Shiddat-e-Talab by Suneha Rauf NovelR50408 Shiddat-e-Talab Episode 24
No Download Link
Rate this Novel
Shiddat-e-Talab Episode 24
Shiddat-e-Talab by Suneha Rauf
اس نے ریپورٹس اکھٹی کر لیں تھیں۔۔۔۔۔تبریز کے باپ خالد شاہنواز کا نام سرِ فہرست تھا لیکن یہ کیسے ممکن تھا اس کی ماں کا تبریز کے باپ سے کیا تعلق؟
اور دوسرا پروین حق ربائشہ کی ماں کا بھی کوئی سراغ نہ تھا۔۔۔۔اسے ڈھونڈا جا رہا تھا لیکن اب تک ناکامی ہی ملی تھی۔
اس نےربائشہ کو تو تسلی دے کر مطمئن کر دیا تھا لیکن خود وہ حد درجہ متفکر تھا حالات کو لے کر۔
کیونکہ حالات تھے کہ سنبھلنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔
سر اس عورت کی لوکیشن ہم ٹریس نہیں کر پا رہے۔۔۔۔
کیوں؟
کیا وجہ ہے ایک کام تم لوگوں سے ہو نہیں پا رہا ایک قیدی نہیں پکڑ پا رہے تم لوگ؟
سر ہمارے مطابق کوئی اس کا ساتھ دے رہا ہے اس کا بیک مظبوط ہے اسی وجہ سے وہ اب تک چھپی بیٹھی ہے۔
اسے جہاں دیکھا جائے مار دیاجائے گا یہ میرا آرڈر ہے اور دو دن ہیں تم سب کے پاس نکالو اسے۔۔۔۔
جی سر۔۔۔!
تبریز کو فون کرتے اس نے تھانے آنے کا کہا تھا اب وہ دونوں ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے تھے۔
وقار حسین کا قتل ہوا تھا۔۔۔۔
ہاں میں جانتا ہوں۔۔۔تبریز نے اسے دیکھا۔
کیا تم جانتے ہو ان کا قتل کس نے کیا تھا۔۔؟
نہیں!
میں کیسے جان سکتا ہوں؟ حالانکہ میں نے بہت کوشش کی تھی لیکن اس کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلا تھا اس لئے میں نے یہ کیس تمہیں ہینڈل کرنے کو کہا تھا۔
اور اگر میں کہوں کہ قاتل کا تم سے خاص رشتہ ہے پھر۔۔؟ درید نے اسے کریدا۔۔۔۔نہیں تو اس کے باپ کے ساتھ اس کے کیسے تعلقات تھے وہ واقف تھا۔
درید سیدھے طریقے سے بتاؤ؟
تمہارا باپ۔۔۔۔قاتل ہے وقار حسین کا۔۔۔اس نے کہا تو تبریز شاہ پر سکتہ چھا گیا۔
یہ کیسے ممکن ہے؟
تم جانتے تھے وہ رائیول تھے ایک دوسرے کے بزنس میں۔۔۔۔؟
ہاں لیکن یہ یک طرفہ دشمنی ڈیڈ کی طرف سے تھی وہ تو جانتے بھی نا تھے کہ میرا باپ ان سے نفرت کرتا ہے۔
اس کے بعد ایک اور بُری خبر تمہاری منتظر ہے۔۔۔اس نے کہا تو تبریز شاہ کا دل دھڑکا اس سے بُرا کیا ہو سکتا تھا کہ اس کا باپ قاتل نکلا تھا۔
میری ماں کو تمہارے باپ نے مارا تھا۔۔۔۔
دریددد۔۔۔۔۔
سچ کہہ رہا ہوں۔۔۔۔۔!
