Shiddat-e-Talab by Suneha Rauf NovelR50408 Shiddat-e-Talab Episode 6
No Download Link
Rate this Novel
Shiddat-e-Talab Episode 6
Shiddat-e-Talab by Suneha Rauf
اس ٹیچر کے ساتھ جو ہوا وہ الگ کہانی تھی۔۔۔درید نے بنا شوکت یزدانی کو بتائے اس کا حال بگاڑا تھا۔۔۔۔
لیکن اب رباب کی پڑھائی کو وقت نہیں دیا جا رہا تھا۔۔۔۔۔وہ پڑھائی میں اتنی اچھی نہ تھی لیکن اسے پڑھنے کا بے حد شوق تھا۔
درید اسے پڑھاتا تھا لیکن اپنے مصروف دن سے اس کے لیے بمشکل وقت نکال پاتا کہ اب وہ اپنے باپ کے ساتھ کام سیکھنے جاتا تھا سب۔
اس کے باپ کا کہنا تھا کہ ابھی سے وہ بہتر طریقے سے سمجھ جائے گا۔
یہ زمیداریاں اسے مزید سنجیدہ بنا رہیں تھیں، اس کا باپ ایک ایماندار پولیس افسر تھا لیکن اس شعبے میں کہاں ایماندار لوگوں کی ضرورت تھی۔۔۔
کچھ وجوہات کی بنا پر انہوں نے یہ شعبہ چھوڑ دیا اور اپنے باپ کا بچا ہوا بزنس سنبھالا اور اسے آگے بڑھایا۔
لیکن درید اسی شعبے میں جانا چاہتا تھا۔۔۔۔۔لیکن شوکت یزدانی کو یہ منظور نہ تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کی طرح وہ بھی ٹک نہیں پائے گا۔۔۔۔ان کرپٹ اداروں اور لوگوں پر ہاتھ ڈالنا ناممکن سی بات تھی۔
یہی وجہ تھی کہ وہ اسے زبردستی اپنی بزنس سائیڈ پر لے کر جاتے۔
لیکن درید پر تو جنون سوار تھا ۔۔۔۔۔یہی وجہ تھی کہ وہ ان سے مختلف کیسز کے متعلق پوچھا کرتا تھا۔
رات کے ڈنر پر وہ بیٹھے کھانے میں مصروف تھے کہ شوکت یزدانی نے رباب کا اترا چہرہ دیکھا۔
روبی کیا ہوا۔۔۔؟ انہوں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے کہا ۔
اس نے نم آنکھیں اٹھا کر دیکھا۔۔۔۔۔درید اور شوکت یزدانی کو پریشانی لاحق ہوئی وہ ایسے رویا نہیں کرتی تھی۔
درید نے فوراً کھانا چھوڑا۔۔۔۔۔اور اس کے پاس اٹھ کر آیا۔
آج میرا ٹیسٹ تھا ۔۔۔اور ٹین میں سے آئی گیٹ فائو مارکس اس نے سوں سوں کرتے کہا۔
درید مجھے تو سمجھ نہیں آتی بیٹھے بیٹھے کیا سوچ آئی کہ تم نے ٹیوٹر نکال دیا اب کہ وہ ناراض ہوئے۔
بس بابا! باہر کے لوگوں پر اعتبار نہیں کر سکتا میں اسی لیے نکال دیا۔۔۔۔اس کا حل ہے میرے پاس ۔۔۔۔باسط پڑھایا کرے گا اب سے روبی کو۔۔۔۔۔
اس نے منٹ میں کچھ سوچتے کہا ۔۔۔۔کہ اپنے باپ کو وہ اصل وجہ نہیں بتانا چاہتا تھا۔۔۔۔کیا بتاتا کہ وہ اپنی بہن کی حفاظت کرنے میں چوک گیا تھا جو اس کے لیے باعثِ ندامت تھا۔
اچھا اچھا ۔۔۔۔باسط پڑھائے گا۔۔۔۔پھر تو اچھا ہے۔۔۔۔کافی زہین اور سلجھا ہوا بچا ہے ۔۔۔۔۔تو بیٹا کل سے ہی بلوا لو اسے۔۔۔انہوں نے کہا۔
