Shiddat-e-Talab by Suneha Rauf NovelR50408 Shiddat-e-Talab Episode 12
No Download Link
Rate this Novel
Shiddat-e-Talab Episode 12
Shiddat-e-Talab by Suneha Rauf
آج:
ان چار مہینوں کی خبر اسے نہ تھی۔۔۔۔اس نے گارڑز پھر سے رکھے تھے لیکن اس سے نا ملا تھا۔
اس لیے وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ کیا راز چھپائے بیٹھی ہے۔
اسے اٹھتا دیکھ وہ اس کے قریب آیا۔۔۔۔۔۔
چلو کھانا کھالو۔۔۔۔باہر سے نہیں لایا۔۔۔۔گھر میں ہی بنا لیا ہے کچھ۔۔۔۔۔
وہ بنا اس کی طرف دیکھے اور کچھ کہے اٹھی لیکن سر چکرایا۔۔۔۔
درید نے اسے فوراً تھاما۔۔۔۔۔۔اسے لگا تھا شاید بھوک کی وجہ سے ہوا ہے۔۔۔۔اسے فریش ہوتے دیکھ اس نے میز لگایا تھا۔
ربائشہ نے آنکھیں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔۔۔اس کی آنکھوں کے نیچے ہلکے دیکھتے درید نے سو بار دل میں خود پر لعنت بھیجی تھی۔
ربائشہ نے پلیٹ میں انڈا ڈبل روٹی دیکھا تو اس کا دل عجیب ہوا لیکن اب بھی نہ کھاتی تو شاید بیہوش ہو جاتی اس لیے دھیرے سے نوالہ توڑتی کھانے لگی۔
دو سلائیس کھانے کے بعد اس نے پانی کا گلاس پیا تھا اور اٹھی تھی لیکن ابکائی آتے ہی وہ نیچے جھکی تھی ۔۔۔۔
درید فوراً سے کرسی چھوڑتا اس کی طرف بڑھا تھا۔۔۔۔۔کلین سارا گندا ہو چکا تھا لیکن اسے کہاں فکر تھی ۔۔۔۔
اس نے اسے باہوں میں اٹھایا اور کمرے میں لے کر گیا۔۔۔۔۔ٹشو نکالتے اس کا چہرہ صاف کیا اور ڈاکٹر کو فون کیا۔۔۔۔۔اسے دیکھا جو اب گہرے گہرے سانس لے رہی تھی۔۔۔۔
من۔۔۔۔
منتتت۔۔۔۔
منت۔۔۔۔۔۔
وہ بر بڑا رہی تھی۔۔۔۔۔۔اس نے اس کا ہاتھ تھاما۔۔۔۔۔۔۔پندرہ منٹ ہو گئے تھے ڈاکٹر نہیں آئی تھیں۔۔۔۔وہ فون پر فون کر رہا تھا۔
بیل بجتے وہ بھاگ کر گیا اور انہیں لایا تھا اور وہ جو خبر سنا کرگئی تھی وہ کتنی ہی دیر تک صدمے سے کچھ بول نہ پایا تھا۔
وہ کب کی جا چکی تھی اسے انجیکشن لگا کر۔۔۔۔وہ سورہی تھی۔۔۔۔وہ کلین صاف کر کے کب کا وہیں ایک جگہ بیٹھا تھا۔۔۔۔۔
چار مہینوں بعد اس سے ملا تھا۔۔۔۔۔اسے لگا تھا شاید اب زندگی میں تھوڑا سکوں آئے۔۔۔۔۔
لیکن وہ اس سے کیا چھپائے بیٹھی تھی۔۔۔۔۔کیا اس کی اتنی اہمیت نہیں تھی کہ وہ جان پاتا۔۔۔۔۔۔۔وہ جان پاتا کہ اس کی اولاد اس دنیا میں آنے والی ہے۔۔۔۔۔
وہ صبح ہی جاگی تھی۔۔۔۔۔لیکن وہ ایک پل نہیں سویا تھا۔۔۔۔وہ باہر آئی اور اسے دیکھا جس کی آنکھوں کی سرخی رات جگے کی گواہ تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہی بات اسے آگ لگا رہی تھی۔۔۔۔اسے محبت نہ تھی اپنی بیوی سے۔۔۔۔۔لیکن عزت تھی وہ اس کی۔۔۔اور اب اس سے منسلک تھی۔
خود سے منسلک چیزوں پر تو وہ کسی کی نظر نہ پڑنے دیتا تھا بچپن سے یہاں تو پھر بات اس کی بیوی کی تھی۔۔۔۔۔
آدھے گھنٹے بعد وہ واپس آیا۔۔۔۔اور کمرے کی کھڑکی سے باہر جھانکا جہاں اندھیرا چھا گیا تھا۔
کپڑے بدلتے خود پر پرفیوم چھڑکتے اس نے نا چاہتے ہوئے بھی قدم باہر کی طرف بڑھائے۔۔۔۔
راہداری کے دروازے کے پاس اس نے دیکھا وہ وہیں کھڑی تھی جہاں وہ اسے چھوڑ کر گیا تھا۔۔۔۔۔اس نے دروازہ کھولا اور بنا اس کی طرف دیکھے پلٹ کر فریج سے پانی نکالنے لگا۔
اس کے دروازہ کھولتے ہی وہ نکل کر کمرے میں جا کر بستر میں گھس گئی۔
کیا وہ اتنی بے مول تھی کہ وہ شخص جب چاہتا تھا اسے قریب کرتا تھا جب چاہتا تھا ایسے رسوا کرتا تھا۔
