Shiddat-e-Talab by Suneha Rauf NovelR50408 Shiddat-e-Talab Episode 18 (Part 2)
No Download Link
Rate this Novel
Shiddat-e-Talab Episode 18 (Part 2)
Shiddat-e-Talab by Suneha Rauf
اسے سب یاد تھا کیسے وہ شخص ستم گر رہا تھا۔۔۔۔ان سب کے باوجود اسے اس سے محبت ہو گئی تھی۔
وہ ماضی کو یاد کرنے لگی جیسے وہ اسے تنگ کیے رکھتا تھا۔۔۔۔
لیکن تبریر شاہ اسے تنگ کرنے کے چکر میں یہ بھول گیا تھا کہ وہ باقی سب بھلائے منت وقار کے پیچھے پڑا ہے۔۔۔
آغاز میں اس کا مقصد منت کے زریعے اس کے والد تک پہنچنا تھا۔۔۔لیکن آہستہ آہستہ یہ مقصد تو ختم ہی ہو گیا۔
وہ منت وقار کی زات میں اتنا مشغول ہو گیا تھا کہ اپنا مقصد تک بھول گیا۔۔۔۔وہ واحد لڑکی تھی اس پوری یونیورسٹی میں۔
جو اس کے ظلم کا شکار ہوتی تھی۔۔۔لیکن یہ کہنا غلط نہ تھا کہ وہ واحد لڑکی تھی جس پر کوئی بھی تکلیف وہ شخص برداشت نہیں کرتا تھا۔
وہ خود اس کے ساتھ لاکھ بُرا کرے لیکن دوسرے کو اجازت نہ دی تھی اس نے ایسا کرنے کی۔
آج بھی اسے یاد تھا کہ اس کے دوست جس کو اس نے منت سے بنوا کر اسائنمنٹ دی تھی وہ اس شخص کو نہیں جانتی تھی۔
لیکن اس کی بہن نے ایک روز منت کو واش روم میں بند کر دیا تھا۔۔۔۔حسد تھا اسے منت وقار سے کیسے اسے تبریز شاہ مل سکتا تھا۔
پہلے اس لڑکی کو لگا کرتا تھا کہ تبریز شاہ کا ٹیسٹ ماڈرن لڑکیاں ہیں اسی لیے وہ اس پر نظر ثانی نہیں کرتا لیکن منت کو دیکھتے اسے حسد تھا اس سے۔۔۔کہ اگر منت کو دیکھتا ہے تو اسے کیوں نہیں۔
منت وہاں پڑی خوف سے بیہوش ہو گئی تھی جب دو گھنٹے بعد اس نے وہاں بھاگ کر کسی کے آنے کو محسوس کیا تھا۔
وہ شخص اس پر جھکا پاگلوں کی طرح اس کے ہاتھ سہلا رہا تھا۔۔۔۔اس کی آنکھوں کی بے تابی کوئی بھی دیکھ سکتا تھا۔
اسے اٹھا کر باہر لایا اور اپنے ساتھ لگاتے پانی پلایا۔۔۔۔یہ کرم نوازیاں وہاں موجود کافی لوگوں نے دیکھیں تھی جن میں وہ لڑکی بھی شامل تھی۔
تبریز شاہ کی ایک گھوری پر میدان خالی ہو چکا تھا وہ اب تک اس کا ہاتھ رگڑتا اسے نارمل کر رہا تھا۔
کیسے پہنچی تم وہاں۔۔۔تمہیں اندازہ ہے کہ یہ واش رومز استعمال نہیں کیے جاتے۔۔۔۔تم یہاں کب تک پھنسی رہتی کسی کو پتا بھی نہ چلتا ۔۔۔تم یہاں کیسے آئی وہ اسے ڈانٹ رہا تھا اب شاید۔۔۔۔
مجھے اس نے بند کیا تھا۔۔۔۔اس کا اتنا کہنا تھا کہ تبریز شاہ کی آنکھوں میں سرخی اتر آئی۔
کون تھی۔۔۔۔کیا پہچان لو گی۔۔۔۔؟
منت کے ہاں کہتے ہی وہ اسے لے گیا اور پھر وہاں موجود جتنے لوگ تھے وہاں ان سب کو دیکھتے منت کو دیکھا منت نے اس کا ہاتھ تھاما تو وہ سمجھ گیا کہ وہ پہچان گئی ہے۔
اسے لیتا وہ وہاں سے نکل گیا۔۔منت اسے اس لڑکی کا حلیہ بتا چکی تھی آگے اس کا کام تھا۔
