Shiddat-e-Talab by Suneha Rauf NovelR50408 Shiddat-e-Talab Episode 11
No Download Link
Rate this Novel
Shiddat-e-Talab Episode 11
Shiddat-e-Talab by Suneha Rauf
لیکن وہ ہر رات اس کی آنکھوں کے سامنے آ جاتا تھا۔۔۔۔۔وہ نفرت کی دعوے دار تھی لیکن نفرت تھی یا نہیں وہ خود بھی نہیں جانتی تھی۔
اس نے یہ سب منت کو بتایا تھا اور منت کے جواب نے اسے ہلا کر رکھ دیا تھا۔
آپ بیہوش ہو گئیں تھی ربائشہ ۔۔۔۔آپ کیسے کہہ سکتی ہیں کہ وہ شخص جس کے نکاح میں ہیں آپ وہ اپنا حق لینے کی بجائے آپ سے چھینے گا آپ کی روح کو توڑ کر۔۔۔۔۔
لیکن پھر بھی وہ ان سب کو بھولی نہیں تھی۔۔۔۔اور پھر دور چلی گئی تھی۔۔۔۔۔۔اور آج ایک سال بعد وہ ایک دوسرے کے روبرو تھے۔
یہ تمہاری بھول ہے کہ تمہارے نام کے آگے سے میرا نام ہٹے گا کبھی درید یزدانی نے سنجیدگی سے کہا۔
بہت ہو گیا اب وہ اس ناکردہ گناہ کی سزا نہیں کاٹے گا جس نے اسے اتنا بے بس اور مجبور کر دیا تھا۔
میں کورٹ میں جاؤ گی۔۔۔۔۔درید یزدانی وہ چیخی۔۔۔۔۔دونوں اپنی اپنی آنا کے اونچے پہاڑوں پر تھے۔
دنیا کی کوئی بھی طاقت لگا کر دیکھ لیں ربائشہ ۔۔۔۔۔۔شکست آپ کا مقدر بنے گی۔۔۔۔اس نے اس کے قریب آتے شائستگی سے کہا۔
تم۔۔۔۔تم اب کیا چاہتے ہو۔۔۔؟
دو گی مجھے۔۔۔۔۔
کیا دوبارہ دسترس حاصل کرنا چاہتے ہیں مجھ پر۔۔۔۔؟اس نے وہ سوال پوچھا تھا جس سے وہ بچ رہا تھا۔
نیچے ڈرائیور کھڑا ہے میرا واپس چلی جاؤ۔۔۔۔اس نے کہتے رخ موڑ لیا تھا۔
ایک سال کے بعد ہوئی یہ ملاقات عجیب تھی۔۔۔۔۔۔اسےوہ شخص سمجھ نہ آیا تھا۔۔۔۔اس کی آنکھیں کچھ اور بیان کر رہی تھی جو وہ پڑھنے اور سمجھنے سے قاصر تھی۔
اور پھر اس دن کے بعد وہ اس کے سامنے نہیں آیا تھا لیکن ایک فلیٹ وہ یہاں خرید چکا تھا۔۔۔۔
اس کے آنے جانے کی ہر انفارمیشن تھی اس کے پاس۔۔۔۔۔جس دن اس کے گھر میں کوئی دوسرا نہ ہوتا تو وہ اسے صرف ایک نظر دیکھنے کے لیے جاتا تھا۔
وہ اس کے نزدیک ہوتے ہوئے بھی بہت دور تھا۔۔۔۔۔۔۔اور پھر ایک دن ایکسیڈنٹ ہوا تھا اس کا۔
ربائشہ اکثر نیند میں کسی کی موجودگی محسوس کیا کرتی تھی ۔۔۔۔۔۔اور آہستہ آہستہ وہ اس موجودگی سے مانوس ہو گئی تھی۔
یہ موجودگی اسے اچھی نہیں تو بری بھی نہیں لگتی تھی۔۔۔۔۔اپنے پیچھے موجود آدمیوں سے بھی وہ جان گئی تھی کہ اس کی حفاظت کے لیے اس نے یہ سب کیا ہے۔
