51.4K
33

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Shiddat Junon) Episode 19

آبراش نے گاڑی ایک گھر کے باہر روکی تبھی ٹیکسی والے نے بھی کچھ فاصلے پر گاڑی روکی وہ گاڑی سے اتر کر جیب میں ڈالے نظریں سامنے موجود گھر پر مرکوز کر گیا مہمل ٹیکسی پر بیٹھی اسے دیکھ رہی تھی۔
“یہ ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں”
مہمل پریشانی سے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی تبھی کوئی عورت اس گھر سے نکل کر آبراش کے سامنے آئی مہمل ٹیکسی سے اتری اور اس پاس دیکھنے لگی نظر گلی میں گئی وہ اس گلے کی طرف بڑھ گئی گلی سے گھوم کر وہ اس گھر کی بیک سائیڈ پر آ گئی۔
“کیا چاہتے ہو تم مجھ سے اور میری بیٹی سے چھوڑدو پیچھا نہیں چاہیے ہمیں تمہارا ساتھ “
وہ عورت چلاتے ہوئے کہنے لگی اور وہ جیب میں ہاتھ ڈالے خاموشی سے کھڑا اس عورت کو دیکھ رہا تھا۔
“ہائے اللہ میرے راش سے ایسے بات کرتے ہوئے شرم نہیں آرہی ہے ویسے ہے کون یہ”
مہمل سوچتے ہوئے کہنے لگی اور پھر ایک نظر دیکھا
“اب یہاں مت آنا تم ہمارے لیے مر چکے یو قاتل ہو تم ایک قاتل کو میں اپنا بیٹا ہرگز نہیں مان سکتی “
وہ غصےسے چلاتے ہوئے کہنے لگی مہمل شاک کی کسی کیفیت میں چلی گئی۔
“اوہہ یعنی میری ساس ہیں یہ اور آبراش اپنی مام اور بہن کو دیکھنے کیلیے ادھر آئے ہیں”
مہمل سمجھتے ہوئے کہنے لگی اور ایک نظر چھپ کر آبراش پر ڈالی جو اپنے آنسو ضبط کیے بلکل خاموش کھڑا تھا وہ عورت اندر چلی گئی آبراش ویسا کھڑا رہا نہ اسی طرح گلے میں سے نکل کر دوسری طرف سے سڑک پر آئی۔
“افف یہ ٹیکسی والا کہاں چلا گیا”
مہمل منہ بنائے کہنے لگی اور ادھر ادھر دیکھا تبھی کسی نے کندھے پر انگلی رکھ کر ہلایا۔
“نہ کرو پہلے می”
مہمل بولتے بولتے مڑی اور آبراش کو اس وقت سامنے دیکھ کر شاک سی کیفیت میں چلی گئی۔
“کیا ہوا”
وہ مہمل کو سر تا پیر دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا مہمل بس بت بنی کھڑی تھی۔
“ک۔۔کچھ نہیں”
وہ ہوش میں آتے ہوئے کانپتے ہوئے لبوں کیساتھ بولی۔
“یہاں کیا گھر سے کیسے آئی”
وہ سینے پر بازو باندھے پرسکون سا اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا مہمل بس خاموش کھڑی تھی۔
“افف ایک تو سوال بہت کرتے ہیں آپ پہلے آپ وہ آپ کی گھڑی گر گئی ہے وہ دینے”
مہمل ابھی آگے کچھ بولتی جب آبراش نے اپنا بازو آگے کرکے گھڑی دیکھائی مہمل خاموش ہو گئی۔
“چلو”
وہ اسکا ہاتھ تھامتے ہوئے گاڑی کی طرف بڑھنے لگا مہمل خاموشی سے منہ بنائے چلنے لگی ۔