ایک چیز منت وقار پہچان گئی تھی کہ تبریز شاہ کے لیے وہ عام لڑکی نہ تھی۔۔۔۔اس کی خود کے لیے فکر کو دیکھتے وہ حیران تھی بے حد۔۔۔۔
اور پہلی بار اس کا دل تبریز شاہ کے لیے دھڑکا تھا اور پھر نجانے کب وہ ان سب میں ملوث ہوئی۔
لیکن پسندیدگی محبت میں اس شخص سے نکاح کے بعد ہی بدلی تھی۔۔۔۔
وہ کہاں کھو گئی تھی کتنا وقت گزار گیا تھا وہ ہوش کی دنیا میں لوٹی تو ظہر کی آزانیں ہونے والی تھی۔۔۔
اس نے کھانا بنایا اور بکھری چیزیں سمیٹی اب یہ اس کا گھر تھا۔۔۔یہ بات اس کے دل کو کتنا سکون پہنچا رہی تھی وہ بتا نہیں سکتی تھی۔۔۔۔۔۔
اب وہ کھانا کھاتی بور ہوتی یہاں وہاں گھوم رہی تھی نماز ادا کر کے تلاوت کرتی اب وہ باہر کاوئچ پر لیٹ کر ٹی وہ اون کر چکی شام کے پانچ بج رہے تھے۔
باتوں میں لگا کر مجھے بتایا بھی نہیں کہ کب آئیں گے۔۔۔۔وہ وہیں بیٹھی ناجانے کب تک ٹی وی دیکھتی رہی تھی۔
اب چینل آگے پیچھے کرتے اس کی نظر کے سامنے جو آیا تھا وہ رکی تھی۔
اور پھر نیچے چلتی پٹی کو اس نے صدمے سے دیکھا تھا۔۔۔کیا بکواس شائع کرتے ہیں یہ۔۔۔۔۔وہ سیدھی ہو کر بیٹھی اور ریپورٹر کے بار بار دہرائے جانے والے الفاظ بے خیالی میں سنتی رہی۔
چونکی تب جب اس کے سامنے وہ تصویر آئی۔۔۔۔اس کے ہونٹوں پر تلخ مسکراہٹ بکھری۔۔۔۔۔
لوٹنا تمہیں منت وقار کے پاس ہی ہے تبریز شاہ۔۔۔۔۔وہ اس کی ہی بات دہراتی اٹھ کر کمرے میں بند ہو گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر اس نے ربائشہ کا دھیان کسی بچے کی طرح رکھا تھا، وقت پر اس کا کھانا، اس کے کپڑے اس کی ہر چیز کو اس نے حفظ کر لیا تھا۔
درید ۔۔۔۔
ہممم۔۔۔۔۔
وہ ابھی اسے دوا دے کر بیٹھا تھا لیپ ٹاپ پکڑ کر۔۔۔۔وہ آج کل کچھ پریشان تھا کیونکہ وہ عورت جیل سے بھاگ گئی تھی کیسے یہی وہ جاننا چاہ رہا تھا۔
میرا دل بُرا ہو رہا ہے۔۔۔۔۔اس نے اٹھ کر بیٹھتے کہا تو درید نے نظریں اس پر اٹھائیں۔
ڈاکٹر کے پاس چلیں۔۔۔؟
نہیں ۔۔۔۔
آپ مجھ پر دھیان دیں۔۔۔۔
تھوڑا سا کام ہے کر کے آتا ہوں رابی۔۔۔۔آج کل کام بہت زیادہ ہو گیا ہے۔۔۔۔۔ایک کیس پر کام کر رہا ہوں۔۔۔۔وہ اسے بتاتا واپس کام پر لگ گیا۔
تھوڑی دیر بعد ہوش میں آتے نظریں اٹھائیں تو وہ اوندھے منہ لیٹی تھی اسے لگا وہ سو گئی ہے۔
لیکن کمرے میں سسکی کی آواز سنتے وہ اپنا لیپ ٹاپ چھوڑتا اس کے پاس آیا تھا۔۔۔۔
تڑپ کر اسے سیدھا کیا تو اس کا چہرہ آنسوؤں سے بھرا تھا۔۔۔۔وہ دنگ رہ گیا اسے تولگا تھا وہ سو گئی ہے
کیا ہوا۔۔۔۔۔؟رابی طبیعت ٹھیک ہے؟ ڈاکٹر کے پاس چلیں۔۔۔
مجھے کہیں نہیں جانا ہے۔۔۔اس نے درید کے ہاتھ جھٹکتے چیختے کہا۔