یہ کیسے ممکن ہے تمہاری والدہ کو کیسے جانتے تھے ڈیڈ؟
کالج کے زمانے سے۔۔۔۔۔
لیکن انہوں نے کبھی زکر نہیں کیا۔۔۔تبریز حد درجہ الجھ گیا تھا ان سب میں لیکن یہ کڑیاں درید سلجھا چکا تھا جس نے دن رات لگائے تھے ان کیسز پر۔
میری ماں کو تمہارا باپ پسند کرتا تھا لیکن بابا تمہارے ڈیڈ کی نیت کے بارے میں جان گئے تھے اس لیے انہوں نے میری ماما سے نکاح کیا۔
تمہارے باپ کو یہ ہار برداشت نہ ہوئی۔۔۔۔انہوں نے کئی بار میری ماں کو دھمکایا کہ وہ بابا سے الگ ہو کر ان سے شادی کر لیں کیونکہ تمہارے ڈیڈ نہیں جانتے تھے کہ میرے بابا ان کے بارے میں جان گئے تھے۔
میری ماں نہیں مانی اور ایک دن جب تمہارا باپ میرے باپ سے ملنے کے بہانے یا یہ جانتے ہوئے کہ وہ کیس کے سلسلے میں یہاں نہیں۔۔۔
وہ آئے اور انہوں نے میری ماں کو اپنی۔۔۔۔۔وہ کہہ نا سکا لیکن تبریز شاہ سمجھ گیا تھا۔
سب کو لگا کہ میری ماں نے خود کشی کی ہے لیکن یہ غلط ہے وہ وہاں سے نکلنا چاہتی تھی میرے بابا کو فون کر دیا تھا جب تمہارے ڈیڈ نے ان پر حملہ کیا۔
حملے کا مقصد انہیں فون سے ہٹانا تھا لیکن حملہ شدید تھا اسلیے وہ سروائیو نا کر پائیں۔۔۔درید کی آواز ہلکی ہوئی تو تبریز شاہ نے سرخ ہوتی نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا۔
اس کا باپ۔۔۔۔سوتیلا ہی سہی لیکن اسے کتنا شرمندہ کر گیا تھا۔۔۔۔۔وہ کیسے اب منت اور درید سے نظر ملا پاتا۔
اور منت کے ڈیڈ؟
تمہارا باپ کب سے جانتا ہے کہ منت تمہارے نکاح میں ہے ایک اور دھماکا۔۔۔
نہیں!
ہاں۔۔۔!
اب سے نہیں تب سے جب سے وہ تمہارے ساتھ رہ رہی ہے۔۔۔
تبریز شاہ کا وجود زلزلوں کی ضد میں تھا وہ اتنا بے خبر رہا تھا۔۔۔۔
وہ کالج کے زمانے سے تمہاری مخبری کرواتے آ رہے ہیں وہ خوش تھے جب تم نے منت کو ٹریپ کرنا شروع کیا تھا لیکن اس کے بعد کے جو بھی حالات ہوئے تھے انہیں اندازہ ہو گیا تھا۔
کیا عمر کا ساتھ اور تالیہ کو بھی انہوں نے چھپا رکھا تھا؟
یہ میں کسی وسوخ سے نہیں کہہ سکتا لیکن ہو سکتا ہے۔
اب آگے کیا کرنا ہے۔۔۔
مجھے کچھ وقت دو۔۔۔میں کچھ کرتا ہوں۔۔۔تبریز نے کہتے اسے دیکھا جو خود بھی متفکر نظر آتا تھا۔
سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔۔درید نے اسے تسلی دی۔
وہ جانتا تھا وہ تبریز شاہ ہے بیشک کچھ حقائق سے وہ انجان تھا لیکن اب مزید نہیں۔
میں چاہتا ہوں ابھی ڈیڈ کو یہ بھنک نہ لگے کہ ہمیں سب پتا چل گیا ہے ۔۔
لیکن وہ کبھی بھی تمہیں اور منت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں وہ۔۔۔۔۔ددید نے کہا۔
میں دھیان رکھوں گا۔۔۔۔۔اس نے کہا تو درید نے سر ہلایا تو خاموشی چھا گئی۔
سالے ویسے برا دوست بنتا ہے میرا بیٹا تک دیکھنے نہیں آیا تُو؟ درید نے ماحول کو ہشاش بشاش کرنا چاہا۔
مت بھول ہسپتال موجود تھا میں۔۔۔تبریز نے اسے گھورا۔
برا احسان عظیم کیا تو نے مجھ پر۔۔۔۔اور منت کو کب لائے گا ربائشہ سے ملوانے۔۔
بھابھی بول۔۔۔!
