Shiddat-e-Talab by Suneha Rauf NovelR50408

Shiddat-e-Talab by Suneha Rauf NovelR50408 Shiddat-e-Talab Episode 28 (Last Episode Part 2)

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shiddat-e-Talab Episode 28 (Last Episode Part 2)

Shiddat-e-Talab by Suneha Rauf

رابی کیا ہو گیا ہے۔۔۔۔حازق بھی رونے لگا ہے اب ۔۔۔حازق کو اٹھاتے اس نے ساتھ لگایا۔

پکڑو اسے۔۔۔۔چپ کرواؤ۔

میں نہیں پکڑوں گی۔۔۔وہ سوں سوں کرتی بولی۔۔

تم میری برداشت کو آزما رہی ہو ربائشہ۔۔۔۔حازق کو مسلسل روتے دیکھ وہ بولا لیکن اس پر بالکل اثر نہ ہوا تو باہر نکل گیا۔

کیا ہوا بھیو؟

کچھ نہیں چپ نہیں ہو رہا۔۔۔

مجھے دیں۔۔۔رباب نے فوراً اس سے پکڑا تو وہ کچھ لمحے وہاں رک کر اس کے خاموش ہونے کا انتظار کرنے کے بعد واپس اندر آیا۔

اگر یہ سب کر کے تم سمجھتی ہو کہ میں معاف کر دوں گا تمہیں تو تمہاری غلط فہمی ہے۔۔

وہ اس کے قریب آیا جو رو کر سو گئی تھی۔۔۔۔۔

درید یزدانی کے دل نے یک دم شور کیا تو وہ جھکا اور اس کے چہرے سے بال ہٹائے اور اس کے ماتھے پر بوسہ دیا۔

ابھی وہ اسے معاف نہ کرنے کے دعوےٰ کر رہا تھا۔۔۔۔وہ مان گیا تھا آج سے نہیں سالوں پہلے سے کہ وہ اسے پاگل کرنے کا ہنر رکھتی ہے۔

اسے شکوے تھے اس سے۔۔۔۔اس کی ایک غلطی نے کیا کر ڈالا تھا اگر وہ اپنے بیٹے تک پہنچنے میں ناکام رہتا تو؟

اب کیا لینے آئے ہیں؟ اس نے نیند سے بھری آنکھیں کھولتے کہا۔

دوا کھا لینا اٹھ کر نکال کر رکھ دی ہے وہ بنا کچھ مزید کہے اٹھا اور نکل گیا۔

ربائشہ نے گہری سانس بھری۔۔۔اسے اپنے مجازی خدا کو منانا تھا ۔۔جو بے حد مشکل تھا۔

اس نے بمشکل اٹھتے یہاں وہاں دیکھا۔۔۔۔ان دنوں میں وہ چل لیتی تھی لیکن خاصی دشواری ہوتی تھی اسے۔

وہ باہر گئی اور ہانپتی وہیں بیٹھ گئی۔۔۔حازق رباب کے پاس کچن میں تھا وہ اسے کھلاتی ساتھ ساتھ کچن میں کچھ بنا رہی تھی۔

پھپھو کا پیارا بیٹا۔۔۔۔

اب پھپھو آپ کے لیے ایک ڈول لائے گی ایک دن۔۔۔۔۔وہ اسے اپنے بارے میں بتا رہی تھی جیسے وہ سمجھ رہا ہو۔

اور ربائشہ بدلے میں اپنے بیٹے کی کھلکاریاں واضح سن سکتی تھی۔

اب کیسی ہو میرا بیٹا؟ باسط نے آتے اسے ساتھ لگاتے پوچھا۔

ٹھیک ہوں!

یہ میری بیوی بھی نا پتا نہیں کیا کیا کہہ کر تمہارے بیٹے کو پکاتی رہتی ہے جیسے مجھے پکاتی ہے۔

ہاہاہا۔۔۔بتاتی ہوں اسے میں۔۔۔ربائشہ نے کہا تو باسط نے کانوں کو ہاتھ لگایا۔

یہ کیا میری بیٹی کی بات کر رہی ہے؟ باسط نے ربائشہ سے پوچھا تو اس نے سر ہاں میں ہلایا۔

کل ہی تو انہوں نے یہ خبر اسے اور درید کو دی تھی۔۔۔ددید کتنا خوش تھا۔۔۔اس کی بہن کتنی بڑی ہو گئی تھی۔

