Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shiddat-e-Talab Episode 16

Shiddat-e-Talab by Suneha Rauf

منت کیا کھایا تھا۔۔۔اس نے منت کو خود کی طرف دیکھتے پا کر استفسار کیا۔

کیا کھایا تھا ۔۔۔کیا مطلب تم نے لے کر دیا تھا بھوکے آدمی ۔۔۔اس نے کہا تو تبریز اس کا لب و لہجہ سنتا سنجیدہ ہوا۔

تم بھوکے ہو کتنے اس نے اس کی طرف انگلی کرتے کہا لیکن تبریز نے جواب نہیں دیا۔

تم جانتے تھے کہ میں وہ سب نہیں کھاتی لیکن پھر بھی۔۔۔پھر بھی تم نے صرف اس سارہ وارہ کو آرڈر کر کے دیا۔۔۔۔

خاموشی سے بیٹھو۔۔۔۔۔ تبریز نے کہا تو اس نے منہ بسوڑا۔۔۔۔

گاڑی روکو۔۔۔۔

گاڑی روکو نااااا۔۔۔وہ چیخی تو تبریز شاہ نے گاڑی سائیڈ پر روک کر سلگتی نگاہ اس پر ڈالی۔۔۔۔اسے بے حد غصہ تھا پہلے ہی اس پر۔۔۔

اسے اس رنگ میں دیکھتے، تمام لوگوں کی نگاہوں کا مرکز بنتے دیکھ، وہاں سے کچھ اوٹ پٹانگ کھانے پر،جون سے ایک بار پھر بات کرنے پر۔۔۔۔اور اب یہ سب۔۔۔۔

یہ میرے بال دکھ رہے ہیں۔۔۔۔یہ کھول دیں اس نے دوسری طرف منہ کرتے اپنا جوڑا اسے دکھاتے کہا تو تبرز شاہ نے گہری سانس بھری۔

اور پھر ساری پنز نکالتے اس کا جوڑا کھولا ۔۔۔۔جوڑا کھلتے ہی اس کے سلکی بال اس کے چہرے پر پھیل گئے ۔۔۔وہ اس وقت بے حد حسین اور معصوم لگ رہی تھی۔۔۔

اس نے فوراً اس پر سے نظریں ہٹائیں۔۔۔اس کی نظر لگ جاتی اگر اسے تو۔۔۔۔

تم نے۔۔۔تم نے۔۔۔مجھے گھور کر نظر لگا دینی تھی شاہو کے بچے۔۔۔۔منت نے اس کے بھاری ہاتھ پر مکہ مارتے کہا۔

تمیز سے بات کرو منت۔۔۔۔وہ دھاڑا۔۔۔۔اس کا لب و لہجہ اسے زہر لگا تھا۔

چلو کھانا کھلاؤ مجھے۔۔۔۔۔اس سارا وارا کو تو بڑا کھلایا تھا لیکن بیوی جس کا تمہاری۔۔۔اوپسی۔۔۔آپ کے پیسوں پر حق ہے اسے تو کچھ نہیں کھلایا۔۔۔

تبریز شاہ نے گاڑی سائیڈ پر روکی اور اس کے لیے چند ایک چیزیں لے کر آیا۔۔۔اس کا نشہ صبح تک اتر جاتا۔۔۔

وہ کھاتے ساتھ ایک نظر اسے بھی دیکھ لیتی جو سامنے دیکھتا ڈرائیو کر رہا تھا۔

اپنا والٹ دیں۔۔۔

تبریز شاہ نے خاموشی سے اپنا والٹ اس کے ہاتھ میں تھمایا۔۔۔

اب یہ میرا ہے تاکہ تمم۔۔۔آپ ۔۔۔آپ اس سارا وارہ کو کچھ نا کھلا سکو۔۔۔وہ اس بات کا گہرا صدمہ لے گئی تھی۔۔۔۔

وہ نشے میں یہ سب بار بار دہرا رہی تھی جس کا مطلب تھا اسے تبریز شاہ کی یہ حرکت بہت ناگوار گزری تھی۔

تبریز شاہ اسے گھر لایا اور کمرے میں جانے کا کہتے خود فریش ہونے چلا گیا ۔۔۔

واپس آیا تو وہ بنا چینج کیے سو گئی تھی۔۔۔اس پر کمفرٹر دیا تو دیکھا وہ اس کا والٹ زور سے مٹھی میں دبوچے سو رہی تھی۔۔۔۔

منت منت۔۔۔۔منت تبریز شاہ تم تو سراپا عشق ہو۔۔۔جھک کر اس کے بالوں پر لب رکھتا وہ پیچھے ہٹا۔۔۔۔

کبھی وقت دے میرے ہم نفس!

تیرے منتظر ہم اب بھی ہیں

نظر کی لگاوٹ پر بھروسہ نہیں ہمیں

تجھے قریب سے دیکھنے کی حسرت اب بھی ہے

تجھے ہم جیسے کہاں بھاتے ہیں

مگر سن ہم جیسے نایاب ہوا کرتے ہیں

تو بازار عشق میں قیمت لگوا بس

تو جان جائے گا کہ ہم جیسے مہنگے ہوا کرتے ہیں

تو دوستوں کے کہنے پر ہم سے روٹھے بیٹھا ہے

تو سن سائے بھی کبھی کبھی دشمن ہوا کرتے ہیں

تو حسین ہے بے حد میں سر خمِ یار کرتی ہوں

تو بتا تیرے ہمارے بارے میں کیا خیال ہوا کرتے ہیں؟؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ربائشہ تھک کر باسط کے ساتھ گھر آ گئی تھی۔۔۔۔وہ دونوں اپنی اپنی سوچ میں ڈوبے تھے۔