تبریز شاہ نے کہا تو درید کا قہقہہ گونجا۔۔۔
اپنی چھوٹی بہنوں کے نام ہی لیتا ہوں میں۔۔۔درید نے کہتے اسے چھیڑا تو وہ مسکرا دیا۔
جلد ہی ملاقات ہو گی۔۔۔۔جب ہم دونوں سب سیٹل کر چکے ہوں گے تبریز نے کہا تو درید نے اسے گلے لگایا۔
اور باسط کے ساتھ منہ سیدھا کر بہت ہو گیا تیرا ۔۔۔۔
تو اس معاملے میں مت بول۔۔۔تجھے نہیں پتا۔۔
سب معلوم ہے مجھے۔۔۔اور جو کہہ رہا ہوں وہ کر۔۔۔۔تبریز نے سنجیدگی سے کہا تو درید نے سر ہلایا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج درید سے میٹنگ کے بعد وہ الجھ گیا تھا۔۔۔پریشان تھا بے حد اور اوپر سے شاہنواز کی کال۔
تیار کیوں ہوئی ہو؟ کچھ لمحوں تک خود پر قابو پانے کے بعد استسفار کیا گیا۔
میں نے سوچا تھا ہم باہر جائیں گے مجھے کچھ چیزیں بھی چاہیے تھیں۔
کیا چاہیئے تھا۔۔۔میرا کارڈ ہوتا تو ہے تمہارے پاس منگوا لیتی۔۔۔اور جو۔۔۔
ہاں ہاں۔۔۔مجھے یاد ہے ابھی کچھ دنوں پہلے ہی میں نے لاکھوں اڑایا ہے آپ کا۔۔۔
ہاہاہا۔۔۔یہ میں نہیں کہنے والا تھا۔۔
لیکن ہم باہر پھر کبھی جائیں گے ابھی کھانا لگاو اور مووی دیکھتے ہیں۔۔۔اس کا موڈ باہر جانے والا نہیں تھا وہ بھی سمجھ گئی تھی۔
لیکن میری اتنی تیاری کا کیا؟
پہلے بھی تم نے مجھے دکھانی تھی اب بھی۔۔۔۔اور زرا کھانا کھا لوں پھر فرصت سے آپ کے حسن کو سراہیں گے۔۔
افففف۔۔۔۔۔شاہ۔۔۔منت نے دھکتے گالوں سے کہا تو وہ اس کے گالوں پر جھکا۔
بالکل نہیں!
آپ نے میرے گالوں کو کاٹن کینڈی سمجھ لیا ہے ہر بار کھانے لگ جاتے ہیں وہ ہاتھ رکھتی بولی تو وہ سنجیدہ ہوا۔۔۔ آنکھیں شرارت سے بھری تھی جو وہ دیکھ نا سکی۔
اس کو سنجیدہ ہوتے دیکھ فوراً سے ہاتھ ہٹائے اور ایڑھیاں اوپر کرتے اپنا گال اس کے سامنے کیا۔
اب مجھے یہ کاٹن کینڈی نہیں چاہیے۔۔۔۔اس نے کہتے اس کے بال گردن سے ہٹائے تو منت نے تھوک نگلا۔
پھر کیا چاہیئے؟
تبریز شاہ نے جھک کر اس کی گردن پر اپنی ناک سہلائی اور گہرا سانس بھرتے پیچھے ہٹا۔۔۔
وہ اس لمحے سب بھول گیا تھا، اس کی منت سے بے پناہ محبت کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس کے قریب رہتے وہ ہر فکر سے آزاد رہتا تھا۔
تمہاری خوشبو۔۔۔۔
اچھی نہیں ہے۔۔۔میں نے ابھی لگائی ہی نہیں لگا کر آتی ہوں۔۔۔وہ جلدی سے بولی۔
تمہاری یہی خوشبو مجھے پسند ہے۔۔۔وہ کہتا اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا تو وہ مسکرائی۔
پریشان ہیں؟
ہاں تھوڑا سا۔۔۔۔
کیوں۔۔۔؟
تمہیں بہت کچھ جاننا ہے منت۔۔۔لیکن میں چاہتا ہوں تم جب ان چیزوں کا سامنا کرو تو یاد رکھو تبریز شاہ کو تم سے محبت ہے بے پناہ محبت۔۔۔میں نے اگر وہ سب تمہیں نہیں بتایا تو اس کے پیچھے کوئی وجہ ضرور رہی ہو گی۔
