Shiddat-e-Talab by Suneha Rauf NovelR50408

Shiddat-e-Talab by Suneha Rauf NovelR50408 Shiddat-e-Talab Episode 28 (Last Episode Part 1)

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shiddat-e-Talab Episode 28 (Last Episode Part 1)

Shiddat-e-Talab by Suneha Rauf

رُک جاؤ۔۔۔۔

میں چلا دوں گی گولی۔۔۔۔۔

رکو۔۔

میں کہہ رہی ہوں۔۔۔

درید نے آگے بڑھتے اس کے ہاتھ سے کن چھینی اور اسے دھکا دیا۔۔۔۔

میرا دل شدت سے چاہتا ہے کہ اپنے اس بھاری ہاتھ کی زور آزمائی تمہارے چہرے پر کروں لیکن کیا کروں میرا دین اجازت نہیں دیتا اور تمہارے لمس سے اپنا ہاتھ گندا نہیں کرنا چاہتا۔

جلد ملیں گے! اس نے کہتے اشارہ کیا تو اسے گاڑی میں بٹھایا گیا۔

درید واش روم کی طرف بڑھا جہاں سے اب اس کے بیٹے کے رونے کی آواز آرہی تھی۔

اس نے آگے بڑھتے اسے گود میں لیا اور روتے ہوئے کو جابجا چومنے لگا۔۔۔۔۔۔

اس نے جان لیا تھا کہ اولاد سے انسان کو آزمایا جاتا ہے۔۔۔۔حازق کے سر پر ہلکی سی چوٹ تھی اور کپڑے دو دن پرانے جس سے بدبو آرہی تھی۔

وہ روتا بلکتا ٹانگیں چلا رہا تھا نا اس کا ڈائپر بدلا گیا تھا اور دودھ اسے شاید چند قطرے پلائے گئے تھے۔

وہ اسے لیتا واپس اپنی گاڑی میں بیٹھا۔۔۔اس کے چہرے پر پھونک مارتا وہ پاگل ہونے کو تھا۔

دودھ کا انتظام کرتے اس نے اسے پلانا چاہا تھا لیکن شاید وہ بچہ بھی اب اپنی ماں کی دید کا پیاسا تھا۔

جتنی تیز ہو سکتا ہے چلاؤ۔۔۔سارے سگنلز توڑ دوں اس نے حکم جاری کیا اور اگلے کچھ گھنٹوں میں انہوں نے لاہور میں قدم رکھا تھا۔

سر اس کا کیا کرنا ہے؟

اسے باقی قیدیوں کے ساتھ مت رکھو علیحدہ رکھو اور لیڈی کانسٹیبل کو بولو جتنا غصہ ہے سب نکال دے آج لیکن وہ مرنی نہیں چاہیے۔

اب آپ گھر جائیں گے؟

ہاں۔۔! یک لفظی جواب دیتا وہ اپنے گھر نہیں باسط ضیاء کے گھر آیا تھا۔

اندر داخل ہوا تو رباب نے فوراً حازق کو تھاما اور اسے چومنے لگی جو سو گیا تھا لیکن اب پھر جاگتا رونے لگا تھا

حاز۔۔۔۔

حازق۔۔۔۔اس کے پپڑی زدہ ہونٹوں سے ایک ہی نام برآمد ہوا تھا۔۔۔۔

رابی کو پکراؤ جا کر۔۔۔۔۔وہ پاگل ہونے کو ہے۔۔۔اسے سنبھالو درید باسط نے رباب سے حازق کو لیتے درید کو دیا اور اسے جانے کا کہا تو وہ چلا گیا۔

دروازہ کھولتا وہ اندر داخل ہوا جو بمشکل تھوڑا سا اٹھ کر بیٹھی تھی۔

بکھرا حلیہ۔۔۔پیٹ پر پٹی، سرخ آنکھیں جو دن جگے کی گواہ تھیں، بکھرے بال اور پپڑی زدہ ہونٹ۔

درید قدم قدم چلتا اس کے پاس آیا اور حازق کو ایک نظر دیکھا وہ دونوں ماں بیٹا ایک دوسرے کے لیے تڑپ رہے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حازق کو اس کی گود میں دیا تو اس کے منہ سے سسکی برآمد ہوئی لیکن ساری درد کو پسِ پشت ڈالے وہ اسے اپنے ساتھ لپٹا کر چوم رہی تھی۔

درید نے نم ہوتی آنکھوں سے یہ منظر دیکھا اور واش روم میں بند ہو گیا۔

واپس آیا تو وہ اس کے کپڑے اتار رہی تھی جس میں خاصی مشکل ہو رہی تھی۔

آس کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر گر رہے تھے۔۔۔حازق کو ریشز ہوئے تھے اس کا جسم ہلکا سرخ تھا۔

