Shiddat Junon By Mahnoor Shehzad Readelle50297 (Shiddat Junon) Episode 10
No Download Link
Rate this Novel
(Shiddat Junon) Episode 10
“سر کیا کرنا ہے”
ایک شخص کمرے میں آتے ہوئے اپنے ساتھ موجود وجود کی کمر تکتے ہوئے پوچھنے لگا
“آبراش کے گھر فائرنگ”
وہ چہرے کا رخ اسکی جانب کرتے ہوئے بتانے لگی اس شخص نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا قد آور شخص چوڑی جسامت بڑھی ہوئی داڑھی دیکھنے میں اچھا لگ رہا تھا
“س”
وہ شخص ابھی کچھ بولتا جب سامنے کھڑے شخص نے اسے چپ کروایا
“کچھ بھی نہیں جو کہا ہے وہ کرو میں مجھے اسکی لاش یہی چاہیے”
وہ غصے سے سرخ آنکھیں کیساتھ اونچی آواز میں کہنے لگا
“جی سر ہوجائے گا کام”
وہ اسے کہتے ساتھ وہاں سے چلا گیا اور اس شخص نے سگریٹ منہ سے لگایا
“کھیل ختم آبراش”
وہ زہریلا قہقہ لگاتے ہوئے بولا
•••••••••••••••••••••
وہ چاروں اس وقت ڈائننگ ٹیبل پر موجود تھے اور ناشتہ کررہے تھے
“تم نے آج نہیں جانا کہیں”
رومیسہ سینڈوچ کا بائٹ لیتے ہوئے مزے سے پوچھنے لگی جس پر آبراش نے نفی میں سر ہلا دیا
“اچھا اور مہمل شاپنگ کیلیے چلے جائیں”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی جس پر آبراش اور مہمل دونوں نے اسے دیکھا
“ہرگز نہیں”
وہ سرد لہجے میں اسے جواب دیتے ساتھ کافی کا مگ لب سے لگایا مہمل شرمندگی سے رومیسہ کو دیکھنے لگی
“میں چلتا ہوں تمہارے ساتھ”
عریش اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا جس پر رومیسہ نے اسکی جانب رخ کیا
“پکا”
وہ خوشی سے پوچھنے لگی عرءش نے اثبات میں سر ہلا دیا
“ہم دونوں دوست ہیں اتنا تو کر ہی سکتا ہوں”
وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگا جس پر وہ بھی مسکرادی
••••••••••••••••••••
گھڑی اس وقت سات بجارہی تھی اور وہ دونوں اس وقت روم میں موجود تھے
“اینگری مین “
وہ اسے دیکھتے ہوئے پکارنے لگی آبراش نے اسکی طرف دیکھا
“آپ نے کہا تھا آپ جلدی مجھے مام ڈیڈ کے پاس لے جائیں گے کب لے کر جائیں گے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی جس پر اسکے ہاتھ رکھ
“جب کراچی جائیں گے”
وہ اسے سپاٹ انداز میں جواب دیتے ساتھ دوبارہ سے کام کرنے میں مصروف ہوگیا
“تم ادھر سے جاؤ اور تم ادھر سے”
وہ لوگ اس وقت ان کے گھر کے باہر موجود تھے مین گیٹ کھلا تھا اور آپس میں بات چیت کررہے تھے
مہمل اٹھ کر بیڈ پر آئی تبھی گولی چلنے کی آواز آئی
“آہہہہ”
مہمل ڈر سے چلائی تبھی آبراش کا فون بجا
“کیوں”
آبراش خود بھی گولی کی آواز سے پریشان تھا اس نے پوچھا
“اوکے”