کبھی کبھی اس کا دل چاہتا تھا وہ چیخ کر اس شخص کا گریبان تھام کر پوچھے۔۔۔۔۔
کہ کیوں کیوں کیا تھا تم نے وہ سب۔۔۔۔۔۔کیا وہ سب جھوٹ تھا یا یہ سب جھوٹ ہے۔۔۔۔۔جو اس کی آنکھیں بیان کرتی تھیں، جو اس کی حفاظت کے طریقے بیان کرتے تھے۔
منت کے ہاتھ پر چھری لگنے سے وہ ہسپتال آئیں تھیں اور اس نے اسی آدمی کو دیکھا تھا جو اکثر اس کے پیچھے ہوا کرتا تھا جب وہ گھر سے نکلتی تھی۔
وہ آج کل الجھن میں تھی۔۔۔۔نہ ہی کوئی گارڈ تھا اور نہ راتوں میں اس کی موجودگی۔۔۔تو کیا وہ پھر سے واپس چلا گیا تھا سب چھوڑ کر۔۔۔۔۔
ایک بار پھر نفرت کو دل و دماغ میں اس نے جگہ دی تھی یہ سوچتے کہ اس پر رسائی نہ پاتے وہ ہار مان کر چلا گیا تھا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آدھے گھنٹے بعد وہ بھی سب سے ملتی باہر نکل گئی۔۔۔کہ بزنس پارٹیز اسے شروع سے بے حد بورنگ لگتی تھیں جب وہ اپنے بابا کے ساتھ بھی آیا کرتی تھی۔
وہ گاڑی میں جا کر بیٹھی۔۔۔۔مینیجر کو اس نے جانے کا بول دیا تھا اب اس نے سیدھا گھر جانا تھا۔
راستے میں اس نے اپنے اور ربائشہ کے لیے آئس کریم لی کیونکہ ربائشہ کو آئس کریم بے حد پسند تھی۔۔۔۔۔
اب وہ واپسی کے راستے پر پھر سے گامزن تھی۔۔۔۔لیکن اچانک پیچھے سے آتی گاڑی نے اس کا راستہ روکا تھا۔
سامنے موجود شخص کو دیکھتے اس کی ٹانگیں کانپی ۔۔۔۔۔
اس سنسان سڑک پر رات کے دس بجے وہ دونوں کھڑے تھے۔۔۔۔۔۔
گاڑی لوک کرو اور باہر آؤ۔۔۔۔۔تبریز شاہ نے اس سے کہا۔۔۔۔۔۔انداز ایسا تھا جیسے وہ اس کی بات مان جائے گی۔
دیکھیں مسٹر تبریز شاہ جو بات ہو گی آفس میں ہو گی اور۔۔۔۔
نکلو باہر۔۔۔۔!!
وہ آہستہ آواز میں غرایا کہ اس کا ڈرائیور اور گارڑ سامنے گاڑی میں موجود تھا۔۔۔۔۔
صبح۔۔۔۔۔۔۔بات۔۔۔
اس نے اس کی گاڑی کا دروازہ کھولا اور اسے گھسیٹ کر باہر نکالا۔۔۔۔۔اور اپنے ساتھ لایا۔۔
یہ میڈیم کی گاڑی میرے گھر پہنچاؤ دونوں۔۔۔۔۔اس نے کہا تو وہ نکل کر سامنے والی گاڑی کی طرف بڑھ گئے۔
چھوڑیں۔۔۔۔مسٹر تبریز شاہ۔۔۔۔۔یہ کیا بیہودہ حرکت ہے؟
مس منت وقار بیہودہ حرکت ابھی میں نے کی کہاں ہے اس لیے زںان بند رکھو اپنی ۔۔۔۔۔۔۔اس نے اسے گاڑی کے اندر بٹھایا اور دوسری طرف آ کر خود بیٹھا۔۔۔
وہ جو آدھی گاڑی سے باہر نکل گئی تھی اسے کھینچا اور واپس بٹھاتے اس کے آگے سے ہوتے دروازہ بند کیا اور پھر لوک لگائے۔
