Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shiddat-e-Talab Episode 1

Shiddat-e-Talab by Suneha Rauf

“یہ لگائی تم نے میری قیمت درید یزدانی….؟”

یہ قیمت….؟ اس نے ہزیاتی کیفیت میں چلاتے کہا۔

“نکاح جیسے رشتے کی تو لاج رکھ لیتے…… حوس تو پوری کر لی تھی دنیا داری کے لیے ہی سہی چار دیواری فراہم کر دیتے” اس نے اپنے بال نوچتے کہا۔

“ہو گیا ڈرامہ….؟ تو نکلو….. یہ رقم دیکھ رہی ہو تمہاری اوقات سے زیادہ ہے یار”….. اس نے جھنجھلا کر کہا۔

اس نے ان نوٹوں کو دیکھا اور اس شخص کو جو وقت کا فرعون ثابت ہوا تھا اس کے لیے۔

“میں کچھ نہیں مانگوں گی تم سے…. بس اس چار دیواری میں رہنے دو”….. اس نے دھیمے لہجے میں کہا۔

“پاگل ہو؟

یہ رسق نہیں لے سکتا…… میرا باپ جان سے مار دے گا مجھے” وہ جو تب سے ریلیکس انداز میں صوفے پر بیٹھا تھا اٹھ کھڑا ہوا۔

“میں کہاں جاؤں گی اس وقت……؟”

کوئی ٹھکانہ نہیں ہے میرا اب کہ اس نے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا جہاں کوئی ندامت ڈھونڈنے پر بھی نہیں ملی تھی اسے۔

“رُبائشہ حق یہ میرا مسئلہ نہیں ہے….. جہاں مرضی جاؤ میری بلا سے…..”

“انہوں نے تمہیں پہچاننے میں غلطی کر دی ۔۔۔۔مجھے لگا ہی نہیں تھا کہ یہاں خود کی قیمت لگوا بیٹھوں گی…. اس نے خود پر گرے ان نوٹوں کو دیکھ کر کہا۔

تم محافظ نہیں ہو لٹیرے ہو میں یہ بات سب کو چیخ چیخ کر بتاؤ گی یزدانی…..”

“خبردار! ایک لفظ نہیں بولو گی تم…… آج سے تمہارے میرے راستے الگ…. میں تمہیں نہیں جانتا تم مجھے نہیں….. یہ سمجھو کہ ہم کبھی ملے ہی نہیں” اس نے قدم اس کی طرف بڑھاتے کہا۔

وہ کئی لمحے اسے دیکھتی رہی تھی….. وہ شخص تو انسانیت کے درجے سے بھی گر گیا تھا۔

میں نہیں جاؤں گی….. یہاں سے اس نے ٹرانس کی سی کیفیت میں کہا۔

“کتنی رقم اور لو گی پیچھا چھوڑنے کی اب کے اس نے اس کا دوپٹہ اس پر پھینکتے نخوت سے کہا” ۔۔۔۔

درید یزدانی نے اس بار عورت کو غلط طریقے سے جانچا تھا اور یہ کفارہ اسے مرتے دم تک ادا کرنا تھا اب۔

مجھے جانا بھی ہے اس نے گھڑی کو دیکھتے کہا۔

“اور کتنی قیمت لگاؤ گے اپنے ہی نکاح کی اپنی ہی بیوی کی” وہ قریب آ کر اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولی۔

نکاح، بیوی…؟

واٹ ربش….یہ سب تمہارے کہنے پر ہوا تھا تمہیں یاد تو ہو گا… میں نے نہیں بولا تھا آؤ نکاح کریں اس نے تمسخر سے کہا۔

“کسی کے کہنے پر بھی ہوا ہو میں بیوی ہوں تمہاری اب درید یزدانی مان لو اس بات کو……”

اُف…..! میں نہیں مانتا کسی رشتے کو…… اور قیمت دے دی ہے نکلو اب فوراً اس سے پہلے کہ مجھے گارڈز کو بلوانا پڑے اس نے اسے جھٹکے سے خود سے دور کرتے کہا۔

“اور چاہیے تو بتاؤ…؟” اس نے بیزارگی سے کہا۔

وہ وہیں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی یہ تھا اس کا نصیب….. ہاں شاید ان لڑکیوں کا یہی نصیب ہوتا ہے جن کے سر پر ماں باپ کا سایہ نہیں ہوتا۔

“ایک دن…… ایک دن درید یزدانی…… خدا میرا بھی ہے یاد رکھنا…..!”

