Shiddat-e-Talab by Suneha Rauf NovelR50408 Shiddat-e-Talab Episode 17
No Download Link
Rate this Novel
Shiddat-e-Talab Episode 17
Shiddat-e-Talab by Suneha Rauf
کل کی خبر سے ناجانے وہ کیسے ری ایکٹ کرتی وہ اس کے قریب آیا اور اسے دیکھا بکھرے بالوں اور اس کے ڈھیلے کپڑوں میں وہ سکڑی سمٹی لیٹی تھی۔
اسے باہوں میں اٹھاتے تبریز شاہ نے اپنے بستر پر لٹایا اور اے سی چلاتے اس پر کمفرٹر دیتے دوسرے کمرے میں دوبارہ چلا گیا۔
کل کے لیے تیاریاں بھی کرنی تھی اس نے۔۔۔۔۔آج اسے بے حد دکھ تھا کہ وہ کیوں اپنے باپ کے سامنے نہیں بول پایا جو اس کی زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ خود ہی لے گئے تھے۔
ان کی نظر میں منت آ گئی تھی۔۔۔
وہ جانتا تھا وہ شخص کچھ بھی کر سکتا ہے۔۔۔۔منت کو ان سب میں نہیں گھسیٹنا چاہتا تھا وہ اس لیے حامی بھر لی تھی اس نے۔
اس نے جا کر شاور لیا اور آرام دہ حالت میں کرسی پر بیٹھتے ٹانگیں سیدھی کرتے سامنے میز پر رکھیں تھی اور لیپ ٹاپ اٹھایا تھا۔
کل شام سات بجے یہ خبر نشر ہو جانی چاہیے اس نے فون کان سے لگاتے مخالف کو سمجھایا اور پھر اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔
اسے کام کرتے رات کے ڈھائی بج گئے تھے لیکن وہ اس کمرے میں نہیں جانا چاہتا تھا جہاں وہ وجود تھا جس کے لیے اس کا دل عجیب حساس سا ہو رہا تھا۔
لیکن کل وہ اسے توڑنے والا تھا۔۔۔۔
یہ خیال آتے ہی اس نے آنکھیں بند کر کے کھولیں اور ٹانگیں میز سے اتاری۔
چونکا وہ تب جب دروازہ کھلا اور وہ نیند میں جھولتی اس کی طرف آئی تھی۔
شاہو۔۔۔۔۔اپنے باہیں وا کرتے منت تبریز شاہ کے سامنے آ گئی۔
کیا ہوا۔۔۔۔تںریز شاہ نے دل کے بے ہنگم شور پر پہرے بٹھانے چاہے تھے۔
منت نے اس کے نزدیک آتے اس کی گردن کے گرد ہاتھ باندھے تو اس نے فوراً اسے گود میں بٹھایا جو گرنے لگی تھی۔
وہ اس کے پاس اس کے نزدیک آتی پھر سے نیند میں چلی گئی تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرا دل نہیں ہے۔۔۔۔ربائشہ نے ہر بار کا کہا جملہ دہرایا تو درید نے کئی لمحے اس کے چہرے کو دیکھا۔
اور پھر جھٹکے سے ربائشہ کی کرسی کو کھینچ کر اپنے نزدیک کیا ۔۔۔ربائشہ کی چیخ اپنے ہاتھوں سے روکی تھی اس نے۔
پھر اپنی پلیٹ میں سے وہ اسے چھوٹے چھوٹے لقمے کھلانے لگا۔۔۔اور خود بھی کھانے لگا۔
اب کھایا جا رہا ہے تم سے۔۔۔۔؟
ایک پلیٹ کے بعد بھی وہ ندیدوں کی طرح اس کے منہ میں جاتے چمچ کو دیکھ رہی تھی۔
