Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shiddat-e-Talab Episode 25

Shiddat-e-Talab by Suneha Rauf

اگلی صبح درید ان کے اٹھنے سے پہلے چلا گیا تھا کیونکہ تھانے سے فون آیا تھا پروین کی لوکیشن ٹریس کر لی گئی تھی۔

لیکن حالات کچھ بھی ہو سکتے تھے اس لیے اس نے ربائشہ کو اٹھا کر کہا تھا کہ وہ وقت سے چلی جائے اور ڈرائیور کو خاص تاکید کی تھی۔

ربائشہ نے سنا تھا یا نہیں کیونکہ وہ عنودگی میں صرف سر ہاں میں ہلا گئی تھی۔

وہ جب اٹھی تو گیارہ بج رہے تھے وہ حیران ہوئی اتنا کیسے سو سکتی تھی۔۔۔

درید کے مطابق اسے دس بجے ہی چلے جانا چاہیے تھا لیکن وہ اب تک وہیں تھی کیونکہ اس نے جانا ہی نہیں تھا۔

میڈیم۔۔۔۔۔ڈرائیور نے اندر آتے دروازہ نوک کیا۔

جی؟

سر کا حکم تھا دس بجے کا۔۔۔

ہم کہیں نہیں جا رہے چاچا۔۔۔۔آپ پلیز درید کو فون کر کے مت بتائیے گا میں سب سنبھال لوں گی۔۔

لیکن میڈیم خطرہ ہو سکتا ہے۔۔۔۔

پلیزچاچا۔۔۔۔میری درخواست ہے آپ سے۔۔۔۔ددید کو میں خود سنبھال لوں گی آپ انہیں مت بتائے گا۔

اوکے۔۔۔۔وہ نفی میں سر ہلاتے چلے گئے۔

حازق کے رونے پر وہ اس کا فیڈر بناتی اندر گئی اور اسے گود میں لیتے پلانے لگی۔

آلے میلا بے بی۔۔۔۔جلدی سے پی لو۔۔۔وہ ساتھ ساتھ اس سے باتوں میں مصروف تھی۔

پورے کا پورا باپ پر گیا ہے صرف یہ چھوٹی آنکھیں ہی مجھ سے چرائی ہے یہ بہت ناانصافی ہے وہ کڑھنے لگی۔

اس کے بیٹے کی ہنسی کی جلترنگ کمرے میں بکھری جیسے اپنی ماں کا جلنا کڑھنا اسے پسند آیا ہو۔

سچ میں باپ پر گیا ہے۔۔۔۔وہ اس کے کپڑے بدلنے لگی۔۔۔اس کا گندا ڈائپر پھینکتی وہ اس کے گرد تکیے رکھ کر باورچی کھانے میں خانساماں کو کھانے کا بتانے آئی تھی۔

جب اسے لاونج کی کھڑکیاں ٹوٹنے کی آواز آئی۔۔۔۔ساتھ ہی اسے فائرنگ کی آواز سنائی دی۔

اس کے منہ سے چیخ برآمد ہوئی۔۔۔۔ڈر اس کے حواسوں پر چھا گیا تھا۔

خانساماں فوراً کچن کی کھڑکی سے باہر لون میں کودی لیکن اس کی ہمت نہ ہوئی۔

وہ شل ہوتی ٹانگوں اور مفلوج ہوتے جسم سے وہیں کھڑی رہی۔۔۔۔لیکن حازق کا خیال آتے ہی اس کی روح پرواز ہوئی ہو جیسے۔

وہ کچن سے دوڑتے باہر نکلی لیکن لاؤنج کے دروازے پر اس وجود کو دیکھتے تھمی۔

“یہ آپ لوگوں کی حفاظت کے لیے کر رہا ہوں میں یہ بات یاد رکھیں”