اچھا! کیا کھاؤ گی؟ ملازمہ آنے والی ہو گی۔۔۔

کچھ بھی۔۔۔۔باسط سر ہلاتا کچن میں چلا گیا۔

ربائشہ نے مسکراتے انہیں دیکھا سب ٹھیک تھا بظاہر تو ۔۔لیکن ان دو لوگوں کے دل کی دنیا نہیں۔

پھر مزید ایک ہفتہ وہاں رہتے ان کی روٹین نہیں بدلی تھی یہ کہنا زیادہ بہتر ہو گا کہ درید کی روٹین نہیں بدلی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس شخص نے چُن کر سزا دی تھی اسے۔۔۔وہ جانتا تھا وہ اس کے بغیر چند لمحے نہیں گزار سکتی دو ہفتے تو دو سال کی مانند تھے۔

اور پھر وہ اس سے سچ میں لاتعلق ہو گیا تھا وہ جو سمجھتی تھی وہ ان سب سے پیچھے ہٹ جائے گا تو ایسا نہیں ہوا تھا۔

وہ صبح اس کی دوا رکھ جاتا تھا بس یہ ایک کام تھا جو وہ کرتا تھا۔۔۔منت اگر غلطی سے بات کر بھی لیتی تو وہ جواب نہیں دیتا تھا۔

وہ اس گھر میں اکیلی پاگل ہونے کے در پر تھی۔۔۔اور پھر اس نے ربائشہ کو فون کیا۔

رابی؟

کیا ہوا میری جان؟ کیسی ہو؟

میں ٹھیک ہوں تم کیسی ہو حازق کیسا ہے منت نے بے قراری سے پوچھا۔

ہم دونوں ٹھیک ہیں لیکن میرے بیٹے کی اکلوتی خالہ کافی سنگ دل ہے جو اسے دیکھنے تک نہیں آئی۔۔۔شکوہ کیا گیا تھا۔

منت نے اسے اپنے ساتھ ہونے والا سب بتایا۔۔۔ربائشہ نے اپنی زندگی اس کے سامنے کھول کر رکھ دی۔

وہ ایک دوسرے کی تکلیف کو اچھے سے محسوس کر سکتی تھیں اسی لیے دور بیٹھے بھی دونوں کی آنکھیں نم تھیں۔

میں ضرور آؤں گی تم سے ملنے۔۔۔۔

تم اس حالت میں مت نکلنا میں درید کو بولوں گی میری جان حازق خود آئے گا اپنی خالہ کو ملنے۔

مطلب کس حالت میں؟

یعنی وہ جو ان دنوں محسوس کر رہی تھی وہ سب ٹھیک تھا؟ وہ سیدھی ہو کر بیٹھی۔

ارے میری جان ماں کے رتنے پر فائز ہو جاؤ گی جلد ہی۔۔۔تبریز بھائی نے ہی بتایا تھا مجھے وہ بے حد خوش تھے۔

کب بتایا تھا؟

یہی کوئی تین چار روز پہلے۔۔۔۔ربائشہ نے بتایا تو منت کی آنکھیں لبا لب پانیوں سے بھر گئیں اسے کیوں نہیں بتایا گیا تھا۔

میں تمہیں بہت مِس کرتی ہوں رابی۔۔۔۔

میں بھی میری جان۔۔۔!

جلد ملاقات ہو گی اور پھر خدا حافظ کہتے وہ اندر گئی جہاں وہ لیپ ٹاپ تھامے کچھ کام کر رہا تھا۔

آج پانچواں روز تھا جو اس نے اس کی آواز تک نہ سنی تھی ۔۔رات کو نیند میں بے چینی رہتی تھی کیونکہ اب وہ حصار میں نہیں لیتا تھا۔

وہ اس کے پاس جا کر بیٹھی تو تبریز شاہ نے نظر اٹھا کر دیکھا اس کے چہرے پر پھسلتے آنسو دیکھ کر تھما۔

کیا ہوا؟

طبیعت ٹھیک ہے؟لہجے میں تڑپ شامل تھی۔

اور چانچ روز میں منت شاہ کے کانوں نے اس کی آواز پہلی بار سنی تھی۔

آپ نے مجھے کیوں نہیں بتایا؟ کیوں چھپایا مجھ سے وہ اس کے سینے پر ہاتھ کے مکے مارتی بولی۔

