Shiddat Junon By Mahnoor Shehzad Readelle50297 (Shiddat Junon) Episode 13
No Download Link
Rate this Novel
(Shiddat Junon) Episode 13
آدھی رات کے وقت مہمل کی آنکھ کھلی اسے آبراش نہیں دیکھا اس نے آنکھیں مسل کر نظریں وال کلاک کی جانب کی جو ڈھائی بجا رہی تھی
“کہاں چلے گئے اینگری مین”
وہ آنکھیں مسلتے ہوئے کہتے ساتھ بالوں کو کیچڑ میں قید کیے پیروں پر سلیپر چڑھائے وارڈروب کی طرف بڑھی وارڈروب کھول کر شال اٹھا کر انہیں شانوں پر ڈالتی باہر کی طرف بڑھی
وہ لان میں آئی آبراش وہی موجود تھا مہمل کی نظر اس پر گئی جو اس وقت سگریٹ منہ میں لیے کھڑا تھا
“شاہ”
مہمل اسے دیکھتے ہوئے خفگی سے پکارنے لگی اسکی آواز سن کر آبراش نے مڑ کر دیکھا
“سوئی نہیں”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا مہمل اسکی جانب بڑھی
“شاہ یہ صحت کیلیے بلکل اچھی نہیں ہوتی ہے “
وہ اسکی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے سگریٹ کو گھورے ہوئے خفگی سے کہنے لگی
“صرف ایک”
آبراش نے مختصر سا جواب دیا جب مہمل نے پورے حق سے اسکے منہ سے سگریٹ نکال کر پھینک دیا اور آبراش بس اسے دیکھتا رہا
“بلکل نہیں صحت سب سے زیادہ ضروری ہے اور آج کے بعد آپ نہیں پیے گے ورنہ آپ کی اینجل آپ کو چھوڑ کر چلی جائے گی “
مہمل اسے دھمکی دیتے ہوئے اسکے ساتھ کھڑی ہوئی جب آبراش نے اسے کھینچ کر اپنے ساتھ لگایا وہ اسکے کندھے سے بھی نیچے آتی تھی
“یو آر ویری انٹیلیجنٹ”
وہ اس کر گہری نظریں ڈالے اسکے ماتھے کو چھوتے ہوئے بولا
“یس آئی ایم”
وہ اتراتے ہوئے بولی اور اپنے انداز میں خود ہی ہنسنے لگ گئی آبراش اسے دیکھ رہا تھا
“سونے چلیں”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا مہمل نے اثبات میں سر ہلا دیا آبراش اسے یوں ہی اپنے ساتھ لگائے اندر کی طرف بڑھ گیا
“کل جارہا ہوں”
عریش اسے دیکھتے ہوئے بتانے لگا جس پر رومیسہ صرف سر کو خم دے سکی عرءش اٹھ کر اسکے پاس گیا
“رومیسہ تم نے جو بھی سوچا وہ غلط ٹھیک نہیں ہے”
عریش اسکے پاس آتے ہوئے اسے نرمی سے سمجھانے لگا جس پر رومیسہ نے اسے اداسی سے دیکھا
“تمہاری نظر میں محبت کرنا غلط ہے”
رومیسہ آنکھوں میں اداسی لیے اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی
“یہ کیا پاگل پن ہے یاررر تم غلط کررہی ہو ہم دونوں کی دوستی بھی خراب کررہی ہو تم کیوں چاہ رہی ہو میں تم سے بات بھی نہ کیا کروں”
عریش سرد لہجے میں اسکا بازو مضبوط گرفت میں لیے کہنے لگا
“میں تمہیں بھی پاگل لگو گی اب لیکن ایک دفعہ سوچنا ضرور کیا کبھی میرے قریب آنے سے تمہیں ہارٹ بیٹ تیز نہیں ہوئی مجھے تکلیف میں تمہیں تکلیف نہیں ہوتی میری ناراضگی تو پانچ منٹ تم سے برداشت نہیں ہوتی تو اب بھی کہو گے تم نہیں چاہتے”
وہ بغیر ڈرے اس سے تھوڑا اونچا لہجہ اختیار کیے کہنے لگی تبھی عریش کی بیٹ مس ہوئی کیونکہ وہ دونوں اس وقت بلکل قریب تھے
“بکواس ہے یہ سب “
وہ اسکی کلائی چھوڑتے ہوئے کہتے ساتھ کمرے کی طرف بڑھ گیا اور رومیسہ خالی نظروں سے اسے جاتا دیکھنےلگ گئی
آبراش کی آنکھ کھلی تو نظر مہمل پر پڑی جو جینز شرٹ اور اوپر جیکٹ پہنے بالوں کو پونی میں قید کیے موجود تھی
“اٹھ گئے آپ جلدی سے تیار ہو جائیں”
مہمل اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی جس پر آبراش نے اسکی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا
“ارے ہم لوگ گھومنے جارہے ہیں آج سارا دن آپ مجھے دیں گے اور ہم باہر گزاریں گے”
مہمل خوشی سے اسے دیکھتے ہوئے بتانے لگی آبراش ابھی بھی اسے دیکھ رہا تھا
“اففف آپ ابھی تک بیٹھے ہیں جلدی کریں نا آبراش پلیززز جلدی کریں “
وہ اسے بیٹھتا دیکھتے ہوئے ایک ہی اسپیڈ پر شروع ہو گئی آبراش اٹھ کر باتھروم کی جانب بڑھا
کچھ دیر آبراش اور مہمل گھومنے کیلیے نکل گئے تھے
ان دونوں نے سب سے پہلے ناشتہ کیا تھا اور اب دونوں ہاتھ تھامے چل رہے تھے اور مہمل مسکرا رہی تھی
“چلیں گھر”
