Shiddat-e-Talab by Suneha Rauf NovelR50408 Shiddat-e-Talab Episode 15
No Download Link
Rate this Novel
Shiddat-e-Talab Episode 15
Shiddat-e-Talab by Suneha Rauf
“اس کے ساتھ جو ہوا اس کے بارے میں مجھے بالکل بھی اندازہ نہیں لیکن باسط ضیاء تم میرے ساتھ یہ سب نہیں کر سکتے” اس نے آنکھوں کی سرخی کو کم کرنے کی کوشش کی۔
“تمہارے بھائی نے میری معصوم بہن۔۔۔۔۔۔جو لاڈلی تھی میری بے حد اس کے ساتھ ایسا کیا ہے رباب یزدانی۔”
“تو ان سب میں میں کیوں گھسیٹی جا رہی ہوں وہ خود آئی تھی میں نے تو نہیں۔۔۔۔۔۔”
آہ۔۔۔۔اپنے ہاتھ پر ہلکی سی جلن محسوس کرتے اس نے اسے دیکھا جس نے سیگریٹ ہلکا سا اس کے ہاتھ پر رکھا تھا اور پھر اسی سگریٹ کا دھواں ہوا میں معتل کیا تھا۔
“بکواس نہیں۔۔۔۔۔!
وہ کہتے ہیں نا انسان اپنے گناہوں کی سزا اپنے قریبی لوگوں کو تکلیف میں دیکھ کر چکاتا ہے تو بس یہی سمجھ لو۔”
“وہ تمہاری سگی بہن تو نہیں تھی۔۔۔اس نے ہچکی لیتے کہا۔۔۔۔”اس انجانے وجود سے اسے نفرت سے محسوس ہو رہی تھی
“وہ اولاد جیسی تھی میری۔۔۔۔میری چھوٹی بہن۔۔۔۔میں نے اس کا ہر لاڈ اٹھایا ہے صرف اس لیے کہ وہ محرومیوں میں زندگی گزارتی آئی ہے کہیں زندگی سے ہار نہ مان لے اور ۔۔۔۔۔
دیکھو تمہارے بھائی نے اسے ایسا ہرایا ہے کہ اب وہ اٹھ نہیں پا رہی۔”
ماضی کی یاد زہن میں لہراتے ہی وہ چونکی۔۔۔اس شخص میں وہ اتنی گم ہو گئی تھی کہ اس بات کو یکسر طور پر بھول گئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈیلز میں مصروف ہوں۔۔۔
اس کے علاؤہ بھی تمہاری مصروفیات کافی ہیں۔۔۔۔مجھے سننے کو اکثر ملتی رہتیں ہیں۔
کون سی مصروفیات۔۔۔۔۔وہ پہلے ہی تھکا تھا اور اوپر سے ان کے سوالات۔۔۔۔
منت نامی لڑکی کون ہے؟۔۔۔
اس کا یہاں کیا زکر وہ سیدھا ہو کر بیٹھا۔۔۔۔
تم بتاؤ۔۔۔لگتا ہے کوئی خاص ہے جو تبریر شاہ کی نظروں کے حصار میں رہتی ہے چوبیس گھنٹے۔
کولیگ ہے اور کچھ نہیں۔۔۔۔۔
ہمم۔۔۔۔کولیگ ہی رکھو اسے۔۔۔۔ایسی لڑکیوں کا کیا بھروسہ۔۔۔۔۔تمہیں دھوکہ دے کر آخر میں سارا کریڈٹ خود لے گئی کام کا تو کتنا نقصان ہو گا تمہیں تم جانتے ہو۔۔۔۔
جی۔۔۔
ایسا کچھ نہیں ہو گا۔۔۔۔آج بھی ہمیشہ کی طرح ان کی باتیں بری لگنے کے باجود وہ خاموش رہا تھا۔۔۔
وجہ یہی تھی کہ انہوں نے پالا تھا اسے۔۔۔۔اسے مہنگے تعلیمی اداروں میں پڑھایا تھا۔۔۔۔۔محبت نہیں کرتے تھے وہ جانتا تھا۔۔۔۔بلکہ اسے محبت اپنی زندگی میں ملی ہی کہاں تھی۔
اس کی اپنی سگی ماں کے پاس اس کے لیے وقت نا تھا تو وہ تو پھر سگا باپ تھا جو کم از کم اس کی ضروریات تو پوری کرتا تھا۔
وہ جانتا تھا اس کا باپ بھی مطلبی ہے۔۔۔تبریز شاہ کا حافظہ کتنا تیز ہے سب جانتے تھے۔۔۔۔۔اس نے کم وقت میں کافی ترقی پائی تھی۔
