Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shiddat-e-Talab Episode 21

Shiddat-e-Talab by Suneha Rauf

چائے بنا دوں؟ واپس آتے اسے فریش ہو کر واپس آتے دیکھ رباب نے استسفار کیا۔

نہیں!

کپڑے چینج کر کے آؤ۔۔۔۔مجھے نیند آئی ہے۔۔۔۔باسط نے اس کے فراک کو دیکھتے کہا وہ روز اس کے آنے کے وقت پر تیار ہوتی تھی۔

اوکے۔۔۔۔وہ فوراً بھاگ گئی تو وہ مسکرایا۔۔۔۔

کسی روز تمہیں بتاؤں گا رباب باسط ضیاء ۔۔۔۔۔کہ باسط ضیاء نے اپنی زندگی میں تمہارے علاؤہ کسی صنفِ نازک کو سوچا ہی نہیں ۔۔۔۔لیکن اتنا جلدی نہیں ۔۔۔۔۔وہ مسکراتا لیٹ گیا اور اس کا انتظار کرنے لگا۔

وہ باہر آئی تو وہ آنکھوں پر بازو رکھے لیٹا تھا وہ آ کر اپنی جگہ پر لیٹ گئی۔

پھر کچھ یاد آنے پر اٹھنے لگی تو باسط نے اسے تھام کر اپنے اوپر جھکایا۔

اب کہاں جا رہی ہو۔۔۔؟ سکون نہیں ہے تمہیں؟

آپ نے کپڑے نہیں نکالنے دیے تھے۔۔۔۔صبح لیٹ ہو جائیں گے۔۔۔۔

بس کرو رباب۔۔۔۔میں نکال لوں گا اس وقت مجھ پر دھیان دو۔۔۔۔رباب کے بال کان کے پیچھے اڑستے باسط نے کہا۔

سارا دن آپ پر ہی دھیان دیتی ہوں۔۔۔۔اسی لیے اب مجھے سونے دیں۔۔۔۔

سارا دن دیتی ہو ساری رات بھی دیا کرو۔۔۔۔۔ہو سکتا ہے مجھے تم سے محبت ہو جائے۔۔۔۔وہ شرارتی انداز میں اسے چھیر رہا تھا۔

باسطططط۔۔۔۔وہ چیخی تو کمرے میں باسط کا دلکش قہقہہ گونجا۔

میں چاہتا ہوں تم رابی کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر کرو رباب۔۔۔وہ بہن ہے میری۔۔۔۔وہ جانتا تھا وہ معافی مانگ چکی ہے لیکن وہ ان کے درمیان سے سرد مہری کی دیوار کو ختم کرنا چاہتا تھا۔

اوکے۔۔۔۔!

اس نے غلط کیا تھا وہ مانتی تھی جس کی معافی وہ مانگ چکی تھی اور شرمندہ تھی اور جب اس کے بھائی کی محبت تھی وہ لڑکی تو وہ کون ہوتی تھی ان کے درمیان آنے والی۔۔۔۔وہ مزید رشتوں کو پیچیدہ نہیں کرنا چاہتی تھی۔

وہ بنا کچھ کہے اس کی بات مان گئی تو باسط نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھنساتے اسے مزید خود پر جھکایا۔

اچھی کوششیں ہیں مجھ سے اظہار کروانے کی۔۔۔لگی رہو کامیاب ہو جاؤ گی وہ کہتا اس کے لبوں سے خود کو سیراب کرتا پیچھے ہٹا تو وہ اسے گھورنے لگی۔

کل میں واپس آؤں تو مجھے بلیک ڈریس میں ملو تم۔۔۔۔وہ آہستہ آہستہ اس سے فرمائشیں کرنے لگا تھا۔

رباب نے تیزی سے سر ہاں میں ہلایا وہ خوش ہوئی تھی اس کے یوں فرمائش کرنے پر۔۔۔۔۔

باسط کو اچھا لگتا تھا اس کا اپنی زات میں مشغول ہونا ۔۔۔۔اسی لیے اس کا بھی دھیان رکھنا اس پر فرض تھا۔۔۔رشتے اسی متوازن سے چلتے ہیں۔

مجھے نیند آ رہی ہے۔۔۔اس نے باسط کے کندھے پر سر رکھتے کہا تو اس نے اسے بیڈ پر لٹایا اور خود اس پر جھکا۔

