باہر کی طرف بڑھ گئی وہ سب کچھ سمیٹ کر اسکے پیچھے آیا
“واؤ یہ تو بہت مزے کا ہے”
وہ کھاتے ہوئے آبراش کو دیکھ کر کہنے لگی اسکی حیرت دیکھتے ہوئے آبراش اسے دیکھنے پر مجبور ہوگیا
“آپ نے کھا لیا”
وہ پاستہ کھانے میں مصروف اسے مخاطب کرنے لگی جس پر آبراش نے اثبات میں سر ہلا دیا
“چلیں کوئی نہیں لیکن ایک چمچ تو کھائیں”
وہ پاستہ سے بڑھا فوگ اسکے منہ کی طرف بڑھائے اسے کہنے لگی آبراش ناچاہتے ہوئے بھی اسے انکار نہ کر سکا اور منہ کھول کر کھا گیا
“صحیح لو برڈز بنے ہوئے ہیں”
عریش پہلے تو آبراش کو حیرت سے پھر اسے دیکھ کر کہتے ساتھ انکے سامنے والے صوفے پر بیٹھ گیا
“آپ بھی ٹیسٹ کریں عریش بھائی میرے اینگری مین نے بہت مزے کا بنایا ہے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی جس پر عریش نے اسکے ہاتھ سے باؤل لیا اور ایک چمچ منہ میں لیا
“ہاں اچھا ہے کوئی اتنا بھی مزے کا نہیں ہے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا جب آبراش نے کوئی ردعمل نہیں کیا لیکن۔ مہمل اسے گھور کر دیکھنے لگی
۔”نہیں پسند تو پھر نہ کھائیں اور ویسے بھی میرے اینگری مین نے میرے لیے بنایا ہے آپ کیلیے نہیں اور مجھے بہت مزے کا لگ رہا ہے ہونہہ”
مہمل کو عریش کی بات سخت ناگوار گزری اس لیے تپ کر کہتے ساتھ آبراش کے چہرے پر مسکراہٹ لانے پر مجبور کر گئی اور عریش حیرت سے مہمل کو دیکھنے لگ گیا


“ملی ہے کیا یہ شخص کو نہیں جانتے کیا آپ”
مہ جبین بیگم انہیں دیکھتے ہوئے فکرمندی سے پوچھنے لگی
“نہیں میں نے بہت کوشش کی اور نہ اس شخص کو میں جانتا ہوں”
اختر صاحب افسردگی سے کہتے ساتھ صوفے پر نڈھال ہو گئے ایک ہفتہ ہوگیا تھا وہ مہمل کو ڈھونڈ رہے تھے مگر وہ نہیں ملی وہ تھک چکے تھے
“نکاح کرلیا ہے تمہاری بیٹی نے”
وہ اسے یاد دلانے لگے جس پر مہ جبین نے انہیں دیکھا
“زبردستی کی ہوگی میری بیٹی کبھی ایسا نہ کرے”
وہ یسین سے انہیں کہنے لگی جس پر سخت صاحب تصویر دیکھنے لگے
“اسکے چہرے سے کہاں سے لگ رہا ہے کہ زبردستی ہوئی ہے مسکرا رہی ہے”
اختر صاحب تصویر مہ جبین بیگم جو دیجگاتے ہوئے اداسی سے بولے جس پر مہ جبین بیگم نے بھی تصویر دیکھی
“میں یقین نہیں کرتی میری بیٹی کسی لڑکے کیلیے بھاگ گئی ہے”
وہ انہیں دیکھتے ہوئے بولی جس پر وہ خاموش رہے اور نہ جبین بیگم مہمل کی تصویر دیکھ کر رونے لگ گئی