درید کا کہا جملہ یاد آتے اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپ ٹپ برسنے لگے۔۔۔۔شاید اپنے شوہر کی بات کی نفی کرنے والی بیویوں کا یہی انجام ہوتا ہے اس نے بند ہوتے دل کے ساتھ سوچا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہاں صاف صاف لکھا تھا۔۔۔۔کہ اس لڑکی کے ساتھ ری**۔۔۔۔۔۔

وہ میڈیکل رپورٹس تھیں۔۔۔۔۔اور ساتھ اس لڑکی کے کندھے کی تصویریں تھیں جہاں نشانات تھے۔

اس کی ریپورٹس میں مجرم کا نام بڑے ہندسوں میں لکھا تھا۔

تبریز شاہ!

اس نے سر اٹھاتے سامنے دیکھا جہاں وہ سانس روکے کھڑا تھا۔

وہ قدم قدم چلتی اس کے پاس آئی اور اسے دیکھنے لگی آنکھیں جھپک کر آنسو روکنے چاہے تھے۔

کیوں؟؟؟

تبریز شاہ نے آنکھیں بند کر کے کھولیں؟

یہ سب جھوٹ ہے۔۔۔۔!

وہ بس اتنا ہی کہہ پایا۔۔۔کہاں اس نے سوچا تھا وہ سارے ثبوت دکھائے گا لیکن اس وقت وہ بلینک تھا اس لڑکی کے سامنے جس سے اس نے عشق کیا تھا اور اس کی آنکھوں میں اس کے لیے سرد پن تھا۔

کیا میڈیکل رپورٹس اور ہسپتال والے جھوٹ بھی لکھتے ہیں۔۔۔۔؟

مجھے یقین ہی نہیں ہو رہا وہ شخص جسے میں نے سر آنکھوں پر بٹھا کر رکھا وہ کسی کے ساتھ ۔۔۔

یہ بکواس ہے۔۔۔جھوٹ ہے سب۔۔۔

بس کریں۔۔۔۔اگر جھوٹ ہے تو اتنا غصہ کیوں؟ وہ اس کے قریب آتی اس کا کارلر تھامتی بولی۔

اس کا دل چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا منت تم کہیں غلطی نا کر دو۔۔۔یہ وہ شخص ہے جس نے تم سے نکاح ہونے پر بھی تمہیں نظر اٹھا کر نہیں دیکھا تھا لیکن اپنے سامنے موجود ثبوتوں کو وہ یوں نظر انداز نہیں کر سکتی تھی اور تبریز شاہ کا لہجہ۔۔۔۔۔

میں نے تمہیں کہا تھا حالات کچھ بھی ہوں مجھ پر یقین رکھنا۔۔۔۔

اس لڑکی پر کیا بیتی ہو گی آپ نے سوچا ہے۔۔۔۔؟آنکھوں سے گرم سیال بہنے پگا۔

انففف منتتت۔۔۔۔میں سب سمجھا دوں گا تمہیں!

اگر آپ کا بدلہ مجھ سے لیا گیا اور میری عزت۔۔۔۔۔!

منتتتت۔۔۔۔!

تبریز شاہ کا ہاتھ ایک بار آج پھر اٹھا تھا لیکن ہوا میں رہ گیا وہ عورت اس کا ضبط برے طریقے سے آزماتی تھی۔

منت نے سر اٹھا کر اسے دیکھا بے یقینی ہی بے یقنینی تھی پھر وہ مسکرا پڑی۔۔۔تبریز شاہ نے مٹھایاں بھینچ کر خود پر کنٹرول کیا۔

مجھے صرف ایک بات کا جواب دیں۔۔۔۔کون سا تبریز شاہ اصل تھا پہلے والا یا یہ؟ وہ جو مجھے ہر سرد و گرم سے بچاتا تھا یا یہ جو مجھ پر ہاتھ اٹھاتا ہے۔