جی باںا۔۔۔۔۔کل سے آجائے گا اس نے ماتھے سے پسینہ صاف کرتے کہا ۔۔۔۔کہ ابھی اسے باسط سے بھی پوچھنا تھا۔
روبی نے پر سکون ہوتے نوالہ توڑا۔۔۔۔۔۔اسے باسط بہت اچھا لگا تھا۔
کھانے کے بعد دید نے فوراً کمرے میں جا کر باسط کو فون کیا تھا۔۔۔۔۔
یار تیری مدد کی ضرورت ہے۔۔۔۔۔
ہاں بول کیا ہوا ۔۔۔۔۔دوسری طرف سے آواز ابھری۔
مجھے امید ہے تو منع نہیں کرے گا۔۔۔۔درید نے سنجیدگی سے کہا۔
بول تو۔۔۔۔۔۔اتنا ہائپ اپ کیوں کر رہا؟؟
کل سے تو رباب کو پڑھانے آئے گا۔۔۔۔۔اوکے اور انکار تو میں بالکل نہیں سنوں گا۔۔
پر ۔۔۔۔میں کیسے اور کیوں؟؟؟
میں نے بابا کے سامنے تیرا نام لیا ہے۔۔۔۔۔۔اور اب انکار کی گنجائش نہیں ہے اس نے مان سے کہا۔
ٹھیک ہے اب تو نے نام لے لیا ہے تو شرمندہ تو نہیں ہونے دوں گا تجھے ۔۔۔۔۔۔۔باسط کی بات سنتے اس کے چہرے پر مسکان بکھری۔
کل آجائیں وقت پر۔۔۔۔۔۔۔اور شک۔۔۔
شکریہ جیسے لفظ نہیں سنتا میں۔۔۔۔۔۔میرے آنے پر بریانی تیار کروا لے بںس۔۔۔۔۔باسط کو بریانی کافی پسند تھی۔
چل ٹھیک ہے درید نے کہتے مسکراتے فون رکھا۔۔۔۔۔۔باسط ضیاء نے اسے شرمندہ نہیں ہونے دیا تھا۔۔۔اس کی بات کو مان بخشا تھا۔
یہ دوستی نجانے ایسی دوستی رہنے والی تھی یا نہیں۔۔۔۔
کل سب بدلنے والا تھا یقیناً۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلے دن اس نے یونیورسٹی آتے ہی اپنے ٹائم ٹیبل کا پتا کر کے اسے نوٹ کیا تھا کہ پھر کسی سے مدد نہ لینی پڑے۔
اسے وہ دونوں شکلیں دوبارہ نہیں دیکھنی تھی اور پھر اس نے ایسے ہی کیا جہاں کہیں اسے وہ دونوں نظر آتے وہ راستہ بدل لیتی۔
قاسم نے تو نوٹ نہ کیا تھا کیونکہ وہ آج کل کسی نئے شکار کی تلاش میں تھا لیکن تبریز شاہ نے ضرور کیا تھا۔
ابھی بھی وہ کیفے میں ایک کونے میں بیٹھا تھا کہ وہ اسے اندر آتی دکھائی دی۔
اس نے تبریز شاہ کو نہیں دیکھا تھا اس لیے سامنے والی میز پر جا کر بیٹھ گئی۔
اس نے فون نکالتے اگلی جماعت کا وقت دیکھا جو گھنٹے بعد ہونی تھی کیونکہ یہ والا لیکچر فری تھا۔
آج صبح ناشتہ نہیں کر کے آئی تھی وہ اس لیے سینڈوچ لینے کے لیے اٹھی۔
تبریز شاہ کے دماغ نے تیزی سے کام کرنا شروع کیا تھا۔۔۔۔۔۔۔لیکن اس سے پہلے وہ کچھ سوچتا اس کی توجہ کا مرکز کوئی اور بنا۔
ہائے آئیم سارہ ۔۔۔۔۔۔سارہ بھٹ۔۔۔۔۔اس موڑرن لڑکی نے اپنا تعارف کروایا۔۔۔۔وہ بھی منت کے سیشن میں آئی تھی۔
