51.4K
33

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Shiddat Junon) Episode 32

“تم گھر جاؤ اور دھیان سے خیال رکھنا اپنا سریش”
آبراش اپنے ہاتھ اسکے چہرے پر رکھے اسے کہتے ساتھ عریش کو مخاطب کرنے لگا۔
“جی ٹھیک ہے بھائی چلیں بھابی”
عریش آبراش کی بات سمجھتے ہوئے مہمل کو مخاطب کرنے لگا مہمل خاموشی سے عریش کیساتھ چل دی
آبراش نے مڑ کر نوریز کو دیکھا جو پہلے تکلیف میں تھا آبراش اسے سرخ انگارہ برستی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے اسکی طرف بڑھا۔
“چھونے کی ہمت کیسے ہوئی”
وہ گھٹنوں کے بل بیٹھتے ہوئے بڑی بے رحمی سے اسکی پیٹ سے چاقو نکالے سرد لہجے میں وحشت بھری نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا۔
“تجھے تو می”
نوریز ابھی بول رہا تھا جب آبراش نے اسکے منہ کو زور سے دبوچ کر اپنا چہرہ اسکے قریب کیا۔
“چھوا کیسے”
وہ اسکے چہرے پر اپنی سرخ گولڈن بلوئش آنکھیں گاڑھے دھاڑا نوریز گھبرا کر رہ گیا اور اس نے نوریز کے دونوں ہاتھوں کو اپنی قید میں لیا اور جیب سے بلیڈ نکال کر اسکی طرف کی۔
“ناؤ سی یور اینڈ”
وہ چہرے پر مسکراہٹ سجاتے ہوئے اسکے کان کے قریب ہوکر بولا اور بلیڈ اسکے ہاتھوں کے قریب کرنے لگا نورزیں گھبراتے ہوئے نفی میں سر ہلانے لگا مگر وہ جانتا تھا اس شخص کے سامنے مظلوم بننا بیکار ہے اسکے چہرے پر پسینے آنے لگے اسے اپنی موت صاف دیکھائی دے رہی تھی۔
آبراش نے اسکے ایک ہاتھ پر مسلسل چالیس دفعہ بلیڈ چلائی اسکا ہاتھ خون سے لت پت ہوچکا تھا اور یہی عمل آبراش نے دوسرے ہاتھ پر بھی دوہرایا اور اپنی وحشت بھری نظریں اسکے تکلیف دہ چہرے پر جمائی آنکھوں میں چمک تھی
“آہہہہہہہ”
مسلسل چالیس دفعہ ہاتھ میں چلتی بلیڈ سے نوریز کو حد سے زیادہ تکلیف ہوئی وہ چیخ رہا تھا۔
“چھونے کی جرات بھی کیسی کی اسے”
انتہائی لہجے میں کہتے ساتھ آبراش نے بلیڈ اسکے بازوؤں کی جانب کی نوریز نفی میں گردن زور زور سے ہلانے لگا اسکی حالت دیکھ کر آبراش کے چہرے پر دلفریب مسکراہٹ نمودار ہوئی اور اسے دیکھتے ہوئے چہرے پر محظوظ مسکراہٹ سجائے وہ اسکے بازوؤں میں بلیڈ مارنا شروع ہوچکا تھا اور نوریز کی چیخوں کا سلسلہ ایک دفعہ پھر شروع ہوچکا تھا۔
“ایسی موت دوں گا ویٹ اینڈ واچ”
بازوؤں پر بلیڈ مارتے مارتے آبراش نے چاقو جیب سے نکالا اور اسکی گردن کے قریب کیا اور زور سے اسکی نوک اسکی گردن پر دبائی نوریز کو اپنی آدھی جان نکلتی محسوس ہوئی۔تکلیف سے اسکی آنکھیں باہر کو آ گئی۔اور آبراش نے بہت آرام سے اسکی گردن پر اپنا چاقو پھیر اور وہ بےجان سا زمین پر گر گیا۔ابراش نے اپنا دائیں بائیں ہلایا اور چاقو ہمیشہ کی طرح مرے ہوئے شخص کے کپڑوں سے چاقو صاف کرتا وہ چہرے کو ماسک سے ڈھکے بھاری بھاری قدم اٹھائے وہ وہاں سے چلا گیا۔