جو بات ہو گی آفس میں ہو گی۔۔۔۔آپ کا کوئی حق نہیں بنتا کہ آپ اس طرح کی غیر اخلاقی حرکت کسی لڑکی کے ساتھ کریں۔۔۔۔۔وہ چیخی۔۔۔
آواز آہستہ۔۔۔۔۔اور حق کی بات مت کرنا میری سامنے منت تبریز شاہ۔۔۔۔۔۔۔
منت نے اس کے منہ سے یہ سنتے اسے بے یقینی سے دیکھا تھا۔۔۔۔اس کی آواز حلق میں ہی گھٹ گئی تھی۔۔۔۔۔وہ ساکن بیٹھی رہ گئی۔۔۔۔
تو کیا جس کا ڈر تھا اب وہی ہونا تھا۔۔۔۔۔اس نے آنکھیں بند کرتے سیٹ کی پشت سے ٹیک لگائی آنکھ سے ایک آنسو گرا تھا۔۔۔۔
تبریز شاہ نے گیٹ کے سامنے گاڑی روکی اور ہارن دیا۔۔۔۔۔۔تو اس نے آنکھیں کھولی۔۔۔۔۔
چوکیدار دروازہ کھول رہا تھا۔۔۔۔وہ اسے اپنے ساتھ اپنے گھر کیوں لایا تھا ۔۔۔۔۔۔؟
نکلو باہر۔۔۔۔اس نے کہا تو وہ باہر نکلی کہ کوئی دوسرا یا تیسرا آپشن نہیں تھا اس کے پاس۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سامنے والا کمرہ ہے جاؤ فریش ہو جاؤ پھر کھانا کھاتے ہیں۔۔۔۔شام کے سات بجے تھے۔
وہ دونوں فریش ہو کر کھانے کی میز پر بیٹھے تھے۔۔۔۔۔خانساماں سے وہ مل چکی تھی۔۔۔کھانا کھاتے وہ واپس کمرے میں چکی گئی۔
اب وہ اپنے کپڑے نکالتی الماری میں سیٹ کر رہی تھی۔
میرے بھی کر دینا۔۔۔۔باسط کی آواز سنتے اس نےسر اثبات میں ہلایا۔۔۔
اب اپنا کام تھا تو کیسے فوراً بولا ہے رباب نے منہ بسوڑتے اس کی پشت کو دیکھا جہاں وہ لیٹنے کی تیاریوں میں تھا۔
درید کی کال سنتے اب وہ اسے ساری روداد سنا رہی تھی پہلے بھی اس کی درید سے بات ہوئی تھی لیکن صرف خیریت سے پہنچنے کی۔
فون بند کرتے وہ واپس آئی اور آ کر لیٹنے لگی تو نظر اس کے ہاتھ پر گئی جہاں اس نے زخم دیا تھا اسے شرمندگی نے آن گھیرا۔
اس نے سامنے دراز میں فرسٹ ایڈ کا ڈبہ دیکھا تھا اس میں سے بیڈیج نکال کر لائی اور اس کے پاس آتے اس کا ہاتھ تھاما۔
باسط نے اسے دیکھا جس کے بال ہلکے نم تھے۔۔۔۔اس کے چہرے کی شادابی اسے مزید حسین بنا رہی تھی۔
آپ نے بتایا نہیں۔۔۔۔۔اس نے چوٹ کی طرف اشارہ کیا تو وہ خاموش رہا اور ہلکا سا اٹھ کر بیٹھا۔
آئیم سوری۔۔۔۔اس نے کچھ سوچتے کہا۔۔۔۔اگر میں نے آپ کو چوٹ دی ہے تو ضرور اس لڑکے کو بھی دی ہو گی۔۔۔۔
مجھے اس سے معافی مانگ لینی چاہیے تھی۔۔۔اتنا اچھا تھا وہ۔۔۔۔اس نے میری مدد کی تھی۔۔۔جب آپ سامان لے رہے تھے اس نے میرا ہینڈ کیری اٹھایا تھا کیونکہ مجھ سے نہیں اٹھایا جا رہا تھا اور وہ کافی خوش مزاج۔۔۔۔
