Shiddat-e-Talab by Suneha Rauf NovelR50408 Shiddat-e-Talab Episode 26
No Download Link
Rate this Novel
Shiddat-e-Talab Episode 26
Shiddat-e-Talab by Suneha Rauf
جانتی ہوں وہ اے ایس پی درید یزدانی ہے آج نہیں تو کل مجھے ڈھونڈ نکالے گا۔۔۔۔
لیکن میرا بدلہ تم دونوں سے پورا ہوا۔۔۔کیونکہ جب تک وہ مجھے پکڑ سکے گا تب تک تیرا بیٹا ناجانے کس کے پاس ہو گا۔۔۔زندہ بھی ہو گا یا نہیں وہ قہقہہ لگانے لگی۔
اللّٰہ۔۔۔۔۔وہ پکارتی زمین پر گر پڑی۔۔۔۔
ایسے نہیں۔۔۔۔پروین نے اپنے خاص بندے کو اشارہ کیا تو وہ آگے بڑھا اور ڈنڈا ہاتھ میں گھماتے اس کے زمین پر پڑے نیم بیوہش وجود کو دیکھنے لگا۔
میں کیا کہتا ہوں اس پر ہاتھ اگر صاف۔۔۔۔
بکواس نہ کر۔۔۔۔!
وہ آتا ہی ہو گا۔۔۔۔لیکن اس سے پہلے اسے ایسا زخم دے کہ جو زخم یہ اور اس کا شوہر کبھی نہ بھول پائیں۔۔۔جلدی کر وہ چیخی کیونکہ اب حازق بھی رونے لگا تھا نیند سے جاگ کر اپنی ماں کو نا پاتے۔
وہ آدمی آگے بڑھا اور ڈنڈا گھماتے اس کی قمر میں مارا۔۔۔
آہ۔۔۔۔ربائشہ کی چیخ اس گھر میں گونج کر رہ گئی۔۔۔۔یہ قیامت خیز منظر تھا اسے لگا وہ مر جائے گی۔
دوسری ٹھوکر اسے لگی تھی اور اسے سیدھا کیا اور ایک ڈنڈا اس کے پیٹ میں مارا گیا تھا۔
دریددددد۔۔۔
حازقق۔۔۔۔
اس کے منہ سے خون نکلا اور اس کا وجود وہیں بے جان ہوتا ایک طرف کو لڑھک گیا۔
نکلو فوراً۔۔۔۔۔ا
پروین نے کہا تو اس کے سارے آدمی سب کو چھوڑتے باہر نکلے جہاں گارڈ اور ڈرائیور اب اندر کو ہی بھاگے آرہے تھے۔
ان پر بھی ہاتھ صاف کرو سالو۔۔۔پیسہ کس چیز کا لیا ہے پروین کہتی خود گاڑی میں بیٹھتی نکل گئی۔
ڈیممممم۔۔۔۔۔۔!
وہ تقریباً بھاگتا وہاں سے نکلا کیونکہ اس کی ابھی ڈرائیور سے بات ہوئی تھی جس نے بتایا تھا کہ ربائشہ نے اس کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا تھا۔
اس کا مطلب وہ گھر تھی اب تک۔۔۔۔۔
“ربائشہ درید یزدانی تم دونوں کو کوئی نقصان پہنچا تو میں تمہیں جان سے مار دوں گا” وہ سو کی اسپیڈ میں گاڑی بھگاتا گھر کی طرف آیا۔
پولیس کا ایک ڈالہ اسکے پیچھے تھا۔۔۔وہ اندر داخل ہوا گیٹ کھلا تھا اور اب آس پاس کے گھر والے بھی باہر نکل کر آنے لگے تھے۔
یہ سوسائٹی تھی جہاں ایک گھر میں کیا ہو رہا تھا کسی دوسرے کو نہیں پتا ہوتا تھا کیونکہ سب اندر اے سی میں بیٹھے تھے ایک دوسرے سے لاپرواہ۔
سوسائٹیز میں بیشک بہت سی سہولیات تھی لیکن زندگی سے دور تھے یہ لوگ۔۔۔کسی کے گھر کوئی مر بھی جائے تو ساتھ والے کو خبر نہیں ہوتی۔
گارڈ اور ڈرائیور کو باہر ہی بری حالت میں دیکھ اس کا دل انجانے اندیشوں سے لرزا تھا۔
