Shiddat-e-Talab by Suneha Rauf NovelR50408 Shiddat-e-Talab Episode 14
No Download Link
Rate this Novel
Shiddat-e-Talab Episode 14
Shiddat-e-Talab by Suneha Rauf
اس نے دوا لی اور واپس لیٹ گئی۔۔۔۔۔جسم اب برے طریقے سے دکھ رہا تھا اس نے خود کو کمفرٹر میں چھپایا۔
درید نے اپنے کمرے میں کافی دیر انتظار کیا تھا کہ وہ سو جائے تو ہی اس کے پاس جائے نہیں تو آج جو وہ حرکت کر چکی تھی اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ اس کے ساتھ ساتھ دنیا کو آگ لگا دے۔
دو گھنٹے بعد اس نے ربائشہ کے کمرے میں قدم رکھا تو کمرے کا ٹمپریچر گرم تھا اس نے ہیٹر اوف کیا۔
اور قدم اس کی طرف بڑھائے جس کا پورا وجود کمفرٹر میں چھپا تھا۔
اس کے پاس بیٹھتے اس نے اس پر سے کمفرٹر ہٹایا تو وہ سکڑی سمٹی لیٹی تھی۔
اسے اپنی حرکت پر بھی غصہ تھا۔۔۔۔۔۔کیا سوچا تھا اور کیا ہو رہا تھا۔۔۔۔۔اس حالت میں اس کے ساتھ اس نے کیا کیا تھا۔
اس کے ساتھ لیٹتے اسے حصار میں لیا۔۔۔۔اور اس کے چہرے کو دیکھا جو ہلکا ہلکا سرخ مائل تھا۔
اس نے گہری سانس بھری۔۔۔۔جو آگ وہ لگا چکی تھی وہ تو ناجانے اب کب بجھتی۔
جس وجود نے اسے آگ میں جھونکا تھا وہ اسی وجود کے پاس پناہ لینے آیا تھا ۔۔۔۔وقت کے ساتھ میں سب ٹھیک کر دوں گا بس مجھے وقت دو مجھے۔۔
اس نے ساری رات آنکھوں میں کاٹی تھی کیونکہ ساتھ والا وجود تپ رہا تھا بخار میں۔۔۔۔۔
اس نے اسے اٹھا کر زبردستی دوا دی تھی اور اب صبح کے پانچ بجے وہ اس کے اٹھنے سے پہلے واپس آ گیا تھا اپنے کمرے میں۔
وہ جب اٹھی تب نو بج رہے تھے۔۔۔۔۔فریش ہو کر وہ باہر آئی۔۔۔۔جسم اجازت نہ دیتا تھا لیکن بھوک ہر جزبے پر بھاری تھی۔
وہ باہر گئی تو درید وہیں میز پر بیٹھا ناشتہ کر رہا تھا۔۔۔۔۔اس نے بنا ہوا پراٹھا اپنے آگے گھسیٹا۔
صغراں بی۔۔۔۔درید نے کام والی لو بلایا۔۔۔۔ویسے تو وہ اپنے کام خود کرتا تھا لیکن ہفتے میں ایک بار وہ یہاں انہیں بلا کر کام کروا لیتا تھا سارے۔
یہ لے جائیں اور فروٹس کاٹ کر لائیں۔۔۔۔اس نے ربائشہ کے آگے موجود پراٹھے کی طرف اشارہ کیا۔
مجھے یہی کھانا ہے اس نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔۔
آپ کو کچھ کہا ہے میں نے صغراں بی ۔۔۔۔۔وہ جو دونون کو دیکھ رہی تھی اس کے کہنے پر فوراً پلیٹ اٹھائی اور کچن میں گم ہو گئیں۔
مجھے گھر چھوڑ کر آؤ۔۔ابھی۔۔۔۔اس نے کھڑے ہوتے کہا۔
ناشتہ کرو بیٹھ کر ۔۔۔۔۔اس نے اپنی پلیٹ سے نظریں نہیں ہٹائیں تھیں۔
نہیں یہاں کھانا بھی حرام ہو گیا ہے۔۔۔۔کم از کم اپنے گھر اپنے پیسوں کا جو چاہے کھا تو سکوں گی۔۔۔۔۔اس نے کہا تو درید تلخی سے مسکرایا۔
ناشتہ یہی کرنا ہے تمہیں۔۔۔۔گھر ابھی تم جا نہیں سکتی۔۔۔یہیں رہنا ہے تمہیں۔۔۔۔دو دن بعد تمہارا چیک اپ ہے اس کے بعد میں چھوڑ آؤں گا۔
اور تمہیں کیوں لگتا ہے میں تمہاری بات مانوں گی۔۔۔۔؟ربائشہ نے چیختے کہا تو اس نے سر اٹھایا۔
تمیز بھوک گئی ہیں لگتا ہے آپ ربائشہ درید یزدانی۔۔۔۔۔۔اس نے کھانے سے ہاتھ ہٹاتے کہا۔۔۔۔
مجھے پلیز چھوڑ کر آئیں۔۔۔۔اب کہ اس نے التجائی لہجے میں کہا تو وہ اٹھ کر اندر باورچی خانے میں گیا اور وہی پراٹھا اٹھا کر لایا۔