کسی سیاسی جماعت سے منسلک چئیرمین کی بیٹی تھی۔۔۔۔یہاں آتے اس نے ایک ہی نام لڑکیوں کے منہ سے سنا تھا اور وہ تھا “تبریز شاہ”۔
تبریز شاہ کو دیکھتے اس نے مانا تھا کہ مرد کتنے خوبصورت ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔پہلی نظر میں اس نے تبریز شاہ کو پانے کا سوچا تھا۔
کیا میں آپ کو جانتا ہوں۔۔۔۔۔وہ سیدھا ہو کر بیٹھا۔۔۔۔آئبرو اچکاتے سنجیدگی سے استفسار کیا۔
نہیں۔۔۔۔لیکن جان جاؤ گے۔۔۔۔وہ چہکی۔۔۔
جائیں گے۔۔۔۔تمیز سے۔۔۔۔۔تو ترا کے بات نہ میں کرتا ہوں نہ پسند کرتا ہوں۔۔۔۔۔اس نے کہتے ایک نظر سامنے ڈالی۔
جہاں وہ لائن میں کھڑی چشمہ ٹھیک کر رہی تھی۔
اس نے نا سہی لیکن تبریز شاہ کی تیز نظر نے کچھ محسوس ضرور کر لیا تھا۔
اووو۔۔۔۔سوری۔۔۔۔آئندہ دھیان رکھوں گی۔۔۔۔اس لڑکی نے آگے کے کرل کو انگلی پر لپیٹتے کہا۔
اس نے بنا اس کی طرف دیکھے سامنے کے منظر پر نظر ڈالتے میز کھسکایا۔۔۔۔اور کروفر سے کھڑے ہوتے چادر کاندھے پر پھینکی۔
سارہ نے دل تھاما۔۔۔۔۔۔۔۔اپنی اتنی بے عزتی کو اس نے اگنور ہی کیا تھا۔۔۔۔جو عام بات نہیں تھی۔۔۔۔لیکن سامنے والا شخص بھی تو عام نہ تھا۔
وہ وہیں بیٹھی فون پر کسی کو یہ سب بتانے لگی۔۔۔۔۔۔۔تب تک وہ جا چکا تھا۔
وہ جو لائن میں کھڑی ہوئی تھی۔۔۔۔اسے اپنی قمر پر ہلکی سے ہلچل محسوس ہوئی تھی۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حال:
وہ نماز پڑھ کر واپس اپنے کمرے میں آ گئی ۔۔۔۔دوا لیتے اس نے بستر پر لیٹتے آنکھیں موندی۔
زندگی نے کیسے امتحان لیے تھے اس سے۔۔۔۔۔اس نے تھک کر آنکھیں موندی۔۔۔۔۔
نیند کی وادیاں اس پر جلد مہربان ہو جایا کرتی تھی۔۔۔کیونکہ ریگولر دوا کے ساتھ وہ اب نیند کی گولیاں بھی لیتی تھی۔
اگر وہ نیند کی گولی نہ لیتی تو پہروں اس کی آنکھیں نیند کے لیے ترستی سرخ ہو جاتی۔۔۔۔۔اس کا سر پھٹنے لگتا تھا۔
آج بھی اس نے ایسا ہی کیا تھا۔۔۔۔لیکن رات کے ڈیڑھ بجے اس کی طبیعت اچانک سے بگڑی تھی۔
اسے ٹھنڈے پسینے آنے لگے تھے۔۔۔۔اس نے آنکھیں کھولیں تو اندھیرے کو پایا۔۔۔کیونکہ وہ اندھیرا کر کے سونے کی عادی تھی۔
لیکن اس وقت اسے یہ اندھیرا قبر کا اندھیرا لگا۔۔۔۔۔عام انسان کی طرح اسے بھی موت سے ڈرا لگتا تھا۔۔۔۔
اس نے گہری سانسیں لیتے خود کو نارمل کرنا چاہا۔۔۔۔لیکن اس کا سانس پھول رہا تھا۔۔۔۔۔اس نے اٹھنا چاہا لیکن سر بری طرح گھوم رہا تھا۔
ابھی دو سال ہی تو ہوئے تھے اس سے علیحدگی کو۔۔۔۔۔