ربائشہ۔۔۔۔۔۔آواز آہستہ رکھو اور مسئلہ بتاؤ مجھے کیا ہے وہ سنجیدہ ہوا۔
کوئی مسئلہ نہیں ہے آپ اپنا کام کریں۔۔۔۔۔اس نے کمفرٹر منہ پر لیتے کہا۔
کام ہی کر رہا تھا جو تم نے کرنے نہیں دیا۔۔۔۔۔کیا چاہتی ہو۔۔۔؟ہر وقت تمہارے ساتھ نہیں بیٹھ سکتا میں رابی۔۔۔۔۔۔اس نے پیار سے اسے پچکارا۔
کیا میں نے ایسی کوئی ڈیمانڈ آپ سے کی ہے۔۔؟ اس نے کہا تو درید نے گہری سانس بھری۔۔۔۔
وہ نا کہتے ہوئے بھی یہی چاہ رہی تھی وہ جانتا تھا ۔۔۔۔۔اس سے بہتر وہ اسے جان گیا تھا اب۔
اچھا چلو۔۔۔۔۔بتاؤ آئس کریم کھاؤ گی۔۔۔؟درید نے اسے اٹھا کر ساتھ لگاتے کہا۔
نہیں ۔۔۔۔
سوچ لو۔۔۔۔میرا تو دل ہے میں لینے جا رہا ہوں فریج میں رکھی ہے بول دو کھانی ہے تو۔۔۔۔
کہا نا نہیں ۔۔۔۔۔۔ربائشہ نے منہ بسوڑتے کہا تو وہ کندھے اچکاتا اپنے لیے لینے چلا گیا۔
اسے لگا تھا وہ اس کی لائے گا اور زبردستی اسے کھانے کا کہے گا لیکن وہ اپنی باؤل میں نکال لایا تھا اور اسی کے پاس بیٹھتا کھا رہا تھا۔
شاپنگ ہو گئی پوری کچھ اور چاہیے۔۔۔۔اس کی طرف دیکھتے درید نے استفسار کیا تو اس نے سر نفی میں ہلایا۔
شکر ہے۔۔۔۔۔اتنا خرچہ تو میں نے ساری زندگی خود پر نہیں کیا وہ ڈرامائی سانس چھوڑتا بولا۔
آپ ہی کی اولاد ہے۔۔۔۔
اچھا تو تمہاری کچھ نہیں لگتی۔۔۔۔۔درید نے اسے لاجواب کیا اور اس کی طرف دیکھا جو سامنے دیکھ رہی تھی۔
پھر اپنا چمچ اس کے آگے کرتے اس کے منہ میں ڈالا اور اسے آئس کریم کھلانے لگا۔۔۔۔یہ اس کی پریگنینسی کے کچھ آخری مراحل تھے وہ نہیں چاہتا تھا اسے کسی قسم کی ٹینشن دے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ان کی زندگی میں ٹہراؤ تو آ گیا تھا لیکن رباب کو لگتا تھا باسط کو اس سے محبت نہیں ہے، یہ بات اسے کچوکے لگاتی تھی کہ اس کے شوہر کو اس سے محبت نہیں ہے۔
وہ اسے خود سے محبت کروانا چاہتی تھی۔۔۔۔۔اس لیے اس نے اپنے آپ کو پور پور اس کے رنگ میں ڈھال لیا تھا۔
روز صبح اٹھتے اس کے کام کرنا، اسے کھانا دینا، یوٹیوب سے نے نت نئے پکوان دیکھ کر بنانا اس کی ساری توجہ باسط ضیاء پر تھی۔
وہ کیا کرتا ہے، کہاں جاتا ہے، کب آتا ہے، کیا کھائے گا سب۔۔۔اس نے اپنے آپ کو اس میں اتنا مصروف کر لیا تھا کہ وہ کبھی کبھی بھول جاتی تھی کہ اس کی اپنی زات بھی ہے۔
ابھی بھی اس کے آتے اسے پانی دیتے، وہ کھانا لگانے لگی تھی ۔۔۔۔آج اس کے لیے اس نے اچار گوشت بنایا تھا۔
اب وہ نوالے لیتا کھانے میں مصروف تھا وہ اپنا کھانا چھوڑ کر اسے دیکھ رہی تھی۔
باسط نے سر اٹھایا تو وہ اسے ہی آنکھوں میں جگنو لیے اسے دیکھ رہی تھی وہ مسکرایا۔
بس ٹھیک ٹھاک ہی بنا ہے۔۔۔۔۔۔اس نے مصنوئی بیزاری سے کہا تو آنکھوں میں جلے جگنو بجھ گئے پل میں۔
اچھا۔۔۔۔!