آدھا کھا کر وہ جو لائیں گی وہ کھانا پرے گا۔۔۔۔اس نے بالوں میں ہاتھ پھرتے تحمل سے کام لیتے کہا تو وہ واقعی بیٹھ گئی۔
ناشتہ کرنے کے بعد درید نے اسے دوا دی تو وہ واپس اسی کمرے میں بند ہو گئی۔۔۔۔درید نے بھی اپنا کام گھر سے شروع کیا تھا۔
دونوں بظاہر نارمل تھے لیکن اندر ایک آگ برپا تھی ۔۔۔۔جو ایک دوسرے کو جلا کر بھسم کرنے کی طاقت رکھتی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منت اس کے سامنے ہی گھومتی یہاں سے وہاں کام کروا رہی تھی۔۔۔۔اس کا سارا دھیان تبریز شاہ پر تھا۔
لیکن دوسری طرف تبریز شاہ نے قسم کھائی تھی اسے نا دیکھنے کی۔۔۔۔اور یہی چیز اسے غصہ دلا رہی تھی۔
وہ سب اپنی مرضی اپنے حساب سے کرتا تھا۔۔۔۔بنا یہ جانے کے وہ نامحسوس انداز میں کسی دوسرے شخص کو تڑپا رہا ہے۔
مخالف بھی وہ جو اس سے منسلک ہے۔۔۔۔۔منت نے آخری نظر اس پر ڈالی۔۔۔۔اور پہلی فورن کمپنی کے اسی ممبر پر جس نے اس سے ہاتھ ملایا تھا۔
اس کے چہرے پر پراسرار مسکراہٹ آئی اسے پتا تھا اب کیا کرنا ہے اسے۔
تبریز شاہ سے پہلے وہ ان کے پاس گئی اور انہیں خوش آمدید کہا جس پر تبریز شاہ نے سخت نگاہوں سے گھورا تھا۔
اب وہ سب اپنے پروڈکٹس دیکھ رہے تھے۔۔۔اور وہ خاصے متاثر بھی نظر آتے تھے۔
سر جون مجھے یقین تھا آپ کو ہمارا کام پسند آئے گا۔۔۔۔اس نے شائستگی سے انگریزی میں جملہ ادا کیا۔
تبریز شاہ جو اس سے آگے ہی تھا اس کی آواز اس کے کانوں میں بجوبی پہنچی تھی۔
آپ کا کام تھا ہمیں کیسے نا پسند آتا۔۔۔۔۔وہ وہیں رک گیا اور مسکرایا۔۔۔۔۔جواب اب بھی انگریزی میں آیا تھا۔
منت وہیں کھڑی اس سے باتیں کرنے لگیں۔۔۔۔مقصد صرف مخالف کو آگ لگانا تھا جس میں وہ سو فیصد کامیاب ہوئی تھی۔
تبریز شاہ دور کھڑا اس کے چہرے کی مسکراہٹ کو تپتی نکاہوں سے دیکھ رہا تھا۔
جون وہی شخص تھا جس نے منت سے ہاتھ ملایا تھا۔۔۔۔اور اسے تب بھی یہ حرکت ناگوار گزری تھی اور آج وہ اسی شخص سے اتنا فری ہو رہی تھی۔
اب ہمیں چلنا چاہیے۔۔۔۔۔۔دوسرے ممبر نے ہاتھ ملایا تو اس نے سر ہلایا۔۔۔۔۔دھیان سارا اس کی طرف تھا۔
سفید رنگ میرا پسندیدہ ہے۔۔۔۔جون نے انگریزی میں کہا۔۔۔۔
سچ میں۔۔۔۔؟؟
میرا بھی۔۔۔۔منت نے تبریز شاہ کو قریب آتے محسوس کر کے کہا۔۔۔۔۔
کافی پر چلیں گی میرے ساتھ۔۔۔۔؟؟ جون نے پوچھا۔۔۔
بالکل۔۔۔۔منت نے بنا سوچے جواب دیا تھا کہ مخالف اسے کن نظروں سے گھور رہا تھا اور اس کی کیا سزا ہو سکتی ہے۔
مناتت۔۔۔۔۔۔۔آپ بہت ہاٹ ہیں۔۔۔۔۔جون نے ایک قدم اس کی طرف بڑھاتے کہا تو وہ تھٹکی۔۔۔۔
سب لوگ اپنے اپنے کام میں مصروف تھے۔۔۔اس نے سب مزاق میں کیا تھا لیکن مخالف کا یہ جملہ۔۔۔۔۔
اس کی مسکراہٹ تھمی اس نے کچھ دور کھڑے تبریز کا دیکھا جو یہ سن چکا تھا۔۔۔۔
اس کے بھینچے ہونٹ اور مٹھیاں دیکھتے اس کا دل دھڑکا۔۔۔
وہ کتنا گھٹیا لفظ ادا کر چکا تھا اس کی بیوی کے لیے۔۔۔۔اس انگریز کے لیے وہ عام سا تعریفی جملہ تھا لیکن اسے اندر تک جلا گیا۔۔۔۔
پھر ملاقات ہو گی آپ سے جون۔۔۔۔۔اس نے وہاں سے جانا چاہا۔۔۔۔۔یہ سب اتنا آگے کا اس نے نہیں سوچا تھا۔
