51.4K
33

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Shiddat Junon) Episode 31

وہ دونوں مری کیلیے نکل چکے تھے آبراش کی نظریں مسلسل مہمل کے چہرے پر مرکوز جس سے مہمل کنفیوز ہورہی تھی۔

“میں سونا چاہتی ہوں تھوڑی دیر نیند پوری نہیں ہوئی”

وہ اسے دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے بولی آبراش کی نظریں اسی پر جمی ہوئی تھی۔

“تو سوجاؤ”

وہ اسی پر اپنی نظریں کیے بولا مہمل اسے دیکھنے لگ گئی۔

“تو سورہی ہوں”

کہتے ساتھ اپنے اردگرد شال لپیٹی وہ سیٹ کیساتھ سر ٹکائے آنکھیں بند کر گئی آبراش چہرے پر ہاتھ رکھے پلک چھپکائے بغیر اسے دیکھنے میں مصروف رہا۔

“مجھ سے نہیں سویا جارہا ہے”

وہ پانچ منٹ بعد آنکھیں کھولتے ہوئے منہ بسورے اسے کہنے لگی آبراش نے نظریں اسکے چہرے سے ہٹائی۔

“کیوں “

وہ نظروں کا تعاقب دوسری طرف کیے پوچھنے لگا مہمل نے اسکی طرف دیکھا۔

“یہی چاہتی ہوں میں آپ مجھے نہیں کہیں اور دیکھیں”

وہ اسے دیکھتے ہوئے کنفیوز سی ہوتی بولی آبراش جے اپنا چہرہ مہمل کے چہرے کے قریب کیا اسکی گرم سانسوں مہمل کے چہرے پر پر رہی تھی جس سے مہمل کی ہارٹ بیٹ تیز ہو گئی وہ اسے دیکھنے لگی۔

“تمہیں دیکھنے کیلیے ہی تو مجھے چنا گیا ہے تمہیں یعنی واحد تمہیں میری آنکھوں کا نور بنایا گیا ہے “

وہ اسی طرح چہرہ اسکے چہرے کے قریب کیے اسکی آنکھوں میں دیکھتے کنفیوز کرتے ہوئے گھمبیر لہجے میں بولا مہمل کے ہونٹ جیسے آپس میں جڑ گئے تھے وہ بس اسے دیکھ رہی تھی۔ اچانک وہ دور ہوئی

” مجھے سونا چاہیے”

وہ نظریں سامنے کی جانب کیے سپاٹ انداز میں بولی جس پر آبراش کے چہرے پر مسکراہٹ آئی اور وہ جواباً خاموش رہا۔

مہمل اپنا سر دوبارہ سیٹ سے ٹکائے آنکھیں بند کر گئی تھی اور سونے کی کوشش کرنے لگی لیکن بار بار آنکھیں کھول آبراش کو بھی دیکھ رہی تھی آبراش اسکی ساری حرکتوں پر غور کررہا تھا اسکے چہرے پر ایک خوبصورت مسکراہٹ سجی ہوئی تھی لیکن وہ اسکی طرف نہیں دیکھ رہا تھا۔

“کیوں نہیں دیکھ رہے میری طرف ہونہہ”

مہمل منہ بسورے اسے دیکھتے ہوئے منہ بسورے بولی تبھی آبراش نے اسکی طرف دیکھا مہمل آنکھیں بند کر گئی آبراش اسے دیکھ مسکرایا اور اپنا سر بھی سیٹ سے ٹکا گیا۔

مہمل اب گہری نیند سوچکی تھی اسکا سر اب آبراش کے کندھے پر جا جس پر وہ رکھے پرسکون انداز میں سورہی تھی اور آبراش کو اس سے زیادہ معصوم اس وقت کوئی نہیں لگ سکتا تھا اس نے اپنی جیکٹ اتار کر مہمل پر ڈال دی اور اسے ایک نظر دیکھ کر نظریں سامنے کرگیا

_______________________

وہ دونوں مری پہنچ چکے تھے اس وقت ائیر پورٹ پر موجود تھے۔ مہمل نے آبراش کی جیکٹ ابھی تک کندھوں پر ڈالی کوئی تھی