تم محسوس کر چکی تھی میرے بتانے سے کیا ہوتا؟ وہ فوراً اس کی بات سمجھ کر لاتعلق سا بن گیا۔

مجھے تم سے نفرت ہے وہ کہتی اٹھ کھڑی ہوئی۔

میں سمجھا چکا ہوں تمہیں اس سے قبل بھی کہ یہ تو ترا کے بات کرنا مجھے نہیں پسند۔

آپ کو تو کچھ بھی نہیں پسند نا میں پسند ہوں نا میری اولاد، نا میرا یہاں رہنا، نہ میرا آپ کے قریب آنا، نہ آپ کے کام کرنا، نہ آپ سے مخاطب ہونا۔

وہ جو پانچ دنوں سے بھری پڑی تھی پھٹ پڑی۔

جاؤ یہاں سے!

جا رہی ہوں وہ کہتی نکل گئی تو تبریز شاہ نے گہرا سانس بھرا۔

بیشک یہ سزا اس نے اسے دی تھی لیکن وہ زیادہ ازیت میں تھا۔۔۔۔سب ٹھیک ہوتے ہوئے بھی ٹھیک نہیں تھا۔

اس کا باپ اپنے انجام کو پہنچ چکا تھا اپنی ماں سے وہ کبھی کبھار مل لیتا تھا سارا اور تاشہ سے جان چھوٹ گئی تھی لیکن پھر بھی سب نارمل نہیں تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ کل کی بچی کھچری ڈال کر لائی اور اس کے آگے رکھی۔

کھا لیں!

نہیں کھانی تم کھا لو اور دوا لے لینا۔۔۔وہ آہستہ سے بولا اور فون استعمال کرنے لگا۔

ناراض تو نہ ہوں۔۔۔۔میں دوبارہ اس سے نہیں ملوں گی کبھی اتفاقاً ملوں گی تو بھی نہیں۔

کپڑے تبدیل کرو۔۔۔اس شخص کی اپنی بیوی پر سراہتی آنکھیں وہ اب بھی اس پر محسوس کر سکتا تھا۔

یہ سوٹ کسی کو دے دو دوبارہ مت پہننا۔۔۔۔اس نے حتمٰی لہجے میں کہا تو رباب کو غصہ آیا۔

کیا ہو گیا ہے باسط۔۔۔اتںی بڑی بات تو نہیں تھی۔۔۔کھائیں یہ اور سوٹ میں کسی کو نہیں دے رہی بس جو ہوا وہ بھول جائیں۔

باسط نے اس کی آگے کی پلیٹ کو دور دھکیلا اور باہر نکل گیا۔

رباب نے غصے سے اس کی پشت کو دیکھا۔۔۔۔چاول زمین سے اٹھائے جو اس نے اپنے غصے میں ضائع کیے تھے ہرگز اسے یہ حرکت پسند نہ آئی تھی اس کی۔

وہ دوسرے کمرے میں ہی سویا تھا رباب نے بھی اسے بلانے کی دوبارہ ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔

صبح وہ آیا تو وہ اس کے کپڑے نکال رہی تھی اپنے کپڑے لیتا واش روم میں گیا۔

آج مارننگ وش بھی نہیں کیا تھا دونوں میں سے کسی نے۔

ناشتہ بنا کر اس کے سامنے رکھا اور خود اندر بند ہو گئی۔

رباب؟

رباب۔۔۔۔

وہ جانتا تھا وہ سن سکتی ہے اس لیے تن فن کرتا اندر گیا۔

ناشتہ کرو باہر آ کر۔۔۔

مجھے نہیں کرنا ابھی۔۔۔

اٹھو فورا۔۔۔

کیا ہے۔۔۔سب آپ کی مرضی سے نہیں ہو گا باسط۔۔۔میں سانس بھی آپ کی مرضی سے لوں کھاؤں بھی۔

باسط نے اس کے لب و لہجے پر لب بھینچے لیکن اس نے رات کو بھی دو تین لقمے ہی وہاں لیے تھے اور اب بھی وہ نہیں کھا رہی تھی۔

باسط نے اسے دیکھا اور اس کا ہاتھ پکڑتا زبردستی اپنے ساتھ باہر لے کر آگیا اور اپنے ساتھ بٹھاتے اس کے گلاس میں شیک نکال کر اسے پکڑایا۔