تم سرخ لباس میں زیادہ سپائسی لگو گی۔۔۔۔جون کی طرف سے کہا ایک اور جملہ۔۔۔۔۔۔۔اور تبریز شاہ کا ضبط جواب دے گیا تھا۔
وہ اس کے قریب پہنچا۔۔۔۔
نکلو یہاں سے آفس میں جاؤ میرے۔۔۔۔فورا۔۔۔۔اس کی کہنی کو ہاتھ کی سخت گرفت میں لیتے وہ سلگتے لہجے میں غرایا۔
منت اس کا غصہ دیکھتی فوراً رفو چکر ہو گئی۔
بیوی تھی میری۔۔۔۔۔اور ہمارے ہاں بیوی عزت ہوتی ہے ہماری۔۔۔۔اور میری عزت پر آنکھ اٹھائی تو تمہیں دنیا سے اٹھا دوں گا سالے۔۔۔اس کے پاس جھکتے اس نے انگریزی میں کہا۔
اس عورت کے لیے میں دنیا کو آگ لگا سکتا ہوں تو تمہاری کیا اوقات ہے۔۔۔۔۔۔
اووو۔۔۔۔۔مائی بیڈ۔۔۔۔ آئیم سوری۔۔اس شخص نے ہاتھ اٹھاتے کہا۔
بیٹر فور یو۔۔۔۔۔اگلی بار سو فٹ کی دوسری پر رہنا۔۔۔۔۔۔تمہارا لحاظ صرف اس لیے کیا ہے کہ تم سے زیادہ غلطی میری بیوی کی تھی۔۔۔۔اس کی سزا تو الگ ہو گی۔۔۔۔یو شوڑ بیٹر گو۔۔۔۔۔
جون کھسیاتا وہاں سے سب کے ساتھ نکل گیا۔۔۔۔تبریز شاہ کا جاہ و جلال دیکھتا وہ ڈر گیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سب معمول کے مطابق تھا۔۔۔۔۔۔بس فرق اتنا تھا کہ ان کی زندگی میں سکون تھا ایک دوسرے کے ساتھ۔۔جو کب تک برقرار رہتا کون جانتا تھا۔
باسط ضیاء نے کیا سوچ رکھا تھا یہ وہی جانتا تھا۔۔۔۔۔۔یا شاید جو سب ہو رہا تھا وہ خود چاہتا تھا کہ ایسا ہو۔
آج رباب نے ایک بار پھر کھانا بنانے کی کوشش کی تھی۔۔۔۔خانساں ماں کے بتاتے ہی اس نے سب بنا ڈالا تھا۔
لیکن باسط اسے لیٹ آنے کا بتا چکا تھا۔۔۔۔اس لیے اب وہ خود اس کے لیے کھانا لے کر ڈرائیور کے ساتھ آئی تھی۔
تم کیا چاہتے ہو باسط ۔۔۔۔۔مجھے نہیں لگتا وہ کر سکتے ہو تم جس کا ارادہ کر بیٹھے ہو؟
تمہیں میں اتنا کمزور دکھتا ہوں؟
تم نہیں تمہارے ارادے کمزور دکھ رہے ہیں۔۔مخالف نے کہا جو اس کا دوست تھا۔
نہیں میں بس اسے احساس دلانا چاہتا ہوں کہ مجھے اس سے محبت ہے اور میں جانتا ہوں اسے ایسا لگتا ہے۔۔۔۔۔۔میں نے پہلے دن سے یہی چاہا ہے کہ اسے مجھ سے محبت ہو۔۔۔۔۔اور میں اسے عشق کی آخری انتہا پر لا کر چھوڑ دوں۔۔۔۔۔تاکہ تب اس کا تڑپنا اس کا بھائی بھی دیکھے۔۔۔۔اس کا بھائی وہ تکلیف محسوس کر سکے جو میں نے کی تھی اپنی بہن کے لیے۔۔۔۔
کب چھوڑ رہے ہو اسے۔۔۔۔؟
بہت جلد ۔۔۔۔۔۔
تمہیں لگتا ہے اسے تم سے محبت ہے؟
لگتا مجھے یقین ہے اسے مجھ سے محبت ہے میری بیوی ہے وہ۔۔۔۔اس کی آنکھوں میں صاف جھلکتا ہے ۔۔۔۔اور باسط ضیاء آج سے نہیں شادی سے پہلے کا جانتا ہے کہ رباب یزدانی کو مجھ سے محبت یے۔۔۔۔اس نے انکشاف کیا تھا۔
اور۔۔۔۔۔۔وہ پلٹا اور دیکھا دروازے پر وہ ہاتھ میں ڈبے تھامے اسے بے یقنینی سے دیکھ رہی تھی۔
کیا میں اندر آجاؤں؟ رباب نے سنجیدگی سے کہا تو اس کا دوست اٹھ کر چلا گیا۔
باسط اندازہ نہ لگا پایا کہ اس نے کچھ سنا ہے یا کیا سنا ہے۔۔۔۔
یہ کھانا لائی تھی۔۔۔۔آج میں نے پورا دن لگا کر اس شخص کے لیے کھانا بنایا جس کی نیت میں کھوٹ آج سے نہیں ناجانے کب سے ہے ۔۔۔
اچھا کھیل تھا ۔۔۔۔بہت اچھا۔۔۔۔میں کافی متاثر ہوئی تم سے باسط ضیاء۔۔۔۔
لیکن تم نے غلط شخص چن لیا۔۔۔۔۔تمہیں لگتا ہے میں اپنے بھائی پر آنچ بھی آنے دوں گی۔۔۔اس بھائی پر جو میرے رونے پر رویا ہے اور میرے ہنسنے پر مجھ سے زیادہ خوش ۔۔۔۔
