Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shiddat-e-Talab Episode 18 (Part 1)

Shiddat-e-Talab by Suneha Rauf

صبح کے چھ بجے اس کی آنکھ کھلی تھی وہ اس کے نزدیک اسی کے حصار میں سوئی تھی۔

وہ کئی لمحے اسے دیکھتا رہا۔۔۔۔۔۔اس کے بالوں کے قریب ہو کر گہری سانس بھری۔۔۔۔۔

پھر اپنا چہرہ اس کے چہرے کے ساتھ رب کرتے اسے جگانہ چاہا۔

منت اٹھو۔۔۔۔۔۔

ام ہممم۔۔۔ابھی مجھے اور سونا ہے وہ کہتی اس کے حصار میں کروٹ بدل گئی۔

اٹھو ناشتہ بناؤ مجھے بھوک لگی ہے۔۔۔

روز آپ خود بناتے ہیں آج بھی بنا لیں ۔۔۔۔میرا بھی بنا لیں میں اٹھ کر کھا لوں گی۔۔۔۔وہ نیند میں اسے حل بتا رہی تھی۔

روز خود بناتا ہوں۔۔۔آج بیوی موجود ہے آج بھی خود بناؤ تو کیا فائیدہ تمہارا یہاں آنے کا اٹھو فوراً۔۔۔۔

لیکن اس کی طرف سے اب کوئی جواب نہ آیا تھا۔۔۔تبریز شاہ اٹھا اور ہلکی مسکراہٹ سے اسے دیکھا۔

واش روم سے فریش ہو کر آتے اس کے ہاتھ میں پانی کا جگ تھا۔۔۔۔اس کے پاس جاتے اس نے جھٹکے سے اس پر انڈیلا تھا۔

اف۔۔۔۔خدا۔۔۔۔۔کیا مصیبت آ گئی ہے۔۔۔۔؟

وہ اٹھی اور سامنے دیکھا جہاں وہ خالی جگ پکڑے اسے دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔

یہ پہلا منظر تھا جب اس نے تبریز شاہ کو ایسا کچھ کرتے دیکھا تھا۔۔۔نہیں تو وہ خاصہ سنجیدہ انسان تھا۔

شاہوووووو۔۔۔۔۔

اس نے اٹھ کر اس کے پیچھے جانا چاہا لیکن وہ تیزی سے بھاگ گیا تھا۔

وہ بعد میں اس سے بدلہ لینے کا سوچتی اسی کے کپڑے کبرڈ سے نکال کر واش روم میں بند ہو گئی۔۔۔

ہممم۔۔۔۔تیاریاں مکمل ہیں؟

جی سر۔۔۔۔سب تیاریاں ہو گئیں ہیں ۔۔۔۔۔آپ کا سوٹ کہاں پہنچانا ہے۔۔۔۔؟اور سر کتنے میڈیا ریپورٹرز کو مدعو کرنا ہے؟

نہیں گھر ہی پہنچاؤ اور صرف پانچ لوگ میڈیا کے اس سے زیادہ وہاں ایک بھی شخص نہ ہو۔۔۔اور شام سات سے پہلے کوئی بھی چینل یہ خبر نشر نہیں کرے گا۔۔۔

کون سی خبر شاہ۔۔۔۔۔منت نے اس کے سامنے آتے پوچھا؟

وہ اسے پھر سے اپنے لباس میں بالکل فریش دیکھ کر دل تھام گیا تھا۔

ہاں ٹھیک ہے اوکے۔۔۔۔اس نے بات سمیٹ کر فون کاٹا۔۔۔۔

بزنس کے متعلق ہے ۔۔۔۔۔اور یہ میرے کپڑے تم کیوں چرا رہی ہو؟ کیا مجھ سے اجازت لی ہے وہ مصنوعی غصے سے بولا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ربائشہ کو واقع بھوک معلوم ہوئی تو ناشتہ بنانے چلی گئی۔۔۔

رباب اندر داخل ہوئی تو ربائشہ پہلے ہی ناشتہ بنا رہی تھی۔۔۔

تھوڑی سے جگہ چاہیے مجھے ۔۔۔۔ناشتہ بنانا ہے مجھے باسط کے لیے۔۔۔۔رباب نے اسے دیکھتے تحمل سے کہا۔

ناشتہ میں بنا چکی ہوں رباب۔۔۔ربائشہ دھیمے سے بولی۔۔۔

آپ کو نہیں لگتا آپ کی وجہ سے سب ہو رہا ہے اور ہوا ہے۔۔۔۔رباب نے اسے خاموشی دیکھتے کہا۔

ربائشہ جو وہیں بیٹھے ناشتہ کرنے لگی تھی چونکی۔۔۔

کیا ہوا ہے میری وجہ سے۔۔۔۔۔وہ چونکی کیا اس کی وجہ سے بھی کسی کی زندگی میں کچھ ہو سکتا ہے۔

