51.4K
33

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Shiddat Junon) Episode 14

صبح اسکی آنکھ کھلی نظر ساتھ گئی آبراش وہاں موجود نہیں تھا مہمل نے کمرے میں نظر گھمائی تو وہ ڈریسنگ کے سامنے کھڑا کورٹ پہن رہا تھا
“اوہ ہیرو”
وہ لیٹے ہوئے اسے دیکھتے ہوئے پکارنے لگی اسکے اس طرح پکارنے پر آبراش پریشانی سے اسے دیکھنے لگا
“کہاں جارہے ہیں”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی
“آفس”
وہ اسے دیکھتے ہوئے جواب دینے لگا وہ خود کے اوپر سے کمفرٹر ہٹاتی اٹھ کر اسکے پاس آئی اور اسکی پشت سے اپنا سر ٹکا گئی
“کیوں جارہے ہیں”
وہ اسکی پشت سے سر ٹکائے معصومیت سے پوچھنے لگی
“روز جاتا ہوں”
وہ اسکے کہنے پر بتانے لگا جس پر مہمل منہ بسور کر دیکھنے لگی
“آج نہ جائیں نہ “
وہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی جب وہ مڑ کر اسکا ہاتھ تھام گیا اور اسے قریب کیا
“جانا ہے”
وہ کہتے ساتھ اسکے ہاتھ چھوڑتا پرفیوم چھڑکنے لگا جس پر وہ اسے منہ بنائے دیکھنے لگی
“اوکے فائن جائیں”
وہ منہ بسور کر کہتے ساتھ باتھروم میں گھس گئی اور وہ اسے جاتا دیکھنے لگا


وہ کمرے میں داخل ہوا وہ بیڈ پر منہ بنائے بیٹھی ہمیشہ کی طرح فون استعمال کررہی تھی
“کھانا نہیں کھانا کیا”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا
“نہیں”
وہ منہ بنائے جواب دینے لگی جس پر آبراش نے کوٹ اتارا اور اسکے پاس آیا
“چلو”
وہ اسے دیکھتے ہوئے کہتے ساتھ اسکا بازو پکڑتا اسے کمرے سے لے جانے لگا
“مجھے نہیں کھانا”
وہ اسکے ساتھ چلتے ہوئے غصےسے کہنے لگی آبراش اسکی سنی ان سنی کرتا سے ڈائننگ ٹیبل پر لایا اور کرسی پر بٹھایا خود بھی کرسی سنبھالی اور میڈ کو اشارہ کیا وہ کھانا رکھنے لگ گئی
“اسٹارٹ کرو”
وہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا جو منہ بنائے چہرے پر ہاتھ رکھے ٹیبل کو دیکھ رہی تھی اور اس بےحد کیوٹ لگ رہی تھی
“ناراض ہوں میں خود نہیں کھاؤں گی”
وہ اسے دیکھتے ہوئے منہ بسورے بتاتے ساتھ نظریں دوسری سمت کر گئی آبراش اسے دیکھنے لگ گیا
“پھر کس سے کھاؤ گی”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا جس پر وہ فوراً اسکی طرف دیکھنے لگی اور معصومیت سے اسکی طرف اشارہ کیا آبراش اسکی چالاکی سمجھتے ہوئے نفی میں سر ہلاتا اسے کھلانے لگ گیا مہمل کے چہرے پر دلفریب مسکراہٹ آئی آبراش نے اسے کھانا کھلایا اور اسکے بعد وہ دونوں روم میں چلے گئے