ایک بات کا گلہ مجھے تم سے ہمیشہ رہے گا کہ تم نے مجھے کسی باہر کے شخص کے ساتھ ڈسکس کیا اور ایک گلہ مجھے خود سے مرتے دم تک رہے گا ۔۔۔۔اس نے آنسوؤں کو حلق میں اتارتے لفظوں کا سہارا لینا چاہا۔
کہ۔۔۔
تم میری آنکھوں میں چھپا وہ راز جان گئے جو میں نے خود سے بھی چھپا رکھا تھا۔۔۔۔۔
تم نے میری محبت کی بے حرمتی کی ہے۔۔۔۔اور یہ گناہ میں معاف نہیں کروں گی۔۔۔۔۔اس نے اس کا کھانے کا ڈبہ ہاتھ میں پکڑایا اور باہر نکل گئی۔
اپنی بہن کو لے آؤ جس کے پیچھے میرا بھائی خاک چھان رہا ہے۔۔۔۔۔جس کو منانے کے لیے وہ در در کی ٹھوکریں کھا رہا ہے۔۔۔یہ محبت ہے۔۔۔۔
لیکن ہم دونوں بہن بھائی محبت کے اس میدان میں خالی ہاتھ رہ گئے۔۔۔۔۔اس بات کا افسوس رہے گا۔۔۔۔
ایک آخری خدا حافظ تمہارے نام باسط ضیاء۔۔۔۔ہو سکے تو اپنا گھر بیچ دینا وہاں کی ہر چیز میں رباب یزدانی کی خوشبو ملے گی تمہیں۔۔۔۔وہ تلخی سے مسکراتی باہر نکل گئی۔
باسط نے اس کے جاتے اپنا آپ خالی ہوتا محسوس کیا تھا۔۔۔۔
لیکن یہی سب ہونا تھا ابھی نہیں تو شاید کل۔۔۔۔اب اسے ربائشہ کو لانا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے واپس جانا ہے اب بہت ہو گیا۔۔۔۔۔ربائشہ نے اس کے کمرے میں قدم رکھتے کہا تو اس نے لیپ ٹاپ سے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔
میں تمہیں صبح بتا چکا ہوں سب تو اب ان سب کا کیا مقصد ہے۔۔۔۔۔
مجھے کسی بھی قسم کی کوئی بحث نہیں کرنی درید یزدانی۔۔۔۔یہ گھر میرا نہیں ہے اور میں یہاں کسی اجنبی کے گھر نہیں رہنا چاہتی۔۔۔
درید اُٹھ کر اس کے قریب آیا اور کا بازو گرفت میں لیا۔۔۔
اجنبی۔۔۔۔کیا واقع۔۔۔۔۔
وہ اجنبی جو تمہاری اولاد کا باپ ہے۔۔۔۔۔نہیں۔۔۔؟
ربائشہ اس سے تھوڑا دور ہو کر کھڑی ہوئی۔۔۔۔اب وقت آ گیا ہے کہ ہم فیصلہ کریں مجھے کسی دھوکے میں نہیں رہنا۔
کیسا دھوکہ۔۔؟
میں جانتی ہوں تمہیں صرف تمہاری اولاد سے غرض ہے درید یزدانی۔۔۔۔اسے لیتے ہی تم وہی پہلے والے انسان بن جاؤ گے۔۔۔۔
اوو۔۔۔۔۔درید نے تالی بجاتے اس کے لفظوں کو سراہا۔۔۔۔
اچھا اور کیا لگتا ہے تمہیں آج وہ بھی بتادو۔۔۔۔
تو جیسا تم چاہتے ہو ویسا ہی ہو گا تمہیں یہ اولاد چاہئے۔۔۔۔مل جائے گی۔۔۔۔۔مل جائے گی یہ اولاد ۔۔۔لیکن تب تک۔۔۔۔تب تک تک مجھ سے دور رہو گے۔۔۔۔
میں نہیں چاہتی مجھے کسی ایسے شخص کی عادت ڈلے جس نے میرا ماضی تباہ کیا ہو۔۔۔۔۔اس نے سنجیدگی سے کہا۔
اچھا۔۔۔۔کیا تمہیں اتنے دنوں میں لگا کہ میرا تمہاری فکر کرنے کے پیچھے یہ مقصد تھا؟
لگا تو مجھے تمہارے ساتھ تمہارے گھر رہ کر یہ بھی نہیں تھا کہ تم وہ سب کرو گے۔۔۔۔۔وہ اسے لاجواب کر گئی تھی۔
میں کہہ چکا ہوں کہ میں وقت آنے پر سب کلیر کر دوں گا۔۔۔۔۔ددید نے تحمل مزاجی سے کہا۔
بس اسی وقت کا مجھے انتظار نہیں کرنا ہے۔۔۔میں اپنی زندگی اکیلے گزارنا چاہتی ہوں۔۔۔اور کچھ نا سہی کم از کم سکوں تو ہو گا۔۔۔۔
تم کہنا چاہتی ہو کہ درید یزدانی کے ساتھ اس کے قریب رہتے تم بے سکون ہو؟؟ استفسار کیا گیا۔
ہاں۔۔۔۔۔
اچھا لگا سن کر۔۔۔۔!
