Shiddat-e-Talab by Suneha Rauf NovelR50408 Shiddat-e-Talab Episode 8
No Download Link
Rate this Novel
Shiddat-e-Talab Episode 8
Shiddat-e-Talab by Suneha Rauf
حال:
وقت بدل گیا تھا کبھی جو وہ اسے میسر ہوا کرتی تھی اب اس کے سامنے بھی نہیں آتی تھی۔
اسے یاد آیا کیسے وہ اس کا جینا دوبھر کر کے رکھتا تھا اور کیسے اب وہ اپنی یاد سے اس کی سانسوں کی رفتار کو اکثر منجمد کیا کرتی ہے۔
ایک دن ۔۔۔۔۔
ایک دن تبریز شاہ منت وقار تمہیں یاد آئے گی اس کا کہا جملہ اس کی یاداشت پر اب روز بارش بن کر برستا تھا۔
اسے وہ دن یاد آیا جب وہ تیار ہو کر آئی تھی کیونکہ اس کی پہلی پریزنٹیشن تھی ۔۔۔۔
یار منت کو دیکھا ہے تو نے کتنی بومب لگ رہی ہے آج اُف ۔۔۔۔۔مجھے تو اندازہ نہ تھا کہ اس کے بال اتنے لمبے ہوں گے ۔۔۔۔
کاریڈور سے گزرتے اپنی ہم جماعت لڑکے کے منہ سے یہ جملے سنتا وہ رکا تھا۔
انیس الرحمن آئندہ اپنے لفظوں پر غور فرمانا نہیں تو تمہاری سرگرمیاں بھی میں ایسے ہی لوگوں سے ڈسکس کرتا ملوں گا تمہیں اس کے قریب جاتے اس نے حقارت سے کہا اور اپنے قدم اس کے ڈیپارٹمنٹ کی طرف بڑھائے۔
سامنے ہی وہ اپنی دوست کے ساتھ اسے نظر آئی تھی۔۔۔۔پیلے سادہ شلوار قمیض پر گلابی دوپٹہ سینے پر پھیلائے ،آنکھوں پر چشمہ لگائے بنا میک پیک کے تھی۔۔۔فرق صرف اتنا اتھا کہ آج اس کا سر ڈھکا نہیں تھا۔
منت!
اس نے اسے آواز دی تو وہاں موجود لوگوں نے انہیں دیکھا۔۔۔۔سب کی آنکھوں میں ایک جوش ابھر آیا تھا جیسے ہونے والا تماشا قابلِ دید ہو ہمیشہ کی طرح۔
اس نے نگاہیں اٹھاتے اسے دیکھا۔۔۔وہ جو کنفیوژ تھی مزید اس کی پلکیں لرزی۔
تبریز شاہ نے اسے ہاتھ سے اپنی طرف آنے کا اشارہ کیا۔۔۔وہ جانا نہیں چاہتی تھی ۔۔۔ہرگز نہیں۔۔۔
لیکن اس کا حکم ٹالتی تو وہ اسے جان سے ہی مار دیتا۔
وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی چشمہ ٹھیک کرتی اس کے قریب گئی اور چار قدم کے فاصلے پر رگ گئی۔
تبریز شاہ نے کروفر سے اپنی شال کو جھٹکا دیتے ہاتھ سے کچھ نکالا۔۔۔منت وقار کی ہمت نہیں ہوئی کہ دیکھ سکے اس کی طرف۔
اور اس کے بعد جو ہوا تھا وہ سب نے دیکھا ۔۔۔۔کچھ کی آنکھوں میں افسوس در آیا تو کچھ کی آنکھوں میں تمسخر۔
اس نے کیچپ کی بوتل کو اس کے سر پر دھڑلے سے انڈیلا تھا۔۔۔۔۔ماحول ساکت ہوا تھا۔
منت وقار نے جھٹکے سے سر اٹھایا۔۔۔۔آنکھوں میں بے یقینی در آئی۔ ۔۔ابھی کل ہی تو اس نے اس سے وعدہ کیا تھا کہ آج کے دن وہ کچھ نہ کرے گا کیونکہ آج اس کی پہلی پریزنٹیشن تھی۔