“مہمل بیٹا تم ٹھیک ہو شکر ہے اللہ کا”
عریش کیساتھ مہمل کو آتا دیکھتے ہوئے فریحہ بیگم شکر کرتے ہوئے اسے اپنے ساتھ لگا گئی۔
“مہمل تمہیں کچھ ہوا تو نہیں ہے نا تم ٹھیک تو ہو نا”
رومیسہ فکرمندی سے اسکے پاس آتی پوچھنے لگی جس پر مہمل نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
“کچھ نہیں ہوا سب ٹھیک ہے آپ سب پریشان نہ ہو”
وہ ان سب کو تسلی دیتے ہوئے صوفے پر بیٹھنے لگا
“آبراش کہاں ہے”
فریحہ بیگم عریش کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی جس پر عریش نے انہیں دیکھا۔
“آرہے ہیں”
عریش کہتے ساتھ پانی کا گلاس لبوں سے لگا گیا۔
“اچھا مہمل تم کمرے میں آرام کرو تھکی کوئی ہوگی”
رومیسہ اسے پیار سے کہنے لگی مہمل اثبات میں سر ہلا کر اٹھ کر چلی گئی
“بھابی خیال سے”
آبرو اسے جاتا دیکھتے ہوئے کہنے لگی مہمل نے مڑ کر آبرو کو دیکھا اور مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلا گئی۔


آبراش رات کے پہر گھر میں داخل ہوا جہاں فریحہ بیگم اسکے انتظار میں ٹی وی لاؤنج میں بیٹھی تھی۔
“آبراش کہاں تھے تم بیٹا”
وہ اسے دیکھتے ہوئے فکرمندی سے اسکی طرف بڑھتی ہوئی پوچھنے لگی آبراش نے بھی انہیں دیکھا۔
“کہیں نہیں ایک کام تھا آپ سوئی نہیں”
آبراش انہیں دیکھتے ہوئے سوال کرنے لگا
“نہیں بس سونے لگی ہوں تمہاری بہت فکر ہورہی تھی”
وہ فکرمند لہجے میں کہنے لگی جس پر آبراش کے چہرے پر مسکراہٹ آئی۔
“مام میں بلکل ٹھیک ہوں سوجائیں آپ”
وہ انہیں کہتے ساتھ کمرے کی طرف بڑھ گیا اور فریحہ بیگم بھی کمرے کا رخ کرگئی۔
وہ کمرے میں آیا تو مہمل ڈریسنگ کے سامنے کھڑی بالوں کو سلجھانے کیساتھ کچھ سوچنے میں مصروف تھی جب آبراش کی نظر اس پر گئی اور اسکی جانب بڑھتے ہوئے اسے پیچھے سے مضبوط حصار میں لیا اسکے اسطرح اچانک سے حصار میں لینے پر مہمل گھبرائی لیکن نظر جیسے ہی آبراش پر گئی وہ نظریں جھکا گئی۔
“تم ٹھیک تو ہو نا”
وہ اسکی گردن پر جھکے مدھوش سے لہجے میں اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا مہمل نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
“تمہیں پتہ ہے وہ گھنٹہ میرے لیے کتنا برا گھنٹہ مجھ سے کبھی دور نہیں ہونا”
وہ اسے دیکھتے ہوئے لہجے میں شدت لیے بولتے ساتھ اسکے بالوں میں اپنے لب رکھ گیا مہمل خاموشی سے اسے دیکھ رہی تھی وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے محسوس کررہی تھی وہ۔ شخص واقع میں نامکمل ہے اور سچ تو یہ تھا مہمل بھی اسکے بغیر نامکمل سی تھی مہمل نے اپنا رخ اسکی طرف کیا اور کچھ کہے بغیر اسکے سینے میں منہ دے کر آنکھیں بند کرلی آبراش اسکی اس حرکت پر مسکرایا اسکے گرد بازو حائل کیے۔
“راش”
وہ پانچ منٹ بعد اسکے سینے سے سر ٹکائے اسے دیکھتے ہوئے پکارنے لگی جس پر آبراش نے اسکی جانب دیکھا۔
“بولو اینجل”
وہ اسکے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پیار سے پوچھنے لگا۔
“مجھ سے کبھی دور مت ہونا اگر میں ناراض بھی ہوں تب بھی نہیں میرے رہنا صرف میرے”
وہ معصومیت سے اسے بولتے ساتھ اسکے سینے میں منہ دوبارہ چھپا گئی آبراش کے چہرے پر خوبصورت مسکراہٹ دوبارہ نمودار ہوئی وہ اسکے پاس ہوتی تھی تو وہ مسکراتا تھا وہ اپنے پاس اسے محسوس کرکے خود میں سکون سا محسوس کرتا تھا وہ آبراش شاہ کا عشق اسکا جنون اسکی شدت سب کچھ ہے۔
” بھوک لگی ہے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا مہمل نے فوراً اس کی طرف دیکھا۔
“ہاں مجھے بھوک لگی ہے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے ہاں میں سر ہلاتے ہوئے بتانے لگی
“تو چلیں کچن میں”
وہ اسے مسکراتے ہوئے کہتے ساتھ اپنے ساتھ لگائے کچن کی طرف کا رخ کرگیا۔
وہ دونوں اس وقت کچن میں تھے ہمیشہ کی طرح مہمل شیلف پر چڑھ کر بیٹھ گئی اور ابراش پاستہ بنانے لگا مہمل اسے مسکراتے ہوئے دیکھ رہی تھی جب آبراش نے فرج سے اسےانگور نکال کر دیے جو وہ مسکراتے ہوئے کھانے لگی۔
“میں سیکھ رہی ہوں اگلی دفعہ میں بنا کر کھلاؤ گی آپ کو”
وہ اسے دیکھتے ہوئے کہتے ساتھ مسکرا کر بولی آبراش نے اسے دیکھا۔
“ڈن”
آبراش مسکرا کر اسے بولا اور مہمل انگور کھانے میں مصروف ہو گئی اور آبراش اسے دیکھ کر مسکرایا۔
“ویسے کتنا مزہ آتا کہ نوریز مجھے چوٹ دیتا اور آپ میرے”
ابھی مہمل بول رہی تھی جب آبراش نے اسکے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر اسے خاموش کروایا۔
“مذاق بھی نہیں پسند مجھے ایسا “
وہ چہرے سنجیدگی لیے آنکھوں میں سرد پن لیے اسے دیکھ کر کہتے ساتھ اسکے ہونٹوں سے انگلی ہٹائے اپنے ہونٹوں کا لمس اسکے ہونٹوں پر شدت سے محسوس کرواکر اسے خاموش کروا گیا مہمل سرخ چہرے کیساتھ نظریں جھکا گئی۔
“پاستہ تیار ہے”
اسکے بعد ان دونوں کے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی تھی مہمل کو بولنے کے لائق چھوڑا ہی کہاں تھا
“تیار ہوگیا”
وہ اسکی بات پر انگور سائیڈ پر رکھتی شیلف سے اتر کر مسکرا کر بولی جس پر آبراش نے اثبات میں سر ہلا دیا اور پلیٹ میں نکال کر مہمل کی طرف بڑھایا اور فرج سے بوتل کا کین بھی نکالا۔
“پور آر آ ورلڈ بیسٹ ہسبنڈ”
وہ مسکراتے ہوئے اسکے ساتھ لگے بولی اسکی بات پر آبراش مسکرایا اور دونوں مل کر ہارتی کھانے لگے۔