میں جس عورت کو اپنا سو فیصد دے گیا ان دنوں میں۔۔۔۔جس کے لیے میں نے اپنا دن، تاریخ، اپنا کام، سب بھلا دیا وہ کہہ رہی ہے کہ میں اسے سکون نہیں دے پایا سن رہے ہو سب۔۔۔۔اس نے گول گھومتے کمرے کی درو دیوار کو دیکھتے کہا۔
ایک گلٹی ابھر کر ربائشہ کے گلے میں معدوم ہوئی۔
علیحدگی چاہتی ہو؟
اس نے ربائشہ کی آنکھوں میں دیکھتے کہا جہاں یک دم تاریکی چھا گئی تھی۔
بولو ۔۔۔۔میرے نام سے آزادی چاہیے۔۔۔؟
مجھے بس یہاں سے جانا ہے۔۔۔۔۔اس نے نظروں کا زاویہ سامنے دیوار پر کرتے کہا۔
ٹھیک ہے میں درید یزدانی۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے میں درید یزدانی۔۔۔۔
ربائشہ نے پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھا۔۔۔۔۔اسے لگا اگلا منظر قیامت خیز ہو گا لیکن۔۔۔۔
ٹھیک ہے میں درید یزدانی تمہارا شوہر ہوں۔۔۔۔۔۔میری اجازت کہ بغیر یہاں سے نکل سکتی ہو تو نکل کر دکھاؤ۔۔۔درید نے چیلینج دینے والے انداز میں کہا۔
میں تمہاری غلام نہیں ہوں درید یزدانی وہ چیخی۔۔۔۔۔اس کا فون گونج اٹھا جو اس کے ہاتھ میں تھا۔
باسط کا نام دیکھتے درید نے جھٹکے سے ربائشہ کو دیکھا۔۔۔۔
یہ کون ہے ۔۔۔۔
تم سے مطلب۔۔۔۔
باسط ضیاء۔۔۔۔؟ اس نے حیرانی سے پوچھا۔۔۔۔دنیا میں ہزارا باسط ہو سکتے ہیں لیکن اس نے پھر بھی پوچھا۔۔۔
اگر میں کہوں ہاں تو۔۔۔۔ربائشہ نے کہا تو درید نے اس کے ہاتھ سے فون کھینچتے کال اٹھائی اور کال اسپیکر پر ڈالی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ان کو روانہ کرتا وہ اپنے کیبن میں آیا جہان وہ اس کی کرسی پر آنکھیں موندے پڑی تھی۔۔۔۔شاید نیند میں تھی۔
تبریز شاہ اس کے پاس گیا اور جھٹکے سے اسے کھڑا کیا۔
وہ اس افتاد کے لیے ہرگز تیار نا تھی ۔۔۔۔اس لیے ہونق بنی اسے دیکھنے لگی۔
ہاتھ چھوڑیں۔۔۔۔منت نے اس کے ہاتھ سے اپنے ہاتھ نکالتے کہا۔
منت تبریز شاہ۔۔۔۔۔
تمہیں پتا ہے میں نے وہاں سے یہاں آتے اور تمہیں اس شخص کے ساتھ دیکھتے دل میں ہزار سزائیں سوچیں تھیں تمہارے لیے۔
لیکن نہیں۔۔۔۔۔۔
کوئی بھی سزا تمہارے لیے چھوٹی ہو گی تو اسی لیے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ۔۔۔۔
منت اسے آنکھیں کھولے حیرانگی سے سن رہی تھی جو سنجیدہ تھا، اس کا چند پل پہلے والا سرخ چہرہ اب سنجیدگی کے علاؤہ کچھ بھی نہیں دکھا رہا تھا۔
کہ تمہیں مجھ سے رہائی چاہیے نا۔۔۔۔۔؟
منت نے جھٹکے سے گردن اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔۔
تو دی تمہیں رہائی۔۔۔۔۔
تمہیں یونیورسٹی میں بھی تبریز شاہ سے رہائی چاہیے تھی اور اب بھی۔۔۔۔تب تم ایسا نہ کر پائی کیونکہ میں نے ایسا ہونے نہیں دیا۔۔۔۔لیکن جب قسمت نے پاسہ پلٹا تو تم رہائی پاتے ہی غائب ہو گئی۔
ایسی غائب ہوئی کہ تمہارا شوہر تبریز شاہ بھی تمہیں ڈھونڈ نہ پایا۔۔۔۔مہینے میں میں نے خاک چھانی لیکن مجھے میری بیوی نہیں ملی۔۔۔
