Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shiddat-e-Talab Episode 13

Shiddat-e-Talab by Suneha Rauf

مسٹر درید یزدانی کیا آپ نے اجازت مانگی اندر آنے کی۔۔۔کیونکہ جہاں تک میرا علم ہے یہ گھر آپ کی ملکیت نہیں۔۔۔

ایک نگاہ اس پر ڈالتے اس نے کھڑکی سے باہر دیکھتے کہا۔

کچھ ضروری بتانا چاہتا تھا۔۔۔سوچا ابھی بتا دوں۔۔۔۔

میری اولاد میرے پاس رہے گی۔۔۔۔۔تم جہاں رہنا چاہو تمہیں روکوں گا نہیں۔۔۔۔۔تمہارے ساتھ پہلے ہی زیادتی ہو چکی ہے اس لیے کوئی زور زبردستی نہیں ہے لیکن میری اولاد میرے پاس رہے گی۔۔۔۔اس نے سگریٹ کا دھواں ہوا میں معتل کرتے کہا۔

ربائشہ کو لگا کسی نے اس کے کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ انڈیلا یے۔۔۔۔اس نے جھٹکے سے اسے بے یقینی سے دیکھا۔

نا۔۔۔۔۔ممکن۔۔۔۔۔

اسے ممکن بنانا میں جانتا ہوں۔۔۔۔ہمارے ملک کے قانون سے تو آشنا ہو تم۔۔۔۔۔۔افسوس جس کے پاس پاور اس کے پاس سب۔۔۔۔اس نے اسے حقیقت بتائی۔

تم ایسا نہیں کرو گے۔۔۔۔اس نے ٹرانس کی سی کیفیت میں کہا۔

میں ایسا کیوں نہیں کروں گا۔۔۔۔وہ اپنی جگہ سے کھڑا ہوا۔۔۔۔

درید ۔۔۔۔۔

اس نے بے بسی سے اسے پکارا۔۔۔۔ہاں وہ سچ کہہ رہا تھا وہ ایسا کر سکتا تھا۔۔۔۔۔اور کون اس سے پوچھتا کوئی بھی نہیں۔۔۔۔

چلتا ہوں۔۔۔۔وہ کہتا جیسے آیا تھا ویسے چلا گیا۔۔۔۔ربائشہ نے اسے جاتے دیکھا تھا۔۔۔۔

جو آگ درید کے سینے میں لگی تھی وہ اس کا بدلہ لے چکا تھا۔۔۔۔۔وہ ربائشہ حق کو صرف چھوٹی سی سزا دینا چاہتا تھا جو دے کر اب وہ انجام کو رونے والا تھا شاید۔

ربائشہ کتنی ہی دیر وہاں سکتے کی سی کیفیت میں بیٹھی رہی۔۔۔۔اس نے نا رات کا کھانا کھایا اور نہ دوا لی۔۔۔۔۔

وہ شخص اسے ایک نئی ازیت سے آشنا کروا گیا تھا۔۔۔۔وہ اسے بتا گیا تھا کہ کل بھی وہ اس کے لیے اہم نہ تھی اور نہ آج۔۔۔۔۔

وہاں بیٹھے اسے صبح ہو گئی تھی۔۔۔قمر اکڑ گئی تھی لیکن نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔۔۔۔

اس ماں کو کیسے نیند آتی جس کو یہ سنا دیا جائے کہ اس کی اولاد اس سے اس دنیا میں آتے ہی چھین لی جائے گی ۔۔۔۔

کل رات جو بات اس کے دل میں آتے اسے ڈرا گئی تھی۔۔۔۔اب وہ بات اس نے دل میں نقش کرتے گہرا سانس بھرا۔

اس بار میں نہیں ہاروں گی درید یزدانی۔۔۔۔اس بار نہیں۔۔۔

اگر یہ خوشی میری نہیں تو تمہاری تو میں ہرگز نہیں ہونے دوں گی۔۔۔۔۔اس نے نفی میں سر ہلاتے ہزیانی کیفیت میں کہتے شال اوڑھی اپنا سامان اٹھایا اور باہر نگل گئی۔

مخالف کو اس کے باہر نکلنے کی خبر فوراً مل گئی تھی۔۔۔۔۔لیکن وہ جا کہاں رہی تھی۔۔۔۔وہ بھی اسے جلد پتا لگ جانا تھا۔

اس نے ہسپتال کے سامنے رکشہ رکوایا اور ایک آخری بار سوچا۔۔۔۔کیا وہ سہی کرنے والی تھی۔۔۔۔۔