کیا اسے کبھی بچپن سے لے کر اب تک احساس نہ ہوا کہ رباب ضیاء کی بولتی نگاہیں اسے کیا بتانا چاہتی ہیں۔۔۔۔۔
کیسے پتا چلتا اس نے تو کبھی ظاہر نہ کیا تھا۔۔۔۔اس نے خود کے سوال پر جواب دیتے اپنی آنکھیں جس میں سرخ ڈورے تھے ان کو مسل ڈالا۔
باہر آؤ کھانا کھاؤ آ کر۔۔۔۔۔۔ابھی وہ کچھ اور سوچتی کہ اس کی آواز سنائی دی۔
جواب نداد۔؟
باسط نے اس کے قریب جاتے اسے دیکھا جس نے تکیے میں منہ چھپایا تھا۔۔۔۔
سنائی دے رہا ہے رباب ضیاء۔۔۔۔۔میں کیا کہہ رہا ہوں۔۔۔۔؟ اب کے اس نے اونچی آواز میں کہا۔
وہ شخص تو اس کے نام کے آگے سے اپنا نام بھی ہٹا چکا تھا۔۔۔۔تلخ مسکراہٹ نے اس نے چہرے کا احاطہ کیا۔
وہ اٹھی اور بنا اسے دیکھے باہر نکل گئی۔۔۔۔جا کر کھانا گرم کیا۔۔۔۔۔۔وہ باہر سے روٹی لے آیا تھا تب تک۔
اس کے سامنے رکھتے وہ پلٹتی کہ باسط نے اس کی فرائیز والی پلیٹ سامنے رکھی۔۔۔۔۔
بیٹھو اور کھاؤ۔۔۔۔۔تمہارے باپ اور بھائی کی طرح میرے پاس پیسہ ضائع کرنے کو نہیں ہے ۔۔۔اور رزق کی بے حرمتی تو میں ویسے بھی برداشت نہیں کرتا۔۔۔۔۔
اس کی آنکھوں میں جیسے مرچی بھر دی کسی نے۔۔۔۔۔وہ شخص اسے کھانے پر بھی ٹوک رہا تھا اب۔۔۔۔اکم از کم اسےتو ایسے ہی لگا۔۔۔۔
آج اسے شدت سے اپنا گھر یاد آیا۔۔۔۔جہاں اگر وہ ناراض ہو جاتی تو اس کا باپ اور بھائی سو نخرے اٹھاتے اس کے اور اسے کھانے کے لیے مناتے۔
اور سامنے بیٹھا شخص کہاں جانتا تھا سب۔۔۔وہ تو دھونس جمانا جانتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رباب نے خاموشی سے بیٹھتے وہ فرائیڈ زہر مار کی۔۔۔۔ان سب میں اس نے ایک نظر بھی اسے نہیں دیکھا تھا۔
اسے درید رہ رہ کر یاد آرہا تھا۔۔۔۔اس نے فوراً کھانا ختم کیا اور اٹھتی کے اسے لگا اس کے پاؤں میں کچھ ہے۔۔۔۔
لیکن کچھ بھی محسوس نہ کرتے وہ کمرے میں چلی گئی۔۔۔۔باسط نے بھی وہیں نوالہ چھوڑا اور برتن سمیٹنے لگا ۔۔۔
وہ جو ابھی اسے رزق کے ضیاع پر سنا رہا تھا اب اپنی روٹی چھوڑ چکا تھا۔۔۔۔۔۔
وہ کمرے میں گیا تو وہ فون کے ٹکرے جوڑ کر فون کان سے لگائے کھڑی تھی اسے دیکھتے نظروں کا زاویہ موڑ لیا۔
اس کی سرخ آنکھیں اس بات کا عندیہ تھی کہ وہ رونا چاہتی ہے ۔۔۔۔۔۔اور سامنے موجود شخص نے اسے کتنا ہرٹ کیا ہے۔
بھیو۔۔۔۔اس نے سسکی لیتے کہا۔۔۔۔شاید دوسری طرف سے فون اٹھا لیا گیا تھا۔
رابی میری جان۔۔۔۔کیا ہوا۔۔۔۔۔باسط اس کے ہاتھ سے فون لیتا اسپیکر پر کر گیا تھا۔۔۔۔نظر اس کے پاؤں سے ٹکرائی تو نئے سرے سے خود پر اور اس پر غصہ آیا۔
ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔بس پاؤں پر کیڑا کاٹ گیا ہے میڈم کے ۔۔۔باسط نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا تو رباب نے شکوہ کناہ نظروں سے اسے دیکھا۔
رابی کیا درد ہو رہا ہے زیادہ ۔۔۔اپنے بھائی کی آواز سنتے وہ اپنے آنسوؤں پر پل نہ باندھ پائی اور ہچکیوں سے رونے لگی۔
رابی۔۔۔۔۔میں آجاؤ کیا۔۔۔۔۔دور بیٹھا اس کا بھائی تڑپ ہی تو گیا تھا۔۔۔۔باسط نے ہنکارا بھرا۔
نہیں ہلکا سا زخم آیا ہے درید۔۔۔۔تو تو جانتا ہے چھوٹی چھوٹی بات پر ڈر جاتی ہے یہ۔۔۔۔وہ کہتا باہر نکل گیا اس کا فون لے کر۔
وہ وہیں اوندھے منہ صوفے پر گر گئی۔۔۔۔۔۔اس کا وجود اب ہککا ہلکا کانپ رہا تھا۔