اپنا دردناک ماضی یاد کرتے اس کی آنکھ سے آنسو گرے۔۔۔۔۔۔۔۔اس نے منت کو آواز دینا چاہی لیکن اس کی زبان ہلنے سے انکاری تھی۔
اسے لگا وہ بے موت مر جائے گی۔۔۔۔اس نے تکیے کو زور سے مٹھیوں میں بھینچا۔۔۔۔۔
یا رب العالمین میں مرنا نہیں چاہتی۔۔۔۔اس کے لب ہلے۔۔۔۔۔
دور بیٹھا وہ شخص جو اس کے پل پل کی خبر رکھتا تھا۔۔۔۔اس بار چوک گیا تھا۔۔۔۔۔ وہ لیپ ٹاپ پر تیزی سے انگلیاں چلا رہا تھا۔
کام مکمل ہوتے ہی اس نے گھڑی پر وقت دیکھا جو پونے تین بجا رہی تھی۔۔۔۔اس نے اپنے آپ کو زندگی میں بے حد مصروف کر لیا تھا۔
کوئی بھی تو نہیں تھا اس کے پاس۔۔۔۔یہ محل جیسا گھر ۔۔۔۔جس میں چند ایک ملازم تھے۔۔۔۔باپ سال پہلے اس کی حرکت کو جانتے منوں مٹی تلے جا سویا تھا۔
بہن اپنے گھر تھی۔۔۔۔اور جسے ہونا چاہیے تھا وہ۔۔۔۔۔۔
اس کا خیال آتے ہی اس نے اپنے فون سے کنکٹ اس کے کمرے کے کمیرے کی فوٹیج کھولی۔۔۔۔
اگلا منظر دیکھتے اس نے کمفرٹر ہٹایا تھا۔۔۔۔اس کا لیپ ٹاپ فرش پر گرا تھا۔۔۔۔۔جس کی سکرین بھی سلامت نہ بچی تھی۔
وہ سلیپرز پہنتا بھاگا تھا۔۔۔۔۔گاڑی کی چابی لیے۔۔۔۔اس کے گھر سے اس کا فلیٹ آدھے گھنٹے کی مسافت پر تھا جو اس نے دس منٹ میں پورا کیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اسے چھوڑنے واپس آیا تھا اس کے گھر سے کچھ دور گاڑی روکتے اسے دیکھا جو کانپتے ہاتھوں کی انگلیوں کو مڑوڑ رہی تھی۔۔۔۔شاید ڈر ختم کرنے کا ایک نیا طریقہ اس نے ایجاد کیا تھا۔
اب رخصتی کی بات پر تمہارا سر ہاں میں ہلنا چاہیے اوکے۔۔۔۔۔۔؟
باسط نے اسے کہا لیکن وہ سن ہی کہاں رہی تھی۔
باسط نے اپنی بات کو نظر انداز ہوتے دیکھ اس کا چہرہ جھٹکے سے اپنی طرف گھمایا تھا۔۔۔۔۔۔کہ اس کے منہ سے کراہ نکلی۔
میری بات کو اگلی بار نظر انداز کرنے کی غلطی ہرگز مت کرنا رباب باسط ضیاء ۔۔۔۔۔۔
اور۔۔۔۔
ابھی وہ کچھ اور کہتا کہ اس کی سائیڈ کا شیشہ کھٹکھٹایا گیا تھا۔۔۔۔ایک بچہ پھولوں کے گجرے لیے کھڑا تھا۔
اس نے شیشہ نیچے کیا تو وہ بچہ اس سے گجرے خریدنے کی ضد کرنے لگا۔۔۔۔۔۔اس نے اس بچے کو دیکھتے خرید لیے تھے۔
پیسے دیکھتے بچے کے چہرے پر مسکراہٹ ابھری۔۔۔۔۔۔بچہ جا چکا تھا لیکن رباب نے تب بھی سر نہ اٹھایا۔
گجروں کی خوشبو نتھوں میں جاتے ہی اس نے گہرا سانس بھرا اور اس کی طرف دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
کیسے اچانک رشتہ بدل گیا تھا۔۔۔۔۔لیکن کیا یہ رشتہ زیادہ دیر چلتا۔۔۔۔۔اس نے خود سے سوال کیا تو لرزی۔
