Shiddat-e-Talab by Suneha Rauf NovelR50408 Shiddat-e-Talab Episode 27
No Download Link
Rate this Novel
Shiddat-e-Talab Episode 27
Shiddat-e-Talab by Suneha Rauf
میری منت۔۔۔۔۔
منت تبریز شاہ!
جس کے بغیر مجھے سانس نہیں آتا۔۔۔جس نے مجھے محبت دی حد سے زیادہ۔۔۔جس نے بتایا کہ میرا وجود اہم ہے ۔۔۔جس نے مجھے سکھایا کہ خونی رشتے کتنی اہمیت رکھتے ہیں ان کا ساتھ رہنا کیا معنی رکھتا ہے ۔۔۔۔
مجھے آپ سے ہزار شکوے سہی امی لیکن آپ کا مقام بہت اونچا ہے ۔۔۔۔میں مزید کچھ نہیں کہوں گا سوائے اس کے ۔۔۔
کہ۔۔۔
اس شخص کو بولیں میری بیوی ابھی میری سامنے لائے نہیں تو ۔۔
نہیں تو؟ کیا؟ شاہ نواز جو ان کے میلو ڈرامے سے تھک گیا تھا تیزی سے چلتا آگے آیا۔
شاہ اس کی بیوی کو بلاؤ۔۔۔۔وہ عورت تحمل سے بولی۔
اس معاملے سے دور رہو تم۔۔۔
جو کہہ رہی ہو وہ کرو۔۔۔اس کی بیوی کو بلاؤ۔۔۔۔
بکواس نہ کرو اندر جاؤ۔۔۔یا باہر کسی پارٹی میں جو تمہارا کام ہے شاہ نواز بولا۔
اس عورت نے اپنے بیٹے کو دیکھا جس کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا۔
اس کا دل کیا زمین پھٹے اور وہ اس میں جا سمائے۔۔۔کیا حیثیت رہ گئی تھی اسکی۔۔۔
وہ نہ ایک اچھی بیوی تھی اور ماں۔۔۔وہ تو شاید کہلوانے کی بھی لائق نہ تھی۔
تمہاری بیوی ۔۔۔۔
امی مجھے میری بیوی چاہیے؟۔۔
اتنی محبت ہے اس سے؟ ان کی آواز میں حثرت تھی۔۔۔کبھی وہ بھی چاہتی تھی کہ انہیں کوئی محبت کرے لیکن پھر انہوں نے دولت کو محبت پر ترجیح دے دی تھی۔
محبت لفظ کا نہیں پتا مجھے۔۔۔۔اس سے دلی وابستگی ہے میری۔۔۔۔میری زندگی نامکمل ہے۔۔۔
“منت تبریز شاہ میرا حاصل ہے”
میں کچھ نہیں کر سکتی میری بیٹے۔۔۔۔تمہیں اپنی بیوی کو خود ڈھونڈ نکالنا ہے لیکن میری دعا ہے وہ تمہیں مل جائے وہ کہہ کر چکی گئی۔
شاید پشیمانی کا دور شروع ہو چکا تھا۔۔۔انہیں احساس ہو گیا تھا۔
وہ چلی گئی تو وہ قدم قدم چلتا شاہ نواز کے پاس آیا۔
چلو!
کہاں؟
میری بیوی۔۔۔
پہلے میرا کام!
کونسا کام۔۔۔
ایک ڈیل کرتے ہیں تمہاری بیوی کے بدلے۔۔
یہ تمہاری خوش فہمی ہے تبریز شاہ اتنا کمزور نہیں ہوا کہ اپنی بیوی پر ڈیل کرتا پھرے۔
تو ٹھیک ہے پھر بھول جاؤ اسے۔۔۔۔
یہ بات تم بھول جاؤ شاہ نواز۔۔۔۔میں اب تک تحمل مزاجی سے کام لے رہا تھا لیکن نہیں تم وہ انسان ہی نہیں ہو۔۔۔۔
کیا یہ جانتے ہوئے بھی کہ تمہاری بیوی کے پاس میری دو آدمی اس وقت موجود ہیں۔
دو کیا ہزار ہوں۔۔۔۔ان کی اتنی ہمت نہیں ہے میری بیوی کو ہاتھ لگائیں۔
ہاں۔۔۔شاہ نواز نے ہنکارا بھرا۔
کیا یہ جانتے ہوئے بھی کہ تمہاری بیوی ماں بننے والی ہے اور اسے کافی زخم۔۔۔۔
وہ جو تب سے پرسکون تھا۔۔۔جھٹکے سے کھڑا ہوا۔۔۔اس کا دل پہلی بار اس صورتحال میں دھڑکا تھا۔
مجھے میری بیوی چاہیے اسی وقت۔۔۔۔۔اس نے فون نکالا اور کان سے لگایا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاید اس نے ایک روز رباب کو ٹھیک کہا تھا۔
اس کی قسمت اتنی اچھی نا تھی۔۔۔اس کی قسمت میں محدود مدت کے لیے خوشیوں کو لکھا گیا تھا۔۔۔
اور۔۔!