ربائشہ باسط کے ڈانٹنے پر کھانا کھا لیتی تھی لیکن بہت کم۔۔۔۔باسط خود بھی اس کے لیے پریشان تھا لیکن اس سے کھانے پر زبردستی نہیں کر سکتا تھا کیونکہ ربائشہ کی طبیعت ایسی ہو جاتی تھی۔

باقی وہ اس کی ہر آسائش سگے بھائیوں سے بڑھ کر پوری کر رہا تھا۔۔۔۔لیکن اپنی بہن کے دل کو کیسے خوش کرتا جو کسی سے علیحدہ ہونے پر خاموش ہو گیا تھا۔

دوا لو ربائشہ۔۔۔

کھانے کے بعد دوا دیتے باسط نے اسے کمرے میں بھیجا تھا جہاں وہ کئی لمحے ایک ہی کونے پر نظریں مرکوز کیے بیٹھی رہی تھی۔

کیا وہ سچ میں اس کی اولاد اس سے لے لے گا؟ یہ سوچ آتے ہی ربائشہ کانپ اٹھی تھی۔

اس وقت میں اس نے کتنی تکلیف سہی تھی وہ لفظوں میں بھی بیان نہیں کر سکتی تھی۔

اور اب وہ کہہ رہا تھا کہ وہ اس کی اولاد لے لے گا۔۔۔۔اس نے تو سب غصے میں اسے تڑپانے کے لیے کہا تھا لیکن اب خود تڑپ رہی تھی۔

ربائشہ نے فون اٹھایا اور اس کا نمبر ملاتے گہرا سانس بھرا۔۔۔۔۔

رنگ جا رہی تھی لیکن کال موصول نہیں ہو رہی تھی وہ وہیں چکر کاٹنے لگی۔۔۔

بیس منٹ کے اس مختصر وقت میں وہ بُری طرح ہانپ گئی تھی۔۔۔پیروں میں تکلیف الگ تھی۔

درید نے لیپ ٹاپ بند کیا اور فون اٹھایا ربائشہ کی دو مسڈ کالز دیکھتے تیزی سے اس کا نمبر ملایا تھا۔

دل میں ہزار اندیشے اور بُرے خیال آئے تھے۔۔۔اس نے خود کو کوسا کہ کیوں اس نے فون کو سائلنٹ پر ڈالا تھا۔

دوسری طرف سے کال اٹھا لی گئی تھی لیکن کوئی جواب نہ ملا۔

ربائشہ کیا ہوا۔۔۔؟سن رہی ہو مجھے ۔۔۔۔وہ تیزی سے بولا۔۔۔۔

لیکن جواب نداد۔۔۔۔

رابی۔۔۔۔۔ربائشہ۔۔۔۔۔۔

میں س۔۔۔۔۔سن۔۔۔ر۔۔۔رہی۔ہوں۔۔۔وہ رندھے لہجے میں بولی۔

کیا ہوا ہے۔۔۔؟طبیعت ٹھیک ہے۔۔۔۔وہ تیزی سے اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا۔۔۔

ہمممم۔۔۔۔۔

تو پھر۔۔۔۔درید یزدانی نے کھڑکی کے پاس کھڑے ہوتا اس سے پوچھا۔

آپ سچ میں ایسا کریں گے؟

کیسا۔۔۔۔؟

آپ مجھ سے اسے لے جائیں گے؟

تمہیں کیا لگتا ہے مجھے کیا کرنا چاہئے؟

ایسا تو نہیں کرنا چاہیے ۔۔۔۔یہ میرا بے بی ہے۔۔۔میں نے ہر دن اکیلے خود کو سنبھالا ہے۔

یہ تمہارا فیصلہ تھا رابی۔۔۔۔اب کیا ہوا ہے۔۔۔

آپ ایسا نہیں کر سکتے۔۔۔۔اب کہ ربائشہ اونچی آواز میں چیخی۔۔۔۔

ربائشہ درید یزدانی اگر نہیں چاہتی ہو کہ میں تیزی سے دو گھنٹے کی ڈرائیو کرتا وہاں پہنچو تو آواز آہستہ رکھو اور اپنے بستر پر لیٹو تمہیں آرام کی ضرورت ہے وہ شروع میں سخت اور پھر تحمل سے کام لیتا بولا۔

مجھے وہاں آنا ہے آپ کے پاس۔۔۔۔۔

وہ تھک کر قبول کر گئی تھی کہ اس مشکل سفر میں اب وہ خود کو اکیلے نہیں سنبھال پائے گی۔

تم نے اور تمہارے بھائی نے میری بہن کے ساتھ جو کیا ہے اس کے بعد بھی تمہیں لگتا ہے میں دوڑا تمہارے پاس آؤں گا تمہیں لینے وہ سب یاد کرتا تلخ ہوا۔

مجھے اس بارے میں کچھ نہیں پتا تھا میں ہزار بار بتا چکی ہوں ۔۔۔۔۔ربائشہ نے حتمی لہجے میں کہا اور فون کاٹ دیا۔

وہ بس اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔۔۔۔وہ پل میں تولہ تھی پل میں ماشہ۔۔۔ابھی چند سیکنڈ پہلے وہ اس کے پاس آنا چاہتی تھی اور اب دو سیکنڈ بعد وہ اس سے بات بھی مزید نہیں کرنا چاہتی تھی۔

