Shiddat Junon By Mahnoor Shehzad Readelle50297 (Shiddat Junon) Last Episode 34
No Download Link
Rate this Novel
(Shiddat Junon) Last Episode 34
آج عثمان کا آبرو کا نکاح تھا مہمل پنک کلر کے لانگ فراک میں بالوں کو کھولے ہوئے لائٹ سے میک ایپ میں بہت ہی زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی وہی آبراش بلیک پینٹ کورٹ میں ملبوس بالوں کو اچھے سے سیٹ کیے بہت ہی زیادہ ڈیشنگ لگ رہا تھا۔
“راش٫
وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھ کر پکارنے لگی جب آبراش نے آئںرو آچکا کر اسکی جانب دیکھا کہ نے اپنے پیروں کی طرف اشارہ کیا آبراش اسکی بات سمجھتے ہوئے مسکرایا مہمل نے اسکے سامنے ہیلز رکھی اور بیڈ پر مزے سے بیٹھ گئی آبراش گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اسے ہیلز پہنانے لگا اور مہمل مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہی تھی۔
“اب آپ صرف تھوڑے سے بڑے لگ رہے ہیں”
وہ اٹھ کر اسے دیکھتے ہوئے معصومیت سے کہنے لگی جس پر آبراش کے چہرے پر دلفریب مسکراہٹ آئی اور مہمل نے اپنے ائیر رنگز اسکی جانب کیے جو آبراش نے اسکے کان میں ڈالے اور نیکلیس اسے تھمایا وہ بھی آبراش جے مسکراتے ہوئے اسکے گلے میں پہنایا
“وہ آبراش شاہ کے عشق کی اکلوتی وارث ہے”♥😍
” You looking gorgeous angel”
آبراش مہمل کے کان کے قریب ہوکر اسکا عکس شیشے دیکھتے ہوئے گھمبیر لہجے میں کہتے ساتھ مہمل کی بیٹ مس کروا گیا مہمل کے چہرے پر دلفریب مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
” And you look dashing”
وہ اسکی طرف رخ کیے اسے دیکھتے ہوئے پیار سے بولی اسکی بات پر آبراش کے چہرے پر مسکراہٹ نمودار ہوئی اور آبراش نے اسکی گال پر لب رکھے مہمل نظریں جھکا گئی۔
“اتنا حسین تیار ہوئی ہو اس کا حساب رات میں ہوگا”
وہ اسے دیکھتے ہوئے شدت سے بولتے ساتھ اسے شرمانے پر مجبور کر گیا اور پھر دونوں نیچے کی طرف بڑھ گئے۔
رومیسہ سلور کلر کے خوبصورت سے ڈریس لائٹ سے میک ایپ میں خوبصورت تیار تھی اور وہی عریش گرے شلوار قمیض میں بہت ہی زیادہ ہینڈسم لگ رہا تھا اسکی نظر رومیسہ پر گئی۔
“او ایم جی مجھے مارنے کا ارادہ ہے کیا”
وہ اسے پیچھے سے حصار میں لیے شدت سے بولا جس پر رومیسہ کے چہرے پر مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
“ہو بھی سکتا ہے”
وہ ہاتھوں میں بینگلز پہنتے ہوئے اترا کر بولی اسکی بات پر عریش کے چہرے پر مسکراہٹ آئی۔
“مر تو ہم کب کے کٹے ہیں آپ پر”
وہ اسکی گردن پر جھکتے ہوئے بولا جس پر رومیسہ نے اسے دیکھا۔
“اور یہ ڈائلاگ بھی بہت ہی پرانا ہے “
وہ اسے مرر سے دیکھتے ہوئے منہ بنائے بتانے لگی۔
“ڈائلاگ بےشک پرانا ہو مگر میرے جذبات بلکل سچے ہیں”
وہ گھمبیر لہجے میں کہنے لگا رومیسہ نے اسے دور کیا۔
“تمہارے جزباتوں کے چکر میں نکاح ہی نہ ہو جائے چلو”
وہ مسکراتے ہوئے اسے بولتے ساتھ نیچے کی طرف بڑھ گئی عریش بھی اپنے بال ٹھیک کرتا نیچے کی طرف بڑھ گیا۔