تمہارے لیے نہیں ہیں یہ۔۔۔۔۔اور نہ ہو سکتے ہیں۔۔۔۔۔اُس کو دوں گا جو سچ میں اس کی حقدار ہے باسط ضیاء نے کہا تو اس نے جھٹکے سے سراٹھاتے اسے دیکھا۔
اس کی آنکھوں کی ماند پڑتی چمک کو وہ کیسے نہ محسوس کرتا۔۔۔۔۔
ج۔۔۔جاؤ۔۔۔۔؟؟
میں نے کہا ہے۔۔۔۔؟اس نے کہتے سیٹ سے ٹیک لگائی۔۔۔۔۔۔کہ اسے زلیل کرنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑنا تھا اس نے۔
اور پھر وہ آدھا گھنٹہ ایسے ہی بیٹھے رہے تھے۔۔۔۔اس کی تو نہیں لیکن رباب کی قمر ایسے شل بیٹھے رہنے سے اکڑ گئی تھی۔
وہ جو آنکھیں موندے سمجھ بیٹھا تھا کہ اپنے گھر کے کمرے میں بیٹھا ہے۔۔۔۔اس کی سسکی سن کر آنکھیں کھولی۔
نظریں اس سے جا ٹکرائی۔۔۔۔جس کی آنکھوں سے آنسو نکلتے اس کا چہرہ بھگو رہے تھے۔
کیا مصیبت پڑ گئی ہے ۔۔۔۔؟وہ بیزاری سے بولا۔۔۔۔۔
مجھے جانا ہے۔۔۔۔۔اس نے ہچکیوں کے درمیان کہا۔۔۔۔
اوکے لے جاتا ہوں۔۔۔۔یہی منہ سے پھوٹ دیتی پہلے ایسے بچوں کی طرح رونا ڈالنے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔۔۔
اتنی بات پہلے بولنے سے تو جیسے چھوڑ آئے تھے۔۔۔۔اس نےدل میں سوچا ۔۔۔۔۔۔۔صرف سوچا ہی کیونکہ بولنے کی ہمت نہ رکھتی تھی وہ۔
باسط نے اس کے گھر کے گیٹ پر گاڑی روکی اور لاک کھولے۔۔۔۔۔رباب نے فوراً دروازے کے ہینڈل پر ہاتھ رکھا تھا۔
مجھ سے اجازت لی ہے ۔۔۔۔؟
رباب نے تھکی نظر سے اسے دیکھا تو وہ تھما۔۔۔۔۔اوکے جاؤ لیکن یہ لو۔۔۔۔
اس نے اس کے ہاتھ تھامے تو رباب نے اس کی طرف دیکھا جو اس کے ہاتھوں میں گجرے پہنا رہا تھا۔
پہلےتو اس نے۔۔۔۔۔!!
خیر۔۔۔۔وہ شخص اس کی سمجھ میں تو نہیں آتا تھا۔۔۔۔
اس کے ہاتھ خالی دیکھ کر وہ چونکا۔۔۔۔۔کچھ مسنگ تھا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماضی
پہلی بار اس نے نظر انداز کیا تھا لیکن دوسری بار اس نے مڑ کر دیکھا۔۔۔۔۔۔پیچھے والا لڑکا عام سے انداز پر فون میں لگا تھا۔
تیسری بار اس نے مڑتے پیچھے والے کو بنا دیکھے تھپڑ لگایا تھا۔۔۔۔کہ وہ کسی کے ہاتھ کی حرکت اپنی پشت پر اچھے سے محسوس کر سکتی تھی۔
سامنے موجود شخص کو دیکھتے اس کا ہاتھ کانپا تھا۔۔۔۔۔۔۔تبریز شاہ کی سرخ آنکھوں کو دیکھتے اس نے ارد گرد دیکھا۔
جہاں سب انہیں ہی دیکھ رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔تبریز شاہ کو دیکھتے بہت سے لوگوں نے تھوک نگلا تھا۔۔۔۔۔اس لڑکی کی متوقع حالت کو سوچ کر۔۔۔۔۔
تبریز شاہ نے اس کا ہاتھ تھاما اور گھسیٹتا ہوا اسے وہاں سے لے گیا۔۔۔۔۔۔
وہ جو حالات سمجھنے کی کوششوں میں ہلکان تھی اس کے ساتھ کھینچی چلی گئی۔