تم مجھے پاگل کر رہی ہو بیوقوف لڑکی۔۔۔۔اس نے فون سائیڈ پر پھینکا۔

اور یہ سب باسط کا کیا دھرا تھا۔۔۔جس نے ان کی پرسکون زندگی میں یہ طوفان بڑپا کیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ ابھی آفس سے میٹنگ سے فارغ ہوتا آ کر بیٹھا ہی تھا کہ اسے ایک لفافہ موصول ہوا۔

اس نے پہلے بعد میں کھولنے کا سوچا لیکن پھر کسی احساس کے تحت کھولا اور بھونچکا رہ گیا۔

وہ سہی کہہ کر گئی تھی دو ہی دن میں اس نے خلا کا کیس دائر کر دیا تھا اس نے مٹھیاں بھینچی۔

تو کیا اس لڑکی کے نزدیک ان کے رشتے کی یہی اوقات تھی کہ اب وہ اس رشتے کو کوٹ کچہری میں گھسیٹتی۔

وہ اٹھا اور بنا یہ دیکھے کہ اگلی میٹنگ کتنی ضروری ہے وہ اس کے گھر کے لیے نکلا۔

رباب باسط ضیاء یہ تمہاری بھول ہے کہ تم ان سب میں کامیاب ہو پاؤ گی۔۔۔۔۔اس گھٹیا حرکت کا سود سمیت بدلہ لوں گا میں تم سے۔

تیزی سے ڈرائیو کرتے وہ اس کے گھر پہنچا۔۔۔۔۔چوکیدار نے اسے اندر آنے دیا تھا وہ سیدھا اس کے کمرے میں گیا۔

دروازہ لاک نہ تھا اسے اس بات پر بھی غصہ آیا لیکن جو کچھ وہ کر چکی تھی اس کا غصہ ہر دوسری چیز پر غالب تھا۔

وہ اندر داخل ہوا جہاں وہ اندھیرا کیے خواب خرگوش کے مزے لے رہی تھی۔

کمرے کی تمام بتیاں چلاتے وہ اس کے پاس آیا اور جھٹکے سے اسے اٹھا کر اس کی جگہ پر بٹھایا۔

رباب یک دم لگنے والے جھٹکے سے چیخ مار کر اٹھی اور اپنے سامنے اسے موجود دیکھ کر دنگ رہ گئی۔

اٹھو بات کرنی ہے مجھے تم سے۔۔۔۔۔

مجھے نہیں کرنی۔۔۔۔وہ سنجیدگی سے بولی۔

دو گھنٹے کی ڈرائیو کر کے میں یہ سب سننے نہیں آیا رباب ۔۔۔۔۔۔اٹھو اور فریش ہو کر فوراً واپس آؤ۔۔۔۔

تمہیں اندر کس نے آنے دیا۔۔۔؟ وہ سیدھی ہو کر بیٹھی اور بال باندھنے لگی۔۔۔

یہ تم تم کیا لگائی ہوئی ہے تمیز بھول گئی ہو ساری۔۔؟ وہ اس کے بازو کو گرفت میں لیتا بولا۔

مجھے یاد ہے لیکن تم نے تمام لحاظ بالائے طاق رکھ کر جو مجھے میری نظروں میں گرایا تھا اس کا یہ چھوٹا سا بدلہ تھا۔

تمہارا دماغ اپنی جگہ پر ہے ۔۔۔؟

بدلہ لینے کے لیے تم ہمارا رشتہ کوٹ میں لے جا پہنچی ہو؟۔۔۔باسط کو حیرت ہوئی اس پر۔

آغاز تم نے کیا تھا اختتام میں کروں گی وہ اس کے ہاتھ سے جھٹکے سے ہاتھ چھرواتی بولی۔۔۔باسط اسے کئی لمحے دیکھتا رہ گیا۔

کیا یہ وہی رباب تھی جو اسے چوری چھپے دیکھا کرتی تھی۔۔۔۔یہ وہی رباب تھی جسے اس نے شادی سے پہلے ڈرا دھمکا کر رکھا تھا۔۔۔۔اس کی آواز پر بھی وہ سانس روک جاتی تھی اور آج وہ باغی بنی اس کے سامنے اس سے جنگ کرنے کو تیار تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبح منت کی آنکھ کھلی تو اس کا سر بھاری ہو رہا تھا ۔۔۔۔اس نے چکراتے سر کے ساتھ یہاں وہاں دیکھا۔۔۔۔وہ تبریز کے گھر پر تھی۔

رات کے مناظر کی ہلکی سی جھلک اس کے زہن پر ابھری تو وہ مسکرائی۔۔۔۔۔اور شرمندہ بھی ہوئی۔

اپنے ہاتھ میں اس شخص کا والٹ دیکھتے اس کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ چھائی اسے پتا تھا اب اسے کیا کرنا ہے۔

وہ باہر آئی تو سناٹا تھا۔۔۔کوئی بھی نا تھا۔۔۔گھڑی پر وقت دیکھا جو دس بجا رہی تھی جس کا مطلب تھا کہ تبریز شاہ آفس جا چکا تھا۔

اس نے بور ہونے کی بجائے اس کی الماری سے کپڑے نکالے اور فریش ہو کر باہر آئی ۔۔۔۔اپنے آپ کو اس کے لباس میں دیکھتے وہ دلکشی سے مسکرائی تھی۔

یہ مسکراہٹ سچی تھی جو ناجانے کتنے لمحوں تک برقرار رہتی۔

اس کے ٹراؤزر کو نیچے سے فولڈ کرتے اس نے منہ بسوڑا۔۔۔۔اس کی آدھی آستینوں والی کھلی سی ٹی شرٹ جو اس کے گھٹنوں کے کچھ اوپر تک آئی تھی اس میں گھوم رہی تھی۔