آپ کو مجھ سے سچ میں محبت ہے؟ وہ باقی سب فراموش کر گئی تھی شاید اس نے سنا بھی نہیں تھا باقی سب۔
تمہیں کیا لگتا ہے؟ ہر بار کا جملہ دہرایا گیا۔
اففف۔۔۔شاہ پلیز۔۔۔بتائیں تو؟
تم پاگل ہو کیا تمہیں یہ سب بتانا پڑے گا؟؟ اور مجھے نہیں لگتا تم اتنے عرصے میں جان نہیں پائی کہ تبریز شاہ تم پر جان کیون دیتا ہے۔۔۔۔وہ اسے گھورنے لگا جو انجان بن رہی تھی۔
اوکے اوکے! اتنا غصہ کیوں کر رہے ہیں۔۔۔۔میں تو آپ کو پہلے ہی کہتی تھی۔۔۔۔
کھانا لاؤں؟
بالکل! وہ جانے لگی تو تبریز شاہ نے اسے کھنچتے واپس اپنے سامنے کیا۔
کوئی بھی حالات ہوں تم مجھ پر یقین رکھو گی سمجھ رہی ہو؟
“تمہاری آنکھوں میں مجھے خود کے لیے اتنی سی بھی بے اعتباری دکھی تو جان سے مار دوں گا تمہیں اور میں سنجیدہ ہوں بے حد۔۔۔”
منت نے تیزی سے سر ہاں میں ہلایا تو تبریز شاہ نے اس کے ماتھے کو چومتے اسے چھوڑا۔
سڑو۔۔۔۔وہ کہتی بھاگ گئی تو وہ بھی نفی میں سر ہلاتے واش روم میں فریش ہونے چلا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح وہ اٹھی اور فوراً اس کے لیے کھانا تیار کرنے لگی۔۔۔۔طبیعت اسے اپنی پھر سے عجیب سی محسوس ہوئی لیکن اس نے زیادہ دھیان نہ دیا۔
باسط بھی تیار ہو کر ناشتے کے لیے آیا۔۔۔اسکے ماتھے پر ہاتھ رکھا بخار نہیں تھا اس لیے مطمئن ہوتا بیٹھ گیا۔
آج کیا بناؤں؟ رباب نے اپنے ہلکے چکراتے سر کو سنبھالتے پوچھا۔
کچھ بھی بنا لینا۔۔۔ہلکا سا۔۔۔کھچری بنا لینا تمہارا بخار ابھی اترا ہے میں بھی وہی کھا لوں گا اس نے کہا تو اس نے سر ہلایا۔
چائے؟
ہمم۔۔۔
باسط ناشتے کے بعد چائے پیتا تھا اس لیے وہ اٹھی اور لڑکھڑاتی لیکن باسط نے اسے گھور کر دیکھا۔
رباب نے اسے حیرانی سے دیکھا جسے اس کی مدد کرنی چاہیے تھی لیکن وہ اسے گھور رہا تھا۔
میں تمہاری ڈرامے بازی جانتا ہوں رباب۔۔کل بھی تم نے ایسا میری توجہ کے لیے کیا تھا لیکن اس وقت مجھے آفس جانا ہے وہ مصروف سے انداز میں بولا۔
رباب کو بُرا لگا لیکن نظرانداز کر گئی کہ اس وقت اس کا چکراتا سر کچھ بھی اسے کرنے نا دے رہا تھا۔
وہ چائے ڈال کر واپس لائی اور اپنے ٹوسٹ پر بٹر لگاتے کھانے لگی لیکن یک دم متلی آنے پر واش روم میں بھاگی۔
اب کی بار باسط بھی پریشان ہوتا اس کے پیچھے گیا تھا۔
کیا ہوا؟
بس دل خراب ہو گیا تھا اچانک۔۔۔۔
تو نہیں کھاؤ نا بٹر۔۔۔کچھ اور لکھا لو۔۔۔باسط نے اس کے ہاتھ کو تھاما اور واپس لا کر بٹھایا۔
آج آپ چھٹی کر لیں۔۔۔۔
رباب کل بھی نہیں گیا تھا۔۔۔تمہیں میں دوا دے دیتا ہوں آرام کرو۔۔۔