………………

اُسے وہ دن یاد آیا جو اس سے اس کا سب چھین گیا تھا۔

وہ دیوار سے چپکی کھڑی تھی سامنے کا منظر واضح تھا جہاں اس کا باپ اپنی آخری سانسیں لے رہا تھا۔

اس میں اتنی ہمت نہ تھی کہ اپنے باپ کے قریب جاتی…. وہ دیکھتی رہی تھی اس مجسمے کو آخری ہچکی تک۔

سب ساکت ہو گیا تھا….. سب کچھ، کچھ نہیں تھا اردگرد۔

اس کی ماں لبوں پر شاطرانہ مسکراہٹ لیے کھڑی تھی اس نے بے یقینی سے انہیں دیکھا۔

بیشک وہ عورت کبھی اچھی نہیں رہی تھی ان کے ساتھ…. لیکن اتنا کون گر سکتا ہے اپنے ہی رشتوں کے ساتھ۔

اس کا تایا بھی وہیں موجود تھا….. جس کا بھائی چلا گیا تھا لیکن وہ وہیں بیٹھا شراب پی رہا تھا۔

اسے لگا اپنے باپ کے ساتھ آخری ہچکی اس نے بھی لی ہے….. ہاں سب ہی تو ختم ہو گیا تھا۔

زندگی آسان کبھی نہیں رہی تھی….. لیکن ایسی تو اس نے تصور بھی نہیں کی تھی….. اچھی زندگی کی خواہش شاید اس کی خواہش ہی رہ جانی تھی۔

چل بانو…… اب میرا انعام بھی میرے حوالے کر اس کا تایا بھی جھومتا اٹھا تھا۔

اس کی نظریں صرف اپنے باپ کی لاش پر تھیں لیکن کانوں می مختلف آوازیں بھی پر رہیں تھی۔

ہاں ہاں! رشیدے….. یہ تیری ہی ہے…… جب چاہے تو لے جا… اس کی ماں نے کہا تو اس نے جھٹکے سے سر اٹھایا۔

اسے سمجھ نہ آیا کہ زیرِ بحث کس کی زات ہے؟

وہ اور اس کی ماں کے علاوہ تھا کون وہاں اس وقت۔

آدھی قیمت تجھے بعد میں مل جائے گی جب اس بلبل پر ہاتھ صاف کر چکا ہوں گا….. پھر سالہ بیچ کر اسے پیسہ آدھا آدھا۔

اس عورت نے قہقہہ لگایا…… رشیدے بڑا کام کا بندہ ہے تو…. میں نہ کہتی تھی میرے ساتھ رہے گا تو سب سیکھ جائے گا۔

قیمت میں کمی نہیں آئی گی یہ یاد رکھنا….. بھئی اپنے ہیرے جیسی بیٹی دے رہیں ہوں تجھے…..

سب باتیں اس کے کانوں میں پر رہیں تھی لیکن مفہوم نہیں سمجھ آیا تھا اسے یا شاید وہ سمجھنا نہیں چاہتی تھی…..

اس کا زہن یہ سب قبول نہیں کر پا رہا تھا۔

ماما……. آپ یہ کیسے کر سکتی ہیں…؟ اس کے لب ہولے سے پھرپھرائے……

……………….

سر آپ کی چائے ٹھنڈی ہو گئی ہے دوبارہ گرم کر لاؤ؟

ہمم۔۔۔ سگریٹ آج پھر ہلکا سا اس کی انگلی کو جلا گئی تو اسے احساس ہوا ۔۔۔

سر چائے ٹھنڈی ہو گئی۔۔۔۔۔۔ملازم نے دوبارہ سے اپنا جملہ دہرایا۔

نہیں ۔۔۔۔۔ایسے ہی پی لوں گا اب عادت ہو گئی ہے تم جاؤ۔۔۔۔۔اس نے کہتے ایک نمبر ڈائل کیا۔