وہ اس وقت ہمیشہ کی طرح لان میں ٹہل رہی تھی جب نظر عثمان پر گئی جو اسی کی طرف آرہا تھا۔
“شکر ہے آپ آ گئے مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے”
آبرو اسے آتا دیکھتے ہوئے کہنے لگی جس پر عثمان نے ائبرو آچکا کر اسے دیکھا۔
“کیا بات”
عثمان نے اسے دیکھتے پوچھنا چاہا
“آپ جو یہ شادی کی بات بھائی اور مام سے کر چکے ہیں منع کردیں”
وہ اسے دیکھتے ہوئے نظریں چراتے ہوئے بتانے لگی عثمان نے اسکی بات پر اسکی طرف دیکھا۔
“کوئی خاص وجہ”
وہ چہرے پر سنجیدگی لیے اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا جس پر آبرو نے ایک نظر اسے دیکھا۔
“میں آپ کو ڈزرو نہیں کرتی آپ مجھ سے اچھی لڑکی ڈزرو کرتے ہیں”
وہ اسے دیکھتے ہوئے کہتے ساتھ وہاں سے جانے لگی جب عثمان نے اسکا ہاتھ تھام کر اسے روکا۔
“لیکن مجھے لگتا ہے کہ مجھے تم سے بہتر نہیں مل سکتی”
وہ اسکا رخ اپنی طرف کیے اسکے چہرے پر نظریں جمائے سنجیدگی سے بولا آبرو نظریں جھکا گئی اسکے چھونے سے آبرو کے دل نے بیٹ مس کی ۔
“آپ سمجھ نہیں رہے میں آپ سے شادی نہیں کرسکتی ہوں آپ اصلیت سے ناواقف ہے “
وہ اسے دیکھتے ہوئے بےبسی سے بولی جس پر عثمان نے اسے دیکھا۔
“بولو حقیقت میں سننے کو تیار ہوں”
وہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا آبرو اسے دیکھنے لگی
“حقیقت سننی ہے تو سنے کیا آپ ایک ایسی لڑکی سے شادی کرے گے جس کیساتگ کسی نے زیادتی کی ہوں جسے اپنی کوش کا نشانہ بنایا ہو”
آبرو نے سرد لہجے میں کہا کہتے ساتھ اسکی انکھوں سے آنسو نکلنے لگے اسکی بات عثمان بت بنا کھڑا رہا اور وہی وہ اس سے اپنا ہاتھ چھڑوانے لگی۔
“مجھ سے بہتر مل جائے گی آپ کو “
وہ کہتے ساتھ آنسو صاف کرتی اندر کی جانب بڑھ گئی اور عثمان کے دماغ میں آبرو کی کہی باتیں گردش کررہی تھی۔