آج موسم بھی خراب تھا۔۔۔۔لیکن اس کے دل کے موسم پر کوئی اثر نہیں پڑا تھا۔

اندر جاتے اس نے گہرا سانس بھرا اور باہر بینچ پر بیٹھ کر اپنی باری کا انتظار کرنے لگی۔

وہ شخص جس کی گھنٹے بعد کی فلائیٹ تھی ۔۔۔۔میٹنگ کے سلسلے میں۔۔۔۔اس نے لفظ ہسپتال سنتے گاڑی ائیرپورٹ سے موڑی تھی۔

اس لڑکی کا دماغ تھکانے لگنے والا تھا۔۔۔۔۔اب کی بار اسے سزا دینا ضروری ہو گیا تھا۔۔۔۔۔اس نے اسّی کی اسپیڈ سے گاڑی دوڑائی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا یہ آپ کا آخری فیصلہ ہے مس ربائشہ کہ آپ کو اپنی اولاد نہیں چاہیے۔۔۔؟

دھڑام سے دروازہ کھلا تھا۔۔۔۔لیکن ربائشہ مڑی نہیں۔۔۔۔وہ لمبے لبھے ڈگ بھرتا اس کی طرف آیا۔

اس کا ہاتھ تھاما اور جھٹکے سے کھڑا کیا۔۔۔۔وہ جیسے جانتی تھی کہ یہی ہو گا اس لیے کوئی ردِعمل نہیں دکھایا۔

یہ کیا بد تمیزی ہے ۔۔۔۔؟ لیڈی ڈاکٹر چیخی۔۔۔۔

آواز آہستہ رکھو ڈاکٹر۔۔۔۔نہیں تو اپنی بیوی کی بعد میں اس گناہ میں اس کا ساتھ دینے پر تمہیں پہلے جہنم واصل کرں گا اس نے آگ جیسے لہجے میں کہا تو ڈاکٹر ڈر گئی۔

وہ اسے گھسیٹتا اپنے ساتھ لایا اور جھٹکے سے گاڑی میں بٹھایا۔۔۔۔۔گاڑی پھر سے اس نے بھگائیں تھی۔

لیکن اس پر تو جیسے کوئی فرق ہی نا پڑا تھا وہ ایسے ہی بیٹھی رہی۔۔۔۔اب راستہ لمبا محسوس کرتے اس نے ٹیک لگاتے آنکھیں موند لیں۔

باہر بارش شروع ہو گئی تھی۔۔۔۔اسے آنکھیں موندے دیکھ درید نے اس کی طرف کا شیشہ نیچے کیا تھا۔۔۔۔

اپنی جھولی میں بارش کا پانی محسوس کرتے اس نے جھٹکے سے آنکھیں کھولیں اور اس کی طرف دیکھا جو پرسکون تھا۔

اسے بند کریں۔۔۔۔اس نے کہا لیکن اس کا جواب نہ سنتے اس نے واپس ویسے ہی بیٹھے آنکھیں موند لیں۔

وہ کامیاب ہوئی تھی اسے ڈرانے میں۔۔۔۔۔اڈ نے یہ قدم درید یزدانی کو تڑپانے کے لیے اٹھایا تھا جس میں وہ کامیاب رہی تھی ۔۔۔۔

وہ جانتی تھی اس کی ہر خبر درید رکھتا ہے۔۔۔اس کا گھر سے جانا اور پھر ہسپتال تک کا راستہ اسے یقین تھا درید یزدانی تک اس کی تمام خبر پہنچ رہی ہے۔

لیکن دس منٹ کیا پندرہ منٹ بعد بھی اس نے شیشہ واپس اوپر نہ کیا تھا۔۔۔۔

بارش باہر زور پکڑ چکی تھی اور وہ مکمل بھیگ چکی تھی۔

سنسان سڑک پر لاتے اسے نے جھٹکے سے گاڑی روکی اور اسے دیکھا جو اب بھی آنکھیں موندے پڑی تھی اس کا آدھا لباس گیلا ہو چکا تھا۔

باہر نکلو۔۔۔۔۔

آواز نہیں آئی۔۔۔؟؟

مجھے گھر پہنچائیں میرے۔۔۔۔

میری زمہ داری نہیں ہے یہ جیسے آئی تھی ویسے چلی جانا۔۔۔۔

ربائشہ اسے دیکھتے تلخی سے مسکرائی۔۔۔۔اس کی اس مسکراہٹ سے درید نے نظریں چرائی اور اسے باہر جانے کا اشارہ کیا۔

