Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shiddat-e-Talab Episode 3

Shiddat-e-Talab by Suneha Rauf

آ۔۔۔۔آپ۔۔۔۔۔آپپپ۔۔۔۔۔

وقت چاہیے تمہیں کافی۔۔۔۔۔وجہ پوچھ سکتا ہوں کیوں؟

اس نے اپنی سرخ نگاہیں اس کی آدھ کھلی آنکھوں میں گاڑھتے کہا۔

وہ۔۔میں۔۔۔۔۔میں۔۔۔۔ابھی۔۔۔یہ۔۔سب۔۔۔۔

اس نے جھٹکے سے اسے کھینچ کر زمین پر کھڑا کیا۔۔۔۔۔ایسا کرنے سے وہ اس پر گرتے گرتے بچی تھی۔

سے یو لو می۔۔۔۔۔

رباب نے ڈر کر آنکھیں میچی۔۔۔۔

سے اٹ ۔۔۔۔۔۔

با۔۔۔باسط۔۔۔۔س۔۔۔سر۔۔۔

سے ڈیٹ یو لو می رباب ضیاء۔۔۔۔۔رباب کو لگا اس کے جزبات سے پردہ اٹھ چکا ہے۔۔۔جو اس نے خود سے اب تک چھپا رکھا تھا۔

میں۔۔۔۔۔

اچھا چھوڑو۔۔۔۔۔۔!محبت کی خرافات پر مجھے بھروسہ نہیں ہے۔۔۔۔۔وہ پل میں لہجہ بدلتا اسے پراسرا لگا۔

نکاح پرسوں ہو گا ہمارا۔۔۔۔۔۔اس بات کو ذہن میں بٹھا لو۔۔۔۔انکار کی گنجائش نہیں ہے۔۔۔۔

ابھی۔۔۔۔نہی۔۔۔۔نہیں۔۔پلیز۔۔۔مجھے۔۔۔و۔۔۔وقت۔۔۔۔۔

باسط ضیاء نے جھٹکے سے اسے دیوار کے ساتھ لگایا۔۔۔۔تو اس کے منہ سے سسکی برآمد ہوئی۔۔۔۔

رباب ضیاء مجھے سختی پرمجبور مت کرو۔۔۔۔اس نازک جان پر تم کچھ برداشت نہیں کر پاؤں گی۔۔۔۔اس کے بازو پر دباؤ بڑھاتے اس نے کہا۔

میں بھائی۔۔۔۔کو۔۔۔بتاؤ۔۔۔۔

باسط ضیاء نے اس کے جبڑے کو پکڑ میں لیا تو اس کی آنکھ سے آنسو گرا۔۔۔۔درد اب حد سے بڑھ رہا تھا۔۔۔اس نازک جان سے کب کوئی ایسے پیش آیا تھا۔

تو تم نہیں مانو گی۔۔۔۔۔؟؟

اس نے کچھ سوچتے اسے جھٹکے سے چھوڑا اور جیب سے فون نکالا۔

ہیلو۔۔۔۔۔! فاہد ریاض کا کل صبح یونیورسٹی جاتے ہوئے ایک خطرناک ایکسیڈنٹ ہونا چاہیے۔۔۔۔اور فوراً ہسپتال منتقل کیا جائے اور اس کے گھر والوں کو انفارم بھی اور۔۔۔۔۔

رباب کو لگا اس نے کچھ غلط سنا ہے۔۔۔۔اس نے بے یقینی سے اسے دیکھا۔۔۔۔

مجھے منظور ہے۔۔۔۔اس نے اس کے ہاتھ سے فون کھینچتے کہا اور منہ پر ہاتھ رکھے ہچکیوں سے رونے لگی۔

باسط ضیاء کے چہرے پر قاتلانہ مسکراہٹ چھا گئی۔۔۔۔۔لیکن اسے دیکھتے دل ایک لمحے کے ڈگمگایا تھا۔۔۔۔لیکن پھر سنبھل گیا۔

