Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shiddat-e-Talab Episode 10

Shiddat-e-Talab by Suneha Rauf

باسط ۔۔۔۔۔۔

کمرے کی خاموشی کو اس کی آواز نے توڑا۔۔۔۔باسط سیدھا ہو کر لیٹا اور اس کی طرف گردن موڑی۔

کیا میں کچھ مانگوں۔۔۔۔۔ اس نے کچھ سوچتے کہا۔

اگر وہ میں نا دے پایا تو۔۔۔؟ وہ ناجانے کیا جاننا چاہتا تھا۔

تو ۔۔۔۔۔۔وہ سوچتی رہ گئی۔۔۔۔اس کے شوہر نے اس کی امیدیں جگانے سے پہلے ہی ہرا سگنل دیا تھا۔

بولو۔۔۔۔۔

ہم بائے روڈ چلیں کل پلیز۔۔۔۔اس نے کہتے آس بھری نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔۔

نہیں۔۔۔۔۔

باسط نے اس کی آنکھوں کی چمک کو کم ہوتے اور پھر ماند پڑتے دیکھا تھا۔۔۔۔وہ دوسری طرف کروٹ بدل چکی تھی۔

اور پھر دو شخص جو نئے نئے ایک دوسرے سے آشنا ہوئے تھے پھر سے اجنیںوں کی طرح رخ موڑ گئے۔

اور پھر اگلے دن تک اس نے منہ سے ایک لفط بھی نہیں بولا تھا۔۔۔۔

اس کا مجازی خدا ۔۔۔اس کے منہ سے نکلنے والی پہلی خواہش کو پورا نہ کر سکتا تھا۔۔۔اس کا دل دکھا۔

آج پھر وہ کافی روئی تھی۔۔۔لیکن شوکت یزدانی اور درید نے اس سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس سے ملنے آتے رہیں گے۔

باسط نے اسے روتے دیکھ اپنے ساتھ لگایا تھا۔۔۔۔یہ کل سے پہلا لمس تھا جو رباب کی جھولی میں ڈالا گیا تھا۔

باسط نے ان دونوں کو بے فکر کر دیا تھا اپنے انداز اور باتوں سے۔۔۔۔وہ دونوں مسکرا دیے تھے کہ ان کی بیٹی اور درید کی بہن اچھے ہاتھوں میں تھی۔

شوکت یزدانی کو باسط شروع سے پسند تھا۔۔۔۔انہیں وہ اتنا پسند تھا کہ اگر وہ رشتے کی بات نہ کرتا تو شاید وہ بیٹی کا باپ ہوتے ہوئے خود اس سے پوچھ لیتے۔

انہوں نے رباب کے لیے ایسا ہی سلجھا ہوا شخص چاہا تھا۔۔۔۔اس کی ساری زندگی ان کے سامنے گزری تھی۔

یہی وجہ تھی کہ انہوں نے اس کی تمام باتیں مانی تھی۔۔۔اور شادی میں بھی تاخیر نہ کی تھی۔

وہ جانتے تھے وہ ہمیشہ سے اکیلا رہا ہے۔۔۔۔اس لیے ایک ساتھی چاہتا تھا۔۔۔۔اور بیٹی کو اچھے ہاتھوں میں دیتے کون سا باپ خوش نہ تھا۔

انہیں اب بس درید کی فکر تھی۔۔۔۔۔۔

وہ دونوں اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ چکے تھے۔۔۔۔رباب کی دھڑکنیں معمول سے زیادہ تیز چل رہی تھی۔۔۔خوف سے اس کا چہرہ ہلکا ہلکا سفید پڑ رہا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا ہوا۔۔۔۔

کچھ نہیں۔۔۔۔اس نے سادہ سا جواب دیا۔۔۔۔جب وہ اس کی بات نہ مانا تھا تو اب کیا فائدہ۔۔۔

پلین پانچ منٹ بعد پرواز بھرنے لگا تھا۔۔۔۔۔باسط جانتا تھا وہ کافی ڈر رہی ہے۔۔۔۔۔درید اسے بتا چکا تھا اس کا ڈر۔۔۔۔

پلین ہوا میں بلند ہو ا تو اس کے آنسو بھل بھل گرنے لگے۔۔۔۔۔اس نے سانس روکا اور اس کا ہاتھ تھام لیا۔