خبردار سوئی تو۔۔۔۔۔مجھ پر دھیان دو اور پھر سارا دھیان باسط نے اس کا خود کی طرف مبدول کروایا تھا اپنی جان لیوا قربت اسے سونپ کر۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا ہوا ہے۔۔۔۔؟ وہ فکرمندی سے اس کے قریب آئی اور اس کے جوتے اتارنے چاہے۔

میں نے کہا ہے نا جاؤ۔۔۔اور جوتوں کو دوبارہ ہاتھ مت لگانا میرے کبھی بھی، منت کا اس کے جوتوں کو ہاتھ لگانا اسے ناگوار گزرا تھا۔

مجھے بتائیں تو طبیعت ٹھیک ہے؟ کھانا نہیں کھانا اور فریش ہوں پہلے ایسے لیٹ کیوں گئے ہیں؟

مجھے ابھی کوئی بات نہیں کرنی۔۔۔۔۔

اچھا ٹھیک ہے ۔۔۔۔یہ بتائیں طبیعت ٹھیک ہے۔۔۔۔لاکھ ناراضگی صحیح لیکن وہ تڑپ گئی تھی اس کے لیے۔

سر میں درد ہے اس وقت سونا چاہتا ہوں۔۔۔۔جاؤ۔۔۔!

وہ اس کا سر گود میں رکھتی دبانے لگی۔۔۔۔۔وہ واقع پریشان تھا۔۔۔۔یہ اس کی محبت نہیں تھی کہ وہ ایسے اس کے کہنے پر اسے اکیلا چھوڑ دیتی۔

تبریز شاہ اس کی گود میں سر دیتا الٹا ہو کر لیٹا اور اپنے ہاتھ اس کی قمر کے گرد باندھے۔

منت نے جھک کر اس کے بالوں میں بوسہ دیا۔۔۔۔

چائے لاؤں۔۔۔۔

اس وقت تم کافی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے اور کچھ نہیں چاہیے۔۔۔

وہ وہیں بیٹھی اس کے بالوں میں ہاتھ پھرتی رہی۔۔منت نے کبھی اسے اتنا پریشان نہیں دیکھا تھا۔

ڈیڈ نے سارہ کے والد سے کوئی ڈیل کی ہے وہ چاہتے ہیں میں اس سے شادی کر لوں نہیں تو وہ مجھے اپنا اور میری ماں کا مرا ہوا منہ بھی نہیں دکھائیں گے اس کے ٹوٹے لہجے نے منت کو ہلا دیا تھا۔

آپ کر لیں شادی میں آپ کو اجازت دیتی ہوں۔۔۔وہ پل میں فیصلہ کر گئی تھی اگر اس وجہ سے وہ اتنا پریشان تھا تو وہ حل نکال گئی تھی پل میں ۔۔۔منت نے کہا اور اس کا سر اپنی گود سے ہٹاتی اٹھ گئی۔

کھانا لگا رہی ہوں آجائیں!

منت مجھے نہیں کھانا کھانا۔۔۔میں کیا کہہ رہا ہوں تمہیں یہ سب آسان لگ رہا ہے، میں پہلے ہی بہت پریشان ہوں مزید پریشان نہیں کرو مجھے۔

آپ نے صبح قبول کیا تھا شاہ کے آپ کو مجھ سے محبت نہیں ہے، تو جب ہمارے رشتے میں محبت نہیں ہے پھر اس کے درمیان ایک آئے یا ہزار کیا فرق پڑتا ہے؟

کل تک تم مارنے مرنے پر تلی تھی اور آج؟ وہ حیران ہوتا تھا اس کے پل پل بدلتے رویوں پر۔

کیونکہ مجھے بار بار احساس دلانے والے آپ ہیں کہ ہمارے درمیاں محبت نہیں ہے۔۔۔۔اس سے آگے میں کیا کر سکتی ہوں۔۔۔آپ کے والدین چھوٹ جائیں گے جو میں ہرگز نہیں چاہتی وہ کہتی باہر نکل گئی تو وہ بھی اس کے پیچھے آیا۔

سر درد سے پھٹ رہا تھا۔۔۔۔اس نے کھانا نکالا تو تبریز نے اپنی پلیٹ ہٹائی اور اس کی پلیٹ میں اس کے چمچ سے کھانے لگا۔

