51.4K
33

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Shiddat Junon) Episode 7

وہ لوگ واپس جانے کیلیے مال سے باہر نکل رہے تھے جب سامنے سے آتے شخص کی بازومہمل کی بازو سے ٹکرا گئی وہ گھور کر اسے دیکھنے لگ گئی
“سوری”
وہ اسے گٹھیا نظروں سے سر تا پیر دیکھتے ہوئے کہتے ساتھ آگے بڑھنے لگا مہمل عریش کے ساتھ آگے بڑھی
“اوکے میں آتا ہوں”
آبراش فون کان سے لگائے سپاٹ انداز میں جواب دیتا جیب میں فون ڈال گیا
“عریش تم لے کر جاؤ مجھے کام ہے”
وہ عریش سے مخاطب ہوا عریش اور رومیسہ اسکی بات سمجھ کر خاموشی سے چلنے لگے
“کیوں آپ کو اس وقت کیا کام ہے “
مہمل اسکے پاس رکتے ہوئے اس سے سوال کرنے لگی آبراش نے ماتھے پر انگلی پھیری اسوقت اسکا پوچھنا اسے سخت ناگوار گزرا تھا
“میرے معاملوں میں مت بولو “
وہ اسے سرد نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہتے ساتھ آنکھوں پر گاگلز لگائے جانے لگا
“مہمل ابھی چلو یار وہ آجائے گا”
اس سے پہلے وہ کچھ اور کہتی رومیسہ اسے اپنے ساتھ لیتے ہوئے سمجھا کر گاڑی میں بٹھانے لگی آبراش وہاں سے مغرور چال چلتا چلا گیا
••••••••••••••••••••••
وہ شخص کو اس وقت درخت کیساتھ لگائے اسکی گردن کو مضبوطی سے اپنی گرفت میں لیے ہوئے تھا سامنے کھڑے شخص کو سانس بامشکل آرہی تھی
“چھوا کیسے”
وہ گولڈن بلیش سرخ آنکھیں اس پر گاڑھے انتہائی سرد لہجے میں بولا کہ سامنے والا شخص اس اندھیرے میں اسکی اتنی خطرناک آنکھیں دیکھ کر گھبرا گیا
“کک۔۔۔ککسے”
وہ کانپتے لبوں کیساتھ اس سے باہمت پوچھنے لگا جس پر کوبرہ کے چہرے پر زہریلی مسکراہٹ آئی اس نے جیب سے گن نکالی اور اسے لاڈ کرکے اسکی بازو کا نشانہ بنایا وہ شخص یہ سب دیکھ گھبرا گیا وہ پھٹی ہوئی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا اور ٹریگر پر انگلی رکھ کر اس پر چلادی اور گولی اسکے بازو پر سیدھالگی
“آہہہہہ”
وہ شخص درد سے کراہ گیا اور نم آنکھوں سے اس درندے کو دیکھنے لگا جو پرسکون سا کھڑا تھا
“میں نے کوئی گناہ نہیں کیا تھا”
وہ نم آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا
“گناہ کیا تھا میرے عشق کو چھو کر اسے دیکھ کر تم نے گناہ کیا تھا وہ گناہ ہے میری نظر میں “
وہ اسکے قریب ہوکر لفظ چبا چبا کر کہتے ساتھ اس پر نظریں جمائے خوفزدہ کررہا تھا اس نے سب جیب سے چاقو نکالا
“نن۔۔۔نننہیںں۔۔۔نہیں پلیزززز مجھے چھوڑ دو مننیں ۔۔۔معافی۔۔۔۔ما۔۔مانگتا۔۔۔ہوں ۔۔پلیزززز”
سامنے کھڑا شخص اپنی زندگی کی بھیگ مانگنے لگا کوبرہ نے اسکی باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے چاقو سے اسے مار ڈالا اور وہ شخص پھٹی ہوئی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگ گیا
“تم حیوان ہو”
وہ چاقو اسکے کپڑوں سے صاف کرکے جیب میں ڈال کر اپنے سر پر ہڈی ڈالتا بھاری بھاری قدم اٹھائے چلا گیا