پرسوں ملاقات ہو گی ڈارلنگ۔۔۔۔۔مجھے امید ہے وہ ملاقات یادگار رہے گی۔۔۔۔۔اس نے گھٹنوں کے بل اس کے پاس نیچے بیٹھتے کہا۔

وہ اب بھی چہرہ ہاتھوں میں چھپائے رو رہی تھی ۔۔۔۔باسط ضیاء کے ماتھے پر سلوٹیں پڑی وہ کیسے اس شخص کے لیے رو رہی تھی۔

اٹھو۔۔۔۔۔

باسط ضیاء نے اسے کہا تو اس نے چہرہ اٹھایا۔۔۔۔۔آنکھوں کا زبردست تصادم ہوا تھا۔

اٹھو اور جگہ پر جاؤ۔۔۔۔۔اور ایک بھی آنسو نکلا نا رباب یزدانی تو اس کی سزا بہت بڑی ہو گی۔۔۔۔اس نے کہتے اسے ایک بار پھر کھڑے ہونے کا اشارہ کیا۔

آپ نے جیسا بولا ہے ویسا ہو جائے گا۔۔۔۔اب آپ پلیز جائیں یہاں سے وہ چیخی۔۔۔۔۔

درید گھر نہیں تھا اور شوکت یزدانی کا کمرہ نیچے والے فلور پر تھا اس لیے اسے کوئی فکر نہ تھی۔

رباب یزدانی اس لہجے کی سزا بہت جلد ملے گی تمہیں اس نے جھٹکے سے اسے اٹھایا اور بیڈ پر دھکا دیتا باہر نکل گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دو دن ناجانے کیسے گزر گئے تھے۔۔۔۔اس کی رضامندی ملتے ہی نکاح کی تیاری کی گئی تھی۔۔۔۔

اس کے چہرے پر ہنسی تو کیا مسکراہٹ کا نام و نشاں تک نہ تھا۔

بیشک وہ شخص اس کی بچپن کی پسند تھا۔۔۔دل نے اسے ابھی کچھ دیر پہلے ہی تو الگ جزبے سے روشناس کروایا تھا۔

اور پھر اس شخص کا یہ روپ۔۔۔۔وہ سہم گئی تھی۔۔۔۔۔وہ یہ سب کیسے جھیلے گی۔۔۔۔

انیس سال ہی تو اس کی عمر تھی۔۔۔۔ابھی اس کے خواب تھے بہت۔۔۔۔۔۔وہ اپنے بھائی اور باپ کے ساتھ وقت گزارنا چاہتی تھی۔

وہ بھی اس کی اتنی جلدی شادی نہیں چاہتے تھے۔۔۔۔لیکن ضیاء نے کہا تھا کہ اسے کسی ضروری کام سے جانا ہے اور وہ نکاح ابھی ہی کرنا چاہتا۔

درید اپنے دوست سے واقف تھا۔۔۔۔۔اسے اپنی بہن کے کیے وہ شخص بہترین لگا تھا اس لیے منع نہیں کیا۔

اس کی اداسی نوٹ کرتے ہی درید نے باسط ضیاء کو ابھی صرف نکاح کی رضامندی دی تھی رخصتی کی نہیں جس سے وہ اندر ہی اندر طیش کھا رہا تھا۔

کب اس کا نام اس شخص سے جڑا اسے اندازہ نہ ہوا۔۔۔۔اس کے بھائی نے اس کا ماتھا چوما تو وہ اس کے گلے لگتی پھوٹ پھوٹ کر رودی۔۔۔۔دو آنکھوں نے یہ منظر کافی نفرت سے دیکھا تھا۔

درید یزدانی نے اس کے بعد باسط ضیاء کو گلے لگایا۔۔۔۔وہ اس کا بہترین دوست تھا۔۔۔یہی وجہ تھی کہ وہ مان گیا تھا نکاح کے لیے ۔۔۔۔۔۔۔