وہ درید کو مطمئن کرتا واپس آیا اور اس کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھا اور اس کے پاؤں کو دیکھا۔۔۔
جو اب نیلا ہونے کے ساتھ سوزش کا شکار تھا۔۔۔۔۔اس نے لب بھینچے اور جھٹکے سے اسے بٹھایا۔
اسے دیکھتے اس نے اپنے مومی چہرے کو قمیض کی آستین سے رگڑا تو اس نے سخت نگاہوں سے اسے گھورا۔
اور اپنے اپنے دونوں ہاتھوں سے اس کا نم چہرہ صاف کیا۔۔۔۔۔اور اسے جھٹکے سے باہوں میں اٹھاتے باہر کی طرف قدم بڑھائے۔۔۔۔
وہ اپنے پاؤں میں اٹھتی ٹیسیں اب محسوس کر سکتی تھی۔۔۔۔اس لیے ہونٹ کاٹ کر سسکی روکی۔
وہ اسے گاڑی میں بٹھاتا گھر کو لاک لگاتا پاس میڈیکل سٹور پر لایا۔۔۔۔
اسے کوئی کیڑا کاٹ گیا تھا۔۔۔۔فکر کی بات نہ تھی۔۔۔۔۔ڈاکٹر نے دوا لکھی۔
میری مانیں تو انجیکشن لگوا لیں درد کا۔۔۔۔۔ابھی آرام آجائے گا نہیں تو آپ کی مرضی ہے ڈاکٹر نے پیشہ وارانہ انداز میں کہا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمہاری چادر کہاں ہیں۔۔۔؟
اس کے ہلکے سے ریشمی دوپٹے کو دیکھتے اس نے استفسار کیا اور جھٹکے سے اسے اپنی گود سے اٹھاتے اپنے سامنے میز پر بٹھایا۔
منت نے اس کے اس انداز پر دل پر ہاتھ رکھا۔۔۔۔۔ٹانگوں میں تو ویسے ہی جان نہیں بچی تھی۔۔۔۔
مجھے عادت نہیں ہے۔۔۔۔
تو اب ڈال لو۔۔۔۔۔۔اور اگر تمہارے چھوٹے دماغ میں یہ بات آ رہی ہے کہ سامنے بیٹھا مرد کتنی چھوٹی ذہنیت کا مالک ہے۔۔۔۔۔تو سوچ لو ایسا مجھے اعتراض نہیں۔۔۔۔لیکن میں ان بغیرت مردوں میں سے نہیں بن سکتا جو اپنی بیویوں کو دوسروں کی آنکھوں کی ٹھنڈک بننے کا ذریعہ بناتے ہوں اور تعریفیں وصولتے ہوں اسے اپنی طرف جھکاتے اس نے کہا۔
میں خرید لوں گی۔۔۔۔اس نے فوراً سے کہا۔۔۔اس کا یہ شدت پسند روپ اس نے آج پہلی بار دیکھا تھا۔۔۔۔
اور پہلی بار آشنا ہوئی تھی وہ اس کے اس روپ سے جسے اب شاید ساری زندگی اس نے برداشت کرنا تھا۔
پہنچ جائے گی تمہارے گھر۔۔۔۔۔۔اس نے کہتے اس کے اردگرد اپنے ہاتھ رکھے تو منت نے ایک بار پھر اس کے ہاتھوں کو دیکھتے اپنے ہاتھوں کو دیکھا۔
وہ جو اس کی حرکت میٹنگ روم میں بھی نوٹ کر چکا تھا اب بھی کرتے چونکا۔
مجھ سے منسلک وجود مجھ سے ہی احساس کمتری کا شکار ہے یہ جان کر افسوس ہوا۔۔۔۔اس نے کہا تو اس نے چونک کر نظریں اٹھائیں اور پھر سے جھکا دیں۔
ایک بات جان لو منت تبریز شاہ تمہیں اسی حالت میں نکاح میں لیا تھا ۔۔۔۔
اور تم مجھے ایسے ہی منظور ہو اور ہاں اگر کہیں مجھے لگا کہ تبدیلیاں کرنی چاہئے تو وہ میں تمہاری اجازت کے بغیر خود کر لوں گا۔۔۔۔۔منت کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے اس نے سنجیدہ لہجے میں کہا۔۔۔۔۔
تو میں بھی تبدیلیاں چاہتی ہوں آپ میں۔۔۔۔
اس نے نگاہیں جھکائے ہی لبوں کو تر کرتے کہا تو وہ اس کی ہمت پر عش عش کر اٹھا۔
کیا میں نے تمہیں اتنی اجازت دی ہے۔۔۔۔؟؟
اس کی طرف جھکتے اس کے کان میں اس نے کہتے سر اس کے کندھے پر جمایا۔
چونکا وہ تب جب اس کی سسکی سنائی دی۔۔۔۔
کیا چاہتی ہو ۔۔۔۔؟
آپ بلیک کلر پہننا چھوڑ دیں۔۔۔اس نے سوں سوں کرتے کہا۔۔
اور ایسا کیوں۔۔۔۔؟
کیا میں نے آپ سے کچھ ایسا سوال کیا تھا۔۔۔۔اس کے کوٹ کے ساتھ آنسو صاف کرتے اس نے کہا اور پھر اپنی غلطی کا احساس ہوتے اسے اور اس کے نم کوٹ کو دیکھا۔
آئیم سوری۔۔۔۔۔اس نے ڈرتے کہا تو تبریز شاہ نے اپنا کوٹ اتارا اور اس کے آنسو صاف کرتے کوٹ پیچھے کرسی پر رکھا۔