“وہاں کیوں آئی تھی”
کمرے میں آتے ساتھ جوڑ اتارتا اسکے قریب ہوکر اسکے اوپر گیری نظر ڈالے پوچھنے لگا
“کیا مطلب میرا دل گھبرا رہا تھا تو باہر ج”
ابھی بول رہی تھی جب آبراش نے ہونٹوں پر انگلی رکھی جس پر مہمل خاموش ہو گئی۔
“جھوٹ مت کہو پہلے گھڑی اب یہ”
وہ تھوڑا سختی سے بولا مہمل نظریں جھکا گئی ۔
“جواب دو “
وہ مہمل کو خاموش دیکھ کر پھر سے کہنے لگا مہمل نے اسکی انگلی کی طرف اشارہ کیا جس پر آبراش نے انگلی ہٹائی۔
“پہلے اس وقت گھبرا کر وہ بول دیا سچ بول رہی ہو اب کوئی اور سوال نہیں کہ دیا نہ میں سچ کہ رہی ہوں سچ جب دیکھو غصہ آتا ہے غصہ بیوی کی طبیعت کا کوئی خیال ہے بس اپنے کام کرنے ہے “
مہمل منہ بنائے غصے سے کہتے ساتھ بیڈ پر بیٹھ گئی اور آبراش اسے دیکھ رہا تھا۔
“مہ”
وہ ابھی کچھ بولتا مہمل بول پڑی
“بات نہ کریں مجھ سے میری اتنی طبیعت خراب ہورہی ہے اففف”
وہ بیڈ پر لیٹے سر پر ہاتھ رکھے اداسی سے کہنے لگی جس پر آبراش واقع فکرمند سا اسکے قریب ہوا۔
“کیا ہوا اینجل مجھے بتایا کیوں نہیں”
وہ فکرمندی سے اسکے ماتھے پر ہاتھ رکھے پوچھنے لگا مہمل منہ بنا بسور گئی۔
“غصہ تو کرلیں مجھ پر ہونہہ”
وہ منہ بسورے کہتے ساتھ آنکھیں بند کر گئی جب آبراش نے پھر ماتھے پر ہاتھ رکھا۔
“باڈی ٹیمپریچر تو بلکل ٹھیک ہے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا جس پر مہمل گھبراتے ہوئے آنکھیں کھولی
“دھیان سے دیکھیں نہیں ہوگا ٹھیک اچھا جھوٹی لگ رہی ہوں میں آپ کو “
وہ پھر سے بات گھما گئی جس پر آبراش نے ماتھے پر ہاتھ رکھا۔
“اففف میں نے جب یہ کہا تم ریسٹ کرو سوجاؤ میں یہی ہوں تمہارے پاس”
آبراش اسکے سر پر ہاتھ رکھے ہوئے کہنے لگا جس پر مہمل نے اسکا ہاتھ پکڑا۔
“میرے پاس رہیں”
مہمل آبراش کا ہاتھ تھامے ہوئے بولی آبراش نے اسکا ہاتھ بھی تھاما مہمل آنکھیں بند کر گئی۔
“میں کل جاؤں گی وہاں اور انکی مام جو سچ بتاؤں گی”
وہ دل میں مسکراتے ہوئے کہنے لگی۔ آبراش اسے دیکھ رہا تھا۔


“تم تو کافی اسٹرونگ ہو پھر کیوں گھبرا گئی”
عریش اسکے پاس آتے ہوئے پوچھنے لگا جس پر رومیسہ اسے دیکھنے لگی۔
“پتہ نہیں اچانک اسکے قریب آنے سے شاید “
وہ اسے دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے جواب دینے لگی جس پر عریش خاموش رہا۔
“تم واپس چل رہی ہو میرے ساتھ”
عریش اسے دیکھتے ہوئے بولا جس پر رومیسہ نے اسے دیکھا
“لیکن کیوں میں نے نہیں جانا”
رومیسہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا جس پر عریش نے اسکی طرف دیکھا
“پوچھا نہیں ہے بتایا ہے تیاری پکڑ لو کل کی”
وہ سرد لہجے میں کہتے ساتھ چلا گیا وہ اسے جاتا دیکھنے لگ گئی۔
“حکم دیکھو کیسے چلا رہا ہے ہونہہ”
وہ منہ بسورے کہتے ساتھ کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
جاری ہے۔