وہ باہر نکلی اور سامنے جا کر فٹ پاتھ پر بیٹھ گئی اپنے شال نما دوپٹے سے اس نے اپنا سارا وجود چھپا لیا تھا۔

درید نے سائیڈ پر گاڑی روکی اور وہیں موجود رہا اپنی طرف کی کھڑکی کھول لی اب بارش ان دونوں کو بھگا رہی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وقت گزر گیا تھا۔۔۔۔۔۔اس نے جو اس سے دوسرے شہر جانے کا بہانہ کیا تھا وہ سچ ہو گیا تھا اسے جانا پڑا تھا کسی دوسرے ٹینڈر کی وجہ سے۔۔۔۔

لیکن وہاں بھی اس نے اس کی پوری خبر رکھی تھی۔۔۔۔۔

آج ہفتے بعد وہ واپس آیا تھا اور دل نے اس کو دیکھنے کی خواہش میں شدت پکڑی تو بنا گھر گئے اس کے گھر کی طرف گاڑی موڑی۔

وہ جانتا تھا اس وقت وہ گھر پر اکیلی ہے کیونکہ درید اپنی بیوی کو لے کر گیا ہوا تھا۔

اس نے اس کے گھر کے دروازے کی چابی تک بنا رکھی تھی ۔۔۔لیکن ابھی اس کا کام نہیں تھا اس لیے بیل دیتے اس کا انتظار کیا۔

منت وقار نے ان دو ہفتوں میں اس کا انتظار کیا تھا ۔۔۔وہ دو پل اپنی موجودگی کا اظہار کر کے غائب ہو جاتا تھا۔۔۔۔۔

اس نے اپنا سارا دھیان کام پر لگایا۔۔۔۔اس کے آفس سے اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ جا چکا ہے وہ لڑکیاں بھی اسے دوبارہ نہیں دکھی تھی۔۔۔۔

لیکن وہ چڑچڑی ہو رہی تھی۔۔۔۔یہ سب کیا تھا اسے اندازہ نہیں ہو رہا تھا لیکن وہ جو ڈیڑھ سال بغیر اسے دیکھے اور سنے گزار چکی تھی اسے یہ دو ہفتے برے طریقے سے کاٹ رہے تھے۔

وہ جو کھانا بنا رہی تھی رات کا چونکی اور جا کر دروازہ کھولا۔۔۔۔اندر لگی سکرین سے وہ اسے دیکھتی چونکی تھی۔

دل کی دھڑکنیں یک دم تیز ہوئیں تھی لیکن پھر خود کو نارمل کرتے دروازہ کھولا۔

تبریز شاہ نے اسے دیکھتے خود میں ٹھنڈک اترتی محسوس کی۔۔۔۔۔اور اس کی پیچھے اندر داخل ہوا جو کچھ بھی کہے بغیر اندر چلی گئی تھی۔

کھانے کی اشتہار انگیز خوشبو نے اس کی بھوک بڑھائی تھی۔۔۔۔اس نے کھانا لگایا تو دونوں نے خاموشی سے کھانا کھایا تھا۔۔۔۔تبریز شاہ نے صرف اسے دیکھا تھا جو اسے دیکھ بھی نہیں رہی تھی۔

چائے چاہیئے۔۔۔۔اس نے کہا شاید اب وہ اسے دیکھ لیتی لیکن نہیں۔۔۔۔۔۔

وہ اٹھ کر اس کے کمرے میں چکا گیا۔۔۔۔لوک لگا گیا تھا وہ مین گیٹ کا کہ اب اس کا واپس جانے کا ارادہ نہ تھا۔۔۔۔

وہ چائے لائی۔۔۔اور خود واش روم میں بند ہو گئی۔۔۔۔۔وہاں جاتے اس نے گہری سانس بھری۔۔۔۔

وہ نہیں بتا سکتی تھی کہ اس لمحے کا اس نے کتنا انتظار کیا تھا کہ وہ اس شخص کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھائے۔۔۔۔۔

کتنا مکمل احساس تھا۔۔۔۔اس کا شوہر اس کے ساتھ اسے وقت دیتے کھانا اکٹھا کھا رہا تھا۔

چائے بھی اس نے دل سے بنا کر دی تھی۔۔۔۔لیکن وہ خاموش تھی۔۔۔۔دونوں شاید ایک دوسرے کے بولنے کے انتطار میں تھے۔

