Shiddat-e-Talab by Suneha Rauf NovelR50408 Shiddat-e-Talab Episode 5
No Download Link
Rate this Novel
Shiddat-e-Talab Episode 5
Shiddat-e-Talab by Suneha Rauf
اوفو۔۔۔۔۔میرے سر۔۔۔۔!
اس نے سر پر ہاتھ مارتے کہا اب وہ رونا بھول کر اس سے باتوں میں مگن تھی۔
انہوں نے کیسے ہرٹ کیا۔۔۔۔کیا آپ کو مار پڑی ہے سبق نہ یاد کرنے پر۔۔۔۔؟ اس نے استفسار کیا۔۔۔۔
ام ہم۔۔۔۔وہ اسے کچھ بتانے کو تیار نہ تھی۔۔۔۔
تو وہ تھک کر اٹھ گیا۔۔۔۔لیکن اس سے پہلے مڑ کر واپس جاتا۔۔۔مظر سیدھا اس کے بازوؤں سے ٹکرائی تھی جو سلیولیس تھے۔
یہ کہاں سے چوٹ لگی۔۔۔؟کیا آپ نے اپنے بھیو کو بتایا ہے۔۔۔۔؟
اس کے بازو پرلال نشان دیکھ کر وہ رکا اور اسے دیکھ کر پوچھنے لگا۔۔۔۔
اس نے یہاں وہاں دیکھا اور پھر اسے اشارے سے بیٹھنے کا کہا تو وہ حیران ہوتا واپس بیٹھ گیا پہلے وہ کچھ بول نہیں رہی تھی اور اب اسے بیٹھنے کا کہہ رہی تھی۔
یہ مجھے میرے سر نے ہرٹ کیا ہے۔۔۔۔لیکن کسی کو بتانا مت۔۔۔۔انہوں نے کہا ہے تھا وہ مجھے مارے گیں۔۔۔۔۔اس نے رازداری سے اس کے قریب ہوتے کہا۔
کیوں مارا ہے۔۔۔؟کیا آپ کو سبق نہیں یاد تھا۔۔۔؟ اب کہ باسط نے دلچسپی لی۔
ام ہم۔۔۔اس نے گردن کو ناں میں ہلایا۔۔۔۔وہ نا کہہ رہے تھے کہ میں انہیں کسی دوں گال پر۔۔۔۔۔
لیکن میں بھیو کے علاؤہ کسی سے پیار نہیں کرتی تو کسی کیوں دوں۔۔۔۔تو انہوں نے مجھے یہاں سے زور سے پکڑا اور یہ ہو گیا۔۔۔اس نے معصومیت سے کہتے آنکھیں پٹپٹائیں۔
وہ جو دلچسپی سے سن رہا تھا۔۔۔اب ٹھٹکا۔۔۔۔۔
وہ کیوں کسی مانگ رہے گھے۔۔۔۔؟دسویں کلاس کا بچہ تھا وہ۔۔۔۔سب سمجھتا تھا ۔۔۔۔
پتا نہیں۔۔۔۔وہ تو روز کہتے ہیں۔۔۔اور پتا ہے ایک دن انہوں نے زبردستی میرے گال پر ہلکا سا کاٹا بھی تھا۔۔۔۔
باسط کے ماتھے پر بل پڑے۔۔۔۔۔وہ کون گھٹیا شخص تھا جو یہ سب کر رہا تھا۔
روبی۔۔۔۔میری جان۔۔۔۔یہ کب ہوا۔۔۔۔؟؟
درید باسط کا انتظار کرتا نیچے آیا تھا لیکن یہاں آ کر وہ اس کی آخری دو باتیں سن چکا تھا۔
باسط بھی اپنی جگہ سے کھڑا ہوا۔۔۔
بھیو۔۔۔۔ایسا تو روز ہوتا ہے ۔۔۔۔۔اب آپ کسی کو مت بتانا۔۔۔انہوں نے منع کیا تھا۔۔۔۔اس کے چہرے پر خوف کے آثار واضح تھے۔
درید یزدانی کے چہرے پر سخت تاثرات چھا گئے۔۔۔۔اس نے مٹھیاں بھینچی۔۔۔یہ پہلی بار تھا کہ اسے غصہ آیا تھا۔
