Shiddat Junon By Mahnoor Shehzad Readelle50297 (Shiddat Junon) Episode 26
No Download Link
Rate this Novel
(Shiddat Junon) Episode 26
وہ دونوں ہاتھ میں ہاتھ ڈالے ایک دوسرے سے قدم ملائے چل رہے تھے آبراش مہمل کو مسکراتے ہوئے دیکھ رہا تھا جو بس خاموشی سے اسکے ساتھ چل رہی تھی۔
“بہتر فیل کررہی ہو اب”
آبراش اسکے بال ٹھیک کرتے ہوئے پوچھنے لگا مہمل نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
“ہے راش”
تبھی ایک خوبصورت سی لڑکی ان دونوں کے سامنے موجود تھی مہمل اسے دیکھنے لگی آبراش بھی اسے دیکھ رہا تھا۔
“پہچانا نہیں دینا “
وہ اسے دیکھتے ہوئے مسکراتے ہوئے کہنے لگی
“ہائے”
وہ سپاٹ لہجے میں اسے بولا ریما اسے دیکھنے لگی۔
“بولتے تو تم شروع سے ہی کم ہو مجھے پتہ ہے یہ کون ہے راش”
وہ مہمل پر نظریں کیے آبراش سے مخاطب کوئی اور راش اسکے منہ سے سننا مہمل کو سخت ناگوار گزر رہا تھا۔
“مہمل ہے میری وائف”
آبراش اسے اپنے ساتھ لگائے اسے مسکرا کر دیکھتے ہوئے ریما کو بتانے لگا۔
“کیا راش تم نے شادی کرلی”
وہ اسے دیکھتے ہوئے حیرانگی سے پوچھنے لگی مہمل کا اب دماغ گھومنے لگا۔ اس سے پہلے آبراش کچھ بولتا مہمل بول پڑی۔
“ہمت کیسے ہوئی راش کہنے کی”
وہ غصے سے اسے دھکا دیتے ہوئے سرخ آنکھوں کیساتھ طیش میں بولی آبراش مہمل کو دیکھنے لگا سامنے موجود لڑکی بھی آنکھوں میں حیرت لیے اسے دیکھ رہی تھی۔
“تم پاگل ہو کیا راش یہ کون ہے”
وہ لڑکی اسے حیرت سے دیکھتے ہوئے آبراش کو بولی مہمل غصے سے اسکی طرف بڑھی اور اسکے بلکل مقابل میں کھڑی ہوئی۔
“I’m warning you one last time, don’t call me Rash OK”
مہمل سرد نگاہیں اس پر ڈالے انتہائی سخت اور اونچے لہجے میں اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی وہ بس منہ کھولے اسے دیکھ رہی تھی وہاں موجود بہت سے لوگ یہ سب دیکھ رہے تھے۔
“ریما یو گو”
آبراش اسے سپاٹ لہجے میں بولا وہ منہ بنائے وہاں سے واک آؤٹ کر گئی اور مہمل کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
“اینجل یہ کیا تھا”
آبراش مہمل کے پاس آتے ہوئے کہنے لگا مہمل نے مڑ کر اسے دیکھا۔
“میرے علاوہ آپ کو کوئی راش نہیں کہ سکتا کیونکہ آپ صرف میرے راش ہے ہمت کیسے ہوئی اسکی آپ کو اس لفظ سے پکارنے کی آئی سیور ایک دفعہ اور کہتی تو جان سے مار دیتی”
سامنے کھڑی لڑکی اس وقت بولتے ہوئے پاگل لگ رہی تھی اور آبراش اسکا یہ انداز دیکھ کر خود بھی حیران تھا۔
“آپ صرف میرے ہیں اپنی اینجل کے یاد رکھیے گا”
وہ اسکے قریب ہوئے اسے دیکھتے ہوئے شدت سے بولی آبراش نے اسے زور سے سینے سے لگا لیا۔
___________________
“کوئی کال آئی آبراش کی”
رومیسہ اسے کافی دیتے ہوئے پوچھنے لگی عریش نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
“بھائی اور بھابی دونوں ٹھیک ہے لیکن ایک بری خبر ہے مہمل بھابی کی مام کی ڈیتھ ہو گئی ہے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے افسردگی سے بتانے لگا رومیسہ نے اسے دیکھا۔
“کیا مہمل کیسی ہے وہ ٹھیک تو ہے نا”
وہ اسے دیکھتے ہوئے فکرمند سی پوچھنے لگی عریش نے اسے دیکھا۔
“فکر نہ کرو سب ٹھیک ہے بھائی ساتھ ہیں اور تم جانتی ہو بھائی اسکی کتنی کئیر کرتے ہیں وہ اسے اپنے حصار میں لیے پیار سے کہنے لگا۔
“بیچارہ مہمل “
رومیسہ افسردگی سے کہنے لگی عریش نے اسے دیکھا۔
“ویسے میں نے دیکھا ہے تم بہت کلوز کو گئی ہو بھابی کے بہت فکر رہتی ہے تمہیں اسکی”
وہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا رومیسہ اثبات میں سر ہلا گئی۔