میں نے تو پوری ریسیپی فولو کی تھی ۔۔۔۔۔اگلی بار پھر سے کوشش کروں گی وہ کہہ پر چھوٹے چھوٹے لقمے لینے لگی۔
چائے لے آؤ۔۔۔۔باسط کہتا کمرے میں چلا گیا تو وہ چائے بنانے لگی۔۔۔۔اسے خود پر غصہ بھی آیا اسے تو لگا تھا بہت اچھا سالن اس نے بنایا ہے پھر باسط کو کیوں پسند نہیں آیا تھا۔
وہ چائے اسے دے کر اس کے کل کے کپڑے دیکھنے لگی۔۔۔۔
کیا کر رہی ہو۔۔۔؟
آپ کے کل کے لیے کپڑے نکال رہی ہوں۔۔۔۔
واپس آجاؤ ادھر۔۔۔
کیوں کل آپ نہیں جا رہے۔۔۔۔۔کپڑے تو نکالنے دیں؟۔۔
رباب آجاؤ۔۔۔۔۔اس نے کہا تو رباب الماری بند کرتی اس کے پاس آئی۔۔۔۔
باسط سے اس کی کوئی بھی حرکت ڈھکی چھپی نہیں تھی۔۔۔۔وہ کیسے اس کی زات میں بس گئی تھی وہ سب دیکھتا تھا۔
باسط کی ایک ایک چیز اسے حفظ تھی۔۔۔۔وہ کہتا نہیں تھا لیکن وہ سب محسوس ضرور کرتا تھا۔
ہماری زندگیوں میں نوےّ فیصد مرد ایسے ہیں جو بیان کرنے میں ایک دم صفر ہیں اپنے خیالات۔۔۔۔کہ انہیں کیسا لگتا ہے ، انہیں کتنی محبت ہے ہم سے۔۔۔۔۔لیکن آنکھیں ۔۔۔۔۔آنکھیں اور رویہ سب بیان کرتا ہے۔۔۔ایک مرد اپنے لفظوں سے نہیں نظروں اور رویہ سے بتاتا ہے سامنے موجود عورت اس کی زندگی میں کیا معنی رکھتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اس رات واپس آیا ہی نہیں تھا۔۔۔۔۔۔منت نے نیند میں ہی اٹھتے کئی بار گھڑی کو دیکھا تھا۔
اگلے دن بھی اس نے سارا کام کر لیا تھا سب لیکن وہ ابھی بھی نہیں آیا تھا اس کے چہرے پر تلخ مسکراہٹ ابھر کر معدوم ہو جاتی۔
شام کے سات بجے مین گیٹ کھل کر بند ہوا تھا ۔۔۔
وہ جانتی تھی وہی ہے اسی لیے کوئی رسپانس نہیں دیا۔۔۔۔وہ اندر آیا اور سیدھا باورچی خانے میں داخل ہوا جہاں اس کی موجودگی کا علم تھا اسے۔
اسلام علیکم!
وعلیکم السلام!
کیسی ہو؟؟اس کے پاس جاتے پیچھے سے اس کے سر پر لب رکھتے اس نے ایسے پوچھا تھا جیسے کچھ ہوا نہ ہو۔
منت نے جواب دینا مناسب نہ سمجھا تھا۔۔۔۔۔وہ جان گیا کہ اسے معلوم ہو گیا ہے۔۔۔
منتتت۔۔۔۔کیا میں کلیر کروں۔۔۔؟ اس نے سنجیدگی سے پوچھا۔۔۔
نہیں ۔۔۔۔!مجھے اس کی ضرورت معلوم نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔۔۔یہاں وہ اس خبر کے متعلق بات کر رہے تھے۔
کھانا کھا کر آئے ہیں یا لگاؤں۔۔۔۔۔منت نے اس کی طرف چہرہ کرتے پوچھا جو سنجیدہ سا کھڑا اب بھی اسے دیکھ رہا تھا۔
بھوک نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔!
اس نے کہتے منت کی آنکھوں میں دیکھا جہاں ڈھونڈنے پر بھی کچھ نہیں ملا تھا اسے تو لگا تھا وہ شور مچائے گی چیخے گی اس پر ناراض ہو گی۔
منت نے اپنا کھانا نکالا اور وہیں بیٹھی کھانے لگی تو وہ بھی فریش ہونے چلا گیا۔۔۔۔وہ بے حد تھکا تھا لیکن منت کے ری ایکشن کو دیکھتے وہ پریشان ہوا تھا۔
منتتت۔۔۔۔
منتتت۔۔۔۔۔وہ وہیں کمرے سے اسے آوازیں دیتا بلا رہا تھا۔۔۔وہ سن کر ان سنا کرتی لقمے منہ میں ڈالنے لگی۔
وہ لمبے ڈگ بھرتا باہر آیا اور اس کے سر پر کھڑا ہو گیا۔۔۔۔۔