رباب باسط ضیاء مجھے یہ فضول کی باتیں نہیں سننی۔۔۔۔اس نے یک دم کیا تو وہ خاموش ہو گئی۔
اسے یک دم اپنی غلطی کا احساس ہوا۔۔۔۔۔۔اب وہ خاموشی سے اس کے پاس سے اٹھ گئی۔۔۔۔
وہ واپس ہاتھ دھو کر آ کر لیٹی تو اس نے باسط نے اس کی مہندی پھر سے دیکھی۔۔۔۔
اور ہاتھ بڑھا کر اس کے ہاتھ تھامے اور ناک کے نتھنوں کے پاس لے جا کر گہری سانس بھری۔
اس کے ہاتھ پر کافی گہرا رنگ آیا تھا۔۔۔۔اس نے اس کے پیروں پر نظر ڈالی۔۔۔رنگ وہاں بھی گہرا تھا لیکن کچھ مسنگ تھا۔
میں نے تمہیں پازیب دی تھی پہننے کے لیے۔۔۔۔۔
ہاں وہ۔۔۔میں۔۔۔
کیا۔۔۔۔۔
میرے پاس ہے ۔۔۔۔
تو پہنی کیوں نہیں۔۔۔۔
صبح پہنچ لوں گی اس نے سادگی سے کہا تو باسط نے اسے دیکھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب کہ اس کا دل جانتا تھا کہ کس حد تک بھونڈی سوچ ہے اس کی۔۔۔۔۔
اس آدمی کو دیکھتے اس نے منت کو واپس بھیجا تھا کیونکہ اس نے آج شام بزنس پارٹی پر جانا تھا اور خود اس آدمی کے پیچھے آئی۔
اور اس شخص کو پٹیوں میں جکڑے پایا تھا جو کئی دنوں سے غائب تھا۔
اسے اپنی سوچ پر غصہ آیا۔۔۔۔وہ کتنی دیر باہر کھڑی سوچتی رہی کہ اندر جائے یا نہیں اور پھر اس کو سوتے دیکھ وہ اندر داخل ہوئی تھی۔
اس کے بیڈ کے پاس وہ پندرہ منٹ تک کھڑی رہی تھی۔۔۔۔۔اسے دیکھتی رہی تھی بنا پلک جھپکے۔۔۔۔۔
پھر گھڑی کو دیکھتے جو شام کے سات بجا رہی تھی وہ پلٹنے لگی کہ اس شخص نے اس کا ہاتھ تھاما تھا۔
اس کے دل نے پہلی بیٹ مس کی تھی۔۔۔۔وہ پلٹی اور دیکھا وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
دیکھ لو آخری بار ہو سکتا ہے تمہارے نام کے آگے سے اب میرا نام ہٹ جائے۔۔۔۔۔اس نے پپڑی زدہ ہونٹوں سے کہا۔۔۔۔
ربائشہ نے جھٹکے سے اس کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔۔یہ بات اس کے دل پر کافی ناگوار گزری تھی کیوں وہ نہیں جانتی تھی۔
رکیں گی نہیں کچھ دیر ۔۔۔۔؟وہ پھر سے پلٹنے لگی تھی کہ وہ بولا تو وہ وہیں پاس پڑے بینچ پر بیٹھ گئی۔
اس نے اس کا ہاتھ نہیں چھوڑا تھا۔۔۔۔ایک گھنٹہ ۔۔۔۔دو گھنٹہ اس کے بعد کوئی بات نہ ہوئی تھی کیونکہ وہ سو چکا تھا لیکن نیند میں بھی اس نے ربائشہ کا ہاتھ نہ چھوڑا تھا۔