نکاح کا سارا انتظام لان میں ہوا تھا جسے بہت خوبصورتی سے سجایا گیا تھا وہاں موجود ہر چیز بہت قیمتی تھی عثمان سفید رنگ کی شیروانی پہنے بالوں کو اچھے سے سیٹ کیے اچھا لگ رہا تھا اور وہ اسٹیج پر بیٹھا آبرو کے انتظار میں تھا۔
نکاح ہو چکا تھا اور آبرو کو اب عثمان کو لان میں لایا گیا تھا وہ سفید رنگ کے گرارے اور شرٹ پر جس پر گولڈن کام ہوا ہوا اور اوپر سے بیوٹیشن نے جس مہارت سے اسکا میک ایپ کیا تھا وہ بہت پیاری لگ رہی تھی عثمان نے اسے دیکھا چہرے پر مسکراہٹ آئی اور اسکا ہاتھ تھام کر اپنے ساتھ بٹھایا اب وہ دونوں ایک پاک رشتے میں بندھ چکے تھے۔
“کتنے پیارے لگ رہے ہیں نا دونوں ساتھ میں”
مہمل آبرو اور عثمان کو مسکراتے دیکھتے ہوئے آبراش کے بازو میں بازو ڈالے بولی آبراش اثبات میں سر ہلا گیا۔
“اب تو آپ خوش ہیں اب سب کچھ ٹھیک ہے آپ کی بہن بھی اب دیکھیں کتنی خوش ہے”
وہ آبراش کو دیکھتے ہوئے کہنے لگی اسکی بات پر آبراش مسکرایا۔
“تم نے بہت ساتھ دیا میرا “
وہ اسے مسکراتے ہوئے دیکھتے ہوئے بولا جس پر مہمل مسکرائی اور اپنا سر اسکے کندھے پر رکھا۔
اب رخصتی کا وقت ہو چکا تھا آبرو سب سے مل کر بہت بہت زیادہ روئی تھی فریحہ بیگم بھی بہت روئی تھی رومیسہ اور مہمل بھی بہت زیادہ روئے تھے عریش اور آبراش خاموش تھے وہ سب سے ملتی گاڑی میں بیٹھتی چلی گئی۔
“اللہ تمہیں اپنے حفظ و امان میں رکھے میری بچی”
فریحہ بیگم اسکے گاڑی کو دیکھتے ہوئے کہنے لگی اور سب لوگ اپنے کمروں کی جانب بڑھ گئے۔
“اففف تھک گئی بہت”
وہ کمرے میں آتے ساتھ ڈریسنگ کے سامنے کھڑی ہوتی بولی جب آبراش اسکی طرف بڑھا اور اسکے پیچھے کھڑے ہوکر بالوں کو آگے کیا مہمل اسے دیکھنے لگی آبراش نے مہمل کے فراک کی ڈوری کھولی۔
“رر۔۔راش ی۔یہ کیا”
اسکی حرکت پر مہمل کانپ کر رہ گئی وہ گھبراتے ہوئے اس سے نظریں چراتی پوچھنے لگی جب آبراش نے اپنے ہونٹ اسکے کان کے قریب کیے اسکی داڑھی مہمل کے گال کو چھو رہی تھی جس سے اسکی دھڑکنیں بےترتیب ہورہی تھی۔
“تم تھکی ہوئی ہو نا تو تمہاری مدد کررہا ہوں”
وہ اسکے کان میں گھمبیر لہجے میں سرگوشی کرتے ہوئے اسکی سانس روک گیا مہمل کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونا محال لگا جب آبراش نے کمرے کی لائٹس آف کرکے وارڈروب سے اسکے لیے سادہ سا ڈریس لے کر آیا تھا اور اسے چینج کرنے لگا انکی بےباک حرکتوں پر مہمل بےبس سی ہو گئی کپڑے چینج کرنے کے بعد اس نے جیولری اتاری پیروں سے ہیلز اتاری اور اپنی باہوں میں لیے بیڈ کی طرف بڑھ گیا مہمل کانپتے اور گھبراتے ہوئے شرم سے آنکھیں بند کیے بے بسی سے اسکی بےباک حرکتیں برداشت کررہی تھی۔
“راش”
مہمل بےبسی اور دھڑکتے دل کیساتھ اسے پکارنے لگی جس پر راش اسکے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر اسکے ہونٹوں پر شدت سے جھکا۔
“آج تم صرف راش کی شدت برداشت کرو گی اینجل”
وہ اس پر اپنی گہری نظریں ڈالے شوخیہ لہجے میں بولتے ساتھ اسکی گردن پر جھکا مہمل کے چہرے پر شرمیلی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