اور جب۔۔۔۔جب اسے لگتا تھا اب سہی ہے تب سب پہلے سے زیادہ بکھر کر رہ جاتا تھا۔
اور آج رباب نے اس کی بات مان لی تھی۔۔۔۔۔۔وہ صحیح کہتی تھی۔۔۔آج اس کا آشیانہ بکھر گیا تھا اور ایسا بکھرا تھا کہ وہ سب ٹوٹ کر بکھر گئے تھے۔
وہ ملتان کی طرف روانہ ہو گیا تھا۔۔۔۔اس نے فلائیٹ لی تھی۔۔۔۔بائے روڈ جانے کی غلطی نہیں کر سکتا تھا ان کے پہنچنے سے پہلے اسے وہاں موجود ہونا تھا۔
اس نے وہاں پہنچتے ناکہ بندی کروائی تھی ہر جگہ پر جس سے کافی مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
لیکن اس نے ایک بھاری قیمت دی تھی وہاں کے پولیس افسروں کو اور آئی جی سے اجازت کے لیے الگ مشکلات کا سامنا کیا تھا اس نے۔
شام سے اگلی صبح ہو گئی تھی اسے سڑکوں پر خوار ہوتے نا باسط کا فون آیا تھا اور نا ان لوگوں کا کچھ پتا چلا تھا۔
اس کا سر درد سے پھٹ رہا تھا لیکن وہ ایک منٹ کے لیے نہیں بیٹھا تھا۔
تم لوگوں نے کہا تھا یہاں کی لوکیشن ہے تو وہ اب تک پہنچے کیوں نہیں؟
سر یہی کی لوکیشن تھی۔۔۔یہاں ایک ہوٹل بُک کیا تھا اس نے لیکن اب تک نہیں آئی۔۔۔۔
ڈیم۔۔۔اس نے سامنے پڑے میز کو دور اچھال دیا۔
اسے لگ رہا تھا کہ اس دنیا میں اس وقت سب سے بے بس شخص اگر کوئی ہے تو وہ ہے وہ خود درید یزدانی۔
فون بجتے اس نے اٹھایا تو باسط کا تھا دھڑکتے دل سے کان کو لگایا اور جو سنا اس سے اس کا دل بند ہوا۔
وہ لڑکھتے کرسی پر بیٹھ گیا۔۔۔اتنا کمزور تو نا تھا وہ لیکن سچ ہے اپنے پیاروں کی موت انسان کو بھی مار دیتی ہے۔
“اگر کبھی مجھ سے ایک پل کے لیے بھی محبت کی ہے نا درید یزدانی تو مجھے میرا بیٹا چاہیے اگلے چوبیس گھنٹوں میں”
ربائشہ کے الفاظ اس کے کان میں گونجے تو وہ کھڑا ہوا ، دکھتے دل اور سر کے ساتھ گاڑی میں بیٹھا۔
سر ہم یہ جگہ کیسے چھوڑ سکتے ہیں۔؟ لیکن بدلے میں اس کی نگاہ کافی تھی۔
وہ ملتان سے واپسی کے راستے پر گامزن تھے۔
سر نے ہار مان لی؟
اپنے بیٹے کو نہیں ڈھونڈے گے؟
ان کی بیوی کو کیا ہوا؟
کیا وہ سروائیو نہیں کر پائی؟
ایسے کئی سوال اس کے ساتھی پولیس والوں کی زبان پر تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے واپسی کے راستے میں جتنے ہاٹلز تھے سب میں باری باری پتا کرنا شروع کیا۔
کیونکہ ناکہ بندی ملتان میں لگائی گئی تھی اس سے پہلے کے علاقوں میں نہیں۔
وہ سب اس کی ذہانت سے متاثر ہوئے تھے۔۔۔۔ یقیناً اس کی پروموشن ہونے والی تھی۔۔۔۔کیونکہ وہ ایک قابل بندہ تھا۔