رباب اندر آئی۔۔۔اس کے کپڑے جو اس نے نئے خریدے تھے حازق کے لیے وہ دیے اور چلی گئی۔

ربائشہ نے اسے اچھے سے صاف کیا، بنا ڈائپر لگائے اس کے کپڑے بدلے اور اسے لپٹائے رکھا۔

دیر کر دی آپ نے؟

حال دیکھا ہے میرے بیٹے کا آپ نے ۔۔؟ چند لمحوں بعد اسکی آواز درید کے کانوں میں پڑی۔

درید نے اسے جس نگاہوں سے دیکھا وہ خاموش ہو گئی۔۔۔۔

رباب ان کا کھانا لیے اندر ہی آگئی، اب وہ سب خاموشی سے کھانا کھا رہے تھے۔۔۔ربائشہ نے کھایا کم تھا اور اپنے بیٹے کو زیادہ دیکھا تھا۔

باسط نے اپنے کپڑے اسے دیے جسے بنا کچھ کہے وہ تھام گیا اس وقت لفظ معنی نہیں رکھتے تھے۔

وہ چینچج کر کے آ کر اپنے بیٹے کو ساتھ لٹاتا لیٹ گیا۔۔۔اور آنکھیں موند لیں۔

ربائشہ کئی لمحیں ان دو لوگوں کو دیکھتی رہی جس میں اس کی جان بستی تھی۔

درید نے صبح بھی اس سے کوئی بات نہ کی تھی ۔۔اس کی دوا اسے دیتے اس نے حازق کو چوما اور نکل گیا۔

آج چھٹی کر لیتے۔۔۔باسط نے کہا۔

نہیں! کام بہت ہے ۔۔۔

اس کا کیا کرنا ہے اب؟

بس موت کے بدلے موت ہوتی ہے۔۔۔۔وہ سخت لہجے میں کہتا رباب کو ساتھ لگاتا نکل گیا۔

وہاں جاکر اس نے ساری صورتحال کو دیکھا اور اس عورت کے پاس گیا۔

پروین حق کا نقشہ بگاڑ دیا گیا تھا۔۔۔۔وہ سامنے کرسی پر بیٹھا اور اسے دیکھنے لگا۔

مجھے معاف۔۔۔

خاموششش۔۔۔۔ایک لفظ نہیں!

مرنے والے موت سے پہلے رب کو یاد کیا کرتے ہیں تم بھی کر لو!

میر۔۔۔میری۔۔۔با۔۔ بات۔۔۔۔

درید نے اپنے پیچھے کھڑی لیڈی کانسٹیبل کو بلایا۔۔۔ایک ڈنڈا چاہیے۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس کے سونے کے بعد وہ آہستہ سے اٹھا اور الماری سے لفافہ نکال کر اس کے بستر کے قریب رکھا اور باہر نکل گیا۔

میں تمہاری نظروں کی وہ بے یقینی بھولا نہیں ہوں منت شاہ لیکن تمہیں سزا دینے کا جب بھی سوچتا ہوں میرا دل مجھے دغا دے جاتا ہے۔

اس گھر کے قریب گاڑی روکتے وہ اندر داخل ہوا جہاں عمر اور تاشہ موجود تھے۔

وہ جا کر بیٹھ گیا عمر نے سنجیدگی سے اسے دیکھا۔

اب کیا کرنا چاہ رہے ہو؟

تمہاری بہن بتائے گی سب۔۔۔پرسکون لہجہ۔

کیا سب۔۔۔۔کیا اس نے تمہیں ڈرایا ہے؟ تم پر کسی چیز کا دباؤ نہیں ہے تاشہ۔۔۔۔میں تمہارا ساتھ ہمیشہ دوں گا اس سے مت ڈرنا تم۔

اسے بولنے دو۔۔۔تبریز شاہ نے کہا تو وہاں خاموشی چھا گئی۔

کئی سالوں سے یہ بات خود میں چھپائے بیٹھی ہوں سمجھ نہیں آتا کیسے بتاؤں، کبھی سوچا ہی نہیں تھا کہ زندگی مجھے اس طرح سے آزمائے گی جس شخص کو میں نے زلیل و رسوا کیا قسمت نے مجھے اس کے آگے جھکا دیا۔

تاشہ۔۔۔۔حقیقت بتاؤ۔۔۔اس کے جزبات سے اچھے سے آشنا تھا وہ۔۔اسی لیے نہیں چاہتا تھا وہ کچھ کہے۔

اس دن جو سب ہوا تھا۔۔۔وہ سب میں نے کیا تھا۔۔تبریز شاہ کے گھر پر جانا اور وہ سب۔۔۔

میں نے پلین تیار کیا تھا ان سب کا مقصد صرف تبریز شاہ کو اس حال تک پہنچانا تھا کہ وہ مجھے قبول کر لے۔