اب میں سوچتا ہوں میں نے تمہیں ڈھونڈا ہی کیوں۔۔۔۔۔اس نے کھڑکی کے پاس جاتے کہا۔
اس کے ہر حرف پر منت کی سانس اٹکی تھی۔
لیکن مجھے اپنا آپ پاگل لگتا ہے اب۔۔۔کہ میں نے کیوں اس عورت کے لیے اتنی خاک چھانی جس سے مجھے محبت نہیں ہے۔۔۔۔
یہ کیسا انقشاف تھا۔۔۔۔منت کے کان سائیں سائیں کرنے لگے ۔۔۔
اسے پتا تھا کہ وہ اس سے محبت تو کیا پسند بھی نہیں کرتا اس لیے یونیورسٹی میں بلاوجہ اسے پریشان کیا کرتا تھا۔۔۔۔صرف اس اپنے باپ کے لیے ۔۔۔۔۔
لیکن یہاں آتے اس سے ملتے اس کے ہر انداز کو ملاحظہ فرماتے اسے محسوس ہونے لگا تھا کہ محبت کے اس جرم میں وہ اکیلی گنہگار نہیں ہے وہ شخص برابر کا شریک ہے۔۔۔
پر اب۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب وہ شخص۔۔۔۔وہ شخص اپنی بیوی کے منہ پر یہ لفظ مار رہا تھا کہ اسے محبت نہیں اس سے۔۔۔۔
شاہ۔۔۔۔
منت نے ٹوٹے لفظ ادا کیے۔۔۔کہ شاید کسی پل وہ شخص مسکرا اٹھے اور بولے کہ مزاق تھا یہ۔۔۔۔
اسی دن سے ڈرتی تھی وہ۔۔۔۔۔اسی لیے وہ اس شخص سے دوری پر تھی۔۔۔کم اذ کم اتنا اطمینان تو تھا کہ اس کا نام منت کے نام کے ساتھ تھا۔
اپنی زندگی اپنے مطابق گزارو۔۔۔جاؤ۔۔۔۔آج سے تبریز شاہ تمہیں نہیں روکے گا۔۔۔۔لیکن تمہارے نام کے آگے سے میرا نام کبھی نہیں ہٹے گا یاد رکھنا۔
منت نے گہری سانس بھری۔۔۔۔۔۔تلخ مسکراہٹ نے اس کے لبوں کا احاطہ کیا۔۔۔
اس نے سب اسے جیلس کروانے کے لیے کیا تھا اور وہ بات کتنی بڑھا چکا تھا۔۔۔
شاہ۔۔۔۔میں نے وہ سب۔۔۔۔
تم جا سکتی ہو۔۔۔۔۔۔تبریز نے کہتے سگریٹ سلگایا۔۔۔
منت نے اپنی چیزیں سمیٹی اور ایک آخری نظر اس کی پشت پر ڈالتے باہر نکل گئی۔
اس کے جاتے ہی تبریز شاہ نے فون نکال کر ایک نمبر ملایا۔۔۔۔
میں چھوڑ چکا ہوں اسے۔۔۔۔
لیکن اب آپ نے اس کا نام بھی لیا تو انجام صرف تباہی ہو گی۔۔۔۔۔اس نے کہتے فون کاٹا اور کھڑکی سے باہر دیکھا جہاں وہ اپنے ڈرائیور کے ساتھ جا رہی تھی۔
منت کی آنکھیں ساکت تھی۔۔۔۔اسے لگا تھا وہ روئے گی۔۔۔اسے روکے گی لیکن۔۔۔۔۔
وہ واپس اپنی جگہ پر آ گیا اور اپنا دکھتا سر دبایا ۔۔۔۔اپنے باپ سے ہوئی رات کی ملاقات اس کی آنکھوں کے پردے پر لہرائی۔
آج کل کن چکروں میں ہو۔۔۔؟ اس کے باپ خالد شاہنواز نے پوچھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گڑیا۔۔۔سامان سمیٹو۔۔۔میں آرہا ہوں لینے۔۔۔۔تمہارے ساتھ ہوئے گناہ کا بدلہ لے لیا میں نے اس کی بہن کو چھوڑ کر۔۔۔۔۔
الفاظ تھے کہ پگھلا ہوا سیسہ جو اس کے کانوں میں ڈالا گیا تھا۔۔۔اس نے بے یقینی سے ربائشہ کو دیکھا جو آواز پہچان گیا تھا وہ باسط تھا اس کا دوست اس کی بہن کا شوہر۔۔۔۔۔
ربائشہ نے اس سے نظریں چرائیں۔۔۔۔
آہہہہہہہ۔۔۔۔۔۔۔۔
لے جاؤ اس عورت کو آ کر ۔۔۔۔۔درید نے ہوش میں آتے کہا اور فون بند کیا ۔۔۔۔
کیا لگتا ہے یہ تمہارا۔۔۔۔۔اس کے پاس آتے ٹھنڈے لہجے میں پوچھا۔۔۔۔
بھائی ہے میرا۔۔۔۔
میرے مطابق تو تم اکلوتی تھی۔۔۔اووو کزن بڑدھر۔۔۔۔