آپ کی وجہ سے باسط نے میرے ساتھ ایسا کیا۔۔۔۔آپ نے جھوٹے الزامات لگائے میری بھائی پر کہ انہوں نے آپ کے ساتھ۔۔۔۔

کبھی اپنے بھائی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھنا کہ ربائشہ حق جھوٹ بولتی ہے یا نہیں۔۔۔۔ربائشہ نے کہا اور جانے لگی۔

آپ ابھی بھی ہماری زندگیوں میں سکون نہیں آنے دے رہیں ۔۔۔۔جب بھائی آپ کو پاس بلانا چاہ رہے ہیں تو کس بات کے اتنے ڈرامے ہیں ۔۔۔۔کون سے خواب سجائے بیٹھی ہیں آپ۔۔۔۔۔بس کریں اب یہ ناٹک اور بھائی کے پاس جائیں ۔۔۔۔آپ نے دو میاں بیوی کو لڑوایا اور اب تنازعہ کھڑا کر رہی ہیں دو دوستوں کے درمیان آپ کو سچ میں شرم نہیں آتی۔۔۔۔۔وہ بولنے پر آئی تو بولتی چلی گئی۔۔۔

ربائشہ نے نم آنکھوں سے اسے دیکھا۔۔۔۔اسے تو لگتا تھا وکٹم وہ ہے۔۔۔جس کے ساتھ سب ہوا لیکن سامنے کھڑا وجود اسے الزام دے رہا تھا ہر چیز کا۔۔۔۔

اس کی آنکھوں سے بھل بھل آنسو بہنے لگے تو رباب نے کروفر سے اپنا دھیان ہٹایا دل میں کہیں برا بھی لگا تھا۔

ربائشہ اپنے کمرے میں بھاگ گئی اور جا کر دروازہ بند کر لیا۔۔۔بھوک سے ہچکی لگ گئی تھی لیکن اس کی باتیں برے طریقے سے اس کے دل پر لگی تھیں۔

اس نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ وکٹم ہو کر اسے قصوروار سمجھا جائے گا اور کوئی اس سے نفرت کرے گا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دوپہر کو فارغ ہو کر اس نے ربائشہ کو نمبر ملایا تھا۔۔۔۔۔اس کے نمبر سے پہلے بھی مس کالڈ آئی تھی۔۔۔۔۔

اس نے تیزی سے وہاں سے نکلتے اس کا فون ملایا جو دسویں بیل کے بعد بھی بند جا رہا تھا۔۔۔۔

درید نے رباب کا نمبر ملایا اس نے بھی نہیں اٹھایا تھا۔۔۔۔اس نے گاڑی کی اسپیڈ مزید تیز کی تھی۔۔۔

درید نے ربائشہ کو یہ بتانے کے لیے فون ملایا تھا کہ شاید وہ کچھ لیٹ ہو جائے اسے دوسری میٹنگ پر بھی جانا تھا۔

لیکن اب وہ بنا کسی کو انفارم کیے وہاں سے نکلا تھا۔۔۔۔ہمیشہ کی طرح اس کی طرف جانے والے دو گھنٹے کی ڈرائیو کو اس نے تیزی سے کاٹنا چاہا تھا۔

ربائشہ بنا ناشتہ کیے اپنے کمرے میں بند ہو گئی۔۔۔۔۔

رباب کی باتیں یاد کرتے اس کے آنسو قطار کی صورت میں آنکھوں سے نکل رہے تھے۔

اب اس کا سانس بھاری ہو رہا تھا۔۔۔۔اس نے اٹھ کر کھڑکی کھولی اور وہاں کھڑی ہو گئی لیکن طبیعت اب بھی بہتر نہ ہوئی تھی۔

اس نے گہرا سانس بھرتے خود کو نارمل کرنا چاہا اور درید کا نمبر ملایا لیکن اس نے فون نہیں اٹھایا تھا۔

اس نے دوا نکالی اور ناشتے کے بغیر وہ دوا لے لی جس سے کچھ پل اسے راحت کے ملے تھے۔

لیکن اس کے بعد اس کا پورا وجود پسینے سے بھر گیا۔۔۔۔۔۔۔اس نے رباب کو آواز دینے کا سوچا بھی نہیں تھا۔۔۔

اگر اس وقت اس کے دماغ میں کسے شخص کو پاس دیکھنے کی چاہ تھی تو وہ تھا درید یزدانی۔

ایک اور بار بیل کرتے اس نے کوشش کی اور دوسری طرف فون اٹھا لیا گیا تھا۔۔۔

ربائشہ کی کال آتے دیکھ اس نے تیزی سے فون اٹھایا تھا اور گاڑی سائیڈ پر لگائی تھی کہ ہائی وے پر تھا وہ۔