“میں واشروم سے ہوکر آئی”

مہمل آبراش کو دیکھتے کہتے ساتھ اندر کی طرف بڑھنے لگی آبراش اسے جاتا دیکھنے لگا۔

“ہاں عریش “

تبھی آبراش کو عریش کی کال اٹینڈ کرتا چہرہ کا رخ دوسری طرف کر گیا۔

مہمل واشروم یوز کرنے کے بعد باہر کی طرف بڑھی جب کسی نے فوراً اسکے منہ پر رومال رکھا یہ بہت سائیڈ پر جگہ تھی جہاں اتنی بھیڑ بھاڑ نہیں تھی اس یکدم حملے پر وہ گھبرا کر رہ گئی وہ اپنا آپ اس شخص سے چھڑوانے کی کوشش کرنے لگی ان سب کے دوران آبراش کا دیا گیا لاکڈ زمین پر گر گیا لیکن نہیں چھڑوا سکی اور کچھ ہی دیر میں بےہوش ہوکر باہوں میں گر گئی۔

“کہاں رہ گئی”

آبراش کہتے ساتھ آگے کی جانب بڑھا اور مہمل جس طرح آئی تھی اس طرف کا رخ کرنے لگا

اس شخص نے اسے گاڑی میں ڈالا

“جلدی چلا”

ساتھ موجود دوسرا لڑکا فوراً کہنے لگا اور اس نے گاڑی اسٹارٹ کی آبراش جو مہمل کا انتظار کررہا تھا اسکی نظر مہمل کے گرے ہوئے لاکٹ پر گئی اور ساتھ اپنی جیکٹ پر اس نے نظریں ادھر ادھر گھمائی تو نظر اس گاڑی پر گئی۔

“مہمل”

آبراش اسکا لاکڈ دیکھتے ہوئے اسے پکارنے لگا لیکن وہ تو بےہوش تھی اسے کچھ خبر نہیں تھی

تبھی عریش ائیر پورٹ پہنچا اور آبراش اور مہمل کو ڈھونڈنے لگا

“بھائی”

وہ ڈھونڈتے ڈھونڈتے اس جگہ ا پہنچا جہاں آبراش لاکڈ تھامے بیٹھا تھا۔

“بھائی آپ یہاں ایسی کیوں بھابی کدھر ہے”

وہ اسے دیکھتے ہوئے پریشانی سے پوچھنے لگا جب آبراش نے اپنی گولڈن بلوئش نظریں اٹھا کر عریش کو دیکھا۔ اور اسے بتایا۔

“کیڈنیپ کون کرسکتا ہے انہیں کیڈنیپ”

وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا جس پر آبراش نے اسے دیکھا۔

“کون ہے پتہ نہیں لیکن پتہ لگوا لوں گا”

وہ سرخ آنکھوں کیساتھ سخت لہجے میں کہتے ساتھ اٹھا عریش بھی اسکے ساتھ بڑھنے لگا تبھی آبراش کا فون بجا۔ جو اس نے بغیر کٹ کردیا پھر سے فون بجنے لگا

“کیا مصیبت ہے”

وہ انتہائی سرد لہجے میں تیزتیز قدم اٹھائے پوچھنے لگا۔

“یہی آواز سننے کیلیے تو تڑپ رہا تھا یہی بےچینی یہی تڑپ دیکھنے کا تو کب سے انتظار کیا “

دوسری طرف سے آتی آواز سے آبراش کا خون کھولنے لگا۔

“کہاں ہے مہمل نوریز”

وہ چیختے ہوئے دھاڑا تھا عریش بھی گھبرا گیا تھا ۔

“اتنی آسانی سے بتادو ہمت ہے تو ڈھونڈ لیکن جب تک تم اسے ڈھونڈو گے پتہ نہیں کیا حشر ہوگا اسکا”

وہ کہتے ساتھ اونچا اونچا ہنسنے لگا اور آبراش کس غصہ سے دماغ گھوم رہا تھا۔

“تیری اتنی اوقات ہے کہ تو اسے ایک خروش دے سکے”