اور اگر طبیعت زیادہ خراب ہو گئی تو؟ رباب کو سب عجیب سا لگ رہا تھا۔
تو مجھے فون کر دینا میں فوراً آجاؤں گا۔۔۔اس نے کہا تو رباب نے حامی بھری۔
مجھے بھیو کے گھر بھی جانا ہے۔۔۔اس نے کہا تو باسط نے گہری سانس بھری۔
ابھی طبیعت تمہاری بہتر ہو جائے میں چھوڑ آؤں گا ابھی جاؤ اندر۔۔۔۔تو رباب سر ہلاتی نکل گئی۔
باسط وہیں بیٹھا سوچتا رہا۔۔۔آج واپسی پر وہ اسے ہسپتال ضرور چیک کروانے کا سوچ رہا تھا۔
وہ اسے ایک نظر دیکھ کر نکل گیا۔۔۔۔
رباب نے سونے کی کوشش کی جو بیکار گئی۔۔۔دو بار مزید اسے متلی ہوئی تھی لیکن اس نے باسط کو فون نہیں کیا تھا۔
اسے شدید بھوک لگی تھی لیکن کچھ بھی اس کے حلق سے نیچے نہیں اتر رہا تھا۔۔۔وہ اپنی حالت کچھ سمجھ رہی تھی۔
آہ۔۔۔۔۔۔اس نے ہانپتے اپنی جگہ پر بیٹھتے ربائشہ کا نمبر ملایا جو اٹھا لیا گیا تھا۔
بھابھی۔؟ کیسی ہیں؟ اس کی آواز دھیمی تھی۔
میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔تم کیسی ہو۔۔۔۔؟
میں بس ٹھیک ہوں۔۔۔شاید۔۔۔
حازق کیسا ہے؟
ٹھیک ہے سویا ہے۔۔۔تم آئی نہیں اپنی پھپھو کا انتظار کر رہا تھا وہ۔۔۔دبائشہ سب بھول گئی تھی۔۔۔وہ رشتوں میں ناراضگیوں کے حق میں نا تھی اور اس کا سننے کے بعد تو بالکل نہیں اگر وہ مجرم نہ تھی تو قصور وار رباب بھی نہ تھی شاید اگر رباب کی جگہ وہ ہوتی تو وہ بھی اپنے بھائی پر ہی یقین رکھتی۔۔۔ان دونوں بہن بھائیوں کی یہی محبت بھرا انداز تو اسے پسند تھا کیونکہ باسط بھی اسکا ایسے ہی دھیان دکھتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
درید گھر گیا تو حازق سو رہا تھا اور ربائشہ کمرے میں نا تھی۔۔۔
ربائشہ۔۔۔۔
ربائشہ۔۔۔۔۔
کیا ہو گیا ہے درید۔۔۔۔آہستہ بولیں اتنی مشکل سے سویا ہے وہ۔۔۔۔
کہاں تھی؟
کھانا دیکھنے گئی تھی بنا ہے یا نہیں؟ آپ کے آنے کا وقت ہو گیا تھا۔۔۔
تو میرے آنے پر آپ مجھے میرے لیے کھانا لینے نہیں میرے سامنے ملیں آئیندہ سے وہ سنجیدگی سے بولا اور واش روم میں بند ہو گیا۔
ربائشہ نے اس کا سنجیدہ انداز دیکھا اور اس کے کپڑے نکالنے لگی۔۔۔۔
کھانا کھاتے بھی وہ خاموش رہا تھا۔۔۔۔ربائشہ نے اسے چھیڑا نہیں۔
اور پھر جب وہ جا کر لیٹ گیا تو ربائشہ اسے دیکھتی وہیں کاؤچ پر بیٹھ کر رسالہ اٹھا گئی۔
سونا نہیں ہے؟
نہیں ابھی نیند نہیں آئی۔۔۔۔
لیٹو آ کر فوراً ۔۔۔۔۔آج اس کے ہر لفظ میں ہی سنجیدگی تھی۔
وہ فوراً آ گئی۔۔۔اس وقت وہ اسے غصہ نہیں دلانا چاہتی تھی۔۔۔۔
کیا ہوا ہے؟ کچھ پل کی خاموشی کے بعد ربائشہ نے پوچھا۔
کچھ نہیں! درید نے کہتے دوسری طرف رخ کر لیا تو ربائشہ سمجھ گئی کہ وہ کچھ پریشان ہے۔