رابی۔۔۔۔کیا ہوا ہے۔۔۔۔فون کیوں نہیں اٹھا رہی۔۔۔

در۔۔۔درید۔۔۔۔میں۔۔۔۔

بولو۔۔۔۔۔کیا ہوا ہے۔۔۔۔؟وہ چیخا۔۔۔

مجھے درد۔۔۔۔۔پھولے سانس کے ساتھ وہ سہی سے بول بھی نہیں پا رہی تھی۔۔۔

میرا دم۔۔۔گھٹ رہا۔۔۔ہے۔۔۔مجھے۔۔۔بہت۔۔۔درد۔۔۔ہو رہا ہے۔۔۔میں۔۔مر جاؤ گی۔۔۔درید۔۔۔۔۔وہ بمشکل بول پارہی تھی۔

ڑیم اٹ۔۔۔۔۔رباب کہاں ہے آواز دو اسے۔۔۔۔میں پہنچ رہا ہوں۔۔۔۔وہ چیخا تھا۔۔۔۔اس کی آواز سے وہ اس کی حالات کا پتا لگا سکتا تھا وہ بھی تب جب وہ اس کنڈیشن میں تھی۔

کال مٹ کاٹو میری بات سنو۔۔۔۔۔سانس لو زور سے۔۔۔۔اٹھ سکتی ہو تو کھڑکی کے پاس جاؤ۔۔۔۔

درید ۔۔۔۔میں۔۔۔۔۔

وہ جیسے اکھڑتے سانسوں سے کچھ بولتی تھی درید کی سانسیں اٹک جاتی تھی سینے میں۔۔۔۔اسے کم از کم بھی بیس منٹ لگتے اس تک پہنچنے میں ۔۔۔۔

رباب۔۔۔۔رباب کہاں پر ہے۔۔۔

وہ باہر۔۔۔۔۔

درید نے ناچاہتے ہوئے بھی اس کی کال کاٹی اور رباب کو ملائی جو اس نے بیسویں بار بھی نہیں اٹھائی تھی۔۔۔۔

اس نے واپس ربائشہ کو ملائی اب وہ بھی نہیں اٹھا رہی تھی۔۔۔۔۔۔اس کے ماتھے پر سلوٹوں کو اضافہ ہوا اور گاڑی کی اسپیڈ بڑھتی چلی جا رہی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پوچھنا کیا ہے میرے بھی کپڑے ہیں یہ۔۔۔۔!

میرا جب دل کرے گا میں پہنوں گی کیا مجھے کوئی روک سکتا ہے وہ بازو ہوا میں نچاتی ڈرامائی انداز میں کہنے لگی۔

ناشتہ بناؤ۔۔۔ڈرامے باز۔۔۔۔۔

کیا کھائیں گے۔۔۔؟منت نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے پوچھا تو اس نے گہری سانس بھری۔۔۔وہ سب اور مشکل کرتی جا رہی تھی اس کے لیے بھی اور خود کے لیے بھی۔

آلو کے پراٹھے بناؤ۔۔۔۔۔۔

تبریز شاہ نے کہا ۔۔۔۔یہی وہ واحد چیز تھی شاید جس میں اسے وقت لگتا اور وہ اس کے نزدیک رہتا۔

اوکے۔۔۔۔۔منت نے ایک نظر اسے دیکھا اور ایک نظر اس کے پیچھے باورچی خانے کی طرف جانے والے راستے کو۔

اس سے پہلے کہ وہ اسے سمجھ پاتا وہ اس کے بال اپنی دونوں مٹھیوں میں بھینچتی زور سے کھینچ کر بھاگ گئی تھی۔۔۔

منتتتت۔۔۔۔۔!!

اس کی تیز آواز اس گھر کے در و دیوار میں گونجی تھی اور دوسری طرف منت کے قہقہے۔

اگر آپ نے مجھے کچھ کہا تو میں ناشتہ نہیں بناؤں گی۔۔۔۔۔۔اس نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا۔

اچھا چلو بناؤ۔۔۔۔۔تبریز نے اس وقت خاموش رہنے کا سوچا۔۔۔اس کے دماغ میں بہت سی چیزیں ایک ساتھ چل رہی تھیں۔

وہ تیاری کرنا شروع ہو گئی تھی ۔۔۔۔تبریز نے اس کے بال پیچھے سے کیچر میں باندھے تو وہ چمکتی آنکھوں سے مسکرائی۔

اس نے منت کو اس سے پہلے اس طرح بار بار مسکراتے نہیں دیکھا تھا۔۔۔شاید یہ اسی کی دی خوشی تھی جو اس کے انگ انگ سے پھوٹ رہی تھی۔

تبریز وہیں اس کے ساتھ بیٹھا فون پرمیلز چیک کرنے لگا۔۔۔۔۔اس کے باپ کا بار بار فون آرہا تھا۔۔۔

کس کا فون ہے شاہو۔۔۔اٹھا کیوں نہیں رہے۔۔۔۔ اس نے فون پر جھانکتے پوچھا۔

آپ کے پاپا کا۔۔۔۔آپ نے مجھے کیوں نہیں ملوایا ان سے۔۔۔؟وہ کام کرتی اس سے استفسار کرنے لگی۔