وہ اندر کی طرف بھاگا اور کچن کی دہلیز پر اسے بے حِس و حرکت پڑے دیکھ زندگی میں پہلی بار اس کے قدم لڑکھڑائے تھے۔
وہ وہیں ساکت سا کھڑا رہا۔۔۔۔۔
وہ حازق بابا کو لے گئی۔۔۔۔گارڈ کے منہ سے یہ سنا تھا اس نے اور پھر قدم بڑھاتا وہ ربائشہ کے پاس نیچے زمین پر بیٹھا۔
اس کے ہونٹوں سے خون سڑک کر اسکی گردن پر آگیا تھا۔۔۔
درید نے ہاتھ آگے بڑھاتے اس کے خون پر انگلی پھیری اور خالی نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔
ایک آنسو اس کی آنکھ سے ٹوٹ کر رخصار پر بہا۔۔۔۔تو وہاں موجود لوگوں نے دیکھا مرد بھی روتے ہیں۔
مرد روتے ہیں جب ان کے قیمتی اثاثے کو مار دیا جاتا ہے۔۔۔۔جب ان کی سانسوں کو ان کی سانسوں سے دور کیا جاتا ہے، جب دنیا میں موجود ان کے واحد پیارے ان سے چھین لیے جاتے ہیں۔
“سر ان کی سانسیں ختم ہو گئیں ہیں!” اس کے کانوں میں یہ لفظ گونجنے لگے۔
تصورات کا تسلسل
تو برقرار ہی رہا
اس کا آنا ہوا نا
آنا ہوا بھی برابر ہی ہوا
اور کیا بات ہے کہ آج ہوائیں
بھی تباہی مچائے ہوئے ہیں
لگتا ہے اب خوابوں میں
اُس کا آنا جانا ممکن نہیں رہا
از قلم سُنیہا رؤف۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیوں لائے ہو مجھے یہاں؟ زمین پر گرتے ہی اس نے چِلا کر پوچھا۔
اے لڑکی آواز کم رکھ ۔۔۔جس نے اس دھکا دے کر گرایا تھا وہ بولا۔۔
مجھے لگتا ہے تبریز شاہ سے واقف نہیں ہیں آپ سب۔۔۔۔وہ اندر سے ڈری تھی بے حد لیکن ظاہر نہ ہونے دیا۔
اے چپپپپپ۔۔!!
اُس سالے کو بھی دیکھ لیں گے کیا چیز ہے ۔۔ پہلے تجھے تو فرصت سے دیکھ لیں اب کہ دوسرے والا بولا۔
دوررر۔۔۔دوررر رہو۔۔۔!
انہیں اپنے قریب آتا دیکھ اب صحیح معنوں میں اس کا سانس سوکھا تھا۔
ہاہاہا۔۔۔۔۔بس نکل گئی ہوا؟؟ وہ خباثت سے مسکرانے لگے۔
ابھی وہ اسے ہاتھ لگاتے جب دروازہ کُھلا اور کوئی اور اندر داخل ہوا۔
کیا ہو رہا ہے یہ؟
سر لے آئیں ہیں اسے۔۔۔۔۔کب لے جانا ہے اسے؟
بس کچھ وقت میں۔۔۔۔میرا آدمی تمہیں یہاں یہ نکال دے گا اور اسے جا کر بیچ دینا۔۔۔۔
بیچ دینا۔۔۔
بیچ دینا۔۔۔۔
یہ لفظ اس کے کانوں میں پڑے تو اس نے آنکھیں کھول کر سامنے دیکھا کان سائیں سائیں کرنے لگے تھے۔
ٹھیک ہے۔۔۔۔لیکن آپ کے بیٹے کی بیوی ہے بہت کمال۔۔۔مجھے لگتا ہے آپ کو بھی دیکھنی چاہیے ان میں سے ایک نے کہا۔
آہاں۔۔۔۔تو چلو یہ کام بھی کر لیتے ہیں۔۔۔۔وہ شخص اب دروازے کے آگے سے ہٹتا آگے بڑھا اور کمرے میں موجود تمام بتیوں کو روشن کر ڈالا۔
اچانک آنکھوں میں روشنی پڑنے سے اس کی آنکھیں چندھیا گئیں۔
دل میں خدا کے ورد کے بعد صرف تبریز شاہ کا نام چل رہا تھا۔۔۔