اٹھ کر بستر سے اس نے اس کی طرف جانے کا سوچا۔
ایک بار کی بات تمہیں سمجھ نہیں آ رہی میں کہہ رہا ہوں سو جاؤ۔۔۔۔حازق کو بھی ڈسٹرب کر رہی ہو۔۔۔
آپ کا بیٹا نہیں لیکن آپ ضرور ڈسٹرب ہیں۔۔۔۔۔ ربائشہ اس کی طرف آ کر اس کے پاس لیٹتے اسے دیکھتے بولی۔
ربائشہ ابھی میرا بات کرنے کو بالکل دل نہیں ہے۔۔۔۔
میں نے تو نہیں کہا کوئی بات کریں مجھ سے۔۔۔دوبدو جواب آیا۔
تو یہاں کیا لینے آئی ہو؟
میرا بیڈ ہے مجھے یہیں سونا ہے اس نے کہا تو درید نے سخت نگاہوں سے اسے گھورا لیکن وہ آنکھیں موند گئی۔
کل آپ اور حازق یہاں سے چلے جائیں گے۔۔۔۔۔کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد وہ بولا تو اس نے حیران ہوتے آنکھیں کھولیں۔
کیوں؟
کیونکہ میں کہہ رہا ہوں۔۔۔۔
لیکن کہاں؟
رباب اور باسط کے پاس یا تبریز اور منت کے پاس۔۔۔۔اس نے کہا۔
آپ ساتھ جائیں گے؟
واٹ آ سِلی کوسچن ربائشہ درید۔۔۔۔میں آغاز میں ہی واضح کر چکا ہوں کہ آپ اور حازق۔
میں نہیں جاؤں گی نا میرا بیٹا۔
مجھے اس بات پر کوئی بحث نہیں چاہیے۔۔۔۔کل میں تھانے جب چلا جاؤں اس کے بعد ڈرائیور اتار آئے گا ذپث کو بھی۔
میں بتا چکی ہوں آپ کو درید میں یا میرا بیٹا اس گھر سے نہیں جائیں گے۔
اس کا فیصلہ صرف میں کروں گا۔۔۔سرد انداز تھا۔
مجھے وجہ بتائیں۔
“وقت آنے پر بتادوں گا اور یہ آپ لوگوں کی حفاظت کے لیے کر رہا ہوں میں یہ بات یاد رکھیں۔”
لیکن ہم اپنے گھر کے علاؤہ کہیں بھی سیو نہیں ہیں آپ سے دور۔۔۔۔ربائشہ اپنی ضد پر اڑی تھی۔
سو جاؤ۔۔۔۔
اور یاد رکھنا تم دونوں کو کچھ ہوا تو میں تمہیں چھوڑوں گا نہیں درید نے اسے ساتھ لگاتے اس کے بالوں میں چہرہ چھپاتے کہا۔
پر۔۔۔۔
ششش۔۔۔۔۔آواز نہ آئے مجھے تمہاری۔
وہ جو تھکا تھا سو گیا تھا لیکن ربائشہ کتنی ہی دیر اٹھی رہی تھی۔۔۔۔انہیں خطرہ تھا لیکن کس سے؟ اس کی ماں اتنی سکیورٹی میں کیسے آ جاتی۔۔۔۔کیا درید کو کسی اور سے خطرہ تھا؟ اگر ایسا تھا تو وہ اسے چھوڑ کر نہیں جائے گی۔۔۔اس نے فیصلہ کیا جو اس کی زندگی پر بھاری پڑنے والا تھا یقیناً۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سو گیا تو منت کئی لمحے اسے دیکھتی رہی۔۔۔وہ اس کے ساتھ خوش تھی بے حد خوش۔
تو مان لیا آپ نے آپ کو مجھ سے محبت ہے۔۔لیکن۔۔وہ سب کیوں کہا؟
کیا کچھ ایسا ہے جو میرا جاننا ضروری ہے اور آپ نے مجھے اب تک نہیں بتایا وہ سوچنے لگی اور سوچتے سوچتے اس پر نیند مہربان ہو گئی۔
صبح معمول کے مطابق تھی۔۔۔۔تبریز کو ناشتہ دے کر وہ اندر گئی جہاں سائیڈ میز پر پڑا اس کا فون بج رہا تھا۔
اُفف صبح صبح کس کو مصیبت پر گئی ہے۔
ہیلو!