کہاں تک پہنچی تمہاری دو ٹکے کی ٹیم جس کا بہت بھرم مارا تھا تم نے۔۔۔۔۔؟

شاہو۔۔۔۔وہ کام کر رہی ہے ۔۔۔۔۔۔مل جائے گی وہ۔۔۔۔

“کس دن۔۔۔۔۔۔دن، تاریخ اور مہینہ بتاؤ اب کی بار تو یقین کروں گا تمہارے ان جھوٹے بہکاوں پر؟؟”

ہم پتا لگوا رہے ہیں ۔۔۔۔لوگوں کا کہنا ہے کہ اس کی شادی۔۔۔۔۔

“اس سے آگے کی بکواس نہیں سننی مجھے ۔۔۔۔۔۔۔تم سے نہیں ہو پائے گا۔۔۔۔واپس آؤ اور یہاں آ کر کام دیکھو اب کی بار اسے میں خود ڈھونڈو گا۔۔۔۔”

شاہو۔۔۔تُو کیسے۔۔۔۔۔تو وقت ضائع کر رہا ہے بس یار ۔۔۔۔اس پر ۔۔۔۔ایسا کیا ہے اس عام سی لڑکی میں ۔۔۔؟

“وہ عام سی لڑکی تبریز شاہ کا بہت نقصان کر گئی ہے جو اسے سود سمیت لوٹانا ہے۔۔۔۔اور جو کہا ہے وہ کرو۔۔۔۔”اور لائن کاٹ دی گئی تھی۔

چائے کو حلق میں انڈیلتے اس کے زہن میں ماضی کا ایک منظر گھوما۔

“تبریز شاہ۔۔۔۔۔اتنا حسن ہونے کے بعد بھی تم اپنی زندگی میں اس عام سی منت شاہ کو ڈھونڈتے رہ جاؤ گے۔۔۔”

“تمہاری خوش فہمی اور غلط فہمی دونوں ہیں یہ” اس نے اس کا بیگ زمین پر الٹاتے کہا۔۔۔

منت کی چیزیں زمین پر بکھر گئی ۔۔۔۔منت نے جلدی سے بکھری چیزیں سنںھالی۔۔۔۔کوریڈور میں کوئی نہ تھا۔۔۔۔۔اس وقت۔

اس کے بیگ سے نکلی تصویر کو دیکھ کر اس نے لب بھینچے۔۔۔

“کون ہے یہ؟؟”

“آپ سے مطلب۔۔۔۔۔”

منت نے انگلی سے اپنا چشمہ ٹھیک کرتے کہا اور اگلے لمحے اس تصویر کے کئی ٹکرے ہو چکے تھے تبریز شاہ کے ہاتھوں۔

“مجھے اس دنیا میں صرف ایک ہی شخص سے نفرت ہے بے انتہا نفرت اور وہ ہیں آپ مسٹر تبریز شاہ” وہ کہتی بھاگ گئی۔

اس کا کہا جملہ اس کے کانوں میں گونجا۔

“منت تبریز شاہ۔۔۔۔۔کچھ دن اور۔۔۔۔۔جس دن تم مجھے مل گئی میں جینا حرام کر دوں گا تمہارا۔۔۔۔

ایک پل تمہیں سکون کا نہیں لینے دوں گا۔”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نے اس لڑکی کو دیکھا جس کو چاند کو تکتے رات کے تین بج چکے تھے اس کی آنکھوں میں تاسف کے ساتھ ہی ہمدردی ابھری۔

منت سونا نہیں ہے؟ اس نے اس کے پاس جاتے اسے مخاطب کرتے کہا۔

مخالف کے جسم میں کوئی حرکت نہ ہوتے دیکھ اس نے اس کا رخ خود کی طرف موڑا تو ششدد رہ گئی۔

اس کا سارا چہرہ آنسوؤں سے بھیگا تھا۔۔۔۔ایسا ہر رات ہوتا تھا وہ جانتی تھی اور ہر رات نئے سرے سے اسے وہ لڑکی اور عزیز ہو جاتی۔

منت تم اس کے پاس واپس کیوں نہیں نہیں چلی جاتی اس نے اس کا ہاتھ تھامتے کہا تو وہ ہوش میں آئی۔

کس۔۔۔کس۔کے پ۔۔۔پاس۔۔۔؟

تم جانتی ہو میں کس کی بات کر رہی ہوں!

