Shiddat Junon By Mahnoor Shehzad Readelle50297 (Shiddat Junon) Episode 8
No Download Link
Rate this Novel
(Shiddat Junon) Episode 8
آبراش کمرے میں داخل ہوا سامنے مہمل کو موجود پایا وہ بیڈ پر نظریں بیٹھی ہمیشہ کی طرح فون میں گیم کھیل رہی تھی۔آبراش کی نظر اس پر گئی مگر مہمل نے اسکی موجودگی کا احساس ہوتے ہوئے بھی اسکی طرف نہیں دیکھا
“پیر کیسا ہے”
وہ اسکی پیر پر نظر ڈالتے ہوئے اسکو دیکھتے ہوئے سپاٹ انداز میں پوچھنے لگا جس پر مہمل نے سر اٹھا کر اسے دیکھا اور ایک سرسری سی نظر اس پر ڈال کر نظریں دوبارہ موبائل سکرین کی جانب مرکوز کر گئی
“میں تم سے بات کررہا ہوں”
اسکے کوئی جواب نہ دینے پر وہ اسے دیکھتے ہوئے پھر سے اپنی طرف متوجہ کروانے لگا مہمل اسکی بات سنی ان سنی کرتی اسے نظر انداز کرتی کانوں میں ہینڈ فری لگا کر بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا گئی
“یہ کیا حرکت ہے مہمل”
آبراش کو اسکی حرکت سخت ناگوار گزری تھی وہ غصےسے چلایا
“چلائیں جتنا چلانا ہے چلائیں میں تو کچھ نہیں کہ رہی اب پتہ لگے گا نظرانداز کرنا کیا ہوتا ہے اینگری مین”
وہ فون کی سکرین پر نظریں مرکوز کیے دل میں خوشی سے کہتے ساتھ گیم کھیلنے میں مصروف رہی آبراش اس پر نگاہ ڈالتا کورٹ اتار کر باتھروم کی طرف بڑھ گیا مہمل اسکے جانے کے بعد مسکرائی
“جیسا آپ نے کہا میں نے ویسا کیا”
مہمل نے فوراً رومیسہ کو میسیج کیا جو اس نے اسی وقت ریڈ کرلیا اور پڑھ کر مسکرائی
“گڈ بس اب دیکھتے ہیں کتنے دن تماری اگنورنس برداشت کرتا”
مہمل اسکا ٹیکسٹ پڑھنے لگی اور مسکرائی ہنسنے والے ایموجی سینڈ کرکے فون سائیڈ پر رکھ کر بیڈ کے درمیان میں کشنز رکھنے لگی
وہ فریش ہوکر باہر آیا نظر بیڈ پر ڈالی درمیان میں کچھ کشنز پڑے دیکھ کر آبراش کا دماغ گھومنے لگا
“کیا ہے یہ”
وہ اپنے غصے پر قابو پاتے ہوئے سرد لہجے میں پوچھنے لگا مہمل اسکی آواز سے سہمی تھی مگر تاثرات فوراً سے ٹھیک کرنے لگی
“مجھے نیند آرہی ہے لگتا ہے لوگ اندھے ہوگئے ہیں”
مہمل کہتے ساتھ اپنی سائیڈ کا لیمپ آف کرتی لیٹ گئی اور آبراش اسے دیکھ رہا تھا وہ لڑکی اسے جان کر غصہ دلا رہی تھی
•••••••••••••••••••••••••
صبح مہمل کی آنکھ کھلی تو اس نے جو کشنز کی دیوار بنائی تھی وہ اسے عبور کیے اسکے بلکل قریب تھی اسکی آنکھ کھلی خود کو اسکے اتنے قریب پاکر پریشان ہوئی
“شکر ہے میری پہلے آنکھ کھل گئی اگر دیکھ لیتے تو کتنی شرمندگی ہوتی مجھے”
مہمل خود سے بولتے ساتھ چہرہ اوپر کر گئی لیکن جیسے ہی آبراش کے چہرے پر نظر گئی مہمل کی سانس رک گئی