•••••••••••••••••
“کیا کام تھا کچھ بتایا تک نہیں انہوں نے “
مہمل گھر آتے ساتھ پوچھنے لگی جس پر رومیسہ نے اسے دیکھا
“میں سونے جارہا ہوں “
عرءش اسکی باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے کہتے ساتھ آگے بڑھ گیا مہمل اسے جاتا دیکھنے لگ گئی
“کیسے بھائی ہیں یہ پرواہ ہی نہیں انکی”
مہمل رومیسہ کو دیکھتے ہوئے کہنے لگی
“ہاں کیونکہ وہ جانتا ہے وہ ٹھیک ہے اور تم بھی پریشان نہ ہو وہ تھوڑی دیر میں آجائے گا”
رومیسہ کہتے ساتھ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی مہمل بھی خاموشی سے کمرے کی طرف بڑھ گئی
“کیا میں نے ایک انجان پر اتنا یقین کرکے اسکی صرف خوبصورتی دیکھ کر اپنا بنانے میں غلطی کردی ہے کیا”
مہمل کمرے میں بیٹھے آبراش کا رویہ سوچتے ہوئے خود سے کہنے لگی
“مہمل یہ تمہاری قسمت میں تھا “
وہ خود کو تسلی دیتے ساتھ کورٹ اتارتی باتھروم کی طرف بڑھ گئی
وہ کچھ دیر بعد چینج وغیرہ کرکے باہر آئی تو اسے بیڈ پر موجود پایا
“آپ آ گئے کہاں تھے آپ آبراش “
وہ اسے آتا دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی جس پر آبراش نے اسے دیکھا
“کام تھا”
وہ مختصر سا جواب دیتے ساتھ اپنی شرٹ اتارنے لگا
“کبھی تو ٹھیک سے جواب دے دیا کریں مجھے آپ کو پتہ ہے کس قدر پریشان تھی کچھ بتائے بغیر آپ وہاں سے چلے گئے”
وہ بول رہی تھی جب آبراش نے اسکے ہونٹوں پر انگلی رکھی
“میرے لیے فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں ہے اور سوجاؤ اب ٹھیک ہوں “
وہ اسکے ہونٹوں پر انگوٹھا پھیرتے ہوئے گھمبیر لہجے میں بول کر مہمل کو کنفیوز کر گیا مہمل نظریں جھکا گئی اور وہ اسکے ہونٹوں سے ہاتھ ہٹاتا باتھروم کی طرف بڑھ گیا اور مہمل اسے جاتا دیکھنے لگی
•••••••••••••••••••••
“اسکو بہت نظرانداز کرتا ہے آبراش”
رومیسہ عریش کو دیکھتے ہوئے کہنے لگی جس پر عرءش اسے دیکھنے لگا
“ٹھیک کرتا ہے اس طرح نہ وہ کسی امید میں رہے گی اور نہ اسے عادت بھی گی اسکی “
وہ کہتے ساتھ سگریٹ منہ سے لگانے لگا
“مت پیا کرو ایک تم دونوں کہ یہ سگریٹ پینے سے سخت نفرت ہے مجھے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے ناگواری سے بولی جس پر عرءش خاموشی سے لبوں سے لگا گیا
“وہ تو پیار کرتی ہے آبراش سے ایسا نہ کرے اس معصوم کیساتھ میں سمجھاؤ گی اسے”
رومیسہ کہتے ساتھ کافی کو گھونٹ بھرنے لگی
“ہرگز نہیں ان دونوں کو چھوڑ دو یہ انکا پرسنل میٹر ہے “
عریش اسے فوراً بولا رومیسہ منہ بنا گئی
••••••••••••••••••••••••
مہمل اٹھی تھی آبراش موجود نہیں تھا مہمل اٹھ کر جانے لگی جب فرش پر کانچ گرا تھا جو مہمل کو نہ دیکھا اور اسکے پیر پر لگ گیا
“آہہہہہ”