منت تبریز شاہ؟
جی! آپ کون؟
عمر۔۔۔بات کر رہا ہوں۔
کون عمر۔۔؟
آپ کے ساتھ یونیورسٹی میں پڑھا کرتا تھا یاد ہے جسے تبریز شاہ نے آپ کی بنی اسائنمنٹ بھی دے دی تھی۔
اوو۔۔۔جی مجھے یاد ہے۔۔۔آپ کیسے ہیں؟ اور کیسے فون کیا؟ کیا آپ کے پاس شاہ کا نمبر نہیں؟ وہ کنفیوژ ہوتی ایک ساتھ سارے سوال کر گئی۔
تم شاہ کی بیوی ہو؟ مخالف کا انداز بدلا تھا۔
جی!
تم خوش ہو اس کے ساتھ؟
یہ کیسا سوال ہے؟ اور آپ کو میرا نمبر کہاں سے ملا؟ اب اسے غصہ آیا تھا،بنا جان پہچان کے وہ شخص عجیب گفتگو کر رہا تھا۔
جو پوچھا ہے وہ بتاؤ۔۔۔
آپ کا دماغ خراب ہے فون رکھ رہی ہوں میں۔۔۔
تمہارے شوہر پر ایک زندگی کا قرض ہے کیسے اتاروں گی۔۔۔
کیا مطلب ہے اس بات کا؟
تمہارے شوہر نے میری بہن کو دھوکا دیا تھا آج سے کئی سال پہلے اور۔۔
کیا بکواس ہے یہ؟
بکواس یہ نہیں ہے بکواس وہ سب ہے جو تمہارا شوہر تمہیں آج تک کہتا آیا ہے وہ شاید تمہیں بھی استعمال کر رہا ہے۔۔۔۔۔
میری بہن تالیہ۔۔۔۔اس کی زندگی تبریز شاہ نے خراب کر دی۔۔۔اس کی عزت سے کھیلا تھا تمہارا شوہر۔۔۔۔
شٹ اپپپ۔۔! وہ چیخی تو تبریز شاہ اس کی بات سنتا اندر آیا۔
تم بھی خوش نہیں رہو گی۔۔۔۔تم سے بدلا لیا جائے گا تمہارے شوہر کے اس عمل کا۔۔۔میں اتنی طاقت نہیں رکھتا تھا اور نا ہوں کہ تمہارے شوہر کو کوٹ میں گھسیٹو لیکن رب کی زات بہت اونچی ہے۔۔۔
دیکھیں آپ جو کوئی بھی ہیں آپ ایسے میرے شوہر پر الزام نہیں لگا۔۔۔۔۔۔
تبریز شاہ نے اس سے فون کھینچنا چاہا تو وہ پیچھے ہوئی۔
ٹھیک ہے نہیں یقین تو کچھ بھیج رہا ہوں دیکھ لو۔۔۔اور اپنے شوہر کو بتا دینا انصاف ضرور ہو گا۔
اس نے فون کاٹتے تبریز شاہ کو دیکھے بغیر اپنا فون کنگھالا۔
کون تھا۔۔؟
جواب نداد!