کھلاؤ ۔۔جب منت نے رسپانس نہ دیا تو وہ اس کا چمچ چھوڑتا ہٹا نیا حکم صادر کر گیا۔

منت نے اس کی خواہش کا احترام کرتے اسے چاول کھلانے لگی۔۔۔۔اور خود بھی ساتھ کھانے لگی۔

کھانا کھانے کے بعد وہ اندر چلا گیا تو منت نے اس کی چائے بنائی اور پین کلر لیتے اندر گئی جہاں وہ فون پر کسی سے بات کر رہا تھا۔

منت اپنے الجھے بال سلجھانے لگی تو وہ پلٹا۔۔۔

ایسے ہی رہنے دو۔۔۔اسے بال باندھتے دیکھ اس نے کہا تو منت نے آگے کے بالوں کو ہلکا سا کیچر لگاتے باقی ایسے ہی چھوڑ دیے۔

اپنے فون پر کال موصول ہوتے ہی وہ آگے آتی لیکن اننون نمبر دیکھ تبریز کی نظر اس کے فون پر گئی۔

اس نمبر کو تو وہ پہچان سکتا تھا۔۔۔۔یعنی وہ بھاگنے میں کامیاب ہو گیا تھا اور اب کیا ہونا تھا وہ جانتا تھا۔

منت نے آتے اپنا فون اٹھانا چاہا تو تبریز نے اس کا فون اٹھایا اور وہ نمبر بلاک لسٹ میں ڈالتے اسے دیکھا جو جاننے کی کوششوں میں تھی کہ وہ کیا کر رہا ہے۔

تمہاری چائے کہاں ہے؟

کس کا فون تھا؟

رانگ نمبر تھا۔۔۔اور میری بات کا جواب دو۔

میرا من نہیں تھا۔۔۔۔اس نے سادگی سے کہا تو تبریز شاہ نے اس کا ہاتھ تھاما اور بالکونی میں لے گیا۔

جھٹکے سے اسے اپنے ساتھ جھولے پر بٹھایا اور اپنا کپ اسے پکڑایا تو منت نے ایک گھونٹ لے کر اسے دے دیا۔

میرا زخم دینا تمہیں برا لگا ہے؟ اس نے اس کے زخم پر انگلی پھیرتے کہا۔

برا لگتا تو اسے ہٹانے کے سو جتن کرتی میں! وہ سادہ الفاظ میں اسے اس کے دیے زخم کی اہمیت بھی بتا گئی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبح اس کی آنکھ کھلی تو اس کے کمرے میں سے اس کا سارا سامان غائب تھا۔۔۔حازق کی اور درید کی غیر موجودگی کو محسوس کرتے وہ حواس باختہ ہوئی۔

گھڑی پر وقت دیکھا جو دوپہر کے دو بجا رہی تھی۔۔۔وہ اتنا کیسے سو سکتی تھی شاید دواؤں کا اثر تھا۔۔۔اس کی طبیعت اب پہلے سے بہتر تھی۔

نرس کے اندر آنے پر وہ اس کی طرف متوجہ ہوئی۔۔۔اور اسے دیکھنے لگی جو کچھ عجیب لگی تھی اسے۔۔۔

اس کی آنکھیں کسی سے مشاہبت کھاتی تھیں لیکن کس سے؟

اب کیسی ہو ربائشہ جان؟

اس نرس نے اپنا ماسک نیچے کیا تو ربائشہ کے منہ سے چیخ نکلتے نکلتے بچی۔۔۔۔

وہ پروین تھی۔۔۔اس کی سوتیلی ماں اس کے باپ کی قاتل۔۔۔۔وہ درید کو بلانا چلاتی تھی لیکن آواز جیسے حلق میں ہی پھنس گئ۔

سنا ہے اولاد کوجنم دیا ہے تم نے۔۔۔تو سوچو اگر تمہاری جگہ تمہارے بیٹے کو ہی مار۔۔۔۔۔

درید۔۔۔۔۔۔وہ جتنی آواز سے چیخ سکتی تھی چیخی تھی۔۔۔۔خود پر ہزار زخم اسے منظور تھے لیکن پہلے درید اور اب اپنے بیٹے کے لیے وہ حساس ہو گئی تھی۔

