51.4K
33

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Shiddat Junon) Episode 30

وہ فریش ہوکر باتھروم سے باہر آئی تبھی آبراش نے اپنا فون جیب سے نکالا اور ایک ریکارڈنگ چلا دی مہمل جو کمرے سے باہر جارہی تھی اپنے باپ کی آواز سن کر اسکے بڑھتے قدم رک گئے اور وہ مڑ کر آبراش کو دیکھنے لگی اس ریکارڈنگ میں۔ کہی گئی اپنے باپ کی باتیں سن کر مہمل کے پیروں سے جیسے زمین نکل گئی وہ حیرت زدہ سی آبراش کو دیکھنے لگی۔

“اس وجہ سے تمہیں کیڈنیپ کرنا چاہتا تھا یہ نہیں کیا صرف تمہارے باپ نے میری بہن کیساتھ غلط کروانے والا بھی یہ گٹھیا شخص تھا وہ شخص تمہارے باپ کا دوست تھا اور اسی نے بھیجا تھا “

آبراش ریکارڈنگ مکمل سنانے کے بعد فون جیب میں ڈال کر مہمل کو دیکھتے ہوئے سرد لہجے میں کہنے بتانے لگا مہمل کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔

“اب کہاں کے میرے بابا”

وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی آبراش اسے دیکھنے لگا

“اسکے انجام پر پہنچا دیا”

وہ آنکھوں میں چمک لیے چہرے پر محظوظ مسکراہٹ سجائے مہمل کو بتانے لگا مہمل کو ایک اور دھچکا لگا اس نے اسکی طرف دیکھا۔

“اور کتنے راز ہیں جن سے میں ناواقف ہوں اور کیا کچھ مجھے سہنا ہے مجھے بتاؤ”

وہ اسے دیکھتے ہوئے نم آنکھوں سے تکلیف دہ لہجے میں پوچھنے لگی آبراش اسکی حالت سمجھ سکتا تھا مگر وہ اسے کوئی جواب نہیں دے سکتا تھ۔

“اور کتنی تکلیفیں دینی ہے مجھے اور کتنے راز ہے جو مجھ سے چھپا کر رکھے ہیں تم “

وہ اسے دیکھتے ہوئے آنکھوں سے بہتے آنسوؤں کیساتھ پوچھنے لگی۔

“مہمل”

آبراش کچھ بولنے ہی لگا تھا مہمل پھر سے بول پڑی.

“آپ کہتے ہیں أپ نے میرے ڈیڈ سے بدلہ لینے کیلیے مجھے کیڈنیپ کرنے کا سوچا تھا اور اگر سوچیں آپ کو میں اچھی نہیں لگتی اور آپ پھر مجھے کیڈنیپ کرتے اور جو اپنے اس لڑکی کیساتھ کرنے کا سوچا تھا وہی میرے ساتھ کرتے تو ایک بےقصور کو بےوجہ کی سزا ملتی ہے نا “

مہمل غصے سے اسے دیکھتے ہوئے کہتے ساتھ آبراش شاہ کو خاموش کروا گئی تھی۔

“مہمل میں نے کچھ غلط نہیں کیا تمہارے ساتھ”

وہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا مہمل بغیر کوئی جواب دیے کمرے سے جانے لگی۔

“مہمل”

تبھی آبراش نے اسے پھر سے پکارا مہمل نے مڑ کر اسے دیکھا۔

“میں کچھ وقت اکیلا رہنا چاہتی ہوں”

وہ اسے دیکھتے ہوئے جواب۔ دیتے ساتھ کمرے سے باہر چلی اور آبراش اسے جاتا دیکھ رہا تھا۔

_____________________

“عریش میں تم سے ایک بات کرو تو غصہ تو نہیں ہو گے”

عثمان عریش کے پاس بیٹھتے ہوئے ہمت سے اسے دیکھ کر بولا عریش نے اسے دیکھا۔

“ایسی بھی کیا بات ہے جس سے میں غصہ ہوں گا”

