Shiddat Junon By Mahnoor Shehzad Readelle50297 (Shiddat Junon) Episode 5
No Download Link
Rate this Novel
(Shiddat Junon) Episode 5
صبح مہمل کی آنکھ کھلی نظر ساتھ سوئے شخص پر پٹی جو دنیا سے بے خبر سونے میں مصروف تھا باہر ابھی ہلکی ہلکی روشنی شروع ہوئی تھی فجر کا وقت جو تھا اسکے چہرے کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کررہی تھی وہ سفید رنگت کا خوبصورت اور پرکشش پرسنیلٹی رکھنے والا مرد تھا وہ اپنے بالوں کو کان کے پیچھے دیے اسکے چہرے کے قریب ہوکر چہرے کو نقوش کو دیکھنے لگی۔۔
“مہمل تم لکی ہو تمہیں اتنا خوبصورت اور ڈیشنگ ہسبنڈ بلکل ولن کی طرح”
وہ اسکے چہرے پر جھکے مسکراتے نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے پیار سے بولی درمیانی آنکھیں مغرور ناک عنابی لب چہرے پر سوتے وقت بھی سنجیدگی ہی تھی
“مسکراتے کبھی نہیں دیکھا مسکراتے ہی نہیں”
وہ اسکے چہرے پر غور کرتے ہوئے نظریں لبوں کی جانب لاتے ہوئے بولی کہ تبھی آبراش کی آنکھیں کھلی اسکی بلیو آنکھوں اچانک کھلنے پر مہمل کی نیچے کی سانس نیچے اوپر کی سانس اوپر رہ گئی وہ بھوکلا گئی اس طرح آنکھیں کھلی دیکھ کر وہ گھبراتے ہوئے پیچھے ہونے لگی جب اس نے اسے اپنی قید میں لے کر خود سے دور جانے کے سارے راستے بند کردیے وہ پھٹی ہوئی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی وہ کب سے بےفضول بول رہی تھی یعنی وہ جاگ رہا تھا اور سب سن چکا تھا یہ سوچتے سوچتے ہی اسکی جان پر بن رہی آبراش اسکے اس طرح دیکھنے پر آئبرو اچکا گیا اور مہمل شرمندگی سے نظریں جھکا گئی
“اب کرو تعریف”
اسکی گھمبیر آواز جیسے ہی کانوں سے ٹکرائی مہمل کے دل نے بیٹ مس کی وہ گھبرا کر رہ گئی
“ننن۔۔ننہیں میں۔۔۔تو نہیں”
وہ گھبراتے نفی میں گردن ہلانے کی سعی کرتے ہوئے اسکے سینے میں منہ دے گئی اسکی حرکت پر آبراش کی آنکھیں چمکی تھی اس نے اسکی جانب مزید مضبوط حصار حائل کردیا
“میں ہیرو نہیں میں تمہاری زندگی میں آنے والا ولن ہو ولن دور رہو “
وہ اسکے بالوں میں ہاتھ گھسائی چہرے پر سرد نگاہیں سرد لہجے میں کہنے لگا مہمل گھبرا کر رہ گئی مہمل کی آنکھوں میں نمی آ گئی
“اللہ تعالیٰ پلیززز انکے دل میں تھوڑا رحم لائیں مجھے چھوڑ دیں یہ”
وہ چھت کو تکتے ہوئے بے بسی سے دعا کرنے لگی کیونکہ اسکی قربت اسے بہت بےبس کررہی تھی اور رویہ تکلیف دے رہا تھا
“ن۔۔نماز”
وہ وال کلاک پر نظر ڈالتے ہوئے بولی جو 4:45 بجا رہے تھے آبراش نے گرفت ڈھیلی کی مہمل فوراً اس سے دور ہوئی اور سانس بحال کی اور باتھروم میں بند ہو گئی
کچھ دیر بعد وہ خود کو نارمل کیے سر کو سفید حجاب میں ڈھکے ییلو رنگ کی فراک پہنے ساتھ میں سفید ٹراؤزر چہرے بلکل صاف اسکے اس شفاف پرنور چہرے پر حجاب واقع حسین لگ رہا تھا وہ اس سے نظریں چراتی جائے نماز اٹھا کر بچھاتی نماز ادا کرنے لگی