ختم کرو اسے فوراً۔

رباب نے منہ بسوڑتے اس دیکھا۔

جلدی کرو رباب۔۔۔اب کے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے دھیمے سے کہا تو وہ گلاس لبوں سے لگا گئی۔

رباب کو کافی پیار سے ڈیل کرنا پڑتا تھا وہ جانتا تھا وہ جس ماحول سے آئی ہے وہاں یہ سب نہیں تھا اس نے سب اس کے لیے بدلا تھا۔

اگر اس کی بیوی سب کر سکتی تھی تو وہ کیوں نہیں۔۔۔۔اکیلا رہتے رہتے اس میں غصہ کچھ بڑھ گیا تھا اور وہ جلدی چڑچڑا بن جاتا تھا۔

شیک پینے کے بعد اسے دوا دی اور نکل گیا جو آج اسے دروازے پر بھی چھوڑنے نہیں آئی تھی۔

باسط نے تاسف سے بند دروازے کو دیکھا اور کچھ سوچتا نکل گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

باہر کا میں گیٹ کھیلنے کی آواز پر وہ سوچوں کے گرداب سے باہر آیا اور پھر لمحے میں بنا جوتے پہنے باہر بھاگا تھا۔

کیا ہوا ہے ایسے کیوں بھاگ کر آرہے ہیں جیسے میں کہیں بھاگ رہی ہوں؟ منت نے طنزیہ لہجے میں کہا۔

گیٹ کیوں کھولا ہے اور کہاں جا رہی ہو؟

کہیں نہیں کھلی ہوا لے رہی ہوں۔۔۔۔اس نے سوچ لیا تھا وہ اس شخص کو زِچ کر دے گی۔

کھلی ہوا چھت پر بھی میسر ہے گیٹ کھول کر کھڑے ہونے کا کوئی مقصد نہیں اس نے آگے بڑھتے گیٹ بند کیا تو منت کندھے اچکاتی اندر چلی گئی۔

تھوڑی دیر بعد وہ باہر آیا تو میڈیم رات کا کھانا نوش فرما رہی تھی بنا اسے بلائے یا بتائے۔

مجھے کیوں نہیں بلایا؟

وہ جو اس سے بات نہ کرنے کی قسم کھا چکا تھا اب اتنے ہی سوال جواب کر رہا تھا۔

مجھے لگا آپ کو بھوک نہیں۔۔۔۔پرسکون لہجہ جو مخالف کو آگ لگا گیا تھا۔

وہ خاموشی سے کھانا کھانے لگا پھر رات کو بھی وہ لیٹ ہی اندر آئی تھی باہر نجانے کون کون سے پینڈنگ پر پڑے ڈراموں کی قسطیں دیکھتی رہی تھی وہ۔

صبح ناشتے کی میز پر تبریز شاہ نے اس کے جوس کا گلاس اٹھایا اور باقی بچا جوس ہمیشہ کی طرح پی لیا۔

منت نے اسے منہ کھولے دیکھا اور پھر گلاس اس کے رکھتے ہی اٹھایا اور زمین پر پھینک دیا جو چھناکے کی آواز سے ٹوٹ کیا۔

منتتت؟

یہ کیا بدتمیزی ہے؟

آپ کو تو جوٹھا نہیں پسند آج کیسے پی لیا؟

تم میرے ضبط کو آزما رہی ہو۔۔۔۔مجھے غصہ مت دلاؤ میں برے طریقے سے پیش آؤں گا۔

اچھا اس سے بھی بُرا ہو سکتے ہیں آپ وہ ہونٹوں پر انگلی رکھتے پُرسوچ انداز میں بولی تو تن فن کرتا گھر سے نکل گیا۔

منت نے مسکراتے اس کی پشت کو دیکھا۔

منت شاہ ہوں میں آپ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہ کر دیا تو کہنا۔۔۔بڑے آئے تھے مجھے سزا دینے۔

چلو منت آج کیل کانٹوں سے لیس ہو کر اس شخص کو تڑپانا ہے وہ سب صاف کرتی اندر کمرے میں چلی گئی۔

شاور لے کر اپنا مہرون سوٹ پہنا اور پھر سے ٹی وی کے آگے بیٹھ گئی۔

اس کے آنے کے وقت پر مسکراتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔سٹریٹ بالوں کو ڈیڈ سٹریٹ کیا، کانوں میں جھمکے پہنے ہلکی سے لپسٹک لگائی اور پھر مسکرائی۔

مزہ آئے گا یقیناً۔

پھر باہر رائتہ بنانے چلی گئی آج اس نے مٹن پلاؤ بنایا تھا اس کے لیے۔

دروازے پر گھنٹی کونے پر کھڑے ہوئی بالوں کو جھٹکا اور مسکراتی دروازے کی طرف بڑھی۔

اسلام علیکم!