سنائی نہیں دے رہی میری آواز؟ یا سننا نہیں چاہ رہی ہو۔۔۔۔
میں کھانا کھا رہی تھی۔۔۔۔منت نے تحمل سے جواب دیا تو اس نے ہونٹ بھینچے۔۔۔۔
وہ چیخ چلا لیتی تو اسے ہینڈل کر لیتا لیکن وہ یہ سب کیا کر رہی تھی۔
کپڑے نکالو میرے آ کر ۔۔۔۔۔۔اس نے منت کا جھوٹھا گلاس اٹھا کر اندر موجود بچا پانی پیتے کہا۔
کھانا کھا کر آؤں گی انتظار کر سکتے ہیں تو کر لیں نہیں تو نکال لیں۔۔۔۔۔وہ آخری لقمہ منہ میں ڈالتی بولی۔
تمہارا کھانا ختم ہو گیا ہے۔۔۔۔۔تبریز شاہ نے کہتے جھٹکے سے اسے کھڑا کیا۔۔۔
ابھی کچھ کہتا کہ منت کو ہچکی لگ گئی۔۔۔۔فوراً پانی ڈال کر اس کے آگے کیا جسے وہ نظر انداز کرتی اندر کمرے میں چل پڑی۔۔
وہ کئی لمحے اپنے ہاتھ اور گلاس کو دیکھتا رہا اور پھر گلاس کے ٹوٹنے کی آواز منت نے اس کے کپڑے نکالتے سنی تھی۔
وہ واپس آیا اور تقریباً اس کے ہاتھ سے اپنے کپڑے جھپٹتے واش روم میں بند ہو گیا۔۔۔۔
اس نے جا کر چائے بنائی۔۔۔ایسا بھی نہ کرتی لیکن دل کے ہاتھوں مجبور تھی۔۔۔۔اس کی چائے بنا کر لا کر اس کی میز پر رکھی اور خود اوپر چھت پر چلی گئی۔
وہ باہر نکلا تو بھاپ اڑاتا مگ سامنے تھا لیکن وہ نہیں تھی اس نے مگ اٹھایا اور باہر نکلا۔۔۔
یہ لڑکی مجھے زلیل کروا کر چھوڑے گی۔۔۔۔چھت کا دروازہ کھلے دیکھ وہ بڑبڑایا اور اوپر چلا گیا۔
وہ جھولے پر بیٹھی تھی۔۔۔۔بوندا باندی ہوتے دیکھ رہی تھی۔
دوپٹہ کہاں ہے تمہارا۔۔۔۔؟
اس کے ساتھ بیٹھتے تبریز شاہ نے سنجیدگی سے استفسار کیا۔
کیا میں نے آپ سے کوئی سوال کیا۔۔۔۔؟وہ اس کے آنکھوں میں دیکھتی ہلکا سا مسکراتی بولی۔
جو پوچھا ہے اس کا جواب دو۔۔۔۔
اور اگر میں نا دینا چاہوں تو۔۔۔۔؟وہ آج ضد پر اڑی تھی ۔۔۔۔۔اب وہ ضد میں ہی رہنے والی تھی۔
منت فضول کی باتیں نہیں سننی مجھے۔۔۔۔میں پہلے ہی بہت تھکا ہوں ۔۔۔۔ابھی صرف سکوں چاہیے مجھے۔۔۔۔
تو سکون آپ کو میری زات سے تو نہیں ملے گا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
درید آپ کس کیس پر کام کر رہے ہیں؟؟
آئی جی نے دیا ہے۔۔۔۔تم چھوڑو ان سب کو۔۔۔اور بتاؤ ڈاکٹر نے کب بلایا ہے اس نے اس کا دھیان بھٹکانا چاہا۔۔۔
ہفتے کو بولا تھا انہوں نے۔۔۔۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے۔۔۔۔۔کل مجھے تھانے جانا ہے۔۔۔زرا سی بھی طبیعت بگڑے تو مجھے فون کر دینا۔
اوکے۔۔۔۔۔
رباب اور باسط نہیں آئیں گے کیا۔۔۔؟
ان کی مرضی۔۔۔۔ایک لفظی جواب۔
آپ ہی ناراضگی ختم کر دیں اس نے درید کی ہتھیلی پر لکیریں کھینچتے کہا۔
اچھا میں وہ سب بھول جاؤں۔۔۔تم سے بھی بہت سے حساب نکلتے ہیں بس میں تمہاری کنڈیشن کا لحاظ کر رہا ہوں۔۔۔۔
اور جو کچھ میرے ساتھ۔۔۔۔۔
میری آنکھوں میں دیکھو۔۔۔۔تمہیں لگتا ہے یہ آنکھیں تمہیں دھوکہ دے سکتی ہیں یا وہ سب کر سکتی ہیں جس کا الزام تم مجھ پر لگائے بیٹھی ہو۔۔۔۔
درید میں نہیں جانتی حقیقت ۔۔۔۔۔
