Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shiddat-e-Talab Episode 4

Shiddat-e-Talab by Suneha Rauf

میسر مجھے ہزار لوگ ہیں

مگر ہائے وہ ایک شخص

جو بہت قریب ہوتے ہوئے بھی

پہنچ سے دور ہے میری

اسے چاہا ہر سانس کے ساتھ ہے میں نے

مگر ہائے بڑا بے رحم ہے وہ شخص

اس پر اٹھتی ہر نگاہ ناگوار گزرتی ہے مجھے

پر ہائے کیا فرق پڑتا ہے اسے

مجھے پسند نہیں کوئی اس پر نگاہ ڈالے

مگر ہائے وہ شخص جھک جھک کر ملتا ہے سب سے

کبھی دل چاہتا ہے چھوڑ دوں یہ محبت

مگر ہائے ہر سانس کے ساتھ یاد آتا ہے وہ شخص

اب تو عرصہ گزرا راہ یار کو تکتے

مگر ہائے سب راستے بھول گیا ہے وہ شخص

کوئی دم بتاؤ یا حل ہی ڈھونڈ دو

جس سے میرا رہے ہمیشہ وہ شخص

از قلم سُنیہا رؤف۔

ماضی:

آج اس کا اس یونیورسٹی میں پہلا دن تھا۔۔۔۔بیشک اس کا باپ یہ یونیورسٹی افورڈ کر سکتا تھا لیکن اس کا ایڈمیشن اس کی ذہانت کی بنا پر ہوا تھا۔

منت وقار کے والد ایک بزنس مین تھے ۔۔۔۔وہ اکلوتی اولاد تھی ان کی ۔۔۔۔اس کی والدہ کی وفات تب ہوئی جب وہ دس سال کی تھی۔

وہ پہلے بھی بہت نازک مزاج تھی اور ماں کے بعد تو نہایت حساس ہو گئی۔

آج اتنی بڑی یونیورسٹی میں لڑکوں کے درمیان اس کی ٹانگیں کانپ رہی تھی۔۔۔۔اس نے اب تک لڑکیوں کے اداروں میں پڑھا تھا۔

لیکن اب وہ پہلی بار لڑکوں کے ساتھ پڑھنے آئی تھی۔۔۔۔۔۔وہ اس لیے کیونکہ اس کے والد اسے بزنس پڑھا کراس کے پاؤں پر کھڑا کرنا چاہتے تھے۔

دروازے پر کھڑے اسے دس منٹ ہو گئے تھے۔۔۔۔اسے یہاں اپنا آپ کھوتا ہوا نظر آیا۔

راستے سے دور ہو کر کھڑی ہوں مس۔۔۔۔۔۔پیچھے سے کسی لڑکے نے ہانک لگائی تو وہ چونکی اور ڈر کر سائیڈ پر ہٹی۔

ہیلو بیوٹی۔۔۔۔۔۔!

ابھی وہ قدم آگے بڑھاتی کہ ایک لڑکے کی آواز پر تھمی جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔

گلابی رنگ کی شلوار قمیض پر ڈیڑھ انچ کا دوپٹہ لیے ۔۔۔۔۔۔بالوں کو پونی میں قید کیے، بنا میک اپ کے، گلابی رنگت، بھرے گال، متناسب سراپہ اور درمیانہ قد وہ بے حد حسین تھی۔

اسے مزید حسین اس کی معصومیت بناتی تھی۔۔۔۔۔۔کیونکہ چلاکی اور دنیا سے لڑنا اس نے ایک بند گھر میں کہاں سیکھا تھا۔

اس کے باپ نے اسے بہت سنبھال کر رکھا تھا۔۔۔۔۔اپنے باپ کے علاؤہ کوئی دوست رہا ہی نہیں تھا اس کا۔

یہی وجہ تھی کہ کالج اور سکول میں اس کا ایک بھی دوست نہ تھا۔۔۔۔۔اس نے اس لڑکے کو دیکھا جس نے اس کے سامنے ہاتھ کیا تھا۔