اس کمپنی کا بھی سارا پروفٹ اس کے باپ کے اکاؤنٹ میں جاتا تھا اور وہ اف تک نا کرتا تھا۔
اور اس نے لگانے بھی کس پر تھے۔۔۔۔۔
بس مجھے اب وہ لڑکی تمہارے آس پاس نا دکھے نہیں تو اس کا کوئی بندوبست میں کروں گا۔۔۔۔
انہوں نے کروفر سے کہتے اپنی شال کندھے پر ٹھیک کی تو وہ بھی اٹھ کھڑا ہوا۔
میں عورتوں کی کتنی عزت کرتا ہوں یہ آپ بھی جانتے ہیں میں اس سے فاصلے پر رہوں گا۔۔۔۔بہتر ہے آپ بھی میری مخبری کروانا بند کریں گے۔۔۔۔وہ پہلی بار سنجیدگی سے کہتا باہر باہر نکل گیا۔
اگلے دن اس نے منت کو وہ سب جب کرتے دیکھا تھا تو سارا غصہ اس پر نکلا تھا بہتر یہی تھا کہ وہ فلحال اس سے دور رہتا۔
منت عجیب سے احساسات میں گھری تھی۔۔۔۔کیا وہ غلط تھا جو اس شخص کی آنکھیں بیان کرتی تھیں یا وہ سب جو اس شخص کی زبان سے آج ادا ہوا تھا۔
تبریز شاہ تم خود آؤ گے میرے پاس۔۔۔۔میں مجبور کر دوں گی تمہیں۔۔۔۔کچھ سوچتے وہ دھیمے سے مسکرائی تھی اور پھر آنکھیں موند گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور پھر ایک دوسرے کے سامنے ہوتے ہوئے بھی انہوں نے ایک دوسرے کو نظر انداز کیا تھا۔
منت اسے دیکھتی تھی۔۔۔۔اس کے دل کو کہاں قرار آتا تھا وہ تو محبت میں ڈوبی تھی۔
لیکن تبریز شاہ نے اسے ایسا نظر انداز کیا تھا کہ کبھی کبھی اسے گمان ہوتا تھا کہ وہ وہاں موجود بھی ہے یا نہیں۔۔۔۔۔
وقت گزر رہا تھا۔۔۔۔۔ایک ہفتے میں وہ ڈیل مکمل ہو جانی تھی جس کے لیے وہ دونوں ساتھ کام کر رہے تھے۔۔۔۔
ابھی بھی وہ اس کے آفس کے پاس سے گزر کر باہر جاتی کہ اندر سے آنے والی آواز پر ٹھٹک کر رکی۔
کیسے ہو شاہ۔۔۔۔۔
کتنے عرصے بعد ہم ملیں ہیں وہ بھی تمہارے والد صاحب اگر مجھے نا بتا پاتے تو مجھے اندازہ نہ ہو پاتا کہ تم اس کمپنی کے مالک ہو۔۔۔۔۔اس لڑکی نے اسے گلے لگاتے کہا۔
تبریز شاہ نے دروازے کے باہر کھڑی منت کو دیکھا جو سنجیدگی سے انہیں ہی دیکھ رہی تھی۔
اوو۔۔۔۔کیا ہوا۔۔۔اس کا جواب نہ پاتے اس نے پیچھے دیکھا۔۔۔
او امپلائی ہے۔۔۔
اسے بولو آجائے اندر اب اتنا بھی ہم کچھ پرسنل نہیں کر رہے تھے اس لڑکی نے بال جھٹکتے کہا تو منت نے استہزایہ نظروں سے تبریز کو دیکھا۔
مسٹر تبریز یہ ڈیل پر ہمارا کام مکمل ہوا۔۔۔ پروڈکٹس پہنچا دیجئے گا۔۔۔ہفتے کو یہ سارا انہیں ڈیلیور کر دیا جائے گا۔۔۔
اور مس دھیان سے۔۔۔۔۔امپلوئے نہیں ۔۔۔۔۔۔جس ڈیل پر یہ کام کر رہے ہیں اس کی پارٹنر ہوں میں۔۔۔اس نے کڑوے لہجے میں کہا تو لڑکی نے آنکھیں گھمائی۔
ہفتے کو ملاقات۔۔۔۔۔۔
آپ جاری رکھیں وہ طنزیہ کہتی اس کی بات کاٹتی نکل گئی مقصد صاف اس کا گلے ملنے والے منظر کی طرف نشاندھی کرنا تھا۔