“کس نے ہٹائے ہے یہ کشنز”
مہمل خود کو کمپوز کرتے ہوئے سرد لہجہ اختیار کیے پوچھنے لگی
“کشنز نہیں ہٹے تم کشنز کے اوپر ہو”
وہ اسے دیکھتے ہوئے اسے سپاٹ انداز میں بتانے لگا مہمل کو ڈھیروں شرمندگی نے آ گھیرا وہ فوراً اٹھ بیٹھی
“مجھ سے دور رہیں “
مہمل کہتے ساتھ اٹھ کر جانے لگی تبھی آبراش نے اسے پکڑ کر اپنے اوپر گرایا
“چھوڑیں مجھے”
وہ اپنے ہاتھ پر زور لگاتے ہوئے اسے خود سے چھڑوانے کی کوشش کرنے لگی آبراش نے کمر کے گرد بھی مضبوط حصار بنا دیا
“نہیں رہوں گا کیا کروں گی”
وہ اسکے چہرے کے قریب کیے اسے سرد لہجے میں بولا
“میں چیخوں گی چلاؤں گی سب کو اکٹھا کروں گی”
وہ اسکی قید میں مچلتے ہوئے غصے سے بولی
“چیخو”
وہ بھی سرد لہجے میں اسی کے انداز میں کہنے لگا مہمل اسے دیکھنے لگ گئی
“چیخو نا”
آبراش پھر سے کہنے لگا مہمل کی آنکھوں میں پانی آ گیا
“کیا ہوا اب”
آبراش اسے بےبس اور روتا دیکھتے ہوئے اپنے اور قریب کیے کہنے لگا
“برے ہیں ہرٹ کرتے ہیں مجھے میری پرواہ نہیں ہے چھوڑدیں مجھے مجھے نہیں کرنی آپ سے بات “
وہ اسے مارتے ہوئے آنکھوں میں نمی لیے اسے بولی آبراش نے اسے دیکھا اور گرفت ڈھیلی کردی مہمل فوراً اٹھ کر چلی گئی اور آبراش اٹھ کر بیٹھا
••••••••••••••••••••••••••
“کیا بنا پھر”
مہمل کے نیچے آتے ہی رومیسہ نے اس سے پوچھا مہمل نے اسے دیکھا
“آبراش کہاں گئے ہیں “
مہمل اسکی بات نظر انداز کرتے ہوئے آبراش کا پوچھنے لگی رومیسہ اسے دیکھنے لگی
“وہ باہر گیا ہے غصے میں”
رومیسہ اسے دیکھتے ہوئے بتانے لگی مہمل پریشان ہوئی اور اسے دیکھا
“کہیں میری بات بری نہ لگ گئی ہو میں نے کچھ غلط بھی تو نہیں کہا”
مہمل دل میں کہتے ساتھ کرسی کھسکا کر بیٹھی رومیسہ بھی ساتھ بیٹھی
“بتاؤ گی مجھے لڑکی”
رومیسہ اسے خاموش دیکھتے ہوئے پھر سے پوچھنے لگی مہمل نے اسے دیکھا
“میں اگنور نہیں کرسکی انہوں نے زیادہ دیر نظرانداز کرنے ہی نہیں دیا”
مہمل اسے دیکھتے ہوئے افسردگی سے بتانے لگی جس پر رومیسہ مسکرائی
“تو اچھی بات ہے نا”
وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگی مہمل بھی ہلکا سا مسکرائی
“اب سنو جب واپس آئے تو اسے کہنا مجھے اپنے گھر جانا ہے مجھے آپ کیساتھ نہیں رہنا اسکے بعد ری ایکشن دیکھتے ہیں”
رومیسہ اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھے اسے بتانے لگی اور پھر مسکرائی مہمل اسکی بات سمجھتے ہوئے مسکرائی
“ٹھیک ہے”
وہ اسکی بات سمجھتے ہوئے اثبات میں سر ہلا گئی رومیسہ مسکرائی۔