منت دو بار فون کر چکی تھی۔۔۔۔۔ربائشہ نے اسے سب بتا رکھا تھا ابھی بھی سب بتاتے اس نے فون کاٹا اور دیکھا وہ بھی جاگ گیا تھا۔
منت کو واپس تبریز لے گیا تھا اپنے ساتھ ۔۔۔۔یہ سوچتے اس کی فکر سے آزاد ہوئی وہ۔۔۔
خدا آپ کو صحت دے وہ کہتے کھڑی ہوئی تھی جانے کے لیے۔۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ دروازے تک پہنچتی اس کے کراہنے کی آواز سے پلٹی۔
وہ شخص اپنے ہاتھ پر لگی ڈرپ نوچ کر اتار چکا تھا۔۔۔۔۔۔۔جمشید۔۔۔۔۔جمشید۔۔۔۔کہاں مر گئے ہو۔۔۔۔
وہ وہیں کھڑی اسے دیکھتے رہی۔۔۔اس کے ہاتھ سے خون بہہ رہا تھا لیکن وہ مسلسل چیخ رہا تھا۔
جمشید کے ساتھ نرس بھی اندر آئی تھی۔۔۔۔
سر یہ۔۔۔۔
دور رہو۔۔۔۔
جمشید مجھے گھر جانا ہے ابھی کہ ابھی۔۔۔۔۔وہ چیخا۔۔۔
سر یہ ممکن نہیں ہے ابھی آپ کا پلاستر۔۔جو اس کے بازو پر ہوا تھا۔۔۔۔
مجھے ابھی جانا ہے ۔۔۔۔وہ اٹھا اور لڑکھڑایا ۔۔۔۔۔۔۔۔کہ جمشید نے اسے تھاما۔۔۔۔
وہ وہیں دروازے کے بیچ و بیچ کھڑی اسے یہ سب کرتے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔
وہ کیوں تھا ایسا۔۔۔۔۔؟اس نے آگے قدم بڑھائے۔۔۔۔۔۔اس کا دماغ نفی کر رہا تھا لیکن دل کے ہاتھوں مجبور تھی۔
آگے بڑھتے اس کا ایک طرف سے ہاتھ تھامنا چاہا کہ اس نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عارضی سہارے نہیں چاہیے مجھے۔۔۔۔بنا اس کی طرف دیکھے وہ بولا تھا۔۔۔۔
سر خون صاف کروالیں۔۔۔۔۔نرس منمنائی۔۔۔۔
چلو جمشید۔۔۔۔۔
ان کی پٹی کریں آپ اور جمشید اپنے سر کو یہاں بٹھائیں فوراً اب کہ وہ سنجیدگی سے بولی تھی جمشید نے ایسا ہی کیا تھا۔
ان سب کا دائرہ نہیں۔۔۔۔میں پھر اتار دوں گا۔۔۔تم جاؤ واپس۔۔۔۔وہ کب آپ سے تم پر آجاتا خبر بھی نا ہوتی تھی۔
آپ پٹی کروا لیں میں واپس چلی جاؤ گی۔۔۔۔۔
تمہیں فرق نہیں پڑنا چاہیے مس ربائشہ ۔۔۔۔۔جمشید جاؤ انہیں چھوڑ کر آؤ وہ پھر آہستگی سے بولا تو اس نے منت کو آج رات نہ آنے کا میسیج سینڈ کرتے اسے دکھایا۔
تو اس نے خاموشی سے بینڈیج کروائی۔۔۔تو کیا وہ واقعی یہاں ربائشہ کے لیے آیا تھا۔۔۔۔اس کے دل نے دوسری بیٹ مس کی۔
اور پھر وہ اس کے ساتھ اس کے فلیٹ پر آئی تھی۔۔۔۔۔اسے دوا دیتے وہ سامنے صوفہ پر جا کر بیٹھی تھی اور آنکھیں موند کر بھی اس کی نظریں وہ خود پر محسوس کر سکتی تھی۔