تبریز شاہ اسے گھسیٹا اسی بیسمنٹ میں لایا اور جھٹکے سے اسے چھوڑا کہ وہ گرتی گرتی بچی۔
ہاتھ کیسے اٹھایا تم نے۔۔۔۔۔۔؟؟
وہ بولا نہیں دھاڑا تھا کہ وہ سہم گئی۔۔۔
بولو۔۔۔۔۔
وہ غلطی سے۔۔۔۔۔آپ کو نہیں۔۔۔۔۔۔اس نے کہتے ہاتھوں کی لرزش کو قابو کرنا چاہا۔
اپنی سزا خود بتاؤ لڑکی۔۔۔۔۔کیونکہ جو میں سوچ رہا ہوں وہ تو شاید تم سن کر ہی بیہوش ہو جاؤ۔۔۔۔
آیم سوری۔۔۔دیکھیں۔۔۔۔
دیکھنا نہیں ہے کچھ مجھے ۔۔۔۔۔جلدی بکو اپنے منہ سے اپنی سزا۔۔۔۔۔وہ زخمی شیر کی طرح غرایا۔
میں سب کے سامنے معافی مانگ لوں گی۔۔۔۔۔۔۔
بس۔۔۔۔۔؟
اور کیا۔۔۔کروں۔۔۔؟
واپس جاؤ اس لڑکے کے منہ پر تھپڑ لگاؤ دونوں گالوں پر۔۔۔۔۔اور آئیندہ جب بھی میں بلاؤ گا تم فوراً آؤ گی۔۔۔۔۔یہ سزا ہے تمہاری۔۔۔
نہیں۔۔۔۔
تمہارے پاس دوسرا آپشن نہیں ہے مس منت وقار۔۔۔۔نہیں تو ایک رات اکیلی اس بیسمنٹ میں گزارو۔۔۔۔میں یہاں تمہیں کسی بھی کمرے میں بند کر جاؤ۔۔۔۔تو جب تک میں نہ نکالو تم یہاں سے جا نہیں پاؤ گی۔۔۔۔۔وہ بیزاری سے کہتا مسکرایا۔۔۔۔
اس کے ارادے سنتے وہ جی جان سے کانپی۔۔۔۔اس کی ہمت کے نظارے وہ دیکھ چکی تھی۔
ویسے بھی غلطی اس کی تھی ایسے میں زخمی شیر کو للکارنا اپنی جان کو مشکل میں ڈالنے کے برابر تھا۔
جلدی بتاؤ۔۔۔
میرے پاس وقت نہیں ہے تم جیسوں کے لیے ۔۔۔اس نے جھٹکے سے اپنی شال کو کندھے پر درست کرتے کروفر سے کہا۔
مجھے من ۔۔منظور ہے۔۔۔۔
ہاہاہا۔۔۔۔۔۔۔یہی تمہارے حق میں بہتر ہے ۔۔۔۔
چلو اب۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حال:
بھاگ کر جاتے اس نے گیٹ کھولا اس کے گھر کی چابی اس نے بنوا رکھی تھی اور اس کے کمرے کی طرف گیا۔
منت بھی دوائیوں کے زیر اثر تھی۔۔۔۔۔اس گھر میں دو عورتیں تھی۔۔۔۔دونوں الگ الگ دکھوں کی ماری تھیں۔
اس نے اس کے کمرے کا دروازہ تیزی سے کھولا اور اس کے پاس گیا۔
وہ بیہوش تھی۔۔۔۔۔اس نے خاور کو کوسا۔۔۔۔جس نے اسے اس گھر کی زمہ داری پر رکھا تھا۔
اس نے ربائیشہ کو باہوں میں اٹھایا۔۔۔۔اس کا چہرہ اور پورا جسم پسینے سے پھیگے تھے۔۔۔کیونکہ بتی نہیں تھی وہاں۔۔۔۔۔
اس نے اس کے چہرے سے پسینہ اپنے ہاتھوں سے صاف کیا۔۔۔۔۔۔
وہ جو اس سے دور تھا اس کی خاطر آج اسے اس حالت میں دیکھتے الٹے پاؤں دوڑا آیا تھا۔۔۔۔۔اس کے بال پسینے سے گلے پر چپکے تھے اس نے ہاتھ سے سب صاف کیا اور اسے گود میں اٹھاتے باہر لے کر نکلا۔
گاڑی ہسپتال جا کر روکی۔۔۔۔اس کے چہرے کے تاثرات تنے۔۔۔۔نائٹ ڈیوٹی پر موجود نرسز کی ٹانگیں کانپی۔۔۔۔