“وہ صرف اوپر سے برا بنتا ہے دل سے بہت اچھا ہے”
رومیسہ اسے دیکھتے ہوئے بتانے لگی جس پر مہمل خاموش رہی اور جوس پینے لگ گئی
••••••••••••••••••••••
“کیا سوچ رہے ہو تم”
عابد اسکے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھنے لگا جس پر اس نے اسے دیکھا
“کچھ نہیں مجھے کچھ وقت اکیلا چھوڑ سکتے ہو”
وہ اسے کہتے ساتھ اٹھ کر باہر کی طرف بڑھ گیا اور جیب میں ہاتھ ڈالے سڑکوں پر اپنی آنکھیں جمائے کھڑا تھا
ماضی۔۔۔
“چھوڑ دو میری ماں کو خدا کا واسطہ ہے چھوڑ دو”
وہ تیرہ سال کا بچہ روتے ہوئے التجا کرنے لگا تبھی گولی چلی اور سیدھا سامنے اس بےبس عورت کو جا لگی
“ماںںںںںںںں”
وہ روتے ہوئے بےبسی سے اپنی ماں کو پکارنے لگا اور پانچ سالہ بچی پیچھے ڈری ہوئی کھڑی سب دیکھ رہی تھی
“کوبرہ”
تبھی اسکے کانوں سے آواز ٹکرائی وہ واپس حال میں لوٹا آنکھوں میں آئی نمی کو چھپاتا سرخ آنکھوں سے مڑ کر دیکھا اس شخص نے اسے کچھ کہا
“ہو جائے گا کام “
وہ اسے کہتے ساتھ سگریٹ نکال کر پینے لگا اور اندر کی جانب بڑھ گیا
“یہ شخص بھی بہت تکلیف میں ہے”
نذر اسے دیکھتے ہوئے اداسی سے کہنے لگا اور چلا گیا
••••••••••••••••••••••••
“میں زیادہ بول گئی کیا”
مہمل پریشانی سے ناخن کتراتے ہوئے ٹہل کر بولی تبھی دروازہ کھلا وہ اندر داخل ہوا
“کہاں تھے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی جس پر آبراش نے اسے دیکھا
“تمہیں اس سے مطلب نہیں ہونا چاہیے”
وہ اسے جواب دیتے ساتھ کورٹ اتارنے لگا مہمل نے اسے دیکھا اور نفی میں گردن ہلائی
“مجھے مام ڈیڈ کے پاس جانا ہے مجھے نہیں رہنا آپ کے ساتھ بلکل بھی نہیں رہنا ابھی اسی وقت مجھے چھوڑ کر آؤ”
مہمل اسکی کمر کو تکتے ہوئے بولی اسکی بات سن کر آبراش کا دماغ گھوما وہ مڑا اور اسکے قریب گیا
“میری زندگی میں تم آئی اپنی مرضی سے تھی لیکن جاؤں گی میری مرضی سے یاد رکھنا “
وہ اس پر اپنی سرد سرد نگاہیں گاڑھے انتہائی سرد لہجے میں کہنے لگا مہمل اسے دیکھنے لگی
“کیوں مجھے جانا ہے آئی بھی اپنی مرضی سے تھی جاؤں گی بھی اپنی مرضی سے”
مہمل چلاتے ہوئے کہنے لگی آبراش غصے سے اسے دیوار سے لگا گیا
“تمہاری کچھ زیادہ ہی زبان چلنے لگ گئی ہے لیکن آبراش شاہ تمہیں خود سے دور جانے اجازت ہرگز نہیں دے گا “
وہ اسے دیوار سے لگائے سرد لہجے میں اسکے چہرے کے قریب اسے بولا مہمل اسے دیکھ رہی تھی آبراش بولتے ساتھ اس سے دور ہوا
“کیوں نہیں جانے دیں گے”
وہ آج خاموش بلکل نہیں رہنے والی تھی وہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی
“تمہیں بتانا میں ضروری نہیں سمجھتا “
وہ ہر لفظ کو کھینچ کھینچ کر غصے سے چلایا مہمل سہم گئی
“مجھے کسی چیز کیلیے ضروری نہیں سمجھتے تو ساتھ رکھنے کا فائدہ ہی کیا ہے بس تکلیف دینا چاہتے ہیں مجھے میں کچھ بھی نہیں کہوں گی آپ کو جو دل کرتا ہے میں خاموش رہوں گی “
مہمل آنکھوں میں بے شمار آنسو لیے اپنا رخ باتھروم کی طرف کر گئی اور آبراش اسے جاتا دیکھنے لگا اور وہ خاموشی سے کمرے سے باہر چلا گیا
•••••••••••••••••••••••
اس وقت وہ اور عریش عریش کے ٹیرس پر موجود تھے عریش اسے دیکھ رہا تھا جو بلکل خاموش تھا
“کیا ہوا ہے بھائی”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا جس پر آبراش نے اسے دیکھا
“میں ایک معصوم کو تکلیف دے رہا ہوں”
آبراش کا لہجہ اس وقت بہت عجیب سا تھا اتنا کمزور اور اتنا افسردہ عریش نے اسے پہلی بار دیکھا تھا
“ہوا کیا ہے “
عریش فکرمندی سے پوچھنے لگا جس پر آبراش نے تکلیف سے آنکھیں بند کی
“تم ٹھیک کہ رہے تھے مجھے لانا نہیں چاہیے تھا اس معصوم کو اپنی زندگی میں ہر وقت تکلیف دیتا رہتا ہوں آج یہ بات سچ لگنے لگی ہے بہت برا ہوں “
عریش پہلی دفعہ اسے اتنا بولتا ہوا دیکھ رہا تھا کیونکہ وہ واقع تکلیف میں تھا وہ یہ تو جان چکا تھا مہمل سے محبت کرنے لگا ہے اور اب اسے تکلیف دے کر خود بھی تکلیف میں ہے
“تم جیسا رہنا چاہتے ہو رہو تم”
وہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا آبراش نے اسے دیکھا
“میں جیسا بھی اسکے ساتھ رہ رہا ہوں اپنی مرضی سے رہ رہا ہوں”
آبراش کہتے ساتھ وہاں سے چلا گیا اور عریش جاتا دیکھ رہا تھا ۔
••••••••••••••••••••••••
“میری بچی نہ جانے کس حال میں ہوگی”
مہ جبین بیگم بیڈ پر لیٹی ہوئی مہمل کو یاد کرتے ہوئے کہنے لگی
“خوش ہے تمہاری بیٹی اپنے شوہر کیساتھ یہ دیکھو تصویریں پریشان نہ ہو اسکے لیے بیمار کردیا ہے خود کو اور اسے ہماری پرواہ ہی نہیں”
اختر صاحب غصے سے کہتے ساتھ کرسی پر بیٹھ گئے
“میرا دل ماننے کو تیار نہیں کہ وہ ٹھیک ہے وہ بہت تکلیف ہے میرا دل کہتا ہے”
مہ جبین آنکھوں میں نمی لیے بولی اختر صاحب چہرے پر ہاتھ پھیرا
“اب ذکر مت کرنا تم اسکا نفرت ہورہی مجھے اس سے”
اختر صاحب غصےسے کہتے ساتھ باتھروم میں بند ہوگئے
“کیوں نہیں سمجھ رہے وہ معصوم ہے بہت اسے پتہ نہیں کیا بولا ہوگا اس شخص نے وہ اسکی باتوں میں آ گئ”
وہ اونچا بولتے ہوئے بیڈ پر گر گئی آختر صاحب ابھی باتھروم سے باہر آئی اور نظر کہ جبین بیگم پر گئی
“مہ جبین”
وہ انہیں دیکھ کر چلاتے ہوئے پکارنے لگے