اس نے تنگ ہوتے آنکھیں کھولیں تو دیکھا وہ دوسری طرف منہ کر چکا تھا۔۔۔۔۔شاید اس کا تنگ ہونا وہ محسوس کر چکا تھا۔
پہلے جب وہ دیکھ رہا تھا تو اسے مسئلہ تھا اب جب وہ رخ موڑ چکا تھا تب اسے مسئلہ تھا۔۔۔۔
اسے پیاس لگی تو وہ بنا چاپ کیے باہر نکل گئی۔۔۔۔۔اور پھر باہر ہی بیٹھ گئی۔
اس کی زندگی میں کیا ہو رہا تھا وہ نہیں سمجھ پا رہی تھی۔۔۔۔۔۔ابھی اس کی آنکھ لگتی کہ وہ پھر سے چیخ رہا تھا وہ دوڑ کر اس کے کمرے کی طرف گئی۔
وہ کیسے جا سکتی ہے۔۔۔۔۔اسے واپس لاؤ۔۔۔۔وہ چیخ رہا تھا۔۔۔۔جمشید پر۔۔۔۔اس نے گہری سانس بھری اور اندر داخل ہوئی اسے دیکھتے جمشید ایک بات پھر باہر نکل چکا تھا۔
کیا مسئلہ ہے تمہارے ساتھ۔۔۔۔۔کیوں خود کے ساتھ سب کی زندگی کو مشکل میں ڈال رکھا ہے۔۔۔۔۔
اس کو دیکھتے کہا۔۔۔۔نظر سیدھا اس کے ہاتھ پر گئی جو پٹی اب پھر سرخ ہو رہی تھی۔۔۔۔اس نے پاس جاتے اس کا ہاتھ تھاما اور پٹی کی اس سے پہلے کہ وہ اٹھتی وہ ہمت کرتا اسے اپنی طرف کھینچ چکا تھا۔
وہ بیلنس برقرار نہ رکھتے اس پر گری تھی۔۔۔۔۔اس کے بازو پر زور پڑتے درید نے لب بھینچے تھے۔
وہ قریب تھے ایک دوسرے کے۔۔۔۔۔۔درید نے سائیڈ سے ساری بتیاں اوف کیں اب صرف دوسری طرف کا لیمپ اون تھا۔
ربائشہ نے ہوش میں آتے اٹھنے کی کوشش کی تو وہ بھی ہوش میں آیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ نکل کر اس کی طرف آیا اور اسے کھینچ کر اندر لے کر گیا۔۔۔
ہاتھ چھوڑیں میرا۔۔۔۔وہ چیخ رہی ہے وہ سیڑھیاں چلتا اوپر آیا اور ایک کمرے میں جاتے اسے دھکا دیتے کھڑا کیا وہ شاید اس کا اپنا کمرہ تھا۔
مجھے میرے گھر چھوڑ کر آئیں۔۔۔۔کب سے اٹکا آنسو اب گرا تھا۔۔۔۔آواز بالکل بند ہونے کو تھی گلہ خراب ہونے کی وجہ سے۔۔۔۔
یہ بھی تمہارا گھر ہے مسز تبریز شاہ اس نے کہتے سامنے جگ سے پانی ڈالا اور اس کے آگے کیا۔
منت نے اس کا ہاتھ جھٹکا۔۔۔۔مجھے گھر جانا ہے اپنے گھر۔۔۔۔۔۔۔
گلاس چھناکے کی آواز سے ٹوٹا تھا۔۔۔۔۔
تبریز شاہ نے پیچھے سے اس کے جُوڑے کو تھام کر اس کا چہرہ قریب کیا تھا۔
ہمت کافی بڑھ گئی ہے تمہاری منت ۔۔۔۔۔۔۔نہیں؟؟
منت نے دھیرے سے آنکھیں کھولی۔۔۔۔وہ قریب تھے اسوقت۔۔۔۔۔اس نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔۔۔
اب اس کی آنکھوں کا رنگ کالا تھا ۔۔۔۔شاید پہلے اس نے لینز لگا رکھے تھے۔