منت اسے پہچان گئی تھی وہ سارا بھٹ تھی۔۔۔۔۔کسی سیاسی جماعت کے رکن کی بیٹی۔۔۔۔جو یونیورسٹی میں بھی اکثر تبریز کے ساتھ ہوتی تھی۔
کل جب جون نے شخص نے اس کا ہاتھ پکڑا تھا تو تبریز شاہ کی آنکھوں میں سرخی اتر آئی تھی آج کیسے اس نے کسی غیر عورت کو اجازت دی تھی اسے گلے لگانے کی۔۔۔۔
مرد سب کام اپنے حساب سے کرتا ہے۔۔۔۔جو اسے برا لگا ہے وہ برا ہے اور جو عورت کو لگا ۔۔۔۔اس سے کیا ہی فرق پڑتا ہے انہیں۔۔۔۔۔
وہ تلخی سے مسکراتی اس آفس میں دوبارہ کبھی نا آنے کا جود سے وعدہ کرتی نکل گئی۔
سارہ آئندہ سے دھیان رکھنا اس طرح ملنا مجھے بالکل بھی پسند نہیں۔۔۔اس کے جاتے ہی وہ ہوش میں آیا۔
اب تو سب ایسے ہی ملتے ہیں۔۔۔۔خیر ہفتے کو کیا ہے۔۔۔۔
ہمارے پروجیکٹ کی سکسیس پارٹی۔۔۔۔وہ کہتا بنا اسے بیٹھنے کا کہے اپنی جگہ پر بیٹھ گیا تو بھی بنا شرمندہ ہوئے اس کی سامنے کی کرسی پر بیٹھ گئی۔
مجھے نہیں بلاؤ گے۔۔۔۔
تم بھی آ سکتی ہو۔۔۔۔۔ بتاؤ کوئی کام تھا۔۔۔۔
نہیں بس تم سے ملنے آئی تھی۔۔۔۔اس نے بال ادا سے پیچھے پھینکتے کہا۔
مجھے میٹنگ میں جانا ہے۔۔۔میں وقت نہیں دے پاؤں گا معزرت۔۔۔۔
میں انتظار کر لوں گی تمہارا۔۔۔۔
مجھے کافی وقت لگ جائے گا۔۔۔انتظار بیکار ہے۔۔۔۔۔اس نے ڈھکے چھپے لفظوں میں اسے کچھ سمجھانا چاہا تھا لیکن وہ کہاں اتنی سمجھدار تھی۔
اوو۔۔۔۔سارہ بھٹ نے منہ بنایا۔
میرا ڈرائیور چھوڑ آئے گا تمہیں۔۔۔۔مل کر اچھا لگا۔۔۔وہ کہتا باہر نکل گیا تو وہ منہ بسوڑتے باہر نکل گئی۔
انکل آپ کا بیٹا مجھے زرا منہ نہیں لگاتا اس نے فون کرتے کہا۔
ہمم میں پوری کوشش کروں گی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پر بھائی۔۔۔۔وہ ایسا کیسے کر سکتا ہے؟ اس نے رندھے لہجے میں پوچھا۔
رباب میں تمہیں آج کے بعد اس کے لیے روتے نا دیکھو۔۔۔درید نے بھاری دل سے کہا۔۔۔
وہ سب جانتا تھا بھائی ۔۔۔سب کہ مجھے اس سے محبت کب سے ہے۔۔۔۔کتنے سالوں سے۔۔۔پھر بھی پھر بھی اس شخص نے ایسا کیا۔
مجھے نفرت ہے اس لڑکی سے جس کی وجہ سے یہ سب ہو رہا ہے رباب نے کہا تو درید نے جھٹکے سے دکھتا سر اٹھا کر اسے دیکھا۔
اس کی غلطی نہیں ہے ہلکا سا احتجاج کیا گیا۔۔
یہ سب اسی کی وجہ سے ہو رہا ہے۔۔۔۔اسے غلط فہمی ہے کوئی کہ آپ نے کچھ اس کے ساتھ برا کیا اور اس نے باسط کو بھی یہی بتایا اور باسط نے اس کا بدلہ مجھ سے یوں لیا ہے۔۔۔۔
درید نے اسے روتے دیکھا تو اس کے ماتھے پر بوسہ دیتا اسے سونا کا کہتا باہر نکل آیا۔۔۔تسلی دینے کے لیے اس کے پاس کچھ بچا ہی نہیں تھا۔۔۔
وہ دونوں بھائی بہن انہیں ان دیکھی آگ میں جھونک کر خود بری الزمہ ہو گئے تھے.