عریش اسے دیکھتے ہوئے پریشانی سے پوچھنے لگا عثمان نے اسے دیکھا۔

“کیا آبرو کسی کو پسند کرتی ہے یا اسکا رشتہ کہیں ہوا ہے”

عثمان سنجیدگی سے۔ عریش کیا جانب دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا عریش نے فوراً سے عثمان کی طرف دیکھا۔

“نہیں ایسا کچھ نہیں ہے ویسے یہ سب جان کر تم کیا کرو گے “

وہ عثمان سے سپاٹ انداز میں ایک اور سوال کرنے لگا۔

“میں اس سے نکاح کرنا چاہتا ہوں”

عثمان نظریں جھکائے زمین کو تکتے ہوئے گھبراتے ہیں بتانے لگا اور وہی عریش کو ایک حیرت کا جھٹکا لگا۔

“عثمان اس میں کوئی غلط بات نہیں ہے اگر ایسا ہوجائے تو بہت اچھی بات ہے میں مام سے آج ہی اس متعلق بات کرتا ہوں”

عریش اسکے کندھے پر ہاتھ رکھے اسے حوصلہ دیتے ہوئے بتانے لگا اسکی بات سن کر عثمان مسکرایا اور اسے گلے لگایا

پیچھے کھڑی آبرو جو کچن کی طرف بڑھ رہی تھی یہ سب باتیں سن کر خاموشی سے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔

_____________________

“نہیں ایسا نہیں ہوسکتا ہے ابھی وہ حقیقت سے واقف ہے جیسے ہی معلوم ہوگا ہر لڑکے کی طرح وہ بھی مجھے چھوڑ کر چلے جائیں گے”

آبرو کمرے میں ٹہلتے ہوئے عثمان اور عریش کی باتیں سوچتے ہوئے پریشانی سے خود سے بولی۔

“میں کس سے یہ بات شئیر کرو ہاں اس سے پہلے عثمان میرے بارے میں زیادہ سوچنے لگے مجھے ساری سچائی انہیں بتادینی چاہیے “

آبرو کمرے میں ٹہلتے ہوئے ماتھے پر ہاتھ رکھے کہنے لگی

“نہیں نہیں اس طرح میں خود کیسے آبرو پہلے تم بیٹھ جاؤ لیکن کیا ہوگا میں یہ شادی نہیں کرسکتی ہوں “

وہ بیڈ پر بیٹھتے ہوئے دوبارہ سے اٹھ کر پریشانی سے بولی۔

__________________

“تمہیں ایک نیوز سناؤ تمہیں بھی خوشی ہوگی”

وہ اسکی گود میں سر رکھے مسکراتے ہوئے بولا رومیسہ نے اسکی طرف دیکھا۔

“ایسی بھی کیا نیوز ہے”

رومیسہ اسکی خوشی دیکھتے ہوئے سوالیہ نظروں سے پوچھنے لگی

“عثمان آبرو کو اپنانا چاہتا ہے وہ اس سے نکاح کرنا چاہتا ہے”

عریش مسکراتے ہوئے بتانے لگا اسکی بات سن کر رومیسہ بھی مسکرائی۔

“کیا واقع “

وہ خوشی سے عرءش کو دیکھتے ہوئے کہنے لگی جس پر عریش اٹھ کر بیٹھا

“ہاں واقع”

وہ مسکراتے ہوئے اسے بولا رومیسہ خوشی سے عریش کے گلے لگی۔

“عریش میں بہت خوش ہوں آبرو کیلیے”

وہ اسکے گلے سے لگی خوشی سے بولی عریش نے اسکے گرد مضبوط حصار حائل کیا

“میں نے کہا تھا نا ایک دن تم میرے پاس خود ہی آؤ گی”

وہ اسے حصار میں لیے پیار سے کہنے لگا جس پر رومیسہ کی سانس رک سی گئی۔

“عریش چھوڑو مجھے جانا ہے”