اس میں دو تین منت آ سکتی ہیں اس کی شرٹ کو آئینے میں خود پر دیکھتے اس نے کہا اور پھر قہقہہ لگایا اپنی ہی بات پر۔

باہر آ کر ہلکا سا ناشتہ کرتے اب وہ اپنے دماغ کے گھوڑے دوڑا رہی تھی کہ آگے کیا کرنا چاہیے اور یک دم وہ اندر کو بھاگی اور اس کا والٹ لے کر آئی۔

بڑا شوق تھا اس سارا کو کھلانے کا۔۔۔اب تمہارے اکاؤنٹ میں کچھ رہنے ہی نہیں دوں گی۔۔۔اس نے اپنا فون نکالا اور اون لائن شاپنگ کرنے لگی۔

جس میں اس کے گھر کی گروسری، اس کے اور تبریز کے بے تحاشا کپڑے، اس نے خود کا مہنگا میک اپ منگوایا آدھی سے زیادہ چیزیں اسے استعمال بھی نہیں کرنی آتی تھیں لیکن منگوانے میں کوئی حرج نہیں تھا اس کے نزدیک۔۔۔

اس نے اردگرد دیکھا کہ اور کیا خریدا جائے اور صوفوں کو دیکھتے اس نے منہ بسوڑا۔۔۔جو کالے رنگ کے تھے لیکن نئے تھے ایک دم۔۔۔۔

ام ہم۔۔۔۔اچھی چوائس نہیں ہے شاہ۔۔۔۔نئے برائیٹ کلرز کے کرنے پڑے گیں آرڈر۔۔۔

ایک آن لائن ویبسائٹ پر آ کر وہ رک گئی جہاں مہرون رنگ کی ساڑھی اس نے دیکھی تھی وہ خوبصورت ساڑھی اپنی قیمت کا اعلان چیخ چیخ کر کر رہی تھی۔

اس نے قیمت دیکھی جہاں بڑا بڑا لکھا تھا بارہ لاکھ۔۔۔کیونکہ وہ کسی بڑے ڈیزائینر کی آئی نئی کولیکشن میں سے تھی۔

اس نے ایک پل کے لئے سوچا اور پھر آرڈر دے دیا بنا یہ دیکھے کہ اس خوبصورت ساڑھی کی آستینیں سڑے سے ہی نہیں دی گئیں تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نے فون اٹھایا اور اس ڈاکٹر کو ملایا۔۔۔۔۔۔۔ربائشہ یزدانی کو فون کریں اور کل چیک اپ کے لیے بلائیں۔

لیکن ان کا چیک اپ تو تین دن بعد کا ہے ڈاکٹر نے حیرت سے کہا۔

آپ سے جتنا کہا ہے اتنا کریں ۔۔۔۔۔وہ کہتا فون کاٹ گیا۔

ڈاکٹر نے ربائشہ کو فون کر کے بتا دیا تھا۔۔۔جو پہلے سے زیادہ فکر مند ہوئی تھی کہ اسے ایسے اچانک کیوں بلایا گیا یے۔

اگلے دن باسط اسے چھوڑتا کسی کام سے گیا تھا اس نے واپسی پر ربائشہ کو پِک کرنے کا کہا تھا۔

وہ خاموشی سے اندر چلی گئی اور اپنی باری کا انتظار کرنے لگی۔

آپ کا اپاونٹمنٹ آج سینیر ڈاکٹر کے ساتھ ہے نرس نے اسے آ کر بتایا۔

لیکن میں شروع سے انہیں ڈاکٹر کو چیک کروا رہی ہوں اس نے شال سے منہ پر آیا پسینہ صاف کرتے کہا۔

نہیں آپ کے شوہر آپ کی اپاونٹمنٹ دوسری سینیر ڈاکٹر سے کروا چکے ہیں۔

کہاں ہے ان کا کیبن؟

اوپر کمرہ نمبر ڈی تھری۔۔۔

نرس نے بتایا تو اس نے گہرا سانس بھرا اس شخص سے کوئی بعید نہیں تھا وہ کیا کر جاتا۔

وہ خاموشی سے اٹھی اور سیڑھیاں چڑھنے لگی۔۔۔اس حالت میں اس کا لفٹ میں دم گھٹتا تھا۔۔۔دس منٹ میں وہ کچھ سیڑھیاں عبور کرتی اوپر پہنچی تھی۔

آخری سیڑھی پر کھڑے ہوتے اس نے سامنے کا منظر دیکھا جہاں وہ شان سے لفٹ کے سامنے کھڑا شاید اسی کے انتظار میں تھا۔

ربائشہ نے دھیرے سے قدم اس کی طرف بڑھائے۔

درید یزدانی جو لفٹ کے پاس کھڑا اس کا انتظار کر رہا تھا دس منٹ ہونے پر نیچے ریسپشن پر فون کرنے لگا لیکن پھر کسی احساس سے پیچھے پلٹا۔

جہاں وہ سانس بحال کرتی اس کے سامنے تھی۔

ہلکے آسمانی رنگ کے سوٹ پر سفید چادر میں لپٹا اس کا بھاری ہوتا وجود، چہرے پر کچھ شریر لٹیں، دھلا ہوا صاف چہرہ، ماتھے پر پسینے کی چند بوندیں وہ حد درجہ حسین لگی تھی اسے۔

لفٹ کس لیے موجود ہیں یہاں اگر اس کا استعمال نہیں کرنا تو؟ وہ اس کا پھولا سانس دیکھ کر سمجھ گیا کہ محترمہ کہاں سے آئیں ہیں۔۔