اس نے ڈرتے ہاتھ سر پر رکھا۔۔۔۔گندمی رنگت میں سرخیاں گھل گئی۔۔۔آنکھوں کے ڈورے نم ہونے لگے، اس نے ایک شکوہ کن نگاہ اس کے چہرے پر ڈالی جیسے کہنا چاہ رہی ہو کہ تبریز شاہ تم تو وعدے کا پاس بھی نا رکھ پائے۔
قہقہوں کا طوفان اٹھا تھا۔۔۔۔اس کی آنکھیں نمکین پانی سے لبالب بھر گئی۔۔۔وہ قدم اٹھاتا اس کے قریب آیا اور جھٹکے سے اس کی کلائی تھامی۔
سٹاپ اٹ۔۔۔۔
وہ دھاڑا اور ماحول میں ایک بار پھر سکتہ چھا گیا وہ جھٹکے سے اسے اپنے ساتھ گھسیٹتا لے گیا۔
واش روم کے باہر جا کر اسے جھٹکے سے چھوڑا اور اس کے قریب ہوا۔۔۔۔ایسا کہ اب کی بار اسے وہ چھوئے نا۔
اگلی بار بال کھلے نہ نظر آئیں مجھے تمہارے۔۔۔۔شیمپو موجود ہے اندر اور ڈرائیر بھی بال دھو اور سکھاؤ فوراً ابھی آدھا گھنٹہ ہے تمہاری پریزنٹیشن میں وہ جیسے سب سوچے بیٹھا تھا۔
وہ بنا اس کی طرف دیکھے شکستہ قدموں سے اندر چلی گئ۔۔۔دل اپنی حالت پر دھارے مار کر رونے کو تھا لیکن وہ یہ کام تنہائی میں کرنے کا سوچتی خاموش ہو گئی۔
وہ واپس آئی تو وہ مردانہ وجاہت لیے سامنے ہی فون پر مصروف دکھا۔۔۔اس نے انگلیاں چٹکائی آیا کہ اس کی نظر میں آئے یا نہیں۔
اس کی یہ مشکل اس نے آسان کر دی تھی وہ قریب آیا ۔۔۔اس کا گلابی آنچل سر پر دیکھتے مسکرایا۔۔۔
اپنی شال کندھے سے اتاری اور اس کے کندھوں پر پھیالائی کہ اس کی قمیض بھی نم تھی۔۔۔۔۔ اور وہاں سے چلا گیا۔
تبریز شاہ بھی عجیب انسان ہے اس کے ظلم اور عنایتیں دونوں ہی منت وقار کے لیے ہیں پاس موجود ایک لڑکی نے منت کے دل کی بات دہرائی تھی جیسے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باسط ضیاء نے اسے اوپر سے لے کر نیچے تک دیکھا۔۔۔۔۔۔وہ اسی سادہ پیلے جوڑے میں تھی۔۔۔۔جو ہلکا سا میک اپ تھا اب وہ بھی نہ تھا۔
چہرہ ہلکا نم تھا۔۔۔۔اب وہ ہونٹ کاٹتی وہیں جم کر کھڑی تھی۔
آجاؤ۔۔۔۔۔۔باسط ضیاء نے اسے دیکھتے کہا اور اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔
وہ ہلکے سے قدم اٹھاتی اس تک آئی اور اپنا دوپٹہ اٹھانے لگی ۔۔۔۔۔باسط کی آنکھوں کی چمک بڑھی تھی۔
اس نے فوراً دوپٹہ اٹھایا اور اپنے ہاتھ پیچھے قمر پر باندھے اپنے۔
رباب نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔۔۔۔۔۔آنکھیں مزید شرمندگی کے بوجھ سے جھک گئیں۔
عادت ڈال لو ۔۔۔۔۔میں تو ویسے بھی مجازی خدا ہوں میرے سامنے ایسے ہی رہنے کی عادت ڈالو۔۔۔۔۔باسط ضیاء کو کچھ تو مل گیا تھا اس کو تنگ کرنے کے لیے۔
