Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shiddat-e-Talab Episode 9

Shiddat-e-Talab by Suneha Rauf

درید بروقت وہاں پہنچ گیا تھا۔۔۔۔۔ربائشہ کو لگا تھا کہ یہ سب درید نے کیا ہے۔۔۔۔درید نے اس کی یہ غلط فہمی دور نہ کی تھی۔

درید صرف اس وقت اسے یہاں سے بھیجنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔۔اس وقت اس لڑکی کے ساتھ اس کی اپنی بہن کی عزت کو خطرہ تھا۔

وہ شخص جسے انہوں نے بچپن میں زلیل کیا تھا۔۔۔۔آج وہ شخص ڈرگ اور مافیا کے جانے مانے نام کا رائٹ ہینڈ تھا۔

وہ اس وقت اسے یہاں سے نکالنا چاہتا تھا۔۔۔کیونکہ وہ کونے میں لگا وہ چھوٹا سا کیمرہ دیکھ چکا تھا۔

اسے اس لڑکی جو کل ہی اس کے نکاح میں آئی تھی محبت نہ تھی لیکن وہ اس کی عزت ضرور تھی۔۔۔۔

اس نے سب سوچ سمجھ کر کیا تھا۔۔۔۔کیمرے میں دوسری طرف یہ دکھایا تھا اس نے کہ اس نے اس لڑکی کے ساتھ کچھ غلط۔۔۔۔

“میں کچھ نہیں مانگوں گی تم سے…. بس اس چار دیواری میں رہنے دو”….. اس نے دھیمے لہجے میں کہا۔

ربائشہ حق بضد تھی۔

وہ بے بس ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔اس لمحے وہ کچھ بھی خراب کرنے کی پوزیشن میں نہ تھا۔۔

“پاگل ہو؟ یہ رسق نہیں لے سکتا…… میرا باپ جان سے مار دے گا مجھے” وہ جو تب سے ریلیکس انداز میں صوفے پر بیٹھا تھا اٹھ کھڑا ہوا۔

اس نے پیسے پھینکتے اسے یہاں سے جانے کا کہا تھا۔۔۔۔وہ ایک بار اس منظر سے نکل جاتی اس کے بعد وہ اس سے سب کلیر کر لیتا۔۔۔۔۔۔

“میں کہاں جاؤں گی اس وقت……؟” وہ جانے کو تیار نہ تھی یہی چیز اسے فکر اور طیش دلا رہی تھی۔

کوئی ٹھکانہ نہیں ہے میرا اب کہ اس نے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا جہاں کوئی ندامت ڈھونڈنے پر بھی نہیں ملی تھی اسے۔

“رُبائشہ حق یہ میرا مسئلہ نہیں ہے….. جہاں مرضی جاؤ میری بلا سے…..” وہ چیخا۔

“انہوں نے تمہیں پہچاننے میں غلطی کر دی ۔۔۔۔مجھے لگا ہی نہیں تھا کہ یہاں خود کی قیمت لگوا بیٹھوں گی…. اس نے خود پر گرے ان نوٹوں کو دیکھ کر کہا۔

اس کا اشارہ آپا کی کہی باتوں پر تھا۔۔۔۔وہ سمجھ کر بھی ناسمجھ بن گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ رخصتی کے وقت بہت روئی تھی۔۔۔۔۔۔باسط ضیاء نے پہلی بار درید کی آنکھیں نم دیکھیں تھی جس سے اندازہ ہوتا تھا کہ وہ اسے اپنی بہن کتنی عزیز ہے۔

وہ اسے اپنے گھر لایا تھا وہ گھر جو ہمیشہ سے ویران رہا تھا۔۔۔۔۔اس نے گہری سانس بھری۔

وہ سارے راستے بھی روتی آئی تھی۔۔۔۔یہ سچ تھا کہ باسط ضیاء کو رباب میں کبھی انٹرسٹ نہ رہا تھا۔