“ہمم وہ بہت اچھی ہے بہت زیادہ اور میری دوست بھی ہے تو مجھے اسکی فکر رہتی ہے”
وہ اسے بتانے لگی جب عریش نے اسکا رخ اپنی طرف کیا۔
“یہ چھوڑو یہ بتاؤ ہنی مون پر کہاں چلیں”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا جس پر رومیسہ اس سے دور ہوئی۔
“فلحال کافی پیو ڈھنڈی ہورہی ہے”
وہ اسے کہتے ساتھ کمرے سے چلی گئی اور عریش ہنستے ہوئے نفی میں سر ہلا گیا۔
______________________
“عریش”
عریش اور باقی سب لوگ ٹی وی لاؤنچ میں موجود تھے جب کسی نے اسے پکارا عریش نے اس طرف دیکھا۔
“عثمانوہ اسے دیکھتے ہوئے خوشی اور حیرت کے ملے جلے تاثرات لیے بولا وہ بھی اسے دیکھ کر مسکرایا۔
“اوئے کمینے تو کیسے”
وہ اسکی طرف بھاگ کر سینے سے لگائے کہنے لگا جس پر وہ بھی ہنستے ہوئے سینے سے لگا۔
“کل ہی پاکستان آیا ہوں سب سے پہلے تجھ سے ملا ہوں میں”
وہ اسے بتانے لگا عریش نے اسے پھر گلے لگایا۔
“اسلام و علیکم آنٹی کیسی ہیں آپ”
عثمان فریحہ بیگم کو سلام کرتے ہوئے پوچھنے لگا
“میں ٹھیک ہوں عثمان تم کیسے ہو “
وہ اسکے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھنے لگی
“میں ٹھیک ہوں”
وہ مسکراتے ہوئے بتانے لگا رومیسہ خاموش کھڑی مسکراتے ہوئے سب دیکھ رہی تھی۔
“رومیسہ یہ میرا بچپن کا دوست دس سال ہم ساتھ رہے تھے پھر اسکی فیملی کراچی چھوڑ گئی تھی “
وہ اسے دیکھتے ہوئے بتانے لگا عثمان نے اسے دیکھا۔
“بھابی ہیں کیا تم نے شادی کرلی”
وہ اسے دیکھتے ہوئے خوشی سے پوچھنے لگا جس پر وہ اثبات میں سر ہلا گیا عثمان اس سے ملا اور نظر آبرو پر گئی۔
“یہ تو شرارتی لڑاکا نہ چڑھی پکا آبرو ہے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے اعتماد بھرے لہجے میں کہنے لگا اسکے اس طرح بولنے پر آبرو گھور کر اسے دیکھنے لگی
“خود ہو گے بدتمیز”
آبرو منہ بسورے کہنے لگی سب ہنسنے لگ گئے عثمان بھی ہنسنے لگ گیا۔
“تم نہیں بدلی”
وہ ہنستے ہوئے کہنے لگا اور آبرو اسے منہ بناتا دیکھا کر اوپر کی طرف بڑھ گئی۔
“تم بتاؤ شادی کرلی”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا جس پر عثمان نے نفی میں سر ہلایا اور پھر وہ دونوں ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگے۔
__________________
وہ دونوں گھر آئے مہمل گھر آتے ساتھ ہی سو گئی تھی آبراش اسکے بالوں میں اپنے ہاتھوں کی انگلیاں پھیرتے ہوئے آج والا مہمل کا غصہ یاد کرنے لگا وہ واقع میں پاگل تھی اس شخص کے پیچھے آج اس بات کا آبراش جو اندازہ ہوگیا تھا۔تبھی اسکا فون بجا اس نے مہمل سے نظر ہٹا کر فون کان سے لگایا۔
“کوئی انفارمیشن “
وہ مہمل کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا
“اوکے”
وہ کہتے ساتھ فون کان سے ہٹا گیا اور مہمل کی طرف بڑھا اور اسکے ماتھے پر لب رکھ کر اٹھنے لگا۔
“نن۔۔۔نن۔نہیں پلیزز۔۔نہیں راش مجھ سے دور نہیں جائیں پلیززز ایسا نہ کریں میں نہیں رہ سکوں گی “
وہ نیند میں چہرے پر خوفزدہ تاثرات لیے بڑبڑا رہی تھی آبراش اسے دیکھنے لگا۔
“اینجل تم ٹھیک ہو”
آبراش اسکے چہرے پر ہاتھ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا اسکا جسم کانپ رہا تھا اور وہ گھبرائی ہوئی تھی۔
“Calm down angel”
وہ گھمبیر لہجے میں اسکے کان کے قریب سرگوشی کرنے لگا مہمل لیکن نارمل نہیں ہورہی تھی
“ریلیکس اینجل میں ساتھ ہوں تمہارے”
وہ اسکے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے بتانے لگا مہمل نے آنکھیں کھولی اور خوف سے نظریں کمرے میں گھمائی آبراش کو پاس دیکھ کر وہ اٹھ کر فوراً سینے سے لگ گئی۔