اس دو ٹکے کے ملازم کی ہمت کیسے ہوئی۔۔۔؟؟ وہ چلایا تو روبی سکم گئی۔
درید۔۔۔۔باسط نے بولتے اسے رابی کی طرف دیکھنے کا کہا جو اتنی سی آواز پر سہم گئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قاسم نے اسے دیکھا جو اب یہاں وہاں دیکھ رہی تھی۔
یہاں تو کچھ بھی نہیں ہے اس نے اب قاسم کو دیکھتے کہا تو وہ عجیب سے انداز میں مسکرایا۔
ہماری یونیورسٹی کا رول ہے کہ ہم ہر فریشر کو یبیسمنت دکھاتے ہیں یہاں بیک ڈور ہے کوئی مسئلہ ہو تو یہاں سے نکلنا ہے تمہیں ۔۔۔۔۔اس نے بنا سوچے اپنی فضول سی ہانکی تھی۔
اس نے سگریٹ سلگانے اسے دیکھا جو حسین تھی۔۔۔۔اس نے دوپٹے نے خود کو ڈھانپا ہوا تھا سارا۔
مجھے واپس جانا ہے۔۔۔۔منت نے ڈرتے کہا۔۔۔
اوکے چلتے ہیں لیکن ایک شرط پر۔۔۔۔قاسم دلاور نے ہنستے کہا۔
کی۔۔۔۔کیا۔۔۔۔۔۔منت کو اب خوف آرہا تھا یہی وجہ تھی کہ اس کے جسم میں ایک لرزا طاری ہو چکا تھا۔
یہ پیو۔۔۔۔اس نے اپنے لبوں میں دبایا سگریٹ اس کی طرف بڑھایا۔۔۔۔۔آخر یہی سب تو کرتا تھا وہ۔
نوجوان نسل کو ان سب پر لگانا۔۔۔۔۔ابھی اس نے اپنا پہلا شکاری ڈھونڈتے یہی کیا تھا۔
میں نہیں پیتی۔۔۔۔۔اس نے سیڑھیوں پر کافی لڑکیوں کو سگریٹ سلگاتے دیکھا تھا۔
تو اب پی لو۔۔۔۔اچھی ہوتی ہے یہ۔۔۔دلاور نے سگریٹ کا ایک کش اس پر چھوڑتے کہا تو وہ کھانستی دور ہٹی۔
سیڑھیوں پر کسی کا سایہ دیکھتے وہ سگریٹ اس کے ہاتھ میں پکراتا فوراً بیک ڈور سے نکلا تھا۔۔۔۔
اور منت وقار وہ تو اس سگریٹ اور اس کے دھویں کے ساتھ وہیں کھڑی رہ گئی تھی۔
سامنے اسی شخص کو کھڑا دیکھ اس میں امید جاگی۔۔۔۔
یہاں پرنسپل آفس نہیں ہے ۔۔۔۔۔مجھ۔۔۔۔نہیں۔مل۔۔۔
تم سگریٹ پیتی ہو۔۔۔۔۔۔اف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس نے ڈرامائی انداز میں کہا۔
نہیں تو۔۔۔۔۔۔نص۔۔۔یہ۔۔میرا ۔۔نہیں ہے۔۔۔
تمہیں یونیورسٹی کے رولز نہیں پتا ۔۔۔۔یہ سب کرنا منع ہے یہاں۔۔۔۔اس نے سنجیدگی سے کہا اور اس کے نزدیک ہوا۔
منت تو کچھ سمجھ ہی نہیں پا رہی تھی کہ اس کے ساتھ ہوا کیا ہے۔
وہ اسے گھسیٹتا اوپر لے جانے لگا۔۔۔۔۔۔اس کے ہاتھ سے سگریٹ وہ تھام چکا تھا۔
حقیقیت اسے نہیں پتا تھی۔۔۔۔لیکن وہ جانتا تھا یہ حرکت اس ڈرپوک لڑکی کی نہیں۔۔۔۔لیکن اسے کیا فرق پڑتا تھا جس کی بھی ہو ۔۔۔اسے تو پہلا موقع مل چکا تھا۔