درید کے آنے سے پہلے سے ہی وہ عورت جا چکی تھی لیکن وہ مسلسل چِلا رہی تھی۔

درید نے اندر آتے اسے ساتھ لگایا ۔۔۔۔جس کا حلق سوکھ گیا تھا اپنے ساتھ لگایا اور ایک ہاتھ سے اس کی پیٹھ سہلانی اب ان کا بیٹا بھی رونے لگا تھا۔

ڈاکٹرز بھی اس کے چیخنے پر اندر آئے تھے۔۔۔۔

وہ ۔۔۔وہ آئیں تھیں۔۔۔وہ۔۔۔ربائشہ بے حد ڈر گئی تھی۔۔۔۔۔

کون؟ درید نے اسے دیکھتے پوچھا۔۔۔

ماما۔۔۔۔۔ما۔۔۔۔۔وہ عورت۔۔۔اس کا تنفس بگڑا تھا اس نے گھور کر نرسوں کی فوج کو دیکھا وہ حیران تھا اتنی جلدی وہ پہنچ گئی تھی اس تک۔

کوئی عورت کیسے اندر آ سکتی ہے جبکہ میں نے کسی کو بھی اجازت نہیں دی تھی وہ دھاڑا تھا سب خاموشی سے کھڑے تھے۔۔۔

مجھے۔۔مجھ۔۔۔گھر۔۔۔جانا۔۔۔ربائشہ نے کہا تو اس نے اسے پانی پلاتے بمشکل اٹھایا اور نرس کی مدد سے اسے گاڑی تک پہنچایا اور پھر گھر لے جاتے تک وہ خاموش رہی تھی۔

اندر لاتے اسے لٹایا اور حازق کو اسے پکڑایا جو پھر سے رونے لگا تھا۔۔۔۔کتنا مشکل ہو گیا تھا سب اس کے لیے گھر میں ان دونوں کو سنبھالتا یا باہر کے معمالات کو؟

اس نے تبریز کو فون کر کے اپنے باپ کے بلڈ ٹیسٹ کی رپورٹ لانے کو کہا تھا۔

درید میرے پاس بیٹھیں۔۔۔باہر نہیں جائیں ۔۔۔۔وہ گھر آ کر کچھ حد تک پرسکون ہوئی تھی حازق کو سلاتے اس نے درید کا ہاتھ تھاما تھا۔

میں خانساماں کو کھانے کا بتادوں۔۔۔۔اور لاک لگا آؤں سارے۔۔۔اس نے کیمراز اندر اور باہر لگوادیے تھے اور گارڈ بھی ہائیر کیا تھا اور پھر سکیورٹی گھر کے آس پاس تھی۔

لیکن وہ عورت اگر ہسپتال پہنچ سکتی تھی تو بعید نہ تھا کہ وہ گھر تک بھی پہنچ جاتی۔۔۔اس کے گھر تک پہنچنے سے پہلے وہ اسے پکڑنا چاہے تھا نہیں تو یقیناً کچھ برا ہوتا۔

سب کرتا وہ اندر آیا جہاں وہ عنودگی میں تھی۔۔۔اس کے کپڑوں پر سوپ گرا تھا۔۔۔درید نے اس کے کپڑے الماری سے نکلالتے بتی بجھائی۔

اور پھر خود فریش ہو کر واپس آیا۔۔۔اس کے اعصاب تھک چکے تھے اس وقت وہ بس سونا چاہتا تھا۔۔۔۔۔بھوک بھی لگی تھی لیکن ابھی وقت تھا کھانا بننے میں۔

وہ آ کر لیٹا تو ربائشہ نے اس کے اوپر بازو رکھتے اس کی آنکھوں پر لب رکھے۔

وہ وہاں تک پہنچ گئیں تھی درید حازق کو مارنے ۔۔۔۔

ششششش۔؟۔۔؟مجھ پر بھروسہ ہے؟

ہممم ۔۔

بس سب مجھ پر چھوڑ دو۔۔۔درید نے کہا تو وہ درید کو دیکھنے لگی۔

چائے کا کہہ دوں؟ کھانے میں تو ابھی وقت ہو گا۔۔۔

نہیں اس وقت کچھ بھی نہیں چاہیئے مجھے۔۔۔۔۔۔درید نے اسے قریب کرتے کہا تو وہ چپ ہو گئی زہن ابھی تک وہیں ہسپتال کے کمرے کے منظر میں اٹکا تھا۔