آبراش دوسرے شخص کی سنتا فون رکھ کر مہمل کی جانب بڑھا
“اٹھو مہمل اٹھو”
وہ اسکی طرف ہاتھ بڑھائے کہنے لگا مہمل نے خود کے مارے جو آنکھیں بند کی تھی اسکی آواز سے فوراً کھلی
“یہ سب کیا ہے”
وہ اسکا تھامتے ہوئے ڈرتے ہوئے پوچھنے لگی تبھی تین چار اور گولیان کی آواز آئی آبراش اسکا ہاتھ تھامے کمرے سے لے گیا
“یہ سب کیا ہے یا اللہ”
رومیسہ اپنے کمرے میں گولیوں کی آواز سن کر پریشان تھی
“رومیسہ جلدی چلو تم روم میں کیوں ہوں ہمیں نکلنا ہے عریش اسکا تھامتے ہوئے اسے کہنے لگا جس پر وہ گھبراتے ہوئے فوراً اسکے ساتھ چلی
“یہ لوگ”
مہمل کچھ بولتی آبراش نے اسکے ہونٹوں پر انگلی رکھی مہمل نے اسکی طرف دیکھا وہ دونوں بلکل ساتھ لگے ہوئے تھے اور اسکے اس طرح ہونٹوں پر انگلی رکھنے سے مہمل کی بیٹ مس ہوئی وہ دونوں ایکدوسرے کو پلک چھپکائے دیکھ رہے تھے تبھی گولی کی آواز آئی مہمل پھر سے ڈر گئی
“ادھر ہماری جان جارہی ہے اور ان دونوں کو رومینس سوجھ رہا ہے”
عرءش ان دونوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگا جس پر مہمل دو قدم پیچھے کوئی اور آبراش نے عرءش جو سرد نگاہوں سے دیکھا
“ہمیں کسی طرح باہر نکلنا ہے گھر سیف نہیں”
آبراش اسے دیکھتے ہوئے بتانے لگا جس پر عریش نے اسے دیکھا
” کیسے نکلیں گے یار”
وہ عرءش کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا کیونکہ باہر کوئی آٹھ سے نو لوگ موجود تھے
“رومیسہ تم عریش کیساتھ جاؤ”
آبراش رومیسہ کو کہنے لگا رومیسہ اور عریش چل دیے
“چلو”
آبراش مہمل کو کہتے ساتھ باہر کی طرف بڑھا جیسے ہی باہر آیا تو تھڑا تھڑا گولیاں چلنے لگی
مہمل اور آبراش اس وقت گیلری میں تھے آبراش بڑے احتیاط سے اسے لے کر جارہا تھا مہمل اسے دیکھ رہی تھی
“پوچھتا ہے کہ زندگی کیا ہے میں جواباً
اسی کو دیکھتی ہوں” ❤️😍🙈
“صرف اوپر اوپر سے برے بنتے ہیں اندر سے بہت اچھے ہیں”
وہ اسکے اوپر نظر مرکوز کیے مسکراتے ہوئے بولی اور تبھی آبراش اسے بڑھا مہمل بھی ساتھ آگے بڑھی وہاں موجود شخص جو دیکھ کر آبراش فوراً ہی گا ہوا چہرہ مہمل کی جانب کیا مہمل کا ناک اسکے سینے سے ٹکرایا جس سے اسے درد ہوا وہ منہ بنائے مسلنے لگی آبراش اسے ہی دیکھ رہا تھا
“ہمیں بہت تیز سے بھاگنا ہے”
آبراش اسکے کان کے قریب سرگوشی کرتے ہوئے لان کی لو چوم گیا مہمل کی بیٹ مس ہوئی اور پھر دونوں بھاگنے لگے تبھی اس شخص نے گن انکی طرف کیے جو آبراش تو نہیں لیکن مہمل نے دیکھا اور مہمل آبراش کو سائیڈ پر کرکے آگے آگئ اور آبراش اسے پھٹی ہوئی آنکھوں سے دیکھنے لگا وہ شخص گولی مار کر فوراً بھاگ گیا
“آہہہہہہ”