وہ گھبراتے ہوئے اسے پکارنے لگی لیکن وہ عریش تھا وہاں تھی آسانی سے اسے کہاں جانے دینے والا تھا وہ اسکی گردن پر جھکے محبت کی مہر ثبت کرنے لگا رومیسہ کی ہارٹ بیٹ تیز ہو گئی۔

____________________

آبراش صبح اٹھ کر باہر ٹی وی لاونج میں آیا نظر مہمل پر گئی جو صوفے پر لیٹی گہری نیند سونے میں مصروف تھی آبراش کمرے سے بلینکٹ لایا اور اسکی طرف بڑھا اسکے اوپر بلینکٹ ڈالا جو مہمل نے فوراً اپنے ہاتھوں میں تھام کر خود کو کور کرلیا اسکے چہرے کے تاثرات دیکھ کر آبراش مسکرایا وہ اس وقت بلکل ایک بچی لگ رہی تھی آبراش نے اسکے سر کے نیچے تکیہ بہت اختیاط سے رکھا تاکہ اس نے نیند خراب نہ ہو ۔

“راش دیکھیں ناراض مجھے ہونا ہے اور اس طرح کہاں جارہے مجھے تنگ نہ کریں”

مہمل نیند میں آبراش کو پکارتے ہوئے منہ بنا رہی تھی آبراش اسکا منہ بنا دیکھ کر مسکرایا تھا۔

“راش”

وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھ کر کہنے لگا اور آبراش اسکے چہرے کے قریب ہوکر اسکے ماتھے پر لب رکھ گیا اپنے ماگے کسی چیز کا لمس محسوس کرکے مہمل کی نیند ٹوٹی اس نے آنکھیں کھول کر نظریں سامنے کی جانب کی تو آبراش کو موجود پایا۔

“آپ یہاں کیا کررہے ہیں”

وہ اسے دیکھتے ہوئے منہ بسورے پوچھنے لگی

“گڈ مارننگ”

آبراش اسے دیکھتے ہوئے بولا اور اسکے منہ سے نکلے الفاظ سن کر مہمل نے نظریں وال کلاک کی جانب کی

“اوہ نو بج رہے”

مہمل کہتے ساتھ اٹھ کر جانے لگی اور آبراش اسے جاتا دیکھنے لگا۔

“اینجل تیار ہوجاؤ”

وہ اسے جاتا دیکھتے ہوئے کہنے لگا جس پر مہمل نے مڑ کر اسے دیکھا۔

“کس لیے”

وہ اسکی بات پر مڑ کر اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی

“ہم مری جارہے ہیں”

وہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا مہمل نے اسکی طرف قدم بڑھائے

“آپ کو لگتا ہے میں آپ کیساتھ جاؤں گی میں آپ کیساتھ کہیں نہیں جانے والی”

وہ اسے دیکھتے تلخ لہجے میں کہتے ساتھ جانے لگی جب آبراش بہت مضبوط گفت سے اسکے بازوؤں کو تھام کر اسکا رخ اپنی طرف کیا۔

“بہت کرلی اپنی مرضی اب جو کہو چپ چاپ کرلو ورنہ اپنی بات منوانے میں زیادہ وقت نہیں لگتا”

وہ گولڈن بلوئش آنکھوں میں سختی لیے اسے سرد لہجے میں وارن کرنے والے انداز میں کہنے لگا

“کیا کریں گے”

وہ بغیر ڈرے پوچھنے لگی جس پر آبراش نے اسے اپنے مزید قریب کیا

“ویٹ اینڈ واچ “

وہ اسکے کان کے قریب ہوکر گھمبیر آواز میں بولتے ساتھ اسکی بازو اپنے ہاتھ سے الگ کی۔

“آدھا گھنٹہ ہے تمہارے پاس”

وہ اسے کہتے ساتھ گھڑی پر ایک نظر ڈال کر بھاری بھاری قدم اٹھائے باہر کی جانب بڑھ گیا اور مہمل بت بنی کھڑی اسے دیکھ رہی تھی۔

جاری ہے۔