تم جو نقصان کر کے گئی ہو نا میرا ربائشہ حق۔۔۔۔۔اس کا بدلہ سود سمیت لوں گا میں اس نے کمرے میں جاتے آنکھوں کو زور سے رگڑتے کہا۔
اس گاڑی کا پیچھا کرو…..اس کی ہر لوکیشن مجھ تک پہنچنی چاہیے۔۔۔۔۔اس نے فون کرتے کہا۔
منزل ناجانے انہیں کہاں لے جاتی کون جانتا تھا۔۔۔لیکن ایک بات تو طے تھی وہ چاروں ایک دوسرے کو بھولنے تو نہیں والے تھے۔
وقت گزر رہا تھا۔۔۔۔ربائشہ کی اکثر طبیعت اپنی حالت کی وجہ سے خراب ہو جاتی۔۔۔باسط اس کا بہت خیال رکھ رہا تھا۔
وہ ایک دوسرے کو یہ دکھانے کی کوششوں میں ہلکان تھے کہ وہ ان دونوں سے الگ ہر کر خوش ہیں لیکن رات کے سائے پھیلتے ہی وہ دونوں یادوں کے بھنور میں پھنستے چلے جاتے تھے۔
پانچ ماہ ہو گئے تھے اسے دیکھے ربائشہ آج اپنا چیک اپ کروانے آئی تھی اس بھاری وجود کے ساتھ نکلنا اب اسے بے حد مشکل لگنے لگا تھا۔
اندر داخل ہوئی تو ڈاکٹر اسے ہی دیکھ رہی تھی باسط باہر کھڑا انتظار کر رہا تھا۔
باسط اپنے فون میں مگن تھا جب نظر سامنے اٹھی اور پلٹنا بھول گئی۔۔۔وہی تھی وہ۔۔۔۔
اس کی آنکھوں میں سرخی اتری کیونکہ وہ اکیلی نہیں تھی فاحد اس کے ساتھ تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں خوش گپیوں میں مصروف تھے۔۔۔۔باسط نے ہاتھ کی مٹھیاں بھینچی اور انہیں دیکھنے لگا۔
رباب کا ہاتھ فاحد کے کندھے پر دیکھتے اس نے شعلہ بار نگاہوں سے اسے دیکھا اور نمبر ملاتے فون کان سے لگایا۔
اگلے پانچ منٹ بعد گراؤنڈ فلور پر جانے والی لفٹ بند ہو جانی چاہئے۔
وہ اس کے پیچھے گیا جہاں وہ دونوں لفٹ میں جا رہے تھے اس نے فاحد کا کندھا تھپتھپایا تو اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا رباب چونکے آگے تھی اس لیے کچھ دیکھ نہ پائی۔
جی ۔۔۔۔۔
میری بیوی سے دور رہو فاحد۔۔۔۔
یہی تمہارے حق میں بہتر ہے اور جاؤ مجھے اپنی بیوی سے کچھ بات کرنی ہے۔۔۔بنا اس کی بات سنے وہ اس کے پیچھے لفٹ میں داخل ہوا اور فوراً گراؤنڈ فلور کا بٹن دبایا۔
وہ جو فون چیک کر رہی تھی اس نے مسکرا کر اوپر دیکھا اپنے سامنے موجود شخص کو دیکھتے اس کی مسکراہٹ تھمی۔
تم ۔۔۔۔۔؟
کیوں اب اس تھوڑے سے عرصے میں یہ بھی بھول گئی ہو کہ تم شادی شدہ ہو اور ایک عدد شوہر ہے تمہارا باسط نے ایک قدم اس کی طرف لیتے کہا۔
مجھے کوئی بات نہیں کرنی۔۔۔اور فاحد کہاں ہے تم اندر کیسے آئے۔۔؟
ابھی میں موجود ہوں مجھ سے بات کرو اس کا فون ہاتھ سے لیتے لفٹ کی دیوار پر مارتے دھاڑا۔
تمہارا دماغ خراب ہے وہ چیخی ۔۔۔۔اور جھٹکے سے لفٹ رکتے محسوس کر اس نے بے یقنینی سے یہاں وہاں دیکھا۔
یہ۔۔۔۔
یہ۔۔۔کیوں رُک گئی۔۔۔؟
یہ شخص تمہارے ساتھ کیا کر رہا تھا ۔۔۔؟