ہاتھ اٹھایا نہیں ہے میں نے۔۔۔اپنے لفظوں پر غور کرو۔۔۔اور خاموش ہو جاؤ۔۔۔

کیوں ہو جاؤں میں خاموش؟

منتتت۔۔۔۔میں بتا دوں گا سب میں کہہ رہا ہوں۔۔۔۔اس سے زیادہ میرا ضبط مت آزماؤ۔۔۔میں صبر کے آخری مراحل پر ہوں۔

آپ نے مجھے سے نکاح کیوں کیا تھا؟

میں ایک بات بار بار نہیں بتا سکتا ۔۔۔

شاید تب بھی وہ ٹھیک کہہ رہا تھا۔۔۔وہ یہاں وہاں دیکھتی بولی تو تبریز شاہ کے تاثرات سخت ہوئے۔

تم مجھ پر اس شخص کو فوقیت دے رہی ہو جسے جانتی تک نہیں۔۔۔زبردست۔۔۔اور پھر کمرے میں شور برپا ہوا تھا کیونکہ وہ آگے بڑھتا کمرے کا حال بگاڑ چکا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہسپتال کے باہر گاڑی روکتے اس کی طرف کا دروازہ کھولا اور اپنے ساتھ لگاتے وہ اندر لایا۔

اور بنا انتظار کیے وہ اندر لے گیا کیونکہ وہ اپاونٹمنٹ آفس سے نکلتے ہی لے چکا تھا۔

آپ باہر رکیں میں چیک اپ کر لیتی ہوں۔۔۔ڈاکٹر نے کہا تو اس نے رباب کو دیکھا جو اس کا ہاتھ سختی سے تھامے ہوئی تھی۔

رباب میں باہر ہی ہوں۔۔۔

اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے چھڑواتے باسط نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا اور باہر نکل گیا۔

اب وہ باہر اضطرابی کیفیت میں چکر کاٹ رہا تھا۔۔۔۔اس نے درید کو فون ملایا ناچاہتے ہوئے بھی۔

بولو! درید نے فون اٹھاتے ہی سنجیدگی سے پوچھا۔

کچھ نہیں! اس کے انداز پر باسط نے غصے سے فون کاٹ دیا اور انتظار کرنے لگا۔

اب وہ ڈاکٹر کے سامنے اس کے ساتھ بیٹھا تھا اس کا ہاتھ تھامے ۔۔۔

آپ کی وائف ٹو ویکس پریگنینٹ ہے سر۔۔۔۔لیکن کافی کمزوری ہے انہیں جن کے لیے میں کچھ دوائیں دے رہی ہوں اور آپ نے باقاعدگی سے چیک اپ کرواتے رہنا ہے اس نے کہا تو باسط نے اسے دیکھا جو سنجیدگی سے اپنے ہاتھوں کو گھور رہی تھی۔

وہ اسے ساتھ لیتا دوائیں لے کر گھر لایا۔۔۔۔راستے میں بھی وہ کچھ نہیں بولی تو وہ خاموش رہا۔

اسے بیڈ پر بٹھاتے وہ اس کے سامنے بیٹھا اور اس کے ہاتھوں کو تھاما اور اسے دیکھا جو ہونٹ کاٹ رہی تھی۔

کیا ہوا؟ خوش نہیں ہو؟

رباب نے نم آنکھیں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔

مجھے سمجھ نہیں آرہی۔۔

کیا؟ باسط کو اس کا رویہ سمجھ نہ آیا تھا۔

میں کیسے یہ زمہ دادی۔۔۔اور پھر اس کی بات سنتے وہ گہرا سانس بھر کر رہ گیا۔

تم خوش قسمت ہو رباب رب العالمین ہمیں ہماری اولاد سے نواز رہا ہے۔۔۔لوگ ترستے ہیں اس نعمت کے لیے۔۔۔اور ہمت رب خود ہی پیدا کر دیتا ہے۔۔۔

ربائشہ کو نہیں دیکھا اس نے اکیلے خود کو سنبھالا تھا سب کیا تھا تم بھی کر سکتی ہو اور میں ساتھ تو ہوں تمہارے۔۔۔