وہ غصےسے کہتے ساتھ فون بند کرتا بھاری بھاری قدم اٹھائے گاڑی کی طرف بڑھنے لگا اور عریش بھی اسکے ساتھ آیا۔

“فون مہمل کے ہاتھ میں ہے”

آبراش فون کان سے لگاتے ہوئے دوسری طرف موجود شخص سے سوال کرنے لگا

“اوکے”

کہتے ساتھ آبراش نے فون بند کیا اور گاڑی تیز رفتار سے سڑک پر دوہرا دی

________________________

وہ اس وقت ایک کمرے میں موجود تھی مہمل نے آنکھیں بامشکل کھولی اور نظر کمرے میں گھمائی اور دماغ پر ہاتھ رکھتے ہوئے وہ اسے یاد کرنے لگی

“میں کہاں ہوں “

مہمل خود کو دیکھتے ہوئے پوچھنےلگا اور سوچنے لگی تبھی اسے سب یاد آیا۔

“کون ہو تم کیوں کیڈنیپ کیا کیا چاہیے مجھ سے”

وہ چیختے ہوئے بولتے چلی گئی تبھی ایک شخص اندر داخل ہوا مہمل کی نظر اس پر گئی۔

“کون ہو تم”

مہمل اسے گھورتے ہوئے دیکھ کر بغیر ڈرے پوچھنے لگی اور وہ اسکی طرف قدم بڑھانے لگا۔

“تم سے کچھ نہیں چاہیے تمہیں اہنے پاس رکھ کر کسی کو تکلیف ضرور مل رہی ہے “

وہ چہرے پر گٹھیا مسکراہٹ سنائے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا اسکے انداز سے مہمل تھوڑا گھبرائی مگر وہ ڈرنا نہیں چاہتی تھی۔

“اچھا جی تو کسے ملے گی تکلیف ذرا بتانا پسند کریں گے”

مہمل نارمل انداز میں اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی جس پر وہ ہنسنے لگا

“تمہارے ہیرو “

وہ اسکے قریب چہرہ کرتے ہوئے لفظ چبا کر بولتے ہوئے مہمل کو ڈرانے کی کوشش کرنے لگا۔

“اچھا مجھے یہاں رکھنے سے انہیں تکلیف ہوگی اچھا مذاق تھا تم جانتے نہیں ہو وہ مجھے کہیں سے بھی ڈھونڈ سکتے ہیں یاد رکھنا کیونکہ میں انکی طاقت ہوں کمزوری نہ”

وہ اسے دیکھتے اعتبار بھرے لہجے میں مسکراتے ہوئے چہرہ پیچھے کی جانب کیے خود کو کمپوز کرتے ہوئے کہنے لگی

“جسے تم ہیرو سمجھتی ہو نا وہ ایک وحشی درندہ ہے “

وہ۔ اسے دیکھتے ہوئ سخت لہجے میں بتانے لگا آبراش کیلیے اسکے منہ سے نکلے گئے الفاظ مہمل کو سخت ناگوار گزرے وہ اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھنے لگی

“وہ وحشی درندے بھی تم جیسے درندوں کیلیے تاکہ تمہارا دماغ ٹھکانے لگا سکے”

مہمل چہرے پر محظوظ مسکراہٹ سجائے طنزیہ انداز میں گھورتے ہوئے کہتے ساتھ اسکا منہ بند کروا گئی تھی۔

“وہ انسان انسان نہیں حیوان ہے”

وہ اسے دیکھتے ہوئے لہجے میں نفرت لیے بولا مہمل کو اسکی باتیں سن کر مہمل کو مزید غصہ آنے لگا

“چپ ایکدم میرے لیے اس سے بہتر انسان کوئی نہیں ہے اور اب میرے راش کے بارے میں ایک بھی بات کی نہ تو کمزور سمجھنے کی غلطی مت کرنا کوبرہ کی مسز ہوں چھوڑو گی نہیں”

وہ اسے دیکھتے ہوئے وارن کرنے والے انداز اور غرور بھرے لہجے میں شہادت والی انگلی اسکی طرف اٹھائے بولی جس پر وہ بس اسے دیکھتا رہ گیا

__________________

“کیا اللہ خیر کرے آمین”