آہستہ آہستہ ہاٹلز چیک کرتے اسے ناکامی ہوئی تھی لیکن اس کے ماتھے پر ایک شکن تک نا آیا۔
اس کی بیوی نے کہا تھا اسے اپنے بیٹے کو واپس لانا ہے ۔۔اپنی بیوی کی وہ درد بھری آہیں، تکلیف اور ازیت نہیں بھول سکتا تھا وہ جو اس نے اپنے بیٹے کے لیے درید سے دور رہتے سہی تھی۔
ایک ہاٹل کے سامنے رکتے اس کے چہرے پر ہلکی مسکراہٹ تھی۔۔۔جیسے جو چاہا وہ پا لیا ہو۔
سر پیچھے سے حملہ کریں گے؟
نہیں ہم بزدل نہیں ہیں۔۔۔۔حق والے سامنے سے حملہ کرتے ہیں۔
تیار رہو سب۔۔۔۔۔ہمارا مقصد کسی عام شہری کو ڈرانا نہیں ہے لیکن یاد رکھو یہاں سے نکلوں تو میرے ہاتھ میں میرا بیٹا ہونا چاہیے اس بات کو یقینی بنانا ہے تم سب نے ۔۔۔۔
جس سر ۔۔۔سب کی آواز آئی تو وہ اندر داخل ہوئے۔۔۔
پانچ منٹ میں وہ ہاٹل کی انتظامیہ سے تلاشی کی اجازت لے چکے تھے۔
درید نے اس عورت کی تصویر دکھائی جس پر اس شخص نے سر ہاں میں ہلایا۔۔۔اس کے ماتھے پر بکھرا جال یک دم زیادہ ہوا اور پھر ختم ہو گیا۔
ربائشہ درید یزدانی۔۔۔چوبیس گھنٹے نا سہی لیکن چھیالیس گھنٹوں بعد ہمارا بیٹا میرے ہاتھوں میں ہو گا۔
باری باری انہوں نے چیکنگ شروع کی اور آخر کار اسے جا لیا۔۔۔۔
اس کے تمام آدمیوں کو پکڑا جا چکا تھا۔۔۔
درید اس کے سامنے کھڑا ہوا تو وہ گھبرا گئی۔۔۔۔
تو بتاؤ؟ کیسی موت چاہو گی؟
تمہارا بیٹا میں نے بیچ دیا۔۔۔۔۔اس عورت نے کہتے قہقہہ لگایا۔
درید نے پیچھے والے کو اشارہ کیا جس نے سارا کمرہ پھولنا شروع کیا تھا۔
چلو میں ڈھونڈ لوں گا تم فکر نہ کرو۔۔۔۔بس اپنی موت کو قریب سے دیکھنے کے لیے تیار ہو جاؤ۔۔۔۔۔۔
پروین حق نے گن اس پر تانی تو وہ مسکرایا۔۔۔۔۔اور قدم قدم آگے بڑھانے لگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبر کرو۔۔۔۔۔شاہ نواز نے اس کا فون کھینچ لیا۔
اپنی کمپنی میرے نام کرو۔۔۔۔اور اپنی بیوی کو لے جاو۔۔پھر تمہارا میرا کوئی واسطہ نہیں۔
بس؟
ہاں بس ۔۔
تبریز شاہ نے اپنے فون کی طرف اشارہ کیا تو شاہ نواز نے اسے پکڑا دیا۔۔۔
تو کیا سچ میں؟ اتنی جلدی وہ مان گیا؟ شاہ نواز دل ہی دل میں خوش ہوا۔
وکیل صاحب۔۔۔۔میری کمپنی کے کاغزات کسی اور کے نام کروانے ہیں میں نے۔۔۔۔جی آج ہی ۔۔ارجنٹ۔۔۔۔رات تک کا وقت نہیں ہے ۔۔۔اوکے میں ملتا ہوں۔۔۔اس نے کال کاٹا۔
کام ہو جائے گا۔۔اب میری بیوی کو بلاؤ۔۔۔۔۔وہ زبردستی یا توڑ پھوڑ اس لیے نہیں کر رہا تھا کہ اس وقت منت کے ساتھ اس کے آدمی تھے اس کے کسی قدم پر بھی اس کی بیوی کو نقصان پہنچایا جا سکتا تھا۔