اپنی گردن پر جاننا اسکا لمس محسوس کرتے اس نے اس کے بالوں میں انگلیاں چلائی۔۔۔اسے پرسکون تو کر سکتی تھی وہ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبح وہ اٹھا تو اب تک سو رہی تھی اس نے حیرت سے گھڑی کی طرف دیکھا جو نو بجا رہی تھی ایسا ممکن نہ تھا وہ روز اسے آٹھ بجے جگا دیتی تھی۔

رباب؟

باسط نے اسے پکارا۔۔۔۔شاید وہ نیند میں تھی گہری۔۔۔کل کی تھکی ہو گی یہ سوچتے وہ خود ہی اپنے کپڑے نکال کر فریش ہونے چلا گیا۔

پھر باہر جا کر چائے بنائی اور پی کر واپس اندر آیا وہ اب تک سو رہی تھی۔۔۔۔

اپنا والٹ اٹھا کر جیب میں رکھا اور اس کی طرف آتے اس پر جھکا خدا حافظ بولنے کے ساتھ جب ماتھے پر لب رکھے تو اندازہ ہوا کہ اسے بخار ہے۔

اس نے اسے دیکھا۔۔۔۔اچانک کیوں بخار ہو گیا تھا اسے۔

رباب؟ اس کے گال تھپتھپاتے اسے اٹھایا جس نے مندی مندی آنکھیں کھولیں تھی۔

اور پھر بند کر کے دوبارہ کھولی تو زہن کچھ بیدار ہوا اور احساس ہوا کہ وہ تیار کھڑا ہے اس کے سامنے۔

آہ!

آج میں لیٹ ہو گئی۔۔۔ناشتہ نہیں کیا آپ نے؟ لیٹ ہو گئے ہیں وہ سر پر ہاتھ مارتی اٹھنے لگی تو باسط نے اسے سنجیدگی سے دیکھا۔

رباب بیوی ہو تم میری ملازمہ نہیں؟ میں خود بھی کر سکتا ہوں میرے ہاتھ ہیں۔۔۔۔اور میں ان مردوں میں سے بالکل نہیں ہوں جن سے اپنے کام نہیں ہوتے اور ساری زندگی میں یہ سب خود کرتا آیا ہوں آج وہ کچھ زیادہ ہی سنجیدہ تھا۔

باسط کیا ہو گیا ہے؟ اس نے اپنے ہلکے سے دکھتے سر کو نظرانداز کرتے کہا۔

اٹھو۔۔! آؤ میرے ساتھ۔۔۔باسط نے اسے کھڑا کیا اور اپنے ساتھ باہر لایا اور ناشتے کی میز پر بٹھایا۔

فریج سے دودھ نکال کر گرم کیا اور اسے ٹوسٹ کر کے دیے اور اس کے سامنے رکھے۔۔۔۔

رباب نے دکھتے سر سے اسے دیکھا۔۔۔۔اپنی طبیعت خرابی کا اندازہ ہو گیا تھا اسے۔

اس نے خاموشی سے ناشتہ کیا اور باسط کے ہاتھ سے دوا لی جو وہ ابھی لے کر آیا تھا۔۔۔

اٹھو اندر جا کر لیٹو۔۔۔میں کھانا باہر سے لے آؤں گا اور جلدی آجاؤں گا۔۔۔اس دوا میں نشہ ہے تم سو جاؤ گی فون تمہارے سرہانے کے پاس رکھا ہے طبیعت نہ سنبھلے تو مجھے فون کر دینا وہ اسے سب سمجھا رہا تھا۔

رباب نے اس کی آنکھوں میں پہلی بار فکر دیکھی تھی اور وہ اس کے لیے تھی۔۔۔اس نے اپنا بھار اس پر چھوڑا تو وہ لڑکھڑایا۔

پھر سنبھلا اور اسے باہوں میں اٹھاتے بستر پر لٹاتے کمفرٹر درست کیا اور اے سی اون کرنا چاہا۔

نہیں! اسے بند رہنے دیں رات کو بھی سردی لگ رہی تھی اس نے کہا تو باسط نے غصے سے اسے دیکھا۔