وہ درد سے چلائی اسکے پیر وہ پورا گھس گیا تھا مہمل کی آنکھوں میں نمی آ گئی تبھی آبراش باتھروم سے باہر آیا نظر اس پر ڈالی
“کیا ہوا”
وہ اسے دیکھتے ہوئے سپاٹ لہجے میں پوچھنے لگا مہمل نے اسے پیر دیکھایا
“صاف نہیں کیا ہوگا”
وہ لاپرواہی سے کہتے ساتھ آگے کی طرف بڑھ گیا اور مہمل اسے خالی نظروں سے جاتا دیکھ رہی تھی اسکی تکلیف کا ذرا احساس نہیں ہوا تھا وہ بیڈ پر بیٹھ گئی
“تم ٹھیک ہو “
رومیسہ کمرے میں آتے ہوئے پوچھنے لگی مہمل نفی میں سر ہلا گئی
“اوہہ یہ کیسا ہوا رکو میں نکالتی ہوں تھوڑا سا درد ہوگا پھر ٹھیک ہو جائے گا”
وہ اسے کہتے ساتھ اسکے پیر پر ہاتھ رکھے بولی
“مجھے اکیلا رہنا ہے”
وہ پہر پیچھے کرتے ہوئے کہنے لگی رومیسہ اسے دیکھنے لگ گئی
“سمجھ نہیں آرہی ہے آپ کو مجھے اکیلے رہنا ہے”
وہ غصے سے بولی جس پر رومیسہ خاموشی سے چلی گئی اور مہمل دروازہ لاک کرتی بامشکل بیڈ پر آئی
••••••••••••••••••••
وہ بیڈ پر بیٹھی تھی کمرے کو بلکل اندھیرے میں کیا ہوا اس وقت خود کو بہت اکیلا محسوس کررہی تھی پیر پر بھی بہت درد ہورہا تھا مگر آبراش جا نظر انداز کرنا اسے بہت تکلیف دہ لگا تھا
تبھی کسی کی موجودگی کا احساس ہوا وہ لیمپ آن کرتی دیکھنے لگی سامنے دیکھنے لگی وہاں موجود ایک شخص بلیک ہڈی میں چہرے کو ڈھکے صرف اسکی آنکھیں دیکھ رہی تھی وہ پہچان گئی تھی
“سپر ہیرو “
وہ اسے دیکھتے ہوئے حیرت سے کہنے لگی جس پر وہ اسکے سامنے آیا اور کوئی جواب دیے بغیر اسکے پیروں پر بیٹھا اور اسکے پیر سے شیشہ نکالا بڑے آرام سے نکالا مہمل اسے دیکھ رہی تھی
“آپ اندر کیسے آئے ہیں بتائیں”
مہمل بول رہی تھی جب اس اسکے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر خاموش کردیا
“اکیلا محسوس کررہی ہو”
وہ اسکے کان کے قریب ہوکر گھمبیر لہجے میں پوچھنے لگا مہمل نے نم آنکھوں سے اسے دیکھا
“بہت زیادہ”
وہ اسے اثبات میں سر ہلائے بتانے لگی
“جو تکلیف دے رہا ہے وہ شئیر کرو”
وہ پرسکون سا کہتے ساتھ بیڈ پر بیٹھا مہمل اسے دیکھنے لگ گئی کوبرہ نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا مہمل اس سے تین انچ کے فاصلے پر بیٹھی
“میرے جو اینگری مین ہے انہیں میری پرواہ نہیں ہے میں تکلیف میں ہوں انہیں فڑق نہیں پڑتا غفچ غصہ ہوتے رہتے ہیں مام ڈیڈ بھی تو اتنے دور ہیں مجھ سے انکی بھی بہت یاد آتی ہے بہت زیادہ یاد کیا کروں بہت اکیلی ہوں کوئی اپنا نہیں ہے”
وہ آنکھوں میں آنسوں لیے اسے بتانے لگی کوبرہ نے اسکی طرف دیکھا
“مجھے اپنا سمجھو”
وہ اسے کہتے ساتھ بیڈ سے اٹھا اور اسے لیٹنے کا اشارہ کیا
“لیٹو”
وہ اسے دیکھتے ہوئے بولا مہمل اسے دیکھنے لگی
“کک۔۔کیوں “
وہ گھبراتے ہوئے پوچھنے لگی جس پر کوبرہ تھوڑا دور ہوا
“لیٹو”
وہ اسے پھر سے بولا مہمل لیٹ گئی وہ اسکے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھا
“آنکھیں بند کرو اور جو چیز بہت سکون دیتی ہے وہ سوچو”
وہ اسکے قریب ہوکر کہنے لگا وہ اسکی بات سن کر بچپن میں کھونے لگی مگر اچانک ہی یادوں کے سامنے آبراش اور پھر اس شخص کی انکھیں سمائیں جو اس وقت اسے پرسکون کرنے کو بیٹھا تھا
“Calm down”
وہ اسے کہتے ساتھ بالوں پر انگلیاں پھیرتے ہوئے سکون دلانے لگا کچھ دیر بعد اسکی سسکیاں بند ہو گئی اور وہ پرسکون دنیا سے بے خبر سو گئی کوبرہ کو جب لگا وہ پرسکون سی ہے وہ اس پر ایک گہری نظر ڈال کر لیمپ آف کرتا وہاں سے چلا گیا۔
•••••••••••••••••••••••
وہ رات کے پہر کمرے میں داخل ہوا جہاں وہ گہری نیند سو رہی تھی اس نے ایک نظر اس پر ڈالی اور چینج کرنے کیلیے باتھروم کی طرف بڑھ گیا وہ چینج کرکے بیڈ اسکے ساتھ آکر لیٹا کسی اور کی موجودگی کا احساس ہوتے ہی مہمل کی آنکھ کھل گئی وہ ڈرتے ہوئے دیکھنے لگی سامنے آبراش کو دیکھ کر اطمینان ہوا
“ڈرو نہیں”
وہ اسے کہتے ساتھ منہ دوسری طرف کر گیا اور مہمل اسے نم آنکھوں سے دیکھ رہی تھی جس قدر بےحس انسان تھا
“برے ہیں آپ انتہائی برے آپ کو میری فکر نہیں ہے”
وہ غصےسے سے اسکی کمر تکتے ہوئے بولی آبراش نے مڑ کر اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا
“ایک دفعہ بھی پوچھا ہے میرا پیر کیسا تھا”
وہ غصے سے اسکے دیکھنے پر آواز اور اونچی کر گئی
“جب میں پسند نہیں تھی تو نہیں کرتے یہ نکاح کیوں کیا”
وہ سر آنکھوں سے اسے کہنے لگی آبراش اسے دیکھ رہا تھا اس نے اسے قریب کیا اور اسکا چہرہ اپنے سینے میں چھپایا
“آواز ہلکی میں نے تمہیں وارن کیا تھا”
وہ اسے اپنے ساتھ لگائے بولا مہمل اداسی سے اسے دیکھنے لگ گئی
“برے ہیں آپ بہت برے ہیں بہت زیادہ “
وہ غصے سے اسکے سینے پر مکے مارنے لگی تھی جب آبراش نے اسکے دونوں بازوؤں جو مضبوطی سے پکڑا تھا اور اپنے قریب کرکے اسکے لبوں جو اپنے لبوں سے چھو کر اس معصوم کو خاموش کروانے پر مجبور کردیا تھا وہ پھٹی ہوئی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی
“سوجاؤ”
وہ اسے اپنے ساتھ لگائے اسکے گرد حصار بنائے کہتے ساتھ آنکھیں بند کر گیا مہمل کو حد سے زیادہ شرمندگی نے آگھیرا وہ اسکی حرکت کے بعد کچھ بولنے سے بھی کترا رہی تھی
•••••••••••••••••••••••
صبح اسکی آنکھ کھلی تو رات کا منظر یاد کرتے ہی اسے شدید غصہ آیا مہمل نے نظر کمرے میں گھمائی وہ کہیں موجود نہیں تھا
تبھی وہ باتھروم سے باہر آیا مہمل اٹھ کر اسکے سامنے کھڑی ہوئی
“اگلی دفعہ ایسا کچھ بھی کرنے اور میرے قریب آنے سے پہلے مجھے اپنی بیوی مانیے گا اور قریب آئیے گا “
وہ اسے غصےسے سے دیکھتے ہوئے بولی
“بیوی مانتا ہوں”
وہ سپاٹ انداز میں اسے جواب دیتے ساتھ جانے لگا
“جب دل چاہے گا غصہ ہوں گے جب دل چاہے گا نرمی سے بات کریں گے جب دل کرے گا میرے قریب آئے گا میں گری پری نہیں ہوں یاد رکھیے گا”