میں نے تبریز شاہ کے آنے جانے پر نظر رکھی۔۔۔منت ان دنوں یونیورسٹی نہیں آرہی تھی اور تبریز شاہ کے بس کچھ آخری دن تھے یونیورسٹی مجھے سب تبھی کرنا تھا۔

میں نے کیفے میں تبریز شاہ کو بیٹھے دیکھا تو مسکراتی اس کے پاس گئی اور ساتھ بیٹھنے کی اجازت مانگی۔

تبریز شاہ آپ کی کافی مدد کیا کرتا تھا مالی طور پر تو مجھے بھی شاید اس کی مدد کی ضرورت ہو اسی لیے بیٹھنے کی جازت دے دی۔

میں نے اس سے اپنے سبجیکٹ میں مدد مانگی تھی اس کے مطابق اس دن میرا ٹیسٹ تھا اور مجھے دو ٹاپکس نہیں آتے تھے جو تبریز شاہ نے مجھے سمجھائے۔

بدلے میں میں نے ضد کی کہ وہ مجھ سے کافی پیے کیونکہ اس نے اسے اتنا اچھا سمجھایا ہے۔۔۔تبریز شاہ نے منع کیا لیکن میں ڈٹی رہی تو اسے ماننا پڑا۔

میں اپنے پلین میں کامیاب ہوتی اس کی کافی میں نشہ آوار گولیاں ملا کر اسے پلا چکی تھی اور چھپ کر اس کی گاڑی تک اس کے پیچھے آئی۔

رکشے میں اس کا پیچھا کیا اور اس کے فلیٹ میں پہنچی اندر جانا ایک مرحلہ تھا لیکن چونکہ تبریز شاہ خود بھی نشے میں تھا اس لیے دروازہ لاک نہ کیا تھا اس نے۔

میں اندر گھسی اور چھپ گئی۔۔۔۔تبریز شاہ بھاری ہوتے سر کو سنبھالتے حیران تھا اپنی حالت پر اور دروازے کا دھیان آتے ہی لاک لگا کر آیا اور بستر پر گر گیا اس کے بعد اسے کچھ بھی یاد نہ تھا۔

میں نے۔۔۔۔۔وہ کہتے خاموش ہوئی اور جھکا سر مزید جھکا دیا۔

پھر۔۔؟ عمر کی آواز کسی کھائی سے آتی محسوس ہوئی۔

میں نے اس کی شرٹ اتار کر خود پہنی اور پھر اپنے آپ کی حالت خراب کر کے آپ کو وہاں بلایا اور آگے آپ سب جانتے ہیں۔

وہاں کئی لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی۔

تبریز شاہ کھڑا ہوا تو عمر ہوش میں آیا۔۔۔۔دونوں بہن بھائیوں کے سر آج جھکے تھے۔

عمر قدم قدم چلتا تاشہ کے قریب گیا اور چٹاخ۔۔۔۔پے در پے کئی تھپڑ اسے دے مارے۔

مجھے شرم آتی ہے یہ کہتے ہوئے کہ تم میری بہن ہو تاشو۔۔۔۔۔

بھائی۔۔۔

مجھے میری سزا مل گئی۔۔۔میں نے اس شخص کو پاگلوں کی طرح چاہا ہے۔۔۔۔پاگلوں کی طرح۔۔۔میری محبت عشق میں کب بدلی مجھے اندازہ نہ ہوا وہ روتی اپنے بال نوچتی کہنے لگی۔

عمر کو اپنی بہن پر ترس آیا۔۔۔تو اسے گلے لگا لیا۔۔۔اب وہ سمجھا تھا اس کے شادی نہ کرنے کا مقصد۔۔۔قسمت نے اس سے بدلہ لے لیا تھا اسی شخص سے محبت کروا کر جس کی وہ گناہگار تھی۔

بھائی۔۔۔۔۔

بھائی۔۔۔اسے بولیں مجھ سے ۔۔

مجھ سے شادی کر لے۔۔۔

مجھے اپنا نام دے دے پھر چاہے کبھی میرا منہ تک نہ دیکھے۔۔۔بھائی اسے بولیں مجھ پر ترس کھائے۔

تبریز شاہ اٹھ کھڑا ہوا۔

آج کے بعد میں تم دونوں سے کبھی نہیں ملنا چاہوں گا اور یقین کرتا ہوں مجھ سے میری زندگی سے اور میری بیوی سے تم دونوں دور رہو گے، میں چاہتا تو کوئی ایکشن لے سکتا تھا لیکن اسے اس کی سزا مل گئی اور جو شخص یک طرفہ محبت کا مارا ہو اس کے لیے کوئی سزا اس سے بُری نہیں ہو سکتی کہ اس کا محبوب اس سے محبت نہ کرتا ہو۔