کہ اس نے ہمیشہ اسے ایک شاگرد کی اور دوست کی بہن کی حیثیت سے دیکھا تھا۔

لیکن اپنی بہن کی حالت دیکھتے اس نے فوراً یہ فیصلہ لیا تھا۔۔۔۔۔اسے محبت جیسی خرافات پر یقین نہیں تھا۔

وہ صرف درید یزدانی کو ٹوٹا ہوا دیکھنا چاہتا تھا۔۔۔۔اور یہ تبھی ممکن تھا جب اس کی بہن کو تکلیف پہنچتی۔۔۔۔

کیا وہ یہ سب کر پاتا۔۔۔۔۔۔اس نے سب پلین کر لیا تھا۔۔۔۔۔۔اب ناجانے وہ اس کی کامیاب ہوتا یا نہیں۔

اترو۔۔۔۔۔اس نے گاڑی روکتے کہا تو وہ بھی آہستگی سے اتر گئی۔

رباب نے نم آنکھوں سے اس گھر کو دیکھا جہاں نا روشنیاں تھی اور نہ کوئی خوش آمدید کہنے والا۔

اس نے اندر قدم رکھے تو سارے احساسات پر اوس پری۔۔۔۔ گھر کی ساری بتیاں گل تھی جو باسط نے چلائی نہ کوئی سجاوٹ تھی نہ کچھ۔

شاید ان کا کمرہ ایسا نا ہو۔۔۔اس کے دل سے آواز آئی۔۔۔۔لیکن باسط کے پیچھے اس کمرے میں جا کر اس کا دل بھاری ہوا۔

تو کیا اس شخص کے کوئی جزبات نہ تھے اس شادی کے لیے۔۔۔۔۔!

چینج کر لو۔۔۔۔مجھے کچھ کام ہے میں تھوڑی دیر تک آجاؤں گا۔۔۔۔گیٹ باہر سے لاک کر کے جا رہا ہوں۔۔۔۔۔۔

رباب نے جھٹکے سے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔۔۔۔آج کے دن اسے کیا کام ہو سکتا تھا۔۔۔لیکن کہنے کی ہمت وہ کہاں رکھتی تھی۔

وہ نکل گیا تو وہ وہیں صوفے پر بیٹھ گئی۔۔۔۔۔کمرہ صاف ستھرا تھا۔۔۔اتنا سامان نہ تھا۔۔۔۔اسے وہ کمرہ کچھ خاص پسند نہ آیا تھا۔

لیکن وہ جانتی تھی انہیں کل یہاں سے چلے جانا ہے۔۔۔۔شاید باسط نے اسی لیے یہ گھر سجایا نہ ہو ۔۔۔۔دل نے خود کو ہی تسلی دی تھی۔

اس نے اٹھ کر چینج کیا اور وہیں صوفے پر بیٹھ گئی۔۔۔۔۔ہزارون سوچوں نے اس کے دماغ پر غلبہ کیا تھا ۔۔۔۔۔لیکن کھڑکی ہر ہوتی دستک پر وہ چونکی۔

بارش ہو رہی تھی شاید۔۔۔۔۔۔اس نے گھڑی پر نظر ڈالی جو ڈیڑھ بجا رہی تھی۔۔۔۔۔اس نے گہری سانس بھری۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حال میں پھر سے خاموشی چھا گئی کیونکہ اب فیصلہ سنایا جانا تھا۔۔۔۔

سب کے چہرے فکر سے لال تھے۔۔۔۔صرف ایک تبریز شاہ تھا جو پرسکون بیٹھا تھا ۔۔۔جیسے جانتا ہو کہ کامیابی اسی کا مقدر ہے۔

اس کی نظر سب سے ہوتی اس لڑکی پر پڑی تھی جو سختی سے آنکھیں میچے منہ میں کچھ بڑبڑا رہی تھی شاید کچھ پڑھ رہی تھی۔