اتنی جلدی کیا ہے؟؟ جب کام ہو گیا تمہیں تمہاری بیوی مل جائے گی۔
تبریز شاہ نے ساتھ پڑے میز کو ہاتھ مار کر نیچے گرایا۔۔۔میرا ضبط مت آزماؤ شاہ نواز۔
تم دیکھ سکتے ہو اسے بس؟ وہ اندر سے ڈر گیا اس لیے فوراً حامی بھری۔
اسے امی کے پاس بھیجو اور رات تک وہ وہیں رہے گی۔۔۔ فوراً کرو۔۔۔
شاہ نواز نے اپنی ملازمہ کو حکم دیا جس نے فوراً یہ کام انجام دیا تھا۔
اپنی ماں کو دورازے سے نکلتا دیکھ اس نے انہیں دیکھا۔
میری زندگی میں نے آپ کو سونپی ہے۔۔۔تبریز شاہ نے کہا تو انہوں نے سر ہلایا اور وہ باہر نکل گیا۔
وہ اسے وہاں سے فوراً لے جا سکتا تھا اتنا سب کرنے کی اسے ضرورت نہیں تھی وہ اس کی بیوی تھی لیکن وہ بہت کچھ سوچ کر کر رہا تھا۔
وہ سیدھا وکیل کے پاس گیا تھا۔
کاغزات نقلی بنانے ہیں۔۔۔وہ پرسکون لہجے میں بولا۔
کیا مطلب شاہ صاحب؟
اس نے صورتحال بتائی تو وکیل نے سر ہلایا۔۔۔
کام ہو جائے گا سر۔۔۔۔آپ نے اتنا کچھ کیا ہے میرے لیے اب میری باری۔۔۔
جتنی جلدی ہو سکیں بنا دیں۔۔۔
ٹھیک ہے۔۔۔بس کچھ دیر میں میں ملتا ہوں آپ سے۔
اس نے درید کو فون کر کے حالات بتائے تھے ساتھ جس نے اسے سب دھیان سے کرنے کو کہا تھا۔۔۔اس نے پولیس کو ملوث کرنے کا کہا تھا لیکن شاہ نے انکار کر دیا تھا وہ یہ سب زاتی طور پر کرنا چاہتا تھا۔
کاغزات تیار کرواتے ہی وہ فوراً اپنے وکیل کے ساتھ وہاں پہنچا جہاں شاہ نواز کا وکیل بھی موجود تھا۔
اس کھیل کا پرانا کھلاڑی تھا اس لیے اس نے بھی اپنی پوری تیاری کر رکھی تھی۔
میرا وکیل پہلے کاغزات کی جان پڑتال کرے گا۔۔۔۔اس نے کہا تو تبریز شاہ نے کندھے اچکا دیے اور ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھ گیا۔
اس کے وکیل نے اسے ہاں میں جواب دیا تو وہ خوشی سے نہال ہوتا کھڑا ہو گیا۔
تبریز شاہ کے وکیل نے کاغز ایسے بنائے تھے کہ ان کا نقلی لگنے کا امکان تھا ہی نہیں۔۔۔یا شاید جب تک دوسرا وکیل زیادہ جان پڑتال کر کے یہ سب جانتا تب تک وہ سب اپنے ہاتھ میں لے چکا ہوتا۔
دستخط کر دیں یہاں۔۔۔۔تبریز شاہ کے وکیل نے کہا تو اس نے کھڑے ہوتے شاہ نواز کو دیکھا۔
منت کو بلاؤ۔
یہ کام پہلے ۔۔۔
میری بیوی اسی وقت میری سامنے موجود ہو۔۔۔۔وہ حتمٰی لہجے میں بولا تو اس نے ملازمہ کو اشارہ کیا۔
اس کی ماں نے باہر آتے اس کے عنودگی میں ہونے کا بتایا تو وہ لب بھینچ کر رہ گیا۔
پھر دستخط کرتے شاہ نواز کے منہ پر کاغزات مارے اور اندر کمرے کی طرف بڑھا۔