ملواؤں گا ابھی جلدی کرو مجھے بھوک لگی ہے وہ بنا اسے دیکھے بولا تو وہ بھی خاموش ہو گئی۔

ناشتہ اس کے سامنے رکھتے اب وہ اسے دیکھ رہی تھی جو دو پراٹھے کھا چکا تھا لیکن مجال ہے جو منہ سے تعریف کا ایک بھی لفظ بولا ہو۔۔۔۔

کیسے ہیں ۔۔۔۔؟

ٹھیک ہیں ۔۔۔۔اس نے کھانے میں مصروف ہو کر کہا تو منت نے منہ بسوڑا۔۔۔۔

کتنا کنجوس ہے یہ شخص ۔۔۔۔تیسرا اٹھا لیا ہے اور ابھی بس ان مہاراجہ کو ٹھیک ہی لگے ہیں اچھے لگتے تو ناجانے کیا کرتے۔۔۔۔۔۔لیکن وہ خوش تھی کہ وہ اس کا بنایا ناشتہ دل جمعی سے کھا رہا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

باسط تیار ہو کر آیا تو خاموشی تھی۔۔۔۔۔رباب نے ناشتہ اس کے سامنے رکھا۔۔۔اب وہ اچھا کھانا بنانا سیکھ گئی تھی۔

اچھا بنایا ہے۔۔۔۔باسط نے اسے دیکھتے کہا تو ہلکا سا مسکرائی۔۔۔

ربائشہ نہیں اٹھی؟

شاید ناشتہ کر گئیں ہے وہ۔۔۔۔۔رباب اب پشیمان تھی۔۔۔۔

اوکے خدا حافظ ۔۔۔۔۔۔

باسط آج جلدی میں تھا اس لیے ربائشہ سے ملے بغیر چلا گیا۔۔۔ویسے تو صبح وہی ناشتہ بناتی تھی اور اس کے بعد وہ آرام کیا کرتی تھی اسی لیے آج بھی اس کے آرام کا سوچتے چلا گیا۔

رباب سارا دن یہاں وہاں گھومتی بور ہوتی رہی تھی۔۔۔ربائشہ پھر باہر نہیں نکلی تھی۔

وہ کھانا بنانے لگی تھی۔۔۔کھانا بھی بن گیا تھا لیکن وہ دروازہ نہیں کھلا تھا۔۔۔۔۔

وہ اسی سوچ میں تھی کہ اندر جائے اور دیکھے کہ گھر کا مین گیٹ زور و شور سے بجنے لگا تو وہ گھبرا گئی۔

ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔۔۔۔۔اس نے فون نکالا اور باسط کا فون ملایا۔۔۔

درید کی بیس مسڈ کالڈ دیکھتی وہ الگ پریشان ہوئی تھی۔۔۔

باسط باہر کوئی آیا ہے ۔۔۔۔۔

تو گیٹ کھولو۔۔۔پوچھ کر کھولنا۔۔۔وہ کام میں مصروف بولا۔۔۔۔۔

لیکن کوئی بہت برے طریقے سے دروازہ پیٹ رہا ہے۔۔۔رباب نے گھبراتے کہا۔۔۔۔

اچھا میں فون پر ہی ہوں پوچھو جا کر گیٹ کے پاس کون ہے۔۔۔۔تو رباب گیٹ کے پاس گئی۔۔۔

رباب گیٹ کھولو۔۔۔۔درید کی آواز سنتے فوراً اس نے دروازہ کھول تھا ۔۔۔۔۔باسط بھی دوسری طرف اس کی آواز سن سکتا تھا۔

رابی کہاں ہے رباب۔۔۔۔۔وہ دوڑتا اندر داخل ہوا۔۔۔

کیا ہوا بھیو۔۔۔۔؟

تم لوگوں سے دیکھا نہیں گیا صبح سے اس کو۔۔۔۔۔تمہارا فون کہاں رکھا تھا۔۔۔احساس ہے تمہیں۔۔۔۔۔دو گھنٹے کی ڈرائیو کرتا میں پاگلوں کی طرح آیا ہوں۔۔۔درید دوڑتا ربائشہ کے دروازے کو کھولنے لگا۔

رباب کیا ہوا ہے۔۔۔۔؟باسط الگ پریشان ہوا تھا۔۔۔

ربائشہ۔۔۔۔۔۔آنکھیں کھولو۔۔۔۔وہ اندر داخل ہوا تو وہ بیہوش پڑی تھی بیڈ پر۔

باسط نے ان کی آوازیں سنتے بنا سامان سمیٹے باہر کی طرف دوڑ لگائی تھی۔

یہ فائدہ ہوا ہے تمہارا یہاں آنے کا؟اپنی بھابھی کا دھیان نہیں رکھ پائی تم۔۔۔

درید نے ربائشہ کا بھاری وجود بمشکل باہوں میں سمیٹا اور باہر کی طرف بھاگا۔۔۔۔اس کا وجود پسینے سے تر تھا۔۔۔۔