تم سے مطلب۔۔۔
مسٹر باسط ضیاء اپنے کام سے کام رکھو اس نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھتے دھکا دینے والے انداز میں کہا جو اس کے نزدیک آیا تھا۔
مت بھولو کہ اب بھی میرے نکاح میں ہو۔۔۔۔۔باسط نے اس کی کلائی کو مروڑتے اس کی قمر سے لگایا۔
دور رہو۔۔۔۔۔رباب نے اسے دیکھتے کہا باسط نے اسے دیکھا جس کی آنکھوں کے نیچے ہلکے تھے اب اور وہ کافی کمزور بھی ہو گئی تھی پہلے سے۔
مجھ سے دوری کا کافی صدمہ لیا ہے تم نے۔۔۔اس کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھتے وہ مسکرایا۔
تمہاری غلط فہمی ہے۔۔۔میں خوش ہوں کہ وقت پر ایسے شخص سے میرا پیچھا چھوٹ گیا جس کا دل ہی میلا ہے ۔۔۔۔۔
باسط نے اس کا جبڑا بھینچتے اسے پیچھے لفٹ کی دیوار سے لگایا۔۔۔۔
تمیز سے بات کرو رباب۔۔۔۔۔
کس رشتے سے۔۔۔۔کیا میں تمہیں جانتی ہوں۔۔۔؟وہ تلخی سے بولی۔
باسط نے اس کے ہونٹوں کی مسکراہٹ دیکھتے پل میں فیصلہ کیا اور اس پر جھک آیا۔
اپنے ہونٹوں پر اس کی جارحانہ گرفت محسوس کرتے وہ پھرپھرا کر رہ گئی۔۔۔۔
اس رشتے سے۔۔۔۔۔مجھے لگتا ہے اس کے علاؤہ کوئی بھی جواب تمہیں مطمئن نا کر پاتا۔۔۔
رباب نے نم آنکھوں سے اسے دیکھا گہرے گہرے سانس بھر رہی تھی۔۔۔۔۔
میں بھائی۔۔۔۔۔
میں تمہیں دوبارہ اس لڑکے کے ساتھ نہ دیکھوں رباب۔۔۔باسط نے اس کے لبوں کو انگوٹھے سے سہلاتے کہا۔
تو ٹھیک ہے میری بھی ایک شرط پے۔۔۔۔
کیا۔۔۔۔
اپنی بہن کو نکال دو گھر سے۔۔۔میں تمہاری بات مان جاؤں گی۔۔۔۔
غلط فہمی ہے تمہاری کہ میں ایسا کروں گا۔۔۔۔۔باسط اس سے دور ہو کر کھڑا ہوا۔
مجھے اس رشتے سے آزاد کرو۔۔۔۔۔باسط۔۔۔اس نے خاموشی کو توڑتے کہا تو باسط نے اسے دیکھا۔
ناممکن۔۔۔۔
میں ممکن بنادو گی اسے کورٹ میں کیس کر کے۔۔۔۔۔
چلو یہ بھی کر کے دیکھ لو۔۔۔۔باسط نے فون نکالتے میسیج کیا اور اسے دیکھا جو سرخ چہرے سے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
تم نے آج ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ تمہاری بہن تمہارے لیے ہر رشتے سے زیادہ ضروری ہے۔۔۔اس نے آنکھ سے آنسو صاف کرتے کہا۔
تمہیں تمہاری بہن مبارک۔۔۔۔کیونکہ بیوی تو اب کبھی نہیں ملے گی۔۔۔وہ کہتی لفٹ کھلتے ہی باہر گئی۔۔۔
باسط کتنی ہی دیر وہاں کھڑا اس کے لفظوں پر غور کرتا رہا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس دن کے بعد ان دونوں کے آفس میں مصروفیات بڑھ گئیں تھیں کام اپنے آخری مراحل پر تھا۔
فورن کمپنی کو جمعے کے دن ہی سارے پروڈکٹس دے دیے گئے تھے جو انہیں پسند آئے تھے کیونکہ وہ پہلے ہی سب دیکھ چکے تھے۔