مجھے عادت نہیں ہے ۔۔۔۔۔اس نے جھکی پلکوں سے کہا۔
تو اب ڈال لو۔۔۔۔کیونکہ مجھے یہ لمبے لمبے چولے جیسی قمیضیں نہیں پسند۔۔۔۔باہر پہن سکتی ہو۔۔۔۔لیکن گھر میں جینز شرٹ۔۔۔۔۔
رباب نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔۔۔اسے کب سے مشرقی لباس پسند آ گیا۔۔۔۔
اسے یاد آیا۔۔۔۔اسے بھی ایسے ٹوپس کا شوق ہوا کرتا تھا۔۔۔۔لیکن ایک بار اس نے درید اور اسے کسی ان کی ہم جماعت کے بارے میں بات کرتے سنا تھا۔
اس لڑکی کو باسط پسند تھا۔۔۔۔۔اور درید اسے اسی بات پر چھیڑ رہا تھا۔۔۔۔۔
اس کی ڈریسنگ دیکھی ہے۔۔۔۔آدھے آدھے کپڑے ہوتے ہیں۔۔۔۔۔پھٹی جینز۔۔۔مجھے ایسے لباس نہیں پسند جو آپ کو چھپانے کی بجائے اور عیاں کریں۔۔۔۔۔۔۔
درید کو ان سب سے کوئی مسئلہ نہیں تھا بلکہ اسے مورڈرن لڑکیاں ہی بھاتی تھی۔۔۔اس نے رباب پر بھی کبھی روک ٹوک نہ کی تھی۔
اس دن کے بعد اس نے مشرقی لباس پہنا ہی نا تھا۔۔۔۔۔۔اور اب اسے خود بھی پسند نہ تھا لیکن اب۔۔۔اچانک۔۔
لیکن مجھے عادت نہیں۔۔۔۔۔
پھر وہی بات ۔۔۔۔۔عادت ڈل جاتی ہے۔۔۔۔جب روز روزپہنو گی تو۔۔۔۔
خیر یہ لو۔۔۔۔اپناپاسپورٹ ۔۔۔۔باسط نے جیب سے نکالتے اسے دیا جس کی آنکھیں پوری کھل چکی تھیں۔
لیکن یہ کیوں۔۔۔۔؟
ہماری فلائیٹ ہے دو دن بعد کی۔۔۔۔۔۔۔۔اس نے اسے باور کروایا۔۔۔۔
لیکن ہم بائے روڈ بھی تو جا سکتے۔۔۔۔
ہاں لیکن بہت تھکاوٹ ہو جائے گی۔۔۔۔۔باسط کو اس کی پریشانی کا سبب نہ سمجھ آیا۔
وہ پاسپورٹ کو دیکھتی یہ تک بھول گئی تھی کہ اس کے پاس اب بھی دوپٹہ نہیں ہے۔
اسے فلائیٹ سے بے حد ڈر لگتا تھا۔۔۔۔۔وہ بائی ائیر جانے والے لوگوں پر بہت حیران ہوتی تھی۔۔۔۔۔ہائٹ فوبیا تھا اس کا۔۔۔۔اس کا سانس اب ہی سے رکنے لگا تھا۔
ہم نہیں جائیں گے۔۔۔۔۔ہم بھیو کو۔۔۔۔وہ ٹرانس کی سی کیفیت میں بولی۔
باسط نے جھٹکے سے اسے کھینچا۔
کچھ کہا کیا۔۔۔۔؟
میں۔۔۔۔نہیں جاؤ گی۔۔۔۔اس نے آنکھیں نم کیے کہا۔۔۔۔۔
فضول کوئی بات کی گنجائش نہیں بچی اب رباب۔۔۔۔بچوں جیسی حرکتیں نہ کرو۔۔۔۔باسط نے اسے گھورتے کہا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے پتا ہے آپ کبھی نہیں مانیں گے۔۔۔میں بھیو کو کہوں گی وہ میری بات نہیں ٹالتے۔۔۔۔
بھیو۔۔۔۔اس نے کہتے قدم دروازے کی طرف بڑھائے تھے۔
باسط نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھتے اسے دروازے کے ساتھ لگایا۔۔۔۔۔
