Shiddat-e-Talab by Suneha Rauf NovelR50408

Shiddat-e-Talab by Suneha Rauf NovelR50408 Last updated: 8 December 2025

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shiddat-e-Talab by Suneha Rauf NovelR50408

اُسے وہ دن یاد آیا جو اس سے اس کا سب چھین گیا تھا۔
وہ دیوار سے چپکی کھڑی تھی سامنے کا منظر واضح تھا جہاں اس کا باپ اپنی آخری سانسیں لے رہا تھا۔
اس میں اتنی ہمت نہ تھی کہ اپنے باپ کے قریب جاتی.... وہ دیکھتی رہی تھی اس مجسمے کو آخری ہچکی تک۔
سب ساکت ہو گیا تھا..... سب کچھ، کچھ نہیں تھا اردگرد۔
اس کی ماں لبوں پر شاطرانہ مسکراہٹ لیے کھڑی تھی اس نے بے یقینی سے انہیں دیکھا۔
بیشک وہ عورت کبھی اچھی نہیں رہی تھی ان کے ساتھ.... لیکن اتنا کون گر سکتا ہے اپنے ہی رشتوں کے ساتھ۔
اس کا تایا بھی وہیں موجود تھا..... جس کا بھائی چلا گیا تھا لیکن وہ وہیں بیٹھا شراب پی رہا تھا۔
اسے لگا اپنے باپ کے ساتھ آخری ہچکی اس نے بھی لی ہے..... ہاں سب ہی تو ختم ہو گیا تھا۔
زندگی آسان کبھی نہیں رہی تھی..... لیکن ایسی تو اس نے تصور بھی نہیں کی تھی..... اچھی زندگی کی خواہش شاید اس کی خواہش ہی رہ جانی تھی۔
چل بانو...... اب میرا انعام بھی میرے حوالے کر اس کا تایا بھی جھومتا اٹھا تھا۔
اس کی نظریں صرف اپنے باپ کی لاش پر تھیں لیکن کانوں می مختلف آوازیں بھی پر رہیں تھی۔
ہاں ہاں! رشیدے..... یہ تیری ہی ہے...... جب چاہے تو لے جا... اس کی ماں نے کہا تو اس نے جھٹکے سے سر اٹھایا۔
اسے سمجھ نہ آیا کہ زیرِ بحث کس کی زات ہے؟
وہ اور اس کی ماں کے علاوہ تھا کون وہاں اس وقت۔
آدھی قیمت تجھے بعد میں مل جائے گی جب اس بلبل پر ہاتھ صاف کر چکا ہوں گا..... پھر سالہ بیچ کر اسے پیسہ آدھا آدھا۔
اس عورت نے قہقہہ لگایا...... رشیدے بڑا کام کا بندہ ہے تو.... میں نہ کہتی تھی میرے ساتھ رہے گا تو سب سیکھ جائے گا۔
قیمت میں کمی نہیں آئی گی یہ یاد رکھنا..... بھئی اپنے ہیرے جیسی بیٹی دے رہیں ہوں تجھے.....
سب باتیں اس کے کانوں میں پر رہیں تھی لیکن مفہوم نہیں سمجھ آیا تھا اسے یا شاید وہ سمجھنا نہیں چاہتی تھی.....
اس کا زہن یہ سب قبول نہیں کر پا رہا تھا۔
ماما....... آپ یہ کیسے کر سکتی ہیں...؟ اس کے لب ہولے سے پھرپھرائے..