وہ جو اپنے دھیان جوتے اتار رہا تھا اس کے سلام کا جواب دینے کے لیے اس کی طرف دیکھا۔

مہرون سلک کا سوٹ پہنے دوپٹے سے بے نیاز بال بکھیرے وہ لپسٹک لگائے اس کے چودہ طبق تو روشن کر ہی گئی تھی۔

کوئی آیا ہے؟ اس نے خود کو سنبھالتے پوچھا۔

نہیں! کھانا تیار ہے آجائیں چینج کر کے۔۔۔وہ بنا اسے بھاؤ دیتی دوبارہ کچن میں جا کر برتن لگانے لگی۔

وہ واپس آ کر بیٹھا اور اس کی تیاری پر بھرپور نگاہ ڈالی۔۔۔۔وہ تو بنا ان سب کے اسے مدہوش کیے رکھتی تھی آج تو پھر میڈیم پور پور تیار تھی۔

وہ جانتا تھا یہ تیاری اسی کے لیے ہے۔۔۔وہ کیا کرنا چاہ رہی تھی وہ جانتا تھا۔۔۔لیکن ناچاہتے ہوئے بھی اپنے آپ کو قابو میں نہیں رکھ پا رہا تھا۔

نظریں بار بار بھٹک کر اس کا طواف کر رہی تھیں جو بال منہ سے اٹھاتی اب طرح طرح کی شکلیں بنا رہی تھی۔

اس نے دل میں مسکراتے اسے دیکھتے ماشاءاللّہ کہا اور اپنی پلیٹ پر جھکا۔

پھر کچھ سوچتے اپنی کرسی کھسکا کر اس کے ساتھ کی۔

منت نے ترچھی نگاہوں سے اسے دیکھا لیکن نظرانداز کر دیا۔

ٹھٹکی تو تب جب اس نے اپنے الٹے ہاتھ سے اس کے بال پیچھے کرتے پکڑ لیے اور سیدھے ہاتھ سے اسی کی پلیٹ سے چاول کھانے لگا۔

میرے بال چھوڑیں۔

کیوں؟

کیوں کیا چھوڑیں کیوں پکڑیں ہیں۔

کھانا کھاؤ زندگی۔۔۔تب سے دو ہی نوالے لیے ہیں تم نے گنتی کے۔۔۔اور اگر میرے لیے ہی سب کرنا تھا تو اندر بیڈ روم میں بال کھول لیتی ابھی سے کھولنے کی کیا ضرورت تھی اب دیکھا منہ پر آرہے ہیں۔

آپ۔۔۔۔۔!

وہ چوری پکڑے جانے پر وہ خجل سے ہو گئی لیکن اتنی جلدی ہار کیسے مان لیتی۔

آپ کی خوش فہمی ہے مسٹر شاہ کہ یہ تیاری آپ کے لیے ہے اور میری پلیٹ چھوڑیں آپ تو جوٹھا نہیں کھاتے۔

تبریز شاہ نے اسے گھورا اور پھر اپنے ہی چمچ سے اس کے آگے نوالہ کیا تو اس نے پہلے اسے گھورا پھر کھا لیا۔

اب وہ اپنے ساتھ اسے بھی کھلا رہا تھا۔

بس؟

نہیں اور کھانے ہیں۔۔۔۔اس کے کہنے پر تبریز شاہ نے چاول دوبارہ ڈالے اور اس کے آگے گرتے اٹھ کر سوس پین میں اپنی چائے رکھنے لگا۔