اس نے اسے پرنسپل کے آفس کے باہر لاتے باہر کھڑے گارڈ کو دیکھتے اندر جانے کی اجازت مانگی۔
وہ گارڈ اس کی پہنچ سے واقف تھا اس نے اسے جانے دیا۔۔۔۔وہ اندر داخل ہوا تو پرنسپل نے ان دونوں کو دیکھا۔
سر یہ لڑکی بیسمنٹ میں سگریٹ نوشی کرتی پائی گئی ہے۔۔۔
منت جو کب سے یہ سب سمجھنے کی کوششوں میں ہلکان ہو رہی تھی۔۔۔چونکتے فوراً سر اٹھایا۔
فریشر۔۔۔۔؟پرنسپل نے استفسار کیا ۔۔۔
جی سر۔۔۔۔
آپ کو کیسے پتا لگا کہ یہ بیسمنٹ میں ہیں۔۔۔؟
سر مجھے کچھ غلط لگا تو میں نے ان کا پیچھا کیا اور یہ ۔۔۔۔۔۔اس نے سگریٹ ان کے سامنے کیا۔
اوکے جائیں آپ ۔۔۔۔۔انہوں نے کہتے اسے باہر بھیجا تو وہ بھی ایک نظر اس کے سفید پڑتے چہرے پر ڈال کر نکل گیا۔
یور نیم ۔۔۔۔
سر میں نے کچھ نہیں کیا۔۔۔۔تب سے آنکھ میں اٹکے آنسو اب بھل بھل نکلے تھے۔
یور نیم۔۔۔۔۔۔؟
من۔۔۔منت۔۔۔
فل نیم۔۔۔؟
منت وقار۔۔۔۔
وقار حسین؟؟ انہوں نے کچھ سوچتے پوچھا۔۔۔۔۔کیونکہ دو دن پہلے ہی انہیں وقار حسین کی طرف سے کال موصول ہوئی تھی۔
جی۔۔۔۔۔۔!! اس نے آنسو چہرے سے رگڑتے کہا۔
یہ سب۔۔۔۔۔۔انہیں اس کے ڈر اور آنسوؤں سے کہیں سے نہیں لگا کہ وہ معصوم لڑکی یہ حرکت کر سکتی ہے۔۔۔۔۔اور وقار حسین نے انہیں خاص طور پر اس کی حفاظت کرنے کی تنبیہ کی تھی۔
اوکے منت۔۔۔۔تو بتائیں کیا ہوا تھا۔۔۔
اس نے ڈرتے انہیں سب بتادیا۔۔۔۔۔تو انہوں نے سر ہلایا۔
کیا نام تھا اس لڑکے کا۔۔۔۔
مجھے نہیں پتا۔۔۔۔
اوکے کوئی بات نہیں۔۔۔۔ڈرنے کی ضرورت نہیں۔۔۔آپ کو کوئی بھی مسئلہ ہو آپ مجھے انفارم کر سکتی ہیں۔۔۔۔یو مے گو ناؤ۔۔۔۔
انہوں نے کہا تو اس نے نم آنکھوں سے سر اٹھایا۔۔۔۔اگر یہ بات اس کے بابا کو۔۔۔۔نہیں۔
وہ باہر نکلی تو وہ کچھ دور کھڑا شاید اسی کا منتظر تھا۔۔۔
وہ پاس سے گزری اور رکی اور اپنی نم معصوم جھیل جیسی آنکھیں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا۔
“آئی ہیٹ یو” یہ تین لفظ ادا کرتے اس کی آواز رندھ گئی وہ دوڑتے وہاں سے نکل گئی۔
یہ پہلی بار اس نے سنا تھا خود کے لیے۔۔۔۔اور اب ناجانے کتنی بار سننے والا تھا۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے پونے بارہ کا انتظار ناجانے کیسے کیا تھا۔۔۔اور پھر وقت آن پہنچا تھا۔۔۔
وہ خاموشی سے اس شخص کے ساتھ باہر نکل گئی۔۔۔کسی نے بھی ان سے نہیں پوچھا تھا کچھ۔۔۔۔شاید درید یزدانی کا خوف تھا۔