وہ شکل سے ہی اسے کوئی آوارا لگا ۔۔۔اس کا سانس سوکھا۔۔۔

قاسم دلاور۔۔۔۔اس نے ہاتھ آگے کرتے اپنا نام بتایا اور اس کا دریافت کرنا چاہا۔

لیکن اس نے جواب نہ دیا۔۔۔۔۔ہمت ہی نہ ہوئی۔۔۔اس کی آنکھوں کی معصومیت پر وہ لڑکا مسکرایا جیسے شکاری شکار کو دیکھ کر مسکراتا ہو۔

کس ڈیپارٹمنٹ جانا ہے۔۔۔؟ کیوٹی۔۔۔۔۔!

اس نے ہاتھ پیچھے ہٹاتے چہرے پر مسکراہٹ لیے پھر سے دریافت کیا۔

بز۔۔۔۔بزنس۔۔۔۔۔اس نے کہتے نظریں جھکائی۔۔۔۔اس کی اس ادا پر دور کھڑے کافی لوگوں کے چہرے چمکے۔

اوو۔۔۔۔۔ سامنے دیکھ رہی ہو وہ بلڈنگ۔۔۔اس میں ایف سیون روم تمہاری کلاس ہے۔۔۔اور پہلا لیکچر شروع ہو چکا ہے جاؤ فوراً۔۔۔۔

اس نے کہتے اسے ڈرایا۔۔۔تو وہ بنا اس کی طرف دیکھے تیزتیز قدم اٹھاتی آگے بڑھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آپا اسے لے کر وہاں سے نکل گئی تھیں ۔۔۔۔اب کیا کرنا تھا انہیں وہ نہیں جانتی تھی۔

وہ اسے گھر لے آئیں ۔۔۔۔۔کھانا کھلایا اور آرام کرنے کی تلقین کی ۔۔۔۔۔لیکن اس کا دماغ آج ہوئے سانحہ کو یاد کرتے مفلوج ہو گیا تھا۔

اب کوئی نہیں ہے میرا۔۔۔۔۔میں کہاں جاؤ گی۔۔۔۔۔اس نے سوچتے آنکھیں بند کیں۔

یہ اس کی اصل زندگی تھی۔۔۔۔کوئی کہانی یا افسانہ نہیں جہاں وہ آدھی رات کو نکلتی بھی تو وہ محفوظ رہتی۔۔۔

اس دنیا میں رات کی سیاہی میں کوئی بھی محفوظ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔جن کے سر پر چھت نہ ہوں ان ڈھکے ہووؤں کو بھی دنیا چھیڑ پھاڑ دیتی ہے۔

وہ حقیقت پسند بن رہی تھی۔۔۔۔۔آپا اس کی ماں کی بچپن کی سہیلی تھی۔۔۔لیکن وہ جانتی تھی اسے یہاں سے بھی جانا ہے۔

ساری رات اس کی آنکھوں میں کٹی تھی۔۔۔۔۔۔کب آنکھ لگی اسے اندازہ نہ ہوا۔۔۔۔۔

آنکھ شور کی آواز سے کھلی۔۔۔۔جب اندازہ ہوا کہ باہر کوئی بحث چل رہی ہے۔۔۔۔

اور اس بحث کا موضوع اسی کی زات تھی۔۔۔۔اسے اندازہ ہوا کہ پولیس ایک بار پھر اس کے دروازے پر ہے۔

تو کیا آگے کی ساری زندگی اس کالکوٹھری میں گزرنی تھی۔

اسے اپنی آنکھوں کے سامنے اندھیرا ہوتا نظر آیا۔۔۔۔۔۔بحث اب بڑھتی جا رہی تھی۔۔۔۔

اسے آپا کی آواز کے ساتھ اب عورت کی آواز بھی سنائی دے رہی تھی۔۔۔۔اسے باتوں سے اندازہ ہوا۔۔۔۔

نکالو اس لڑکی کو باہر۔۔۔۔

میں کل بھی بتا چکی ہوں وہ بے گناہ ہے۔۔۔کل وہ اس وقت میرے ساتھ تھی ۔۔۔۔میرے گھر۔۔۔۔آپا نے جواب دیا۔