تمہیں ایک بار کی بات سمجھ میں نہیں آتی وہ غرلایا۔۔۔۔۔رباب نے اسے دیکھا جو اس کے بے حد قریب تھا۔
آآآ۔۔۔۔۔۔
بتی گل ہوتے ہی اس کے منہ سے ایک بار پھر چیخ برآمد ہوئی تھی جسکا گلہ گھونٹا تھا اس نے۔
بچوں جیسی حرکتوں سے باز آجاؤ اب شادی ہونے والی ہے۔۔۔۔یہ سب چونچلے یہیں ختم کر کے جانا وہ زرا سخت لہجے میں کہتا مزید اس پر جھکا۔
ہلکی سی روشنی دونوں کے چہرے پر پڑ رہی تھی جو سامنے کھڑکی سے آرہی تھی۔
رباب کو اب احساس ہوا تھا۔۔۔۔۔کہ وہ سچ میں اس گھر کو چھوڑ کر جا رہی ہے۔۔۔۔۔
اچانک اسے سب یاد آیا تھا۔۔۔اس کے باپ کا اس کے پیچھے کھانا لے کر بھاگنا۔۔۔۔درید کا اس کی چھوٹی سی چوٹ پر گھر سر پر اٹھا لینا۔۔۔۔۔
لیکن سامنے کھڑا شخص اس کے احساسات کو چونچلے بول رہا تھا ۔۔۔۔اسے سچ میں احساس ہوا کہ یہ سب جو ہو رہا وہ صحیح نہیں ہے۔
میں آپ سے شادی نہیں کرو گی۔۔۔۔اس نے جھٹکے سے اسے دھکا دیتے کہا۔۔۔۔۔
واٹ ربش۔۔۔۔۔۔؟
بابا۔۔۔۔بھیو۔۔۔۔اس نے آواز دینا چاہی وہ اس کے دھکا دینے پر کچھ دور ہوا تھا جھٹکے سے اس کے منہ پر ہاتھ رکھا۔
آواز بند رکھو۔۔۔۔رباب ضیاء۔۔۔۔۔۔نہیں تو میں بہت برے طریقے سے کرواؤ گا۔۔۔جس کے بعد شاید تم بیہوش ہی ہو جاؤ۔۔۔۔۔۔
رباب نے دم سادھے اسے دیکھا۔۔۔۔آنسو اب بھی اس کی آنکھوں سے گر رہے تھے جو باسط ضیاء کے ہاتھ کو بھگو رہے تھے۔
ہاتھ ہٹا رہا ہوں اب کی بار یہ غلطی مت دہرانا۔۔۔۔بار بار معاف کرنے کا قائل نہیں ہوں میں۔۔۔۔اس نے کہتے ہاتھ ہٹایا۔
اس نے کچھ سوچتے واپس ہاتھ اس کی آنکھوں پر رکھا اور اس کے ہاتھ تھامتے ناک کے نتھنوں کے پاس کے جا کر گہرا سانس بھرا۔
اس کے احساسات پل میں بدلے تھے۔۔۔۔سامنے کھڑی شخصیت اس کی منکوحہ تھی اب اس کے نکاح میں۔۔۔۔۔وہ ہر حق رکھتا تھا اس پر۔
اس نے گہرا سانس بھرتے اس کی آنکھ سے آنسو ہٹائے اور نیچے جھکا۔۔۔۔
رباب نے دم سادھا تھا۔۔۔۔اندھیرے میں اسے دیکھا جو اس کے قدموں میں بیٹھا تھا۔
اس کا پاؤں اپنے گھٹنے پر رکھتے اس نے پازیب پہنائی تھی اسے اور پھر کھڑا ہوتے اسے قریب کرتے اس کی قمر کے گرد گھیرا بناتے اسے قریب کیا۔
وہ پھٹی آنکھیں اور ساکن وجود لیے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔
رباب باسط ضیاء میری ماں کی پسندیدہ پازیب تھی یہ ۔۔۔۔۔۔میری طرف سے پہلا تحفہ۔۔۔
تحفے تمہیں ملتے رہیں گیں اچھے یا برے یہ تم خود فیصلہ کرنا ۔۔۔۔۔۔
کھانا کھاؤ۔۔۔۔۔مہندی دھو رنگ گہرا آنا چاہیے ۔۔۔۔۔وہ جھکا اور اس کی گردن پر دھیرے سے لب رکھتا پیچھے ہٹا۔۔۔۔۔