“راش”
مہمل کمرے میں آتے ہی اس پکارنے لگی جس پراس نے اسے دیکھا
“ایسے کیا دیکھ رہے ہیں اب میں پیار سے آپ کو اسی نام سے بلاؤ گی “
وہ اسکے دیکھنے پر اسکی کنفیوژن دور کرتے ہوئے مسکرا کر کہنے لگی جس پر وہ خاموش رہا
“سنیں تو”
وہ اسے وارڈروب کی جانب جاتا دیکھتے ہوئے پکارنے لگی
“ہمم”
وہ اسے دیکھتے ہوئے سر ہلا گیا
“مجھے کب لے کر جائیں گے مام ڈیڈ کے پاس مجھے یاد آرہی ہے ان کی بہت پلیزز ملوا آئے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے بتانے لگی جس پر آبراش نے اسکے چہرے پر نظر ڈالی وہ واقع اپنے پیرینٹس کا ذکر کرتے ہی آنکھیں نم کر گئی تھی
“کچھ وقت لگے گا “
وہ اسے جواب دیتے ساتھ ٹی شرٹ لیے باتھروم کی طرف بڑھ گیا وہ اسے جاتا دیکھنے لگ گئی
“پتہ نہیں کیسے ہوں گے پریشان ہوں گے میرے لیے”
وہ اداسی سے کہتے بیڈ پر بیٹھ گئی اور رونے لگ گئی
وہ کمرے میں چینج کرکے آیا اسے روتا دیکھا ماتھے پر سلوٹیں آئی
“مہمل”
آبراش نے پہلی دفعہ اسے پکارا جس پر مہمل نے اسکی طرف دیکھا رونے سے آنکھیں سرخ ہو گئی تھی۔۔
“وائے آر یو کرائنگ”
وہ سپاٹ لہجہ لیے اسکے سامنے بیٹھتے ہوئے اسکی آنکھوں کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا
“مجھے مام ڈیڈ کی بہت یاد آرہی ہے پلیزززز کسی طرح ملوادیں یا بات کروادیں وہ پریشان ہورہے ہوں گے”
وہ اسے نم آنکھوں سے دیکھتے ہوئے بولی جس پر آبراش ایک پل اسے دیکھتا رہ گیا
“نمبر آتا ہے”
آبراش نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا جس پر نفی میں سر ہلا گئی
“ڈونٹ کرائے انہیں پتہ ہے تم ٹھیک ہو”
وہ اسے کہتے ساتھ اٹھ کر ڈریسنگ کے سامنے بڑھ گیا
“کیا واقع میرے رونے سے فڑق نہیں پڑتا”
وہ اسکی طرف دیکھتے ہوئے دل میں کہنے لگی تبھی آبرسش وہاں سے جانے لگا
“آپ کہاں جارہے ہو”
وہ اسے جاتا دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی اسکی بات پر وہ مڑ کر دیکھنے لگ گیا
“سو جاؤ تم “
وہ اسے جواب دیتے ساتھ کمرے کا دروازہ بند کرتا باہر چلا گیا مہمل اسے جاتا دیکھنے لگ گئی


“عادت مت ڈالو آبراش اسے اپنی”
وہ دونوں اس وقت عریش کے ٹیرس پر کھڑے تھے عریش اسے کہنے لگی
“میں نہیں وہ خود قریب آرہی ہے”
آبراش سگریٹ کا گہری کش لگاتے ہوئے بتانے لگا عریش نے اسے دیکھا
“تم دور رکھو اسے”
عریش اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا جس پر آبراش نے اسے دیکھا
“میں کوشش کررہا ہوں لیکن نہیں ہورہا ہے”
وہ سگریٹ منہ سے ہٹاتا اسے دیکھتے ہوئے بتانے لگا عریش کو آگے سب ٹھیک نہیں لگا
“آبراش دیکھو تمہارے لیے کہ رہا ہوں عادت مت بناؤ اسے دور رکھو قریب مت لاؤ “
عریش اسے سمجھانے لگا جس پر آبراش نے ایک نظر اس پر ڈالی
“دور رہو تم اس معاملے سے “
وہ کہتے ساتھ ٹیرس سے چلا گیا اور عریش اسے جاتا دیکھنے لگ گیا
جاری ہے