ہمیں جانچ پڑتال تو کرنی ہے نا میڈیم۔۔۔۔۔۔مہربانی کر کے تعاون کریں۔۔۔۔انسپیکٹر بولا۔

جوان جہاں بچی ہے۔۔۔۔۔۔تھانے میں کہاں رلے گی۔۔۔۔۔اس کی عزت ۔۔۔۔

عزت کی پرواہ اسے ایسی حرکت کرنے سے پہلے سوچنی چاہیے تھی۔۔۔۔لیڈی کانسٹیبل نے جواب دیا۔

اس کی نجانے کیا ہی دشمنی تھی۔۔۔۔یا شاید اس کی ماں نے پیسہ دیا تھا ۔۔۔۔۔جو اس کی زبان اتنی چل رہی تھی۔

دیکھو بی بی۔۔۔۔۔وارنٹ ساتھ لائیں ہیں لڑکی نکالو۔۔۔۔۔فورا وقت ضائع مت کرو ہمارا۔۔۔۔

وہ سب سنتی کمرے کے کونے میں صوفے کے پیچھے دبک کر بیٹھ گئی جیسے یہاں کوئی اسے ڈھونڈ نہیں پائے گا۔

اس نے حقیقت سے آنکھیں میچ لیں۔۔۔اگلے لمحے اس کا دروازہ زور زور سے کھٹکھٹایا جا رہا تھا۔۔

اس کے دل کی دھڑکنوں کی رفتار بھی تیز پڑنے لگی۔۔۔۔۔آنسو لگاتار گر رہے تھے۔۔۔۔لب زکر الٰہی میں مصروف تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ درید سے ملنے آیا تھا۔۔۔۔۔۔دو سال پہلے ہی ان کی ملاقات سکول میں ہوئی تھی اور اس کے بعد یہ ملاقات دوستی میں بدل گئی۔

وہ اکثر اب اس کے گھر چلا آتا تھا کہ تکلفی کی دیوار اب گر چکی تھی۔

وہ اب بھی بیٹھک میں ہمیشہ کی طرح بیٹھے تھے کہ یک دم بتی کا فیوز اڑنے کی وجہ سے بتی گل ہو گئی۔

باہر لان میں بیٹھتے ہیں درید نے کہا تو اس نے سر ہلایا اور پیچھے والے لان کی طرف وہ دونوں آ گئے کہ آگے والے لان میں مالی بابا کام کر رہے تھے۔

ابھی وہ بیٹھے باتیں کر رہے تھے کہ چھوٹی سی بچی پھولے گالوں کے ساتھ بھاگتی آئی۔

بھیو۔۔۔۔بھیو۔۔۔بچی نے درید کی آ کر قمیض کی آستین کھینچی۔

جی میری جان کیا ہوا۔۔۔۔؟؟ اس نے اپنے بہن کے پھولے گالوں پر لگی چاکلیٹ صاف کرتے کہا۔

بھیو ساتھ والے زکی نے آج پھر مجھے مارا ہے ۔۔۔۔۔اس نے شکایت لگاتے آنکھیں فورا نم کی۔

کیوں مارا ہے اس نے آپ کو۔۔۔۔۔درید کے ساتھ اب وہ بھی اس بچی کی طرف متوجہ تھا۔

کیونکہ ۔۔۔۔۔بھیو میں نے کہا تھا جس کے ٹیسٹ میں زیادہ نمبر آئیں گے وہ دوسرے والے کو مکہ مارے گا۔۔۔۔

تو اس کا ایک نمبر زیادہ تھا۔۔۔۔۔لیکن بھیو اس نے تو نقل کی تھی۔۔۔۔۔

تو آپ نے ایسی شرط کیوں رکھی تھی۔۔۔۔؟

درید نے اپنے کاندھے پر پڑی شال کا ایک کونا اٹھاتے اس کے چہرے پر آیا پسینہ صاف کیا۔