“تم کیا جانو اسکی آواز اسکی مسکراہٹ کس قدر خوبصورت ہے”🙈💕
اور آبراش شاہ اپنی اینجل پر اسکے شدتیں نچھاور کرنے لگا اور وہ اسکی شدتیں برداشت کرتی رہی
وہ بیڈ پر بیٹھی گھبراتے ہوئے ہاتھ مسل رہی تھی دل الگ ہی اسپیڈ سے دھڑک رہا تھا تبھی وہ کمرے میں داخل اسکے دروازے بند کرنے سے آبرو کے دل میں ہلچل سی ہوئی اسکی باڈی کانپنے لگی وہ اسکے پاس آیا اور ایک نظر اسکے حسین سراپے پر ڈالی۔
“تم اس وقت انتہا کی حسین لگ رہی ہو میری نظر تم سے ہٹ ہی نہیں رہی”
وہ اسے محبت پاش نظروں سے دیکھتے ہوئے کہنے لگا اسکی بات پر وہ نظریں جھکا گئی عثمان نے جیب سے ایک باکس نکالا اور کھول کر اس طرف کیا جا پر میں خوبصورت سی سفید نگ کی ایک انگوٹھی تھی۔
“یہ تمہاری منہ دیکھائی”
وہ اسے دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہنے لگا آبرو نے نظر اٹھا کر انگوٹھی کو دیکھا۔
“ببب۔۔ببہت پیاری ہے”
وہ کانپتے لبوں کیساتھ اسے بولی اور اپنا ہاتھ کانپتے ہوئے آگے کی جانب بڑھایا عثمان نے مسکراتے ہوئے اسکی انگلی میں انگوٹھی ڈالی اور اسکے ہاتھوں کو لبوں سے چھوا آبرو کی بیٹ مس ہوئی۔
“میں کوئی زبردستی نہیں کرو گا تمہیں اس رشتے سمجھنے کیلیے تھوڑا وقت دوں گا جب تم خود اس رشتے کو دل سے قبول کرلو گی اس دن میں تم سے اپنا حق لوں گا”
وہ اسے کماپتے گھبراتے دیکھتے ہوئے پیار سے بولا جس پر آبرو نظریں اٹھا کر اسے دیکھا اس بات سے بھی عثمان نے یہ بھی ثابت کیا تھا ہر مرد حوس کا مارا بھی نہیں ہوتا آبرو کے چہرے پر مسکراہٹ آئی۔
“مجھے یہ رشتہ دل سے ہی قبول ہے”
وہ نظریں جھکائے شرماتے ہوئے اسے دھیمے لہجے میں بولی جس پر عثمان کے چہرے پر دلفریب مسکراہٹ آئی اور وہ اسکے قریب ہوکر اسکے ماتھے پر لب رکھ گیا اور کمرے میں اندھیرا کرکے اس کے جھک گیا۔
چھ مہینے بعد۔۔۔
“چلو مہمل”
آبراش کمرے میں آتے ہوئے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا جب نظر مہمل پر گئی۔
“مہمل یہ کیا کررہی ہو گن کیوں لے رہی ہو”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پریشانی سے پوچھنے لگا جس پر مہمل نے مڑ کر اسے دیکھا۔
“راش ہر وقت انسان کو تیار رہنا چاہیے دشمن کبھی بھی وار کرسکتے ہیں”
مہمل کہتے ساتھ پینٹ کی جیب میں گن رکھتے ہوئے کہنے لگی اور آبراش اسے گن چلانا سیکھا کر پچھتا رہا تھا
“افف مہمل چلو”
وہ اسے دیکھتے ہوئے کہتے ساتھ اپنے ساتھ لے جانے لگا اور دونوں چل دیے۔
وہ دونوں مال میں شاپنگ کررہے تھے وہ دونوں شاپنگ کرکے واپسی کیلیے نکل رہے تھے جب آبراش کا فون بجا۔
“دو منٹ”
آبراش اسے بولتے ساتھ فون اٹینڈ کرتا سائیڈ پر بلا گیا مہمل اسے جانچتی نظروں سے دیکھنے لگی۔
“اوہ حسینہ ادھر تو مڑ”
تبھی ایک شخص۔ وہاں سے گزرتے ہوئے کہنے لگا جب مہمل نے گھور کر دیکھا۔
“شرم ورم نہیں ہے تم میں”
وہ گھور کر اسے دیکھتے ہوئے غصے سے بولی جس پر وہ شخص ہنسنے لگ گیا۔
“بچپن سے ہی بےشرم ہوں میں میرے ساتھ اکیلا کیا کررہی ہے”
وہ اسے کہتے ساتھ بازو سے پکڑ کر بولا مہمل اسے دیکھنے لگ گئی۔