یہ شاید اسے بتانے کا طریقہ تھا کہ اس کے سامنے اس کوٹ کی کوئی اہمیت نہیں۔۔۔۔لیکن سامنے موجود لڑکی اپنی عقل کے مطابق ہی سمجھیں تھی۔
اسے لگا گندے ہونے کی وجہ سے وہ اتار چکا ہے۔۔۔۔اس نے اپنے ہاتھوں سے اپنا چہرہ رگڑ ڈالا۔۔۔۔
خود سے غلط فہمیاں مت پال لیا کرو۔۔۔۔اور اپنے دماغ میں جو فضول قسم کی سوچیں بھرے بیٹھی ہو ان سب کو نکال دو۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
درید۔۔۔۔۔
جواب نداد۔۔۔۔۔
ڈروائیور کو بتا دیا ہے میں نے باہر کھڑا ہے جا سکتی ہو۔۔۔۔۔۔وہ کہتا اٹھا اور باہر چلا گیا۔۔۔۔۔
ربائشہ نے محسوس کیا تھا اس نے اسے ایک پل کے لیے دیکھا بھی نہیں تھا۔۔۔۔۔۔وہ جو اسے دیکھتے اس کے چار مہینوں کی زیادتی بھول گئی تھی اور وہ۔۔۔۔۔
وہ اس کے پیچھے اندر گئی تیز قدموں سے اور اس کا کالر تھاما پیچھے سے۔۔۔۔
کیا مسئلہ ہے تمہارے ساتھ مسٹر درید یزدانی۔۔۔۔۔؟
واپس چلی جاؤ ربائشہ۔۔۔۔۔۔۔۔اس نے کہتے اس کے ہاتھ ہٹائے اور واش روم جانے لگا۔۔۔۔
وہ فوراً اس کے سامنے آئی اور اس سے پہلے کہ وہ سلپ ہوتی وہ اسے تھام چکا تھا۔۔۔۔۔
ربائشہ نے اسے زور سے تھاما اور آنکھیں میچیں۔۔۔۔۔۔
تمہارا دماغ سیٹ ہے۔۔۔۔۔۔یہ کیا حرکتیں کرتی پھر رہی ہو بچی ہو ۔۔۔۔۔؟کہا ہے نا جاؤ تو اس کا مطلب ہے جاؤ سنائی نہیں دیتا۔۔۔۔۔درید اسے سیدھا کھڑا کرتا چلایا۔۔۔۔
مت بھولیں کہ مجھے یہاں آپ لائیں ہیں وہ اس سے زیادہ اونچا چیخی۔۔۔۔
آواز نیچے۔۔۔۔۔۔ہاں لایا تھا غلطی ہو گئی معاف کر دو لیکن نکلو یہاں سے۔۔۔۔۔
درید یاد رکھیں میں اب گئی تو کبھی مُر کر نہیں آؤں گی۔۔۔۔۔۔اس نے کہتے دروازے کی طرف قدم بڑھائے۔
وہ تیز قدموں سے چلتا اس کے پیچھے آیا اور دروازہ ٹھاہ کی آواز سے بند کرتا اسے دروازے کے ساتھ لگا گیا۔
تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھ سے یہ سب چھپانے کی۔۔۔۔؟
اس کے چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھامتے جھٹکے سے اونچا کرتے کہا۔
کیا چھپایا ہے میں نے۔۔۔۔۔اس کا دل لرزا۔۔۔۔۔تو کیا وہ جان گیا تھا۔۔۔۔۔
کیا یہ میری اولاد نہیں ہے۔۔۔۔؟وہ غرایا۔۔۔
درید۔۔۔۔۔اس نے بے یقینی سے اپنا آپ اس سے چھڑوانا چاہا۔۔۔
میری اولاد ہے نا تو تم نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم نے مجھے بتانا ضروری نہیں سمجھا۔۔۔۔۔تم تو مجھے اب بھی نہ بتاتی اگر مجھے ڈاکٹر سے پتا نہ چلتا۔۔۔۔
ہاں نہیں بتاتی۔۔۔۔میں کیوں بتاتی اس شخص کو۔۔۔۔جو ایک بار پھر مجھے چھوڑ کر چلا گیا۔۔۔۔۔۔کیا لینے آئے تھے۔۔۔۔کیوں وہ دن میرے نام کیا اور پھر چلے گئے۔۔۔۔مجھے موت کا پروانہ سنا کر۔۔۔۔میں کیوں بتاتی آپ کو۔۔۔۔کس حق سے۔۔۔۔کیا شوہر ہونے کا کوئی فرض ادا کیا ہے آپ نے اب تک۔۔۔۔۔وہ چلائی۔۔۔۔
چلو۔۔۔۔۔۔اس نے اس کا ہاتھ تھاما اور اس پر چادر ڈالی اور باہر نکلا اور گاڑی میں اسے بٹھایا۔۔۔۔۔
میم کو گھر چھوڑ کر آؤ اس نے باہر کھڑے گارڈ کو کہا تو ربائشہ نے اسے افسوس سے دیکھا۔۔۔۔۔
اب میں نہیں آؤں گی درید کبھی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔اس نے کہتے گاڑی کا شیشہ اوپر کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے واپس جانا ہے۔۔۔۔
کیا۔۔۔۔مجھے سنائی نہیں دیا۔۔۔۔۔۔