اس کے لفظ یاد آتے ہی اس نے ربائشہ کے بازو تھامتے اسے دیکھا۔۔۔
اگر ان سب میں میری بہن کو کچھ ہوا تو میں آگ لگا دوں گا تمہارے اس منہ بھولے بھائی کو یہ وعدہ ہے میرا۔۔۔۔
اور اگر مجھے پتا لگا کہ ان سب میں تم شریک تھی۔۔۔۔تو زندگی عزاب کر دوں گا کہ تم پر ربائشہ یزدانی۔۔۔
وہ کہتا اسے جھٹکے سے چھوڑتا پیچھے ہٹا اور باہر نکل گیا۔۔۔۔وہ باہر آئی تو سرخ نگاہوں سے صوفے پر بیٹھا شاید باسط کا انتظار کر رہا تھا۔
دس منٹ بعد باسط اندر آیا تھا اسے گاڑڑز نے اندر آنے دیا تھا۔۔۔
آؤ سالے صاحب۔۔۔۔
تمہارا ہی انتظار تھا ۔۔۔۔درید اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تو باسط نے بھی اسے شعلہ بار نگاہوں سے گھورا۔
آج دو دوست ایک دوسرے کے سامنے ایک دوسرے کے دشمن بنے کھڑے تھے۔
میری بہن کہاں ہے۔۔۔۔۔؟
اب تک پہنچ گئی ہو گی۔۔۔تمہارے باپ کا فون نہیں آیا تمہیں۔۔۔۔؟باسط نے گھڑی پر نظر ڈالتے اسے دیکھا۔
تیری ہمت کیسے ہوئی۔۔۔۔درید نے اس پر جھپٹتے اس کے منہ پر مکہ دے مارا۔۔۔۔
اب وہ دونوں آپس میں گتھم گتھا تھے۔۔۔۔ربائشہ نے صورتحال کو بگڑتے دیکھ انہیں علیحدہ کرنا چاہا تھا۔
اس کے قریب آتے اسے دھکا لگا تھا ۔۔۔۔درید نے فوراً اسے تھاما تھا اور پھر جھٹکے سے چھوڑا۔۔۔
کیوں کیا تم نے یہ سب۔۔۔۔؟درید نے سنجیدگی سے پوچھا۔۔۔۔
ابھی بھی تمہیں یہ پوچھنے کی ضرورت محسوس ہوئی ہے کہ کیوں کیا۔۔۔میری بہن کا ماضی، حال، مستقبل سب برباد کر دیا تم نے اور تم مجھ سے پوچھ رہے ہو۔۔۔۔۔
وہ ہمارا زاتی معاملہ ہے باسط۔۔۔۔درید نے آیک آخری کوشش کی۔۔۔۔
زاتی نہیں تھا یہ کبھی بھی درید۔۔۔۔زاتی نہیں تھا۔۔۔۔۔پناہ دینے کی اتنی بڑی قیمت لگوائی ہے میری بہن نے۔۔۔۔
وہ سب ایک حادثہ تھا۔۔۔حقیقت کوئی نہیں جانتا۔۔۔۔میں وقت آنے پر سب صحیح کر دیتا لیکن تم نے اور تمہاری بہن نے اچھا نہیں کیا۔۔اس نے سلگتی نگاہ ربائشہ پر ڈالتے کہا۔
اسے نہیں مجھے دیکھو۔۔۔
مجھ سے بات کرو۔۔۔۔میں نے وہ نہیں کیا جو تم نے میری بہن کے ساتھ کیا۔۔۔تم میری بہن کو آزاد کرو لیکن بھول جاؤ تمہاری بہن کو میں آزاد کروں گا ۔۔۔۔
درید نے ایک اور مکہ اس کے چہرے پر مارا تو اس کا ہونٹ پھٹ گیا ربائشہ کے منہ سے چیخ برآمد ہوئی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میری بہن کے ساتھ یہ سب کرنے کی ہمت بھی کیسے ہوئی تیری۔۔۔۔سالوں کی دوستی کو تو نے تباہ کر دیا باسط۔۔۔۔۔
وہ بھی اصل وجہ جانے بنا۔۔۔ایک بار مجھ سے بات کرتا مجھ سے پوچھتا ۔۔۔۔۔لیکن نہیں تم دونوں بہن بھائیوں کے دماغ میں جو زہر بھرا ہے اس کا مجھے معلوم ہونا بھی تو ضروری تھا۔
میری بہن کو تو بھول جا اب تو۔۔۔۔لیکن اپنی بہن کو لے جا۔۔۔۔۔وہ مڑا اور ربائشہ کو دیکھا۔
پہلے تو ایسا نہیں سوچا تھا میں نے ربائشہ حق لیکن اب وہی ہو گا جو تم چاہتی تھی میری اولاد مجھے دو اور میری طرف سے بھاڑ میں جاؤ۔۔۔۔تم اس لائق نہیں ہو کہ۔۔۔