نہ۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔یہ روح اسی ایک وجہ کی بنا پر میرے جسم کا ساتھ دیے ہوئی ہے کہ میرا نام اس شخص سے منسلک ہے میں اس سے کبھی نہیں ملنا چاہتی اگر میں اس کے سامنے آ گئی تو وہ میرے جینے کی آخری وجہ بھی مجھ سے چھین لے گا۔

تم پاگل ہو منت۔۔۔۔۔۔تم محبت اور نفرت دونوں کا دعویٰ ایک ہی شخص سے کیسے کر سکتی ہو؟

مجھے نفرت ہے اس سے ۔۔۔۔۔۔ لیکن اس کی یاد جب بھی آتی ہے میرا جسم منجمند ہو جاتا ہے ۔۔۔۔میری روح اس شخص کا دیدار طلب کرتی ہے چیخ چیخ کر ۔۔۔۔اس کی آنکھوں سے آنسوں لڑیوں کی مانند نکل رہے تھے۔

دعا کرو میں مر جاؤ رابی۔۔۔۔۔یہ سب مجھے اندر سے دن بدن ختم کر رہا ہے ۔۔۔میں تکلیف میں ہوں بے حد۔۔۔۔۔اس نے اس کی گود میں سر رکھتے کہا۔

منتتتت ۔۔۔۔۔۔۔۔! تمہیں خوف نہیں آتا موت سے؟

موت کا خوف ہر زی نفس کی طرح مجھے بھی ہے لیکن اس بات کا خوف مجھ میں اپنے پنجے گاڑے ہوئے ہے کہ اگر کسی روز اس نے مجھے ڈھونڈ نکالا اور مجھ سے اپنا نام لے لیا تو۔۔۔۔یہ سوچ اور یہ خوف زیادہ سوہان روح ہے۔

شش۔۔۔۔۔منت خود کو اتنی تکلیف مت دو۔۔۔۔اس کا سانس پھولتے دیکھ وہ بے بسی سے بولی۔

رابی اگر میں مر گئی تو مجھ جیسی تمام لڑکیوں کو چیخ چیخ کر بتانا کہ اس شخص سے کبھی محبت نہ کرو جو تمہاری پہنچ سے بہت دور ہو، تمہاری دسترس سے باہر۔

ایک آخری آنسو اس کی آنکھ سے لڑکھ کر اس کے دامن پر گرا تھا اور پھر اس کا سانس مدھم پڑنے لگا۔

منتتت۔۔۔۔۔منتتتت۔۔۔آنکھیں کھولو۔۔۔

اس نے ایمبولینس کو فون کیا اور بروقت اسے ہسپتال پہنچایا گیا۔

آپ کو بار بار بول چکا ہوں کہ ایسے نروس بریک ڈاؤن سے کسی دن ان کی جان جا سکتی ہے۔۔۔۔۔ڈپریشن کی مریض ہی آپ کی بہن۔۔۔۔۔۔

ان کی فکر اور پریشانی کا حل ڈھونڈیں کوئی۔۔۔۔۔۔ نہیں تو کسی دن یہ آپ کو بنا بتاۓ چلی جائیں گی ڈاکٹر کہتا چلا گیا۔

وہ وہیں بینچ پر خالی ہاتھ لیے بیٹھ گئی۔۔۔۔۔منت کی یہ حالت وہ ڈیڑھ سال سے دیکھتی آرہی تھی۔

اب وقت آ گیا ہے منت کہ تم سے کیا وعدہ میں توڑ دوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تنہیں ایسے مرتے نہیں دیکھ سکتی میں ۔۔۔اس نے لرزتے ہاتھوں سے فون اٹھایا اور ایک نمبر ملایا۔

بیل جا رہی تھی اس کی ہتھیلیوں پر پسینہ جمع ہونے لگا۔۔۔۔۔کیاوہ سہی کر رہی تھی۔۔۔۔؟

شاید ہاں۔۔۔۔۔اپنی بہن کو اس ازیت سے نکالنے کا ایک وہی حال تھا۔۔۔۔۔جس کے ایک دیدار کے لیے اس کی بہن مرا کرتی تھی اور خود کو اس سے چھپایا ہوا تھا آج وہ اسی شخص پر اس کی بہن کو آشکار کرنے والی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“اس کے ساتھ جو ہوا اس کے بارے میں مجھے بالکل بھی اندازہ نہیں لیکن باسط ضیاء تم میرے ساتھ یہ سب نہیں کر سکتے” اس نے آنکھوں کی سرخی کو کم کرنے کی کوشش کی۔