“آپ کو آج کہیں نہیں جانا”
وہ نماز ادا کرنے کے بعد اپنا حجاب سر سے ہٹاتی بالوں کو کھول کر انہیں برش کی مدد سے سلجھاتے ہوئے آبراش کو مخاطب کرنے لگی جس پر وہ خاموشی سے بیڈ سے اٹھ کر باتھروم کی طرف بڑھنے لگا
“کم از کم بات کا جواب تو دیں میری”
وہ اسے جاتا دیکھتے ہوئے کہنے لگی جس پر آبراش جاتے جاتے مڑا
“اپنے کام سے کام رکھو “
سنجیدگی سے کہتے اپنی سرد نگاہیں اسکے چہرے سے ہٹاتا چلا گیا
•••••••••••••••••••
“شاید ہمیں کہیں پہنچنا تھا”
وہ مہمل اور آبراش کو نیچے آتا دیکھتے ہوئے وال کلاک پر نظر ڈالتے ہوئے آبراش کو اپنی طرف متوجہ کروایا آبراش نے بھی وال کلاک کی طرف دیکھا جو سات بجارہی تھی
“دو منٹ”
آبراش اسے کہتے ساتھ نظریں باہر کے دروازے کی طرف کر گیا
“میں پھر اکیلی”
مہمل معصومیت سے ان دونوں کی طرف دیکھتے ہوئے ان دونوں سے کہنے لگی جس پر آبراش اور عریش دونوں نے اسکی طرف دیکھا
“ہیلو ایوری ون”
تبھی کسی لڑکی کی اونچی آواز ان تینوں کے کانوں سے ٹکرائی اور تینوں کا دھیان اس جانب۔ گیا بلیک شرٹ میں جینز پہنے پیروں پر بلیک پینڈل ہیلز چڑھائے سفید رنگ کی خوبصورت نقوش وہ حسین لڑکی درمیانے بال جو کندھے تک آتے تھے کسی کو بھی اپنی طرف کھینچ سکتی تھی سب اسے دیکھ رہے تھے اور مہمل تو حیرت سے دیکھ رہی تھی
“اوئے ہوئے مسٹر عریش شاہ تم تو بہت ہینڈسم ہو گئے ہو”
وہ عرءش کو سر تا پیر دیکھتی جو اس وقت بلیو ٹی شرٹ میں ساتھ میں جینز پہنے بڑھی کوئی بئیرڈ درمیانی رنگت کا وہ پرکشش ہینڈسم نوجوان بہت سے لڑکیوں کو دیوانہ کرنے کا ہنر اپنی پرسنیلٹی سے رکھتا تھا
“آپ تو ہمیشہ سے ہی ہینڈسم یہ کون ہے”
وہ آبراش کو دیکھ کر کہتے ساتھ اسکے ساتھ کھڑی معصوم سی لڑکی کو دیکھ کر ان دونوں کی طرف متوجہ ہوئی
“تمہاری بھابی”
عریش اسے جواب دینے لگا جس پر اسکا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا
“تم نے شادی کرلی”
وہ عریش کو گھور کر دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی عریش ماتھا پیٹ کر رہ گیا
“اس نے”
عریش جیب میں ہاتھ ڈالے آبراش کی جانب اشارہ کر گیا جو خاموش کھڑاان سب کو سن رہا تھا
“آہاں شادی کرلی بھائی بیوٹیفل بیسٹ چوائس سو کیوٹ”
وہ مہمل کی پتلی خوبصورت ڈی ناک دبا کر پیار سے کہنے لگی مہمل ہلکا سا مسکرائی
“آپ بھی بہت پیاری ہیں”
وہ معصومیت سے اسکی طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگی جس پر وہ مسکرائی
“رومیسہ تمہیں یہی رہنا ہے اب مہمل کیساتھ”
آبراش نے سب جاکر بولا تھا اور وہ بھی کام کی بات کی تھی جس پر رومیسہ نے اسے دیکھا
“اوکے ڈن”
رومیسہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی
“تمہیں پتہ ہے تمہارا شوہر ولن ہے”
وہ مہمل کو مخاطب کرتے ہوئے کہنے لگی اسکی بات پر وہ ہلکا سا مسکرائی