واپس جانا۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ اپنا جملہ مکمل کرتی مخالف جھکا اور اس کے نچلے لب کے قریب اپنے لب رکھے۔۔۔۔۔منت نے اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھا۔۔۔۔۔
اور اس کے دور ہوتے اسے بے یقینی سے دیکھا۔۔۔۔۔یہ بس ڈیمو تھا اگلی بار میرے سامنے یہ جملہ مت دہرانا۔۔۔۔۔
منت نے روتے سر اس کے سینے پر رکھا۔۔۔۔وہ کیوں تھا ایسا۔۔۔۔سب ستم اس کی نازک جان پر کرتا تھا۔۔۔۔وہ ویسے بھی بہت جذباتی ہو گئی تھی اسے روبرو پانے کے بعد۔۔۔۔
سالوں جس شخص کو دل نے اپنے ساتھ دیکھنے کی خواہش کی ہو اور وہ اچانک روبرو آ جائے تو شاید ایسا ہی ہوتا ہے۔۔۔۔۔
شاہ۔۔۔۔۔
ہمممم ۔۔۔۔۔اس کی قمر کو سہلاتے کہا۔۔۔۔
آپ بلیک کلر نہیں پہنیں گے نا۔۔۔۔۔۔ان لڑکیوں کی بات یاد کرتے اس نے کہا۔
نہیں پہنوں گا۔۔۔۔۔اس نے گہرا سانس بھرتے کہا وہ کیوں اتنی انسکیور ہو رہی تھی۔۔۔۔
شاہ۔۔۔۔۔
ہم۔۔۔۔۔
وہ جیسے ساری باتیں آج ہی منوانا چاہتی تھی۔۔۔۔
آپ کے آفس میں دو لڑکیاں ہیں کرن اور فائزہ آپ انہیں نکال دیں۔۔۔۔اس کے کالر کو شدت سے تھامتے کہا تو وہ چونکا۔۔۔۔
کیوں۔۔۔۔؟ کچھ کہا ہے انہوں نے تمہیں اسے فوراً سامنے کرتے استفسار کیا تو اس کے چہرے پر آنسوؤں کے نشان دیکھتے جود پر ملامت کی۔
نہیں مگر مجھے وہ پسند نہیں۔۔۔۔۔اس نے کہتے نیچے اترنا چاہا۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے لیکن ایک شرط پر۔۔۔۔۔اس نے کچھ سوچتے اسے دیکھتے کہا جو اس کے کاندھے تک بھی نہیں پہنچتی تھی اور اگر وہ سامنے آجاتے تو اس کا ہلکا سا وجود پورے طریقے سے چھپ جاتا تھا۔
کیس۔۔۔کیسی شرط۔۔۔۔۔؟
وہ میں خود وقت آنے پر پوری کروا لوں گا اس نے منت کے نچلے لب کے پاس دھیرے سے اپنا انگوٹھا رکھتے کہا۔۔۔۔۔۔
جاؤ اس سے پہلے کہ اپنا اختیار کھو دوں خود پر۔۔۔۔۔ اسے یک دم چھوڑتے کہا ۔۔۔۔۔جسے منت نے شدت سے محسوس کیا۔۔۔۔
دروازے کے پاس جاتے نم آنکھوں سے اسے مڑ کر دیکھا۔۔۔۔
آئی ہیٹ ہو شاہو۔۔۔۔۔۔اسے کہتے وہ باہر نکل گئی تو اس نے گہری سانس بھری شاید زندگی بھر یہی سننا تھا اس نے۔۔۔۔
وہ اس لڑکی کو بھی اتنا ہی تڑپانا چاہتا تھا جتنا ڈیڑھ سالوں میں اس نے تڑپایا تھا اسے۔۔۔۔۔لیکن اسے سامنے دیکھتے وہ اپنا اختیار کھونے لگتا تھا۔۔۔۔
اتنی جلدی وہ سب نہیں چاہتا تھا۔۔۔۔کہ ابھی بہت کچھ باقی تھا کرنے کو۔۔۔۔
اپنے کوٹ پر نظر پڑتے اسے اٹھایا اور اس کے آنسوؤں والی جگہ پر اپنے لب رکھے ۔۔۔۔۔۔اسے کالا کچھ بھی اب سے نہیں پہننا تھا۔۔۔
کم اس کم اس کے سامنے تو نہیں۔۔۔۔۔!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باسط پلیز نہیں۔۔۔۔اس نے اس کی شرٹ کے بازو کو تھامتے زور زور سے ناں میں سر ہلایا۔
دیکھو رباب ڈاکٹر سہی کہہ رہے ہیں۔۔۔۔درد سے نجات مل جائے گی۔۔۔۔نہیں تو ساری رات بیچین رہو گی۔۔۔اس نے نرمی سے اسے سمجھانا چاہا۔
اس نے جھٹکے سے اس کا بازو چھوڑا۔۔۔۔اس کی اس حرکت پر باسط نے اسے سخت نگاہ سے دیکھا اور ڈاکٹر سے دوا کا پرچہ لیتے اسے حصار میں لیتا واپس گاڑی میں لایا۔
اب ساری رات اگر تم روئی تو مجھ سے بّرا کوئی نہیں ہو گا۔۔۔وہ سخت لہجے میں بولا اور پھر اس کی دوا لیتے واپس آیا۔
اندر لا کر اسے بستر پر لٹاتے وہ پھر باہر گیا۔۔۔۔۔۔ دودھ کا گلاس اور اس کی دوا رکھتا واپس آیا۔۔۔