تو تم نے بند کیوں نہیں کیا؟

آپ جاگ جاتے ہیں پھر۔۔۔۔گرمی سے۔۔۔۔اس نے کہا تو باسط کا دل کیا اسے ایک جڑ دے بیوی اتنی بھی اچھی نہیں ہونی چاہیے اس نے دل میں سوچا۔

تمہارا دماغ خراب ہے۔۔۔۔۔اتنی گرمی نہیں لگتی مجھے اور سردی لگ رہی تھی تو کمفرٹر اور نکال لیتی الماری سے۔۔۔۔بخار اسی وجہ سے چڑھا ہے تمہیں۔۔۔بچی ہو چھوٹی سی؟

اچھا اب پلیز ڈانٹے تو نہیں۔۔۔۔۔وہ بولی اور آنکھیں موند گئی۔

باسط کو اس کی فکر ہوئی۔۔۔اگر وہ اس کی ہر چھوٹی بات کا خیال رکھتی تو وہ کیوں نہیں؟

اس کے پاس آتے اس کے ماتھے پر پیار دیتے وہ ہٹا اور دروازہ بند کرتا باہر چلا گیا۔۔۔۔

وہ گھر سے ہی کام کر لیتا۔۔۔لیکن اگر اسے پتا چل جاتا تو وہ دماغ کھاتی کہ وہ کیوں اس کی وجہ سے نہیں گیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تبریز شاہ نے اس کا کیچر اتارا اور ہوا میں اچھال دیا۔۔۔

شاہ۔۔۔

جو میں کہوں وہ مانا کروں۔۔۔۔تمہارے معاملے میں مجھے تمہارا کیا کچھ بھی منظور نہیں ہے سب میرے مطابق کیا کرو۔

اور اپنے بارے میں کیا خیال ہے؟ آپ میرے مطابق کرتے ہیں کچھ؟ پہلے میں نے کہا کہ یہ منگنی ختم کریں آپ نے تب بھی میری نہیں مانی اب میں کہہ رہی ہوں کر لیں شادی آپ کو اب بھی یہ سب مزاق لگ رہا ہے۔

دوبارہ شادی کی کوئی چاہ نہیں جاگی ہے میرے دل میں، میرے باپ کی سیاست ہے یہ۔۔۔کچھ وقت پہلے بول پڑتا تو شاید حالات اب بہتر ہوتے لیکن جلد ہی یہ سب ختم کر دوں گا میں۔

آپ مجھ سے سچ میں محبت نہیں کرتے؟تھوڑی سی بھی نہیں؟

تمہیں کیا لگتا ہے چائے کا آخری سپ لیتے تبریز شاہ نے اسے دیکھا۔

میں نہیں مانتی کہ اس شخص کو مجھ سے محبت نہ ہو جو یونیورسٹی میں صرف میرے پیچھے تھا، جو مجھے زخم دے کر مسیحائی خود کرتا تھا، جس نے خود مجھ سے نکاح کیا تھا، جس نے دو سال مجھے پاگلوں کی طرح ڈھونڈا، جس نے مجھے ملتے ہی مجھ پر حق جتایا، جو میری ہر بات، ہر حرکت پر نظر رکھتا ہے، جس کو یہ پتا ہے کہ میں دن میں کپڑے کتنی بار بدلتی ہوں، جس کو یہ پتا ہے کہ میں دن میں چائے ایک ہی بار اس کے ساتھ پیتی ہوں، جس کو میرا نظرانداز کرنا بالکل پسند نہیں ہے، جو بنا مجھے اٹھائے اپنے دن کا آغاز نہیں کرتا ہے اور جو بنا۔۔۔۔

تبریز شاہ نے اس کی گردن کے زخم پر لب رکھے اور اس کی آنکھوں میں دیکھا۔

تو اگلی بار مجھ سے سوال مت کرنا کہ مجھے تم سے محبت ہے یا نہیں سمجھ رہی ہو؟

کیوں نہ کروں یہ حق ہے میرا؟

پھر تو اور بھی بہت سے حق ہیں تمہارے۔۔۔

جیسا کہ؟

میری ہر ضد کو ماننا۔

جیسے میں نے کبھی منع کیا ہو۔۔۔اس نے ہنکارا بھرا۔

میرے ایک بار بلانے پر آجانا۔

منت نے اسے گھورا۔

صرف مجھ پر دھیان دینا۔

اور تو جیسے آپ کہیں دینے دیتے ہیں مجھے دھیان۔

مجھے میری اولاد دینا۔

جواب میں اس کا گلابی چہرہ سامنے تھا۔

ہاہاہا۔۔۔۔۔لیکن تم تو مجھے خود کے قریب بھی نہیں بھٹکنے دیتی تو سوچ رہا ہوں یہ خواہش دوسری بیوی سے پوری کروا لوں۔۔۔

منت نے خالی نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔تو وہ تھما۔۔پھر اس کی آنکھیں چومی اور اسے اندر لا کر بالکونی کا دروازہ بند کیا۔

تم پاگل ہو پوری منت!