اور جاننا بھی نہیں چاہتی۔۔۔۔تم منہ پھیر کر بیٹھ گئی ہو۔۔۔۔۔کیوں حقیقت جاننے کی کوشش نہیں کرتی کہ اس رات تمہارے ساتھ کیا ہوا اور کیوں۔۔۔؟کون تھا ان سب کے پیچھے۔۔۔
میں ان سب سے بہت آگے نکل آئی ہوں درید۔۔۔۔اور واپس نہیں جانا چاہتی۔۔۔۔
میری زات کو کٹگھرے میں کھڑا کر کے ۔۔۔۔مجرم کہہ کر تم بری الزمہ نہیں ہو سکتی۔۔۔۔ربائشہ حق۔۔۔۔
اپنے اصل مجرم کو ڈھونڈو اور سزا دو۔۔۔۔تب ہی تم خود کے ساتھ اور ہمارے اس رشتے کے ساتھ انصاف کرپاؤ گی۔۔۔۔
تو اس کا مطلب اس رات وہاں کوئی اور۔۔۔۔۔
مجھے افسوس رہے گا رابی کہ اب تک تم میرے لمس کو پہچان نہیں پائی۔۔۔
نہیں ۔۔۔۔۔میرا وہ مطلب نہیں ہے درید۔۔۔۔
سو جاؤ۔۔۔۔ابھی یہ سب میں کھولنا نہیں چاہتا۔۔۔۔درید نے اسے لٹاتے اس کے ماتھے پر پیار کیا۔
درید کیا آپ اسے سزا دیں گے۔۔۔۔؟ایک آخری سوال۔۔۔
میں اس کی نسلیں تباہ کر دوں گا۔۔۔۔۔اور اس نے مطمئن ہو کر آنکھیں موند لیں وہ شخص کھڑا تھا اس کے سامنے۔
وہ سو گئی تو درید واپس اپنے کام میں مشغول ہو گیا۔۔۔
کیا وہ پکڑا جا چکا ہے۔۔۔۔؟ اس نے فون کان سے لگایا اور کھڑکی کے پاس کھڑا ہو گیا۔
جی سر آج وہ سر لنکا سے واپس آیا تھا یہاں پاکستان میں اس کی ڈیل تھی کسی کے ساتھ۔۔۔۔۔
اوکے ۔۔۔۔۔
کہاں رکھا ہے اسے؟
سر وہیں جہاں اس کی چیخیں کوئی سن نہیں سکتا۔۔۔۔دوسری طرف سے جواب آیا تو وہ مسکرایا۔۔۔۔
اسے اتنی تکلیف دو کہ اس کی آنکھ سے آنسو گر پڑے اور جب وہ روتے فریاد کرنے لگے تو بس مجھے بلا لینا۔
وہ کئی مہینوں سے اس کیس پر کام کر رہا تھا۔۔۔۔رباب کو جو شخص پڑھایا کرتا تھا وہ کسی مافیا کے بندے کے انڈر کام کرتا تھا۔
یہ بات سنتے ہی وہ کانپ گیا تھا۔۔۔اگر سہی وقت پر باسط کو پتا نا لگتا تو شاید آج رباب۔۔۔اس سے آگے وہ سوچنا بھی نہیں چاہتا تھا۔
اور پھر وہ اس شخص کے پیچھے سری لنکا تک گیا تھا۔۔۔۔اور وہاں جاتے اسے معلوم ہوا تھا کہ جس شخص کے انڈر وہ کام کرتا تھا اس سے غداری کے سبب چھپتا پھر رہا ہے۔
درید نے اپنی گیم شروع کی اور پلین بنایا۔۔۔اس نے پاکستان میں کچھ لوگ ہائیر کیے تھے۔۔۔۔جو اس سے ڈیل کرنے والے تھے وہ ڈیل لاکھوں کی تھی۔
یہی ایک طریقہ تھا جو اسے سری لنکا سے یہاں لے آتا۔۔۔۔۔لیکن اس کا ائیر پورٹ پر جانا بھی مشکل تھا کیونکہ اسے ڈھونڈا جا رہا تھا۔
وہ جان گیا تھا کہ کچھ لوگوں کو سزا قدرت خود دے دیتی ہے۔۔۔۔۔وہ اسے چھوڑ بھی سکتا تھا۔۔۔کیونکہ آج نہیں تو کل۔۔۔۔مافیا کے لوگ اسے مار دیتے۔۔۔۔۔
لیکن وہ کبھی اپنی بیوی کا بدلہ نہ لے پاتا۔۔۔۔اپنی بیوی کے نظروں میں سرخرو نا ہو پاتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں خود یہ سب کر سکتا ہوں یار۔۔۔۔۔۔باسط نے اسے اپنے آگے کھڑے کرتے اپنے چائے کا کپ پکرایا وہ اس وقت کھڑکی سے باہر سڑک پر دیکھ رہے تھے۔
کیوں آپ کو میرا یہ سب کرنا اچھا نہیں لگتا؟
بات اچھا لگنے کی نہیں ہے رباب۔۔۔۔۔میں یہ سب خود کر سکتا ہوں۔۔۔۔تم کیوں میری عادتیں خراب کرنے پر تلی ہو۔۔۔۔