دل کی دھڑکنیں معمول سے آہستہ چل رہی تھیں۔۔۔۔اس کے چہرے پر آنسوؤں کے مٹے نشان تھے۔۔۔درید یزدانی کا دل زندگی میں پہلی بار لرزا تھا۔

کچھ ہوا تھا گھر میں؟کسی نے کچھ کہا تھا اسے۔۔۔۔۔درید تیزی سے ڈرائیو کرتا بولا۔۔۔۔

بھائی ۔۔۔۔وہ۔۔۔۔۔

ڈونٹ ٹیل می رباب کہ تم نے کچھ کہا ہے۔۔۔۔۔درید نے سخت نظروں سے اسے گھورا تو وہ لرز گئی۔

اس سے پہلے اس نے درید کا یہ روپ نہیں دیکھا تھا۔۔۔۔۔اس کی گود میں ربائشہ کا سر تھا جو پیسنے سے بھیگا تھا۔۔۔۔وہ پشیمان تھی بے حد۔۔۔۔

وہ اتنی بُری تو نہیں تھی۔۔۔۔لیکن اس کی تلخ کلامی نے آج ایک وجود کو ہسپتال پہنچا دیا تھا اس کی آنکھ سے آنسو ٹوٹ کر گرا۔

باسط کا فون آتے اس نے کان سے لگا کر اسے ہسپتال کا نام بتایا اور بند کر دیا۔۔۔۔

بخدا اگر ان دونوں کو کچھ ہوا تو میں تم سب کا بہت برا حال کروں گا۔۔۔۔درید چیخا تو رباب اور سہم گئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسے ہسپتال لاتے ہی ایمرجنسی میں لے جایا گیا تھا۔۔۔ددید یہاں سے وہاں گھومتا اچھے سے اچھے ڈاکٹر کا انتظام کر رہا تھا۔

وہ ڈر کر ایک کونے میں کھڑی تھی۔۔۔باسط کو سامنے سے آتے دیکھ اس کی طرف تیزی سے بڑھی اور اس کے ساتھ لگی۔

کیا ہوا ہے ربائشہ کو۔۔۔۔؟کہاں پر ہے وہ۔۔۔۔

اندر ہے۔۔۔ابھی کچھ نہیں بتایا وہ رونے کے درمیان بولی۔۔۔

تم کیوں رو رہی ہو۔۔۔خاموش رہو سب بہتر ہو گا۔۔۔۔۔مجھے ڈاکٹر سے پوچھ لینے دو حالات۔۔

بھائی گئے ہیں آپ یہیں رکیں وہ پہلے ہی بہت غصے میں ہیں۔۔۔رباب نے کہا تو وہ وہیں رکا۔۔۔۔ابھی وہ کسی قسم کی بدمزگی نہیں چاہتا تھا۔

باسط۔۔۔۔۔

ہم۔۔۔۔

میں نے ربائشہ کو۔۔۔۔۔اور پھر وہ ساری بات اسے بتاتی چلی گئی ۔۔۔۔باسط نے اسے صدمے سے دیکھا۔۔۔۔

گڑیا۔۔۔۔۔۔!!!

درید کی آواز سنتے اس نے پیچھے دیکھا جہاں وہ آگ بگولہ کھڑا اسے ہی دیکھ رہا تھا۔

گڑیا تم اتنا کیسے گر سکتی ہو۔۔۔۔۔اس کی حالت کا تو احساس کیا ہوتا۔۔۔۔درید نے حد درجہ خود کو کچھ سخت کہنے سے روکا۔۔۔۔

اب حالات جو بھی ہوں گے اس کی زمہ دار تم ہو گی۔۔۔اور مجھ سے معافی کی امید مت رکھنا۔۔۔۔وہ چیخا۔

کچھ نہیں ہو گا۔۔۔۔آرام سے بات کرو باسط نے کہا تو درید ان دونوں پر طیش بھری نگاہ ڈالتا وہاں سے نکل گیا۔

باسط نے اسے ساتھ لگایا اور اسے چپ کروانے لگا۔۔۔اس کا ہچکیاں لیتا وجود اس بات کا گواہ تھا کہ وہ اپنے کیے پر پشیمان ہے۔۔۔۔

وہ سب ساری رات وہاں رہے تھے۔۔۔۔۔۔کیونکہ ربائشہ ساری رات انڈر آبزرویشن وہاں رہی تھی۔

صبح ہوتے ہی درید نے اسے وہاں سے لے جانے کا کہا تھا۔۔۔۔۔جس پر باسط نے کافی شور مچایا تھا لیکن درید نے اس کی ایک نہ سنی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کھانے کے بعد وہ کچن صاف کرنے لگی۔۔۔۔۔اور وہ تیار ہونے چلا گیا۔۔۔۔یہ دن اس کی زندگی کے بہترین دن تھے۔

اپنے شوہر کے ساتھ مکمل تھی وہ۔۔۔۔۔یہ ان کا گھر تھا جہاں وہ قریب تھے۔۔۔ایک دوسرے کے سنگ ۔۔۔۔۔

وہ کمرے میں گئی جو بکھرا تھا۔۔۔۔اور فرش پر پانی بھی تھا اس نے سامان سمیٹا اور پھر پانی والا فرش صاف کیا ان سب میں وہ ہانپ گئی تھی۔

پھر سے نہانا پڑے گا۔۔۔۔وہ باہر نکلی جہاں وہ جانے کو تیار تھا لیکن اب کچھ پریشان معلوم ہو رہا تھا۔۔۔۔

یہاں آؤ۔۔۔۔!