تو تم ہو وہ۔۔۔۔جس نے میرے بیٹے کو پاگل کر رکھا ہے۔۔۔۔وہ تقریباً چھیالیس سالہ مرد تھا جو کہیں سے تبریز شاہ جیسا نہیں تھا سوتیلا تھا شاید اسی لیے۔
آپ ۔۔؟
تمہارے بیٹے کا سوتیلا پاب۔۔۔جس کے دم پر آج وہ تبریز شاہ ہے ۔۔۔میں نے، میں نے پہنچایا ہے اسے یہاں تک وہ کروفر سے کہتا ہنسنے لگا۔
آپ نے ۔۔۔؟
آپ وہ شخص ہو ہی نہیں سکتے آج یہاں اس شہر میں جتنے بھی لوگ تبریز شاہ کو جانتے ہیں وہ اسے اس کی قابلیت کی بنا پر جانتے ہیں۔۔۔۔انہیں تو آپ کا نام تک نہیں پتا ہو گا اور ۔۔۔
چٹاخ۔۔۔!
زبان دراز عورتیں مجھے زہر لگتی ہیں۔۔۔شاہ نواز نے آگے بڑھتے اس کے چہرے پر ہاتھ اٹھایا۔
اپنے چہرے پر پڑنے والے تھپڑ سے اس کے ہونٹ کا کنارہ پھٹ گیا اور دماغ کی نسیں سنسنا گئیں۔
کچھ بھی کہہ لو۔۔۔میری زبان بند نہیں کروا پاؤ گے۔۔۔وہ حلق کے بل چلائی۔
اور اگر یہ زبان ہی میں نا رہنے دوں تو؟ شاہ نواز نے آگے بڑھتے اس کا جبڑہ تھاما اور جیب سے کٹر نکالا۔
مقصد صرف ڈرانا تھا لیکن سامنے موجود شخصیت سچ میں تبریز شاہ کی بیوی تھی نڈر۔
شاہ نواز نے اسے جھکتے نا دیکھ ۔۔اس کے بائیں گال پر کٹر پھیرا یہ لمحے کا منظر تھا۔
منت کی آنکھیں پھیلنے کے در پر تھی۔
یا الٰہی! اسکی چیخ چاروں دیواروں سے لگ کر واپس آگئی۔
سر چھوڑیں اسے۔۔۔۔ایسے اسے کیسے بیچیں گیں ہم۔۔۔
اس **** کو میں چھوڑوں گا نہیں۔۔۔۔وہ آگے خطرناک ارادوں سے بڑھا تھا۔
منت نے آنکھیں بند کر لیں اس سے زیادہ کا حوصلہ نہیں تھا اس میں۔
اور پھر وہ ہوش و حواس سے بیگانہ ہوتے بھی تبریز شاہ کو پکار رہی تھی۔
ڈاکٹر کو بلا کر پٹی کرواؤ اور لے کر نکلو اسے۔۔۔وہ کہتا باہر نکل گیا۔
منت کو اگواہ کرنے کا پلین نہیں تھا۔۔۔۔لیکن سارا کے باپ نے کیس کر دیا تھا اس پر فراڈ کا۔۔۔اس کا مقصد اب صرف تبریز شاہ سے اس کا سب چھین لینا تھا جس کی وجہ سے یہ سب ہوا تھا۔
وہ اسے چھوڑ کر باہر نکل گیا اور وہ دو آدمی اب ڈاکٹر کا انتظار کر رہے تھے۔
ڈاکٹر نے جو بتایا تھا وہ خبر انہوں نے شاہ نواز تک پہنچادی تھی جس کی بنا پر اس نے منت کو وہاں سے فلحال نکالنے پر منع کر دیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“سر ان کی سانسیں ختم ہو گئیں ہیں!” اس کے کانوں میں یہ لفظ گونجنے لگے۔
وہ خاموشی سے کھڑا ہوا اور اسے جھٹکے سے باہوں میں اٹھایا اور تھکے قدموں سے باہر نکل گیا۔
یہ پاگل ہیں۔۔۔بکواس کر رہے ہیں مجھے پتا ہے تم مجھے ایسے نہیں چھوڑ سکتی۔۔ابھی ابھی۔۔۔تو ہم ملے تھے اور۔۔۔۔