وہ درد سے کڑاہی اور زمین پر گر گئی آبراش حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا
“مہمل”
رومیسہ جو بچ کر باہر آئی اسے دیکھ کر پریشانی سے چلائی اور آبراش اسے حیرت سے دیکھنے لگا وہ شخص فوراً بھاگ گیا اور آبراش فوراً مہمل کی طرف بڑھا اسے ہوش میں لانے کی کوشش کی وہ اسکی گال تھپتھپانے لگا
“اینجل تمہیں کچھ نہیں ہوگا اینجل”
وہ اسکے چہرے پر ہاتھ رکھے گال تھپتھپاتے ہوئے بولا اسے گاڑی میں بٹھانے لگا رومیسہ فوراً اسکی جانب بڑھی
“میں بھی ساتھ جاؤں گی”
وہ گاڑی میں بیٹھتے ہوئے کہنے لگی اور عریش خود کو بچاتا ہوا بھاگتے ہوئے گھر سے باہر آیا گاڑی میں بیٹھ گیا آبراش کو گاڑی کو موجود نہ پاکر اسے تسلی ہوئی وہ لوگ بھی نکل گئے ہیں وہ گاڑی میں بیٹھتے تیز رفتار پر سڑک پر دوہرا گیا اور آبراش کو فون کیا
“کیا مہمل کو گولی”
عریش کو حیرت کا جھٹکا لگا
“اوکے میں بھی آرہا ہوں”
وہ اسے کہتے ساتھ فون رکھتا گاڑی کا رخ ہوسپٹل کی طرف کر گیا
•••••••••••••••••••••••••
وہ لوگ اس وقت ہسپتال میں موجود تھے مہمل آپریشن تھیٹر میں موجود تھی رومیسہ پریشانی سے چکر کاٹ رہی تھی اور آبراش کھڑا تھا تبھی عرءش داخل ہوا
“کیسے لگی اسے گولی”
وہ پریشانی سے پوچھنے لگا جس پر آبراش نے اسے دیکھا
“مجھے لگنے لگی تھی وہ سامنے آ گئی”
وہ سنجیدگی سے اسے جواب دیتے اپنی بلیو آنکھیں آپریشن تھیٹر کی طرف کر گیا
“کون تھے وہ لوگ کچھ پتہ ہے”
وہ اسکی طرف دیکھتے ہوئے اس سے پوچھنے لگا
“ایک ہی دشمن بچا ہے میرا نوریز لغاری”
وہ زہر خند لہجے میں اسے بتاتے ساتھ مہمل کی گولی لگنے کا منظر یاد کرنے لگا عریش خاموش رہا
“ڈاکٹر پیشنٹ کیسی ہے”
وہ ڈاکٹر کو آتا دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی
“ہم کوشش کررہے ہیں انکی کنڈیشن بیت کریٹیکل ہے بلڈ بہت بہ گیا ابھی کچھ کہ نہیں سکتے”
وہ کہتے ساتھ آگے بڑھ گیا اور رومیسہ مزید پریشان ہو گئی آبراش اور عریش خاموش تھے
••••••••••••••••••••••
“ایک کام تم لوگوں سے ٹھیک نہیں ہوتا پاگل انسان”
وہ غصے سے دھاڑا تھا اسکی بات سن کر وہ سب لوگ سر جھکائے کھڑے تھے
“اگلی دفعہ خود ہی کرنا ہوگا مجھے نکلو اب یہاں سے”
وہ غصےسے انہیں بولتے ساتھ نظریں گلاس وال سے باہر کی جانب مرکوزکرگیا اور وہ سب نکل گئے
“تمہاری موت تو میرے ہاتھوں ہوگی آبراش شاہ انتظار رکھو”
وہ چہرے شاطر مسکراہٹ سجائے بولا اور فون کان سے لگایا
••••••••••••••••••••••
“پیشنٹ اب بلکل ٹھیک ہیں انہیں تھوڑی تک ہوش سجائے گا آپ ان سے مل لیجیے گا”
ڈاکٹر کہتے ساتھ چلا گیا اور رومیسہ نے خدا کا شکر ادا کیا
“مبارک ہو بھائی”