میں معافی۔۔۔

میں بھول جاؤں گا سب اس گھر سے قدم باہر نکالتے ہی۔۔۔خدا حافظ۔

بھائی۔۔۔بھائی۔۔۔اسے بولیں مجھ پر ترس کھائے۔۔۔میری محبت کو یوں رسوا نہ کرے۔۔۔وہ چیخنے لگی۔

شاہ۔۔۔۔عمر کی آواز پر اس کے قدم رکے لیکن اس نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔

بولو! ایک آخری بار۔

کیا تم ۔۔۔۔۔؟ آگے کہنے کی ہمت نہ ہوئی۔۔۔اکلوتی بہن یوں ترپ رہی تھی وہ ایک بار بھیک مانگنا چاہتا تھا اس کے لیے۔

یہیں رک جاؤ۔۔۔!

آگے ایک لفظ نہیں! میری بیوی سے آگے مجھے کچھ نہیں اور اس سے بے وفائی تو مر بھی نہیں منظور مجھے۔۔۔اس کی وجہ سے اسے تکلیف پہنچی ہے میں نے اس کی آنکھوں میں خود کے لیے بے یقینی دیکھی ہے جو مجھے قطعاً برداشت نہیں۔

میں نے اسے معاف کیا ۔۔لیکن اتنی حیثیت کوئی عورت نہیں رکھتی اس دنیا میں جو منت شاہ کی برابری کر سکے وہ کہتا باہر نکل گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اوکے سر!

ایسا ہو کہ جب اس کو یہ لگے تو اس کی چیخیں باقی تمام قیدیوں تک جانی چاہیے۔

اس نے کہا تو پروین حق کا سانس سوکھا۔۔۔اس نے آگے بڑھتے اس کے پاؤں پکڑنا چاہے وہ کھڑا ہوتا یک دم دو قدم دور ہو گیا جب لیڈی کانسٹیبل واپس آئی۔

چلو شروع ہو جاؤ!

پہلے قمر پر۔۔۔۔اس کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹتے ٹوٹتے بچنی چاہیے۔۔۔اس نے کہا تو لیڈی کانسٹیبل نے ایسا ہی کیا۔

اس کی چیخ یقیناً اس تھانے میں موجود تمام قیدیوں نے تو سنی ہی ہو گی۔

اب تک آواز نہیں گئی۔۔۔اب پیٹ میں مارو۔۔۔اس نے نیا حکم جاری کیا۔

اس کے پیٹ میں مارتے ہی اس کی ایک چیخ برآمد ہوئی۔۔۔

چچچ۔۔۔۔اس کے منہ سے خون نہیں نکلا۔۔۔اس نے کہا۔۔۔اس وقت اس کی نظر میں ربائشہ درید یزدانی کی وہ حالت تھی جو اس عورت نے کی تھی۔

لیڈی کانسٹیبل نے پھر سے وار کیا لیکن اب کی بار وہ بے دم ہوئی تھی لیکن خون نہیں نکلا تھا اب بھی۔

دم نہیں ہے تم میں؟

اچھا چلو اب سر پر مارو۔۔۔وہاں نشان پڑنا چاہیے ہے۔۔۔۔حاشق کے سر کے نشان کو یاد کرتے وہ بولا۔

سر یہ مر جائیں گی۔۔۔

اچھااا۔۔۔۔۔۔لیکن اس کے منہ سے جب تک خون نکل کر اس کی گردن پر نا بہہ جائے اس پر وار کرتی رہو۔۔۔ہاتھ رکے تو تمہیں اس حالت میں پہنچا دوں گا۔

وہاں موجود لوگوں نے اس کا یہ وحشت زدہ روپ پہلی بار دیکھا تھا۔

وہ تو ایک سلجھا ہوا شخص تھا۔۔۔لیکن شاید ہر مرد اپنے پیار کے لیے ایسا ہی ہوتا ہے۔

اس کے منہ سے خون نکلتے ہی اس لیڈی کانسٹیبل نے اسے چھوڑا تھا اور اس کے مرنے کی خبر دی تھی اسے۔۔۔ جسے سنتے وہ اٹھ کھڑا ہوا تھا گھر جانے کی لیے۔

ان آدمیوں جو اس کے ساتھ تھے۔۔۔۔ان نے ساتھ بھی یہی سلوک کیا تھا اس نے۔۔۔اس آدمی کو تو سخت سزا دی تھی جس نے وار کیا تھا ربائشہ پر۔