اب سر میں درد کیسا ہے وہ لیٹ گیا تو منت نے پوچھا؟

بڑی جلدی نہیں خیال آگیا؟

میرا تب سے دھیان آپ پر ہی ہے۔۔۔تبریز آپ کو کیوں لگتا ہے میں آپ کے بغیر کچھ سوچتی ہوں۔۔۔۔اس نے کہا تو تبریز شاہ دل میں مسکرایا۔

تمہیں کچھ سوچنے کی اجازت میں دیتا بھی نہیں ہوں منت تبریز شاہ۔۔۔اور سر دبا دو۔۔۔

منت نے اس کا سر دبانا شروع کیا تو وہ دوپہر والی سابقہ پوزیشن میں آتے اس کی قمر کے گرد حصار باندھتا اپنا سر اس کی گود میں چھپا گیا۔

کیوں پریشان ہو رہے ہیں؟ منع کر تو دیا ہے آپ نے۔۔۔۔

وہ تمہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں منت تبریز شاہ۔۔۔میری واحد کمزوری ہو تم۔۔۔نہیں تو اس معاملے کو کب کا حل کر چکا ہوتا میں۔

منت نے تشکر سے آسمان کو دیکھا۔۔۔اور پھر اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔

آپ حفاظت کر لیں گے میری مجھے یقین ہے۔۔۔۔وہ مان سے بولی۔

تیل لگا دوں سر میں۔۔۔؟

وہ اس کی چھوٹی سی چھوٹی تکلیف پر بوکھلا جایا کرتی تھی یہی چیز تھی جو تبریز شاہ کو پاگل کرتی تھی۔۔۔۔وہ ضد کیا کرتا تھا اس سے وہ چاہتا تھا وہ اس کے بارے میں بس سوچے اس کی زات میں مشغول رہے۔

تم کافی ہو اس وقت۔۔۔۔خاموش رہو۔۔۔۔

اچھا اپنے تکیے پر تو لیٹیں۔۔۔

کیوں تھک گئی ہو؟

نہیں! ایسے بے آرام ہوں گے تو نیند کیسے آئے گی۔

ایسے میں سب سے زیادہ آرام میں ہوں اور دوبارہ آواز نہ آئے تمہاری مجھے سونے دو مجھے۔۔۔۔۔یہ تو طے تھا آج وہ ایسے ہی سونے والا تھا۔

اس کا سارا دھیان اپنے باپ پر اور منت کے فون پر آئی اس کال کی طرف تھا۔

منت نے تھک کر آنکھیں موند لیں اور بیڈ کی ٹیک سے سر جوڑا۔۔۔۔وہ خود بے آرام ہو سکتی تھی لیکن اسے نہیں کر سکتی تھی۔۔۔یہ محبت تھی اس کی اپنے شوہر کے لیے۔۔۔

اس کے صبح جانے کے بعد وہ سارا دن سو کر اپنی نیند پوری کر سکتی تھی لیکن اس شخص کا سکون نہیں کھونے دے سکتی تھی جو اسی کی زات میں تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ باہر بیٹھا ہی کام کر رہا تھا۔۔۔۔گیارہ کے نزدیک وہ اٹھ کر ایک نظر اسے دیکھنے گیا تھا۔

وہ سو رہی تھی۔۔۔اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھا بخار اب بھی ویسا ہی تھا۔۔۔دوا وہ دے چکا تھا اسی لیے انتظار میں تھا کہ شاید اتر جائے نہیں تو اسے ہسپتال لے کر جاتا۔

وہ کمفرٹر میں دبکی سو رہی تھی۔۔۔۔چہرہ ہلکا سرخ تھا۔۔۔باسط نے جھکتے اس کے بال اس کے چہرے سے ہٹائے اور بتی بجھاتے باہر نکل گیا۔

پھر کام کرتے اسے وقت کا اندازہ نہ ہوا۔۔۔ڈھائی پر وہ اٹھ کر باہر آئی اسے وہیں بیٹھا کام کرتے دیکھ اس کے ساتھ صوفے پر آ کر کر بیٹھی۔

تو وہ چونکا پھر کھینچ کر اسے ساتھ لگایا تو وہ اس کے کندھے پر سر رکھتے آنکھیں موند گئی۔

اب کیسی ہو؟ کیسا محسوس ہو رہا ہے؟

پتا نہیں!