اسی لیے اس سے سیڑھیاں چڑھ کر آنے پر استفسار کرنے لگا۔

اگر ان پانچ ماہ میں آپ میرے ساتھ ہوتے تو جان جاتے کہ بند جگہوں پر میرا دم گھٹتا ہے۔۔۔وہ آتے ہی سارے حساب برابر کر چکی تھی۔

یہ پانچ مہینوں کی دوری ہی ہے ربائشہ بیگم جو اتنی زبان چل رہی ہے تمہاری وہ کہتا جھک کر اس کی شال کا پلو اٹھانے لگا تو وہ ڈر پر ایک قدم دور ہوئی۔

کیا مصیبت ہے تمہارے ساتھ؟ وہ سخت لہجے میں بولا اور پھر اپنی جیب سے اپنا رومال نکالا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تمہیں جو کرنا ہے کرو۔۔۔۔لیکن اس رشتے کی ایسے دھجیاں اڑتے میں برداشت نہیں کروں گا۔۔۔باسط نے سنجیدگی سے اسے دیکھتے کہا۔

باسط ضیاء حالات کی سنگینی سے تمہیں اندازہ ہو جانا چاہیے کہ اب معاملات حل نہیں ہوں گے اس لیے یہ سب باتیں بیکار ہیں ۔۔۔۔

واقعی؟؟ وہ سامنے رکھی کرسی پر ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھ گیا۔

رباب نے حیرت سے اسے دیکھا جو پل میں ایک دم پرسکون ہوتا بیٹھ گیا تھا یعنی اس کے دماغ میں کچھ چل رہا تھا ۔۔۔۔۔اور اس کے دماغ سے جیت جانا ممکن ہی نہیں تھا۔

مجھے کہیں جانا ہے۔۔۔۔رباب کہہ کر واش روم گھس گئی۔۔۔۔۔اور تقریباً آدھے گھنٹے بعد جب وہ نکلی تو وہ شخص اتنے ہی پرسکون طریقے سے اس کے سامنے بیٹھا تھا۔

کیا چاہتے ہو؟

بتادوں ابھی یا بعد میں نزدیک ہو کر تفصیل سے سمجھاؤں؟ وہ کھڑا ہوتا سکون سے بولتا اس کا سکون غارت کر گیا تھا۔

بھیو آنے والے ہوں گے۔۔۔۔ان کے آنے پر بات۔۔۔۔۔

کپڑے سمیٹو اپنے ۔۔۔۔۔وہ اس کے نزدیک آنے اسے دیکھتا بولا۔

باسط اب تمہیں جانا۔۔۔۔۔

باسط نے آگے بڑھتے اس کا ہاتھ تھاما اور گھسیٹتا اسے اپنے ساتھ باہر آیا ۔۔۔اس کا احتجاج بھی کام نہ آیا تھا۔

وہ ہلکی سی کہاں اس مضبوط جسامت کے مرد کا مقابلہ کر سکتی تھی۔

اس کے بھائی کو بولنا اس کا شوہر اسے لے گیا۔۔۔۔اس کا دماغ کافی خراب ہو رہا تھا اب وہ خود سیٹ کرے گا وہ چوکیدار کو کہتا اسے گاڑی میں جھٹکا دیتا تیزی سے وہاں سے نکل گیا۔

مجھے نہیں جانا تمہارے ساتھ۔۔۔۔۔وہ چیخی اور دروازے شیشوں پر ہاتھ مارا جو وہ لاک کر چکا تھا۔

خاموشی سے بیٹھو ۔۔۔۔میرے سر میں پہلے ہی بہت درد ہے ۔۔۔۔۔باسط نے کہا تو وہ واقعی ہی خاموش ہو گئی۔

اور ابھی وہ میڈیم اس سے علیحدگی چاہتی تھیں جو اس کے سر درد کا سنتے ایک دم سے خاموش ہو گئی تھی۔

ابھی تو سر میں درد ہے سوچو میں مر جاؤں تو کیا کرو گی تم۔۔۔۔؟

باسططططط۔۔۔۔۔۔رباب نے جھٹکے سے اسے دیکھا۔۔۔۔

کیس واپس لو اپنا۔۔۔۔۔۔کیونکہ ایسا کچھ نہیں ہو گا جیسا تمہارے اس دماغ میں بھرا ہوا ہے۔۔۔۔۔

میں ایسا نہیں کروں گی۔۔۔۔۔رباب نے ہٹ دھرمی سے کہا۔۔۔۔آخر اس شخص نے اتنا برا کیا تھا اس کے ساتھ اس کے سامنے یہ سب تو کچھ نہ تھا۔۔۔

رباب فون کرو اپنے وکیل کو۔۔۔۔۔وہ سامنے دیکھتا بولا۔۔۔۔

یہ ممکن نہیں ۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ٹھیک ہے ۔۔۔۔اب جو ہو گا اس کی زمہ دار صرف تم ہو گی۔۔۔۔باسط نے ایک غیر ارادی نظر اس پر ڈالی اور دیکھا وہ سیٹ بیلٹ اس کی اسپیڈ کی وجہ سے لگائے بیٹھی تھی۔

اس نے ٹرن لیتے گاڑی کچی سڑک پر ڈالی اور دوبارہ اسے دیکھا جو اُڑے ہواسوں سے سامنے دیکھتی شاید حالات سمجھنے کی کوششوں میں ہلکان تھی۔

باسط کے چہرے پر تمسخرانہ مسکراہٹ پھیلی اور بنا کچھ سوچے اپنی سیلٹ بیلٹ اتاری اور گاڑی سامنے درخت پر دے ماری۔