سو مس وقار کے آنے سے پہلے ہم فیصلہ کر چکے تھے کہ یہ ٹینڑر کس کو دینا ہے۔۔۔۔لیکن مس وقار کا کام اتنا اچھا تھا کہ ہم فیصلہ بدلنے پر مجبور ہو گئے۔

تبریز شاہ کی نظر اب بھی اس لڑکی پر تھی جس نے اپنا نام سنتے فوراً آنکھیں کھولیں تھی۔۔۔۔آنکھوں میں یک دم چمک در آئی تھی۔

یہ ٹینڈر تبریز شاہ کا ہے۔۔۔۔لیکن آدھا کام اب مس وقار کو سونپا جا رہا ہے۔۔۔۔یعنی آپ کو یہ ٹینڈر تین ماہ میں اکٹھے کر کے دینا ہو گا۔۔۔۔

اس کے کہنے کی دیر تھی کہ ان دونوں کی آنکھیں ملی تھی۔۔۔۔۔

اس نے اسے دیکھتے فوراً نظریں بدلی تھی۔۔۔۔وہ یہاں کیسے۔۔۔۔۔اور کیوں۔۔۔۔نہیں اتنی جلدی نہیں۔۔۔۔وہ جانتی تھی بزنس کی دنیا میں اس کا سامنا تبریز شاہ سے ہو گا لیکن اتنی جلدی۔۔۔۔۔

اس کی سانسیں حلق میں اٹکی تھی۔۔۔۔۔دل خوف سے لرزا تھا۔۔۔

اتنی جلدی یا خدا۔۔۔۔اس نے یہاں وہاں دیکھتے اپنی بے چینی کو ختم کرنا چاہا تھا اور پھر گہری سانس لی۔۔۔۔۔

کل ہی کیوں آج کیوں نہیں۔۔۔۔۔اس نے ہمت کرنی تھی۔۔۔۔

اب ان دونوں کا نام پکارا گیا تو دونوں نے باری باری ان سے مصافحہ کیا۔۔۔۔

مس ۔۔۔۔۔۔۔فارن کمپنی کے مینیجر نے اس کا نام پوچھنا چاہا۔۔۔۔

مائی سیلف۔۔۔۔منت ۔۔۔۔منت وقار ۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نے کہتے ماسک نیچے کیا اور مسکرائی۔۔۔۔

اور یہ دھپ دھپ آسمان تبریز شاہ کے سر پر گرا تھا۔۔۔۔۔دو سال ۔۔۔۔ڈیڑھ سال اس عورت نے اسے اپنے پیچھے زلیل کروایا تھا۔۔۔۔

کہاں کہاں نہیں ڈھونڈا تھا اس نے اسے۔۔۔۔اور وہ یہاں اسے اپنے مقابل ملی تھی۔۔۔۔اس نے اس پر سے نظریں ہٹائیں۔

اس کی پیشانی پر بلوں کا اضافہ ہوا تھا۔۔۔۔ اس شخص کے اس کے سامنے ہاتھ کرنے سے اس نے مٹھایاں بھینچی۔۔۔۔۔

اور پھر حیرت کا دوسرا جھٹکا اسے تب لگا جب سامنے موجود لڑکی اس کا بڑھا ہاتھ تھام چکی تھی۔۔۔۔۔اس نے مٹھیاں بھینچی۔۔۔

ان سب کے دوران منت نے غلطی سے بھی اسے نہیں دیکھا تھا۔۔۔۔

اب سب الوداع کہتے نکل رہے تھے۔۔۔۔۔اس نے اپنے مینیجر کو کچھ کہا اور باہر نکل گیا۔

اس کے جاتے ہی منت کو لگا ہوا میں آکسیجن برابر ہوا ہے جو اس کی موجودگی میں کم ہو گیا تھا۔

اس کا مینیجر اس کے پاس آیا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میم آپ ساتھ چلیں سب ڈسکس کر لیں گے۔۔۔۔