آخر کار سب میرا ہوا۔۔۔۔
میں جیت گیا۔۔۔ہاہاہاہا۔۔
وہ جو خوشی سے دستخط کر کے اپنی خوشی کا جشن منا رہا تھا منہ پر پڑنے والے پنچ سے زمین پر گرا۔
کیا تکلیف ہے خبیث انسان۔۔۔۔
میری بیوی کو ہاتھ کس نے لگایا۔۔۔۔؟
میں نے نہیں۔۔۔۔
ہاتھ کیسے لگایا ۔۔۔اسے۔۔۔وہ اسے پکڑتا اٹھاتا بولا۔۔
میرے آدمی۔۔مجھے نہیں معلوم۔۔۔شاہ نواز نے اپنا آپ اس سے چھڑواتے کہا۔
تبریز شاہ نے پل میں اس کا حلیہ بگاڑ دیا تھا۔۔۔شاہ نواز کے گارڑ نے اسے علیحدہ کیا نہیں تو عین ممکن تھا کہ وہ اپنے سوتیلے باپ کا قاتل ٹہرایا جاتا۔
ان دونوں کو ڈھونڈو۔۔۔اس نے اپنے آدمی کو کہا تو وہ سر ہلاتا باہر نکل گیا۔
تبریز شاہ آگے بڑھا اور زمین پر پڑے اپنے سوتیلے باپ کے پاس بیٹھا اور دھیرے سے جیب میں ہاتھ ڈالا۔
جاؤ یہاں سے۔۔۔۔شاہ نواز چیخا۔
اتنی جلدی کیا ہے ڈیڈ ۔۔اپنی خوشی کا جشن نہیں منائیں گے۔۔۔اگلے لمحے اس کے محل میں اس کی درد ناک چیخیں تھی کیونکہ تبریز شاہ اپنے کٹر سے اس کے گالوں کو کاٹ چکا تھا۔
منت کا کٹ اس کے کے آگے کچھ بھی نا تھا۔۔۔شاہ نواز کے چہرے سے خون بھر بھر گرنے لگا تھا وہ چیختا رونے لگا تھا۔
******تجھے چھوڑوں گا نہیں۔۔۔
تبریز شاہ نے اسے آخری ٹھوکر ماری۔۔۔
تجھے معاف اب بھی نہیں کیا۔۔۔وہ کیا ہے نا میری بیوی گھر جا کر ناراض نہ ہو جائے اسی لیے کچھ بدلہ ابھی لے لیا ہے باقی کا ادھار کر لیتے ہیں بعد کے لیے۔
شاہ نواز کا سانس سوکھا کیا ابھی کچھ بچا تھا۔۔۔۔
اور ہاں مجھے یاد آیا! وہ دروازے سے مرتا واپس آیا۔۔۔۔چہرے پر سکون سا تھا۔
میری کمپنی نے کافی زکوٰۃ دی تھی تمہیں لیکن اب نہیں وہ کاغز نقلی تھے۔
تبریز شاہ آگے بڑھا اور منت کو گود میں اٹھاتا وہاں سے نکل گیا۔
اریسٹ ہِم۔۔۔باہر نکلتے اس نے پولیس آفیسر کو کہا جو سر ہاں میں ہلاتا اندر چلا گیا۔۔۔۔۔خود کے پیچھے اس نے اس کی ہزاروں گالیاں سنی تھی لیکن کان نہ دھرا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منت کا چیک اپ کروا کر وہ گھر لے آیا تھا کٹ گہرا نا تھا صرف اوپری سطح کو نقصان پہنچا تھا۔
زخم جلدی بھر جاتا۔۔۔۔اس کا ہونٹ بھی پھٹا تھا یعنی اس پر ہاتھ اٹھایا گیا تھا اس نے اپنے اشتعال کو قابو میں کیا۔
اس کا بھی بدلہ بعد میں۔۔۔
منت کو ساتھ لگاتے اس نے اپنے گھر کو دیکھا جسے چند گھنٹوں میں اس نے واپس پہلے جیسا کروا لیا تھا۔
چیزیں کافی کم تھی کیونکہ کافی کچھ ٹور دیا گیا تھا، لیکن تھا سب صاف۔
شا۔۔۔
شاہ۔۔۔
شاہ!!