آج اس پروجیکٹ کی کامیابی کی پارٹی تھی۔۔۔اس ڈیل سے ان دونوں کو فائدہ ہوا تھا۔۔۔لیکن تبریز نے آدھے سے زیادہ کریڈٹ اور کیش نامحسوس انداز میں منت کی کمپنی کو دیا تھا۔
پارٹی اپنے عروج پر تھی لیکن وہ اب تک نہ آئی تھی۔۔۔۔اسے شرمندگی ہوئی۔۔۔کیونکہ فارن کمپنی کے ممبر بار بار اس کا پوچھ رہے تھے۔
منت نے گاڑی سے نکلتے اپنا فون دیکھا جہاں اس شخص کا نمبر جگمگا رہا تھا اس نے کال کاٹی اور اندر کی طرف قدم بڑھائے۔۔
اس کے اندر داخل ہوتے ہی کافی لوگوں کی نظریں اکٹھی اس پر گئیں تھی اور اس کی اس شخص پر جو سامنے ہی سارہ بھٹ کے ساتھ کھڑا تھا۔
مہرون پاؤں کو چھوتے سمپل ریشمی فراک میں دوپٹہ اچھے سے سینے پر پھیلائے بھاری جھمکے،ہلکے میک اپ اور اونچے جوڑے میں وہ دلکش لگ رہی تھی۔
جون کی بات یاد آتے ہی تبریز شاہ نے اس کے مہرون جوڑے کو سلگتی نگاہوں سے گھورا تھا۔
منت نے اسے کئی بار دیکھا تھا جو رائیل بلو تھری پیس سوٹ میں ملبوس تھا، بال جیل سے سیٹ کیے گئے تھے، چہرے پر سخت تاثرات جمائے وہ یہاں موجود تمام سنگل لڑکیوں کے دل پر چھا رہا تھا اس کا دل دکھا کیونکہ اس نے اب تک منت کو ایک بار بھی نہیں دیکھا تھا۔
ان کا نام اکٹھا بولا گیا تو دونوں کی نظریں ملی لیکن منت نے سر جھکا لیا۔۔۔انہیں مبارک باد دی گئی تھی۔۔۔پھر کھانے کا دور چلا تھا۔
لوگوں کے ہاتھوں میں ملبوس شراب کو دیکھتے منت کو حیرت ہوئی تھی۔۔۔کہنے کو یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان تھا۔
لڑکیوں کے کپڑے بھی ایسے تھے۔۔۔۔اسے سمجھ نہیں آتا تھا کہ لوگوں نے لفظ ایلیٹ کو کیا سمجھ لیا تھا۔۔۔۔آدھے کپڑے پہننا،حرام کھانا پینا۔۔۔۔وہ سب پڑھے لکھے جاہل تھے جو یہ نا سمجھ پائے کہ لفظ ایلیٹ آپ کے کردار، آپ کے اخلاق آپ کے وجود سے منسلک ہر بات کی نمائندگی کرتا ہے۔۔۔۔
خیر وہ سائیڈ پر بیٹھ گئی کیونکہ یہاں کچھ بھی اسے اپنے کھانے کو نہیں ملا تھا۔۔۔۔۔لیکن بھوک بھی شدت سے لگی تھی۔
ابھی وہ کچھ سوچتی کہ ویٹر اس کے پاس آیا۔۔۔۔
میم یہ آپ کے لیے۔۔۔۔اس نے آگے کھانے کی ٹرے کی۔۔۔۔تو وہ چونکی جس میں برگر کے ساتھ کوک تھی اور میٹھے میں کپ کیک۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کس نے دیا ہے۔۔۔۔اس نے حیرانگی سے پوچھا۔۔۔
تبریز سر نے آرڈر کیا تھا تو ان کے مینیجر نے آپ کو دینے کا بولا ویٹر کہہ کر چلا گیا۔
اس کا دل دھڑکا۔۔۔۔وہ بھولا نہیں تھا کہ منت مٹن یا بیف والی کوئی ڈش نہیں کھاتی ہے۔۔۔۔
ابھی وہ کھاتی کہ سامنے سے سارہ آئی۔۔۔۔
او سوری یہ ویٹر بھی نا تمہیں دے گا شاہ نے یہ میرے لیے منگوایا تھا میرے کہنے پر کیونکہ مجھے یہ سب نہیں کھانا تھا وہ کہتی اس کے ہاتھ سے ڈش لے کر چلی گئی۔