وہ واپس آئی تو وہ وہیں براجمان تھا۔۔۔۔۔۔اسے دیکھتے اس نے بالوں میں برش کیا۔۔۔۔اب وہ کنفیوژن کا شکار تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رباب کی صبح آنکھ کھلی تو جھٹکے سے اسے دیکھا جو ایسے ہی بیٹھا بیٹھا سو گیا تھا۔

اسے اپنے اوپر بے تحاشا غصہ آیا۔۔۔۔وہ پیچھے ہوتی لیکن اس کا دل نہیں مانا۔۔۔۔وہ سوتے ہوئے اس کا تھا پورا کا پورا جاگ جاتا تو اس کا جلال رباب کا سانس خشک کرنے کو کافی ہوتا تھا۔

نظریں اس کی بیرڈ پر ٹکادیں اور پھر خود پر لاکھ جبر کے بعد بھی تھوڑا سا اونچا ہوتے اس کی ٹھوڈی پر اپنے لب رکھے اور فوراً سے اپنا گلال بکھیرتا چہرہ اس کے سینے میں چھپایا۔

وہ اس کی اس حرکت سے پہلے اس کی ہلچل سے ہی جاگ گیا تھا۔۔۔۔۔اس کے لمس پر اسے اپنا آپ رکتا محسوس ہوا۔۔۔۔۔

اس لیے فوراً آنکھیں کھولیں اور اسے سائیڈ پر لٹاتے سیدھا ہوا۔۔۔۔تو اندازہ ہوا کہ قمر اور گردن دونوں اکڑ چکی تھی۔

گھڑی سات بجا رہی تھی۔۔۔ایک گھنٹے بعد اسے جانا تھا۔۔۔یہی سوچتے وہ اٹھنے لگا تو اپنا ہاتھ رباب کے ہاتھ میں محسوس ہوا۔

باسط۔۔۔۔۔آج مت جائیں۔۔۔۔

اس نے اپنی چھوٹی آنکھوں سے اسے دیکھتے کہا۔۔۔۔جو رو رو کر سوج کر چھوٹی ہو گئیں تھی ایسا بچپن سے ہوتا تھا۔

وہ بھی اپنی قمر میں درد محسوس کر سکتا تھا اسی لیے واپس لیٹ گیا ۔۔۔۔اور اسے دیکھا جس کے چہرے پر ہلکا گلال اب بھی تھا۔

اپنی قربت کا رنگ اس کے چہرے پر اسے بھلا لگا تھا کافی ۔۔۔

درد تو نہیں ہو رہا اب۔۔۔۔؟باسط نے اس کی طرف رخ کرتے کیا۔

وہ جو نا کہنے لگی تھی فوراً سے سر ہاں میں ہلایا۔۔۔۔کیوں وہ خود نہیں جانتی تھی شاید دل مزید اس شخص کی کرم نوازیاں چاہتا تھا۔

باسط نے اس کا نا ہاں میں بدلنا محسوس کر لیا تھا

۔۔اس لیے اسے گھورا اور آنکھیں موند لیں۔

اس کے سونے پر اس نے یہاں وہاں دیکھا۔۔۔اب اسے نیند نہیں آ رہی تھی اور وہ پچھلے پینتالیس منٹ سے اسے آنکھوں میں بسا کر اسے حفظ کر چکی تھی۔

پھر کچھ سوچتے اس کا بازو اٹھایا اور اس کے قریب ہوتے اس کا بازو خود پر سے گزارتے اپنے دوسری طرف رکھا۔

اس کے بعد اسے قریب سے دیکھتے مسکرائی۔۔۔۔وہ اس سے ناراض تھی لیکن رات کے بعد نہیں۔۔۔۔اس کی آنکھوں میں وہ اپنے لیے فکر دیکھ چکی تھی۔

باسط نے نیند میں اس کا روئی جیسا وجود اپنے حصار میں محسوس کرتے اس پر اپنا حصار تنگ کیا اور چہرہ اس کے سر پر رکھا۔

رباب بھی اسے دیکھتے دیکھتے سو گئی تھی دوبارہ۔

دس بجے کے قریب باسط کی آنکھ کھلی تو اپنے چہرے پر سے اس کے بال ہٹاتے ور اپنے سینے پر دیکھا جہاں وہ استحقاق سے براجمان تھی۔

اس کا روئی جیسا وجود خود پر محسوس کرتے اس نے گہری سانس بھری۔۔۔۔۔وہ حسین پہلے سی تھی یا اب ہوئی تھی اسے اندازہ نہ ہوا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پندرہ منٹ بعد سامنے سے ایک بائیک آئی اور ربائشہ کو دیکھتے اس بائیک سوار نے بائیک روکی۔

اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا سامنے موجود درید جس کی نظر ربائشہ پر ہی ٹکی تھی اس نے ہارن پر ہاتھ رکھا اور پھر اٹھانا بھول گیا۔

وہ شخص بھی بوکھلا کر واپس چلا گیا۔۔۔۔بیس منٹ بعد اس نے اپنی طرف کا شیشہ اوپر چڑھایا اور اس کے پاس آیا گاڑی لے کر۔۔۔۔اور اس کی طرف کا دروازہ کھولا۔

وہ بنا کچھ کہے خاموشی سے اندر بیٹھ گئی تو اس نے گاڑی آگے بڑھائی۔

یہ گاڑی اب میرے گھر رکنی چاہیے درید یزدانی۔۔۔۔اس نے سخت لہجے میں کہا ۔۔۔۔بارش کی بوندیں اب اس کے کپڑوں سے ٹپک رہی تھیں۔

اور تمہیں ایسا کیوں لگتا ہے کہ میں تمہاری بات مانوں گا۔۔۔۔درید نے کہتے ہیٹر اون کیا۔

پلیززز درید۔۔۔۔اب مجھے سکوں دیں مہربانی کریں میری زات پر۔۔۔۔۔ اس نے تھکے لہجے میں کہا تو خاموشی چھا گئی۔

درید نے ہمیشہ کی طرح اپنا ہی کیا تھا اپنے گھر کے سامنے گاڑی روکی تو وہ فوراً نیچے اتری اور گیٹ سے باہر نکلی۔

جو اب بھی کھلا تھا۔۔۔۔باہر جا کر رکشہ رکوانے لگی تو وہ فوراً اس کے پیچھے آیا اور اسے کھینچتا اندر لے کر گیا۔

اسے اپنے کپڑے نکال کر دیے جو اس نے فوراً تھامے اور دوسرے کمرے میں چینج کرنے چلی گئی اب کی بار اس نے اسے نہیں روکا تھا کم از کم اس کے ساتھ تو موجود تھی اب وہ۔

وہ چینج کر کے واپس آیا لیکن کمرہ خالی تھا وہ واپس نہیں آئی تھی اس نے گہرا سانس بھرا۔۔۔۔

اس کے کمرے میں گیا جہاں وہ چینج کر کے کمفرٹر لیے لیٹ گئی گھی۔۔۔۔

کھانا کھاؤ اُٹھ کر۔۔۔۔دوا بھی لینی ہے۔۔۔۔۔

ان سب کی ضرورت نہیں رہی اب مجھے لگتا ہے۔۔۔۔

ربائشہ بات مان لیا کرو ایک ہی بار میں۔۔۔۔

مجھے لگتا ہے آپ کو یہاں سے جانا چاہئے ۔۔۔اس نے سر پر کمفرٹر اوڑھتے کہا۔

دودھ کا گلاس بھیج رہا ہوں وہ پیو۔۔۔نہیں تو مجھے واپس آنا پڑا تو یقین جانو تمہارا دل ہو یا نہ تمہیں کھانا پورا ختم کرنا پڑے گا وہ بول کر چلا گیا۔

تو اس نے سر سے کمفرٹر اتارا اسے اس وقت شدید سری لگ رہی تھی۔۔۔وہ جاتے جاتے کھڑکیاں بند کر گیا تھا اور انور ٹیک میں ہلکا سا ہیٹر اون کر گیا تھا کیونکہ یہ سردیوں کا موسم نہیں رہا تھا اب۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آپ کب جائیں گے۔۔۔۔۔۔؟؟؟

اس کے منہ سے نکلا تو اسے احساس ہوا کہ وہ صحیح وقت پر کتنا غلط سوال کر چکی ہے۔

تم مجھے نکال رہی ہو۔۔۔۔آفٹر آل تمہارا گھر ہے تم ایسا کر سکتی ہو۔۔۔۔وہ اس کے قریب آتا دھیرے سے بولا۔۔

میرا وہ مطلب نہیں تھا اس نے جھکے سر سے کہا۔۔۔۔۔

پرسو مالک مکان آیا تھا۔۔۔؟

ہمممم۔۔۔اس نے چونکتے سر ہلایا۔۔۔

وہ کرایہ رہتا تھا پچھلا۔۔۔۔مگر میں کل دے دوں گی۔۔۔۔اس نے بلا وجہ ہی شرمندہ ہوتے کہا۔