باسط۔۔۔۔وہ جو اسے ہٹا کر دروازہ کھول رہا تھا چونکا۔۔۔۔۔اور اسے دیکھا۔۔۔۔۔
ہمم۔۔۔۔دروازہ بند کرتے اسے دیکھا جو قدم اٹھاتی اس کی طرف آئی تھی۔
کچھ نہیں۔۔۔۔۔۔اس نے سوچا تھا اس کا اچھا موڈ دیکھ کر اسے بائی روڈ جانے پر آمادہ کرے لیکن پھر اس کی تھکاوٹ کا سوچتی خاموش ہو گئی۔
باسط ضیاء نے چند لمحے اسے دیکھا اور واپس ایک بار اس پر جھکا۔۔۔۔۔۔”اگلی بار میرا وقت ایسے برباد کرو گی تو سزا ملے گی”۔۔۔۔۔اس کی کان کو لو کو چھوتا وہ باہر نکل گیا۔
وہ جو اس کے پہلے لمس پر سانس روک گئی تھی ۔۔۔۔اب کی بار وہ وہیں کھڑی رہ گئی۔۔۔۔وہ کب کا جا چکا تھا۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات ساری ماضی کے خیالوں میں گزر جاتی تھی ۔۔۔۔سورج کب طلوع ہوتا اسے اندازہ نہیں ہوتا تھا۔
اس نے آفس کے لیے تیار ہونے سے پہلے کھڑکی سے پردے ہٹائے۔۔۔۔آج کے سورج میں کچھ الگ تھا۔۔۔۔اس نے گہری سانس بھری۔
اور تیار ہونے چلا گیا۔۔۔۔۔واپسی پر گھڑی دیکھی جو آٹھ پندرہ بجا رہی تھی یعنی وہ آج پھر لیٹ ہو چکا تھا۔
اس نے گاڑی دوڑائی اور دس منٹ میں آفس پہنچا۔۔۔۔۔ہر دن کی طرح ایک تھکا دینے والا دن اس کا منتظر تھا۔
اس کے جاتے ہی سب نے کھڑے ہو کر اسے سلام کیا تھا۔۔۔۔ایسا نہیں تھا کہ یہ سب کرنے کو اس نے کہا تھا لیکن اس کا سٹاف اس کی بہت عزت کرتا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا عزت کیسے دینی ہے۔
لیکن وہ کافی سنجیدہ طبیعت کا انسان تھا اور یہ اس کا سارا سٹاف جانتا تھا۔۔۔۔اسی لیے کبھی کسی کی ہمت نہ ہوئی تھی کہ کوئی فضول قسم کی بات اس سے کرے۔
اس نے یہ ایمپائر اپنے نام پر کھڑی کی تھی۔۔۔۔۔لیکن عزت، دولت، شہرت سب ہونے کے بعد بھی اس کی زندگی میں سکون نا تھا۔
وہ اکثر راتیں جاگ کر گزار دیتا تھا سکون کی تلاش میں ۔۔۔۔۔۔۔
اب بھی وہ لگاتار کام کر رہا تھا۔۔۔۔اس کی زندگی بے حد مصروف تھی۔۔۔۔کیونکہ اس نے خود ایسی بنائی تھی۔
اس کی ساری محنت کا صلہ اس کا سوتیلا باپ لے جاتا تھا۔۔۔۔اور اس نے کبھی سوال تک نہ کیا تھا۔
اس کے باپ کا کہنا تھا کہ یہ سب ان کی وجہ سے ہے۔۔۔۔نہیں تو وہ اس قابل نہ تھا کہ اتنی بڑی ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ ان کے بغیر کھڑی کر پاتا۔
اور “تبریز شاہ” جس سے ساری یونیورسٹی خوف کھاتی تھی۔۔۔۔وہ اپنے سوتیلے باپ کے سامنے کچھ نہ بول پاتا تھا۔
سر میں اندر آجاؤں؟۔۔۔۔۔اس کی سیکرٹری نے پوچھا۔