منت کو دیکھتے اس نے کہا تو منت تیزی سے اس کے نزدیک آئی۔

تبریز شاہ نے اسے ساتھ لگانا چاہا تو وہ ایک قدم دور ہوئی۔۔۔تبریز نے سلگتی نگاہ اس کے اس قدم پر ڈالی۔

آپ صاف ہیں نا۔۔۔میں ابھی کام کر کے آئی ہو۔۔۔پسینہ بھی آیا ہے اس نے اپنے فعل کی صفائی دی جلدی سے۔

تبریز شاہ نے اسے ہاتھ سے پکڑتے اپنے ساتھ لگایا۔۔۔۔۔کیا فرق پڑتا تھا وہ اسی کے وجود کا حصہ تھی۔

یہ لمس منت تبریز شاہ کو معتبر گیا تھا۔۔۔۔۔اس کے بدلے وہ کچھ بھی کر سکتی تھی۔

جا رہے ہیں؟

ہاں۔۔۔۔۔اس نے منت کے چہرے کو ہاتھ سے صاف کرتے بتایا۔۔۔۔

کب آئیں گے۔۔۔۔؟

اب سے تم یہیں رہو گی منت۔۔۔۔۔۔لیکن میرے پوچھے یا بتائے بغیر یہاں سے نکلی تو ٹانگیں توڑ دوں گا میں ۔۔۔اس نے سنجیدگی سے کہا تو منت نے تیزی سے سر ہاں میں ہلایا۔

کیا میں آپ کو پرفیوم لگا دوں۔۔۔۔وہ انسکیور ہو رہی تھی۔۔۔۔

اس کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔اس نے منت کی شرٹ کو کندھے سے ٹھیک کیا جو سرک رہی تھی۔۔۔۔

کپڑے چاہیے؟ وہ چھوٹی چھوٹی باتیں وہیں کھڑے اس سے کر رہا تھا۔

نہیں ۔۔۔۔مجھے یہی سب پہننا اچھا لگ رہا ہے۔۔۔منت نے اس کی شرٹ کے بٹن سے کھیلتے کہا۔

یہ لو کارڈ ۔۔کچھ چاہیے ہوا تو مجھے ہی فون کرنا میں پہنچا دوں گا ۔۔۔۔گیٹ باہر سے لاک کر کے جا رہا ہوں میں ۔۔۔

منت نے سوچا تھا کہ اگر ایسا کرنا ہے تو کارڈ دینے کا مقصد لیکن شاید وہ اسے یہ جتانا چاہ رہا تھا کہ سب تمہارا ہے۔

کب تک آئیں گے اس نے اپنا سوال دہرایا۔۔۔۔

ایک ضروری کام ہے۔۔۔۔مجھے امید ہے تم مجھے سمجھو گی منت۔۔۔۔۔یہ قدم ضروری تھا اٹھانا نہیں تو بہت نقصان میرے حصے میں آتا۔۔۔

آپ کس بارے میں بات کر رہے ہیں وہ اس کے حصار سے نکلتی سامنے کھڑی ہوئی تو تبریز شاہ کے ماتھے پر سلوٹیں پڑی۔

یہ جو تم بار بار خود مجھ سے دور جا رہی ہو نا منت۔۔۔۔

یاد رکھنا تم ان لمحوں کو یاد کرو گی اس نے کہا تو منت نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔

میں چاہتا ہوں تم خود کو مضبوط کرو۔۔۔تمہیں صرف تبریز شاہ پر بھروسہ ہونا چاہیے ۔۔۔۔حالات کیسے بھی ہوں کچھ بھی ہو یہ جان لو کہ تبریز شاہ لوٹ کر منت شاہ کے پاس ہی آئے گا اس نے جھک کر اس کے ماتھے پر لب رکھے اور باہر نکل گیا۔

منت کئی لمحے وہیں کھڑی رہی۔۔۔۔وہ یہ سب کیوں کہہ رہا تھا۔۔۔کیا ابھی بھی کچھ بچا تھا ہونے کو۔۔۔کیا ابھی آزمائشیں بچی تھی ان کی زندگی میں ۔۔۔۔اس نے تو سوچا تھا شاید اس کے قریب آنے پر سب ٹھیک ہو گیا ہے لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ ربائشہ کو ساتھ لے گیا تو وہ دونوں بھی گھر آ گئے تھے ۔۔۔۔