آپ خوش ہیں؟

تمہیں کیا لگتا ہے باسط نے کھینچ کر اسے قریب کیا اور حصار میں لیا۔

میں نہیں جانتی۔۔۔وہ دھیمے سے بولی اور اپنا چہرہ اس کے سینے میں چھپایا۔

میں بہت خوش ہوں۔۔۔تم نے میری خواہش کو پورا کیا ہے اور اس نعمت پر کون ہے جو خوش نہیں ہوتا ہم بھی مکمل ہو جائیں گے۔۔۔اور تم مکمل کرو گی مجھے اس نے کہتے رباب کے بالوں پر بوسہ دیا۔

میں بھی بہت خوش ہوں۔۔۔بس ڈری ہوں تھوڑا سا۔۔۔۔

کچھ نہیں ہو گا۔۔۔ریلیکس رہو اپنا دھیان رکھو۔۔۔۔

مجھے یاد آیا۔۔! وہ جو اس کے بالوں میں انگلیاں چلا رہا تھا اسے ایسے اچھل کر چیختے دیکھ چونکا۔

کیا؟

آپ نے کہا تھا جب میں آپ کی یہ خواہش پوری کروں گی آپ گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اپنی محبت کا اظہار کریں گے مجھ سے۔۔۔۔اس نے چہکتے کہا۔

بیوی شاید تم بھول رہی ہو۔۔۔میں نے کہا تھا میری اولاد میرے ہاتھ میں ہو گی تب۔۔۔۔

باسطط۔۔۔۔یہ آپ نے نہیں کہا تھا۔۔۔وہ چیخی تو اس کا قہقہہ گونجا۔

رباب واپس اس کے ساتھ لگتی بیٹھ گئی تو وہ اسے ہاتھوں میں اپنی انگلیاں الجھاتا اسے پرسکون کرنے لگا۔

بھیو کو بھی بتانا ہے۔۔۔یاد آنے پر وہ بولی۔۔۔

تو بتادو فون کر کے۔۔۔۔

نہیں مجھے شرم آتی ہے۔۔۔اور ہم دونوں خود جائیں گے تب آپ بتا دینا۔۔۔

اب تم کہیں نہیں جاؤ گی ۔۔۔گھر رہو گی۔۔۔میں خود ملوا لاؤں گا تمہیں۔

اچھا ابھی فون پر تو بتا دیں۔۔۔

فون نہیں کر رہا میں۔۔۔تمہارے بھائی کا بلا وجہ کا ایٹی ٹیوڈ نہیں دیکھا جاتا مجھ سے۔۔۔اس نے کہا تو رباب نے گھور کر اسے دیکھا۔

آپ بھی کچھ کم نہیں ہیں۔۔۔اس نے کہا تو باسط نے اسے واپس سے پاس بٹھایا جو اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔

کھانا نہیں کھانا آپ نے؟ رباب نے اس کے بال ماتھے سے ہٹاتے کہا تو اس نے سر ہلایا اور اس کے ساتھ ہی باہر نکل گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آپ یہاں۔۔۔کیا۔۔۔کر۔۔۔

ہاہاہا۔۔۔۔۔اپنی بیٹی سے ملنے آئی ہوں۔۔۔یا یوں کہا جائے کہ اپنے شوہر کی قاتل سے ملنے آئی ہوں۔۔۔

اس عورت کے آدمی ہاتھوں میں ڈنڈے اور دو نے گن تھام رکھی تھی پورے لاؤنج میں پھیلے تھے۔

میں قاتل نہیں ہو ۔۔۔وہ چیخی۔۔۔۔

یہ تو مجھے پتا ہے نا۔۔۔تمہارے شوہر کو کافی محبت ہے تم سے۔۔۔اسی لیے آج تھانوں کی کسی فائل میں ربائشہ حق۔۔۔۔کا نام تک نہیں ملتا۔۔اور سنا ہے ایک اولاد کو جنم دیا ہے ۔۔۔۔