اسے دوا دیتے دودھا کا گلاس تھمایا۔۔۔۔
مجھے نہیں پینا۔۔۔۔۔وہ منہ بسوڑتے بولی۔۔۔۔۔
تم سے پوچھا نہیں ہے میں نے۔۔۔۔۔ختم کرو اسے جلدی۔۔۔۔۔مجھے اور بھی کام ہیں۔۔۔۔آج تو جیسے وہ اس کا دل لہو لہان کرنے کا سوچے بیٹھا تھا۔
اس نے خاموشی سے گلاس لبوں سے لگایا اور ایک ہی سانس میں پیتے اسے دیا اور فوراً لیٹ کر کمفرٹر منہ تک لیا۔۔۔۔
باسط نے تاسف سے اس کے وجود کو دیکھا۔۔۔۔۔جس نے ہضم ہونے کا بھی انتظار نہیں کیا تھا۔۔۔۔اس سے اندازہ ہوتا تھا کہ درید اور شوکت یزادنی نے اسے کتنا بگاڑ رکھا تھا۔
اے سی اون کرتے اس نے اپنا لیپ ٹاپ تھاما۔۔۔۔باہر سارے لاکس لگا کر سب بتیاں گُل کر چکا تھا وہ۔۔۔۔اس کے برابر بیٹھتے اس نے اپنا کام شروع کیا۔
ایک نظر اس پر بھی ڈال لیتا جو شاید سو گئی تھی۔۔۔۔۔اس کے سانس کے خیال سے کمفرٹر اس کے چہرے سے آہستہ سے ہٹایا۔۔۔۔اس کا چہرہ گلابی مائل اور ہلکا سا سوجا تھا رو کر۔۔۔۔
وہ پشیمان تھا۔۔۔۔اس کی وجہ سے اسے تکلیف ہوئی تھی۔۔۔لیکن اس غلطی کی سزا تو اسے دینی ہی تھی۔۔۔اور باز پرس بھی وہ کرنا چاہتا تھا لیکن ابھی نظریں اس کے معصوم چہرے پر تھیں۔
تین بجے اس نے کام مکمل کرتے لیپ ٹاپ بند کیا۔۔۔۔اس کا وقفے وقفے سے بیچینی سے کسمسانا وہ محسوس کر چکا تھا۔
وہ واش روم گیا اور آ کر کمرے کی بتیاں بند کرتے زیرو کا بلب اون کیا اور اپنی جگہ پر آیا اور چت لیٹ گیا۔
پندرہ منٹ میں ہی اس پر نیند کی وادی مہربان ہو چکی تھی۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کبھی وقت دے میرے ہم نفس
تیرے منتظر ہم اب بھی ہیں
نظر کی لگاوٹ پر
بھروسہ نہیں ہمیں
تجھے قریب سے دیکھنے
کی حسرت اب بھی ہے
تجھے ہم جیسے
کہاں بھاتے ہیں
مگر سن ہم جیسے
نایاب ہوا کرتے ہیں
تو بازار عشق میں
قیمت لگوا بس
تو جان جائے گا کہ ہم
جیسے مہنگے ہوا کرتے ہیں
تو دوستوں کے کہنے پر
ہم سے روٹھے بیٹھا ہے
تو سن سائے بھی کبھی کبھی
دشمن ہوا کرتے ہیں
تو حسین ہے بے حد میں
سر خمِ یار کرتی ہوں
تو بتا تیرے ہمارے بارے
میں کیا خیال ہوا کرتے ہیں؟؟
از قلم خود
ربائشہ واپس جا چکی تھی۔۔۔۔اس کے جاتے اس نے پوری رات سگریٹ سلگایا تھا۔
اتنی بڑی بات۔۔۔۔ناراضگیاں اور شکوے اپنی جگہ لیکن کیا اس کا اتنا حق نہیں بنتا تھا۔۔۔۔۔اس نے دکھ سے آنکھیں میچی۔
وہ کسی بھی چیز میں خوش قسمت ثابت نہیں ہو ا تھا۔۔۔۔۔۔اس کی بیوی اسے شاید تب تک نا بتاتی جب تک اس کا وجود یہ بات واضح نا کرتا۔
اس نے آنکھیں موندی۔۔۔۔۔اس کی زندگی میں ایک خوشی آنے والی تھی۔۔۔۔۔رب العالمین اسے رحمت سے نوازنے والا تھا۔۔۔۔
اس نے چاہنے کے باوجود ہفتے سے اسے دیکھا تک نہیں تھا۔۔۔۔
ہاں اس کی ساری معلومات اس کے پاس تھیں لیکن اسے روبرو نہیں دیکھا تھا ابھی تک۔
دوسری طرف ربائشہ نے اس کا انتظار کیا تھا۔۔۔۔۔کبھی اس کی طبیعت بالکل اچھی ہوتی اور کبھی بالکل بے چین۔۔۔۔
اسے لگا تھا وہ آئے گا لیکن۔۔۔۔وہ اب تک نہیں آیا تھا۔۔۔بیشک وہ وہاں نہیں جائے گی وہ اسے کہہ چکی تھی۔
ایک دن، دو دن، تین دن اور پھر ہفتہ۔۔۔۔۔اس نے امید چھوڑ دی تھی۔۔۔۔وہ ہر بار ایسا ہی کرتا تھا۔
اس بار سچ میں اس کا دل دکھا تھا۔۔۔۔وہ اس کی کی گئی زیادتیاں جب بھی بھلانے کی کوشش کرتی تھی وہ پھر سے کچھ ایسا کر دیتا تھا کہ وہ جو دو قدم آگے بڑھتی تھی چار قدم پیچھے لے لیتی تھی۔