باسط مسکرایا۔۔۔۔۔اسے کتنی محبت تھی اپنی بہن سے۔۔۔۔۔اسے بھی کوئی یاد آیا ۔۔۔۔مسکراہٹ کے ساتھ اس کے چہرے پر مایوسی چھا گئی۔

پر بھیو۔۔۔۔گرلز کو تو نہیں مارتے نا۔۔۔۔۔۔اس نے اپنی طرف سے بہت پتے کی بات کی تھی۔۔۔۔۔

ہاں بالکل۔۔۔۔۔لیکن آپ آیندہ سے ایسی باتیں نہیں کریں گی ۔۔۔۔اور زکی کو میں ڈانٹوں گا اس نے کیوں میری روبی کو مارا ہے۔۔۔

پکا نا بھیو ۔۔۔وہ آنکھیں چھوٹی کرتی اس سے استفسار کرنی لگی۔۔۔۔آیا وہ اس کو صرف دلاسہ تو نہیں دے رہا۔

پکا میری ماں۔۔۔۔۔۔۔چلو اب جا کر کپڑے بدلو۔۔۔دیکھو مٹی لگی ہے ساری ۔۔۔۔درید نے اس نے بال ماتھے سے ہٹاتے اسے جانے کا کہا۔

اوکے بھیو۔۔۔۔وہ کہتے بھاگ گئی۔۔۔

باسط نے مسکرا کر اسے دیکھا۔۔۔۔۔لگتا ہے بڑی محبت ہے تجھے اپنی چھوٹی بہن سے۔۔۔۔

ہاں سب سے زیادہ۔۔۔۔۔وہ میری بیٹی جیسی لگتی ہے مجھے۔۔۔۔۔۔اس نےجزب کے عالم میں کہا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس لڑکے کی بتائی کلاس کے سامنے رک کر اس نے ہوا میں لہراتا آنچل سنبھالا اور دروازے پر کھڑی ہو گئی۔

مے آئی کم ان سر۔۔۔۔اس کی دھیمی آواز پر سب متوجہ ہوئے تھے۔

تمام لڑکوں نے اسے اوپر سے لے کر نیچے تک دیکھا ۔۔۔۔لیکن کوئی تھا جس کی نظر کتاب پر تھی۔

پروفیسر نے اس معصوم چہرے کو اندر آنے کی اجازت دی ۔۔۔۔۔تو وہ قدم اٹھاتی اندر آئی اور اردگرد نظر اٹھائی۔

حال کھچا کھچ لڑکے اور لڑکیوں سے بھرا تھا۔۔۔۔۔۔اس کی پلکیں لرزی۔۔۔۔

جی بیٹا کوئی پریشانی ہے۔۔۔۔؟

وہ جو بیٹھنے کے لیے جگہ دیکھ رہی تھی پروفیسر کی طرف متوجہ ہوئی۔

پڑھنے آئی ہوں ۔۔۔۔۔

اس نے دھیمے سے کہا تو آدھی کلاس کے سٹوڈنٹس کے چہروں پر مسکراہٹ بکھری۔

بیٹا یہ پڑھنے کی ہی جگہ ہے آپ بتائیں کس ڈیپارٹمنٹ میں پڑھنے آئیں ہیں انہوں نے شائستگی سے کہا۔

بزنس۔۔۔۔آنکھیں پھر جھک گئیں۔

فرسٹ سیمسٹر؟؟ سر نے دریافت کیا تو اس نے تیزی سے سر ہلایا۔

بیٹا یہ بزنس ڈیپارٹمنٹ ہے ۔۔۔لیکن آپ غلط کلاس میں آئی ہیں۔۔۔یہ لاسٹ سمیسٹر کی کلاس ہے ۔۔۔۔

ہاہاہا۔۔۔۔۔کئی لڑکوں کا قہقہ بلند ہوا تو س کی آنکھیں نم ہوئیں۔۔۔۔سر نے ایک سخت نگاہ سب پر ڈالی۔