مڑ کر اسے دیکھا جس کی پلیٹ اب بھی ویسے ہی رکھی تھی۔

ٹھنڈی آہ بھرتے واپس بیٹھا اور اسے گھور کر کھلانے لگا۔

اچھی لگ رہی ہو۔

ہاں مجھے پتا ہے۔۔۔۔وہ شانِ بے نیازی سے بولی تھی وہ عش عش کر اٹھا۔

باہر چلیں؟

اممممم۔۔۔۔جہاں تک مجھے یاد ہے سزا کے ابھی چار ساڑھے چار دن تو اور بھی رہتے ہیں تو اتنی جلدی۔۔۔میرا مطلب ہے کہ۔۔۔

بیٹھی رہو عزت راس نہیں ہے تمہیں وہ کہتا اپنی چائے ڈالتا اندر چلا گیا تو وہ کھل کر مسکرائی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نے ربائشہ کو مخاطب تک نہ کیا تھا۔۔۔ربائشہ کی ہر محنت ناکام گئی تھی۔

آج وہ اسے واپس لے کر جا رہا تھا کیونکہ اس کی پٹیاں کھل گئی تھی اور وہ کافی بہتر تھی۔

بھیو تھوڑے دن اور رک جاتے۔۔۔

نہیں! یہ مناسب نہیں! مجبوری نہ ہوتی تو اتنے دن بھی نہ رکتا گڑیا۔۔۔بہنوں کے گھر کہاں رکا جاتا ہے۔

باسط نے اسے ہلکا سا پنچ مارا جیسے اس کی یہ بات پسند نہ آئی ہو۔

تمہارا گھر ہے یہ۔۔۔۔۔ہفتہ چھوڑ کر مہینوں سال رہو۔۔۔۔

ہمارے ماتھے پر ایک بھی شکن نہیں پاؤ گے تم۔۔۔

اور اچھا تھا دل لگا تھا حازق کے ساتھ میں تمہاری بہن کی چپڑ چپڑ سے بچ جاتا تھا۔۔۔۔

رباب نے اس کے کندھے پر ہاتھ جڑا تو سب مسکرا دیے۔

درید نے آگے بڑھتے باسط کو گلے لگایا تو باسط نے مسکراتے اسے دیکھا۔

میں۔۔۔

معافی مت مانگ۔۔۔میں سب بھول گیا ہوں۔۔۔درید نے اسے کچھ کہنے سے روکا۔۔۔اسے کیسے نا معاف کرتا وہ بچپن کا یار تھا ہر سرد و گرم میں ساتھ دیا تھا اس نے۔

پھر سب سے ملتے وہ نکل آئے۔

ربائشہ کی سیٹ پیچھے کرتے اس نے کافی اختیاط برتی تھی اور گاڑی بھی سلو ڈرائیو کی تھی۔

ربائشہ اس پر نظر ٹکائے ہوئی تھی۔۔۔

درید ۔۔۔

بولو۔۔

آپ نے باسط کو سچے دل سے معاف کر دیا؟

بالکل ۔۔!

اور مجھے؟

تم نے معافی مانگی ہی کب ہے ربائشہ درید یزدانی؟

یعنی آپ چاہتے ہیں کہ میں گڑکڑا کر آپ سے معافی مانگو۔۔۔؟

نہیں! میں نے ایسا کچھ نہیں کہا۔۔۔۔اور نہ میں تمہیں ایسا کرتا دیکھتا چاہتا ہوں۔۔۔مجھے دھیان سے ڈرائیو کرنے دو۔

وہ لاجواب ہو گئی۔۔۔۔اور کچھ ہی دیر میں وہ گھر پہنچ گئے تو وہ سامان لیتا اندر گیا جہاں ربائشہ جا چکی تھی۔

اس نے خود کے لیے اوپر والا پورشن چنا تھا نیچے والا وہ کرایہ پر دینا چاہتا تھا ربائشہ اور حازق کو اپنی غیر موجودگی میں اکیلا نہیں چھوڑنا چاہتا تھا وہ۔

وہ جان گیا تھا کہ آپ کی تعینات کی نفری اور گارڈز بھی کام نہیں آتے اگر رب نے کچھ کرنے کا سوچ لیا ہو تو۔۔۔۔۔

اسی لیے اس نے یہ فیصلہ کیا تھا۔۔۔لیکن اپنے پورشن کا دروازہ اس نے پیچھے کے لان میں اتارا تھا۔