اس کے ناخن زیادہ لمبے نہ تھے لیکن باسط کے ہاتھ پر زخم ضرور کر گئے تھے۔

باسط نے اسے دیکھا تو اسے بے حد افسوس ہو ا۔۔۔۔کاش وہ رات کو اس کی بات مان لیتا۔۔۔۔پہلا پچھتاوا۔۔۔۔ناجانے اور کتنے ابھی باقی تھے۔

رباب نے تب سے آنکھیں نہ کھولیں تھیں۔۔۔۔۔۔ائیر ہوسٹس کے قریب آتے اس نے اس سے کھانا پکڑا وہ جا چکی تھی۔

باسط نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ سے ہٹایا تو اس نے آنکھیں کھولی۔۔۔۔اسے بے حد برا لگا تھا۔۔۔۔مطلب کہ اب وہ شخص اس کے ڈر میں اس کا ہاتھ پکرنا بھی اچھا نہیں سمجھا تھا۔

کھانا کھاؤ گی ۔؟

نہیں۔۔۔۔سنجیدگی ہی سنجیدگی تھی۔۔۔۔

باسط نے بھی دو تین نوالے لیے تھے۔۔۔۔۔بیشک اسے بہت بھوک لگی تھی لیکن اس کا دل نہیں مانا تھا۔۔۔

موسم خراب ہونے کی وجہ سے جہاز تھوڑا بہت ہلا تھا۔۔۔اس نے ہونٹ لبوں میں دباتے بے خیالی میں ساتھ والے لڑکے کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا۔

باسط کی نظر اس پر پڑی تو اس نے سنجیدگی سے اس کا چہرہ دیکھا۔۔۔۔۔

اور جھٹکے سے اس کا ہاتھ اس لڑکے کے ہاتھ سے ہٹایا۔۔۔۔وہ لڑکا زیادہ بڑا نا تھا لیکن پھر بھی اسے رباب کی یہ حرکت کافی ناگوار گزری تھی۔

رباب نے آنکھیں کھولیں تو وہ لڑکا مسکرایا تھا۔۔۔اس نے دوسری نظر باسط پر ڈالی جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔

اب جہاز میں موسم کی خرابی کا بتایا جا رہا تھا۔۔۔۔رباں نے سیٹ کی پشت سے ٹیک لگاتے آنسو صاف کیے۔۔۔۔اب اس کے ہاتھ سیٹ کی سائیڈز کو تھامے ہوئے تھے۔

طبیعت ٹھیک ہے ۔۔۔۔؟باسط نے اس کی طرف دیکھتے کہا لیکن جواب نداد۔۔۔

آپ میرا ہاتھ تھام سکتی ہے پریٹی گرل ۔۔۔۔وہ لڑکا بلاجواز ہی مسکرا کر بولا تھا۔

بکواس نہیں۔۔۔۔اپنے کام سے کام رکھو۔۔۔۔۔اسے پہلے پتا ہوتا تو وہ سیٹ بدل لیتا رباب سے اپنی۔۔۔لیکن رباب کو وہ ونڈو سیٹ نہیں بٹھانا چاہتا تھا۔

اس نے رباب کو جھٹکے سے قریب کرتے اسے حصار میں لیا تھا۔۔۔۔لڑکے نے اووو کرتے منہ دوسری طرف کر لیا۔

رباب نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا جس نے اسے ساتھ لگا رکھا تھا۔۔۔۔۔اب وہ اس پر بلینکٹ دے رہا تھا۔

کل سے وہ کتنا بے نیاز تھا اس سے اور اب کیسے کسی دوسری کی توجہ اس پر دیکھ کر وہ بدل گیا تھا۔

اس نے دیکھا وہ اس کے سینے سے لگی تھی۔۔۔آنکھیں اٹھائی تو وہ سامنے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔چہرے پر اب بھی سنجیدہ سے تاثرات تھے۔

پلین کو کچھ دیر کے لیے لینڈ کیا جا رہا تھا۔۔۔موسم کی یک دم خرابی کی وجہ سے۔۔۔۔۔لیکن اسے اب کہاں ہوش تھا اس کا سارا دھیان تو اس پر تھا جس نے اسے حصار میں لیا ہوا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تین ماہ پہلے:

درید یزدانی نے اسے ڈھونڈ نکالا تھا وہ اسے تقریباً ڈیڑھ سال بعد ملی تھی۔۔۔۔اس عرصے میں اس نے اسے کہاں کہاں نہیں ڈھونڈا تھا۔