فریحہ بیگم مہمل کے کیڈنیپ ہونے کا سنتے پریشانی سے کہنےلگی جس پر آبرو نے انہیں سنبھالا

“آپ پریشان نہ ہو آبراش اسے ڈھونڈ لے گا ڈونٹ وری”

رومیسہ انہیں تسلی دیتے ہوئے کہنے لگی فریحہ بیگم کا دل بہت گھبرانے لگا۔

“ابھی اس بیچاری بچی نے اپنی ماں کو جاتا دیکھا اور اب یہ اللہ اسکی حفاظت کرے”

وہ پریشانی سے کہنے لگی اسکی بات سن کر آبرو نے انہیں دیکھا۔

“آمین مام پریشان نہ ہو پانی پیے”

آبرو کہتے ساتھ انہیں پانی پلانے لگی عثمان خاموش کھڑا تھا۔

“بھابی آپ کو پتہ ہے وہ دونوں کہاں پر ہے میں وہی جاتا ہوں”

عثمان رومیسہ کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا

“نہیں مجھے نہیں پتہ اور تمہیں نہیں جانا چاہیے تمہیں ہمارے ساتھ رہنا چاہیے مام کی طبیعت بگڑ رہی ہے “

رومیسہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی عثمان اثبات میں سر ہلا کر بیٹھ گیا ۔

________________________

“بہت پیار کرتی ہے تو اس سے رک”

وہ غصے سے دیکھتے ہوئے اسکی طرف بڑھنے لگا اسکی کمر پر چاقو لگا۔

“آہہہہ”

وہ درد سے کراہ گیا اور مہمل سے دور ہوا

“چھونے کاسوچنا بھی مت”

وہ اسکی جانب۔ بڑھتے ہوئے سرد لہجے میں کہتے ساتھ اندر کی طرف بڑھا اور مہمل اسے دیکھ کر مسکرائی۔

“راش”

مہمل اسے وہاں موجود پاکر خوشی سے اسکی طرف بڑھی اور اسکے سینے سے لگ گئی اور آبراش نے اسے مضبوط حصار اسکے گرد بنا کر اسے خود میں بھیجا

“تم ٹھیک ہو نا”

وہ اسے اپنے قریب پاکر خود میں سکون سا محسوس کرنے لگا اور آنکھیں بند کیے فکرمندی سے پوچھنے لگا

“ہاں میں ٹھیک ہوں “

مہمل اسکے سینے پر منہ چھپائے اسے بولتے ہوئے بلکل بچی لگی تھی وہ اسی طرح اسے خود سے لگائے آنکھیں بند کیا کھڑا تھا۔

“را”

مہمل اسے پکارنے لگی جب آبراش نے اسے سینے سے ہٹا کر اسکے ہونٹوں پر انگلی رکھی۔

“شششش مجھے تمہیں کچھ دیر محسوس کرنے دو”

وہ اسکے ہونٹوں پر انگلی رکھے اسے کہتے ساتھ ایک بار پھر سے سینے سے لگا گیا اور اسکی گردن پر جھک کر ہونٹوں کا لمس محسوس کروایا۔

“میں ڈر گیا تھا”

وہ اسکے بالوں میں لب رکھے اسے دھیمے لہجے میں بتانے لگا مہمل نے نظریں اٹھا کر اسکی طرف دیکھا۔

“آپ ڈرتے بھی ہیں”

مہمل اسے دیکھتے ہوئے عجیب سا سوال کرنے لگی جب آبراش نے آنکھیں کھول کر اسکی طرف دیکھا۔

“آبراش شاہ صرف ایک کو کھونے سے ڈرتا ہے اور وہ اسکی اینجل”

وہ اسے دیکھتے ہوئے اسکے چہرے پر ہاتھ رکھے شدت سے بولا مہمل کے چہرے پر مسکراہٹ نمودار ہوئی اور آبراش نے اسکے ماتھے پر لب رکھے مہمل اسکا لمس محسوس کرتی آنکھیں بند کر گئی۔

ایک عادت سی بن گئی ہو تم💫

ایسی عادت جو کبھی چھوڑی نہیں جاتی❤️

جاری ہے