وہ باہر گئی تو وہ اپنی گاڑی میں موجود تھا۔۔۔۔وہ پیچھے بیٹھی تو اس نے گاڑی زن سے بھگائی اور مین روڈ پر ڈالی۔
تمہیں پتا ہے ہم کہاں جا رہے ہیں۔۔۔۔اس نے سامنے والا آئینہ اس پر سیٹ کرتے کہا۔
ن۔۔نہیں۔۔۔۔اس نے کہتے کھڑکی سے باہر دیکھا۔۔۔۔۔
میرے فلیٹ۔۔۔۔۔اس نے کہتے کچھ جانچنا چاہا۔۔۔لیکن اس لڑکی کے چہرے کے تاثرات ہنوز تھے۔
اس نے سر جھٹکا۔۔۔۔۔سب ایک جیسی ہوتی ہیں۔۔۔۔اس نے دل میں سوچا اور گاڑی کی اسپیڈ بڑھائی۔
آج اسے آپا کا فون آیا تھا۔۔۔وہ اس محلے دار لڑکی کو بچانا چاہتی تھی جو ان کی دوست کی بیٹی بھی تھی۔
اس نے ویسا ہی کیا تھا۔۔۔۔ان کا کہنا تھا کہ وہ اسے منظر عام سے سال دو سال کے لیے غائب کر دے۔
اس کی سوتیلی ماں اور تایا کی ضمانت کل ہونے والی تھی جس سے وہ انجان تھی۔۔۔۔۔اس کے باپ کو انصاف نہیں ملا تھا۔
وہ ایس ایچ او کیسے اسے وہاں سے نکلوا لایا تھا۔۔۔۔اس اندھے قانون کو دیکھتی وہ من ہی من میں مسکرائی۔
وہ تمام لوگ جو اونچے عہدوں پر فائز ہیں ان سے کبھی نہیں پوچھا جاتا کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔
اس کے چہرے کی تلخ مسکراہٹ۔۔۔۔آگے بیٹھے درید یزارنی نے بھی دیکھی تھی۔
اس نے گاڑی جھٹکے سے روکی تو وہ اس کے پیچھے اتری اور اس کے ساتھ اس کے پیچھے چلنے لگی۔
تیسری بلڈنگے کے روم نمبر چھیالیس میں آئے تھے وہ۔۔۔۔۔۔وہ فلیٹ اچھا خاصا وسیع تھا۔
اس نے اسے دیکھا جو جوتے اتارتا اب وہیں سامنے صوفے پر بیٹھ گیا تھا۔
بیٹھ جاؤ لڑکی۔۔۔۔اس نے کہا تو وہ بھی بیٹھ گئی۔
اس ایک سال میں کیا کرو گی۔۔۔۔۔ظاہر سی بات ہے اپنے آپ کو پالنے کے لیے کام تو کرنا پڑے گا۔
اس نے سر اٹھا کر اس شخص کو دیکھا۔۔۔۔
ایسے مت دیکھو ۔۔۔۔۔۔تم سارے کام میرے کرو گی۔۔۔۔بنا معاوضے کے۔۔۔۔بھئی تمہیں اس جیل سے نکلوا کے لایا ہوں اتنا تو بنتا ہے۔۔۔۔
اس نے سر ہلایا۔۔۔۔۔آگے کیا ہمارے والا تھا وہ انجان تھی لیکن تھوڑی سی پرسکون کے زندگی اس کالکوٹھری میں تو نہیں گزرنے والی تھی۔
کہیں بھی کام کر لوں گی۔۔۔آپ کوئی جگہ۔۔۔
اتنے احسان میں ایک ساتھ نہیں کرتا۔۔۔۔۔ایک آج کر دیا ہے۔۔۔۔وقت کیساتھ ہو سکتا ہے آگے بھی کر دوں اس نے جمائی لیتے بیزاری سے کہا۔
یہاں میرے کمرے کے علاؤہ ایک گیسٹ روم ہے۔۔۔۔اب وہ تو تمہیں نہیں دے سکتا ۔۔۔یہ باہر لاونج ہے اور ایک سٹور جہاں رہنا ہے دیکھ لو۔۔۔۔