خبردار ایک لفظ نہیں۔۔۔اب کی بار باسط نے اس کا ہاتھ تھاما تھا۔۔۔۔
نکلو دونوں۔۔۔۔۔۔۔فوراً۔۔۔۔
میں آپ کو اب کبھی نہیں ملو گی ۔۔۔اور یہ اولاد بھی نہیں یہی سزا ہے آپ کی درید۔۔۔۔باہر نکلتے اس نے درید کی آنکھوں میں دیکھتے دھیرے سے کہا تو وہ لب بھینچ گیا۔
یہ تمہاری خوش فہمیاں ہیں۔۔۔کہ میری اولاد کو تم مجھ سے دور کر پاؤ گی۔۔۔آزما کر دیکھ لو۔۔۔
اور۔۔۔
ربائشہ حق یاد رکھنا تمہاری کی ہر غلطی کو میں نے معاف کیا لیکن یہ جو تمہارے بھائی نے کیا نا۔۔۔۔اس کی معافی نہیں ملے گی۔۔۔
ایک عورت ہو کر تم نے دوسری عورت کے ساتھ یہ سب کیسے ہونے دیا۔۔۔
مجھے اس بارے میں کوئی اندازہ نہیں تھا۔۔۔۔وہ منمنائی۔
اچھا مزاق ہے۔۔۔
میں نہیں چاہتا کہ اب میں کبھی تم سے ملوں۔۔۔۔میں نے سوچا تھا سب غلط فہمیاں اور سب راز کھول دوں گا۔۔۔لیکن تم اس قابل نہیں۔۔۔۔
جاؤ جتنی دور ہو سکتا ہے چلی جاؤ۔۔۔۔اور کوشش کرنا تم اور تمہارا بھائی میرے اور میری بہن کے آس پاس بھی نا بھٹکے ۔۔۔۔درید نے کہتے اس کے منہ پر دروازہ بند کیا۔
باسط کے ساتھ جاتے اس نے ایک آخری بار اس دروازے کو مڑ کر دیکھا تھا۔۔۔۔جو بند ملا تھا اسے۔۔۔
آگے دیکھو رابی ۔۔۔۔۔وہاں کچھ نہیں رہا اب۔۔۔۔باسط نے سنجیدگی سے کہا تو اس نے سامنے دیکھا۔
ہم کہاں جا رہے ہیں۔۔۔۔؟
یہاں سے دور۔۔۔۔
ان کی گاڑی اس سفر پر رواں دواں تھی جو انہیں ان دو لوگوں سے علیحدہ کر دیتی۔۔۔یہ فیصلہ کتنا سہی اور کتنا غلط تھا وہ دونوں نہیں جانتے تھے.
درید گاڑی اسپیڈ سے ڈرائیو کرتا اس گھر سے نکل آیا تھا جہاں اب کچھ بچا نہیں تھا۔۔۔واپس اپنے گھر چلا گیا۔
اس وقت وہ صرف اپنی بہن سے ملنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔وہ دوڑتا اندر آیا اور اس کے کمرے میں گیا۔
اسلام علیکم بھائی۔۔۔۔رباب کہتی اس کے سینے سے آ لگی ۔۔۔
وعلیکم السلام۔۔۔
ٹھیک ہو تم۔۔۔۔اسے سینے سے لگاتے اس کے ماتھے پر بوسہ دیتے اس نے بے چینی سے پوچھا۔۔۔
ہاں بالکل ۔۔۔کچھ دن آپ کے ساتھ رہنے آئی ہوں اسے دیکھتے مسکرائی۔۔۔۔
کافی بڑی ہو گئی ہو جو جھوٹ بولنے لگی ہو۔۔۔۔۔درید نے سنجیدگی سے کہا اور سامنے صوفے پر بیٹھ گیا۔
کیا مطلب ۔۔۔اس نے آنکھیں چھپاتے کہا۔۔۔۔
تمہیں یاد ہے رباب۔۔۔بچپن سے میں اور بابا تمہارے رونے کا اندازہ تمہاری آنکھوں سے لگا لیتے تھے۔۔۔۔اور یہ اندازہ میں نے آج بھی لگایا ہے۔۔۔اور ہمیشہ کی طرح میں صحیح گیا ہوں۔
ایسا کچھ نہیں ہے میں کیوں روؤں گی ۔۔۔
اس لیے کہ تمہارا شوہر ایک گھٹیا آدمی ہے ۔۔۔۔
بھائی۔۔۔۔اس نے صدمے سے اسے دینھا۔۔۔۔
تم اس کا خیال اپنے زہن سے نکال دو وہ اپنی بہن کے لیے سب کر رہا تھا۔۔۔۔اب وہ چلا گیا ہے ۔۔۔۔۔اور میں اسے واپس نہیں آنے دوں گا۔۔۔
بھائی۔۔۔اس نے جھٹکے سے اسے دیکھا۔۔۔
اس کی بہن۔۔۔۔اسے یاد آیا ربائشہ کی بات کر رہا تھا وہ۔۔۔شادی سے پہلے ہوئی اس سے اس متعلق بات یاد آئی۔