“راش وہ دور کردیں گے آپ کو مجھ سے”
وہ اسکے سینے سے لگی خوفزدہ سی اسے بولی آبراش نے اسکے بالوں میں ہاتھ پھیر کر اسے سہلانا شروع کردیا۔
“اینجل ریلیکس ریلیکس وہ خواب تھا ایک برا خواب کوئی تمہیں مجھ سے دور نہیں کرسکتا کوئی بھی نہیں”
وہ اسے خود سے الگ کیے اسے نارمل کرتے ہوئے چہرے پر ہاتھ بہت پیار سے بولا مہمل اسے دیکھ رہی تھی۔
“پلیززز مجھ سے کبھی دور نہیں جانا مجھے آپ کو کھونے کی بلکل ہمت نہیں ہے”
وہ اسکے چہرے پر ہاتھ رکھے ہوئے آنکھوں میں نمی لیے کہنے لگی آبراش اسے دیکھنے لگا۔
“نہیں مہمل تمہیں مجھ سے کوئی نہیں دور کرسکتا ہے تم صرف میری کو میری”
وہ اسکے چہرے پر نظریں جمائے کہنے لگا مہمل نظریں جھکا گئی۔
“ویسے تمہارا پاگل پن اپنے لیے میں آج دیکھ چکا ہوں آئی ایم امپریسڈ”
وہ اسے دیکھتے ہوئے شرارتی سے کہنے لگا مہمل نے اسکی طرف دیکھا۔
“ہاں تو اگر میرے راش کو کوئی اور راش کہے گا تو یہی کروں گی ٹھیک ہے آپ صرف مہمل کے ہے صرف میرے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی جس پر وہ مسکرایا۔
“ایک کام کرتا ہوں کل سے اپنی شرٹ پر میں بیچ لگوا لیتا ہوں جس پر لکھا ہوگا آبراش صرف مہمل کا ہے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے تنگ کرتے ہوئے کہنے لگا مہمل ہنسنے لگ گئی آبراش اسکی مسکراہٹ کو غور سے دیکھنے لگا۔
“ہاں یہ اچھا ہے”
وہ ہنستے ہوئے کہنے لگی جب آبراش نے بڑی بے باکی سے اسکے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے چھوا مہمل اس اچانک ہونے والے حملے پر گھبرا گئی اور آبراش مسکرا کر اسے دیکھنے لگا۔
“مسکراتے ہوئے سب سے زیادہ پیاری لگتی ہو”
وہ قریب ہوئے محبت سے کہتے ساتھ اسکی گردن پر جھکا مہمل اسکی قریب اور سانسوں کی تپش سے تیز ہوتی ہارٹ بیٹ کیساتھ آنکھیں بند کر گئی اور وہ اس میں مگن ہوگیا۔
“راش”
وہ نظریں جھکائے اسے پکارنے لگی جب آبراش اسکی بات نظر انداز کیے اسکے رخسار پر لب رکھ گیا اسکی گردن پرجھکا
“جیسی تم راش کے بغیر نہیں رہ سکتی راش بھی ایک پل تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا ہے اینجل”
وہ اسکی گردن میں منہ دیے گھمبیر لہجے میں بولا جس پر مہمل ہلکا سا مسکرائی مگر دل الگ ہی اسپیڈ سے دھڑک رہا تھا۔
_______________
“تم یہاں”
عثمان لان میں آتے ہوئے جیب میں ہاتھ ڈالے وہاں موجود آبرو کو مخاطب کرنے لگا آبرو نے مڑ کر اسے دیکھا۔
“ہاں مجھے بس نیند نہیں آرہی تھی”
وہ اسے ایک نظر دیکھ کر نظروں کا تعاقب سامنے کیے سپاٹ لہجے میں جواب دینے لگی عثمان اسے دیکھنے لگا۔
“تم یہاں کیوں”
آبرو نے اسے بغیر دیکھے پوچھا عثمان نے اسے دیکھا۔
“مجھے بھی نیند نہیں آرہی تھی”
وہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا آبرو اثبات میں سر ہلا گئی۔
“کیا کرتی ہو آج کل”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا جس پر آبرو نے اسے دیکھا۔
“کچھ نہیں فری ہوں جاب کرتی تھی لیکن اب نہیں تم بتاؤ”
آبرو اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی آبرو کی بچپن سے اس سے بنتی تھی لیکن کبھی کبھی بہت لڑائی بھی ہوجاتی تھی۔
“میں بزنس مین ہوں”
وہ اسے دیکھتے ہوئے بتانے لگا آبرو مسکرائی۔
“تمہارا خواب پورا ہوگیاخوشی ہوئی جان کر”
وہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی جس پر وہ بھی مسکرایا اور دونوں یوں ہی باتیں کرنے لگے۔
قسط کیسی لگی کمنٹس میں ضرور بتائیے گا شکریہ!!