یس۔۔۔۔۔۔اس نے بنا نظر اٹھائے کہا تو وہ پچیس سالہ حسین سی سٹائلش لڑکی اندر داخل ہوئی۔
سر آج آپ کی بے حد ضروری میٹنگ ہے۔۔۔۔۔دوپہر دو بجے۔۔۔۔۔وہاں اور بھی کمپنیوں کے مالکان ہو گیں۔۔۔کیونکہ وہ یہ چاہیں گے یہ ڈیل ہمیں ملے۔۔۔اور۔۔۔۔
میں سمجھ گیا فائقہ۔۔۔۔۔۔اور کچھ ضروری بات ہے۔۔۔؟اس نےاب کی بار پھر اسے بنا دیکھے کہا تھا۔۔۔
فائقہ نے اس سڑیل سے شخص کو دیکھتے منہ بسوڑا۔۔۔۔۔نہییں سر۔۔۔۔آج کے لیے صرف اتنا۔۔۔
اوکے۔۔۔۔منصور کو کہیں فائنل لے کر آئے۔۔۔تاکہ ایک آخری بار ہم سب کچھ دیکھ کر مطمئن ہو سکیں ۔۔۔۔
اوکے سر۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اٹھی تو کچن سے آوازیں آرہیں تھیں ۔۔۔۔۔۔۔اس نے مندی آنکھوں سے سب سمجھنے کی کوشش کی۔
تو اسے یاد آیا کہ کیسے وہ یہاں آئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔رات کے دس بج رہے تھے اسے شدید بھوک لگی تھی۔
اس وقت اس کا وجود تھکا ہوا تھا۔۔۔۔اس حالت کے ساتھ اتنا سب وہ برداشت کر رہی تھی یہ کافی تھا۔
اسے پریگننٹ ہوئے ابھی دو مہینے ہی ہوئے تھے۔۔۔۔۔اور اس نے یہ خبر درید تک نہیں پہنچنے دی تھی۔
وہ جانتی تھی وہ اس کے دن رات کی خبر رکھتا ہے اسی لیے اس نے سب چھپ کر کیا تھا۔۔۔۔یہاں تک کہ اس کی دوائیں بھی منت لایا کرتی تھی۔
اس نے تھک کر دوبارہ آنکھیں بند کیں ۔۔۔۔۔۔۔وہ کیسے وہ رات بھول جاتی جب اس نے اپنا سب کھو دیا تھا ایک بار پھر۔
“یہ لگائی تم نے میری قیمت درید یزدانی….؟”
یہ قیمت….؟ اس نے ہزیاتی کیفیت میں چلاتے کہا۔
“نکاح جیسے رشتے کی تو لاج رکھ لیتے…… حوس تو پوری کر لی تھی دنیا داری کے لیے ہی سہی چار دیواری فراہم کر دیتے” اس نے اپنے بال نوچتے کہا۔
یہ نکاح دبائشہ حق تمہارے کہنے پر ہوا تھا۔۔۔۔اس نے اسے باور کروایا۔۔۔۔۔
مجھے تحفظ چاہیے تھا۔۔۔۔۔وہ چیخی۔۔۔۔۔آپا نے اسے کہا تھا کہ اسے صرف اس وقت تحفظ کی ضرورت ہے اور یہ تحفظ درید یزدانی ہی دے سکتا ہے۔
آپا درید کو فون کر کے اپنی قسم دے چکی تھی اس نکاح کے لیے لیکن ربائشہ نہیں جانتی تھی۔
“ہو گیا ڈرامہ….؟ تو نکلو….. یہ رقم دیکھ رہی ہو تمہاری اوقات سے زیادہ ہے یار”….. درید نے جھنجھلا کر کہا۔۔۔۔۔۔۔
اس کے نکاح کے بعد جب وہ دوستوں اور گواہان کو رخصت کرنے گیا تھا تو اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے وہ شخص گھر میں داخل ہوا تھا اور ربائشہ حق پر حملہ کیا تھا۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے اس کے جاتے رکا سانس ہوا میں چھوڑا اور روشنی بحال ہوتے ہی اپنے پاؤں دیکھے۔