وہ کہتا اٹھا کر چلا گیا تو اس نے اس فلیٹ میں موجود آخری دروازے کی طرف دیکھا۔۔۔۔اور اس کی طرف چلی گئی۔۔۔
وہ ایک چھوٹا سٹور روم تھا لیکن زیادہ سامان نہ تھا۔۔وہ صفائی کو کل پر ڈالتی چادر وہیں رکھتی وہاں موجود گدے پر لیٹ گئی جو وہیں پڑا تھا۔
کہ اس کے اعصاب اس قدر تھک چکے تھے کو وہ بس نیند لینا چاہتی تھی۔
اور پھر وہ کل کی فکر سے آزاد آنکھیں موند گینں یہ جانے بنا کہ زندگی اس سے کیسے کیسے امتحان لینے والی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
درید تم بلواؤ اسے فون کر کے۔۔۔۔۔باسط نے اسے آنکھوں سے ٹھنڈا رہنے کی تلقین کی۔
درید نے بھینچے جبڑوں سے ملازم کو آواز دیتے فون لانے کو کہا۔۔۔۔
پاپا کو وہ ابھی بعد میں بتاتا یا شاید بتاتا ہی نا۔۔۔۔اس کی بہن کا معاملہ تھا باپ کے گھر آنے کا انتظار نہیں کر سکتا تھا وہ۔
وہ طیش سے یہاں وہاں چکر لگانے لگا۔۔۔۔جوان خون تھا جو جوش مار رہا تھا۔
رباب بیٹھ جائیں۔۔۔۔اسے ڈرتا دیکھ باسط نے کہا تو وہ بیٹھ گئی۔۔۔۔
درید بیٹھ جاؤ۔۔۔۔باسط نے درید کو بھی خاموشی سے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
یہ کب سے ہو رہا ہے۔۔۔۔؟باسط نے پوچھا۔۔۔۔۔
سر ایسے ہی کرتے ہیں۔۔۔۔۔اس نے سادگی سے جواب دیا۔۔۔۔تو درید کا غصہ مزید بڑھا۔۔۔۔
آپ کو پتا ہے اسے کیا کہتے ہیں۔۔۔؟باسط نے کہا تو اس کے ساتھ درید نے بھی سر اٹھا کر اسے دیکھا۔
ام ہم۔۔۔۔اس نے ناں میں سر ہلایا۔۔۔
درید کو تو وہ اب دیکھ بھی نہیں رہی تھی کیونکہ وہ چلایا تھا۔۔۔۔
اسے بیڈ ٹچ بولتے ہیں۔۔۔۔جب کوئی آپ کو ہاتھ لگائے اور چھونے کی کوشش کرے تو سمجھیں کہ یہ اچھا نہیں ہے۔۔۔آپ کو فوراً اپنے بابا اور بھیو کو بتانا ہے باسط نے اسے سمجھایا۔
وہ غور سے اسے سن رہی تھی۔۔۔۔۔درید نے اسے دیکھا۔۔۔۔جو اس کی بہن کو سمجھا رہا تھا۔
جب بھی آپ کو لگے کہ کوئی آپ سے ایسی بات کر رہا ہے جو آپ کو سمجھ میں نہیں آ رہی اور اچھی نہ لگے
تو فورآ وہ جگہ چھوڑ دیں۔۔۔۔
کسی بھی انجان شخص سے نا ہی بات کرنی ہے ۔۔۔نا اس کی بات سننی ہے۔۔۔۔۔اور ٹچ تو کسی کو نہیں کرنے دینا۔۔۔۔
اووو۔۔۔۔وہ اسے دھیان سے سنتی سر تیزی سے ہاں میں ہلا رہی تھی۔
اب آپ کو پتا چل گیا ہے کہ بیڈ ٹچ کیا ہوتا ہے۔۔۔۔باسط نے اسے دیکھتے کہا تو اس نے سر ہاں میں ہلایا۔
اوکے۔۔۔۔۔!