اس کا مطلب آپ کو میرا اپنے لیے کام کرنا پسند نہیں ۔۔۔۔۔۔آپ بہت ناشکرے آدمی ہیں۔۔۔۔کسی اور شخص کو میں ملتی تو وہ میری کتنی قدر کرتا۔۔۔میرا شکرگزار ہوتا مجھ سے محبت کرتا اور۔۔۔۔۔
اپنی کندھے پر درد محسوس کرتے اس نے مُڑنا چاہا۔۔۔۔۔۔
باسط نے اپنے ہونٹ اس کے کندھے پر رکھنے کی بجائے دانت گاڑھے تھے۔۔۔
یہ بکواس میں دوبارہ تمہارے منہ سے نا سنوں۔۔۔۔تم باسط ضیاء کے حق میں ہی آنی تھی۔۔۔میری ملکیت تھی تم اور میرے پاس ہی آئی۔۔۔کسی اور کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا دوبارہ یہ سب اول فول نہ سنوں میں تمہارے منہ سے۔۔۔۔۔
اس کے ہاتھ سے اپنا کپ تھامتے چائے کا گھونٹ پیتے وہ غرایا تھا۔
اُف میں نے ایک سرسری سی بات کی تھی باسط۔۔۔۔۔آپ ناجانے کہاں پہنچ جاتے ہیں ۔۔۔۔۔
میں کہیں نہیں پہنچتا۔۔۔تم دھیان رکھنا آئیندہ۔۔۔وہ ایک دم پیچھے ہوا تو رباب کو افسوس ہوا کتنے خوبصورت لمحات اس کی بیوقوفی نے ضائع کر دیے تھے۔
اچھا واپس آئیں نا۔۔۔۔رباب نے کہا تو باسط نے آنکھیں دکھائیں۔۔۔۔
آپ جب رعب سے کہتے ہیں میں آتی ہوں نا چلیں واپس آئیں ۔۔۔رباب نے اسے اسی کے انداز میں آنکھیں دکھائی تو وہ اسے گھورتا واپس آیا۔
پھر جھکتے اس کی گھورتی آنکھوں کو چوما۔
کھانا اچھا بنا تھا۔۔۔۔۔اور ضروری نہیں ہے ہر بار تم میری تعریف کی منتظر رہو اور میں تمہاری تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملا دوں۔۔۔یہ سب مجھ سے نہیں ہوتا۔۔۔میں سیر ہو کر کھاتا ہوں۔۔۔۔۔اس سے تمہیں سمجھ آجانی چاہیے ۔۔۔۔اور اگر مجھے کھانا پسند نہیں بھی آئے گا میں تب بھی وہی کھاؤں گا کیونکہ وہ تم نے خاص میرے لیے بنایا ہے اس لیے۔۔۔
رباب نے اس کے ہاتھ پر بوسہ دیا تو وہ دلکشی سے مسکرایا۔
باسط ۔۔۔۔۔
ہم۔۔۔۔۔۔۔
“آپ کے نزدیک محبت کیا ہے۔۔۔؟”
ہمیشہ من میں رہنے والے سوال کو اس نے آج زبان دے ہی دی تھی۔
محبت۔۔۔۔ایک ان کہا سا جزبہ ہے جس میں آپ کبھی بھی گرفتار ہو سکتے ہو۔۔۔۔آج، کل، مستقبل میں، بچپن میں کبھی بھی۔۔۔۔یہ ایک لمحے کا کھیل نہیں ہوتا۔۔۔۔لیکن ایک لمحہ لگتا ہے کوئی دماغ سے دل تک کا سفر کر لیتا ہے۔۔۔۔
کیا آپ پہلی نظر کی محبت پر یقین رکھتے ہیں؟وہ اسے ٹوکتی بولی۔۔۔
نہیں ۔۔۔۔
کیوں۔۔۔؟وہ اداس ہوئی۔۔۔۔
پہلی نظر میں مجھے نہیں لگتا کسی کو محبت ہو سکتی یے۔۔۔۔پہلی نظر میں آپ کو کوئی پسند ضرور آ سکتا ہے آپ کو کوئی متاثر کر سکتا ہے لیکن محبت ایک بہت خاص جزبہ ہے۔۔۔۔
میں نے جانا کہ وہ احساس بھی
محبت سے کچھ آگے ہے
کہ جس میں تو ساتھ میرے
میرے بے حد نزدیک ہے
تیری چاہت رکھتا یہ پاگل دل
تجھے دیکھنا دھڑکنا بھول جاتا ہے
بس وہیسے ہی میری سانسوں کی مالا
تیرا نام لیتی نہیں تھکتی ہے
تیرے آگے مجھے کچھ دکھتا ہی نہیں
پھر ہزاروں حسن لیے منتظر ہمارے
ہمیں عام سے ہی انسان لگتے ہیں
اور تیرے لیے جزبات تیرے ہی رہیں گے
پھر ہم جیئیے یا مریں کیا فرق پڑتا ہے؟
از قلم خود۔