نہ۔۔۔نہی۔۔۔نہیں۔۔! وہ لڑکھڑائی۔۔۔

تم سے تھوڑے مگر تمہارے شوہر سے بہت حساب نکلتے ہیں۔۔۔اس **** کی وجہ سے میں نے کافی عرصہ جیل میں گزارا ہے یہ بھی تیرے تائے کا دوست جس کے ساتھ اچھا وقت گزرا ہے مدد نہ کرتا تو میں وہیں سر کر مر جاتی۔۔۔۔

ربائشہ نے آنکھیں میچی۔۔۔اچھے وقت کا مطلب وہ اچھے سے سمجھتی تھی اس کی سوتیلی ماں کا کردار کتنا گندا تھا یہ تو وہ جان گئی تھی۔

اس کے بیٹے کو لے کر آؤ۔۔۔وہ منہ میں سپاری ڈالتی اپنے ساتھ کھڑے بندے سے بولی۔۔

نہیں ۔۔۔۔۔ہمت نہ کرنا۔۔۔۔میں مار دوں۔۔گی سب کو۔۔۔وہ آگے بڑھتی چیخی۔

ماننا۔۔۔۔پڑے گا اے ایس پی کی بیوی اس کے جیسی ہے۔۔۔۔

منہ کیا دیکھ رہے ہو پکڑو اسے اور اس کے بیٹے کو لے کر آؤ۔۔۔۔ اس نے اپنے آدمیوں کو کہا۔۔۔باہر موجود سکیورٹی کے لوگوں کو مارا گیا تھا اور جو باہر کچھ دور موجود تھے وہ اندر ہوئی کاروائی سے لاعلم تھے کیونکہ گارڑ اور ڈرائیور دوپہر کا کھانا کھانے گئے تھے۔

اس کے آدمیوں نے ربائشہ کو پکڑا۔۔۔

میرا بیٹا۔۔۔۔چھوڑو۔۔۔۔

چھوڑو۔۔۔۔وہ روتے نڈھال ہو گئی۔۔۔لیکن ماں تھی ہار نہیں مان سکتی تھی۔۔۔

درید۔۔۔۔

دریددددد۔۔۔۔۔

لیکن وہ نہیں موجود تھا نہیں تو اس کی بیوی اور بیٹے کو ہاتھ لگانے والوں کے ہاتھ اس وقت ان کے تن سے لٹک رہے ہوتے۔

وہ اس کے بیٹے کو لائے اور لا کر پروین کو تھما دیا۔۔۔۔

اہاں۔۔۔۔۔اولاد بھی خوبصورت ہے سوچو۔۔۔اگر اسے بیچ دیا جائے تو۔۔۔۔؟

خدا کا خوف کریں ۔۔آپ میری ماں۔۔۔ماں کے رتنے پر فائز ہیں ۔۔۔ایسا ظلم نہ کریں۔۔۔۔میری اولاد۔۔۔۔

اسے وہ تمام درد یاد آئے جو اس نے اس اولاد کے لیے اٹھائے تھے، کمرے میں اکیلے بیہوش ہو جانا، درید سے دوری، اس کو جنم دیتے وقت کی تکلیف۔۔۔۔اس کی آنکھیں برسنے لگیں۔

وہ بے حال تھی ایک ماں سے اس کی اولاد چھینی جا رہی تھی اس کا دل اور بنا دل کے انسان کیسے زندہ رہ سکتا ہے بھلا۔

نہیں ہوں میں تیری ماں۔۔۔تیری ماں مر چکی ہے تیرے باپ کی طرح ۔۔۔تیرا اس دنیا میں صرف ایک ہی رشتہ اب بچا ہے اور وہ ہے تیرا شوہر۔۔۔کیونکہ بیٹا تو اب میں لے کر جا رہی ہوں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