•••••••••••••••••••••••
“کیا ہوا ہے “
عریش کو اس وقت اپنے کمرے میں دیکھ کر رومیسہ فکرمندی سے پوچھنے لگی
“آبراش بھائی بہت تکلیف میں ہے”
وہ اپنے لہجے میں بےحد اداسی سموئے بولا رومیسہ نے اسکی جانب دیکھا
“مہمل بھی بہت تکلیف میں ہے”
رومیسہ بھی اسی کے انداز میں اسے بتانے لگی جس پر وہ بھی اسے دیکھنے لگا
“بھائی اسی وجہ سے پریشان ہے بہت”
وہ اسے دیکھتے ہوئے بتانے لگا رومیسہ نے اثبات میں سر ہلا دیا
“میں جانتی ہوں آبراش پیار کرتا ہے لیکن وہ اقرار نہیں کرے گا کبھی بھی”
رومیسہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگاتے ہوئے بولی عریش نے بھی اثبات میں سر ہلا دیا
“تم پریشان نہ ہو اور سوجاؤ سب جلدی ٹھیک ہو جائے گا”
رومیسہ اسے تسلی دیتے ہوئے بولی عریش نے اسے دیکھا اور خاموشی سے چلا گیا رومیسہ اسے جاتا دیکھنے لگی
“افف عجیب ہی سب چل رہا ہے “
وہ سر پر ہاتھ رکھے فکرمندی سے کہنے لگی اور لیمپ آف کرتی لیٹ گئی
•••••••••••••••••••••••
وہ کمرے میں داخل ہوا نظر بیڈ پر گئی جہاں وہ آنکھیں بند کیے لیٹی ہوئی تھی آبراش اسکے قریب گیا اور اسے دیکھا
“تمہیں خود سے دور نہیں بھیجنا چاہتا ہوں “
وہ اسکے پاس گھٹنوں پر بیٹھتے ہوئے سکے بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہنے لگا
“مجھے پتہ ہے میں نظرانداز کرتا ہوں تکلیف بھی دیتا ہوں اسکی یہ وجہ ہے آبراش شاہ تمہیں اپنا عادی نہیں بنانا چاہتا اگر میں نے تمہیں اپنا عادی بنادیا تو بہت برا ہوگا تمہارے ساتھ اس لیے دور رہتا ہوں”
وہ مہمل کے چہرے پر ہاتھ رکھتے ہوئے نم آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوئے بولا آبراش نے اپنا چہرہ مہمل کی گردن پر جھکایا اور اپنی گرم سانسیں اسکی گردن پر محسوس کروائی مہمل ویسے ہی سوتی رہی
“ایم سوری “
آبراش شاہ زندگی میں پہلی دفعہ کسی سے یہ لفظ بولا تھا کہتے ساتھ اسکی پیشانی چھوتا اٹھ کھڑا ہوا باتھروم چلا گیا مہمل آنکھیں کھول کر اسے دیکھنے لگی
“یہ وہی آبراش ہیں”
مہمل بےیقینی والے انداز میں کہنے لگی اور ہلکا سا مسکرائی
“انہیں کیا پتہ جسے وہ سوتا ہوا سمجھ رہے ہیں وہ جاگ رہی تھی”
وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگی اور لیٹ گئی
“میں جانتا تھا تم جاگ رہی ہو مہمل”
وہ باتھروم میں بولتے ساتھ باہر آیا اور نظر اس پر ڈال کر وہ اسکے ساتھ لیٹ کر اسے دیکھ کر مسکرایا
وہ ایک دنیا سے چھپا وجود تھا جسے کوئی بھی پہچان نہیں پاتا تھا وہ ہر چیز کسی مقصد کے تحت کرتا تھا وہ آبراش شاہ تھا
جاری ہے