منت کو کہتے دیکھ وہ فوراً اسے ساتھ لگا گیا۔۔۔بتانے کا ایک طریقہ تھا کہ اب وہ اس کے پاس ہے۔
منت نے آنکھیں کھولتے اسے اپنے پاس محسوس کیا تو فوراً اٹھی اور اس کے گلے لگتے اونچی آواز میں رونے لگی۔
مںت۔۔۔
منٹلتت۔۔سٹاپپپ۔۔۔
میں مر گیا ہوں جو یوں رو رہی ہو۔۔۔؟؟
اسے اور زور سے روتے دیکھ وہ دھاڑا تو وہ یک دم اس سے دور ہوتی سہمے انداز میں دیکھنے لگی۔
تبریز شاہ نے آنکھیں بند کرتے خود کو نارمل کرنا چاہا۔۔۔
کیسی ہو زندگی؟
منت نے آنکھوں میں آنسو لیے اس سنگ دل کو دیکھا اور پھر واپس لیٹ گئی۔
تم سے مخاطب ہوں۔۔۔تبریز شاہ نے جھک کر اسکے ماتھے پر بوسہ دیتے اس کے کان میں کہا۔
ٹھیک ہوں۔۔۔دو لفظی جواب۔
مجھے سونا ہے ۔۔
سو جانا لیکن ابھی کھانا کھاؤ اٹھ کر۔
منت نے نم ہوتی آنکھوں کو جھپکا۔۔جیسے آنسو اندر لے جانا چاہ رہی ہو۔
مجھے آپ بالکل پسند نہیں ہیں۔
جانتا ہوں زندگی۔۔۔۔
تبریز شاہ نے کہا اور باہر نکل گیا تو وہ روتی تکیے میں منہ دینے لگی لیکن پھر تکلیف محسوس کرتی اٹھ کر بیٹھ گئی۔
تبریز شاہ نے اس کے آگے ٹرے رکھی اور چھوٹے چھوٹے لقمے اسے کھلانے لگا جو وہ خاموشی سے کھانے لگی۔
کھا کر دوبارہ لیٹ گئی تو تبریز شاہ نے گہری سانس بھری۔
مجھے ابھی تم چاہیے ہو ۔۔۔منت نے جب دوبارہ اسے باہر جاتے محسوس کیا تو بولی۔
تبریز شاہ نے جھٹکے سے مُڑ کر اسے دیکھا۔۔۔آیا اسے ہی مخاطب کیا گیا ہے اس لہجے میں۔
ایکسکیوزمی؟ مجھ سے مخاطب ہو؟
جی!
واپس آؤ۔۔۔۔
تبریز شاہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا اس کے نزدیک آیا اور جگہ بناتا بیٹھ گیا۔
یہ مخاطب کس انداز میں ہو مجھ سے؟
خاموش رہیں!
اس وقت مجھے غصہ مت دلاؤ۔۔۔کچھ دیر پہلے تمہیں سونا تھا سو جاؤ۔۔۔میں کچھ کام نپٹا لوں۔
مجھ سے ضروری ہو گیا ہے اب سب۔۔۔اس کی آواز سنتے تبریز شاہ کے قدم رکے۔
پھر جوتے اتارتا وہ اپنی جگہ پر آیا اور اس کے ساتھ لیٹ کر اسے حصار میں لیا۔
دوبارہ یہ تم مت کہنا مجھے۔
ہممم۔۔۔۔
سن رہی ہو میری بات؟
جی!
گڈ!