گڈگرل۔۔۔۔بابا اور بھیو کے علاؤہ کسی کی بات نہیں ماننی اوکے۔۔۔۔چلو جاؤ بھاگ کر دیکھ کر آؤ آپ کے بابا آ گئے ہیں یا نہیں۔۔۔۔۔اس نے اسے بھیجنے کی خاطر کہا۔
اس نے درید کو دیکھا جو تشکر بھری نظروں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
شکریہ کی ضرورت نہیں۔۔۔۔اپنی بہن کو بھی میں یہ سب سمجھا چکا ہوں۔۔مجھے یہ آسان لگا تو بتا دیا۔۔۔۔باسط نے کہا۔
تیری بہن۔۔۔۔؟درید نے حیرانی سے پوچھا۔
لمبی کہانی ہے پھر کبھی۔۔۔۔۔۔
درید نے اس کے قریب آتے اسے گلے لگایا۔۔۔۔اور نم آنکھوں سے مسکرا دیا۔۔۔۔اسے ہیرے جیسا دوست ملا تھا۔۔۔۔
شاید وہ اتنے اچھے سے رباب کو یہ سب نہ بتا پاتا۔۔۔۔یہ سب باتیں اس کی ماں کی بتانے والی تھی لیکن وہ تو نہیں تھی نا۔۔۔تو یہ سب اب اس کا فرض بنتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے بعد اس نے کوئی کلاس لی ہی نہیں تھی۔۔۔۔پہلے ہی دن یہ سب۔۔۔اس کا ننھا دماغ سہہ نہیں پا رہا تھا۔
وہ باہر نکلی۔۔۔۔اس کے باپ نے ڈرائیور کو وہیں رکنے کا کہا تھا سو وہ انہیں کے ساتھ یہ کہتی باہر آگئی کہ آج پہلے دن ایک ہی کلاس تھی۔
وہ گھر چلی گئی اور سارا دن اپنے کمرے میں بند رہی۔۔۔۔۔اسے نہیں جانا تھا وہاں واپس۔۔۔۔اس جگہ جہاں اتنے گندے لوگ تھے۔
تبریز شاہ نے اسے جاتا دیکھا تھا۔۔۔۔۔اس کا دل خالی تھا ان سب کے بعد وہ کندھے اچکاتا آگے بڑھ گیا۔
پھر پورا دن وہ اسے کہیں نظر نہیں آئی تھی۔۔۔۔۔شاید جا چکی تھی۔
ڈرپوک ہرنی۔۔۔۔اس نے پہلا خطاب دے دیا تھا اسے۔
آج پہلی ملاقات ان دونوں کی اچھی تو ہرگز نہ تھی۔۔۔۔۔۔۔شاید آگے بھی نہیں ہونے والی تھی۔
اس نے کبھی یہ فضول کی حرکتیں اس سے پہلے نہ کی تھیں۔۔۔۔لیکن اب کر رہا تھا ایک خاص مقصد کے تحت۔
وہ گھر آ کر اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔۔۔کہ گھر میں بھی اس کی کہاں کسی سے زیادہ بنتی تھی۔
شام کے کھانے کی میز پر اس کی ماں اور سوتیلا باپ موجود تھے۔
کب ختم ہو رہا ہے تمہارا آخری سمیسٹر۔۔۔۔۔اس کے باپ نے منہ میں نوالہ ڈالتے پوچھا۔
چار مہینوں میں اس نے بنا ان کی طرف دیکھتے جواب دیا۔
اس کی ماں فون پر مصروف تھی کھانے کے ساتھ۔۔۔۔ویسے بھی انہیں کہاں کسی چیز میں دلچسپی ہوا کرتی تھی۔