“ایک بات بولو”
وہ اسکے قریب بیٹھتے ہوئے اس پر نظریں مرکوز کیے معصومیت سے پوچھنے لگی سامنے بیٹھے شخص نے اسکی جانب دیکھ کر سر کو خم دیا
“میں بیوی ہوں آپ کی کبھی تو انسان ایک رومینٹک لائن ہی کہ دیتا ہے ٹائم یوں سرا ہوا منہ لے کر پھرتے رہتے ہو میرا بھی دل ہوتا ہے کہ میرا ہسبنڈ مجھ سے پیار بھری باتیں کرے ویسے بھی میں ناولز پڑھنے والی لڑکی ہوں تو یہ سب تو چاہوں گی”
وہ معصومیت سے اس سے نظریں چراتے ہوئے اس سے اک نئی فرمائش کرنے لگی وہ سامنے بیٹھے شخص سے ڈر نہیں رہی تھی دنیا اسکا نام سنتے کانپنے لگ جاتی تھی اور وہ اسے کچھ بھی بول دیتی تھی وہ کچھ دیر اپنی گہری نظریں اس پر جمائے رکھا اسکی نظروں سے وہ تھوڑی کنفیوز ہوئی
“اوکے بٹ آئی ڈو دا رومینس ان پریکٹیکلی اینجل”
وہ اسکی جانب بڑھتا اسکے کان میں گھمبیر لہجے میں کہتے ساتھ اسکی کان کی لو کو ہونٹوں سے چھوا اپنا چہرہ اسکے چہرے کے قریب کرکے اپنی بلیو آنکھیں اسکے خوبصورت شفاف چہرے پر ڈالی اس پر جھکا مہمل کی ہارٹ بیٹ تیز ہوگئی وہ گھبرا کر آنکھیں بند کر گئی
“مم۔۔میں۔۔مذاق کرررہی تھی”
وہ گھبراتے ہوئے جھنجھلا کر کہنے لگی۔
“I am damn serious”
وہ سنجیدگی سے جواب دیتے ساتھ اسکے ہونٹوں پر انگلی رکھ گیا جس سے مہمل خاموش ہو گئی اس شخص کو کہ کر پچھتارہی تھی آبراش نے اسکی گردن پر اپنی انگلیوں کا لمس محسوس کروایا مہمل کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ سی دوڑی وہ اس پر مکمل جھک کر اسے بیڈ پر لٹا گیا اور خود اس کے اوپر مکمل آ گیا مہمل ڈر کر مارے آنکھیں بند کر گئی۔
وہ اسکی حالت دیکھتے ہوئے تھوڑا پیچھے ہوا مہمل نے سانس لی اور وہ مسکراتے ہوئے اٹھ کر چلا گیا
“اففف مہمل ایسے لوگوں سے مذاق نہیں کرنا چاہیے”
وہ خود کو نارمل کرتے ہوئے اپنی دھڑکنیں ترتیب میں لاتے ہوئے کہنے لگی۔


وہ زینے اتر کی ٹی وی لاؤنچ میں داخل ہوا جہاں رومیسہ کسی لڑکے کیساتھ بیٹھی ہنس ہنس کر باتیں کررہی تھی عریش پریشانی سے اسے دیکھنے لگا
“یہ کون ہے”
وہ رومیسہ کے سامنے بیٹھتے ہوئے پوچھنے لگا اسکی آواز سے رومیسہ اور اس لڑکے کا دھیان عریش کی طرف گیا
“یہ یہ میرا کالج فرینڈ ہے فائز”
وہ مسکراتے ہوئے بتاتے لگی مگر عریشکو سامنا بیٹھا شخص ناگوار گزرا تھا
“اور فائز یہ ہے میرا بچپن کا دوست عریش “
وہ مسکراتے ہوئے اسکا تعارف کروانے لگی جس پر فائز اٹھ کر ہاتھ ملانے لگا عرءش نے زبردستی مسکراہٹ سجائے اس سے ہاتھ ملایا
“تم جارہے تھے نہ آج”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی
“نہیں میں اب ایک ہفتہ یہی ہوں”
وہ اسے بتاتے ساتھ اٹھ کر پانی پینے لگا رومیسہ خاموش رہی اور دوبارہ سے فائز سے لگ گئی
وہ اس سے ہنس ہنس کر باتیں کررہی تھی اور وہ بھی ہنس رہا تھا عریش کچن سے کھڑا یہ منظر دیکھ رہا تھا اسکی آنکھیں اس وقت انتہا کی سرخ ہورہی تھی
“مجھے کیوں برا لگ رہا ہے”
وہ پانی پیتے ہوئے خود سے کہتے ساتھ پانی کی بوتل فرج میں رکھ کر ان دونوں کے پاس آیا
“ہم دونوں آئسکریم کھانے جارہے ہیں “
رومیسہ اسے دیکھتے ہوئے بتانے لگی اؤر صوفے سے اٹھی عریش کو لگا تھا وہ اسے بھی ساتھ آنے کا بولے گی مگر اس نے نہیں کہا تھا
“میں بھی ساتھ چلتا ہوں اکیلا یہاں کیا کروں گا”
وہ رومیسہ کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا جس پر اس نے اثبات میں سر ہلا دیا


وہ اس وقت ایک اندھیرے میں ڈوبے ہوئے کمرے میں موجود تھا اور پینجنگ بیگ پر مسلسل مکے مار رہا تھا پسینے سے شرابور تھا بس مہمل کی کل والی باتیں یاد کررہا تھا وہ اس سے ڈرنے لگی تھی یہ سوچتے سوچتے اس انسان کو کچھ ہورہا تھا
“س”
نذر ابھی دروازہ کھول کر بولنے ہی لگا تھا جب اس نے غصے سے سرخ انگارہ برستی آنکھوں سے مڑ کر اسے دیکھا وہ اسکے غصے سے خاموشی سے دروازہ بند کرتا چلا گیا کیونکہ اس نے منع کیا تھا بات ضروری نہ ہوتی وہ کبھی بھی نہیں آتا
اور کوبرہ اپنالے والے تاثرات ٹھیک کرتا دوبارہ سے باکسنگ کرنے میں مصروف ہوگیا
جاری ہے۔