تم نے میری بات نہیں مانی رابی۔۔۔سب۔۔سب تباہ کر دیا تم نے۔۔۔۔۔اسے ہسپتال پہنچاتے وہ اس کے ساتھ گزارے ماہ و سال کی روداد اسے بتانے لگا تھا جس کا خون اب جم گیا تھا۔
اسے آئی سی یو میں شفٹ کیا گیا تو وہ رکا نہیں وہاں سے نکل آیا۔۔۔بنا یہ سُنے اور جانے کے وہ زندہ بھی ہے یا نہیں۔
ہاں وہ زندہ تھی۔۔۔اس کی سانسیں خود محسوس کی تھی اس نے۔
اسے اپنے بیٹے کو بچانا تھا اب۔۔۔۔کیسا قیامت خیز عالم تھا اس شخص کے لیے جس کی من چاہی بیوی اس وقت ہسپتال کے بستر پر بے دم پڑی تھی اور بیٹا۔۔۔جو مہینے بھر کا نہیں تھا وہ اگواہ ہو گیا تھا۔
اس نے آسمان کو دیکھا۔۔۔۔۔”میں نے امید نہیں کھوئی یارب” وہ کہتا وہاں سے نکل گیا۔
کیونکہ وہ جانتا تھا باسط اور رباب پہنچ گئے ہوں گے اور تبریز شاہ۔۔۔؟
وہ پولیس اسٹیشن پہنچا۔۔۔اس کے تاثرات سخت تھے لیکن ساکن سے۔
لوکیشن ٹریس کرو اس کی دوبارہ سے۔۔۔۔۔اس نے حکم جاری کیا۔
گاڑیاں تیار کرواؤ۔۔۔۔اور وہ جہاں بھی ملے اسے مارنا نہیں ہے۔۔
لیکن سر ان کا تو انکاؤنٹر۔۔۔۔؟
جو کہا ہے وہ کرو۔۔۔وہ خشک لہجے میں کہتا آگے بڑھا۔
سر ہم بہت دیر سے لوکیشن ٹریس کر رہے ہیں لیکن کچھ فائیدہ نہیں ہوا، اس عورت نے فون اپنا کہیں پھینک دیا تھا جہاں تک ہم پہنچے۔
وہ جگہ کون سی تھی؟
سر لاہور سے باہر۔۔۔۔۔
تو چلو پھر۔۔۔۔۔جس پسٹل سے دروازے کا لاک کھولا گیا اس کی معلومات؟
جی سر۔۔۔۔کوئی شہروز نامی بندہ ہے اس کی لوکیشن ٹریس کریں؟
بدلے میں درید یزدانی نے اسے اس نظر سے دیکھا کہ وہ شرمندہ ہو گیا۔
سر یہ لوکیشن ملتان کی طرف کی ہے لیکن ابھی بالکل درست جگہ کا نام نہیں بتا سکتے کیونکہ وہ سفر میں ہیں۔
اوکے چلو نکلنا ہے ہمیں۔۔۔۔۔اس نے کہتے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرتے خود میں اٹھتے ہزاروں وسوسوں کو دل میں دبایا۔
اس سے پہلے ایک بار وہ ربائشہ کو دیکھ لیتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فون بجنے پر وہ باہر نکلا۔۔۔
بولو؟
کہاں ہو؟ تمہارا دماغ درست ہے۔۔۔۔تمہاری بیوی کتنی تکیلف میں ہے وہ آخری بار تم سے ملنا چاہتی ہے۔۔۔۔اور حازق کو کہاں چھوڑا ہے؟ ایک ساتھ کئی سوال باسط نے کیے تھے۔
آ رہا ہوں۔۔۔۔وہ کہتا وہاں دوبارہ پہنچا۔۔۔۔منجھلا سا حلیہ، سخت آنکھیں اور بھینچے ہونٹ۔۔۔۔وہ ضبط کے آخری مراحل پر تھا۔
باسط اور رباب کو لگا وہ کسی بھی پل پھوٹ پھوٹ کر رو دے گا۔۔۔۔یا شاید اسے رونا ہی چاہیے تھا جس کی بیوی اس حال میں تھی اور بیٹا۔
وہ اندر داخل ہوا تو اس کی آنکھیں بند تھی وہ خاموشی سے جا کر وہاں بیٹھ گیا۔۔۔
دل میں ہزار چیزیں ایک ساتھ چل رہی تھیں۔۔۔اسے اسی وقت ملتان کے لیے نکلنا تھا۔۔۔
لیکن۔۔۔۔
بستر پر پڑا وہ وجود۔۔۔!