شام کے سات وہ گھر میں داخل ہوا۔۔۔۔۔اور سیدھا اپنے کمرے میں گیا۔

چینچ کرنے کے بعد وہ باہر آگیا کھانا کھایا اور پھر آرام کرنے چلا گیا۔

ان سب میں اس نے ربائشہ کو بلانا تو دور دیکھنا بھی گوراہ نہ کیا تھا۔

درید؟ ربائشہ نے اسے لیٹتے دیکھ پکارا لیکن جواب نداد۔

اس کا دل کئی ٹکروں میں تقسیم ہوا۔۔۔۔اس نے حازق کو بے بی کوٹ میں ڈالا اور اس کے پاس ہوئی۔

مجھے سونا ہے۔۔۔۔اور تم بھی سو جاؤ! اسکی سنجیدہ آواز پر وہ تھمی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

درید ۔۔پلیزز۔۔۔۔

آپ مجھے ازیت دے رہے ہیں۔۔۔

اچھا ۔۔اور اس ازیت کا کیا جو تمہاری وجہ سے میں نے اور میری اولاد نے اٹھائی۔

وہ میرا بھی بیٹا ہے۔۔۔۔وہ احتجاجاً بولی۔

اوو۔۔۔یاد ہے تمہیں کہ وہ تمہاری بھی اولاد ہے یا یہ یاد ہے کہ تک شادی شدہ ہو اور ایک عدد شوہر بھی ہے تمہارا جس نے کچھ کہا تھا تم سے۔۔۔۔

میں ۔۔۔!

تمہاری کوئی بھی بات اور صفائی اس وقت فضول ہے۔۔۔۔

میں پشیمان ہوں۔۔۔وہ دھیمے سے بولی تو وہ اٹھ کھڑا ہوا۔

سامنے پڑا شیشے کا واز اٹھایا اور اسے پکڑایا۔۔۔۔

اسے نیچے پھیںنکو۔۔۔۔۔۔

کیا۔۔۔لیکن کیوں؟

جو کہا ہے وہ کرو۔۔۔

یہ ہمارا گھر نہیں ہے درید۔۔۔۔

تمہارے بھائی کو اس کی قیمت ادا کر دوں گا میں۔۔۔

لیکن ربائشہ کو حرکت نہ کرتے دیکھ۔۔درید نے وہ شیشے کا واز اٹھا کر نیچے پھینکا جو انگنت ٹکروں میں تقسیم ہو گیا۔۔

جس کی آواز سے حازق بھی رونے لگا۔۔۔۔درید نے آگے بڑھتے اسے تھاما اور ربائشہ کو دیکھا۔

اسے جوڑو۔۔۔۔اور یہ واپس اپنی حالت میں آگیا تو میں مان جاؤں گا تم پشیمان ہو اور معافی مل جائے گی تمہیں وہ کہتا باہر نکل گیا۔

ساری رات اس نے دوسرے کمرے میں گزاری اور ربائشہ نے اپنے دکھتے جسم کے ساتھ وہ ٹکڑے اکٹھے کیے اور انہیں جوڑنے لگی۔

اسکی بات کا مطلب وہ سمجھتی تھی۔۔۔اس نے اس کا دل بھی ایسے ہی ٹکروں میں تقسیم کیا تھا جسے اسے جوڑنا تھا۔

اس کے پیٹ میں شدید درد تھا۔۔۔۔جس حصے کو جوڑتی وہ دوبارہ ٹوٹ جاتا ۔۔۔وہ تھک کر اسے چھوڑتی لیٹ گئی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر گرنے لگے۔

درید کچھ دیر بعد اسے دیکھنے آیا۔۔۔اور اسے ایسے ہی پڑے دیکھ ہونٹ بھینچے اختیاط سے سیدھا کر کے اسے لٹایا اور حازق کو ساتھ لٹاتے ان دونوں کے ماتھے پر بوسہ دیا۔

ہر غلطی کی سزا ہوتی ہے رباہشہ درید یزدانی اور تمہاری سزا میری ناراضگی ہے، میرا نظرانداز کرنا ہے میں جانتا ہوں اس سے بڑی سزا تمہارے لیے کچھ نہیں ہو سکتی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ اٹھی اور اپنے آس پاس دیکھا جہاں کوئی نہ تھا۔۔۔ساتھ پڑی میز پر لفافہ دیکھا تو اسے چاک کیا۔

اندر یو ایس بی تھی اسے چلایا جس پر تاشہ عمر کی بہن کا بیان تھا۔۔۔سب سنتے اس نے خاموشی سے وہ یو ایس بی اتاری اور توڑ کر پھینک دی۔

پھر گہری سانس بھری اور نیوز دیکھنے لگی کہ وہ اب تک نہ آیا تھا۔

خالد شاہنواز کو پاگل خانے منتقل کیا جا رہا تھا۔۔۔اس خبر نے اسے دھچکا پہنچایا تھا۔