“صرف دیکھنے میں دل سے تو بہت اچھے ہیں “
وہ مسکراتے ہوئے رومیسہ کو دیکھ کر بتانے لگی رومیسہ اسکی بات پر مسکرائی
“تم نے ایسا کونسا دل دکھایا ہے جس میں اسے بہت اچھے دیکھو ہو تم”
عریش آبراش کے قریب ہوکر اسکے کان میں کہنے لگا جس پر آبراش نے سرخ آنکھوں سے اسے گھورا جس پر عریش سیدھا ہوکر کھڑا ہوگیا
“وی آر گیٹنگ لیٹ”
آبراش سپاٹ لہجہ اختیار کیے رومیسہ کو تنبیہہ کرتے ہوئے کہتے ساتھ جیب میں ہاتھ ڈالے بھاری بھاری قدم اٹھائے باہر کی جانب بڑھ گیا
••••••••••••••••••
وہ شخص اس وقت بلڈنگ سے باہر نکل رہا تھا ہاتھ میں سگریٹ لیے وہاں سے گزرتی ایک لڑکی کو حوس بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا
تبھی اسکے منہ پر کسی نے رومال رکھا اس شخص نے خود کو چھڑوانے کی ناکام سے جدوجہد کی اور ناکام ہی رہا کیونکہ مخالف کی گرفت بہت حد تک کمزور تھی اور وہ اپنے حواس کھو بیٹھا اور بےہوش ہوگیا
اس وقت وہ ایک اندھیرے بھری جگہ پر موجود تھا جہاں اندھیرا ہی اندھیرا تھا اسے شاید الٹا لٹایا ہوا تھا اور ہاتھ پیر رسیوں سے باندھے ہوئے تھے
“کون ہو تم چھوڑو مجھے کون ہو تم”
اس شخص نے بولا بھی بامشکل جارہا تھا تبھی اپنی کمر کر کیلوں سے بھرا ہوا ڈنڈا کے درد محسوس کیا
“آہہہہہہہہ”
وہ درد سے کراہتے ہوئے چیخ اٹھا اس شخص نے دوبارہ یہی عمل دیا اسکی چیخیں سامنے بیٹھے شخص کو سکون دے رہی تھی
“چھوڑ دو مجھے میں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے “
وہ درد سے کراہتے ہوئے چہرہ سرخ ہوگیا تھا کمر خوں سے لت پت تھی وہ کہنے لگا تبھی کوبرہ کے کہنے پر اس شخص نے اسکی رسیاں کھولی پھٹسک سے زمین پر گر گیا وہ پھر سے چیخ اٹھا
“کک۔کون ہو تم”
وہ گھبراتے ہوئے کانپتے لبوں سے پوچھنے لگا
“کوبرہ”
وہ اسکے کان کے قریب ہوکر دھیمی مگر سخت لہجے میں بولا جس پر وہ شخص کانپ کر رہ گیا اسکا پورا وجود میں خوف کی لہر دوڑی وہ شخص کھڑے کھڑے لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے لوگوں کو مارنے سے اس شخص کو سکون ملتا ہے یہ سب باتیں وہ اس شخص کے بارے میں بہت اچھے سے جانتا تھا
“پپ۔۔۔۔۔پپلیزززززز۔۔جا۔۔۔۔۔۔ن۔۔۔نے دو”
بولنا بھی اس شخص کیلیے محاض ہوگیا تھا
“آہہہہہہہہہہہہہہ”
وہ تکلیف سے زور سے چیخا کہ وہاں موجود اسکے ساتھی اس سے خوف محسوس کرنے لگے تھے
“تکلیف ہورہی ہے”
کوبرہ سرخ انگارہ برستی اپنی گولڈن بلیش آنکھیں اسکے خوفزدہ چہرے پر ڈالے جو پسینے سے شرابور ہوا ہوا تھا زہر خند لہجے میں پوچھنے لگا بندھے ہوئے شخص کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اسے اپنی موت صاف دیکھ رہی تھی
“ججن۔۔۔۔جججج۔۔اااا ۔۔۔۔د۔۔۔۔و”
وہ ٹوٹے پھوٹے الفاظ ادا کرتا اس سے جانے کی بھیگ مانگ رہا تھا لیکن بھول گیا تھاوہ شخص کے اندر کوئی ہمدردی نہیں تھی کوئی احساس وہ انتہا کا بےحس اور سفاک وحشی درندہ تھا مگر وہ خطرناک درندہ صرف ان جیسے حوس کے مار درندوں کیلیے تھا