کیا نام ہے آپ کا۔۔۔۔؟سر کو وہ بچی نہایت معصوم اور پیاری لگی۔

منت۔۔۔۔من۔۔۔۔منت وقار۔۔۔۔۔

بہت پیارا نام ہے آپ کا آپ کی طرح۔۔۔۔۔

کیا کرتے ہیں آپ کے والد۔۔۔۔۔پروفیسر نے دریافت کیا۔۔۔کیونکہ اس یونیورسٹی میں آدھے لوگ سفارشات پر آتے تھے۔۔۔۔کیونکہ ان کا تعلق اونچے خاندانوں سے ہوتا تھا۔

بزنس مین ہے وقار حسین۔۔۔۔اس نے نظریں اٹھاتے کہا۔

اب کی بار آخری بینچ پر بیٹھے اس شخص کے کانوں نے بھی یہ نام سنا تھا۔۔۔۔اس نے جھٹ سے سر اٹھا کر سامنے موجود ہستی کو دیکھنا چاہا جس کا رخ سر کی طرف تھا۔

پر میں یہاں اپنی قابلیت پر آئیں ہوں اس نے سر کی غلط فہمی کو دور کرتے کہا۔۔۔۔ناجانے کیوں لیکن وہ نہیں چاہتی کہ سب سمجھے کہ وہ یہاں اپنے بابا کے دم پر آئی ہے۔

یہ بات بھی اس کے باپ نے اسے سکھائی تھی۔۔۔۔کہ وہ زندگی میں اپنے بل بوتے اپنے دم پر آگے بڑھے گی۔

ڈیٹس گریٹ سر ایک بار پھر اس کی معصومیت پر مسکرائے اور پھر اسے اپنے ساتھ آنے کا کہتے باہر نکلے۔

وہ سامنے والی کلاس آپ کی ہے۔۔۔۔۔کچھ دیر میں ملاقات ہو گی بیٹا ۔۔۔۔۔کیونکہ آپ کا دوسرا لیکچر میرے ساتھ ہے۔

انہوں نے کہتے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔۔۔۔اس دور میں اتنی معصومیت کہاں دیکھنے کو ملتی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یا رب مدد۔۔۔۔!!

اس کے منہ سے آخری الفاظ نکلے ۔۔۔۔دروازہ ٹوٹ گیا تھا اور وہ اس کے سر پر کھڑے تھے۔

اس نے بے یقنینی سے اپنے ہاتھ پر لگی ہتھکڑی کو دیکھا اور آنکھیں بند کیں۔۔۔۔اس امید پر کہ سانس اس کے جسم کا ساتھ چھوڑ دے۔

لیکن نہیں دھڑکنیں تو چل رہی تھیں ابھی۔۔۔۔۔۔ایک لمحے کے لیے اسے سب یاد آیا۔۔۔۔اس کی زندگی کسی فلم کی طرح اس کی آنکھوں کے پردے پر ابھری تھی۔

وہ ان کے ساتھ گھسیٹتی چلی گئی۔

ربائشہ۔۔۔

اپنے نام کی پکار سن کر اس نے آنکھیں کھولی۔۔۔۔ہاں اس کی دھڑکنوں کی رفتار تیز تھی لیکن ساکن نہ ہوئی تھی ۔۔۔

ہاں کچھ بھی نہیں بدلا تھا۔۔۔۔زندگی تب بھی مشکل تھی لیکن اب جہنم بننے والی تھی۔

ایس ایچ او درید پزدانی ۔۔۔۔۔۔!!

آپا نے اس کے کان کے پاس بولا تو اس نے انہیں آنکھ اٹھا کر دیکھا۔

تمہارا آخری سہارا ہے درید یزدانی۔۔۔۔۔اس سے مدد مانگنا۔۔۔جس تھانے تمہیں لے جایا جا رہا ہے وہاں کا ایس ایچ او ہے۔

میں فون کر دوں گی اسے۔۔۔۔۔میرا بھانجا ہے۔۔۔۔۔وہ سب سنبھال لے گا ۔۔۔۔۔آخر میں وہ ہلکا سا مسکرائی۔

یہ مسکراہٹ اس نے حیرانی سے دیکھی۔۔۔۔۔اس مسکراہٹ میں یقین تھا کہ جیسا وہ کہہ رہی ہیں ویسا ہی ہو گا۔