وہ پاگل نہیں تھا یہ بات تو یقیناً سچ تھی لیکن کیوں؟

اس نے تبریز شاہ کا نمبر ملایا جو اٹھایا نہیں گیا تھا اور پھر دوپہر سے شام اور پھر رات ہو گئی لیکن اس کا کچھ پتا نہ تھا۔

رات کے دس بجے وہ گھر داخل ہوا تو منت نے سکون کا سانس لیا۔۔۔اس کے کپڑے نکال کر رکھے اور کچن میں کھانا گرم کرنے گئی۔

کھانا کھانے کے بعد وہ لیپ ٹاپ لے کر بیٹھ گیا تو منت بھی ساتھ بیٹھی۔

آپ اپنی امی کو معاف کر دیں۔

میں نے تم سے مشورہ مانگا ہے سرد لہجہ۔

لیکن۔۔۔۔

خاموش رہو۔۔۔

وہ خاموش ہو گئی۔۔۔ابھی صبح کو اس نے پوچھا تھا کہ وہ اس سے ڈرتی کیوں نہیں ہے اب اور اسی لمحے وہ ڈر گئی تھی۔

آپ کے ڈیڈ۔۔۔کیا وہ سچ میں پاگل ہو گئے ہیں؟

کل انہیں پھانسی دی جائے گی لہجے میں کوئی لچک نہ تھی۔

ان کا جرم اتنا بڑا تھا؟؟۔۔۔۔حیرت ہی حیرت تھی۔

وہ قاتل تھا۔۔۔ددید کی ماں کا اور۔۔۔۔۔

اور؟

وقار حسین کا۔۔۔ بالآخر اس نے کہہ دیا کبھی تو کہنا ہی تھا، لیکن اس کی طبیعت اگر خراب ہو جاتی تو؟

کون؟ وہ جان کر بھی نہیں جاننا چاہتی تھی۔

تمہارے بابا!

ان کو تو ہارٹ اٹیک۔۔۔۔۔پھر خاموشی چھا گئی۔۔۔یعنی تبریز شاہ نے اس سے یہ بات چھپائی تھی۔

وہ اٹھی اور چند قدم دور ہوئی۔۔۔۔

تمہاری طبیعت خراب نہیں ہونی چاہیے ہے۔۔۔اسی لیے نہیں بتایا ۔۔تمہیں خوش ہونا چاہیے کہ تمہارے بابا کا قاتل اپنے انجام کو پہنچ جائے گا کل۔

آپ نے جھوٹ۔۔۔آنسو پلکوں کی باڑ توڑ کر گرنے لگے۔

تب ٹھیک وقت نہیں تھا۔۔۔۔اور تب نا مجھے قاتل کا پتا تھا۔۔۔۔اب جب پتا تھا تو سب ختم کر دیا۔۔ہر کوئی اپنے انجام کو پہنچ گیا۔

رونا بند کرو فوراً منت شاہ۔

منت نے اس کے قریب جاتے اسے دیکھا تو شاہ نے لیپ ٹاپ چھوڑتے اسے گود میں بٹھاتے حصار میں لیا۔

کچھ دیر رونے کے بعد وہ نارمل ہو گئی تھی۔۔۔اس کے بابا کا قاتل اپنے انجام کو پہنچ گیا تھا۔۔۔وہ تبریز شاہ سے ناراض کیوں ہوتی۔۔۔وہ نہیں چاہتا تو اس آدمی کو کبھی سزا نہ ملتی وہ اس کے شرٹ کے بٹنوں سے کھیلتی سوچنے لگی۔

اب ٹھیک ہو زندگی؟ یہ نیا نام منت کو پسند آیا تھا دل و جان سے۔

میری طبیعت۔۔۔۔!

کیا ہوا ہے؟ وہ بوکھلا گیا۔

پتا نہیں مجھے اچھا محسوس نہیں ہو رہا تھا۔

اب کیسا لگ رہا ہے؟

ابھی ٹھیک ہے لیکن مجھے کھانا کھانا ہے۔

ابھی تو کھایا تھا میرے ساتھ۔۔۔حیرانی ہی حیرانی تھی۔

باہر سے کھانا ہے انڈے والا برگر۔۔۔

سیرسیلی! تبریز شاہ نے آئبرو اچکاتے اسے دیکھا جو ہونٹوں پر زبان پھیرتی اسے آنکھیں پٹپٹاتے دیکھ رہی تھی۔

کچھ اور کھا لو! کوشش کی گئی۔

نہیں وہی کھانا ہے۔۔۔وہ بضد تھی۔۔وہ اٹھا اور باہر نکل گیا۔۔۔اس کی بات کو رد نہیں کر سکتا تھا ویسے بھی اسکا موڈ ٹھیک کرنا چاہتا تھا۔