“کوبرہ کوبرہ مجھے بچاؤ مجھے بچاؤ “
مہمل اسے دیکھتے ہوئے جان کر پکارنے لگی جب اس شخص نے اسکی طرف دیکھا۔
“کو۔۔۔برہ تم۔۔۔ کوبرہ کی کون ہو”
وہ کانپتے لبوں کیساتھ ڈرتے ہوئے پوچھنے لگا جس پر مہمل مسکرا کر اسے دیکھنے لگی۔
“بیوی ہوں میں اسکی”
وہ اسے دیکھتے ہوئے مسکرا کر بولی جب اس شخص نے اسکی بات مذاق سمجھی۔
“کوبرہ کوبرہ”
وہ پھر سے چلاتے ہوئے اسے اسے پکارنے لگی جب آبراش نے مڑ کر اسے دیکھا اور نظر اس پر گئی جو مہمل کی بازو تھامے کھڑا تھا آبراش غصے سے سرخ آنکھیں لیے اس طرف بڑھا چہرہ آج بھی ماسک سے ڈھکا ہوا تھا اور گولڈن بلیش آنکھیں اس وقت سرخ تھی
“اسے چھوڑ”
آبراش غصے سے اسکے سامنے آتے ہوئے سرد نگاہیں اس پر ڈالے اسے بولا سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر اس نے فوراً مہمل کو چھوڑا اور بھاگنے لگا جب آبراش نے اسکا بھاگنے کا ارادہ ترک کیا اور کچھ کہے بغیر اسکی بازو کو زور سے موڑا وہ شخص درد سے کراہ گیا اور آبراش نے غصے سے اسے زمین پر پٹکا اور وہ گھبرات ڈرتے ہوئے لرزتے ہوئے وجود کیساتھ بھاگ گیا۔
“واہ کیا اینٹری ماری تھی ویسے مارنے جو تو میں بھی مار دیتی اسے”
وہ آبراش کو مسکراتے ہوئے دیکھ کر بولی آبراش آنکھوں میں حیرت لیے اسے دیکھ رہا تھا۔
“تو تمہیں اس سے ڈر نہیں لگ رہا تھا”
وہ اسے دیکھتے ہوئے سمجھتے ہوئے پوچھنے لگا جس پر مہمل نے مسکراتے ہوئے نفی میں گردن ہلائی۔
“میں تو صرف آپ کو سپر ہیرو کی طرح اینٹری کرنے کیلیے چلا رہی تھی آپ نے کیسے اینٹری کی اسے چھوڑ آئی لائک اٹ”
وہ مسکراتے ہوئے اسکی تعریف کرنے لگی اور آبراش جو اپنی کم عقل بیوی پر اس وقت حد سے زیادہ پیار آیا
“ادھر آؤ”
وہ اسے اپنے پاس آنے کا اشارہ کرتے ہوئے سینے سے لگا گیا مہمل مسکرادی اور پھر دونوں چل دیے۔
مہمل لان میں ہاتھ میں پستول لیے ادھر ادھر دیکھ رہی تھی جب رومیسہ پیچھے سے آتی اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ گئی مہمل فوراً مڑی اور اسکی طرف گن کی۔
“مہمل”
رومیسہ اسکے اسطرح اپنی جانب کرنے پر وہ اسے بولی جس پر مہمل نے اسکے سامنے سے گن ہٹائی
” اوہ سوری”
مہمل گن نیچے کرتے ہوئے شرمندگی سے کہنے لگی رومیسہ اسے دیکھ رہی تھی
“یہ کیا ہے مہمل”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی جس پر مہمل ہنسی
“بس ایسے پریکٹس کررہی تھی جاسوس بننے کی”
وہ مسکراتے ہوئے اسے کہنے لگی اسکی بات پر رومیسہ بھی مسکرائی۔
“آبراش تمہیں ہر جگہ ڈھونڈ چکا ہے اور تم یہاں ہو”
وہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی تبھی آبراش وہاں آیا اور نظر مہمل پر گئی مہمل کی بھی نظر اس پر گئی۔
“راشششش”
وہ اسکے پاس بھاگتے ہوئے اسکے سینے سے لگی اسکا نام لینے لگی جس پر آبراش کے چہرے پر مسکراہٹ آئی مہمل مسکرا کر اسے دیکھ رہی تھی ان دونوں کو یوں دیکھ کر رومیسہ مسکراتے ہوئے وہاں سے چلی گئی۔
“تمہاری اس مسکراہٹ پر آبراش شاہ اب کچھ کرنے کیلیے تیار ہے”