آج نہیں۔۔۔۔آج کچھ کام ہیں۔۔۔۔۔مینیجر حیران ہوا اس کے باس نے کہا تھا وہ یہی جواب دے تو آگے سے کہنا۔۔۔؟

نہیں میم۔۔۔۔۔کام بہت زیادہ ہے اور وقت بہت کم۔۔۔۔سر کو کل دوسرے شہر کے لیے نکلنا ہے اس لیے سب آج ہی ڈسکس کرنا ضروری ہے۔۔۔۔اس نے وہی کہا جو اس کو کہنے کے لیے کہا گیا تھا۔۔۔۔۔

حالانکہ وہ جانتا تھا اس کے بوس کو کل کیا آنے والے ہفتے میں بھی کسی شہر نہیں جانا تھا۔۔۔۔

اوکے۔۔۔۔۔۔اڈریس سینڈ کر دیں میرے مینیجر کو وہ پہنچ جائے گا۔۔۔۔وہ اتنی جلدی اس کے روبرو نہیں ہونا چاہتی تھی۔۔۔۔۔

مینیجر پھر حیران ہوا۔۔۔کیونکہ اس کے باس نے یہ جواب بھی بتایا تھا۔۔۔

نہیں میم۔۔۔سر مینیجرز سے سب ڈسکس نہیں کرتے۔۔۔کمپنی اونر سے ہی کرتے ہیں اس نے رٹہ رٹایا جملہ کہا۔۔۔۔

اگر آپ نہیں آتیں ہیں تو یہ کنٹریکٹ ہماری طرف سے توڑ دیا جائے گا۔۔۔۔ہمیں زیادہ نقصان نہیں ہو گا آپ کا ہمیں اندازہ نہیں وہ ایک بار پھر بولا۔۔۔

اوکے چلیں۔۔۔۔ہم اپنی گاڑی میں آپ کو فولو کرتے ہیں۔۔۔۔اس نے گہری سانس بھری۔۔۔۔۔

تو آج پہلی ملاقات روبرو یار ہونے والی تھی۔۔۔۔۔اس کی دل کی دھڑکنیں تیز ہوگئیں تھیں۔

اس نے سارے راستے یہ دعا کی تھی کہ کچھ ایسا ہو جائے کہ اسے تبریز شاہ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔۔۔۔

وہ یہ کنٹریکٹ توڑ دیتی اگر اس کے بابا کی اسٹیٹ اس پوزیشن میں ہوتی۔۔۔۔اس نے اس ڈیل کے لیے دن رات محنت کی تھی۔

یہ اس کی پہلی ڈیل تھی جس سے تبریز شاہ کو پتا نہیں لیکن اس کو کافی پروفٹ ملتا۔۔۔۔یہی سب سوچتے وہ مان گئی تھی۔

اس کے نا جانے پر کیا معلوم وہ اپنا کہا کر ڈالتا۔۔۔۔۔تبریر شاہ کے ہنر کو وہ اچھے سے جانتی تھی۔

گاڑی اس کی کمپنی کے باہر جھٹکے سے رکی تو اس نے آنکھ میں اٹکا آنسو صاف کیا اور اندر داخل ہوئی۔۔۔

لفٹ سے جاتی اب وہ اس کے کمرے کے سامنے موجود تھی۔۔۔۔

اس نے بنا نوک کیے دروزہ کھولا تو دونوں کی نظریں ٹکرائیں۔۔۔۔

شاید ایک کمپنی اونر ہونے کی حیثیت سے آپ کو اندازہ ہو کہ دروازہ نوک کیا جاتا ہے اور اجازت طلب کی جاتی ہے۔۔۔۔۔

آتے ساتھ اس کی اتنی بے عزتی پر اس کے گلے میں اٹکے آنسو پھر سے آنکھ کے راستے پر گامزن ہوئے تھے۔