آپ چاہتے کیا ہیں کھاؤ تب مسئلہ نا کھاؤ تب مسئلہ۔۔۔۔۔وہ چڑ گئی۔
اوکے کھاؤ ۔۔۔۔وہ دوبارہ سے چاول اسے کھلاتا خاموش ہوا۔۔۔وہ کھا رہی تھی یہی اچھا تھا نہیں تو وہ جتنی ضدی ہو گئی تھی اس سے بعید نہ تھا کہ وہ وہیں چھوڑ دیتی۔
اور کچھ کھانا ہے۔۔۔۔؟کھانے کے بعد اپنے رومال سے اس کا چہرہ صاف کرتے درید نے استفسار کیا۔
ربائشہ اس کی تھوڑی سی توجہ پر ہی نحال ہو گئی تھی۔۔۔درید یزدانی جان گیا تھا کہ یہ پانچ مہینوں کی غفلت درید کے اسی توجہ نہ دینے کی بنا پر تھی۔
اممم۔۔۔۔گول گپے۔۔۔۔وہ بولی تو درید نے اسے گھورا۔
اٹھو۔۔۔۔
وہ منہ بناتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔۔
درید نے واپسی پر اس کی دوا لی۔۔۔۔۔تم نے پہلے کی استعمال کی کوئی دوا تو نہیں لی دوبارہ۔۔۔درید نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے پوچھا جو سر نفی میں ہلا رہی تھی۔
پاؤں اوپر کر کے بیٹھو۔۔۔۔سفر زیادہ ہے درید نے کہا تو اس نے تیزی سے اس کی بات پر عمل کیا۔
آدھے گھنٹے میں وہ کوئی ہزار بار اسے دیکھ چکی تھی۔
کیا کہنا ہے۔۔۔۔۔؟
درید اپنا سارا غصہ بھلائے اس کی زات پر توجہ دے رہا تھا۔۔۔۔۔کیا فائدہ تھا اس غصے کا جس کا اثر اس کی بیوی پر دماغی طور پر ہو رہا تھا۔
اس کی اولاد اور اس کی بیوی اس کی وجہ سے پریشانی میں تھے۔۔۔۔۔اور بیوی بھی وہ جس سے محبت تھی اسے۔
آپ کو مجھ سے معافی مانگنی چاہیے ۔۔۔۔وہ اب تک اسی بات پر ٹکی تھی۔۔۔۔
درید نے گاڑی سائیڈ پر لگائی اور اسے دیکھا۔۔۔۔اور پھر جھک کر اس کے ہاتھوں پر بوسہ دیا۔۔۔۔
ربائشہ مسکرائی تھی۔۔۔۔۔سچے دل سے ناجانے کتنے عرصے بعد۔۔۔۔۔
درید نے اسے گھر چھوڑتے کافی اختیاط برتنے کی تاکید کی تھی۔۔۔۔اور دوا وقت پر کھانے کی بھی۔
اب چونکے رباب بھی باسط کے پاس تھی تو وہ بھی باسط سے حتمی بات کر کے ربائشہ کو لانا چاہتا تھا کہ اب درید کا اس کے پاس ہونا بے حد ضروری تھا۔
رباب سے وہ اس کی خیریت دریافت کر چکا تھا۔۔۔وہ سب صحیح کرنا چاہتا تھا لیکن باسط سے شاید اب اس کی دوستی پہلے جیسی نہ ہو سکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
واش روم سے گیلا ٹاول لاتے اور فرسٹ ایڈ نکالتے کا ڈبہ لیتے وہ واپس اس کے پاس آئی۔۔۔اس دوران وہ اس ہلکے سے شور پر نہیں اٹھا تھا شاید پین کلر کا اثر تھا۔
وہ اس کے پاس سٹول رکھ کر بیٹھی اور اس کا زخم دوبارہ سے اچھے سے صاف کیا اور ڈیٹول سے صاف کرنے لگی اس نے بے حد اختیاط سے روئی اس کے ماتھے پر رکھی تھی۔