درد تو نہیں ہو رہا کہیں؟
ہاں لیکن جو درد دل میں ہے ان زخموں کا درد ان سے کئی کم ہے۔
ششش! اس وقت پرسکون رہو۔۔۔میں سب سنبھال لوں گا سب صحیح کر دوں گا۔۔۔۔وہ سب بھولتا اس کی طرف رخ موڑ کر بولا۔
اس کی ایسی حالت نہ تھی کہ وہ اس پر غصہ ہوتا یا کچھ کہتا ۔۔۔۔وہ اس وقت اسے یہ اچھی خبر بھی نہیں سنانا چاہتا تھا۔
وہ سب نپٹا کر پھر اچھے سے اسے یہ خبر دیتا جو ان کی زندگی میں بیشک نعمت تھی۔
کیا آپ کو مجھ سے علیحدہ نہیں ہونا تھا۔۔۔مجھے واپس کیوں لائے؟
تبریز شاہ نے اس کی قمر پر اپنی گرفت سخت کی لیکن منت شاہ نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں مزید گاڑھی۔
تمہیں تو مر کر بھی نہیں چھوڑوں گا یہ اپنے چھوٹے سے زہن میں کہیں بٹھا لو۔
منت کے دل پر ان لفظوں نے ٹھنڈی پھوار سا کام کیا تھا لیکن اس نے ظاہر نہ ہونے دیا۔
مجھے کچھ چاہیے اس وقت۔
کیا چاہیے ہے زندگی؟
آپ کا لمس اپنے گالوں پر۔۔۔بہت جلن ہے اس نے آنکھوں کے پانی پر قابو رکھنا چاہا۔
تبریز شاہ نے جھک کر اس کے زخموں پر دھیرے سے مرہم رکھا تھا۔
میری کاٹن کیندیز تو زخمی ہو گئیں ہیں کیسے کھاؤں؟ وہ بولا تو وہ مسکرائی۔۔۔۔
تبریز شاہ نے یہ منظر آنکھوں میں قید کیا اور اس کے بال کان کے پیچھے اڑسے۔
بالوں کو ڈائی کر لو۔۔۔وہ اس کا دھیان بھٹکانا چاہتا تھا۔
کیوں؟ یہ اچھے نہیں ہیں۔۔۔وہ بھی کچھ دیر کے لیے سب بھولنا چاہتی تھی۔
اچھے ہیں۔۔۔لیکن لُک چینج ہو جائے گی اچھے بھی لگیں گے۔
ٹھیک ہے۔۔! وہ مان گئی اگر وہ کہہ رہا تھا تو وہ ایسا کرے گی۔
تم اتنی خوبصورت کیوں ہو زندگی؟
کیونکہ میں زندگی ہوں اس لیے۔۔۔ وہ اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرتی اسے دیکھنے میں مصروف تھی۔
تم میری ہو زندگی بس میری وہ اسے خود میں بھینچ گیا جیسے دنیا سے چھپانا چاہتا ہو۔
تبریز وہ سب؟
اسوقت نہیں۔۔۔سو جاؤ کل سے بات کریں گے اس موضوع پر۔
اوکے! آپ کہیں مت جانا۔
ٹھیک ہے پہلے سوری کرو مجھ سے۔
کس لیے؟
تم کہنے پر ۔۔
توبہ اس میں کون سا گناہ ہو گیا۔۔۔بس میں جب بھی آپ سے ناراض ہو گی آپ کو تم کہوں گی۔
خبردار!
منت نے آئیبرو اچکائی جیسے کہنا چاہ رہی ہو کچھ بھی کر لو ایسا ہی ہو گا۔
اب تم مجھ سے ڈرتی کیوں نہیں ہو؟
سو جائیں! منت نے اس کی گردن میں اپنے بازو ڈالتے کہا تو اس نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا اور اس کی پیٹھ سہلانے لگا۔
تم میرا قیمتی اثاثہ ہو زندگی! تمہارے دور جانے پر جانا ہے کہ تم نہیں تو میں بھی نہیں ۔۔۔کچھ بھی نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہیں نہیں۔۔۔۔اکیلے آئے ہو؟
ہاں! دوست کے ساتھ آیا تھا لیکن اسے جانا پڑا۔۔۔
اوو۔اچھا تم بھی بیٹھ جاؤ ساتھ ڈنر کر لیتے ہیں اکیلے بیٹھ کر کرتے اچھے نہیں لگو گے رباب نے اچھے دوست کی حیثیت سے اسے دعوت دی۔
وہ اس کا اچھا دوست رہا تھا ویسے بھی جیسے اس نے آخری بار اس سے بات کی تھی وہ کافی شرمندہ تھی۔
باسط نے حیرت سے رباب کو دیکھا جس نے بنا اس سے پوچھے اسے بیٹھنے کی اور ڈنر کی دعوت دے ڈالی تھی۔
وہ تھکا ہوا تھا لیکن اس کے ایک بار کہنے پر آیا تھا کہ اچھا وقت اس کے ساتھ گزارے گا اور یہاں میڈیم۔۔۔
تم پیاری ہو گئی ہو کافی! فاحد کے اس کومپلیمنٹ پر باسط ضیاء نے مٹھیاں بھینچی۔
رباب اسے کترائی اور کن اکھیوں سے باسط کو دیکھا جس کا چہرہ سپاٹ تھا۔
تم شادی کب کر رہے ہو؟
تم نے تو کر لی نہیں تو تم سے کر لیتا اب کوئی اور ڈھونڈنی پڑے گی۔
انففف۔۔۔مسٹر فاحد۔۔۔۔باسط کی برداشت یہیں تک تھی یک دم گلاس میز پر رکھتا وہ کھڑا ہوا۔
لوگ اب انہیں کی طرف متوجہ تھے۔
میں بس مزاق۔۔۔۔
میری بیوی سے اس حد تک فری ہونے کی اجازت نہیں دیتا میں کسی کو۔
باسط۔۔۔سب دیکھ ۔۔۔
لیکن بدلے میں باسط نے اسے جن نظروں سے دیکھا وہ خاموش ہو گئی۔
ایکسکیوزمی!