ڈاکٹر۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹرز۔۔۔۔کہاں ہیں ۔۔۔۔
سر نائیٹ ڈیوٹی پر ایک ہی ڈاکٹر ہیں وہ اپنے کیبن میں آرام۔۔۔۔نرس نے بتایا۔
بلا کر لاؤ سالے کو۔۔۔۔یہاں آرام کرنے آئے ہیں ۔۔۔۔عوام مر جائے یہ اندر آرام ہی کرتے رہ جائیں گے۔۔۔۔۔حکومت پیسہ کس لیے دے رہی ہے تم لوگوں کو وہ چیخا۔۔۔۔وہاں کا عملہ بھی اب چوکنا ہو چکا تھا۔
درید یزدانی کو کون نہیں جانتا تھا۔۔۔۔۔وہ سرکاری ہسپتال تھا۔۔۔۔۔آدھے مریض نیچے بستر ڈالے کھانس رہے تھے تو آدھے بینچوں پر اوندھے پڑے تھے۔
اسے یہی ہسپتال قریب لگا تھا لیکن یہاں کے حالات دیکھتے اسے نئے سرے سےغصہ آیا تھا۔
اس نے پرائیویٹ وارڈ میں اس کو لٹایا اور نمبر ملایا۔۔۔۔
میرے جانے کے دس منٹ کے بعد یہاں میڈیا آنی چاہیے۔۔۔۔۔۔اس وقت کے تمام ڈاکٹرز پر پرچہ کرواؤ اور بھاری جرمانہ بھی۔۔۔۔۔۔وارڈز کو صاف کرواؤ اور مریضوں کو وہاں منتقل کرو۔۔۔۔۔اس نے فوراً حکم صادر کیا۔
پہلے وہ ایسا کہاں ہوا کرتا تھا۔۔۔۔یہ سب اس شخصیت نے کیا تھا جو سامنے بے سدھ پڑی تھی۔
اپنے ڈاکٹر کو بولو اپنے سالوں کی ڈگری کو ضائع نہیں کرنا چاہتا تو دو سیکنڈ سے پہلے پہنچے۔۔۔۔
اس نے کہا تھا تو ڈاکٹر اگلے ہی منٹ وہاں موجود اس کا چیک اپ کر رہا تھا۔
یہ بھاری مقدار میں دوا لے رہی ہیں جو ان کے لیے کافی نقصان دہ ہے ۔۔۔۔۔کچھ دوائیں تو ان کو لینی ہی نہیں چاہیئے جو یہ باقاعدگی سے کھا رہی ہیں۔۔۔۔۔
دوا کے اوور ڈوز کی وجہ سے ان کی طبیعت خراب ہوئی ہے۔۔۔اس نے ڈرتے سب باری باری بتایا۔
حل بتاؤ۔۔۔۔۔
ان کی دوا کو مختصر کریں۔۔۔۔جو میں لکھ کے دے رہا صرف وہی اور ایک اوپر گولی بھی نہیں۔۔۔۔۔ڈاکٹر نے اسے لکھ کر پرچی تھمائی۔
آج ساری رات میں یہ تمام مریض دیکھو۔۔۔۔آج رات مطلب آج رات۔۔۔۔نہیں تو صبح تمہاری ڈگری کے باوجودِ تمہیں کوئی ہسپتال نوکری نہیں دے گا۔۔۔۔۔
اسے حیرت تھی ۔۔۔۔سرکاری ہسپتال کے حالات دیکھ کر۔۔۔۔۔وہ پاور رکھتا تھا اس لیے اس کی بیوی کو چیک گیا تھا نہیں تو وہ بھی یونہی سڑکوں پر رلتا یا پرائیویٹ ہسپتالوں کی فیس بھرتا عام عوام کی طرح۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے نکلتے ہی میڈیا آ چکی تھی۔۔۔۔باقی کا کام کل پر ڈالتے وہ اسے اپنے گھر لے آیا تھا جانتا تھا اب وہ صبح سے پہلے نہیں جاگنے والی تھی۔
اور صبح ہونے سے پہلے اسے واپس اسے اس کے جاگنے سے پہلے چھوڑ کر آنا تھا۔