اس کا دل جو دھڑکا تھا پھر میں ساکت پرا۔۔۔۔اس کی آنکھیں پل میں نم ہوئیں۔۔۔۔
اس نے ساتھ موجود ٹرے جو ابھی رکھ کر گیا تھا ویٹر اس میں سے مٹھائی اٹھائی اور کھا گئی۔۔۔۔دو تین کھانے کے بعد اس نے پانی پیا۔۔۔
مٹھائی کچھ کڑوی اسے ایک دو نوالوں میں لگی تھی لیکن وہ نظر انداز کر گئی۔۔۔۔اب کوئی اس میں تو کچھ ملانے سے رہا لیکن وہ غلط تھی۔
دس پندرہ منٹ میں اسکا سر برے طریقے سے چکرا رہا تھا۔۔۔۔
میں نے کہا تھا نا تم سرخ لباس میں سپائسی لگو گی۔۔۔اسے اکیلے بیٹھے دیکھ جون آیا اور یہاں وہاں دیکھا تبریز نہیں تھا کہیں آس پاس۔
جون کیا تم وہ سامنے سے میرے مینیجر کو بلا سکتے ہو۔۔۔؟ اس نے انگریزی میں کہا تو وہ مسکرایا۔
کیوں کیا ہوا۔۔۔جو اسے کہنا ہے مجھے کہو۔۔۔دوست سمجھ کر ہی کہہ لو آج ہماری آخری ملاقات ہے۔۔۔
میرا سر گھوم رہا ہے۔۔۔اسے بلاؤ تاکہ میرے ڈرائیور کو بلا دے وہ مجھے واپس جانا ہے گھر۔۔۔۔
اچھا آؤ میں گاڑی تک چھوڑ آؤ۔۔۔۔جون نے اسے کہا تو وہ سر ہلاتی اس کے ساتھ ہوئی۔۔۔کیونکہ آج جون کی نظروں میں اسے کچھ نا دکھا تھا۔
وہ اس کے پیچھے پیچھے تھی لیکن سامنے میز کو نا دیکھ پائی اور اس سے ٹکرائی اس پر موجود بھاری اور قیمتی واس زمین بوس ہوا تو سب اس کے طرف متوجہ ہوئے۔۔۔
تبریز شاہ نے اسے دیکھا جو خالی نگاہوں سے اسی جگہ زمین پر بکھرے کانچ کے ٹکروں کو دیکھ رہی تھی ۔
اس نے اپنے مینیجر کو اشارا کیا اور خود بھی آگے بڑھا۔۔۔
ان کو چکر آرہے تھے۔۔۔۔جون تبریز کو دیکھتا جلدی سے بولا مبادہ کوئی اسے غلط نا سمجھے۔
تبریز کا مینیجر منت کو باہر لے گیا اور اس کی گاڑی میں بٹھاتے اے سی اون کیا اور اسے پانی کی بوتل لا کر دی یہ سب اسے تبریز نے میسیج کیا تھا کرنے کو۔۔۔۔
بیس منٹ بعد تبریز بھی آتا دکھائی دیا تو پیچھے ہوا۔۔۔
وہ تب سے وہاں کھڑا تھا۔۔۔
کیا ہوا انہیں۔۔۔
سر شاید کچھ کھا لیا ہے جس میں نشہ تھا۔۔۔۔۔اس کے مینیجر نے کہا۔۔۔
اوکے اندر سب سنبھال لینا۔۔۔۔۔لوگ تمام جا چکے ہیں۔۔۔۔ہوٹل کی انتظامیہ کو اس واس کے پیسے ادا کر دینا کل ملتے ہیں۔۔۔۔
اوکے سر۔۔۔۔
اس نے گاڑی میں بیٹھتے گاڑی تیزی سے سڑک پر ڈالی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کو بہت اختیاط کی ضرورت ہے ربائشہ درید ۔۔۔۔ڈاکٹر نے اس کی رپورٹس دیکھتے کہا۔
آپ کی ڈائٹ بہت خراب جا رہی ہے اور آپ بالکل اپنا خیال نہیں رکھ رہی ہیں آپ کے کیس میں کومپلیکیشنز ہو سکتی ہیں ۔۔۔۔ڈاکٹر نے کہا تو اس نے سر اٹھایا ۔۔۔۔۔
اپنے سامنے موجود اس شخص کو دیکھا جو سرخ نگاہوں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