اس نے دوبارہ دروازہ بند کیا اور نوک کیا۔۔۔۔۔۔اس کا مینیجر باہر ہی رکا تھا۔۔۔۔۔

کم ان۔۔۔۔۔اس نے کہا تو وہ اندر داخل ہوئی نظریں جھکی ہوئیں تھیں۔

اب وہ ایک دوسرے کے سامنے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس انجان گھر میں اب اسے ڈر لگنے لگا تھا۔۔۔۔جہاں کوئی نہ تھا۔۔۔بارش کی آواز بھی اب زور پکڑ رہی تھی۔

اس نے ہونٹ کاٹتے آنسو روکے۔۔۔۔۔یہ کیسی رات تھی۔۔۔۔ایسا کچھ تو نا اس نے کبھی سنا تھا اور نہ سوچا تھا۔

اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور سوچتی باہر سے گیٹ کھلنے کی آواز آئی تھی اور پھر جب وہ دروازہ کھولتا اندر داخل ہوا تو بھاگ کر اس کے سینے سے لگی تھی۔

وہ جو بلا مقصد سڑک پر گاڑی گھما رہا تھا۔۔۔۔کہ نہیں جانتا تھا کہ جو سوچ بیٹھا ہے ویسا کر پائے گا نہیں۔۔۔۔

اس کے جزبات پل میں بدلے تھے۔۔۔۔اس نے اسے دیکھا جو اس کے کاندھوں تک بمشکل آتی تھی۔

اس وقت سلک کے سلیپنگ سوٹ میں وہ چھوئی موئی سی ہوئی اس کے اندر چھپنے کی کوششوں میں تھی۔

اس نے گہرا سانس بھرتے اسے علیحدہ کرتے خود سے دور کھڑے کیا۔

رباب بلا وجہ ہی شرمندہ ہوئی تھی۔۔۔۔۔اس لیے واپس جا کر اپنی جگہ پر بیٹھ گئی۔

وہ بھی چینج کرنے چلا گیا۔۔۔۔واپس آیا تو وہ لیٹ چکی تھی۔۔۔۔اس نے کتنی ہی دیر اس کمرے کی در و دیوار کو دیکھا۔

جو سالوں سے صرف اسے کے وجود سے آشنا تھیں۔۔۔۔اور آج ایک نیا شخص۔۔۔۔

اس کا بیڈ کچھ خاص بڑا نا تھا۔۔۔۔۔کیونکہ وہ ہمیشہ سے اکیلا رہا تھا۔۔۔اس نے سارا نیا فرنیچر نئے گھر میں سیٹ کروایا تھا۔

آج کی رات اسے یہیں گزارا کرنا تھا۔۔۔کمرے میں صوفے بھی موجود تھے۔۔۔۔

لیکن یہ کسی بھی عورت کے لیے باعثِ تزلیل ہو گی کہ اس سے منسلک مرد اس کے ہوتے ہوئے کہیں دور لیٹے۔۔۔

اس نے ساری بتیاں بجھائی اور جا کر خاموشی سے اس کے پہلو میں لیٹ گیا ۔۔۔۔۔رباب کی طرف سے کوئی ہلچل نہیں ہوئی تھی۔

کل شام ہمیں نکلنا ہے۔۔۔۔۔اس نے بات کا آغاز کیا۔

اوکے۔۔۔۔۔مختصر جواب۔۔۔

پیکنگ کر لی ہے۔۔۔؟

جی۔۔۔۔

کچھ خریدنا تو نہیں ہے۔۔۔؟

نہیں۔۔۔۔۔وہ تو جیسے سوچے بیٹھی کہ ایک لفظی جواب سے زیادہ کچھ نا بولے گی۔

اس نے اسی کی طرف رخ کیا۔۔۔کمرے میں چاند کی ہلکی سی روشنی آرہی تھی جو اس کے چہرے پر پررہی تھی۔