وہ اسکی طرف دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا جس پر مہمل نے مڑ کر اسے دیکھا
“نو اینگری مین نو پورا دن گھومیں گے رات کو جائیں گے “
وہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی آبراش نے اسکی طرف دیکھا
“پورا دن کیوں”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا مہمل نے مڑ کر اسے دیکھا
“کیونکہ آپ کی مسز کو اپنے ہسنبڈ کیساتھ رہنا بہت بہت پسند ہے”
وہ اسے محبت سے دیکھتے ہوئے بولی جس پر آبراش نظریں دوسری سمت کر گیا
“آہہ اینگری مین شرما گئے اللہ اللہ”
وہ اسے تنگ کرتے ہوئے کہنے لگی جس پر آبراش نے اسکی طرف دیکھا
“نہیں ایسا کچھ نہیں ہے”
وہ اسے کہتے ساتھ آگے بڑھنے لگا مہمل اسے تنگ کرتے ہوئے ہنسنے لگی
“دنیا سے انجان معصوم سی لڑکی تم بہت سی حقیقتوں سے واقف نہیں ہو “
وہ اسکی طرف دیکھتے ہوئے دل میں کہنے لگا
وہ دونوں گھوم رہے تھے مہمل کسی بات پر ہنس رہی تھی اور پھر وہ آبراش جے اوپر چڑھ گئی اور اسکے گلے میں ہار کی طرح بازو کرلیا
“واؤوووووو”
وہ اونچا چلائی اور ہنسنے لگ گئی وہ کچھ دیر اسی کے اوپر چڑھتی گھوم رہی تھی تبھی وہ دونوں ایک ریسٹورنٹ کی طرف بڑھے اور وہاں بیٹھ گئے مہمل نے ٹیبل پر اپنا سر رکھا آبراش نے بھی اسی کی طرح اپنا سر ٹیبل پر رکھا وہ اسے دیکھ کر مسکرائی اور مہمل نے اپنی ناک اسکی ناک سے مس کی وہ اسکی حرکت پر مسکرایا اور کچھ دیر وہ لوگ وہاں بیٹھے کھانا وغیرہ کھا کر وہ دونوں چل دیے
“افففف اب تو میں تھک گئی ہوں اتنا سارا والا اور پیاس بھی لگ رہی ہے”
مہمل کہتے ساتھ بیٹھ گئی آبراش نے اسے دیکھا
“میں پانی لاتا ہوں”
آبراش کہتے ساتھ وہاں سے چلا گیا اور مہمل ویسے ہی بیٹھی رہی تبھی کتے کی بھونکنے کی آوازیں آئی مہمل سن کر گھبرا گئی تبھی ایک سیاہ رنگ کا جنگلی کتا جس نے اپنی سرخ زبان باہر نکالی ہوئی تھی مہمل کی جانب آرہا تھا مہمل کی خوف سے آنکھیں باہر آنے کو تھی دل گھبرا رہا تھا اور اسے دیکھ کر وہ نفی میں سر ہلا رہی تھی وہ کتا مہمل کے قریب سے قریب آرہا تھا مہمل کو لگا وہ اسے کھا جائے گا
“آبراش”
اس نے ڈرتے ہوئے چیخ ماری اس سے پہلے وہ اس کے اوپر آتا کہ تبھی کوئی مہمل کے سامنے ڈھال بن کر آیا اور اس کتے کو چاقو مارا کتا خون و خون ہوگیا وہ مسلسل اس کو چاقو مارتا جارہا تھا گولڈن بلوئش آنکھیں اس وقت انتہا کی سرخ ہوئی ہوئی تھی مہمل کا خوف کم ہونے کے بجائیں مزید بھر گیا خون سے لت پت کتے کو دیکھ کر وہ مزید خوفزدہ ہو گئی
“آر یواوکے”
کوبرہ اسکی جانب قدم بڑھانے لگا مگر اسے خوفزدہ دیکھ کر وہ دو پل یہی رک گیا
“قق۔۔ققریب نہیں آنا”
وہ خوفزدہ سے آنکھوں میں آنسو لیے اسے کہنے لگی جس پر کوبرہ وہی رک گیا اور الٹے قدم واپس چلا گیا
“اینجل آر یو اوکے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا جس پر مہمل آبراش کو دیکھ کر فوراً اٹھی اور اسکے گلے سے لگ گئی
“گھر چلیں”
وہ ڈرتے ہوئے اسکے سینے سے لگی کہنے لگی آبراش خاموش رہا اور کچھ بھی نہیں بولا فون نکالا اور گارڈ کو بلایا
وہ دونوں گھر پہنچ گئے تھے وہ کمرے میں آئی آبراش نے اسے دیکھا
“کیا ہوا مہمل”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا جس پر مہمل نے اسکی طرف دیکھا
“وہاں ایک جنگلی کتا آ گیا تھاوہ مجھے کاٹنے والا تھا مگر اس سے پہلے سپر ہیرو نے آکر اسے مار دیا”
وہ روتے ہوئے اسے بتانے لگی آبراش اسے دیکھنے لگا
“سپر ہیرو”
آبراش اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا جس پر مہمل نے اسے دیکھا
“ہاں وہ ہیں ایک جب بھی مجھ پر کوئی مصیبت یا کوئی پریشانی آنے لگتی ہے وہ مدد کیلیے آتے ہیں”
مہمل اسے بتانے لگی جس پر آبراش خاموش رہا
“کچھ نہیں ہوا ٹھیک ہے سب”
وہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا اور اسکی جیکٹ اتار کر اسے لیٹنے کا اشارہ کیا مہمل لیٹ گئی آبراش نے اسکے اوپر کمفرٹر ڈالا اور باتھروم کی طرف بڑھ گیا
جاری ہے۔