درید اگر تو بُرا نہ مانے تو میں رباب کو کہیں لے جانا چاہتا ہوں جلد چھوڑ جاؤں گا۔۔۔

اس نے دور بیٹھی سجی سنوری چھوئی موئی سی ہوئی رباب کو دیکھتے کہا۔

پر یار۔۔۔ابھی وہ۔۔۔۔

میں سنبھال کو گا۔۔۔۔پلیز منع مت کر۔۔۔۔اور مجھے ہی آگے بھی اسے سمنبھالنا ہے بھروسہ کر۔۔۔۔

اوکے جیسا تجھے ٹھیک لگے ۔۔۔۔بھروسہ ہے تیرے پر یار اسی لیے اپنی جان سے پیاری بہن دے دی تجھے میں نے یزدانی نے اسے گلے لگاتے کہا۔

باسط ضیاء کے چہرے پر زہر خند تاثرات چھا گئے۔

یزدانی اسے ساتھ لیے رباب تک لایا۔۔۔۔رابی میری جان باسط کے ساتھ جاؤ۔۔۔۔

رباب نے جھٹکے سے سر ٹھایا۔۔۔۔اس کے چہرے پر چھائے خوف کو باسط ضیاء نے بخوبی محسوس کیا تھا۔۔۔۔

پر بھائی ابھی مجھے رخصتی۔۔۔۔۔

نہیں میری جان ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔۔سب تمہاری مرضی اور رضامندی سے ہو گا۔۔۔

ابھی بس وہ تمہیں کچھ دیر کے لیے لے جا رہا۔۔۔۔یزدانی نے اسے ساتھ لگاتے کہا تو وہ منع نہ کر پائی۔

مہمان جا چکے تھے سب وہ بھی اسے گاڑی میں بٹھاتا گیٹ سے باہر گاڑی نکال کر سڑک پر دوڑانے لگا۔

سڑک پر لاتے ہی اس نے ریس دیتے گاڑی کی اسپیڈ کو خطرناک حد تک بڑھایا۔۔۔رںاب کو اپنا سانس رکتا محسوس ہوا۔۔۔۔

س۔۔۔۔۔

سر۔۔۔۔

با۔۔۔

باسط۔۔۔

روکیں۔۔۔۔

پلیز۔۔۔۔

اس کی چیخوں کے ساتھ ہچکیاں سنتے اس نے گاڑی جھٹکے سے اپنے فلیٹ کے پاس روکی اور اتر کر اس کی طرف آیا۔

اسے باہر نکلالتا کھینچ کر اپنے ساتھ اپنے فلیٹ میں لے کر گیا اور کمرے میں لاتے دھکا دیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پروین بیگم۔۔۔۔۔خدا کے خوف سے ڈرو۔۔۔۔اولاد ہے تمہاری وہ۔۔۔سگی نہ سہی لیکن ماں تو کہتی ہے نا تمہیں کوئی اپنی اولاد کے بارے میں کیسے گند بک سکتا ہے ؟؟

۔وہ عمر رسیدگی عورت غصے سے بولی۔۔۔۔۔وہ وہاں پہلی عورت تھی جس نے اس کے لیے آواز اٹھائی تھی ۔۔۔اور پھر ہمسائی عورتیں جو اسے جانتی تھی وہ بھی بول پڑیں۔

سب جانتی تھی کہ وہ کتنی نازک، حساس اور دھیمے مزاج کی لڑکی تھی۔۔۔۔۔

پروین بیگم ان سب کو اس کے حق میں بولتا دیکھ ڈری تھی۔۔۔۔۔انہیں لگ رہا تھا کہ سب بگڑ رہا ہے۔۔۔۔