ایک جھٹکے کے ساتھ گاڑی رکی تھی۔۔۔۔ہوا میں تیز آواز کے ساتھ رباب کی چیخ سنائی دی تھی۔

باسط کا سر سٹرینگ پر تھا جس سے اب بھل بھل خون بہہ رہا تھا۔۔۔۔گاڑی کے بونٹ سے دھواں نکلنے لگا تھا۔

رباب نے ڈرتے اس کو دیکھا جو اب سیدھا بیٹھ گیا تھا اس کی ہلکی نیلی شرٹ کے کندھے پر اب خون کی بوندیں ٹپک رہی تھی۔

باسططط۔۔۔خوننن۔۔۔۔۔اس نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھنا چاہا۔

باسط نے گاڑی دوبارہ سٹارٹ کی اور ریورس میں لیتے گاڑی اس کے گھر کے سامنے روکی۔۔۔۔

جاؤ۔۔۔۔۔اور آج رات سوچ لو۔۔۔۔۔صبح تک مجھے اپنا فیصلہ بتا دینا ۔۔۔۔۔اگر تم نے نہیں بتایا تو سب میں اپنے ہاتھوں سے ختم کروں گا اب۔۔۔۔۔

خون نکل رہا ہے بہتتتتت۔۔۔۔وہ بنا اس کی بات پر دھیان دیے صدمے میں ڈوبی تھی اس وقت اسے اس کے ماتھے کی چوٹ، اس کے خون کے سامنے کچھ نہیں دکھ رہا تھا۔

نکلووو۔۔۔۔وہ دھاڑا تو وہ کانپ گئی۔۔۔۔

ہسپتال چلیں ۔۔۔۔پلیززز

وہ کانپتے لہجے سے بولی اور اپنا ہاتھ اس کے ماتھے کی طرف بڑھایا۔۔۔۔

تمہیں نہیں لگتا اب تم جلد یہ حق کھونے والی ہو۔۔۔۔۔باسط نے اس کے چھونے کی طرف اشارہ کرتے کہا۔

رباب پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔وہ سچ کہہ رہا تھا کہ اس کے ایک انتہائی قدم سے سب تباہ ہو جاتا۔۔۔۔

اور وہ تو اس شخص سے بچپن سے محبت کرتی تھی نا تو کیسے اسے چھوڑ دیتی؟

اس کے سر درد پر وہ خاموش ہو گئی تھی نہیں تو وہ شور مچا کر اسے گھر واپس جانے پر شاید مجبور کر دیتی ۔۔۔

اس کے مرنے کی بات یاد کرتے وہ تیزی سے دروازہ کھولتی اندر بھاگی تھی پیچھے وہ بھی بنا اسے دیکھے تیزی سے گاڑی چلاتے اپنے فلیٹ کی طرف نکل گیا۔

باسط نے واپس آتے ربائشہ کو دیکھا جو سو گئی تھی پھر شاور لیتا بنا کوئی دوا لگائے وہ سو گیا تھا۔

زخم اس کا جل رہا تھا ماتھے پر لیکن جسے فکر کرنی تھی وہ تو بھاگ گئی تھی۔

وہ نیند کی وادیوں میں تھا جب اس نے اپنے اردگرد ایک احساس محسوس کیا تھا۔

وہ جو کپڑے بدلتی سونے کی تیاری میں تھی اسے سوچ سوچ کر ہلکان ہو رہی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تقریباً اس کا ڈیڑھ لاکھ دس منٹ میں اڑاتے اس نے گہری سانس بھری جیسے کوئی محاظ سر کیا ہو اب وہ سکون سے وہیں کاؤچ پر لیٹی ٹی وی چلا چکی تھی۔

وہ جو کام سے اب فارغ ہوا تھا۔۔۔۔اس نے تھک کر کرسی پر سر رکھا اور فون اٹھایا جہاں بے شمار ای میلز اسے موصول ہوئی تھیں ۔۔۔۔اس نے کھول کر دیکھا تو ششدر رہ گیا۔۔۔۔اس کے اکاؤنٹ سے اکھٹا ڈھائی لاکھ پچھلے ایک گھنٹے میں اڑایا گیا تھا۔

اس نے دیکھا اس کے ایڈریس پر کتنے ہی آرڈرز کی ڈیلیوری ڈیٹ شو ہو رہی تھی۔۔۔۔

وہ کرسی سے اٹھا اور گھر کے لیے نکل گیا۔۔۔۔۔۔تیزی سے ڈرائیو کرتے وہ گھر پہنچا۔

دروازے کا لوک کھلنے کی آواز پر منت دھیمے سے مسکرائی۔۔۔۔اب آئے گا مزہ۔۔۔۔تم نے کھلا کیسے دیا اس پتلی تیلی کو کھانا ۔۔۔؟

وہ اندر داخل ہوا تو وہ صوفے پر آڑھی ترچھی لیٹی سامنے لگی کوئی باربی مووی دیکھنے میں مصروف تھی۔

تبریز شاہ نے اسے دیکھا جو اس کے کپڑوں میں موجود تھی۔۔۔۔اسے وہ اس وقت بے حد حسین اور معصوم لگی۔

وہ اس کے نزدیک آیا اور جھٹکے سے اسے کھڑا کیا۔۔۔۔اب تک وہ اس کی گزشتہ رات کی حرکتیں نہیں بھولا تھا۔

منت نے آنکھیں پٹپٹاتے اسے دیکھا۔۔۔۔کیا ہوا۔۔۔؟

یہ سب کیا کر رہی ہو اور کیوں؟ تبریز شاہ نے اسے سنجیدگی سے پوچھا۔

کیا کیا ہے میں نے؟ اس نے لاعلمی کا اظہار کرتے شانے اچکائے اور اس کے ہاتھ سے اس کا آفس بیگ تھام کر سامنے میز پر رکھا۔