عرءش خوشی سے اسکے گلے لگتے ہوئے کہنے لگا جس پر آبراش بغیر کسی تاثر کو اسے دیکھنے لگا عریش سیدھا ہوکر کھڑا ہوا
“اس نے تمہاری جان بچائی ہے اسکے بچنے کی خوشی نہیں ہوئی تمہیں”
عرءش اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا
“تم اس معاملے میں نہ آؤ تو بہتر ہے”
آبراش سرد نگاہیں اسکے وجود پر گاڑھے اسے جواب دیتے ساتھ جس روم میں مہمل موجود تھی اس کی طرف بڑھنے لگا
اس نے قدم رکھا تھا وہ آنکھیں بند کیے بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی وہ کچھ دیر اسے دیکھتا رہا
“یہ سب کرکے کیا ثابت کرنا چاہتی تھی تم مجھ سے بہت پیار کرتی ہو ہاں بولو “
آبراش اسکے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھنے لگا
“جواب دو جواب نہیں دے رہی ویسے تو چپ نہیں ہوتی ہو تم اور سب جب کچھ پوچھ رہا ہوں جواب نہیں دے رہی میں تمہیں بتاؤ میں اس پیار کے قابل نہیں ہوں سمجھی میں تمہارا شکرگزار ہوں تم نے اپنی جان پر کھیل کر میری جان بچائی “
وہ اسکے چہرے اپنی نگاہیں ڈالے اداس سا بولا
“اینگری مین”
وہ جیسے ہی ہوش میں آئی اس نے کانپتے ہوئے اسے پکارا
“میں یہی ہوں اینجل یہی”
وہ اسکے ہوش میں آنے سے اسکے قریب ہوتے ہوئے کہنے لگا مہمل نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا
“آپ ٹھیک تو ہیں نا”
وہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے پوچھنے لگی جس پر آبراش نے اس معصوم چہرے پر نظر ڈالی
“اسکا تو جواب دے دیں اب”
وہ اسکی طرف دیکھتے ہوئے منہ پھلا کر پوچھنے لگی
“ہاں ٹھیک ہوں میں”
وہ اسکے چہرے سے نظریں ہٹائے کہنے لگا
“مجھے کچھ کام کے تم خیال رکھنا اپنا”
وہ اسے کہتے ساتھ اٹھ کر چلا گیا اسکے باہر آنے کے بعد رومیسہ فوراً اندر گئی
“تم ٹھیک ہو مہمل”
وہ اسکے پاس آتے ہوئے پوچھنے لگی مہمل نے اثبات میں سر ہلا دیا جس پر وہ بھی مسکرائی
“ماننا پڑے گا تم واقع میں پاگل ہو اسکے لیے “
رومیسہ مسکراتے ہوئے کہنے لگی جس پر مہمل ہنسی
“درد تو نہیں ہورہا ہے “
وہ اسکو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی جس پر مہمل نے نفی میں سر ہلایا رومیسہ اسکے پاس بیٹھ گئی
••••••••••••••••••••••
“کون”
نوریز فون کان سے لگائے پوچھنے لگا
“تیری موت “
وہ غصے سے کہتے ساتھ فون رکھتا گولڈن بلیش آنکھوب میں اس وقت خون اترا ہوا ہوا تھا وہ بھاری بھاری قدم اٹھائے پڑھنے لگا
“بھائی چلیں “
وہ گاڑی میں بیٹھا تو ڈرائیونگ سیٹ پر موجود نذر نے پوچھا
“چلو”
وہ سنجیدگی سے جواب دیے چہرے کو ماسک سے ڈھک گیا اور نذر نے گاڑی سڑک پر دوہرا دی
جاری ہے