اسی سوچوں میں گم اس نے کھڑکی سے باہر دیکھا جہاں گاڑی اندر داخل ہوئی تھی۔۔۔
اس کا دل پل میں سکڑ کر پھیلا۔۔۔۔ایک ہفتے بعد۔۔۔۔ اس کے لبوں پر تمسخر پھیلا۔۔۔
وہ وہیں بیٹھی رہی جیسے فرق نہ پڑا ہو۔۔۔۔دل ہمک رہا تھا کہ اس کی طرف دیکھو۔۔۔اس بے چینی کو ختم کر دو جو ہفتے سے ہے لیکن۔۔۔۔۔
لیکن وہ ڈھیٹ بنی رہی یہاں تک کہ وہ بنا دروازہ ناک کیے اندر داخل ہوا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سالہ مرنا نہیں چاہیے اسے اتنے گھاؤ دو اس کی آہیں ساری رات یہاں گونجتی رہیں سامنے کرسی پر بیٹھے شخص نے کہا۔
تو ایسا نہیں کر سکتا تبریز۔۔۔۔۔
میں کر سکتا نہیں کر رہا ہوں۔۔۔۔۔سگریٹ سلگاتے اس نے سامنے موجود شخص کو کہا۔
یاد رکھ میں جب بھی یہاں سے نکلا تیری بیوی کو وہ مواد دکھا دوں گا جو تو نے میری بہن۔۔۔
چٹاخ۔۔۔۔۔
پے در پے اس پر لاتوں اور مکوں کی برسات کرتے تبریز شاہ پیچھے ہٹا۔۔۔۔۔
تو بتائے گا میری بیوی کو۔۔۔۔۔میں نے کچھ نہیں کیا تھا۔۔۔
تیری بہن کے ساتھ۔۔۔۔۔
میری بہن جھوٹ نہیں بول سکتی مجھ سے۔۔۔اور مت بھول اس کے بدن پر اس دن تیرا لباس اور تیرے دیے نشان تھے۔۔۔۔۔وہ شخص چلایا۔۔۔۔
نہیں۔۔۔۔یہ سب جھوٹ ہے۔۔۔۔مجھے کچھ یاد نہیں۔۔۔۔میں ایسا مر کر نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔تبریز شاہ نے نا میں سر ہلاتے کہا۔
تیری بیوی کے ساتھ بھی وہی ہو گا۔۔۔۔۔جو تو نے میری بہن کے ساتھ کیا۔۔۔۔اسی لیے میں نے تم لوگوں کو علیحدہ کر دیا۔۔۔۔۔۔اس شخص نے قہقہہ لگایا۔
اس کے قہقہے تبریز شاہ کو ہر جگہ سنائی دے رہے تھے۔۔۔۔وہ رات وہ کبھی نہیں یاد کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔جس کے بعد وہ ہر رات خود سے نظریں نہیں ملا پاتا تھا۔
جس دن میں یہاں سے نکلنے میں کامیاب ہو گیا تبریز شاہ اس دن منت تبریز شاہ یہ سچ جان جائے گی کہ اس کا شوہر کسی دوسری عورت۔۔۔۔۔
اس سے پہلے وہ اس پر پھر ہاتھ اٹھا چکا تھا۔۔۔۔۔۔یہ سب سننا قیامت خیز تھا۔۔۔۔۔آج وہ منت کے نکلنے کے بعد آیا تھا اس شخص کے پاس اور یہ سب سنتا وہ پاگل ہونے کو تھا۔۔۔۔
ہاہاہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو صرف ہاتھ اٹھا سکتا ہے۔۔۔مجھے مار نہیں سکتا کیونکہ دی گریٹ مسٹر تبریز شاہ کسی بے قصور کو مار نہیں سکتا۔۔۔۔وہ شخص چلایا لیکن وہ وہاں سے نکلتا چلا گیا۔۔۔۔
وہاں سے نکلتے اس نے گاڑی میں بیٹھتے پانی پیا۔۔۔۔اگر کسی دن منت کو سب پتا چل گیا تو۔۔۔۔
نہیں۔۔۔۔اس نے تیزی سے سر سٹیرنگ ویل پر مارا اور اپنی ٹکٹ بک کروائی۔۔۔جو دوسرے شہر کا کام اس کا دو مہینے بعد کا تھا وہ ابھی کرنے چلا گیا کہ یہاں رہتا تو سب تباہ کر دیتا۔۔۔۔۔
میں نے کچھ نہیں کیا منت۔۔۔۔۔اس نے ناں میں سر ہلاتے خود کو باور کروایا۔۔۔۔۔
میں جلد حقیقت تک پہنچ جاؤں گا اس نے اپنے اشتعال کو قابو میں کیا اور ایک نمبر ملایا۔
کہاں رہ رہی ہے وہ آج کل۔۔۔۔۔
سر وہیں جو اسے آفس کی جگہ ملی ہے۔۔۔۔۔
اس پر نظر رکھو۔۔۔۔کون آتا ہے کون جاتا ہے سب۔۔۔۔۔۔اس نے کہتے فون کاٹا اور گھر چلا گیا۔۔۔۔
اس سے ملنے کی خواہش تھی لیکن اس وقت اس کے پاس ان حالات میں نہیں جانا چاہتا تھا وہ نہیں تو ۔۔۔۔