اس کے بالوں پر بوسہ دیتا وہ جانے لگا جب وہ آنکھیں کھولے اسے دیکھنے لگی۔۔۔
آکسیجن ماسک کو ہٹایا اس کے آدھے جسم پر پٹیاں بندھی تھی جہاں تشدد کیا گیا تھا۔
در۔۔۔۔دری۔۔۔۔درید۔۔آخری۔۔
یہاں سب کام چھوڑ کر میں تمہاری یہ فضول بکواس سننے نہیں آیا ربائشہ درید یزدانی۔۔۔۔وہ خشک لہجے میں دھیمے سے بولا تو اس کی آنکھ سے آنسو ٹوٹ کر گرا۔
مجھ سے محب۔۔۔محبت۔۔۔۔۔
اپنی محبتوں کے واسطے مجھے مت دو۔۔کیونکہ تم محبت کیے جانے کے قابل ہو یا نہیں یہ خود سے پوچھو۔۔۔
میرے بیٹے کو اس حال میں تم نے پہنچایا اور میری بیوی کو یہاں لانے والی بھی تم ہو۔۔۔۔۔وہ سفاک بنا تھا بنا اس کی حالت کی پرواہ کیے۔
میں مر۔۔۔۔
مرنا نہیں ہے تمہیں ابھی۔۔۔۔اپنے بیٹے کی حالت کو دیکھ لینا۔۔۔تم پر بہت سے ادھار ہیں میرے وہ اتار دینا پھر میری بلا سے۔۔۔
وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔۔اس کا تنفس بگڑنے لگا لیکن سامنے والا ظالموں کی طرح بیٹھا رہا۔
“اگر کبھی مجھ سے ایک پل کے لیے بھی محبت کی ہے نا درید یزدانی تو مجھے میرا بیٹا چاہیے اگلے چوبیس گھنٹوں میں” وہ اپنا سارا زور لگاتی چیخی تھی۔
درید کھڑا ہوا اور اسے دیکھتا باہر نکل گیا ڈاکٹرز تیزی سے آگے بڑھے تھے۔
باسط ضیاء آگے بڑھا اور اسے گلے لگایا تو درید بھی آنکھیں بند کر گیا۔
جاؤ میں سب سنبھال لوں گا۔۔۔۔اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے اس نے کہا۔
درید نے سر ہاں میں ہلایا۔۔۔۔اور باہر نکل گیا۔
کیا کچھ بچا تھا۔۔۔۔نہیں! کچھ نہیں بچا تھا۔۔۔کہنے کو۔۔۔اس سب حالات میں وہ لڑکی خود کو خود لے کر گئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم یہاں؟ وہ اسے دیکھتے بوکھلا گئے۔
آپ کو واقع لگتا ہے کہ تبریز شاہ جس کی دنیا ایک ہی شخصیت پر محیط ہے وہ اس سے اتنا بے خبر رہ سکتا ہے؟
کیا مطلب ہے اس بات کا؟وہ دھاڑا۔
آواز آہستہ خالد شاہ نواز صاحب۔۔۔۔آواز میں بھی اونچی کر سکتا ہوں لیکن نہیں۔۔۔۔میں سامنے والے جتنا گرنے کی ہمت نہیں رکھتا۔
وہ میرے پاس نہیں ہے جا سکتے ہو!