وہ بھاری پازیب بہت خوبصورت تھی۔۔۔۔اس نے ان پر ہاتھ پھیرتے وہ لمحہ زہن میں نقش کر لیا جب وہ جھک کر اسے پہنا رہا تھا یہ۔
اس نے مہندی دھوئی مہندی کا رنگ بہت گہرا آیا تھا اس کے چہرے پر خوبصورت مسکراہٹ چھا گئی۔
بھوک دوبارہ محسوس ہونے پر اس نے کھانا کھایا اور باقی کی پیکنگ کرتی لیٹ گئی کہ رات اس کی رخصتی تھی۔
وہ جب سے اسے چھوڑ کر آیا تھا اپنی بے اختیاری پر۔۔۔ خود کو کوس رہا تھا۔۔۔۔وہ کیوں اس کے سامنے بے بس ہو جاتا تھا۔
اس سے محبت نہیں کرنی تھی اسے۔۔۔۔۔۔۔اس نے دل کو ڈبٹا۔۔۔۔۔محبت۔۔۔۔۔باسط ضیاء کو محبت تو کیا وہ پسند بھی نہیں ہو سکتی اس نے کہتے خود کو باور کروایا۔
آگے سے اسے اس سے دوری برقرار رکھنی تھی۔۔۔۔۔وہ جادوگر تھی شاید۔۔۔۔۔اس نے آنکھیں گھمائیں۔
کل وہ پوری کی پوری اس کی ہوتی۔۔۔۔پرسوں انہوں نے یہاں سے چلے جانا تھا۔۔۔۔۔
کھیل کا آغاز کرتے کافی مزا آئے گا مجھے درید۔۔۔۔۔اس نے سوچتے چہرے پر ہاتھ پھیرا۔
رباب ضیاء کو وہ پڑھایا کرتا تھا۔۔۔۔۔وہ شرارتی تھی اور پھر اس کی سنجیدہ طبیعت کو دیکھتی اس میں بھی سنجیدگی آ گئی۔
لیکن اکثر باسط ضیاء نے محسوس کیا تھا کہ وہ اس کو دیکھتی رہتی تھی۔۔۔۔اور اس کے دیکھنے پر وہ نظریں پھیر لیتی تھی ۔۔
ایسا کیوں تھا وہ آج تک نہیں سمجھ پایا تھا۔۔۔اب جب وہ قریب آنے والی تھی تو شاید اس راز سے بھی پردہ ہٹ جاتا۔
اس نے سب سوچتے آنکھیں موندیں۔۔۔۔۔۔۔ربائشہ کا خیال آتے ہی اس نے اسے فون کیا لیکن فون سوئچ اوف جا رہا تھا۔
وہ جا کر اس سے ملنے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔۔اس نے یہ راز کبھی بھی درید یزدانی پر افشاں نہیں ہونے دیا تھا کہ وہ ربائشہ کا کیا لگتا ہے۔
اس نے ربائشہ کو بھی منع کیا تھا۔۔۔۔ربائشہ کو پتا تھا وہ اچھے دوست ہیں اس لیے اس نے کوئی سوال نا کیا تھا۔
اپنی بہن کی تکلیف یاد کرتے اس نے آنکھیں بند کی اسے ابھی بھی یاد تھا اس نے کتنی راتیں اس کے کمرے سے سسکیوں کی آوازیں سنیں تھیں جب وہ اسے یتیم کھانے سے لایا تھا۔
میں اتنا کمزور نہیں ہوں درید یزدانی کہ تمہاری بہن کے ساتھ وہ سب کروں۔۔۔۔۔۔لیکن تمہیں خون کے آنسو نہ رلائے تو میں اپنی بہن کے ساتھ انصاف نہ کر پاؤں گا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کا کام ہمیشہ کی طرح بہترین تھا۔۔۔۔۔۔اور پورے چانسس تھے کہ یہ ڈیل اس کو ہی ملتی۔۔۔