منت نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے اپنے بال آزاد کروانے چاہے تھے لیکن ناکام رہی تھی ایسا کرنے سے وہ اس کے مزید قریب ہوئی تھی۔
بھاگی کیوں تھی۔۔۔۔۔
مجھے جانا ہے۔۔۔۔
اور کوئی بکواس نہیں۔۔۔۔جواب دو مجھے بھاگ کیوں گئی تھی۔۔۔۔کس بات کا ڈر تھا تمہیں منت وقار۔۔۔۔؟
میں کسی بھی بات کا جواب دینے کی پابند نہیں ہوں آپ کو۔۔۔۔۔اس نے نم آنکھوں سے کہا۔۔۔۔۔
تبریز شاہ نے اسے پیچھے دھکا دیا وہ صوفے پر گری تھی وہ پھر سے اس کے قریب ہوا۔۔۔۔
کیا واقعی میں کوئی حق نہیں رکھتا۔۔۔۔یا یوں کہو مجھ سے زیادہ کوئی حق نہیں رکھتا۔۔۔۔۔؟ وہ سرگوشی کرنے کے سے انداز میں بولا۔۔۔۔۔
شاہ۔۔۔۔اس نے ہچکی لیتے کہا۔۔۔۔
کتنے عرصے بعد اس کے لبوں سے یہ نکلا تھا۔۔۔۔۔تبریز شاہ نے اس کے بال کھولے تھے۔
آئیندہ اپنے لباس پر دھیان دینا منت میں پہلی اور آخری بار سمجھا رہا ہوں۔۔۔۔۔۔اس کی آنکھوں میں دیکھتا وہ بولا تھا۔
منت نے ہاں میں سر ہلایا ۔۔۔۔۔۔اس وقت اس کی ہر بات پر جی حضوری کرنا ہی بہتر تھا۔
اپنے ہاتھ پر اس کا لمس محسوس کرتے اس نے جھٹکے سے اس کے ہاتھ کو اور پھر اسے دیکھا تھا اور پھر کراہی تھی کیونکہ اس کا ہاتھ اس کی سخت پکڑ میں تھا۔
یہ ہاتھ اب کسی کے ہاتھ میں گیا نا تو تمہاری قسم توڑ دوں گا۔۔۔۔۔۔۔اب کی بار وہ گرایا اور جھٹکے سے اسے دوبارہ کھڑا کیا۔۔۔۔۔
چلو چھوڑ کر آؤں۔۔۔۔اس کا ہاتھ نا محسوس انداز میں سہلاتے وہ دور ہوا تھا۔۔۔
میں چلی جاؤ گی۔۔۔۔
جو میں نے کہا ہے وہ سمجھ میں نہیں آئی۔۔۔
مجھے عادت ہے اکیلے سفر کرنے کی۔۔۔۔۔بہت دیر سے خود کر رہی ہوں۔۔۔۔
اس بہت دیر کے ہر دن کا حساب تم اب سے دو گی منت تبریز شاہ یاد رکھنا۔۔۔۔۔
چلو۔۔۔۔۔وہ۔کہتا اس کا ہاتھ تھامتا پھر سے باہر نکل گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باسط۔۔۔۔۔
ہمم۔۔۔۔
تھینک یو۔۔۔۔
کس لیے۔۔۔۔
آپ نے پلین میں۔۔۔۔۔۔۔وہ کہتے کہتے رکی۔۔۔۔وہ سمجھ گیا تھا۔
تم میرا وہ شکریہ واپس کر سکتی ہو۔۔۔۔
کیسے۔۔۔۔وہ حیران ہوئی۔۔۔۔
ویسے ہی میرے قریب آ کر۔۔۔۔ناجانے کیوں مگر وہ بول گیا تھا۔۔۔۔اس نے دل میں خود کو ڈبٹا اور اس کی طرف سے پیش قدمی نہ ہوتے دیکھ کروٹ بدل لی۔
وہ جو اس کا مطالبہ سنتے حیران ہوئی تھی اسے ایسا کرتے دیکھ چونکی۔۔۔۔اسے لگا باسط کو بُرا لگا ہے۔۔۔