اس کے آگے اس کا انڈے والا برگر رکھا تو وہ فوراً اسے کیچپ میں ڈبو کر کھانے لگی۔

کھائیں گے؟

نہیں مجھے یہ سب اول فول کھانے کا شوق نہیں۔۔۔وہ کہتا اسے دیکھنے لگا جو اسپیڈ سے ایسے کھا رہی تھی جیسے کوئی لے لے گا۔

کوک بھی پینی ہے۔۔۔

بالکل نہیں! یہ بھی واپس لے لوں گا۔۔۔کھاؤ۔۔۔پھر دوا لینا اور سو جانا کیونکہ آنے والے دن تمہارے مشکل ہونے والے ہیں۔۔

کیوں؟

وہ سب بعد میں۔۔۔۔ اس کا چہرہ آہستگی سے ٹشو سے صاف کیا اور ٹیوب لگاتے اسے دس منٹ بعد دوا دی اسے لٹا کر پھر سے کام میں لگ گیا۔

شاہ۔۔۔

ہمممم۔۔

آئیم سوری۔۔۔۔۔وہ لڑکی جھوٹ۔۔۔

نو مور ڈسکشن۔۔۔اس نے کہا تو وہ سو گئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دوا دے دیں۔۔۔۔صبح اٹھ کر شاہ کو کہا اس نے۔

تمہارے ساتھ والے میز پر پری ہے لے لو ۔۔تبریز شاہ نے اسے بنا دیکھے کہا تھا۔

منت کو اس کا لہجہ بدلا بدلا سا لگا تھا لیکن اس کی غلط فہمی بھی ہو سکتی تھی۔

مجھے بھی دیں۔۔۔اسے جوس پیتا دیکھ اس نے کہا تو تبریز شاہ نے اسے نئے گلاس میں جوس نکال کر دیا تھا اپنا گلاس نہیں۔

منت نے اسے پھر سے دیکھا۔

مجھے شاپنگ کرنی ہے، کچھ کپڑے لینے ہیں۔

کارڈ لے لو جو پسند آئے لے لینا اب بھی اسے نہیں دیکھ کر جواب دیا گیا تھا۔

شاہ۔۔۔۔

مجھے دیکھ کر جواب دیں۔۔اور آپ کے گلاس میں پینا ہے میں ںے۔

مجھے جوٹھا پینا پسند نہیں۔۔۔منت نے حیرت سے اسے دیکھا اور اپنی کرسی کو اس کے ساتھ رکھتے بالکل اس کا ہاتھ تھاما۔

کیا ہوا؟ پریشان ہیں؟

نہیں!

تو پھر؟

کیا پھر؟

یہ لہجہ، یہ سب؟ کیوں؟

مجھ سے پوچھ رہی ہو کیوں؟

شاید میں نے تمہیں بتایا نہیں تھا تو چلو اب سن لو مجھے مجھ پر شک و شبات کرنے والے لوگ نہیں چاہیے، تم واحد عورت، واحد شخصیت ہو میری زندگی کی جسے میں نے سب مانا اور تم نے مجھ پر یقین نہیں کیا مجھ پر کسی اور کو فوقیت دی۔

شاہ۔۔۔۔

تم محبت کے بہت دعوے کرتی رہی ہو ماضی میں مسز شاہ لیکن ان پر پورا نہیں اتر پائی۔۔۔محبت میں محبوب پر آنکھ بند کر کے بھروسہ کیا جاتا ہے لیکن تم نے۔۔۔۔تم نے مجھے گناہگار ثابت کرنا چاہا۔

میں غلطی پر تھی۔۔۔میں معافی۔۔۔

بس کرو۔۔۔۔معافی جیسے لفظ ناجانے کس بیوقوف نے بنائے ہیں۔۔۔تم نے، تمہارے لہجے نے مجھے ازیت دی ہے۔

تم سے بہتر کون جانتا ہے زندگی کہ تم میرے لیے کیا ہو۔۔۔۔تبریز شاہ کی زندگی کا واحد اثاثہ ہو تم اور تم نے مجھے نہیں چنا۔۔۔ایک شخص جسے میرے دل نے چنا اس نے مجھے نہیں چنا وہ اٹھ کھڑا ہوا۔

شاہ پلیززز۔۔۔۔

رونا مت۔۔۔کیونکہ تمہارے آنسو کسی طور تمہاری سزا کو کم نہیں کریں گے۔

ٹھیک ہے میری سزا بتائیں۔! ہاں اس سے غلطی ہوئی تھی وہ سزا کی حقدار تھی۔

تم پورے دو ہفتے مجھ سے بات نہیں کرو گی میرے قریب نہیں آؤ گی، میرا کوئی کام نہیں کرو گی۔۔۔سمجھ لینا اس گھر میں تم اکیلی ہو۔

شاہہہہہہ۔۔۔۔۔۔!