ان سب کے بعد اس شخص نے اس سے کوئی رابطہ نہیں کیا تھا۔۔۔۔۔رںاب کے لیے سکیورٹی اس نے سخت کر دی تھی۔

لیکن وہ لڑکی اسے ہر رات، ہر دن، ہر پل یاد آتی تھی جو بنا کسی گناہ کے سب سہہ گئی تھی۔

اس کے ساتھ وہ سب اس نے نہیں کیا تھا۔۔۔۔لیکن اس نے اس ناکردہ گناہ کی سزا کاٹی تھی۔۔۔۔

درید کو یاد تھا کیسے اس نے کسی اور کا گناہ اپنے سر ڈالا تھا صرف اپنی بہن کی خاطر ۔۔۔۔

اپنی بہن کی خاطر اس نے اس لڑکی کو توڑ دیا تھا۔۔۔۔۔جو ہر رات اس کے خوابوں میں آتی اسے بے بس کر دیا کرتا تھی۔

وہ کتنی ہی راتیں سو نہیں پایا تھا۔۔۔۔اس لڑکی کو پورے شہر میں ڈھونڈا تھا اس نے۔۔۔۔۔

وہ اس کے گھر سے تو کیا شہر سے ہی چلی گئی تھی۔۔۔بظاہر سب نارمل تھا لیکن اس کے دل کی دنیا پلٹ گئی تھی۔

وہ جو سمجھتا تھا اسے محبت جیسی خرافات پر یقین نہیں اسے عشق ہوا بھی تو کس سے۔۔۔۔۔اپنی ہی بیوی سے جسے رسوا کیا تھا اس نے۔

آپا اس سے ملنے آئی تھی اس نے آدھی حقیقت انہیں بتائی تھی۔۔۔۔اس شخص کے بارے میں کچھ نہیں بتایا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔

ابھی شاید وہ بتاتا لیکن اس سے پہلے ہی آپا صدمے کی سی حالت میں اس کے چہرے پر کتنے ہی ہاتھ جڑ چکیں تھی۔

شوکت یزدانی کو سب سنتے پہلے ہارٹ اٹیک آیا تھا۔۔۔۔۔وہ اس گلٹ کے ساتھ زندہ تھا کہ وہ بے گناہ ہوتے ہوئے بھی سب کا گناہ گار تھا۔

آپا واپس جا چکی تھیں۔۔۔۔۔اور پھر مڑ کر کبھی نہیں آئیں تھیں۔۔۔۔رباب کو ہلکا سا پتا لگا تھا۔۔۔اس کے بعد کچھ بھی ڈسکس نہیں ہوا تھا۔

شوکت یزدانی نے اس سے بات کرنا بھی کم کر دی تھی۔۔۔۔۔۔۔وہ سب سینے میں دفنائے خاموش ہو گیا تھا۔

لیکن پھر اسے اسی کی طلب ہوئی تھی ۔۔اس نے پاگلوں کی طرح اپنی بیوی ربائشہ حق کو ڈھونڈا تھا۔۔۔۔۔ایک سال ہونے کو آیا تھا۔۔۔اس نے سارا شہر ڈھونڈ ڈالا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور آخر میں اسے معلوم ہوا تھا کہ وہ اس شہر میں ہی نہیں۔۔۔۔۔اس دن اس نے ہمت ہار دی تھی۔۔

اس دن اس کے باپ نے اسے ٹوٹ کر بکھرتے نشہ کرتے دیکھا تھا اور دوسرا ہارٹ اٹیک ہوا تھا۔

سب اس کے ہاتھوں سے نکلتا چلا گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔

دوسری طرف اس گھر سے نکلنے کے بعد ربائشہ کو لگا تھا کہ وہ مر جائے گی لیکن زندگی موت دینے والا تو رب ہے۔

اسے اس شخص پر بھروسہ تھا۔۔۔۔اتنے دن اجنبی بن کر اس کے ساتھ گزارے تھے اور اس نے کبھی نظر اٹھا کر نہیں دیکھا تھا اور نکاح ہوتے ہی۔

اسے آج بھی لگتا تھا کہ اس کے ساتھ زبردستی کی کوشش کی گئی ہے اور وہ اس کے شوہر نے ہی ۔۔۔۔۔۔لیکن حقیقیت کون جانتا تھا۔۔۔۔۔