پتا نہیں کا کیا مطلب ہے۔۔۔باسط نے اسے دیکھتے کہا جو آنکھیں موندے ہوئی تھی۔

ہسپتال چلیں؟ باسط نے پریشانی سے پوچھا اور اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھا بخار اب کم تھا۔

نہیں!

چلو اندر چلو۔۔۔کیا کھانا ہے؟

مجھے یہیں بیٹھنا ہے بس۔۔۔اور چپ کریں۔۔۔وہ غصے سے بولی تو پہلے وہ حیران ہوا اور پھر خاموش ہو گیا۔

وہ اس پر اپنا سارا وزن چھوڑے ہوئے تھی۔۔۔اپنی ٹانگیں اوپر کرتے انہیں سمیٹ لیا تھا۔

میرے پاؤں میں بھی درد ہے۔۔۔۔اس نے آنکھیں کھولتے باسط کو دیکھتے کہا جس کا اسے مسلسل کام کرنا پسند نہیں آرہا تھا۔

اسی لیے کہہ رہا ہوں تفصیل سے دکھا دیتے ہیں ڈاکٹر کو۔۔۔

نہیں آپ دبا دیں پلیزززز!

اس نے کہا تو باسط نے سرد آہ بھری اور اپنا لیپ ٹاپ بند کرنے لگا۔

رباب کو لگا اسے بھی دوسرے مردوں کی طرح اس کے قدموں کو ہاتھ لگانا بھایا نہیں ہے اسی لیے اٹھنے لگی۔

باسط نے لیپ ٹاپ سائیڈ پر رکھا اور اسے واپس بٹھایا۔۔۔

اب کہاں جا رہی ہو؟

اندر۔۔۔

پہلے تو تمہیں یہیں بیٹھنا تھا۔۔۔۔اور دکھاؤ پاؤں کو۔۔۔کیوں درد ہو رہا ہے باسط نے اسے ساتھ لگاتے اسکے پاؤں پر ہاتھ رکھا تو رباب اسے دیکھنے لگی۔

ہلکا ہلکا دباتا وہ شاید کوئی دعا پڑھ کر پھونک رہا تھا اس پر ۔۔۔اس کے بالوں کو دوسرے ہاتھ سے کان کے پیچھے اڑسا۔

رباب کو سب مکمل لگا تھا اس پل۔۔۔۔۔

کیا آپ میرے بالوں میں آئیلنگ کر دیں گے؟ وہ اچانک بولی ۔۔۔کافی دیر سے اس سے پاؤں دبوا رہی تھی۔

اس پر ترس بھی آیا ۔۔۔۔لیکن اسے اپنے کام کرتے دیکھ وہ اسے اپنے دل کے زیادہ قریب لگا تھا۔

باسط نے آنکھیں چھوٹی کرتے اسے دیکھا اور پھر جا کر اس کی آئل کی بوتل لے کر آیا تب تک وہ نیچے بیٹھ گئی تھی۔

ہلکا ہلکا آئیل ڈالتے اس نے اچھی طریقے سے لگایا تھا۔۔۔رباب من ہی من میں مسکرائی تھی۔

وہ اٹھ کر ہاتھ دھونے لگا تو وہ ہوش میں آئی۔

بس؟

بس کی بچی آدھا گھنٹا ہو گیا ہے۔۔۔۔ باسط کو وہ دن یاد آیا جب اس نے بھی ایسے ہی کہا تھا اسے۔

بس ٹھیک ہی کی ہے۔۔۔۔میں نے آپ کو کتنی اچھی کی تھی اس نے کہا تو باسط نے اسے گھور کر دیکھا جو پچھلے ایک گھنٹے سے اپنے کام کروا رہی تھی اس سے۔