اس کے بعد بزنس میں آؤ۔۔بہت پیسا لگایا ہے تم پر میں نے۔۔۔زرا مجھے بھی فائیدہ پہنچاؤ کوئی۔
جی ڈیڈ جلد ہی۔۔۔۔اس کا سوتیلا باپ اس کا آئیڈیل رہا تھا ہمیشہ سے ۔۔۔۔۔۔۔وہ انہیں کی طرح کامیاب بننا چاہتا تھا۔
یہی وجہ تھی کہ وہ ان کی ہر تلخ بات کو بنا کچھ کہے سہہ جاتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں جلد ہی آپ کو فائیدہ پہنچاؤ گا ڈیڈ۔۔۔۔۔اس نے دل میں سوچتے فیصلہ کیا تھا جس پر اسے انہیں چار مہینوں میں کام کرنا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح وہ اٹھی تو وہ جا چکا ہے ۔۔۔۔اس نے دوپٹہ باندھا اور کام میں جٹ گئی۔۔۔۔وہ فلیٹ بظاہر تو صاف دکھا تھا لیکن تھا نہیں۔
سارا سامان گھر کے درازوں، الماریوں میں چھپایا گیا تھا ۔۔۔۔۔۔کہ گھر صاف دیکھے۔
اس نے سب نکال کر کوڑے کا ایک تھیلا بنا ڈالا تھا۔۔۔۔اور اب اس کی قمر کی حالت نازک تھی ۔۔۔۔شام کے سات بجے اس نے سارا فلیٹ سوائے اس کے کمرے کے چمکا ڈالا تھا۔
اس نے اسکے کمرے میں جانا مناسب نہ سمجھا تھا ۔۔۔۔۔۔یہی وجہ تھی کہ اس کے دروازے کے پاس بھی وہ نہیں گئی تھی۔
صبح اس نے کچن میں موجود ڈبل روٹی کے دو پیس کھائے تھے اب اس کی بھوک سے جان نکل رہی تھی لیکن گھر میں کھانے کو کچھ نہ تھا۔
وہ بار بار پانی پی کر خود کو تسلی دیتی کہ شاید وہ آتا سامان لے آئے۔
شام ساڑھے آٹھ اس کی واپسی ہوئی تھی۔۔۔۔صاف گھر کو دیکھتے اس کے دل پر اچھا تاثر پڑا تھا۔
اس نے کھانے کا شاپر کچن میں رکھا تو اس کی بھوک پھر سے چمک اٹھی۔
کھانا نکالو۔۔۔۔۔میں فریش ہو کر آتا ہوں۔۔۔۔وہ اپنے کمرے میں چلا گیا۔
کچھ دیر پہلے جو اس پر اچھا تاثر پڑا تھا وہ پل میں زائل ہوا۔
لڑکی۔۔۔۔۔۔۔وہ چیخا ۔۔۔۔ وہ جو سامان نکال رہی تھی چونکی اور اس کی طرف گئی۔
میرا کمرہ کس نے صاف کرنا تھا۔۔۔۔۔۔؟ وہ غرایا۔
وہ۔۔۔مجھے۔۔۔لگا۔۔۔آپ کو برا لگے گا۔۔۔۔
کس چیز کا ۔۔۔۔اس نے بیزاری سے اس کی شکل دیکھی۔۔۔۔جو دوپٹے میں لپٹی تھی۔
آپ کی پرسنل چیزوں کو ہاتھ لگانے سے۔۔۔۔اس لیے نہیں کیا۔۔۔وہ اس کی آواز سے ہی ڈر گئی تھی لیکن ہمت کرتے بولی۔
گھر کی ملازماؤں کو اجازت ہوتی ہے۔۔۔۔تو تم بھی کر سکتی ہو۔۔۔۔