منت تمہیں اب گھر جانا چاہیے اپنے۔۔۔۔

تو کیا یہ میرا گھر نہیں ۔۔۔؟ اس نے مُرتے سنجیدگی سے اسے کہا۔

وہ صرف اس کی فکر میں گھر آیا تھا کہ ناجانے اس کا نشہ اترا ہو گا یا نہیں اور کل کی اس کی حرکتیں یاد کرتا وہ خود کو تلخ ہونے سے روک نہیں پایا تھا۔

تبریز شاہ نے قدم اپنے کمرے کی طرف بڑھائے۔۔۔اس سوال کا جواب وہ چاہتے ہوئے بھی نہیں دے سکتا تھا۔

پوچھو گے نہیں میں نے تمہارے پیسے کہاں لگائے؟

نہیں ۔۔۔۔

کیوں۔۔۔؟ ابھی تو گھر سے نکال رہے تھے مجھے لگا شاید اب پیسوں کا بھی حساب لو گے۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

درید یزدانی نے جھک کر اس کے ماتھے سے پسینہ صاف کیا اور ساتھ سے گزرتے کام والے کو پانی لانے کا کہا۔

اب اس کے ہاتھ کو اپنی مضبوط ہتھیلی میں تھامتا وہ اندر لے کر گیا اور اس کا سارا چیک اپ تفصیل سے کروایا اس ڈاکٹر نے بھی اسے اچھی خوراک کا بولا تھا۔

وہ واپس لایا اور لفٹ میں کھڑا کیا اسے۔

مجھے سیڑھیوں سے جانا ہے ربائشہ نے گھبراتے کہا۔

درید یزدانی نے آئبرو اچکا کر اسے اور پھر ایک نظر اس کے پیروں کو دیکھا جو ہلکے سوجن کا شکار تھے۔

واقعی؟

اس نے تیزی سے سر ہلایا تو درید نے اسے نظر انداز کرتے گراؤنڈ فلور کا بٹن دبایا۔

ربائشہ نے اس کے ہاتھ پر گرفت سخت کی تو اس نے ربائشہ کو حصار میں لیا اور پلک جھپکتے اسے چھوڑ دیا۔

وہ پہنچ چکے تھے۔۔۔

میں یہاں انتظار کروں گی۔۔۔اس نے باسط کا نام نہیں لیا تھا لیکن درید کی سخت نگاہ پر وہ خاموش ہو گئی۔

جس بھائی کے دم پر گئی تھی۔۔۔وہ اچھی خوراک بھی فراہم نہیں کر پا رہا تمہیں ۔۔۔؟

ایسی بات نہیں ہے میرا دل نہیں کرتا وہ منمنائی۔۔۔

باسط اس کا کتنا خیال رکھتا تھا۔۔۔وہ خود ہی خود سے لاپرواہ تھی۔

اسے وہ کھانے کے لیے ریسٹورنٹ لایا اور فیملی کیبن میں بیٹھا۔۔۔

اب وہ کنفیوژ تھی اور وہ ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے اس کے چہرے کے خدوخال کو غور سے دیکھ رہا تھا۔

آپ نے اس دن کافی بدتمیزی کی تھی مجھ سے۔۔۔۔وہ کچھ یاد آتے جھٹکے سے سر اٹھا کر بولی۔

معافی منگوانا چاہتی ہو مجھ سے۔۔۔۔اس کی پوزیشن میں کوئی فرق نہ آیا تھا۔

ہاں۔۔۔۔اس کے خیال کے برعکس جواب آیا تو وہ متاثر ہوا۔

اور جو تم نے کیا اس کا کیا۔۔۔۔؟

میں نے کچھ نہیں کہا تھا سب آپ نے بولا تھا مجھے حرف بہ حرف یاد ہے۔۔۔۔

اچھا کیا تم نے میری آنکھوں میں دیکھ کر مجھ سے میری اولاد کو دور رکھنے کا دعویٰ نہیں کیا تھا وہ پل میں اسے لاجواب کر گیا۔

آپ کو معافی مانگنی چاہیے درید۔۔۔۔اس نے تنگ پڑتے کہا تو وہ خاموش ہو گیا تب تک کھانا آگیا۔

کھاؤ۔۔۔اچھے سے۔۔۔۔۔ددید نے اسے پلیٹ میں چمچ ہلاتے دیکھ سختی سے کہا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

منت مجھے بحث نہیں کرنی۔۔۔۔اس نے نظریں چراتے کہا اور فریش ہونے کے لیے واش روم چلا گیا واپس آیا تو وہ وہیں اس کے کمرے میں موجود تھی اس کے سامنے۔

تبریز شاہ کا فون بجتے ہی وہ باہر نکل گیا ۔۔۔۔

اس کے باپ کا فون تھا جسے وہ نظرانداز نہیں کر سکتا تھا۔

اس کے جانے کے بعد منت وہیں بیٹھ گئی اور اس کے بارے میں سوچنے لگی۔۔۔وہ شخص ایک پہیلی تھا کبھی بالکل اپنا سا اور کبھی بالکل انجان۔

اسے وہاں بیٹھے ناجانے کتنا وقت گزر گیا تھا۔۔۔۔لیکن وہ نہیں آیا تھا وہ بھی ضد میں کہیں نہیں گئی تھی وہ جاننا چاہتی تھی کہ وہ شخص یک دم کیوں اس سے بھاگنے لگا ہے۔