اس کی دل کی دھڑکنیں اپنے معمول پر آئیں ۔۔۔۔جیسے جلتے کوئلے پر کسی نے پانی پھینکا ہو۔۔۔

اس کے بعد اس نے زمین سے نظریں نہ اٹھائی۔۔۔۔۔وہ جانتی تھی محلے کا ہر فرد اس کو دیکھ رہا ہو گا۔۔۔۔

وہ لوگ جنہوں نے اسے کبھی بے حجاب نہ دیکھا تھا۔۔۔۔آج اسے ننگا سر لیے بکھرا حلیہ لیے دیکھ رہے تھے۔

کچھ کی آنکھ میں تمسخر اور کچھ کی آنکھوں میں ہمدردی تھی۔۔۔کچھ کے لبوں پر اس کے لیے دعا۔

اس نے وہاں جا کر بھی اوپر نہیں دیکھا تھا۔۔۔اس تلخ حقیقت کو پینا بہت مشکل تھا کہ وہ ایک مجرم کی حیثیت سے تھانے لائی گئی ہے۔

اسے لاک اپ میں بند کر دیا گیا تھا۔۔۔

وہ ایک کونے میں دبک کر بیٹھ گئی ۔۔۔۔اور آنکھیں بند کر لیں۔۔۔۔۔آنکھوں نے بند ہوتے ہی اس کی روح کو سکون پہنچایا جیسے کسی سفر سے تھک کر آئیں ہوں۔

مدد یا رب۔۔۔۔۔۔۔۔اس کے دل سے پکار اٹھی۔۔۔۔۔۔

رات کے آٹھ بجے اسے اپنے نام کی پکار سنائی دی۔۔۔۔۔اس کا دل ایک بار پھر سے دھڑکا۔۔۔اس کی قسمت کا فیصلہ ہونے والا تھا۔

کیا نام ہے اس کا۔۔۔۔؟اس مرد کی آواز گونجی۔

ربائشہ حق۔۔۔۔

اوکے۔۔۔۔میرے کیبن میں بھیجو اسے۔۔۔۔۔اس نے آخری آواز اس کی سنی اور پھر اسے اس شخص کے کیبن میں پہنچایا گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

باسط اور درید کی دوستی دن بدن گہری ہوتی چلی گئی۔۔ایک دوسرے کے گھر آنا اب عام سی بات تھی۔

لیکن باسط کی طبیعت کافی ریزور سی تھی۔۔۔وہ زیادہ لوگوں کے ہجوم اور ان میں اٹھنا بیٹھنا پسند نہیں کرتا تھا۔۔۔۔

یہی وجہ تھی کہ اس کے دوست بے حد کم تھے۔۔۔۔

ابھی وہ ان کے گھر داخل ہوا تو ملازم نے اسے بتایا کہ درید اپنے کمرے میں ہے۔۔۔۔

باسط نے درید کو بلوانے کا کہا کیونکہ درید نے ہی اسے بلایا تھا آج ساتھ پڑھنے کے لیے ۔۔۔۔ان کے دسویں جماعت کے امتحانات نزدیک تھے۔

درید نے اسے کمرے میں ہی بلوا لیا۔۔۔۔۔وہ جو اس کے کمرے کی طرف جا رہا تھا۔۔۔پچھلے لان سے رونے کی آواز سنتا ٹھٹکا۔۔۔۔

کون رو رہا تھا۔۔۔۔آواز سے کوئی بچہ معلوم ہوا اسے۔۔۔۔۔وہ جانا نہیں چاہتا تھا لیکن انسانیت آڑے آ گئی۔

درید کی بہن وہاں سیڑھیوں میں بیٹھی اپنی آنکھیں رگڑتی آنسو صاف کر رہی تھی۔

کیا ہوا لٹل بٹر کپ۔۔۔۔؟؟

اس نے اس کے پھولے گالوں کو دیکھتے اسے نیا لقب دیا۔

رابی نے پیچھے مڑ کے دیکھا اور واپس چہرہ جھکا لیا۔۔۔۔

باسط کو حیرانی ہوئی ۔۔۔۔اس کے اس طرح منہ موڑنے سے۔۔۔۔لیکن شاید وہ اسے جانتی نہ تھی۔