وہ اسے جاتا دیکھتے ہوئے کہنے لگی جس پر آبراش نے ماتھے پر ہاتھ پھیرا
“تمہیں بےفضول بولنے کی عادت بچپن سے ہے یا اب پڑی ہے”
وہ اسکے قریب آکر اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا
“کیا مطلب”
مہمل اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی
“مطلب یہ کہ اس ننھی سے ذہن میں اتنا زور مت ڈالو اور بےفضول سوچنا چھوڑ دو “
وہ اسکے چہرے پر ہاتھ رکھ کر اسے کہتے ساتھ چلا گیا مہمل اسے غصےسے جاتا دیکھنے لگی۔
••••••••••••••••••••••••
وہ کمرے میں بیٹھا سگریٹ پی رہا تھا آنکھیں اس وقت حد سے زیادہ سرخ تھی۔
“تم حیوان ہو”
وہ اس شخص کی باتیں یاد کرتے ہوئے سگریٹ پینے لگ گیا
ماضی۔۔۔
“دور رہیں گندے بھائی ہیں میری حفاظت نہیں کرسکے دور رہے مجھ سے”
وہ روتے ہوئے اسے دھکا دیتے ہوئے کہنے لگی جس پر سامنا کھڑا شخص آنکھوں میں آنسو لیے اسے دیکھ رہا تھا
“آبرو با”
وہ ابھی کچھ بولتا جب وہ اسے دھکا دیتی کمرے میں بند ہو گئی تھی وہ اسے جاتا دیکھنے لگا
“آبرو دروازہ کھولو میری بات سنو”
وہ روتے ہوئے دروازے پر دستک دیتے ہوئے اسے پکارنے لگا مگر وہ سنہ ان سنی کرتی دروازے کیساتھ سر لگائے رونے لگ گئی
وہ آنکھوں میں آنسو لیے وہ سب سوچ رہا تھا سگریٹ باہر پھینکا اور
اٹھ کر باتھروم کی طرف بڑھ گیا
•••••••••••••••••••
“پیر کیسا ہے اب”
مہمل نیچے آئی رومیسہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی مہمل سرخ آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی
“ٹھیک ہے”
وہ نم آنکھوں سے اسے کہتے ساتھ ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھ گئی رومیسہ بھی اسکے پاس آئی
“سب ٹھیک ہے نا مہمل”
رومیسہ اسکے چہرے پر نظر ڈالتے ہوئے فکرمندی سے پوچھنے لگی مہمل نے اسے دیکھا اور کچھ کہے بغیر اسکے گلے سے لگ گئی
“بتاؤ مجھے کیا ہوا ہے”
وہ اسے خود سے الگ کرکے چہرے پر محبت سے ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھنے لگی مہمل نفی میں سر ہلا گئی
“مجھے نہیں لگتا بتاؤ میں تمہاری مدد کرسکوں”
وہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی جس پر مہمل نے آنسو صاف کیے اسے سب بتایا
“تم چاہتی ہو وہ تم سے بات کرے تمہارے قریب ہو”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی مہمل نے اثبات میں سر ہلا دیا
“ایک دن اگنور کرکے دیکھو اگر یہ ترکیب بھی کام نہ آئی تو ہم دوسری سوچیں گے”
وہ اسے بتاتے ساتھ تسلی دیتے ہوئے بولی جس پر مہمل نے اسے دیکھا
“کیا یہ کام کرے گا”
وہ اسے دیکھتے ہوئے آنسو صاف کیے پوچھنے لگی
“عورت کا نظر انداز کرنا مرد کو بہت حد تک غصہ دلاتا ہے تم دیکھنا وہ غصے میں ہی سہی لیکن پہلے وہ تم سے بات کرے گا “
رومیسہ اسے بتانے لگی جس پر مہمل اثبات میں سر ہلا گئی۔
جاری ہے