وہ سنجیدہ سا بیٹھا۔۔۔۔۔اپنے فون پر لگا تھا۔۔۔۔۔۔سامنے موجود کمپنی کا کام اس نے دیکھنے کی بھی زحمت نہ کی تھی۔۔۔۔
مجھے لگتا ہے سب مکمل ہو چکے ہیں۔۔۔۔تو کیوں نا بتایا جائے کہ ہمیں کس سے یہ ڈیل دن کرنی ہیں۔۔۔۔فارن کمنی کے ایک ممبر نے انگریزی میں کہا۔
عین وقت دروازہ کھلا تھا اور کوئی اندر داخل ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔اس نے اندر آتےاونچی آواز میں اپنے دیر سے آنے پر معزرت کی تھی۔
معافی چاہتی ہوں آپ سے کہ مجھے آنے میں دیر ہو گئی۔۔۔۔۔۔تبریز شاہ نے بنا اس آواز پر دھیان دیے ماتھے پر سلوٹیں ڈالے فون پر مزید سکرولنگ کی تھی۔
ٹائم ختم ہو چکا ہے مس۔۔۔۔۔اور تمام لوگ اپنا اپنا کام پریسینٹ کر چکے ہیں اور ہم فائنل کر چکے ہیں کہ یہ ڈیل کس کو دی جائے گی۔۔۔۔۔فارن کمپنی کا ممبر اب کی بار پھر سے بولا تھا۔
سر دراصل میری بہن کی طبیعت کافی خراب ہے۔۔۔۔۔۔وہ اس کنڈیشن میں نا تھی۔۔۔۔میں یہاں نہ آتی صرف اس کے اسرار پر آئی ہوں۔۔۔۔
آپ ایک بار کام دیکھ لیں۔۔پھر بیشک جس کو دینا ہو۔۔۔۔لیکن ایک بار دیکھ لیں نہیں تو اسے کافی دکھ رہے گا کہ اس کی وجہ سے میرا کام میرا پہلا پروجیکٹ بنا دیکھے ریجکٹ ہو گیا۔۔۔۔۔
اوکے مس۔۔۔۔۔یو ہیو فائیو منٹس اونلی۔۔۔۔۔۔
اس کی تقریر پر تبریز شاہ نے گھڑی پر دیکھا تھا۔۔۔۔۔جیسے وقت کا ضیاع ہو رہا ہو۔۔۔۔لیکن یہ آواز جانی پہنچانی تھی شاید۔۔۔۔
لیکن مخالف کا گلہ خراب تھا اس کی اس کی پریزنٹیشن میں بھی کافی مشکل ہو رہی تھی۔۔۔۔وہ ہر سلائیڈ کے بعد کھانستی تھی۔
اس کے آدھے کام کے بعد ماحول میں خاموشی چھا گئی تھی۔۔۔سب کی نظریں سکرین پر تھی اور اس کے انداز پر ۔۔۔۔۔
تالیوں کی گونج پر اس نے بالآخر فون رکھتے سر اٹھایا تھا۔۔۔۔۔سامنے موجود لڑکی کی آنکھوں کو دیکھتے وہ ساکن ہوا تھا۔
گلابی شلوار قمیض پر گلابی دوپٹہ کندھے پر رکھے سفیر سٹرولر سے حجاب کیے۔۔۔۔گلابی ماسل لگائے وہ پرکشش لگی تھی۔
اس کا چہرا ماسک کے نیچے ڈھکا تھا لیکن آنکھیں۔۔۔۔۔
فارن کمپنی کے ممبران میں اب ڈسکشن چل رہی تھی۔۔۔۔۔۔اس نے دوسری طرف چہرہ کرتے پانی پیا تھا اور آ کر کرسی پر بیٹھ گئی تھی۔
تبریز شاہ کی نظریں اسی پر تھیں۔۔۔لیکن پھر اس نے سر جھٹکا۔۔۔۔اس کی آنکھوں کا رنگ بھورا تھا۔۔۔۔۔وہ بھی کیا سوچنے لگا تھا۔
وہ کہاں یہاں ہو سکتی تھی۔۔۔۔۔؟؟؟
وہ تو ڈرپوک تھی بزدل جو سب چھوڑ کر کہیں جا چھپی تھی اور ایسا چھپی تھی کہ اس کے لاکھ ڈھونڈنے پر بھی نہیں ملی تھی۔