بکواس بند کرو سب۔۔۔۔۔اسی نے میرے شوہر کی جان لی ہے۔۔۔۔پولیس کو بلاؤ۔۔۔۔

میں چیخ چیخ کر بتاؤ گی انہیں کہ یہیں زلیل ہے وہ روتی بلکتی اس پر جھپٹی اور تھپڑوں اور اپنے ناخنوں سے اس کا سفید مائل چہرہ گلابی کر ڈالا۔

عورتوں نے اسے علیحدہ کیا۔۔۔۔۔ربائشہ نے اپنے لیے کچھ نہیں کیا تھا۔۔۔۔

پولیس کے سائرن کی آواز گونجنے لگی تو ربائشہ کا دل کانپا۔۔۔۔۔۔ کیا یہ جھوٹ سچ بن کر اس کی زندگی کا ناسور بن جائے گا۔۔۔۔

لوگوں میں افراتفری پھیل گئی۔۔۔۔اصل مجرم کا کس کو پتا تھا۔۔۔۔

اس عمر رسیدہ عورت نے آگے بڑھتے اس کا ہاتھ تھاما اور اس کے سر پر چادر دی۔۔۔۔

می۔۔۔می۔۔۔میں۔۔۔ن۔۔نے۔۔۔کچ۔۔کچھ۔۔۔نہ۔۔نہیں۔۔کی۔۔کیا۔۔۔آ۔۔۔آپا۔۔۔۔اس کے ساکت وجود میں ان کا لمس پاتے ہی حرکت ہوئی تھی۔

مجھے یقین ہے میری جان۔۔۔انہوں نے شائستگی سے اس کا ماتھا چوما۔۔۔۔میں تمہیں بچا لوں گی میری جان۔۔۔۔

اور پھر پولیس نے جان پڑتال شروع کی۔۔۔۔اور وہاں سے کسی کو بھی ہلنے سے منع کیا۔۔۔۔۔

اس کی ماں اس کی کردار کشی اب پولیس والوں کے سامنے کر رہی تھی ۔۔۔پولیس والوں نے اب لوگوں سے جان پڑتال کی ۔۔۔

کوئی نہیں جانتا تھا اصل وجہ سو ان کے گھر موجود تینوں لوگوں کو گرفتار کیا گیا یعنی۔۔۔۔اس کا تایا،اس کی ماں اور وہ خود ۔۔۔۔

اس نے خالی نظروں سے ایک آخری بار اپنے باپ کی لاش کو دیکھا۔۔۔۔جن کو اٹھایا جا رہا تھا۔

بابا۔۔۔۔۔۔وہ چیختی ان کے قریب آئی اور ان کے چہرے پر جھک کر بوسے دینے لگی۔۔۔۔

وہاں موجود سب لوگوں کی آنکھیں نم ہوئیں تھی۔۔۔۔۔بابا۔۔۔۔یہ سب۔۔۔جھوٹ بول۔۔۔رہے ہیں۔۔۔۔

ربائشہ میرے ساتھ تھی میرے گھر۔۔۔۔اس عمر رسیدہ عورت نے پولیس والوں کی طرف دیکھ کر کہا۔

کیا ثبوت ہے آپ کے پاس۔۔۔؟ انہوں نے ان کو دیکھ کر پوچھا۔۔۔۔

میرے گھر کا واچ مین اور وہاں کھیلتے بچے سب نے اس کو دیکھا ہے۔۔۔میں نے اسے صبح ہی بلوایا تھا۔۔۔اور تب سے یہ میرے پاس ہی تھی۔۔۔انہوں نے شائستگی سے کہا۔

پولیس والوں نے ان کا اوران کے واچ مین اور وہاں کھیلتے لڑکوں سے تصدیق کے بعد اسے وہیں چھوڑ دیا تھا۔

جس کی وجہ سے اس کی ماں حلق کے بل چلا رہی تھی۔۔۔۔۔تجھے نہیں چھوڑوں گی میں۔۔۔۔کیس کروں گی تجھ پر۔۔۔۔تو وہیں جیل میں سڑے گی ساری عمر۔۔۔۔۔