“ناجانے کتنی لڑکیوں کی عزت سے کھیلا ہے تو نے یاد کر کتنی تکلیف سے روئی بھیگ مانگ رہی تھی تڑپ رہی تھی تو نے رحم کھایا تھا “
کوبرہ کا ساتھی اسکے کان کے قریب ہوکر اسے اور خوفزدہ کر گیا وہ شخص جس وجود کانپنے لگ گیا
کوبرہ کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ آئی اور اس نے جیب سے چاقو نکالا اور اپنے چاقو پر ہاتھ پھیرتا اسکی گردن پر پھیر گیا اور وہ شخص وہی بے جان ہوگیا
“بلکل اسی طرح ابراہیم ملک کی لاش اسکے باپ ملک کے سامنے ہونی چاہیے”
اسکا ساتھی پیچھے کھڑے دو بندوں کو مخاطب کرتے ہوئے بولا کوبرہ نے ابراہیم کے وجود سے اپنا چاقو صاف کیا اور دوبارہ جیب میں ڈال دیا
•••••••••••••••••••
“آپ کب سے ان دونوں کو جانتی ہیں”
مہمل رومیسہ کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھنے لگی جو اس وقت کافی پینے میں مصروف تھی
“پچھلے دس سالوں سے”
رومیسہ نے اسے دیکھتے ہوئے جواب دی
“فیملی نہیں ہے کہا آپ کی”
مہمل اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی جس پر رومیسہ نے اسے دیکھا
“میں پانچ سال سے اپنے مام ڈیڈ کی لڑائی سنتی دیکھتی آئی تھی جس وجہ سے اسٹڈیز پر بھی دھیان نہیں دے سکتی تھی ان دونوں کو صرف لڑنے کا غرض تھا میری فکر ہی نہیں تھی میں بارہ سال کی تھی جب ڈیڈ نے غصے میں آکر مام کو ڈیوارس دے دی اور مام اسی وقت اپنے ایکس کیساتھ چلی گئی میری فکر ہی نہیں تھی اور وہی ڈیڈ ایک ہفتے بعد جاکر میری اسٹیپ مدر لے آئے جو مجھے بہت مارتی تھی یہ سب سہتے سہتے رومیسہ قریشی پندرہ سال کی ہو گئی ان دونوں کو میں پہلے سے جانتی تھی مگر بیچ میں ہم تینوں تین سال نہیں ملے تین سال بعد وہ لوگ واپس کراچی آئے اور پھر میں آبراش شاہ سے ٹکرائی وہ فوراً مجھے پہچان گیا اسے سب بتایا تو اس نے مجھے آئیڈیا دیا اپنے ساتھ آنے کا تب میں نے سوچا کیوں نہ میں صرف اپنی فکر کرو جب ڈیڈ اور مام کو میری فکر نہیں تھی تو میں کیوں انکے پیچھے اپنی زندگی خراب کرو اور اس رات میں وہاں سے آ گئی ہمیشہ ہمیشہ کیلیے “
رومیسہ بھیگی آواز میں اسے دیکھے بغیر بتانے لگی مگر مہمل جانتی تھی وہ رو رہی ہے سب سن کر مہمل کی بھی آنکھیں نم کو گئی اور فوراً اسے سینے سے لگا گئی
“آپ دیکھنا ایک دن آپ کی زندگی میں ایسا شخص آئے گا جو آپ کو بےحد پیار کرے گا یقین جانو”
وہ اسکے گلے لگی بولی جس پر رومیسہ نے بھی اسکے گرد حصار قائم کیا
“فرینڈز “
کچھ دیر یوں ایک دوسرے کو گلے لگے دیکھتے ہوئے مہمل نے ہاتھ آگے بڑھایا جس پر اس نے مسکراتے ہوئے تھاما
“میں فیس واش کرکے آتی ہوں”
وہ مہمل سے کہتے ساتھ کمرے کی طرف جانے لگی جب سامنے سے عریش آیا اسکی سرخ آنکھوں کو دیکھ کر پریشان ہوا وہ اسے نظر انداز کرتی روم کی طرف بڑھ گئی