رباب نے آ کر خاموشی سے کھانا لگایا اور ان دونوں نے کھایا تھا۔۔۔۔۔باسط تھوڑا اپ سیٹ تھا۔

رباب شرمندہ تھی۔۔۔لیکن وہ جلد ربائشہ سے مل کر شاید معافی مانگ لیتی۔۔۔۔اس لیے اب پرسکون تھی۔

وہ کچھ سوچتی تیل کی بوتل نکال کر لائی اور باسط کے سامنے کھڑی ہوئی۔۔۔

چلیں میں آپ کے سر میں مالش کرتی ہوں۔۔۔۔۔اس نے کہا تو وہ جو کوئی مووی دیکھنے میں مصروف تھا چونکا۔

اوو۔۔۔۔اور ایسا کیوں کرو گی تم۔۔۔؟

باسط آپ کو عزت کیوں راس نہیں آتی؟رباب نے چڑ کر کہا۔

اچھا آجاؤ۔۔۔ہر بار پر اتنا شور کیوں مچاتی ہو۔۔۔اچھی سی کرنا اب۔۔۔اتنے خوبصورت بال ہیں میرے ایک بھی ٹوٹا تو تمہیں سزا ملے گی۔

ایک تو میں کر رہی ہوں اوپر سے آپ شوخے ہو رہے ہیں ۔۔۔۔۔اور اتنی ڈیمانڈز ہیں تو پیسے نکالیں۔۔۔

کس چیز کے؟

آئلنگ کے۔۔۔۔

میں نے تو بولا ہی نہیں تم خود آئی ہو اپنی سروسز لے کر۔۔۔۔۔وہ سیدھا ہو کر بیٹھا۔۔۔۔

افف۔۔۔۔چلیں اب بیٹھیں نیچے۔۔۔۔رباب نے مزید بحث نہ کی تو وہ بھی خاموشی سے صوفے سے نیچے اتر کر قالین پر بیٹھ گیا۔

تم نے ربائشہ کو کیوں کہا ایسے۔۔۔۔۔؟

باسط کیا اس وقت ہم اس بات کو چھوڑ دیتے ہیں؟؟

اب وہ خاموشی سے آئلنگ کروا رہا تھا۔۔۔اسے کافی اچھا لگ رہا تھا۔۔۔اس نے نیند میں جھولتے رباب کو دیکھا جو اب اٹھ رہی تھی۔

کہاں۔۔۔۔

بس اٹھیں۔۔۔

ابھی تو دس منٹ بھی نہیں ہوئے۔۔۔۔

خدا کا خوف کریں باسط پچیس منٹ ہو گئے ہیں ۔۔۔۔یہ نیند کے جھونکے آپ کو تب ہی آرہے ہیں ۔۔۔۔رباب تو صدمے میں ہی چلی گئی۔

ہممم۔۔۔جھوٹی۔۔۔باسط اٹھ کر اندر چلا گیا۔۔۔۔تو رباب صدمے سے اس کی پشت ہی دیکھتی رہ گئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ ربائشہ کو ساتھ لے آیا تھا اسے ساتھ بٹھاتے سیلٹ بیلٹ نہیں باندھی تھی اس نے۔۔۔اب دو گھنٹے کی ڈرائیو وہ ساڑھے تین گھنٹے میں اس کی حالت کے پیشِ نظر کر کے آیا تھا۔

اندر لاتے اسے کمرے میں لٹایا اور خانساماں کو فون کیا ان کے آتے ہی ان کو ربائشہ کے لیے سوپ بنانے کو کہا۔

خود وہ فریش ہونے چلا گیا جب کہ ربائشہ اب بھی عنودگی میں تھی۔۔۔

واپس آیا تو سوپ رکھا جا چکا تھا اس نے ربائشہ کے پاس آتے دیکھا وہ اب بھی سوئی ہوئی تھی۔۔۔

چہرہ ویسا ہی مرجھایا ہوا تھا۔۔۔۔آنسؤوں کے نشان ابھی بھی تھے۔۔۔ڈاکٹر نے بتایا تھا اسے کہ وہ کتنی تکلیف سے گزری ہے۔

اس کا بی پی شوٹ کر گیا تھا۔۔۔۔اور حالات اس سے زیادہ برے بھی ہو سکتے تھے۔۔۔۔۔وہ سمجھ سکتا تھا کہ اگر وہ نا پہنچتا تو شاید وہ ان دونوں میں سے کسی ایک کو کھو دیتا۔