اس کی ضرورت نہیں۔۔۔۔یہ گھر اب میرے نام ہے ۔۔۔تو کرایہ تم مجھے دو گی۔۔۔اس نے کہا تو منت نے چونک کر اسے دیکھا۔

وہ اسے نہیں بتا پایا کہ اس آدمی کا منت پر چلانا اسے کتنا زہر لگا تھا۔۔۔۔جو اس کے ہائیر کیے شخص نے بتایا تھا اسے ۔۔

اس نے وہیں رہتے اس شخص سے یہ گھر خریدا تھا۔۔۔۔۔اتنا کمانے کا کیا فائدہ اگر اس کی بیوی نے دھکے ہی کھانے تھے۔

منت کب سے اسی گھر میں رہ رہی تھی۔۔۔بزنس ابھی شروع کیا تھا جو ابھی چلا بھی نہیں تھا سہی سے اس لیے وہ آہستہ آہستہ قرضہ اتار رہی تھی۔

میں کچھ دن میں دے دوں گی منت نے کہا تو تبریز شاہ نے اسے کھینچا۔۔

وہ کٹے پیر کی شاخ کی طرح اس کے قریب آئی تھی۔۔۔۔ وہ دونوں ایک دوسرے کے روبرو تھے ۔۔

اپنے حساب سے لوں گا جب بھی لینا ہو گا ۔۔۔۔۔اس کی زو معنی بات پر اس نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔

اپنے مینیجر کو بدلو۔۔۔۔اس نے فوراً سنجیدگی کا لبادہ اوڑھتے کہا۔

کیوں۔۔۔۔؟

کیونکہ میں کہہ رہا ہوں اس نے دھونس جمائی۔۔۔۔۔اور اسے دیکھا جس کے چہرے سے تھکاوٹ صاف جھلک رہی تھی ۔

نیند آئی ہے ۔؟؟؟

۔اس نے منت کے بالوں میں ہاتھ پھیرا تو منت نے آنکھیں بند کرتے اس کے لمس کو محسوس کرتے ہاں میں سر ہلایا۔

سو جاؤ۔۔۔۔!!

وہ یک دم پیچھے ہوا۔۔۔۔اگر کوئی منت تبریز شاہ سے پوچھتا کہ اس کے نزدیک سب سے تکلیف دہ لمحہ کیا ہے ۔۔۔

تو وہ بتاتی کہ اس شخص کا اپنی مرضی سے قریب آ کر اچانک دور ہو جانا ۔۔۔۔۔۔۔

وہ باہر نکل گیا تو منت نم ہوتی آنکھوں سے اپنے بستر پر اوندھے منہ گر گئی۔۔۔۔۔وہ ایسا کیوں تھا۔۔۔۔ہر بار کی سوچ پھر سے زہن میں آئی۔

لیکن کھٹکا ہوتے اس نے سر اٹھایا جو بہت سے شاپنگ بیگز اندر لا کر رکھ رہا تھا ور پھر اس کی طرف آتے جھٹکے سے اسے سیدھا کیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کس بات کا رونا آرہا ہے ۔۔۔۔؟

اتنا بُرا لگ رہا ہے میرا آنا تو سیدھا بول دو میں چلا جاتا ہوں۔۔۔وہ غرایا ۔۔۔

میں نے ایسا تو نہیں کہا۔۔۔۔اس نے شوں شوں کرتے کہا۔۔۔۔۔اور اس کی شرٹ سے آنسو صاف کیے اور ایک بار پھر شرمندہ ہوتے پیچھے ہونا چاہا۔

تبریز شاہ نے اس کے آنسو ہاتھ سے صاف کیے اور جھک کر اس کے کندھے پر بوسہ دیا۔۔۔۔

اس ایک بوسے میں کیا کچھ نہ تھا ۔۔اس نے اس کے سینے پر سر رکھا تو تبریز شاہ نے اپنا حصار تنگ کیا۔

اپنے مینیجر کو بدلو منتتت میں اسے دوبارہ تمہارے پاس نہ دیکھو۔۔۔۔اس نے سختی سے کہا تو اس نے سر ہلایا ۔۔۔

تم پر ویسے بھی ابھی میرے بہت سے حساب نکلتے ہیں منت ۔۔۔۔۔اس نے اسے سیدھا کرتے اسے دیکھتے کہا۔

اور جو میرے ساتھ کیا تھا آپ نے کیا آپ اس پر پشیمان نہیں ۔۔۔۔؟؟منت نے نظریں جھکائے اس سے کہا۔