وہ اسے ہی تک رہی تھی۔۔۔اس کے دیکھتے ہی اس نے بچپن کی طرح نظروں کا زاویہ بدلا۔۔۔۔

اس نے گہری سانس بھری ۔۔۔۔وہ شخص جسے زندگی میں کچھ کم ہی مشکل اور پیچیدہ لگا کرتا تھا آج اسے اپنا ہی رشتہ کافی مشکل لگ رہا تھا۔

اس نے دوسری طرف کروٹ بدلی۔۔۔۔رباب کی آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹ کر گرا۔۔۔

جس کی وجہ کیا تھی۔۔۔وہ خود نہیں جان پائی۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تم محافظ نہیں ہو لٹیرے ہو میں یہ بات سب کو چیخ چیخ کر بتاؤ گی یزدانی…..”

“خبردار! ایک لفظ نہیں بولو گی تم…… آج سے تمہارے میرے راستے الگ…. میں تمہیں نہیں جانتا تم مجھے نہیں….. یہ سمجھو کہ ہم کبھی ملے ہی نہیں” اس نے قدم اس کی طرف بڑھاتے کہا۔

اسے اس لڑکی پر ترس آیا۔۔۔۔۔اس کے آنسوؤں سے پہلی بار اس کے دل میں ہلچل ہوئی تھی۔

وہ کئی لمحے اسے دیکھتی رہی تھی….. وہ شخص تو انسانیت کے درجے سے بھی گر گیا تھا۔

میں نہیں جاؤں گی….. یہاں سے اس نے ٹرانس کی سی کیفیت میں کہا۔

“کتنی رقم اور لو گی پیچھا چھوڑنے کی اب کے اس نے اس کا دوپٹہ اس پر پھینکتے نخوت سے کہا” ۔۔۔۔ کہ وقت تھوڑا تھا اب۔

درید یزدانی نے اس بار عورت کو غلط طریقے سے جانچا تھا اور یہ کفارہ اسے مرتے دم تک ادا کرنا تھا۔۔۔۔اسے لگا تھا وہ اس کو بھی بعد میں ڈھونڈ کر سچائی بتا کر منا لیتا۔۔۔۔لیکن نہیں جانتا تھا کہ وہ پہروں اس کو سوچنے اور ڈھونڈنے والا تھا۔

مجھے جانا بھی ہے اس نے گھڑی کو دیکھتے کہا۔

“اور کتنی قیمت لگاؤ گے اپنے ہی نکاح کی اپنی ہی بیوی کی” وہ قریب آ کر اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولی۔

نکاح، بیوی…؟ وہ نہیں چاہتا تھا وہ یہ سب بولے۔۔۔۔۔

واٹ ربش….یہ سب تمہارے کہنے پر ہوا تھا تمہیں یاد تو ہو گا… میں نے نہیں بولا تھا آؤ نکاح کریں اس نے تمسخر سے کہا۔

“کسی کے کہنے پر بھی ہوا ہو میں بیوی ہوں تمہاری اب درید یزدانی مان لو اس بات کو……” وہ اس کا کالر تھام کر بولی۔۔۔۔۔ایک پل کو درید کو لگا کہ وہ اسے سب بتا دے لیکن مجبور تھا۔۔۔۔ایسا کرتا تو اس کے ساتھ اپنی بہن کو بھی کھو دیتا۔

اُف…..! میں نہیں مانتا کسی رشتے کو…… اور قیمت دے دی ہے نکلو اب فوراً اس سے پہلے کہ مجھے گارڈز کو بلوانا پڑے اس نے اسے جھٹکے سے خود سے دور کرتے کہا۔

“اور چاہیے تو بتاؤ…؟” اس نے بیزاری سے کہا۔

وہ وہیں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی یہ تھا اس کا نصیب….. ہاں شاید ان لڑکیوں کا یہی نصیب ہوتا ہے جن کے سر پر ماں باپ کا سایہ نہیں ہوتا۔