کل مجھے یہ صاف ملے۔۔۔۔۔اس نے پل میں اسے اس کی اوقات یاد دلائی اور اس کے منہ پر دروازہ بند کیا۔
اس کا دل پل کے لیے دکھا تھا لیکن پھر اس نے گہری سانس بھری۔۔۔کہ یہی زندگی تھی اب۔
لیکن اب تک وہ محفوظ تھی ۔۔۔وہ کیسا بھی تھا۔۔۔کم از کم اس کے ساتھ حد میں رہا تھا نہ زیادہ بات کی تھی اس کے لیے یہی باعث راحت تھی۔
اس نے سامان نکالا جس میں ایک ٹن اور بریانی کا ایک بڑا ڈبہ تھا۔۔۔۔۔تو کیا وہ اس کے لیے کچھ نہیں لایا۔
اس نے فریش ہوتے اس سے کھانا منگوا لیا۔۔۔۔۔تو وہ لے کر آئی اور وہیں کھڑی ہو گئی۔
اس نے کھانا کھانا شروع کیا تو وہ واپس کچن میں آ کر سٹول پر بیٹھ گئی۔۔۔۔بھوک اب برداشت سے باہر ہو رہی تھی۔۔۔اب پانی بھی اسے راحت نہ دے سکا تھا۔
وہ وہیں بیٹھی اپنی قمست کو سوچتی رہی۔۔۔۔۔اپنے گھر میں اسے کبھی بھی سارا دن کے لیے بھوکا تو نہ رہنا پڑا تھا۔
وہ اٹھ کر چلا گیا تو وہ اس کے برتن اٹھانے گئی۔۔۔۔ٹن خالی تھا لیکن بریانی کی پلیٹ میں کچھ بریانی باقی تھی۔
اس کی پلیٹ کے حالات کافی بڑے تھے اس کی جوٹھی ہڈیاں اس میں مکس پڑی تھی۔۔۔اور اس کا استعمال شدہ ٹشو بھی انہیں چاولوں میں پھینکا گیا تھا۔
وہ فورا کچن میں اس کی پلیٹ لے کر آئی اور ٹشو اور ہڈیاں نکالتے وہیں سٹول پر بیٹھی اس کا بچا ہوا کھانے لگی۔۔۔۔کہ اب نہ کچھ کھاتی تو بیہوش ہو جاتی۔
اس چھ سات نوالوں سے اسے کچھ تو آسرا ہو جاتا۔۔۔وہ جلدی جلدی کھاتی دو گلاس پانی کے ساتھ انڈیل چکی تھی۔
وہ جو اسے چائے کا کہنے آیا تھا اسے دیکھ کر چونکا جو ۔۔۔۔۔اس کا جوٹھا تیزی سے کھا رہی تھی۔
اس نے پہلی بار کسی کو جوٹھا کھاتے دیکھا تھا۔۔۔۔
لڑکی۔۔۔۔۔اس نے پکارا تو وہ چونکی اور جھٹ سے پہلے رکی۔
سوری۔۔۔۔وہ میں۔۔۔۔
لسٹ بنا دوکل گھر کا سامان آجائے گا۔۔۔۔وہ کہتا بنا چائے کا کہے نکل گیا کہ شاید چائے کا سامان بھی نہ ہو تو اس شرمندہ نہ ہونا پڑے۔
وہاں وہ شرمندگی کے سمندر میں گر گئی۔۔۔۔۔۔۔۔اس نے پلیٹ دھو کر رکھی اور واپس اپنی جائے پناہ کی طرف چلی گئی ۔۔۔۔۔کہ اب کھانا کھاتے تھکاوٹ سے اسے فوراً نیند آجاتی۔
اس نے آنکھیں موندے خود کو زندگی میں آنے والی نئی جنگوں کے لیے تیار کیا۔