اس نے ان کا ہاتھ تھامتے ہچکی بھری۔۔۔۔اپنے باپ کے پاس بیٹھتے اب وہ ہچکیوں سے رو رہی تھی۔

اپنے باپ کا جنازہ اٹھتے اسے محسوس ہوا تھا کہ وہ خدا کی بنائی اس دنیا میں تنہا رہ گئی ہے۔

جنازہ روانہ ہوتے ہی آپا نے اس کا ہاتھ تھاما اور اسے اپنے ساتھ لے گئی لوگوں سے چھپا کر۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تم ایسا کیسے کر سکتی ہو رابی۔۔۔۔۔۔اس کو بلڈ مل چکا تھا اب وہ ہوش میں آتے ہی اسٹیبل ہو چکی تھی۔

بہت ہو گیا منت۔۔۔۔ اس کھیل کو بند کرو۔۔۔۔۔یہ بچپن نہیں ہے۔۔۔تم اس شخص کو پاگل بنا رہی ہو۔

رابی جلدی کرو ۔۔۔۔مجھے یہاں سے نکلنا ہے۔۔۔۔۔

واااٹ۔۔۔۔۔۔۔

وہ پہنچ جائے گا کچھ لمحوں میں۔۔۔۔۔میں چاہتی ہوں اب کی بار تم سامنا کرو حالات کا۔۔۔ہو سکتا ہے جیسا تم سوچ رہی ہو ویسا کچھ نہ ہو۔۔

مجھے یہاں سے نکلنا ہے۔۔۔۔۔۔وہ اپنی ڈرپ کی سوئی اپنے ہاتھ سے الگ کرتی اجلت میں اٹھی۔

نہیں۔۔۔۔۔

تمہیں تمہاری اولاد کی قسم رابی۔۔۔۔پلیز اس نے ہاتھ جوڑ ڈالے۔

رابی کی آنکھیں ساکت ہوئیں۔۔۔۔۔۔وہ اسے سب سے بڑی قسم سے گئی تھی۔

اوکے۔۔۔۔لیکن اس کے بعد تم مجھ سے کسی اور مدد کی امید مت رکھنا وہ کہتی باہر نکل گئی۔

منت نے آنکھیں موند لیں کیونکہ ربائشہ پر وہ خود سے زیادہ یقین رکھتی تھی۔

اگلے آدھے گھنٹے میں وہ پیچھے کے دروازے سے اس ہسپتال سے نکل چکی تھی جس کی لوکیشن تبریز شاہ کو ملی تھی۔

اس نے باہر نکلتے ہوا میں گہرا سانس بھرا اور ساتھ بیٹھی اس لڑکی کو دیکھا جو اس کی کسی بات کو نہیں ٹالتی تھی۔

وہ لڑکی اپنی اس حالت کے باوجود اس کے پیچھے زلیل ہوتی پھر رہی تھی اس کی آنکھ سے تکلیف کی شدت سے آنسو نکل کر گالوں پر بہہ گیا۔

کب ختم ہوں گی یہ آزمائشیں۔۔۔۔۔؟

کیا شاہ آپ مجھے کبھی میسر نہیں ہوں گے۔۔۔۔اس نے سوچا۔۔۔

ایک طرف وہ بھاگتی تھی اس سے۔۔۔۔اسے لگتا تھا کہ اس سے ملتے ہی تبریز شاہ اسے موت کا پروانہ تھما دے گا اور دوسری طرف وہ اس کی ایک نظرِ الفت کے لیے تڑپ رہی تھی۔

وہ گھر پہنچ چکی تھیں۔۔۔۔وہ جانتی تھی یہاں انہیں کوئی نہیں ڈھونڈ سکتا ۔۔۔اور نہ پہنچ سکتا ہے۔۔۔

رابی نے اسے آرام کرنے دیا تھا اور خود بھی اپنے کمرے میں چلی گئی۔

کہ اس کے اعصاب برے طریقے سے تھک چکے تھے۔

اب شام کی چائے پر وہ ایک دوسرے کے سامنے بیٹھی تھی۔۔۔

منت ایک آخری بار میں سمجھا رہی ہوں۔۔۔۔آگے بڑھو زندگی میں۔۔۔۔!