وہ اسکی مسکراہٹ کو اپنی نظروں کے حصار میں لیے شدت سے بولتے ساتھ اسکے بالوں کو لبوں سے چھو گیا اور مہمل مسکرادی دونوں کمرے کی طرف رخ کر گئی۔
” اچھا نا سوری”
وہ اسے دیکھتے ہوئے معصوم شکل بنائے کہنے لگا رومیسہ نے اسے دیکھا۔
“میں بات نہیں کررہی جب تم مجھے دو دن کا بول کر گئے تھے تو ایک ہفتہ کیسے لگا کر آئے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے غصے اور ناراضگی سے بولتے ہوئے چہرہ جا رخ دوسری جانب کر گئی۔
“وہاں کام زیادہ تھا نا دو دن میں نہیں ہوسکا تو ایک اور دن رہنا پڑا”
عریش تین دن پہلے ہی سنگاپور ایک کرمنل کا اسکے انجام تک پہنچانے گیا تھا آبراش نے اسے آرڈر دیا جسے وہ ٹال نہیں سکتا تھا اس کرمنل کو اسکے انجام تک پہنچانے میں تھوڑا زیادہ وقت لگ گیا اس لیے اسے وہاں دو دن نہیں تین دن رہنا پڑا وہ رومیسہ کو بتانے لگا
“اور کال نہ اٹھانے کی کوئی خاص وجہ”
وہ اسے دیکھتے ہوئے ایک اور سوال پوچھنے لگا
“میں اس وقت بزی تھا اور جیسے ہی کام مکمل کیا سیدھا فلائٹ کی اور پاکستان آیا ہوں “
وہ رومیسہ کو دیکھتے ہوئے سب بتانے لگا جب رومیسہ نے ایک نظر اسے دیکھا۔
“سچ میں نہ واقع میں کوئی لڑکی نہیں تھی”
وہ اسے دیکھتے ہوئے معصومیت سے پوچھنے لگا جب عریش نے ماتھا پیٹا
“پاگل تو نہیں ہو تم مجھ پر یقین نہیں ہے تمہیں رومیسہ میں الف سے یہ تمہیں ایک ایک بات بتا چکا ہوں لیکن تمہاری سوئی لڑکی پر اٹکی ہوئی ہے کون لڑکی”
عریش اب کی بار اکتا کر کہنے لگا رومیسہ اسے غصہ کرتا دیکھ اٹھی
“عریش”
وہ اسکے سامنے کھڑی ہوتی اسے پکارنے لگی جب وہ بغیر کچھ کہے کمرے سے چلا گیا اور رومیسہ کو خود پر شدید غصہ آرہا تھا
“عریش”
وہ جو اسٹڈی میں موجود تھا رومیسہ اسکے پاس آتے ہوئے پکارنے لگی جب اس نے مڑ کر ایک نظر اسے دیکھا۔
“میں نے بتادیا ہے کہ کوئی لڑکی نہیں ہے اس سے زیادہ میں اپنی صفائی میں کچھ نہیں بولوں گا”
وہ اسے کہتے ساتھ وہاں سے جانے لگا جب رومیسہ نے اسکا ہاتھ تھام کر روکا
“آئی ایم سوری مجھے تم پر ٹرسٹ ہے پتہ نہیں کیسے ذہن میں ا گئی”
وہ اسے دیکھتے ہوئے آنکھوں میں نمی لیے بولی جب عریش ہاتھ چھڑواتا جانے لگا۔
“عریش سوری پلیزززز سوری معاف کردو نیکسٹ ٹائم نہیں ہوگا یوں اگنور نہیں کرو “
وہ اسے روکنے کیلیے اسکے سینے سے لگتے ہوئے کہنے لگی جس پر عریش نے اسے دیکھا۔
“میری زندگی میں تم پہلی اور آخری لڑکی کو رومیسہ یہ بات یاد رکھو اور ایسی سوچیں ذہن میں مت لاؤ”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پیار سے سمجھانے لگا رومیسہ نفی میں سر ہلا گئی
۔
“نیکسٹ ٹائم نہیں پرامس”
وہ سر اٹھا کر اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی عریش کے چہرے پر مسکراہٹ آئی اور اسکے گرد بازو حائل کیے رومیسہ کے چہرے پر مسکراہٹ آئی۔
“مہمل رکھ دو اسے یار “
وہ جو ہاتھ میں ابھی بھی گن لیے بیٹھی تھی ابراش نے غصے سے اسکے ہاتھ سے گن کھینچی مہمل منہ بنائے اسے دیکھنے لگی۔