تم سے پوچھ رہا ہوں میں منت۔۔۔۔وہ جان گیا تھا کہ دوسری طرف کون تھا۔۔۔تو وقت آ گیا تھا۔
فون پر بیل بجتے ہی اس نے واٹس ایپ کھولا وہاں ایک پورا ڈاکیومنٹ تھا اور جیسے وہ اسے کھول کر دیکھتی اور پڑھتی گئی وہ ساکت رہ گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں نے باسط کو کہا تھا وہ کہہ رہے تھے چھوڑ جاؤں گا وہ کہہ کر خاموش ہوگئی۔
رباب۔۔۔۔
ہممم۔۔۔
کیا ہوا ہے؟ طبیعت ٹھیک ہے اس کی دھیمی آواز پر دبائشہ کو فکر لاحق ہوئی۔
بھابھی جب آپ کو پتا چلا تھا کہ رب العالمین آپ کو حازق سے نوازنے والے ہیں تو آپ کو کیسا محسوس ہوتا تھا۔
ربائشہ نے گہری سانس بھری۔۔۔۔وہ تو اس کی زندگی کے مشکل ترین دن تھے۔
مشکل دن تھے بہت۔۔۔تم کیوں پوچھ رہی ہو۔۔۔؟
بھابھی مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی۔۔۔وہ نم آواز میں بولی۔
کیوں کیا ہوا۔۔۔؟ کیا تم۔۔۔؟ ربائشہ نے پوچھا۔۔۔۔
مجھے کچھ اچھا محسوس نہیں ہو دہا۔۔۔۔میرا سر گھوم رہا ہے۔۔۔۔ابھی وہ کچھ اور کہتی کے حازق کے رونے کی آواز آنے لگی۔
بھابھی آپ دیکھ لیں حازق کو۔۔۔۔میں بعد میں بات۔۔۔
نہیں تم بتاؤ۔۔۔طبیعت نہیں ٹھیک تو بتاؤ۔۔۔۔باسط کہاں ہے اسے بلواؤ۔۔۔۔
میں بلاتی ہوں انہیں ۔۔۔آپ سے بات ہوتی ہے بعد میں۔
اوکے۔۔۔۔کوئی پریشانی ہو تو مجھے فون کرنا۔۔۔۔بلکہ میں حازق کو سلا کر فون کرتی ہوں۔
اوکے۔۔! رباب نے فون رکھا اور وہیں لیٹ کر گہرے سانس لینے لگی۔
ابھی وہ باہر جانے کا سوچتی کے فون بجنے لگا تو وہ متوجہ ہوئی باسط کا فون تھا اس کی آنکھیں نم ہوئیں۔
کب سے فون کر رہا ہوں مسلسل مصروف جا رہا ہے۔۔۔کہاں تھی؟ طبیعت کیسی ہے اب؟ وہ بے در پے سوال پوچھنے لگا۔
ربائشہ بھابھی سے بات کر رہی تھی۔۔۔۔اور طبیعت اب بہتر ہے۔۔۔
اوکے! صرف فروٹس کھاؤ۔۔۔کچھ ہیوی نا کھانا اور دوا لی ہے ابھی وہ بات کر رہا تھا کہ رباب فون پھینکتی واپس واش روم میں گئی۔
رباب!
رباب!
اس نے فون کاٹا۔۔۔۔۔اور انتظار کرنے لگا۔۔۔۔اسے گھر جانا تھا۔
وہ تیزی سے ڈرائیو کرتا واپس آیا اور دروازہ بند کرتا تیزی سے اندر گیا جہاں وہ واش روم کے باہر پڑے کاؤچ پر بے حال پڑی تھی۔
گہری سانسیں لیتی۔۔۔۔۔پسینے سے تر وہ ہانپ رہی تھی۔
باسط تیزی سے اس کے پاس آیا اور اس کا چہرہ تھپتھپا کر اسے بٹھاتے اپنے ساتھ لگایا۔
چلو چلیں ہسپتال۔۔۔۔
باسطط۔۔۔۔
کیاہوا ہے؟ کیسا محسوس کر رہی ہو۔۔۔۔؟
اسے بخار تو بالکل نہیں تھا شاید اس نے کچھ بُرا کھایا تھا جو یوں اسے متلی ہو رہی تھی باسط کے حساب سے۔
میرا سر۔۔۔اس نے سر پکڑتے کہا تو باسط نے فوراً الماری سے اس کی چادر نکالی اور پھر اسے گود میں اٹھاتے باہر گاڑی تک لایا اور گیٹ لاک کرتے ہسپتال کو نکلا۔