“گڈ مارننگ”
عریش کی آنکھ کھلی تو وہ نظر ساتھ سوئے رومیسہ پر گئی جسکے چہرے پر اس وقت بلا کی معصومیت تھی وہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے وہ اسکے کان میں بولا رومیسہ منہ دوسری طرف کر گئی۔
“رومیسہ اٹھو آج ہم دونوں باہر چلیں گے ایکدوسرے کو تھوڑا وقت دیں گے”
وہ مسکراتے ہوئے اسے کہنے لگا رومیسہ نے آنکھ کھول کر اسے دیکھا
“خیریت تو ہے نا مسٹر عریش شاہ”
وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی جس پر اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
“میرالی دل کررہا ہے میں اپنی بیگم کے ساتھ وقت گزاروں تمہیں کوئی اعتراض ہے کیا میرے ساتھ وقت گزارنے میں”
وہ اسکی ناک سے اپنی ناک مس کرتے ہوئے اسے دیکھتے پوچھنے لگا
“نہیں مجھے نہیں اعتراض”
وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگی عریش نے اسکے ماتھے پر لب رکھے رومیسہ آنکھیں بند کر گئی۔
“چلو اب مجھے فریش ہونے دو سب نیچے ویٹ کررہے ہوں گے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے کہتے ساتھ پیچھے کرکے اٹھی اور عریش اسے جاتا دیکھنے لگا۔


“مارننگ راش اٹھ جائیں افف تھک گئی ہوں اب تو میں”
وہ اسکے اوپر چڑھی اسکے سینے پر بازو رکھے ناجانے کب سے اٹھانے کی کوشش کررہی تھی مگر وہ تھا کہ اٹھنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔
“نیند کی گولی کھائی تھی کیا”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی جس پر آبراش نے اپنی مسکراہٹ بامشکل ضبط کی وہ تو بس اسے تنگ کررہا تھا۔
“راش اب بس ہوگئی ہے اب نہیں اٹھے تو میں پکی والی ناراض ہوجاؤ گی “
وہ اسکے سینے پر مکہ مارتے ہوئے منہ بسور کر کہ کہنے لگی
“آہہ”
آبراش نے چیخ ماری مہمل نے اسے دیکھا۔
“زور سے لگ گیا کیا”
وہ اسے دیکھتے ہوئے فکرمندی سے پوچھنے لگی جس پر آبراش مسکرایا۔
“اوہ تو اب سمجھی مجھے پریشان کررہے تھے رکیں ذرا”
وہ گھورتے ہوئے کہتے ساتھ اسکے سینے پر مکوں جی برسات کرنے لگی آبراش مسکراتے ہوئے نظروں کے حصار میں لیے اسے روک رہا تھا۔
“اب تھک گئی “
پانچ منٹ مسلسل اپنے ہاتھ چلاتے ہوئے وہ اب ہار مانتی اسکے سینے پر سر رکھ کر بولی آبراش کے چہرے پر پھر سے مسکراکٹ نمودار اس خوبصورت کی وجہ صرف اسکی اینجل تھی۔
“یو نو آئی لو یو سوچ “
وہ اسے زور سے اپنے بھیجے میں پیار سے کہنے لگا۔
“نو آئی ڈونٹ نو”
مہمل اسے دیکھتے ہوئے مسکراتے ہوئے کہنے لگی
“اوکے تو پھر بتاتا ہوں”
وہ شرارت کہتے ساتھ اسکے قریب ہونے لگا مہمل فوراً اسکے اوپر سے ہٹی۔
“نہیں نہیں اسکی ضرورت نہیں مجھے پتہ ہے سب”
وہ کہتے ساتھ اسے دیکھتے ہوئے بولتے ساتھ باتھروم میں بند ہوگئی اور اسکی بات پر آبراش کی مسکراہٹ گہری ہوئی