اچھا!! تو پھر تلاشی لے لینے دیں مجھے۔۔۔۔وہ جتنا بوکھلائے ہوئے تھے وہ اتنا ہی پرسکون تھا۔
ناممکن! یہ اللیگل ہے تم ایسا نہیں کر سکتے شاہ نواز نے منہ پر ہاتھ پھیرا۔
اللیگل کے مطلب آپ مجھے مت سمجھائیں مسٹر شاہ نواز۔۔۔۔۔کتنے الیلگل کاموں کو آپ نے لیگلی کیا ہے میں سب جانتا ہوں۔
کیا بکواس ہے؟ وہ دھاڑا۔
میری بیوی کہاں ہے؟ تبریز شاہ نے سنجیدگی سے کہا۔
اتنی جلدی کیا ہے؟ جب تمہیں معلوم ہو ہی گیا ہے تو تھوڑا صبر کرو۔۔۔
ابھی پولیس کو کال کر کے بلا سکتا ہوں۔۔۔لیکن اپنی بیوی کو ان سب میں ملوث نہیں کرنا چاہتا۔۔۔۔
ٹھیک ہے! بلالو پولیس۔۔!
پولیس آئی تو یاد رکھیں اور بھی بہت سے سچ کُھلیں گے۔
کیا مطلب؟
مطلب کو چھوڑیں۔۔۔میرا کافی وقت آپ برباد کر چکیں ہیں۔۔۔میری بیوی میرے حوالے کریں۔
بیوی۔۔۔۔ہاں۔۔۔یار کیا بیوی ہے قسم سے تمہاری اور۔۔۔۔
وہ آگے بڑھتا ان کا کالر تھام کر ان پر حملہ کرتا اسکی ماں نے اسے دھکے سے پیچھے کیا۔
تمہارا دماغ ٹھیک ہے؟ یہ کیا حرکت ہے؟ باپ ہے وہ تمہارا۔
میرا باپ مر گیا بہت سال پہلے۔۔۔یہ صرف آپ کا شوہر ہے۔۔۔۔
یہ کس لہجے میں بات کر رہے ہو؟
ابھی تو لہجہ اور آواز اونچی کی ہی نہیں میں نے امّی۔۔۔۔یہ شخص میری بیوی کو اٹھا لایا ہے۔۔۔اسے بولیں میری بیوی میرے حوالے کرے نہیں تو اس سمیت اس گھر کی اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا میں۔
شرم آ رہی ہے ماں کے سامنے کھڑے ہو؟ وہ نک سک سی تیار ہوئی عورت بولی۔
ماں۔۔۔۔!
سچ میں؟
آپ کو لگتا ہے آپ میری ماں کہلانے کے لائق ہیں۔؟
تبریز!
آپ کو یاد ہے میری عمر کیا ہے؟ میری پسند کیا ہے؟ آخری بار کب بات کی تھی مجھ سے یاد ہے؟ ہم کب ملیں تھے یاد ہے؟ میں کتنی راتیں باہر گزارتا تھا یاد ہے؟ مجھے کھانے میں کیا پسند ہے معلوم ہے؟ میرا گھر کہاں ہے یاد ہے؟ یاد ہے ان میں سے کچھ تو بولیں۔۔۔۔
بولیں۔۔۔۔
میں ابھی سب آپ کے قدموں میں ڈھیر کر دوں گا۔۔۔۔
وہ عورت لاجواب ہوئی۔۔۔۔
یہ دولت کا نشہ ہے جس نے آپ کو دوسری شادی کے لیے اکسایا۔۔۔۔یہی دولت ہے جس کے پیچھے آپ کو یاد نا رہا کہ پہلے شوہر سے بھی آپ کی ایک اولاد ہے۔۔۔۔یہ آسائشیں، یہ سہولیات یہ رہن سہن۔۔۔۔سب ہے آپ کے پاس۔۔۔۔۔۔
لیکن میرے پاس کیا تھا؟
میں نے ہر پل ہر مشکل میں اپنے دائیں بائیں دیکھا اور پتا ہے مجھے وہاں میرے دوستوں کے علاؤہ کوئی نہیں دِکھا۔
میرا اس دنیا میں کوئی خونی رشتہ نہیں؟
میں کب کیا کر رہا ہوں کہاں جا رہا ہوں کب بیمار ہوا؟ آپ نے پوچھا اور آج آپ جتلا رہی ہیں کہ آپ ماں ہیں۔۔۔اس کا لہجہ بکھرا تھا۔