نہیں۔۔۔۔۔

ماضی زہن میں آتے ہی فوراً سے جواب دیا تو منت نے جھٹکے سے اسے دیکھا۔

اگر کبھی تمہیں کچھ ایسا پتا چلے جس کی تمہیں مجھ سے امید نا ہو۔۔۔۔کچھ ایسا جو تم پر حیرتوں کے پہاڑ توڑ دے اور تم بے یقین ہو جاؤ تو۔۔۔۔۔۔

منت نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔۔۔

تو میں جانچوں گی پہلے اگر وہ غلطی یا گناہ آپ سے حقیقت میں سرزرد ہوا تو وہ ہماری ملاقات کا آخری دن ہو گا اس نے آنکھوں میں یقین کی آگ لیے اسے دیکھتے کہا۔

تبریز شاہ کے گلے میں گلٹی ابھر پر معدوم ہوئی۔۔۔۔اسے اس کا یہ جواب ہرگز پسند نہیں آیا تھا۔۔۔۔

اس نے اسے پیچھے بیڈ پر بٹھایا اور خود کمرے سے نکل گیا۔۔۔۔لیکن پانچ منٹ بعد میں گیٹ کھلنے کی آواز پر وہ بھاگ کر باہر نکلی تھی۔

اسے دیکھا ۔۔۔۔۔۔۔جو جا رہا تھا۔۔۔۔وہ روکتی اسے لیکن وہ گاڑی سٹارٹ کر کے زن سے نکل گیا تھا۔۔۔۔منت نے گیٹ بند کرتے اندر آتے سامنے پڑے اس کے لائے تمام شاپرز جھٹکے سے پھینکے تھے۔

یہی حقیقت ہے تمہاری تبریز شاہ۔۔۔۔۔

تمہیں وہی چیز حق پر لگتی ہے جو تم کرتے ہو۔۔۔۔۔اس نے غصے سے کہا اور لیٹ گئی۔۔۔۔

تم ہر بار آتے ہو مجھے احساس دلاتے ہو کہ تم میرے ہو۔۔۔۔اور جب میں اس حقیقت پر یقین کرنے لگتی ہوں تو تم خواب بنا کر اس حقیقت کو ختم کر دیتے ہو۔۔۔۔۔

کیا تم سے زیادہ کوئی ظالم اور ستمگر ہے یہاں؟؟؟

اگلے روز وہ آفس نہیں گئی تھی یہ جانتے ہوئے کہ آج کل کام زیادہ ہو گیا تھا۔۔۔۔

وہ آج بھی نہ جاتی لیکن فورن کمپنی کے لوگ اپنا کام دیکھنا چاہتے تھے۔۔۔۔۔

اپنے پروڈکٹس وہ ایک بار دیکھنا چاہتے تھے اور اس کا وہاں ہونا ضروری تھا کیونکہ یہ ڈیل تبریز کے ساتھ اسے بھی دی گئی تھی۔

وہ بے دلی سے تیار ہوئی۔۔۔۔اس کے کل کے گرے شاپنگ بیگز اس نے اٹھائے بھی نہ تھے۔۔۔۔نو بجے وہ وہاں پہنچ چکی تھی۔

پورے آفس میں چہل پہل تھی۔۔۔۔۔جو معمول سے زیادہ انہیں کے آنے کی وجہ سے تھی۔۔۔۔

وہ بھی مین حال میں تیاری کو ایک آخری نظر دیکھنے گئی تھی۔۔۔۔۔مینیجر کو وہ آئی نہیں تھی اس لیے بدلا بھی نہیں تھا۔

اور سامنے تبریز شاہ نے اس کا آنا اور اپنے مینیجر سے بات کرنا سب دیکھا تھا۔

لیکن جب منت کی نظر اس پر پڑی وہ اس پر سے نگاہیں ہٹا چکا تھا۔

منت بھی دوسری طرف چلی گئی۔۔۔۔۔۔جسے تبریز شاہ نے دور تک دیکھا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کتنے ہی لمحے اسے دیکھتے اس نے آنکھوں کے ذریعے اسے دل میں اتارا تھا۔

اس کی آنکھوں کی تپش ہی تھی کہ وہ جھنجھلا کر اٹھی تھی نظریں سیدھا اس سے ٹکرائیں جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔

اس نے اسے دور ہونا چاہا تو باسط نے اس کی یہ کوشش ناکام بنائی۔۔۔

مت بھولو کہ قریب تم خود آئی تھی اور اب دور میری مرضی سے جاؤ گی اپنے کان کے پاس اس کی گھمبیر آواز سنتے اس نے سوکھے لبوں کو زبان سے تر کیا۔