تم نے آنا ہوا تو آجانا وہ کہتا بل پے کرتا باہر نکل گیا۔
یار میں مزاق کر رہا تھا۔۔۔فاحد نے اس کے ہاتھ تھامتے کہا تو رباب نے فوراً اپنے ہاتھ ہٹائے۔
صد شکر کہ باسط چلا گیا تھا نہیں تو اس حرکت پر وہ اس کے جبڑے توڑ دیتا اور ایک نیا ہنگامہ۔
رباب۔۔۔۔
ہممم ۔۔وہ جو جانے لگی تھی مڑی۔
تمہارا شوہر بہت تنگ سوچ کا مالک ہے۔۔۔تم چاہو تو چھوڑ دو اسے میں تمہیں اپنا۔۔۔۔
رباب نے بے یقینی سے اسے دیکھا اور پھر اسے دھکا دیتی باہر نکل گئی۔
باسط شاید اس کی ذہنیت کو سمجھ گیا تھا ۔۔۔ وہ تو اچھا دوست تھا لیکن۔۔۔
کیا اس وقت میں اچھے دوست ملنا بھی مشکل تھا؟
وہ خاموشی سے جا کر گاڑی میں بیٹھ گئی تو باسط نے گاڑی چلاتے گھر کے راستے پر ڈالی۔
آہستہ چلائیں۔۔۔اس کی اسپیڈ دیکھتے اسے کہنا پڑا۔
جواب نداد!
اگر تمہارا اپنے دوست کے ساتھ پلین تھا تو مجھے بتا دیتی میں ڈراپ کر کے چلا جاتا۔
نہیں وہ تو اچانک ملا تھا۔۔۔رباب نے حیرت سے کہا اسے کوئی غلط فہمی ہوئی تھی۔
کھانا بھی نہیں کھایا آپ نے! ابھی کھانا سرو ہی ہوا تھا جب یہ سب ہو گیا تھا۔
بھوک مر گئی میری! باسط نے کہا تو گاڑی میں خاموشی چھا گئی۔
گھر جا کر بھی اس نے کوئی بات نہیں کہ تھی نا رباب نے اسے چھیرا تھا۔۔۔۔شاید باسط نے جب اسے پہلے فاحد کو چھوڑنے کا کہا تھا وہ تب ہی اس کی ذہنیت اور بری سوچ کو بھانپ گیا تھا۔
نہیں تو باسط نے اس پر کبھی کوئی پابندی نہیں لگائی تھی اس بات کے بعد۔۔۔وہ اپنی مرضی سے کپڑے پہنتی تھی اپنی مرضی سے جایا جاتا تھا۔
وہ ایک آد بار تبریز شاہ سے بھی ملی تھی وہ باسط سے ملنے گھر آیا تھا۔
تب بھی اس نے رباب کو خاص تاکید کی تھی کہ اس کے دوست کو اچھے سے ویلکم کیا جائے۔
سب کڑیاں حل ہو گئیں تھی اور وہ اب تک سوچتی رہی تھی کہ ناجانے باسط کو فاحد سے کیا مسئلہ ہے۔