اس نے وہاں سے نکلتے دو گھنٹے باہر فٹ پاتھ پر بیٹھتے خود کشی کرنے کا سوچتے گزارے تھے۔

لیکن ہمت نہ ہوئی تھی۔۔۔۔اس نے اپنے قدم یتیم خانے کی طرف بڑھائے تھے۔

اور پھر وہی اپنی جائے پناہ سمجھیں تھی۔۔۔۔۔۔۔اک روز وہاں وقار حسین آئے تھے۔۔۔۔۔انہوں نے اس کو اکیلے روتے دیکھ اس کے سر پر ہاتھ رکھا تھا۔

درید آیا تھا وہ چاہتا تھا وہ اس کے ساتھ چلے وہ گئی بھی تھی لیکن جہاں وہ رہتا تھا وہاں مناسب نہ تھا اس کا رہنا۔۔۔۔۔اس لیے وہ واپس آگئی۔

انہیں وہ سلجھی اور معصوم سے لڑکی پسند آئی تھی۔۔۔۔وہ منت کو بھی اس سے ملوانے لائے تھے۔۔۔۔اور پھر منت کے ہی اسرار پر وہ ان کے ساتھ چلی گئی تھی۔

ایک سال کیسے گزرا تھا ان دونوں کی زندگیوں کا وہ بہتر جانتے تھے۔

اور پھر ایک سال بعد درید یزدانی اپنی پہلی میٹنگ کے سلسلے میں دوسرے شہر گیا تھا۔

اس نے وہاں منت کے ساتھ اس لڑکی کو دیکھا تھا۔۔۔۔۔۔۔منت وہ تبریز کی وجہ سے جانتا تھا۔۔۔۔۔ جس کو وہ پچھلے ایک سال میں ان گنت بار ڈھونڈ چکا تھا۔

اس نے اس کا پیچھا کیا تھا کتنے ہی روز۔۔۔ جانتے اسے معلوم ہوا تھا کہ وہ پاس ہی کسی سکول میں پڑھا رہی تھی۔

ایک روز واپسی پر دل کے ہاتھوں مجبور ہوتے اس نے اسے زبردستی گاڑی میں بٹھایا تھا۔

ربایشہ اسے دیکھتی خوفزدہ تھی۔۔۔۔وہ وہ شخص تھا جسے وہ اپنی آنے والی زندگی میں کبھی نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔

وہ اسے اپنے فلیٹ لایا تھا۔۔۔۔۔وہ آمنے سامنے موجود تھے۔۔۔۔۔ربائشہ کی آنکھوں میں نفرت تھی اس کے لیے بے انتہا نفرت۔۔۔۔اور وہ اسے بنا پلک جھپکے دیکھ رہا تھا۔

کیوں لائے ہو مجھے یہاں؟؟ کیا میں تمہیں جانتی ہوں۔۔۔؟ اس کی آواز ایک سال بعد سنی تھی۔۔۔۔درید یزدانی کے دل میں چھناکے سے کچھ ٹوٹا تھا۔

ربائشہ حق کے نام کے آگے میرا نام لگتا ہے کیا یہ پہچان کافی نہیں اس نے شائستگی سے کہا۔

اچھا ہوا تم مل گئے ۔۔۔۔۔۔اپنے نام کے آگے سے یہ نام ہٹانا تھا مجھے ناجانے کب سے۔۔۔۔۔ربائشہ نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے کہا جہاں آج سب بدلا ہوا تھا۔

اس ایک سال میں اس نے ہر رات اسے کوسا تھا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تھوڑی دیر بعد انہیں دوبارہ شفٹ کیا گیا تھا ۔۔۔۔اب کی بار باسط نے اسے اپنی سیٹ پر بٹھایا تھا۔

مجھے یہاں نہیں بیٹھنا۔۔۔۔اس نے سوکھے ہونٹوں سے کھڑکی سے باہر دیکھتے کہا۔

خاموشی سے بیٹھی رہو۔۔۔۔۔اس نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔۔تو رباب نے ناک سکیڑا۔۔۔۔

وہ لڑکا بھی اب منہ بناتا اپنے دوست کے ساتھ مصروف ہو گیا تھا۔

دوبارہ پلین کے اڑنے سے پہلے اس نے امید سے باسط کو دیکھا جو شاید اسے پھر سے حصار میں لے لے۔۔۔۔