شام تک اسے گروسری مل گئی تھی۔۔۔اس نے پوری دل جمعی سے اس کا باورچی خانہ سیٹ کیا تھا ایک ایک چیز صاف کر کے جمائی تھی۔

اس کے کمرے میں آتے اس کی الماری کو بالکل صاف کیا تھا اور اب شام کی نماز ادا کرتے وہ تھک گئی تھی بہت۔۔۔

لیکن وہ شخص اب تک نہیں نکلا تھا اس کمرے سے۔۔۔۔۔اس نے اپنے اور اس کے لیے روٹی بناتے کھا لی تھی اور اس کے کمرے میں چلی گئی۔

اور ضد میں وہیں صوفے پر بیٹھ گئی۔۔۔۔وقت گزرتا چلا گیا تھا وہ نہیں آیا تھا اب وہ وہیں بیٹھے بیٹھے سو گئی تھی۔

وہ رات کے گیارہ بجے اس کمرے سے نکلا تھا۔۔۔۔گھر کی خاموشی محسوس کرتے اسے یہی لگا تھا کہ وہ چلی گئی ہے۔۔۔۔اس نے گہرا سانس بھرا اور باورچی خانے میں پانی پینے گیا کھانا کی تمنا نہیں رہی تھی اسے۔

اپنے باورچی خانے کو اس طرح اچھے سے ترتیب میں سجے پہلی بار دیکھا تھا۔

اپنے کمرے کی طرف قدم بڑھائے۔۔۔۔اسے سامنے دیکھ کر وہ وہیں رک گیا۔۔۔۔کم از کم ابھی تو وہ اس کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا ۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ناجانے اس نے ماتھے کی چوٹ پر کچھ لگایا ہو گا یا نہیں آج وہ اس کا جنون دیکھ کر حیران ہی تو رہ گئی تھی۔

ایسا تو پہلے اس نے کبھی بھی برتاؤ نہیں کیا تھا تو پھر آج کیوں۔۔۔۔۔؟شاید رباب اس کے دل میں جگہ بنا چکی تھی۔۔۔

یہی سوچتی وہ کمفرٹر پھینکتی اٹھی تھی اور فون اٹھاتی باہر نکل گئی۔

رات کے دس بجے اس نے ڈرائیور کو گاڑی نکالنے کا کہا جس نے درید سے اجازت لینے کو کہا تھا۔

میں انہیں فون پر بتادوں گی چاچا ابھی پلیز چلیں اس نے گاڑی میں بیٹھتے کہا تو ڈرائیور نے گاڑی چلائی اور اس سے اڈریس پوچھا جو دو گھنٹے کی ڈرائیو پر تھا۔

انہوں نے اسے پہنچا دیا لیکن وہ مطمئن نہیں تھے کیونکہ رات کے بارہ بجے تھے اس لیے درید کو فون کیا اور حالات بتائے۔

میری بات کروائیں چاچا رباب سے درید نے کہا تو انہوں نے فون رباب کو پکڑایا۔

جی بھائی۔۔۔۔۔مجھے آنا پڑا وہ منمنائی۔

احساس ہے تمہیں تم رات کے کس وقت باہر ہو گڑیا۔۔۔۔

بھیو میں اپنے شوہر کے گھر آئی ہوں۔۔۔

شوہر کی حرکتیں دیکھیں ہیں تم نے اپنے۔۔۔اندر جاؤ اور پھر ڈرائیور سے بات کرواؤ میری اور واپسی کا کیا کرو گی۔۔۔۔

اسے رباب کا جانا پسند نہیں آیا تھا لیکن وہ جان گیا تھا وہ شخص اس کی بہن کی بچپن کی محبت ہے اور محبتیں کہاں چھوڑی جاتی ہیں اسی لیے کچھ کہا نہیں اور ویسے بھی وہ نکاح میں تھے۔

اوکے ۔۔۔بھیو۔۔۔۔رںاب ڈرائیور کو پکڑا کر اندر چلی گئی چوکیدار نے اسے اندر بھیج دیا تو ڈرائیور نے اسے تسلی دی اور واپسی کے لیے نکل گیا۔

اس نے بیل دی اور انتطار کیا لیکن کوئی بھی نا آیا رات کے بارہ بجے کون جاگتا شاید۔۔۔۔

لیکن مسلسل بیل دینے پر دروازہ کھلا تھا۔۔۔

سامنے ربائشہ موجود تھی۔۔۔۔اس کے بھاری وجود کو دیکھتے رباب نے اس کا چہرہ دیکھا جو ہلکا گلابی سا معصومیت سے بھرپور تھا۔

اسے وہ حسین لگی۔۔۔لیکن سب یاد آتے ہی وہ کوئی تلخ جملہ بولتی کہ اسے احساس ہوا کہ وہ اس کے بھائی کی بھی اولاد ہے جو آنے والی ہے اس لیے سائیڈ سے خاموشی سے گزر گئی۔

ربائشہ حیران ہوئی تھی اس کے ایسے رات کو آنے پر لیکن یہ ان دونوں میاں بیوی کا مسئلہ تھا اس لیے اپنے کمرے میں چلی گئی دروازہ دوبارہ لاک کر کے۔

رباب اندر آئی تو وہ سویا ہوا تھا۔۔۔بنا کمفرٹر لیے اے سی کی اسپیڈ بڑھائے وہ قریب آئی تو صاحب زادے بنا زخم پر کچھ لگائے سوئے تھے۔

زخم کے اردگرد اب سوجن بھی تھی اور زخم اب نیلا پڑنے لگا تھا اس نے مٹھیاں بھینچی وہ کیوں ایسا کر رہا تھا۔