منت ایک کونے میں کھڑی تھی ساکت سی۔۔۔۔یہ کیا ہو رہا تھا؟

وہ شخص بے حال سا تھا۔۔۔۔اسے کا دل دھڑکنا بھول گیا۔۔۔۔اس نے اس پر یقین نہیں کیا تھا۔

لیکن وہ ریپورٹس۔۔۔وہ نشان۔۔۔سارے ثبوت؟ وہ فون کال۔۔۔۔

اس کے ساتھ گزارے سارے پل اس کی آنکھوں کے سامنے سے گزرے۔۔۔کیا اس نے کبھی اس کے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کی تھی کسی بھی معاملے میں؟ کیا اس نے خود کے ساتھ اسے بُرا پایا تھا۔۔۔۔اس کے دل میں خاموشی چھا گئی جو شاید اسے کوس رہا تھا۔

میں پاگل ہو جاؤں گی۔۔۔۔۔

دنیا یا محبت؟ اس کے دل سے آواز آئی۔۔۔۔

لیکن وہ ایک لڑکی ہو کر کیسے کسی لڑکی کے ساتھ برا کرنے والے کو۔۔۔۔۔

“دنیا یا محبت؟”

پھر سے سوال اٹھا تھا اس نے نظر اٹھا کر اس شخص کو دیکھا جو بے حال سا وہاں کرسی پر بیٹھا تھا۔

وہ قدم قدم چلتی اس کی طرف گئی یعنی اس کے دل نے چُن لیا تھا دنیا یا محبت میں سے عشق کو جو تبریز شاہ سے تھا۔

وہ اس کے پاس جاتی دوزانوں بیٹھی اور اسکے ہاتھ کو تھامنا چاہا جہاں جا بجا زخم تھے۔

دور رہووو۔۔۔!

اس کی آواز سنتے اس کے دل رک گیا۔

شاہ! اس کے لبوں سے ایک ہی لفظ آزاد ہوا۔

شاہ نہیں اب سے تبریز شاہ! اس نے سفاکیت سے کہا اور کھڑا ہو گیا۔

میں نے تمہیں کہا تھا منت وقار کہ مجھ پر بھروسہ رکھنا حالات کچھ بھی ہوں۔۔۔۔تم نے کسی غیر کو مجھ پر فوقیت دی مجھ پر بھروسہ نہیں دکھایا۔۔۔میں نے کہا تھا مجھے تمہاری آنکھوں میں بے یقینی دکھی تو جان سے مار دوں گا لیکن تم نے اس سے پہلے مجھے مار دیا۔۔۔منت وقار مجھے مار دیا وہ دھاڑا تو اس کی ہچکی بندھ گئی۔

تمہیں پتا ہے میں نے تمہیں کبھی کیوں نہیں بتایا کہ مجھے تم سے محبت ہے، عشق ہے۔۔۔

کیونکہ ہر چیز اپنی قیمت کھو دیتی ہے اور میری محبت نے بھی قیمت کھو دی اقرار کے بعد۔۔۔۔

مجھے ۔۔۔مجھے کسی عورت پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے تھا یہ میری غلطی ہے لیکن تم سے محبت ہوئی یہ تمہاری غلطی ہے تم نے مجھے مجبور کیا تھا۔۔۔اس کی آواز پورے گھر میں گونج رہی تھی۔

اس کے یقین، اس کے مان کو توڑا گیا تھا۔

میں۔۔۔

شششش!