نیچے موجود لوگوں کو دیکھتے وہ تھمی۔

یہ ہمارے کرایہ دار ہیں۔۔۔۔تم ان سے بات چیت کرو گی یقیناً تمہیں اچھا لگے گا درید نے کہا تو اس نے سر ہلایا اور سب سے ملتی اوپر چلی گئی۔

آپ سب کو کوئی مسئلہ تو نہیں پیش آیا؟

نہیں! میرے بچوں کو گھر کافی پسند آیا یے۔۔۔اس آدمی نے بتایا جس کے تین بچے تھے۔

گڈ۔۔۔وہ کہتا سامان لیتا اوپر چلا گیا۔۔۔۔ربائشہ کمرے دیکھ رہی تھی سامان شفٹ تھا سب۔۔۔اچھے سے صفائی ہوئی تھی۔

اس ملازمہ کے دھوکے کے بعد میں نہیں چاہتا کہ ہم کوئی کام والی رکھیں رابی۔۔۔۔تم اور میں مل کر کر لیں گے کہ اب میں کوئی رسک نہیں لینا چاہتا کبھی۔

میں بھی یہی چاہتی ہوں ربائشہ نے کہا تو وہ ہلکا سا مسکرایا۔

رباہشہ نے دل میں شکر کیا کہ وہ شخص مسکرایا تو تھا۔

کھانا میں باہر سے لے آتا ہوں۔۔

نہیں! دل نہیں ہے آپ بنا دیں کچھ ۔۔اس نے سوچ کر کہا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا کھانا ہے؟

بریڈ انڈا ہی بنا دیں۔۔۔۔۔

اوکے۔۔۔۔

وہ جا کر حازق کو سلانے لگی جو ایک مشکل کام تھا کیونکہ نئے ماحول میں جاتے وہ بہت تنگ کرتا تھا۔

سلاتے باہر آئی جہاں وہ بریڈ انڈا نہیں سیلڈ بنا رہا تھا۔

ربائشہ پاس آئی اور میز سے کرسی کھینچتے بیٹھ کر اسے دیکھنے لگی۔

وہ اس کی پلیٹ لیتا اس کے سامنے سیلڈ نکالنے لگا۔

میرے ہاتھ میں درد ہے اس نے کہا تو درید نے اسے گھورا اور پھر اسے کھلانے لگا۔

ہم حازق کی ون منتھ کی سیلیبریشن کریں گے۔۔۔۔

ٹھیک ہے سامان بتا دینا میں لے آؤں گا۔۔۔

مجھے اپنی بھی کئی چیزیں لینی ہے۔۔۔

لسٹ بنا دینا لے آؤں گا۔۔۔۔

نہیں! مجھے اپنے لیے ایک سوٹ چاہیے۔۔۔

کیوں؟ اتنے نئے تو دلوائے تھے حازق کی بار میں تم نے وہ پہنے تک نہیں ہیں۔۔۔

لیکن اور چاہیے نا۔۔۔۔

ٹھیک ہے پسند کر کے آرڈر کر لو۔۔۔۔

کارڈ۔؟ اس نے ہتھیلی آگے کی تو درید نے اس کے ہاتھ پر اپنا کارڈ رکھا۔

ربائشہ نے کارڈ پکڑتے جھک کر اس کی ہتھیلی کو چوما اور کھلکھائی۔

درید یزدانی کے دل نے دہائی دی کہ اس دنیا میں اس کے نزدیک اس سے خوبصورت منظر کوئی نہیں ہو گا۔

زیادہ مت ہنسا کرو۔۔۔۔وہ سنجیدگی سے بولا تو ربائشہ کی آنکھیں حیرت سے کھل گئی۔

کیوں؟

نظر لگ جاتی ہے ۔۔۔

لیکن میں تو آپ کے سامنے ہنستی ہوں بس ایسے۔۔۔۔

وہ اسے کیا کہتا کہ اس کی نظر بھی لگ سکتی ہے۔۔

اسی لیے بس اسے دیکھ کر رہ گیا۔

اگلے دن وہ سب تیاریاں کر چکی تھی اس نے کسی کو بھی نہیں بلایا تھا بس نیچے کرایہ داروں کے بچوں کو بلایا تھا۔

درید کیک لے کر آیا۔۔۔کیک کھانے میں مصروف تھے لیکن ان کا چھوٹا بیٹا ربائشہ کے ساتھ چپک کر بیٹھا تھا۔