“تمہارے بھائی نے میری معصوم بہن۔۔۔۔۔۔جو لاڈلی تھی میری بے حد اس کے ساتھ ایسا کیا ہے رباب یزدانی۔”

“تو ان سب میں میں کیوں گھسیٹی جا رہی ہوں وہ خود آئی تھی میں نے تو نہیں۔۔۔۔۔۔”

آہ۔۔۔۔اپنے ہاتھ پر ہلکی سی جلن محسوس کرتے اس نے اسے دیکھا جس نے سیگریٹ ہلکا سا اس کے ہاتھ پر رکھا تھا اور پھر اسی سگریٹ کا دھواں ہوا میں معتل کیا تھا۔

“بکواس نہیں۔۔۔۔۔!

وہ کہتے ہیں نا انسان اپنے گناہوں کی سزا اپنے قریبی لوگوں کو تکلیف میں دیکھ کر چکاتا ہے تو بس یہی سمجھ لو۔”

“وہ تمہاری سگی بہن تو نہیں تھی۔۔۔اس نے ہچکی لیتے کہا۔۔۔۔”اس انجانے وجود سے اسے نفرت سے محسوس ہو رہی تھی۔

“وہ اولاد جیسی تھی میری۔۔۔۔میری چھوٹی بہن۔۔۔۔میں نے اس کا ہر لاڈ اٹھایا ہے صرف اس لیے کہ وہ محرومیوں میں زندگی گزارتی آئی ہے کہیں زندگی سے ہار نہ مان لے اور ۔۔۔۔۔

دیکھو تمہارے بھائی نے اسے ایسا ہرایا ہے کہ اب وہ اٹھ نہیں پا رہی۔”

خیر ۔۔۔۔۔

“ایک آخری بار رشتہ بھیج رہا ہوں۔۔۔۔اب کی بار نہ نہیں ہونی چاہئے رباب ضیاء۔۔نہیں تو۔۔۔۔”

“نہیں تو کیا ۔۔۔۔؟؟؟”

“نہیں تو کیا نام تھا تمہارے اس بوائے فرینڈ کا ۔۔۔۔۔۔امم۔۔۔۔۔فادی ہاں اس کی بہن کو اٹھوانے، اس کے باپ کے شیئرز کو خریدنے اور اس کی ماں کا این جی او بند کروانے اور ہاں اسے اس یونیورسٹی جہاں صاحب زادے سکارلر شپ پر پڑھ رہے ہیں کیونکہ یہاں کی فیس ادا کرنا ان کے بس کا روگ نہیں اسے یہاں سے سسپینڈ کروانے میں مجھے زرا وقت نہیں لگے گا۔”

” تم ایسا نہیں کرو گے ضیاء” اس نے اس کا کارلر تھامتے چیختے کہا۔

باسط ضیاء نے ایک نظر اس پر ڈالی اور اس کے چھوٹے ہاتھوں پر جو اس کا کارلر تھامے ہوئے تھے۔

ان آنکھوں کی سرخی اور دماغ کی رگیں دیکھتے رباب نے اس کا کارلر چھوڑتے ایک قدم پیچھے لیا تھا۔

وہ گرتی کہ اس شخص نے اس کی کلائی تھمامی اور اسے گرنے سے بچایا۔۔۔۔۔

اس کا لمس محسوس کرتے وہ جی جان سے کانپی تھی۔۔۔۔۔اس کی آنکھوں کی سرخی اسے کانپنے پر مجبور کر دیتی تھیں کجا کے لمس۔۔۔

اسے کھڑا کرتے وہ عجیب سے انداز میں مسکرایا تھا اور اسے جانے کا اشارہ کرتے دراوزے کی طرف دیکھا۔۔۔۔جیسے ایک مالک اپنے قید کیے پرندے کو رہا ہونے کی نوید سنا رہا ہو۔

وہ مُڑی اور ایک قدم ہی آگے بڑھایا تھا کہ اس شخص نے اپنا پاؤں آگے کرتے اسے زمین بوس کیا تھا۔