“اینجل اب تم۔ ماں بننے والی ہو جلدی تو ایسی حرکتیں زیب نہیں دیتی”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پیار سے سمجھانے لگا جس پر مہمل نے اسے دیکھا آج ہی صبح ڈاکٹر اے یہ گڈ نیوز ملی تھی ان دونوں کو مہمل ماں بننے والی اور فریحہ بیگم تو بےحد خوش تھی اور رومیسہ اور عریش بھی بہت زیادہ خوش تھے۔
“چلو نیچے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پیار سے کہنے لگا جس پر مہمل اثبات میں سر ہلا کر اٹھی آبراش احتیاط سے آرام آرام سے اسے نیچے لایا آبرو بھی یہ خوشی کی خبر سن کر ان لوگوں سے ملنے آئی تھی۔
“مبارک ہو بھابی”
وہ مہمل کو مسکراتے دیکھتے ہوئے کہنے لگی مہمل نے اسے مسکرا کر دیکھا
“شکریہ”
وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگی عثمان عریش رومیسہ فریحہ بیگم سب وہی موجود تھے آبراش نے اسے صوفے پر بٹھایا۔ عثمان نے آبراش کو مبارکباد دی
“شادی کرکے پچھتا رہا ہے نا”
عریش اسکے پاس آتے ہوئے کہنے لگا جس پر عثمان نے اسے دیکھا۔
“میں تو بلکل بھی نہیں پچھتا رہا لیکن اب پھر سے تو اپنی خیر منا”
عثمان اسے بولتے ساتھ نظریں رومیسہ کی جانب کرکے مسکرا کر کہنے لگا عریش نے دیکھا۔
“تم نہیں سدھر سکتے”
رومیسہ گھورتے ہوئے اس بولی عریش خاموش ہوگیا اور وہی سب ہنسنے لگ گئے ان دونوں کی چھوٹی موٹی نوک جھوک چلتی رہتی تھی۔
“میں پہلے بتارہا ہوں بےبی کا نام میں رکھوں گا”
عریش ان سب کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا جس پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں تھا وہ سب یوں مسکرا کر باتیں کررہے تھے اور فریحہ بیگم اپنے بچوں کو یوں خوش دیکھ کر بے حد خوش تھی۔
“تمہاری کافی”
آبراش اسکے پاس آتے ہوئے اسے کافی تھمانے لگا مہمل نے مسکراتے ہوئے تھام لی
“شکریہ”
وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھ کر کہنے لگی جب آبراش نے اسے پیچھے سے حصار میں لیا۔
“تمہارے ساتھ زندگی بےحد حسین ہے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے اسکے گالوں پر لب رکھے پیار سے بولا جس پر مہمل مسکرادی۔
“جب ہم دو سے تین ہوں گے نا تو زندگی اور بھی حسین ہوگی”
وہ اسے دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہنے لگی جس پر آبراش کے چہرے پر بھی دلفریب مسکراہٹ آئی
“انشاء اللہ”
وہ باہر کی طرف نظریں کیے بولا جہاں مہمل پہلے سے دیکھ رہی تھی
“کتنا سکون ہے نا ادھر”
وہ آبراش کو مخاطب کرتے ہوئے آنکھیں بند کیے بولی جب آبراش نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
“لیکن مجھے تو سکون تمہارے پاس ہونے کے احساس سے ملتا ہے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پیار سے بولا جس پر مہمل مسکرائی اور اسکے سینے سے لگی
“راش”
وہ مسکراتے ہوئے اسے پکارنے لگی اسکے پکارنے پر ہمیشہ کی طرح وہ مسکرایا
“اینجل”
وہ مسکراتے ہوئے اسے بولا اور دونوں آنکھیں بند کیے اس خاموشی میں ایکدوسرے کو محسوس کرنے لگے۔
“راش اور اسکی اینجل کی حسین
داستان اپنے اختتام تک پہنچ گئی 🥰💜
اختتام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