لیکن ایسا نہیں ہوا تھا۔۔۔۔

اس لیے آنسو پھر سے اس کی آنکھوں سے گرے۔۔۔۔وہ یہ کام تب سے ناجانے کتنی بار کر چکی تھی۔

پلین ہوا میں ہوتے ہی اس نے جھٹکے سے واپس اسے اپنے ساتھ لگایا تھا۔۔۔۔۔

اب تمہارا ایک آنسو نہ نکلے رباب۔۔۔۔اس نے تنبیہ کی تو اس نے اپنا چہرہ اسی کی شرٹ کے ساتھ رگڑا۔۔۔۔

سردی لگ رہی ہے۔۔۔اس نے دھیمے سے کہتے اپنا چہرہ مزید اس کے شرٹ میں چھپایا۔

باسط نے اس پر کمفرٹر ڈالا اور فون نکال کر مصروف ہو گیا ۔۔۔۔۔اور رباب ایک بار اسے دیکھنے میں۔

اور پھر کب وہ منزل پر پہنچے۔۔۔۔۔اسے پتا نہیں چلا۔۔۔یہ سفر اتنا بڑا نہیں رہا تھا۔۔۔

وہ سامان اکٹھا کر رہا تھا کہ اس کی نظر دور کھڑی رباب پر پڑی جس کے پاس وہی لڑکا کھڑ اتھا۔

رباب کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ دیکھتے اس نے جبڑے بھینچے۔۔۔سامان لیتے وہ تیز قدموں سے اس کے پاس آیا۔

لڑکے کے کارلر کو تھامتے اس نے جھٹکے سے اسے گھمایا۔

کول ڈاؤن۔۔۔بڈی۔۔۔۔آپ ہی کی ہیں۔۔۔۔اس نے رباب کی طرف دیکھ کر کہا۔۔۔۔

میں ان کو بول رہا تھا کہ یہ کافی پیاری ہیں۔۔۔۔میری آپی بھی ان کے جیسی ہیں۔۔۔۔لڑکے نے کہا تو باسط نے اسے گھورا۔

لڑکا آگے جا کر واپس مُڑا اور رباب کو آنکھ ماری تو وہ پھر سے مسکرائی۔

کس خوشی میں تمہیں ہنسی آرہی ہے۔۔۔۔باسط کو بلاوجہ ہی غصہ آرہا تھا وہ سنجیدہ ہوئی۔

آپ بہت کیوٹ ہیں ۔۔۔۔اسے اس لڑکے کی کچھ دیر پہلے ہوئی گفتگو یاد آئی۔۔۔۔

ارے ڈریں نہیں آپ میری آپی جیسی ہیں ۔۔۔اس نے کہا تو رباب نے اسے دیکھا۔

آپ کا شوہر تو کافی مغرور سا لگتا ہے آپی۔۔۔کیا دیکھ کر شادی کی ہے۔۔۔۔اس نے کہا تو رباب مسکرائی۔۔۔

لو میرج نہ کہیے گا میں نے بیہوش ہو جانا ہے۔۔۔کیونکہ جس طرح وہ آپ کے لیے پوسیسو ہو رہے تھے نا خدا بچائے۔۔۔۔ویسے اچھا آئیڈیا ہے جب وہ آپ کو بھاؤ نہ دیں تو کسی اور کو دیکھ لینا آپ لڑکے نے کہا تو پھر سے مسکرائی۔

اب چلتا ہوں آپ کا مغرور شوہر آ گیا تو کہیں ایک آد لگا کر میرا منہ نا سجا دے۔۔۔۔اپنی گرل فرینڈ کو ملنا ہے مجھے ۔۔۔۔اس نے کہتے رباب کو دیکھا اور پیچھے سے باسط آن پہنچا تھا۔

اس کا ڈرائیور آ چکا تھا وہ گھر پہنچ گئے۔۔۔دباب نے سب سے پہلے اپنے بابا اور بھیو کو خبر دے تھی۔

یہ گھر اس گھر سے بڑا تھا۔۔۔۔لیکن زیادہ نہیں۔۔۔۔شاید باسط کو زیادہ بڑے گھر پسند نہ تھے۔

یہ گھر نیا بنایا گیا تھا۔۔۔۔اور کافی اچھے سے سیٹلڈ تھا۔۔۔۔باقی وہ خود سیٹ کر لیتی کہ اسے یہ سب کرنا پسند تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور پھر کام شروع ہو چکا تھا۔۔۔۔لیکن وہ نہیں آئی تھی اس کا مینیجر سب سنبھال رہا تھا۔۔۔۔