“اسے کیا ہوا ہے”
عریش مہمل کے پاس آتے ہوئے اس سے فکرمند لہجے میں پوچھنے لگا
“کچھ نہیں کچھ پرانی باتیں یاد کرکے اداس ہوگئی تھی راش کہاں ہے”
وہ عربیش کیساتھ اسے نہ دیکھتے ہوئے فکرمند سی پوچھنے لگی جس پر عدیش نے اسے دیکھا ایک تو ہر آئے دن وہ اسکا نیا نام رکھ دیتی تھی
“وہ آرہا ہوگا “
عرءش اسے جواب دینے لگا جس پر وہ خاموش ہو گئی
“آپ نے کھانا کھا لیا”
عریش اسے دیکھتے ہوئے مخاطب کرنے لگا جس پر وہ اثبات میں سر ہلا گئی تبھی آبراش ادھر آیا اسے دیکھتے ہی مہمل مسکراتے ہوئے اسکی طرف برگی آبراش اسے اپنے پاس آتا دیکھ خاموش رہا
“رومیسہ”
وہ اسے نہ پاکر مہمل کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا
“میں یہاں”
تبھی اسکی آواز آبراش کے کانوں سے ٹکرائی ابراش نے مڑ کر اسے دیکھا
“تنگ تو نہیں کیا نہ اس نے زیادہ”
عریش اسکے آتے ہی مہمل سے مخاطب ہوا جس پر مہمل نے نفی میں سر ہلا دیا
“تمہیں تو جیسے تنگ کرتی ہو اوور “
وہ اسے مارتے ہوئے منہ بنائے بولی
“یہ تنگ نہیں کررہی اور کیا کررہی کو”
وہ اسکے مارنے پر اسے کہنے لگا جس پر وہ اسکی گال کھینچنے لگ گئی
“نو رومی”
عریش تپ کر بولا جس پر وہ مزید کھینچنے لگی
“بھابی یار منع کردیں اسے درد ہورہا انتہائی ڈھیٹ ہے”
وہ مہمل کو مخاطب کرتے ہوئے بولا جس پر مہمل کا قہقہ چھوٹا
“رومیسہ بس کریں میرے بھائی کو تنگ”
وہ مسکراتے ہوئے عرءش کی طرف داری کرتے ہوئے کہنے لگی جس پر رومیسہ ہنستے ہوئے اسکی گال سے ہاتھ ہٹا گئی
“بہت بہت شکریہ آپ کا بھابی”
وہ اسے مسکراتے ہوئے دیکھتے ہوئے کہنے لگا جس پر مہمل کا قہوہ چھوٹا جو آبراش جو ناگوار گزرا
“چلو”
وہ سرد لہجے میں اسکی کلائی مضبوطی سے تھامے اسے اپنے ساتھ لے جانے لگا
“گڈ نائٹ”
وہ مڑ کو ان دونوں کو مسکراتے ہوئے کہتے ساتھ آبراش کے ساتھ چل دی
•••••••••••••••
“میں نے کیا کہا تھا”
آبراش کمرے میں آتے ساتھ سرد لہجے میں اس پر سرخ نگاہیں ڈالے اپنی طرف متوجہ کرنے لگا مہمل نے اسکی طرف دیکھا اور آئبرو اچکائی
“دور رہو مجھ سے بھی اور میرے خاندان سے بھی “
وہ اسکی بازوؤں کو سختی سے پکڑے اپنی طرف کھینچ کر سرد نگاہیں ڈالے لہجہ میں سختی لیے بولتے ساتھ اسے ڈرا گیا
“یو ہرٹنگ می”
مہمل درد سے آنکھوں میں نمی لیے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی جس پر آبراش نے اسے اپنے بلکل قریب کردیا
“میرا وجود دوسرے کیلیے درد کا باعث ہی بنتا ہے ایک بھی آنسو نہ نکلے “
وہ اسے انتہائے سختی سے کہتے ساتھ گرفت ڈھیلی چھوڑتا اسے ویسے چھوڑ کر ٹیرس پر چلا گیا اور مہمل اسے خالی آنکھوں سے جاتا دیکھنے لگی وہ شخص کیا تھا اسکی سمجھ سے باہر تھا
“برے ہیں انتہائی برے”
وہ غصے سے آنکھیں میچتی اپنے آنسو ضبط کرتی بیڈ پر لیٹ گئی
جاری ہے