وہ اسے نقصان پہنچا دیتا اور اس کے بعد خود کے ساتھ کچھ مزید بُرا کر لیتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آنکھ اس کے رونے پر کھلی تو فوراً اُٹھ کر بیٹھا اور بتیاں چلائی۔۔۔۔رباب کا چہرہ رونے سے تر تھا پورا۔۔۔وہ اپنے ہونٹ کا کنارہ کاٹتی شاید آواز کو روکنے کی کوشش میں ہلکان تھی۔
اس کو ایسے روتے دیکھ اس کا دل کانپا تھا۔۔۔۔فورا اس کے پاس آیا اور اس کے پاؤں کی طرف دیکھا جہاں سوزش اب بڑھ گئی تھی۔۔۔۔۔دوا لگائی فوراً اور اس کے قریب ہوا۔
رباب ششش۔۔۔۔
میری جان کچھ نہیں ہوا۔۔۔۔دوا لگا دی ہے ابھی ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔۔اس کا نم چہرہ ہاتھوں سے صاف کیا۔
باس۔۔۔۔باسط۔۔۔۔نم لبوں سے اسے پکارا تو باسط کو اپنا دل ڈوبتا محسوس ہوا۔۔۔۔آج دوسری بار اس کا دل کسی کی تکلیف پر کانپا تھا۔
پہلی ربائشہ اور اب اپنی بیوی۔۔۔۔۔اس نے اسے ساتھ لگایا اور اس کی قمر سہلائی۔۔۔۔
باسط۔۔۔۔۔اس نے پھر سے اسے پکارا۔۔۔
بولو میری جان۔۔۔۔۔اس کے بال اس کے ماتھے سے ہٹاتے کہا
بھیو۔۔۔۔بابا کے پاس جانا ہے ۔۔۔۔اس نے سسکی بھرتے کہا ۔۔۔۔
میں ہوں نا۔۔۔کچھ نہیں ہو گا ۔۔۔۔ابھی رکو یہاں۔۔۔اسے ہٹاتے وہ باہر گیا۔۔۔۔اور انجیکشن لے کر آیا جو وہ ڈاکٹر سے لے چکا تھا۔
اسے دوا بھی دی تھی لیکن تب تک وہ اسے ایسے روتا نہیں دیکھ سکتا تھا۔۔۔۔۔۔اس لیے واپس اس کے قریب آیا۔
رباب نے انجیکشن دیکھتے تیزی سے ناں میں سر ہلایا تھا۔۔۔۔باسط نے اس کے قریب آتے اس کی آستین ہٹائی اور اوپر لے جا کر اس کے بازو کو پکڑا۔
باس۔۔۔باسط نہیں۔۔۔۔پل۔۔۔۔۔پلیز۔۔۔۔ابھی خود ہی درد ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔اس نے ڈرتے کہا۔
اپنی حالت دیکھ رہی ہو۔۔۔۔۔تھم جاؤ۔۔۔۔نہیں تو اب تمہیں ایک لگا دینی ہے میں نے باسط نے سخت لہجے میں کہا۔
رباب نے اس کے سینے پر سر ٹکاتے دوسرے ہاتھ سے اس کی شرٹ کو سختی سے مٹھیوں میں بھینچا۔
باسط نے اس کی طرف دیکھا جو زور سے آنکھیں بند کیے کانپتے وجود کو اس میں چھپانے کی کوششوں میں ہلکان تھی۔
اس نے اجینکشن اسے لگایا۔۔۔۔بہت آرام سے۔۔۔۔اس کی سسکی کو سنتے اس کی قمر سہلائی۔۔۔۔
ہاتھ دھو کر واپس آتے لائیٹس اوف کی اور وہیں بیٹھتے اسے کھینچ کر اپنے سینے سے لگایا اور اس کی قمر سہلانے لگے۔
ابھی ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔۔اگر نہ ہوا تو ہسپتال چلے گیں اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھامتے کہا۔
اب رونا بند کرو۔۔۔۔اس کی سوجی آنکھوں کو دیکھتے کہا۔۔۔اور پھر نرمی سے جھکتے اسکی نم آنکھوں پر ہونٹ رکھے وہیں تھم گیا۔
رباب کو اپنی سانسیں تیز ہوتی محسوس ہوئیں۔۔۔۔کچھ لمحوں کے لیے وہ اپنا درد بھول کر اس کے لمس کو محسوس کرنے لگی۔
اس کے بال ہٹاتے اس نے اسے کیچر میں مقید کیا اور ایسے ہی بیٹھے بیٹھے کمفرٹر کھینچ کر دونوں پر ڈالا۔
رباب نے چہرہ اس کے سینے میں چھپایا۔۔۔۔۔وہ دونوں بیٹھے تھے۔۔۔۔۔باسط نے اس کے بالوں میں انگلیاں چلاتے اسے پرسکون کرنا چاہا جس میں شاید وہ کامیاب بھی ہو گیا تھا۔
اپنے سینے پر اس کی بھاری سانسوں کو محسوس کرتے اسے پیچھے لٹانا چاہا لیکن وہ اس سے جڑے بیٹھی تھی اس کے حصار میں۔۔۔۔اس کی شرٹ اب بھی اس کے ہاتھوں کی مظبوط گرفت میں تھی۔
بیڈ کی پشت سے سر ٹکاتے اس نے آنکھیں موندی۔۔۔۔۔۔وہ دونوں ایسے ہی سو چکے تھے۔۔۔رباب تو نہیں لیکن وہ ضرور تھکنے والا تھا ایسے۔۔۔۔۔