اس نے اس کے قریب جاتے اس کے کارلر کو تھاما۔۔۔بے یقینی ہی بے یقینی تھی وہ ششدد رہ گئی تھی اس کی اس سزا پر۔

آپ ایسا نہیں کر سکتے ٹوٹا لہجہ تھا۔

“میں ایسا ہی کروں گا۔۔۔یہ سزا ہے تمہاری۔۔۔اس بے یقینی کی جو تم نے مجھے دکھائی۔۔۔تمہادی سزا موت تھی یاد ہو تو۔۔۔اور تمہاری موت یہی ہے مسز شاہ کے تمہیں میں میسر نہ ہوں” وہ کہتا اپنا کوٹ اٹھاتا باہر نکل گیا۔

وہ وہیں کرسی پر بیٹھ گئی اور سر میز پر ٹکا کر زار و قطار رونے لگی۔

مجھے تم سے محبت نہیں ہے! اس کی سسکیوں کی آواز چاروں طرف گونجنے لگی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مجھے واپس ہمارے گھر جانا یے۔۔۔صبح رباہشہ کی آنکھ کھلی تو وہ تیار ہو رہا تھا۔

اب ہم اس گھر میں کبھی واپس نہیں جائیں گے میں نے بیچ دیا ہے وہ۔

لیکن کیوں؟ وہ حیران تھی بے حد۔

اس گھر نے مجھ سے بہت کچھ چھینا ہے میں وہاں نہیں جانا چاہتا۔۔۔ہم واپس بابا والے گھر جائیں گے جہاں میری اچھی یادیں ہیں۔

اوکے!

ربائشہ نے خاموشی سے سر ہلایا کہ اب وہ اس کی مرضی کے خلاف کچھ نہیں کرنا چاہتی تھی۔

مجھے واش روم جانا ہے۔۔۔

درید اسے اختیاط سے لے کر گیا اور واپس آنے تک وہیں کھڑا رہا۔

رباب آئنٹمنٹ لگا دیتی ہے ابھی اچھا محسوس کرو گی دوا لینا ناشتہ کر کے ۔۔۔

نہیں اس کی طبیعت آج کچھ ٹھیک نہیں۔۔۔میں صبح باہر گئی تھی باسط دوا دے رہے تھے اسے۔

میں لگا دیتا ہوں۔۔۔درید نے اسے دیکھا۔۔۔دونوں کی نظروں کا زبردست تصادم ہوا تھا۔۔۔جسے درید ہٹا گیا تھا۔

اسے لٹاتے اس کی قمر پر ہلکے سے لگائی تھی اس نے۔۔۔اس کے لمس پر ربائشہ نے سانس روکا تھا۔

کچھ دیر ایسے ہی لیٹو۔

درید۔۔۔۔۔

ہم۔۔۔؟

ہم اپنے گھر کب جائیں گے۔۔۔رباب کی اپنی بھی طبیعت خراب ہے ہم کیسے ان پر ۔۔۔

میں سمجھ رہا ہوں۔۔۔لیکن ابھی تم وہاں اکیلی نہیں رہ سکتی حازق کو نہیں سنبھال سکتی اس حالت میں اس نے کہا تو وہ رونے لگی۔

میں نے رونے کا نہیں کہا ہے تمہیں ربائشہ۔۔۔

میرا دل کر رہا ہے۔۔۔۔اب اس پر بھی پابندی ہے۔۔۔

ہاں ہے ۔۔۔رونے پر پابندی ہے۔۔۔تمہارے۔۔۔تم دوبارہ مجھے روتی نظر نہ آؤ۔۔۔۔اس نے سختی سے کہا۔

لیکن مسلسل اسے روتا دیکھ اس کے پاس آیا لیکن خود کو کچھ شدید کرنے سے روکا کہ اس وقت مخالف کچھ بھی سہنے کی حالت میں نہ تھا۔

کیا مسئلہ ہے؟ کیا چاہتی ہو؟

آپ ۔۔آپ۔۔۔

آنسو صاف کرو ۔۔۔

ربائشہ کچھ کہہ رہا ہوں میں سمجھ آرہی ہے۔۔۔۔

آپ آج نہ جائیں۔۔۔۔

کیوں؟ کیوں نا جاؤں۔۔۔

مجھے درد۔۔۔۔

شام کو ملتے ہیں وہ کہتا اٹھ گیا۔۔۔لیکن دروازے کی طرف جاتے اس کے قدم ربائشہ کی سسکیوں سے رکے تھے۔

لمبی سانس خارج کرتے اس نے خود کو نارمل کیا اور واپس پلٹ کر آتے اسے سیدھا کر کے بٹھایا۔

اس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں تھامتے اپنی انگلیوں سے صاف کیا۔

ہزار شکوے اور ناراضگی سہی لیکن اس کا یوں رونا اسے قطعاً منظور نہ تھا۔