وہ کچھ قدم دور وہیں اس کے پاس بیٹھا۔۔۔۔۔وہ چھوٹی سی بچی پیلا فراک پہنے بھورے بالوں کو آگے سے کلپ لگائے ۔۔۔۔پھولے گال لیے کیوٹ تھی بے حد۔

کیا ہوا بٹر کپ۔۔۔۔۔میں آپ کے بھیو کا دوست ہوں آپ مجھے بتا سکتی ہو۔۔۔۔۔باسط نے اسے کریدا۔۔۔۔

میں نہیں بتاؤ۔۔۔بتاؤں گی۔۔۔اس نے سو سو کرتے کہا۔

کیوں۔۔۔؟

کیونکہ میں سب سے ناراض ہوں۔۔۔۔اس نے کہتے اپنے فراک کو اٹھاتے اس نے ناک صاف کیا تو وہ مسکرایا۔

ہو سکتا ہے میں آپ کی ناراضگی دور کر سکوں۔۔۔۔۔اسے وہ کیوٹ سے لڑکی پسند آئی تھی۔

نہیں بڑے لڑکے اچھے نہیں ہوتے۔۔۔۔اس نے باسط کو دیکھ کر ایک بار پھر آنکھیں رگڑ ڈالی جو اب سرخ ہو گئیں تھیں بار بار رگڑنے سے۔

اچھا۔۔۔۔اور وہ کیوں۔۔۔؟

کیونکہ وہ اچھی باتیں نہیں کرتے۔۔۔۔وہ ہرٹ کر دیتے ہیں اس نے کہتے آنکھیں رگڑنے چاہیں کہ اس نے اس کا ہاتھ تھاما۔

ام ہم۔۔۔۔نو۔۔۔۔۔

آپ کو کس نے ہرٹ کیا ہے۔۔۔۔؟

میں تو نہیں بتاؤں گی۔۔۔۔انہوں نے بولا ہے کسی کو مت بتانا نہیں تو کل مجھے سزا ملے گی۔۔۔۔

کون ۔۔۔؟کس نے کہا ہے۔۔۔۔باسط کو حیرانی ہوئی اور اس گھر میں اس نے کسی کو نہیں دیکھا تھا تو وہ کس کی بات کر رہی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس شخص نے سر پھر سے جھکایا ۔۔۔۔چہرے پر تلخ مسکراہٹ ابھری۔۔۔۔۔

جلد ملاقات ہو گی آپ سے منت وقار۔۔۔

لیکچر اوور ہوتے ہی وہ باہر نکل گیا ۔۔۔۔اس کا رخ سامنے والی کلاس کی طرف تھا۔۔۔

وقار حسین کو کون نہیں جانتا تھا۔۔۔۔۔۔ وہ خود ایک بزنس مین کا بیٹا تھا۔

سوتیلا ہی سہی لیکن تھا تو۔۔۔۔۔۔اس کا باپ ان دنوں وقار حسین سے ہی تو جلن کا شکار تھا۔

کیونکہ اس وقت کی تمام بڑی ڈیلز وقار حسین کے ہاتھ میں تھیں۔۔۔۔۔۔اسے پتا تھا اسے آگے کیا کرنا ہے۔

مخصوص کلاس میں داخل ہوتے اس نے یہاں وہاں نظریں گھمائی۔۔۔۔۔۔وہاں موجود آدھی لڑکیوں نے اسے دیکھتے دل پر ہاتھ رکھا تھا۔

کالی شلوار قمیض پر براؤن چادر کندھے پر رکھے، سلیویز کہنیوں پر ٹکائے، بال جیل سے سیٹ کیے گئے تھے، صاف رنگت اور تراشے ہوئے خدوخال لیے وہ جازب نظر تھا۔