رباب پر اسے بے حد غصہ تھا لیکن اس وقت اس کی توجہ کا مرکز ربائشہ کی زات تھی۔

اسے ساتھ لگاتے اس نے اس کے گال کو تھپتھپایا تو اس نے مندی مندی آنکھیں کھولیں۔

درید۔۔۔۔مجھے درد تھا۔۔۔کوئی بھی نہیں آیا۔۔۔وہ اسے دیکھتے ہی شروع ہو گئی تھی۔

اب تم ٹھیک ہو۔۔۔۔دیکھو میں لے آیا ہوں تمہیں ۔۔۔۔اتنی ہی جلدی تھی میرے پاس آنے کی تو صبح ہی کہہ دیتی درید نے ماحول کو ہلکا کرنا چاہا۔

بدلے میں اس نے اپنے ہاتھ کو اس کے سینے پر مارا تو اس نے ربائشہ کو ساتھ لگاتے اس کو ماتھے پر پیار کیا۔۔۔۔۔یہ سوپ پیو اور پھر اٹھ کر کپڑے بدلو۔۔۔۔۔

آپ کہنا چاہ رہے ہیں کہ مجھ سے اچھی خوشبو نہیں آ رہی ہے۔۔۔؟

ربائشہ نے دھیمے لہجے میں اس کے ساتھ لگے ہی کہا۔

کہا تو نہیں ہے میں نے ایسا کچھ لیکن تم سمجھدار ہو۔۔۔۔وہ شرارتی انداز میں گویا ہوا۔

ربائشہ نے دو لمحے اسے دیکھا اور پھر دور ہوئی۔۔۔درید جب تک سمجھتا وہ سیدھا اس کے سینے سے جا لگی تھی۔

اب آپ سے بھی سمیل آئے گی۔۔۔۔آپ کو پتا لگنا چاہیے کہ ایک عورت کتنا مشکل وقت گزارتی ہے۔۔۔پتا ہے مجھے لگا تھا یہ میری زندگی کے کچھ آخری لمحات ییں۔۔۔۔

درید نے اس کی قمر پر ہاتھ رکھتے اسے مزید ساتھ لگایا۔۔۔۔یہ بتانے کا ایک طریقہ تھا کہ ربائشہ درید یزدانی اسے ہر حال میں قبول ہے۔۔۔۔

اپنے ہاتھوں سے اس کے چہرے اور گردن پر آئے پسینے کو صاف کیا اور پھر اس کے بال اچھے سے کیچر میں باندھے۔

میرے ہوتے ہوئے بھی تمہیں لگا کہ میں تمہیں کچھ ہونے دوں گا۔۔۔۔۔درید نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے کہا تو اس نے نفی میں سر ہلایا۔

ہوا کیا تھا۔۔۔۔۔؟درید نے اسے جانچا۔۔۔

پتا نہیں شاید ناشتہ نہیں کیا تھا اسی لیے طبیعت ایسی ہو گئی۔۔۔۔اس نے رباب کا زکر نہیں کیا تھا وہ ایک بھائی کو اس کی بہن کے خلاف نہیں کرنا چاہتی تھی۔

درید نے سنتے اسے خود میں بھینچا۔۔۔۔وہ تو سراپا عشق تھی جسے اس نے رول دیا تھا قدموں میں۔

ڈاکٹر نے کیا کہا ہے کیا ہوا تھا مجھے۔۔۔۔؟ربائشہ نے اس سے دور ہوتے ہوئے کہا۔

بی پی شوٹ کر گیا تھا تمہارا۔۔۔۔تھورا سا خیال نہیں رکھا جاتا تم سے اپنا۔۔۔۔

اب آپ رکھ لینا نا۔۔۔اس نے کہا تو درید نے اسے آنکھیں دکھائیں۔

درید ویسے ساری باتیں چھوڑیں۔۔۔۔آپ پہلے کتنے پیارے ہوا کرتے تھے۔۔۔۔

کیا مطلب ہے اس بات کا۔۔؟میں اب بھی ہینڈسم ہوں۔۔۔درید نے کارلر سیٹ کرتے کہا تو وہ کھلکھائی۔

پہلے آپ مجھے آپ کہا کرتے تھے اور اب تم،تم لگائی ہوتی اور اب میرے سے پیار بھی نہیں کرتے۔

کیونکہ تم نے اپنے ساتھ میرا کافی نقصان کیا ہے جب اس نقصان کی بھرپائی ہو جائے گی تب میں تم سے زیادہ پیار کرو لوں گا۔۔۔۔

ام ہم۔۔۔۔مجھے نہیں لگتا وہ دن کبھی آئے گا۔۔۔ربائشہ منہ بسوڑتی سوپ پینے لگی۔

جستجو بس تیری ہے مجھے

پھر دل کے خریدار ہزار سہی

روشنی میں، ہزاروں گروہوں میں

بھی چاند کی طرح مجھے تیری کمی

اور تو اب بھی کہتا ہے میں

رہ سکتی ہوں تیرے بغیر

یعنی میری محبت پر

بھروسہ تجھے اب بھی نہیں

کسی دن تو الٹے قدموں دوڑے آئے گا

اور سوچ اگر اس دن میں تجھے میسر نہ ہوئی؟؟