کب تک خود کو بے مول کرو گی۔۔۔۔؟

رابی تم بھی تو۔۔۔۔۔!

شٹ اپ منت۔۔۔۔ میری زندگی تم سے بہت مختلف ہے بہت ۔۔۔۔۔

اپنے باپ کا بزنس سنبھالو۔۔۔۔بہت ہو گیا ہے۔۔۔۔اس سے زیادہ میں تمہاری یہ حرکتیں برداشت نہیں کروں گی۔۔۔۔۔خود کو اس قابل بناؤ کہ تبریز شاہ کو بھی تمہاری طلب رہے ۔۔۔۔۔۔مجھ سے امید چھوڑ دو۔۔۔۔اس سے زیادہ میں تمہارا ساتھ نہیں دوں گی اس بزدلی میں۔۔۔۔آج نہیں تو کل تم اس کے سامنے ہو گی۔۔۔۔۔پھر کس سے بھاگ رہی ہو؟

اس سے یا خود سے؟

میں بس تمہیں آگے بڑھتا دیکھنا چاہتی ہوں۔۔۔۔۔منت وقار جس کے والدین اس کو ایک کامیاب عورت کے روپ میں دیکھنا چاہتے تھے۔۔۔۔۔۔وہ منت جو تم میں کہیں چھپی بیٹھی ہے ۔۔۔۔اور کب تک مجھے خود کے ساتھ گھسیٹو گی۔۔۔اس حالت میں مجھ پر رحم کھاؤ۔۔۔۔

منت نے جھٹکے سے اسے دیکھا۔۔۔۔وہ سچ میں بیمار لگی اسے۔۔۔۔۔۔آنکھوں کے نیچے ہلکے بڑھتے جا رہے تھے۔۔۔۔اس کی بڑھتی جسامت ۔۔۔۔اس کے سوجی پاؤں دیکھتے اسے رحم آیا اس پر اور خود سے نفرت ہوئی۔۔۔۔

وہی تو اس کی اپنی تھی ۔۔۔۔اس کی ماں بھی، بہن بھی دوست بھی۔۔۔۔اس کا سب کچھ۔۔۔۔۔اور اس کی وجہ سے وہ کیسی کمزور اور پیلی پڑ رہی تھی۔

میں وعدہ کرتی ہوں رابی ۔۔۔۔اب سے وہی ہو گا جو تم کہوں گی۔۔۔۔

میں وعدہ کرتی ہو بدل لوں گی خود کو۔۔۔آگے بڑھوں گی۔۔۔۔

اس نے رابی کے پاس گھٹنوں کے بل نیچے بیٹھتے کہا۔

رابی نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ناصر۔۔۔۔۔ناصر۔۔۔۔

اپنے کمرے میں جا کر چیخ کر اس نے ملازم کو آواز دی۔۔۔۔۔

جی جی صاب۔۔۔۔؟

یہ ۔۔۔۔میرے کمرے کی صفائی کس نے کی ہے۔۔۔۔۔۔؟کس سے پوچھ کر میرے کمرے میں قدم رکھا ہے تم لوگوں نے ۔۔۔؟

صاب وہ بڑے صاب نے۔۔۔۔۔

دفعہ ہو جاؤ۔۔۔یہاں سے۔۔۔۔۔آئندہ میرے کمرے میں قدم نہ رکھنا اور خبردار جو میری چیزوں کو ہاتھ لگایا۔۔۔۔اس نے دروازے کو ٹھوکر مار کر بند کیا اور جا کر اوندھے منہ لیٹ گیا۔