تب تک کے لیے اسے اپنے بستر پر لٹاتے وہ پاس بیٹھا۔۔۔۔۔اسے دیکھا جس کا چہرہ مرجھا چکا تھا۔۔۔۔
ربائشہ حق میں زندگی بھر اپنے گناہ پر پشیمان رہوں گا لیکن تم معافی نہیں دو گی۔۔۔۔۔میرا وجود تمہاری روح کا خواہشمند ہے۔۔۔۔۔سننے میں مضاحکہ خیز لگے گا لیکن یہی حقیقت ہے۔۔۔۔جاگتے سوتے تمہیں خود سے قریب دیکھنے کی خواہش کی ہے دل نے۔۔۔۔۔لیکن اب یہ ناممکن سا لگتا ہے۔۔۔۔شاید جب یہ سانسیں اس جسم کا ساتھ چھوڑ دیں تو تم مجھے معاف کردو۔۔۔۔۔۔حقیقت جان جاؤ۔۔۔۔۔
وہ اس کے پاس بیٹھا۔۔۔۔۔۔بال اس کی گردن سے ہٹائے جو پسینے سے چپکے تھے ہاتھ سے صاف کرتے اس نے گہرا سانس بھرا۔۔۔۔۔اس کے قدموں کے پاس بیٹھتےاس کے پاؤں پر نشان دیکھا جو ابھی پرسو کانچ ٹوٹنے کی وجہ سے ہلکا سا لگا تھا۔
بینڈیج لگاتے اس نے اس کے پاؤں کو سہلاہا۔۔۔
کسی شام میرے ہم نفس
بھولا کر سبھی رنجشیں
کچھ وقت ہمارے نام پر
ہمیں اس طرح سے عطا کر
از قلم خود۔
بنا کپڑے تبدیل کیے وہ اس کے ساتھ لیٹ گیا۔۔۔۔۔۔دل ہمک رہا تھا اس کی قربت کو لیکن ۔۔۔۔۔
دل پر بندھے سبھی پہرے ہٹاتے اس نے اس کا رخ خود کی طرف موڑا اور اسے حصار میں لیا ۔۔۔۔
ایسا کرتے اس کے دل کی دھڑکنوں کی رفتار دگنی ہو گئی تھی۔
آج پہلی بار اسے حصار میں لیا تھا۔۔۔۔اس کی آنکھیں ہلکی نم ہوئیں۔۔۔۔وہ رونا نہیں چاہتا تھا۔۔۔۔
افسوس ہوتا ہے مجھے خود پر ۔۔۔۔۔۔بے حد افسوس کے میں سب ہوتے ہوئے بھی خالی ہاتھ ہوں۔۔۔۔تمہارے پاس ہونے کا احساس میرے دل کو لرزا رہا ہے کہ آنکھ کھولوں گا تو تم نہیں ہو گی میرے پاس،میرے ساتھ۔۔۔۔۔
کیوں ۔۔۔۔۔؟ میں ہی کیوں۔۔۔۔۔۔؟
میری زندگی کی آخری خواہش ہے تمہارا ساتھ ربائشہ درید یزدانی۔۔۔۔۔آخری خواہش اس نے کہتے اس کے سر پر بوسہ دیا۔۔۔۔
اس ایک بوسہ میں کیا کچھ نہ تھا۔۔۔۔۔محبت، طلب،شدت،تشنگی،خوف،شرمندگی،ڈر۔۔۔۔۔
تمہیں قریب سے دیکھنے کی شدت روزبڑھتی جا رہی تھی اور دیکھو آج تم پاس ہو تو میرا دل میرے قابو میں نہیں ہے ۔۔۔۔۔اس نے کہتے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں تھاما۔
رابی۔۔۔۔۔۔۔اس نے کہتے اسے پکارا۔۔۔۔ایک آنسو آنکھ سے گرا تھا۔۔۔۔۔
اے میرے رب۔۔۔۔۔۔تو کہتا ہے نا اپنی اوقات دیکھ کر نہیں تیری حیثیت دیکھ کر مانگوں۔۔۔۔
تو آج میں تجھ سے ربائشہ حق کو مانگتا ہوں۔۔۔۔۔اس نے کہتے اسے ساتھ لگایا اور اس پر حصار تنگ کیا جیسے اس نے اسے چھوڑا تو وہ دور ہو جائے گی پھر سے۔
دعا تو کوئی بھی رد نہیں ہوتی لیکن اس پر کن کی مہر کب لگے یہ رب العالمین کے سوا کون جانتا ہے۔۔