تبریز شاہ الگ آگ میں جل رہا تھا۔۔۔۔اس کے دو بار بلانے پر بھی کہ کچھ ڈسکس کرنا ہے وہ نہیں آئی تھی۔

وہ جانتا تھا آج رات وہ آئے گی۔۔۔۔۔اس لیے پارٹی کے لیے نکلا۔۔۔۔۔جو فارن کمپنی کی طرف سے رکھی گئی تھی۔۔۔کسی دوسری ڈیل کی کامیابی پر۔۔۔۔۔

وہ کب کا میز پر بیٹھا ۔۔۔۔۔ڈرنک تھامے دروازے پر نظریں گاڑے ہوا تھا اور پھر اسے آتے دیکھ اس کے جلتے دل پر مزید آگ لگی تھی۔

وہ سفید پاؤں کو چھوتے فراک میں تھی۔۔۔۔۔اس دن اس کے بال حجاب میں ڈھکے تھے لیکن آج اس نے جوڑا کر رکھا تھا۔۔۔۔آگے سے دوپٹہ سینے ہر پھیلایا تھا۔۔

بھاڑی جھمکے ہلکا سا میک اپ۔۔۔۔۔۔۔وہ بہت حسین نہیں تھی لیکن۔۔۔۔کشش کمال کی تھی۔۔۔۔

وہ اب سب سے مل رہی تھی۔۔۔۔تبریز شاہ سے دس قدم کی دوری پر تھی وہ اب۔۔۔اس پر نظر پڑتے ہی وہ مڑی تھی۔۔۔۔بلیک تھری پیس سوٹ میں ملبوس وہ مردانہ وجاہت کا شاہکار تھا۔

صاف رنگت، ہلکی بیئرڈ، گہری بولتی آنکھیں، اور ہمیشہ کی طرح بھینچے ہونٹ۔۔۔۔۔وہ بلا کا حسین تھا ۔۔۔۔

اس نے جھٹکے سے رخ موڑا اور سامنے ریفریشمنٹ کارنر کی طرف چلی گئی۔

تبریز شاہ نے گلاس کو زور سے پیچھے میز پر رکھا تھا۔۔۔۔اس کی پشت کو گھورتے۔۔۔۔۔اس کا بیک گلہ زیادہ نہیں لیکن ہلکا سا ڈیپ تھا۔۔۔۔۔جس کو ڈوریوں سے باندھا گیا تھا۔

سب ایک دوسرے سے مل رہے تھے۔۔۔۔فارن کمپنی کا ممبر اسے بھی سب سے ملوا رہا تھا۔۔۔۔اس کے آنے سے پہلے اس نے تبریز شاہ کا تعارف بھی سب سے کروایا تھا۔

لیکن اس کا تعارف سب سے کروانا تبریز شاہ کو برا لگا تھا۔۔۔۔وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور اس کی طرف گیا۔

اپنی طرف اس کے قدم بڑھتے دیکھ اس نے تھوک نگلا تھا۔۔۔۔۔وہ ہر ممکن حد تک اس سے دور رہنے کی کوششوں میں تھی۔

یہی وجہ تھی کہ اس نے اپنی جگہ اپنی ساری زمہ داری مینیجر پر ڈال دی تھی کہ اسے اس کی کمپنی نا جانا پڑے۔۔۔۔

اس کے دو بار بلانے پر وہ بہانہ لگاتی منع کر چکی تھی۔۔۔۔۔۔

اس سے پہلے کہ وہ قریب آتا وہ وہاں سے ہٹتی دوسری طرف چلی گئی۔۔۔۔تبریز شاہ نے مٹھایاں بھینچے اور لب دانتوں تلے لیے سختی سے کاٹے۔۔۔۔

وہ اسے پاگل سمجھ رہی تھی۔۔۔۔۔اس نے کچھ سوچتے قدم باہر کی طرف بڑھائے۔۔۔۔۔وہ سب سے الوداع لیتا باہر نکل گیا۔

منت نے اس کے باہر جاتے ہی گہرا سانس بھرا تھا۔۔۔۔

اس کے جاتے ہی اسے لگتا تھا سب نارمل ہو گیا ہے۔۔۔۔اور آج تو وہ ویسے بھی اسے برے طریقے سے گھور رہا تھا۔