پانچ ماہ۔۔۔۔
پانچ ماہ اس نے ہر رات اس شخص کو یاد کیا تھا۔۔
اسے دیکھتے اس نے آنکھیں جھکائیں ۔۔۔
ڈاکٹر ۔۔۔۔اس نے ڈاکٹر کو کچھ کہا تو ڈاکٹر ایکسکیوز کرتی باہر نکل گئی۔
تمہیں لگتا ہے یہ سب کر کے تم بہت اچھا کر رہی ہو۔۔۔۔اگر یہ مجھ سے بدلہ لینے کا طریقہ ہے تو نہایت گھٹیا ہے۔۔۔
درید نے ربائشہ کی کرسی کی طرف جھکتے کہا۔
ایسا کچھ نہیں ہے ۔۔۔۔وہ منمنائی۔۔۔
تیار ہو میری اولاد میرے حوالے کرنے کے لیے۔۔۔۔؟
اب کی بار اس کی آواز میں مسکراہٹ کا عنصر نمایاں تھا۔
میں نہیں دوں گی۔۔۔۔۔
کیوں ایسا تم نے ہی کہا تھا۔۔۔۔۔
میں ایسا نہیں کر سکتی۔۔۔۔وہ ہلکی آواز میں بولی۔۔۔اس کا ستا ہوا چہرہ اس کا حال بیان کر رہا تھا۔
درید کا دل کیا سب کچھ بھلا کر اس کو خود میں چھپا کر اس کے چہرے پر مرہم رکھے جو اپنے رنگ کھو چکا تھا
کھانا کیوں نہیں کھا رہی ہو ٹھیک سے اسے کھڑا کرتے درید نے سنجیدگی سے پوچھا۔۔۔
دل نہیں کرتا۔۔۔۔۔
وہ ہلکے سے بول کر اپنی انگلی سے درید کے بازو پر گول گول دائرے بنانے لگی۔۔۔
تم نے مجھ سے زیادہ خود کے ساتھ برا کیا ہے رابی۔۔۔۔یہ جانتے ہوئے کہ تمہیں، تمہارے وجود کو درید یزدانی سے بہتر کوئی نہیں سنبھال سکتا۔۔
درید یزدانی کے اس کو لے کر سارے بھرم پانی ہوئے تھے جو اس نے اسے معاف نہ کرنے کے اور نفرت کرنے کے کیے تھے۔۔۔اسے اس حال میں دیکھ کر وہ تڑپ اٹھا تھا۔
شاید محبت میں ایسا ہی ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔محبوب لاکھ غلطیاں کرے دل اسے ہزار بار معاف کرنے کا جزبہ رکھتا ہے ایسا ہی اس نے کیا تھا۔
لیکن آپ ناکام رہے ۔۔۔۔اس نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔
ایسا کرنے پر مجھے تم نے مجبور کیا تھا مت بھولو۔۔
تھک گئی ہوں اسے لڑکھڑاتے دیکھ درید نے اسے واپس کرسی پر بٹھایا۔۔۔۔
شال کہاں ہے تمہاری۔۔۔۔اس کے ہلکے سے دوپٹے کو دیکھتے اس نے سختی سے استفسار کیا۔
گرمی لگ رہی تھی اس لیے گاڑی میں اتار دی۔۔۔۔وہ پھر ہلکی سی آواز میں بولی۔۔۔
اگلی بار مجھے باہر اتری نا دکھے۔۔۔اور اپنے کھانے کا دھیان رکھو۔۔ربائشہ میں آخری بار بول رہا ہوں تمہیں ۔۔۔وہ کہہ کر اٹھا اور باہر نکل گیا۔۔۔
وہ جو اس سے بہت کچھ کہنا چاہتی تھی دل مسوس ہو کر رہ گئی۔۔۔۔ابھی تو دیکھا تھا اسے ۔۔۔۔اور وہ پل میں اس سے دور ہو گیا تھا۔
یہ سچ تھا اس کی حالت دن بدن گرتی جا رہی تھی کیونکہ وہ ڈھنگ سے نا کھانا کھا رہی تھی نا کچھ۔۔۔۔
وہ چار لوگ ایک دوسرے سے خود دور ہوئے تھے لیکن اب بن پانی کی مچھلی کی طرح تڑپ رہے تھے ایک دوسرے کے لیے۔۔۔۔
ان کا کل اچھا تھا یا اس سے بھی بھیانک وہ خود نہیں جانتے تھے۔