تم اپنے حصے کا بول چکی منت وقار۔۔۔۔وہ کہتا باہر نکل گیا تو وہ اس کے پیچھے گئی۔

آپ نے مجھے نہیں بتایا تھا کچھ۔۔۔کیوں؟ کیا میں اتنی بھی قابل نہیں یا میری اتنی حیثیت نہیں تھی کہ آپ مجھے بتا سکتے کچھ، اپنے ماضی کے مطابق۔

اندر جاؤ۔۔۔اسے گیٹ سے نکلتے دیکھ وہ غرایا تھا۔

مجھے جواب چاہیے۔۔۔

اب کسی بھی جواب اور صفائی کا حق کھو چکی ہو تم۔۔۔۔میں مجرم ہوں۔۔۔بس یہ جان لو۔۔۔

جاؤ اندر۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شاہ۔۔۔۔۔! میں اتنی بے وقعت نہیں ہوں مجھے اتنا مت گرائیں۔۔۔ اس کا وجود ہلکا ہلکا لرز رہا تھا۔

جلد سچ تمہارے سامنے ہو گا۔۔۔لیکن یاد رکھنا تبریز شاہ کو کھو دیا تم نے منت وقار۔۔۔

وہ اس کے نام کے آگے سے اپنا نام ہٹا گیا تھا۔۔۔اس کے پاؤں پر نظر ڈالتے اس نے لب بھینچے جو گرم سڑک پر بنا جوتے کے کھڑی تھی۔

اسے کھنچتے اپنے ساتھ دروازے تک لایا اور وہاں پڑے جوتوں کے سٹینڈ سے اس کے سلیپرز لیتے اس کے قدموں میں پھینکے۔

پہنو!

اور اگر میں آپ کی بات نہ۔۔۔۔

صرف اتنا کرو جتنا بعد میں سہہ سکو۔۔۔کیونکہ تمہاری نازک جان میرا تمہیں نظرانداز کرنا زیادہ دیر نہیں برداشت کر سکے گی۔

منت نے جوتے پہنتے اس کا کالر تھاما اور اس کی آنکھوں میں اپنی سرخ سوجی آنکھیں ڈالی۔

اور اگر قصوروار تم ہوئے تبریز شاہ تو؟

تم مجھے سزا دے چکی ہو اپنے لہجے سے۔۔۔۔اب کچھ بچا نہیں ہے۔۔۔۔

تم مجھے علیحدہ۔۔۔۔

وہ شخص اس کے بالوں کو مٹھی میں بھینچتے اس پر جھکا “نوبت آگئی تو یہ بھی کر گزروں گا” اسے دروازے کے اندر دھکا دیتے دروازہ بند کیا اور باہر نکل گیا۔

وہ وہیں دروازے کے پاس بیٹھ گئی۔

“کیا یہ سفر بس اتنا ہی تھا؟”

اس شخص سے دوری یعنی موت۔۔۔۔اس کا بھاری ہوتا سر نفی میں ہل رہا تھا اور پھر اس نے چھت کے دروازے کے لاک پر شور سنا تھا۔

اس کی روح فنا ہوئی تھی لیکن وجود اس بات کی اجازت نا دیتا تھا کہ وہ اپنے بچاؤ کے لیے بھاگتی۔

بند ہوتی آنکھوں سے اس نے کچھ آدمیوں کو سیڑھیوں سے نیچے اترتا لاونج میں اس کے سامنے کھڑا ہوتا محسوس کیا تھا۔

پھر اس گھر “منت اور تبریز شاہ” کی جنت کا نقشہ بدل دیا گیا تھا ہر چیز کو توڑ دیا گیا تھا اور وہ لفظ تک نا بول پائی۔

آخری بار اس کے اپنے بال کسی کی گرفت میں محسوس کیے تھے جو اسے ناجانے کیا کیا بک رہا تھا۔

یہ وہ گرفت نا تھی جو تبریز شاہ کی غصے میں بھی ہوتی تھی یہ سخت تھی بے حد سخت۔

شاید تمہاری غلطی کی سزا اب تمہاری بیوی بھرے، ہماری جنت بکھر گئی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر دامن پر گرا اور اس کا سانس اکھڑنے لگا۔

“شاہ! میں منت وقار نہیں منت تبریز شاہ ہوں سب بکھر گیا تم بکھر گئے، ہمارا گھر بکھر گیا اور منت۔۔۔منت بکھر کر ٹوٹ گئی”