باسط نے اس کے کان کے پاس جھکتے کہا تو وہ اس کے لفظوں میں ہی کھو گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرا سکون کہاں ہے اور مجھے کس طرح اسے حاصل کرنا ہے مجھے مت سکھاؤ۔۔۔۔اگر یہ سکون میں لینے پر آ گیا تو تم بھی روک نہیں پاؤ گی مجھے وہ اسے بہت کچھ باور کروا گیا تھا۔
بارش تیز ہوتے ہی وہ سامنے دیوار کے پاس کھڑی ہوتی نیچے چلتی سڑک کو دیکھنے لگی۔
واپس آؤ۔۔۔۔۔وہ شیڈ کے نیچے پڑے جھولے پر بیٹھا اسے بھیگتے دیکھ بولا۔
آپ سو جائیں جا کر میں کچھ دیر میں آجاؤں گی۔۔۔۔منت نے بنا مُڑے وہیں سے جواب دیا۔
تم مجھے غصہ دلا رہی ہو منت۔۔۔۔۔۔وہ سنجیدگی کی آخری حد پر تھا۔
اچھااااا۔۔۔۔۔جواب اتنے ہی پرسکون انداز میں موصول ہوا تھا اسے۔
یہاں آؤ۔۔۔۔بہت بھیگ لیا ہے۔۔۔۔۔۔تبریز شاہ نے آخری بار اسے بلایا تھا لیکن وہ چلتی سڑک پر نگاہیں ٹکائے اسے پھر سے نظرانداز کر گئی تھی۔
وہ تن فن کرتا اس کے پاس پہنچا اور جھٹکے سے کھینچتا اسے شیڈ کے نیچے لایا۔
بیوقوف ہوں میں ۔۔۔۔پاگل لگ رہا ہوں تمہیں ۔۔۔۔۔؟ اس کے بازو کو گرفت میں لیتے وہ دھاڑا۔
مجھے کسی بھی موضوع پر آپ سے بحث نہیں کرنی تبریز۔۔۔۔اس کا لب و لہجہ سب بدل گیا تھا۔۔۔
منت وہ منگنی۔۔۔۔۔۔
آپ منگنی تو کیا شادی بھی کر لیں مجھے فرق نہیں پڑے گا۔۔۔۔۔وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتی مضبوط لہجے میں گویا ہوئی۔
اور کیوں فرق نہیں پڑے گا تمہیں ۔۔۔؟تبریز شاہ کو اس کا یہ پرسکون لہجہ اس کا بدلا ہوا انداز سب ہی زہر لگ رہا تھا۔
کیونکہ آپ میرے نزدیک اپنی اہمیت کھو چکے ہیں ۔۔۔۔۔۔وہ کتنی آسانی سے بول گئی تھی۔
تبریز شاہ نے اس کا ہاتھ تھاما اور کھینچتا اسے واپس کمرے میں لایا۔
ہیٹر اون کیا اور اپنے کپڑے نکال کر اسے تھمائے۔۔۔۔چینج کر کے آؤ۔۔۔۔پھر میں تمہیں اپنی اہمیت کا اندازا آج اچھے سے کرواتا ہوں وہ جارہانہ تیور لیے بولا تو وہ واش روم میں بند ہو گئی۔
واش روم میں بند ہوتے ہی وہ دروازے کے ساتھ بیٹھتی اپنا چہرہ گھٹنوں میں چھپا گئی۔
کتنا ازیت زدہ تھا خود سے منسلک شخص کو بانٹنا۔۔۔
جو خبر اس نے کل دیکھی تھی جو پورا شہر جان گیا تھا۔
کہ بزنس مین تبریز شاہ اپنی یونیورسٹی کی گرل فرینڈ اور اپنے باپ کے دوست کی بیٹی سے منگنی کر چکے تھے اور جلد شادی کا ارادہ رکھتے تھے۔
ابھی تو اس کے دماغ نے اس شخص کے ساتھ خواب بُننا شروع کیے تھے اور ابھی اس نے سب ختم کر دیا تھا۔
وہ کم از کم اس وقت اس شخص کے روبرو نہیں آنا چاہتی تھی۔۔۔۔اسے وقت چاہیے تھا شاید یا اس سے دوری۔۔۔۔۔
وہ کپڑے بدلتی واپس آئی۔۔۔۔چہرے کو اچھے سے دھو لیا تھا۔۔۔۔وہ کمزور نہیں پڑنا چاہتی تھی۔
مجھے واپس جانا ہے۔۔۔۔وہ باہر آتی اپنا پہلے دن کے پہنے سوٹ کا دوپٹہ ڈھونڈنے لگی۔
منت میرا اس وقت دماغ خراب مت کرو۔۔۔۔لیٹو جا کر۔۔۔۔تبریز شاہ نے فون چیک کیا جہاں لوگوں کے ہزار پیغامات تھے۔
اس کے کام کے، میٹنگز کے، اس کی منگنی کی مبارکباد کے اور سارہ کے بھی۔