اسے کیا ہوا؟

اس کی والدہ بتا رہی تھیں یہ بہت گم سم رہتا ہے بس پھر میں نے اسے اپنے ساتھ لگا کر اپنا دیوانہ بنا دیا۔۔۔

درید نے اسے گھورا اور بچے کو جو اب درید کی گھوری پر اسے مزید گھور رہا تھا۔

آپ میری عاشہ کو ایسے کیوں گھور رہے ہیں؟ اس نے کہا جو لگ بھگ آٹھ سال کا تھا۔

عاشہ۔۔؟

کون عاشہ؟

یہ۔۔۔اس نے ربائشہ کو دیکھتے کہا تو ربائشہ مسکرائی۔

اس بچے نے ربائشہ کے گال پر بوسہ دیا تو درید نے لب بھینچتے ان دونوں کو دیکھا اور اندر چلا گیا پھر وہ باہر نہیں آیا تھا۔

وہ سب کام نپٹاتی اندر گئی۔۔۔اور وہ بچہ اب بھی ساتھ تھا۔

اسے بھجو۔۔۔۔

کیا ہو گیا ہے درید ۔۔۔۔؟ بچہ ہے۔۔۔

نہیں ابھی مجھے تم چاہیے ہو لہذا اسے چلتا کرو۔۔۔۔

ربائشہ اس کی سنگ دلی دیکھ کر رہ گئی اور پھر بچے کے کان میں کچھ کہنے لگی جس کے بدلے میں وہ اس کے گالوں کو چومتا بھاگ گیا۔

جی بولیں اب؟

سب سے پہلے تو تم اپنے گال دھو کر آؤ۔۔۔۔

ربائشہ کا منہ حیرت سے پھر کھلا۔۔۔۔

کیوں۔۔۔

جراثیم لگ جاتے ہیں ایسے ۔۔۔

تو آپ کے نہیں لگتے کیا مجھے ۔۔۔؟ وہ کہتی ہونٹ دانوں میں دبا گئی۔

درید نے لائٹ بند کی اور کمفرٹر اوڑھتا لیٹ گیا حازق بھی سو گیا تھا۔

وہ بنا چینچ کیے منہ ہاتھ دھو کر اس کے پاس آ کر لیتی اور اس کے نزدیک ہوئی۔

پیچھے ہو کر لیٹو ۔۔

گال دھو لیے ہیں میں نے ۔۔

اچھی بات ہے اب سو جاؤ۔۔۔۔

دریدددددد۔۔۔۔۔وہ زِچ کرنے میں ماہر تھا وہ جان گئی تھی۔

اس کے باپ کو میں کل کہتا ہوں۔۔۔

کیا کہیں گے یہ کہ وہ چھوٹا سا بچہ آپ کی بیوی کو پیار کر رہا تھا جو آپ کو پسند نہیں آیا۔

بحث نہیں کرو۔۔۔۔

اوکے۔۔۔اوکے۔۔۔۔اس نے کہتے اس کے گالوں پر اپنے ٹھنڈے ہاتھ رکھے تو اس نے اسے گھورا۔

میں کیسی لگ رہی تھی آج؟

جیسی روز لگتی ہو۔۔۔۔

توبہ کریں۔۔۔اتنا میک اپ کیا تھا میں نے۔

تمہیں ان سب کی ضرورت نہیں۔۔۔۔یہ تم جانتی ہو۔

اچھا۔۔! تو پھر میں کتنی پیاری لگتی ہوں آپ کو وہ کہتی مزید قریب ہوئی۔

بہت۔۔۔۔اتنی کہ مجھے لفظ نہیں مل پاتے کہ میرے دل کو تم کتنی پسند ہو۔۔۔وہ جذبات کی رو میں بہتا کہہ گیا۔

پہلے کیوں نہیں کہا کبھی۔۔۔

کیونکہ یہ جھوٹ مجھے ابھی بولنا تھا۔۔۔اس نے کہا تو ربائشہ اس سے دور ہو کر لیٹ گئی۔

درید نے اسے کھینچ کر حصار میں لیا۔۔۔۔اور اس کے گرد حصار باندھا۔

غالباً کسی نے مجھ سے معافی مانگنی تھی۔۔۔۔

نہیں کسی نے نہیں مانگنی تھی۔۔۔

میں بے حد سنجیدہ ہوں۔۔۔

ہاں میں بھی۔۔۔۔