اس نے تھوک نگلتے قریب ہوتے اس کی پشت پر سر ٹکایا اور اپنا لرزتا ہاتھ اس کے گرد باندھا۔
باسط ضیاء نے پل کے لیے خود میں سکوں اترتے محسوس کیا۔
باسط ۔۔۔۔
ہم۔۔
آئیم سوری ۔۔۔۔میں آئیندہ دھیان رکھوں گی۔۔۔۔۔وہ شاید دیری کے لیے معافی مانگ رہی تھی۔۔۔
وہ کتنی معصوم تھی۔۔۔۔۔کیا وہ اس کے ساتھ وہ سب کر پاتا جو وہ سوچ چکا تھا۔۔۔۔
باقی کل پر چھوڑ کر اس نے اس کی طرف کروٹ بدلی اور اسے دیکھا جو اسے دیکھتے پھر سے نظروں کا زاویہ بدل گئی تھی۔
ایسا کرتی وہ اسے بری لگی تھی اس لیے جھٹکے سے اس کی قمر میں ہاتھ ڈالتے اسے قریب کیا۔
آئیندہ میرے نظریں ملانے پر نظریں مت پھیرنا مجھ سے۔۔۔۔۔اس پر جھکتے اس کی آنکھوں پر اپنے لب رکھتے اس نے کہا۔
اس لمحے وہ سب بھول گیا تھا۔۔۔۔رںاب نے لرزتے اس کے سینے پر سر رکھا۔۔۔۔وہ اس وقت بے حد قریب تھے کہ ایک دوسرے کی دل کی دھڑکنیں بآسانی سن سکتے تھے۔
اس کے بالوں کی خوشبو خود میں اتارتے وہ بے خود سا ہوا تھا۔۔۔۔۔اس کے چہرے کو تھامتے اس نے اس کے بال ہٹائے۔
اس سے پہلے کہ وہ اس پر جھکتا اس کا فون گونج اٹھا تھا۔۔۔۔۔وہ یک دم پیچھے ہٹا۔۔۔۔
جیسے ہوش میں آیا ہو۔۔رباب نے اس کا جھٹکے سے دور ہونا شدت سے محسوس کیا تھا لیکن بولی کچھ نہیں۔۔۔
وہ فون لے کر باہر جا چکا تھا۔۔۔وہ وہیں پڑی رہی۔۔۔۔۔اسے باسط کا ری ایکشن بہت عجیب لگا تھا۔۔۔وہ خود اس کے قریب ہوا تھا اور پھر ۔۔۔
اس کا انتظار کرتے اس کی کب آنکھ لگی اسے اندازہ نہ ہوا۔۔۔۔۔
وہ دوسرے کمرے میں ناجانے کتنے سگریٹ پھونک چکا تھا۔۔۔۔۔دل اور دماغ کی جنگ میں۔
وہ تمہاری بیوی ہے تم حق رکھتے ہو اس پر۔۔۔۔دل نے کہا تھا۔۔۔۔
لیکن تم ان سب میں نہیں پر سکتے۔۔۔۔۔دماغ نے کہا۔۔۔
اس میں کوئی قباحت نہیں ہے دل نے پھر سے اس کا ساتھ دیا تھا۔
لیکن یہ سب کرنا صرف تمہیں تمہارے مقصد سے ہٹا سکتا ہے۔۔۔۔۔
اسے پتا تھا اسے اب کیا کرنا ہے ۔۔۔وہ واپس گیا تو وہ سو چکی تھی۔۔۔۔
اس نے اسے پھر سے قریب کرتے حصار میں لیا۔۔۔۔۔۔۔شاید ان سب میں تمہیں ہرٹ کر دوں لیکن امید کرتا ہوں کہ ہمیں ایک دوسرے سے محبت نہ ہو۔۔۔اس نے کہتے آنکھیں موندی۔
کھڑکی سے جھانکتا چاند بھی اس کی اس بیوقوفی پر مسکرایا تھا ۔۔۔۔۔۔۔نہ وہ اسے ہرٹ کرنا چاہتا تھا اور نہ وہ چاہتا کہ انہیں محبت ہو۔۔۔۔
وہ نہیں جانتا تھا کہ ساتھ موجود شخصیت کی وہ بچپن کی محبت تھا۔