باسط نے اس کی گردن کے پاس گہری سانس کھینچتے اس کی سانسوں کو انہیل کیا تھا۔۔۔۔

اس کی جھلستی سانسیں اپنی گردن پر محسوس کرتے اس نے چہرہ مزید جھکایا تھا۔

مت بھولو رباب باسط ضیاء کہ ابھی کل کی سزا تمہاری پوری نہیں ہوئی اس کے کہنے پر اس نے جھٹکے سے اسے دیکھا۔۔۔۔

کیا مطلب۔۔۔۔

مطلب یہ کے اس کی قمر پر اپنے ہاتھ کی پکڑ سخت کی۔۔۔۔رباب کو لگا اس کی انگلیاں رباب کی قمر میں دھنس جائیں گی۔

تم اس شخص سے دوبارہ بات نہیں کرو گی۔۔۔۔اس کا چہرہ سامنے کرتے سختی سے کہا۔

وہ ۔۔۔دوست۔۔۔ہے میرا۔۔۔۔وہ منمنائی۔۔۔۔

کیا یہ دوست اسوقت تمہارے سامنے موجود شخص سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔۔۔۔۔۔اس پر سے حصار کھینچتے بنا دور ہوئے استفسار کیا گیا۔

رباب نے تڑپ کر اسے دیکھا۔۔۔۔وہ کیوں اتنا انسکیور ہو رہا تھا۔۔۔۔شادی سے پہلے بھی وہ فاہد کو اس کا بوائے فرینڈز سمجھ گیا تھا۔

نہیں۔۔۔۔بالکل نہیں۔۔۔۔اس نے کہتے واپس اس کے حصار میں آنا چاہا۔۔۔۔۔

تو اسے فون کرو اور بتاؤ کہ وہ تم سے دوبارہ کبھی رابطہ نہ کرے ۔۔۔۔۔۔باسط نے کہتے اسے دیکھا جو بے یقنینی سے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔

وہ بچپن سے دوست ہے میرا۔۔۔۔اس نے میرا ہر موقع پر ساتھ نبھایا ہے۔۔۔میں کیسے احسان فراموش۔۔۔۔۔۔

تو ٹھیک ہے۔۔۔۔آلرائٹ۔۔۔۔باسط کہتا اٹھنے لگا تھا کہ وہ جھٹ سے اسے روک گئی۔

اسے دیکھتے ہاں میں سر ہلایا اور فون پکڑ کر اس کا نمبر ملایا۔۔۔۔

اب وہ شادی شدہ تھی۔۔۔۔اگر اس کا شوہر نہیں چاہتا تھا کہ وہ اس شخص سے رابطے میں رہے تو ۔۔۔۔اسے نہیں رہنا چاہیے تھا۔۔۔۔

اس نے فون ملایا۔۔۔۔باسط نے واپس اس کے قریب آتے چہرہ اس کی گردن میں چھپایا۔۔۔۔

فادی۔۔۔۔اس کے منہ سے سنتے باسط نے اپنے دانت اس کی گردن میں گاڑے تو اس کے منہ سے سسکی برآمد ہوئی۔

کیسی ہو رابی۔۔۔کل بھی فون بند کر دیا تھا بعد میں بند آرہا تھا ۔۔۔۔خیریت۔۔۔۔

فاحد اب میں تم سے کوئی رابطہ نہیں رکھنا چاہتی۔۔۔۔اسے مجبوری سمجھ لو۔۔۔۔تم نے ہمیشہ میرا ساتھ دیا اس کا شکریہ۔۔۔۔خدا تمہیں اس کا اجر دے۔۔۔اس نے کہتے فون کاٹ کر گہری سانس بھری آنکھیں پل میں نم ہوئی۔

اگر میں نے ایک بھی آنسو اس بار سے باہر نکلتا دکھا تو جان لے لوں گا تمہاری۔۔۔۔۔ اس پر ایسے ہی حاوی ہوتے وہ چیخا۔

آپ بہت برے ہیں باسط۔۔۔۔۔اس کے سینے پر مکے برساتے اس نے کہا۔

باسط نے سکون سے اسے ساتھ لگایا اور اس کی گردن پر موجود اپنے دیے زخم کو آہستہ سے سہلاتے اس سے معافی مانگی۔

وہ تو پہلے ہی اس کی محبت میں ڈوبی تھی۔۔۔۔روتے روتے مسکرا دی تو وہ مسکرایا۔۔۔۔اسے یہ منظر بے حد بھایا تھا۔