وہ عورت لاجواب تھی۔۔۔۔پشیمانی تھی یا نہیں لیکن سچ سامنے تھا جو کافی کڑوا تھا اور وہ جانتی تھی ان کے بیٹے کا بولا حرف حرف ٹھیک ہے۔
اور۔۔۔اور۔۔۔یہ۔۔یہ شخص۔۔۔
یہ شخص آج مجھ سے میرا سب لے آیا ہے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باسط نے اپنا سارا وقت رباب کو دیا تھا۔۔۔۔اس کی فکر کرنا اس کے ساتھ رہنا وہ جتنا کر پا رہا تھا کر رہا تھا۔
وہ ہر وقت یہاں سے وہاں گھومتی رہتی تھی۔
کیا ہوا ہے کیوں گھوم رہی کو میرے سر میں درد ہونے لگ گیا ہے۔
نہیں کچھ نہیں وہ آ کر خاموشی سے بیٹھ گئی۔
مجھے باہر جانا ہے۔۔۔
کہاں؟؟ وہ ٹی وی پر سے نظر ہٹاتا بولا۔
بس باہر کہیں بھی۔۔۔اتںی دیر ہو گئی ہم باہر نہیں گئے۔
تو اس میں یوں پریشان ہونے کی یا زیادہ سوچنے کی کیا بات ہے جاؤ تیار ہو کر آؤ چلے جاتے ہیں۔
اوکے! وہ تیزی سے اٹھتی اندر چلی گئی تو باسط نے نفی میں سر ہلایا۔
تیار ہونے میں اس نے پورا گھنٹہ لگایا تھا ایک سوٹ پہن کر دیکھتی پھر دوسرا اور بلآخر ایک سفید فراک پر اس نے اکتفا کیا جس کے ساتھ کا فیروزی دوپٹہ تھا۔
وہ تیار ہو کر باہر آئی جو صوفے پر ہی لیٹا سو گیا تھا نیوز ویسے ہی لگی ہوئی تھی۔
باسط؟
باسط؟
اور پھر اس کے نا اٹھنے پر اس کے کان کے پاس جھکی اور اپنے دانتوں سے اس کے کان کو کاٹا تو وہ ڈر کر اٹھا۔
یہ کیا طریقہ ہے جگانے کا؟
ویسے آپ اٹھ نہیں رہے تھے نا اسے غصہ ہوتے دیکھ وہ منمنائی۔
اتنا تیار کیوں ہو گئی ہو؟ باسط نے اس کی تیاری دیکھی جو بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔
ہم باہر جا رہے ہیں نا۔
ہاں ڈنر کر لیں گے۔۔۔۔لیکن اس کے لیے اتنی تیاری اس کی آواز میں شرارت تھی جو وہ نا سمجھی۔
ہاں تو اتنا پیارا میرا جوڑا تھا پہننے کا موقع ہی نہیں ملا اب موٹی ہو جاؤں گی تو کیسے پہنوں گی ضائع ہو جاتا سال بھر انتظار کرنا پڑتا پتلے ہونے کا۔
اوکے اوکے ۔۔۔باسط نے اس کی تقریر کے اختتام پر یہی کہا اور اسے آنے کا کہتا گاڑی نکالنے لگا۔
گاڑی کو سڑک پر ڈالتے اس نے ایک نظر رباب کو دیکھا جو بے حد خوش تھی۔
ڈنر کا آرڈر دیتے وہ ایک دوسرے سے باتوں میں مصروف تھے جب فادی رباب کا دوست انہیں دیکھ کر چلا آیا۔
روبی۔۔۔۔تم؟ کیسی ہو؟
میں ٹھیک ہوں تم کیسے ہو؟ رباب اس سے اچھے سے ملی تھی۔
آپ کیسے ہیں؟ فاحد نے سنجیدہ سے بیٹھے باسط کو دیکھتے کہا۔
رب کا شکر ہے۔۔۔اور پھر فاحد رباب سے باتیں کرنے لگا تو باسط نے ان دونوں کو بیزاری سے دیکھا۔
میں نے زیادہ وقت تو نہیں لیا؟وہ باسط کا چہرہ دیکھ کر خجل سا ہوتا پوچھنے لگا۔