“باسط ضیاء کے کارلر تک جانے کی ہمت کا ایک چھوٹا سا انجام۔۔۔۔۔۔”اس نے اپنے کارلر سے نامعلوم گرد کو جھاڑتے کہا۔

مستقبل ترین میں ہونے والی بیوی صاحبہ اب کی بار رشتہ ٹھکرانے کا مزاق نہ کیجیے گا نہیں تو باسط ضیاء اب کی بار ہاتھ پر ہاتھ دھر کر نہیں بیٹھے گا ۔۔۔زمین پر اس کے پاس جھکتے اس کے گال کی طرف ہاتھ بڑھائے لیکن کچھ سوچتے ہٹا لیے اور پراسرار مسکراہٹ اسے دیتا چلا گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ وہیں پڑی کافی دیر تک روتی رہی تھی۔۔۔۔۔وہ شخص ایسا تو نہیں ہوا کرتا تھا۔

وہ اس سے ایسے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔وہ کبھی نہیں چاہتی تھی کہ کبھی اس کا یہ راز منظر عام پر آئے کہ باسط ضیاء اس کے کیے کیا اہمیت رکھتا ہے۔

وہ وہیں پڑی سسکتی رہی تھی۔۔۔۔۔اور وہ شخص جو اسے بے حد پیار سے بچوں کی طرح ٹریٹ کیا کرتا تھا آج بے حد سفاک اور ظالم بن گیا تھا۔

وہ روتے روتے سو گئی تھی یہ جانے بغیر کہ یہ اس کی زندگی کی آخری سکون کی رات ہونے والی ہے۔

صبح اس کا ردوازہ کھٹکھٹایا نہیں توڑا ہی جا رہا تھا ۔۔۔اس نے کسلمندی سے آنکھیں کھولیں اور فریش ہونے واش روم چلی گئی۔

اس نے قدم نیچے کی طرف بڑھائے جہاں ناشتے کا میز لگ چکا تھا۔

چلتا ہوں میں خدا حافظ درید یزدانی نے اٹھ کر اس کے ماتھے پر بوسہ دیا اور باپ کو دیکھتا باہر نکل گیا۔

رباب بیٹا ایک بار پھر آپ کا رشتہ آیا ہے ضیاء کے لیے ۔۔۔کیا یہ آپ کا آخری فیصلہ ہے؟

بابا۔۔۔۔۔وہ۔۔۔۔۔

کوئی دباؤ نہیں ہے ۔۔۔۔۔آپ وہیں کریں جو آپ کا دل چاہتا ہے مجھے اور درید کو اس رشتے پر کوئی اعتراض نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ضیاء دیکھا بھالا بچہ ہے اور درید کا کتنا اچھا دوست ہے آپ کو پتا ہے۔۔۔۔

جیسے آپ کو ٹھیک لگے بابا۔۔۔۔۔اس نے آنسوؤں کو پیتے سر اقرار میں ہلاتے کہا۔

شاباش میرا بیٹا۔۔۔۔۔۔انہوں نے اٹھ کر اس کے ماتھے پر بوسہ دیا۔

اس جمعے کے نکاح کا بولا ہے انہوں نے۔۔۔۔کہ اگر آپ مان جاتی ہیں تو ضیاء کی مرحوم والدین کی اینیورسی کے دن وہ نکاح کرنا چاہتا ہے۔

پر بابا اتنی جلدی۔۔۔۔۔

آپ نہیں چاہتی؟

ہاں۔۔۔مطلب۔۔ن۔۔نہیں یہ بہت جلدی ہے۔۔۔۔

اوکے کوئی پریشر نہیں ہے۔۔۔۔آپ سوچ لو اور اچھے سے وقت لو میری جان کوئی مسئلہ نہیں انہوں نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے کہا۔

اس نے بے دلی سے ناشتے کی پلیٹ اپنے آگے سے کھسکھائی اور اٹھ گئی۔۔۔

یہ سب کیا ہو رہا تھا۔۔۔اسے تو آگے پڑھنا تھا ابھی اور یہ سب۔۔۔۔۔

وہ کیسے سہے گی اپنی نازک جان پر اس ظالم کا غصہ اور شدت۔۔۔۔سوچ کر ہی اس کی روح کانپ گئی۔