ستائیس سالہ وہ نوجوان اس وقت اوندھے منہ پڑا تھا، جسے کسی بھی چیز کی فکر نہ تھی یا وہ خود پر کسی چیز کو بھی حاوی نہیں ہونے دیتا تھا۔

ایس ایچ او درید یزدانی۔۔۔۔لیکن لاابالی اس کی طبیعت کا خاصہ تھی ۔۔۔۔۔اسے لوگوں سے فرق نہیں پڑتا تھا۔۔۔۔یہ اس کا باپ ہی تھا جس کا ڈر تھا اس کے دل میں۔۔۔نہیں تو وہ لوگوں کو کہاں کچھ سمجھتا تھا۔

آج صبح ناشتے کی میز پر بھی اس نے ہنگامہ برپا کر دیا تھا۔۔۔۔جب ملازم ٹرے کو بھول کر اس کا گلاس اپنے ہاتھوں میں ہی اٹھائی لا رہا تھا۔

اس نے وہ گلاس کھینچ کر دے مارا تھا۔۔۔۔۔۔جاہل عقل نہیں ہے۔۔۔۔۔ٹرے کہاں ہے۔۔ہاتھ دیکھے ہیں اپنے گندے ہیں وہ چیخا تو ملازم سب سہم گئے تھے۔

کیا ہو رہا ہے یہاں۔۔۔۔۔شوکت یزدانی نے آتے اس بپھرے شیر کو دیکھتے کہا۔

پاپا ۔۔۔۔ان غریبوں کو عقل سکھائیں تھوڑی۔۔۔۔۔۔۔۔

زبان سنبھال کر درید۔۔۔۔۔۔۔اور جاؤ۔۔۔۔۔

آج ناشتہ نہیں ملے گا تمہیں۔۔۔۔پہلے اپنے سے بڑوں سے بات کرنے کی تمیز سیکھ کر آؤ!

وہ سامنے کرسی کوٹھوکر مارتا باہر نکل گیا تھا اور اب تھوڑی دیر پہلے لوٹا تھا۔۔۔۔۔وہ ایسا تھا نہیں ایسا بنا دیا گیا تھا۔

میں معافی چاہتا ہوں آپ سے افضل بابا۔۔۔۔ابھی بچہ ہے وہ سنبھل جائے گا ۔۔۔انہوں نے اس کی پریشانی میں ماتھا مسلتے کہا۔

کوئی بات نہیں صاب ہم جانتے ہیں وہ دل سے بڑا نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔انہوں نے کہا کیونکہ ابھی پچھلے دنوں اپنی سیلری درید یزدانی نے انہیں دی تھی ان کی بیٹی کی شادی کے لیے۔

دس بجے ڈرائیور کے ہاتھ اس کا کھانا بھجوا دیں بھوکا ہو گا۔۔۔۔وہ کہتے اپنے کمرے میں چلے گئے۔

اور وہاں اس نے تھانے میں آج سب کا جینا دوبھر کیا تھا۔۔۔۔سارے کسیز کی فائیز نکلوا کر ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رباب نے اپنی چیخوں کا گلہ گھونٹا تھا منہ پر ہاتھ رکھ کر۔۔۔ اسے یہ سب ایک ڈروانا خواب لگ رہا تھا۔

باسط ضیاء نے سگریٹ سلگایا اور جا کر سامنے صوفے پر بیٹھ گیا اور اسے دیکھا جو کمرے کے بیچو بیچ کھڑی تھی۔

سکائی کلر کے شارٹ شرٹ اور گرارے میں, گلابی جارجٹ کا دوپٹہ، گلابی رنگت پر ہلکا سا میک اپ، خم دار پلکیں،گلابی چھوٹے سے ہونٹ، تیکھا ناک جو اسے خالی سا لگا جیسے کچھ کمی ہو، بھوڑے کمر تک جاتے بال، ماتھے پربندیا لگائے وہ لڑکی کیس کا بھی خواب ہو سکتی تھی۔

کسی کا سوچتے ہی اس کے چہرے کے تاثرات جامد ہوئے۔۔۔۔

یہاں آؤ۔۔۔۔۔!