“ایک دن…… ایک دن درید یزدانی…… خدا میرا بھی ہے یاد رکھنا…..!” وہ کہتی نکل گئی تو وہ وہیں بے سدھ گر گیا ۔۔۔۔۔۔۔

ربائشہ نے سب یاد کرتے دل میں درد اٹھتا محسوس کیا۔۔۔۔۔۔وہ کیسے اس شخص کے ساتھ رہ رہی تھی جس نے اس کے ساتھ یہ سب کیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تو مس منت وقار۔۔۔آپ یہ ڈیل مکمل کریں گیں۔۔۔۔۔اس کے گھمبیر آواز پر اس نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔

نہیں میرے کہنے کا مطلب تھا کہ آپ کو بھاگ جانے کا کافی شوق اور تجربہ ہے تو اسی لیے۔۔۔۔اس نے کہا تو منت نے اسے دیکھا وہ پہلے سے زیادہ سنجیدہ ہو چکا تھا۔

نہیں مجھے بھاگنے کی ضرورت نہیں ہے کام کرنے آئی ہوں کام کریں گے۔۔۔۔اور مجھے لگتا ہے کولیگ ہونے کی حیثیت سے ہمیں اس طرح کی گفتگو سے اجتناب برتنا چاہیے جس سے ہمارے کام کا کوئی لینا دینا نہیں۔۔۔۔۔اس کے طنز کا کرارا جواب دیا تھا اس نے۔۔۔۔۔۔

پل میں اس کی کی ساری زیادتیاں اسے یاد آئیں تھیں۔۔۔۔۔اس نے اینٹ کا جواب پتھر سے دیا تھا۔

اس کا جواب تبریز شاہ کو پسند نہیں آیا تھا یہ اس کی سرخ ہوتی آنکھوں سے صاف واضح تھا۔

کام آج سارا تقسیم کر لیتے ہیں تاکہ اپنی اپنی کمپنی سے اہم یہ کام کر سکیں فلحال۔۔۔کیونکہ آپ کے مینیجر کے مطابق آپ کل شہر سے باہر جا رہے ہیں اس کی خاموشی کو اسی نے ٹوڑا تھا۔

یہ تو ممکن نہیں مس منت وقار کام سارا میری کمپنی میں ہی ہو گا۔۔۔جیسے کہ آپ نے سنا تھا کہ یہ ٹینڑر مینلی میرا ہے۔۔۔۔۔

اور کل جانے کا میں کینسل کر چکا ہوں۔۔۔آپ کو فائیل پہنچ جائے گی۔۔۔۔۔یو مے گو ناؤ۔۔۔۔۔

وہ۔ایسا کیوں کر رہا تھا خود نہیں جانتا تھا۔۔۔۔شاید اتنے سالوں کا غصہ تھا جو اس صورت میں نکل رہا تھا۔

منت بنا اس کی طرف دوسری نگاہ ڈالے اٹھ کر چلی گئی تو اسے نئے سرے سے غصہ آیا۔

کیوں وہ اتنا غصہ ہو رہا تھا۔۔۔۔کیوں وہ اسے دیکھ کر بیچین ہو رہا تھا۔۔۔۔وہ تو اسے اس لیے ڈھونڈ رہا تھا نا کہ اس سے اپنا نام چھین سکے ۔۔۔۔اس نے خود سے زیادہ اپنے دل کو تسلی دی۔۔۔۔۔

اس بھوندے جواز پر کوئی بھی مطمئن نہیں ہوا تھا۔۔۔۔دل میں آگ الگ لگ گئی تھی۔۔۔۔۔اس نے سامنے پڑی تمام فائلز کو ہاتھ سے نیچے گرایا تھا۔۔۔۔

یہ کیا ہو رہا تھا۔۔۔۔۔۔

وہ کب کی جا چکی تھی لیکن وہ وہیں بیٹھا رہا اور پھر سات بجتے دیکھ اٹھا اور گھر کے لیے نکل گیا کہ سارا آفس اب خالی ہو چکا تھا۔