اس کے چہرے کی خرکتی اسے دوسروں سے منفرد بناتی تھی۔۔۔۔یہ وجہ تھی کہ وہ زیادہ کسی کو منہ نہیں لگاتا تھا۔

وہ جانتا تھا اپنی قیمت۔۔۔۔وہ جانتا تھا لڑکیاں اس کی خواہشمند رہی ہیں لیکن ایک دو دوستوں کے علاوہ اس نے کبھی زیادہ انٹرسٹ نہ لیا تھا۔

منت وقار۔۔۔۔ہو از منت وقار۔۔۔۔؟؟

اس نے بلند آواز میں کہا تو وہ جو پچھلے بینچ پر دبکی بیٹھی تھی فوراً سے پہلے سر اٹھایا۔

سامنے موجود شخص کی رعب دار شخصیت کو دیکھتے اس کے ہاتھوں پر پسینہ ابھرا۔

ج۔۔۔جی۔۔۔۔۔ا!

س نے ہمت کرتے اٹھتے کہا۔۔۔۔کہ وہ نہیں جانتی تھی سامنے والا کوئی پروفیسر نہیں بلکہ یہیں کا سٹوڈنٹ ہے۔

آپ کو پرنسپل آفس میں بلوایا گیا ہے۔۔۔گو ناؤ۔۔۔۔اس نے سیریس سے انداز میں کہا اور باہر نکل گیا۔

منت نے ڈرتے اپنی چیزیں اٹھائی اور باہر نکل گئی اب اسے پرنسپل آفس کا راستہ نہیں معلوم تھا۔

وہ خاموشی سے سیڑھیاں اترتی نچلے فلور پر آئی۔۔۔۔۔اسے شدید گھبراہٹ کا سامنا تھا۔۔۔۔وہ اسے دور سے دیکھتا پراسرار سا مسکرایا۔

اس نے رکتے یہاں وہاں دیکھا اور پھر ہمت کرتے پاس سے گزرتی لڑکی کو بلانا چاہا جس نے ایک نظر اس پر ڈال کر اس کی بات سننا مناسب نہ سمجھا تھا۔

اس نے کچھ دور کھڑے قاسم دلاور کو دیکھا۔۔۔جس نے اسے اس کی کلاس کا بتایا تھا۔۔۔شاید اسے کوئی غلط فہمی ہوئی تھی۔

کہ اس نے اسے غلط کلاس بتائی تھی لیکن ساتھ ہی اس کی کلاس تھی اسے زیادہ مشکل نہ ہوئی تھی۔

اسی لیے وہ قاسم دلاور سے دوبارہ مدد لینے کی غرض سے آگے بڑھی۔

سنیں!!! اس نے دھیمی آواز میں کہا تو وہ فوراً اس کی طرف متوجہ ہوا۔

وہ جو تب سے اسے خوار ہوتا دیکھ مسکرا رہا تھا۔۔۔اس کی مسکراہٹ سمٹی وہ سیدھا ہوا۔

پرنسپل آفس کہاں ہے۔۔۔؟اس نے آنکھیں جھکاتے قاسم دلاور سے دریافت کیا۔

قاسم کا چہرہ پل میں روشن ہوا۔۔۔۔اس نے اوپر سے لے کر نیچے تک اس کا ایک بار پھر جائزہ لیا۔

یہ نظر دور کھڑا وہ بجوبی سمجھتا تھا کہ کیسی نظر تھی۔۔۔۔اس نے سر جھٹکا اس کی بلا سے۔۔۔۔

آؤ میں لے چلتا ہوں۔۔۔اس نے کہا تو منت سے سر ہاں میں ہلاتے اس پر تشکر بھری نظر ڈالی اور آگے بڑھی۔

قاسم دلاور نے پیچھے چہرہ کرتے کچھ دور کھڑے اپنے دوستوں کو دیکھتے خباثت سے آنکھ دبائی۔

اب وہ اسے لیے بیسمنٹ والی طرف آیا تھا۔۔۔۔وہاں آتے ہی منت کا دل کچھ غلط ہونے کے احساس سے دھڑکا تھا۔