دھواں ہوا میں چھوڑتے وہ بولا تو وہ جی جان سے لرزی۔۔۔۔

تمہیں سنائی نہیں دے رہا ۔۔۔۔۔میں کیا کہہ رہا ہوں؟

اب کہ وہ تیز لہجے میں بولا تو اپنی جگہ سے اچھلی اور چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اس کی طرف آئی۔

اس کے پاس آتے ہی باسط ضیاء نے اسے کھینچا جس سے وہ اس کی گود میں آ گری ۔۔۔۔اس نے آنکھیں میچی۔۔۔باسط ضیاء کو وہ اس وقت ڈرپوک ہرنی لگی۔

آنکھیں کھولو۔۔۔۔

اس کی آواز سنتے اس نے آنکھیں کھولیں تو نظریں اس کے چہرے سے جا ٹکرائی۔۔۔رباب نے اسے پہلی بار اتنا نزدیک سے دیکھا تھا۔

گہری بولتی آنکھیں، مغرور ناک جسے زعم تھا اس خوبصورت چہرے کا، عنابی لب جو مونچھوں تلے چھپے تھے،ہلکی بیئرڈ اور خرکت تاثرات،اس کی پلکیں لرزی۔

باسط ضیاء نے اس کی کمر پر ہاتھ باندھے اور جھٹکے سے اسے مزید قریب کیا۔

رباب نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھتے خود کو روکا نہیں تو اس کا چہرہ اس کے چہرے پر بجتا۔

رخصتی چاہتا ہوں میں۔۔۔۔۔اس نے اس کے کان کے پاس لب کرتے سرد لہجے میں کہا۔

اس کی طرف سے کوئی جواب نہ پاتے اس نے اسے دیکھا جس نے نے سانس روک رکھا تھا۔۔۔۔

ڈارلنگ سانس چھوڑو۔۔۔۔۔

نہیں تو میں نے بند کیا تو تم ترسو گی اسی سانس کے لیے اس کے زو معنی لہجے میں کہتے اس کے کان پر اپنی مونچھیں پھیری۔

اس نے سانس چھوڑتے اسے دیکھا جو اسے ہی گھور رہا تھا اس نے اٹھنا چاہا تو باسط نے اس کی کمر پر پکڑ سخت کی۔

رخصتی چاہتا ہوں میں اور مجھے امید ہے تمہاری طرف سے ہنگامہ نہیں ہو گا۔

میں۔۔۔ایسا۔۔۔ن۔۔نہیں۔۔۔چاہتی۔۔۔اس نے نظریں جھکاتے کہا۔

تمہارے چاہنے نا چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا بےبی وہی ہو گا جو میں کہوں اور سوچوں گا سو بی ریڈی اینڈ پریپیر فور اٹ۔

باسط ضیاء نے اسے دیکھا جو ہونٹ کاٹتی اپنے آنسو روک رہی تھی ۔۔۔اس کی باہوں میں اس کا نازک وجود ہلکا ہلکا لرز رہا تھا۔

تمہارے تو ابھی سے حالات نازک ہے میرے بےبی میری جان کو خود پر کیسے برداشت کرو گی؟

باسط ضیاء نے اس کی گردن کے پاس سگریٹ کا آخری کش چھوڑتے کہا۔

باسط۔۔۔۔۔اس نے ڈرتے اس کا نام لیا تو وہ تھما۔

ہممم۔۔۔۔

مجھے واپس جانا ہے ۔۔۔۔اس نے کہتے نم آنکھوں سے اسے دیکھا۔

اوکے چلو اٹھو! وہ ناجانے کیوں لیکن فوراً مان گیا۔