سس۔۔۔۔لیکن جلن سے وہ جاگ گیا تھا۔۔۔سامنے اسے دیکھتے وہ حیرت کا شکار تھا لیکن پھر خاموش ہو گیا۔
رباب دوبارہ ہاتھ اس کے ماتھے کی طرف لائی جسے وہ ہٹا گیا تھا اور کرووٹ اس کی طرف سے بدل لی۔
کیا چاہ رہے ہیں باسط۔۔۔۔وہ دھیمے سے بولی۔
کیوں آئی ہو اب۔۔۔۔؟
مجھے آنا پڑا۔۔۔۔آپ نے لاپرواہی دیکھی ہے اپنی۔۔۔اس زخم کو آپ دھو کر آرام سے بستر پر پڑے ہیں ۔۔۔۔وہ آپ پر آ گئی تھی کیونکہ وہ کافی بدتمیزی اس سے پہلے بھی کر چکی تھی۔
ابھی مجھے کچھ نہیں سننا اور اسے بند کرو۔۔۔اس کے لیمپ کو چلاتے ہی وہ بولا۔
میں پاگل ہوں جو دو گھنٹے سفر کر کے آئی ہوں؟
کیا میں نے ایسا کرنے کو کہا تھا تمہیں ۔۔۔۔؟وہ واپس سیدھا ہو کر لیٹا۔۔۔۔
بحث صبح کے لیے بچا لیں مہربانی پر کے ابھی یہ زخم پر کچھ لگانے دیں رباب نے کہا تو اس نے کوئی جواب نہ دیا۔
وہ تھک کر چیزیں اٹھاتی اس کے پاس بیڈ پر آ کر بیٹھی اور دوا لگانی چاہی ایک بار پھر وہ اس کا ہاتھ جھٹک گیا۔
اگر یہ ہاتھ میں جھٹکتی تو برداشت ہوتا آپ سے؟
وہ چٹخ پڑی۔۔۔۔لیکن جواب اب بھی نہیں ملا تھا وہ رو دینے کو تھی۔
مجھے کسی اور شخص کے ساتھ دیکھ لیں گے اس رشتے کے اختتام پر؟ اور یہ تیر لگا تھا نشانے پر اس نے فورا آنکھیں کھولیں تھی۔
اس طرح کی فضول گفتگو کے لیے آئی ہو یہاں۔۔۔۔۔وہ سرخ نگاہوں سے اسے گھورتا بولا۔
آئی تو کسی اور چیز کے لیے تھی جو آپ کرنے نہیں دے رہے تو چلیں اسی بات کا جواب دے دیں۔۔۔۔
تم کل ہی کیس واپس لے رہی ہو رباب میں بتا رہا ہوں تمہیں ۔۔۔۔۔
زخم صاف کروائیں اپنا رباب نے اس کی بات کو نظرانداز کرتے اس کا زخم صاف کرنے کے لیے ہاتھ بڑھایا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تبریز شاہ نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا اور اس کے سر پر بوسہ دیا۔۔۔۔دل دھڑکنے کی رفتار بڑھ گئی تھی۔
اس نے اپنا کام دھیان پر لگانا چاہا جو اب ممکن نا تھا۔۔۔منظر کچھ یوں تھا کہ وہ میز کے سامنے پڑی کرسی پر تھا اور منت اس کی گردن کے گرد حصار بنائے اس کی گود میں سوئی تھی۔
شاہو۔۔۔۔۔
ہممم۔۔۔۔اس نے لیپ ٹاپ بند کرتے ہنکارا بھرا۔
کیا آپ سچ میں مجھ سے محبت نہیں کرتے؟ منت نے نیند میں اس کے مزید نزدیک ہوتے پوچھا۔
اور وہ پھر سے لاجواب ہوا تھا۔۔۔۔۔اس کا دل چیخ چیخ کر اسے اقرار کرنے کو کہہ رہا تھا لیکن دماغ اس کی ہر سوچ کی نفی کر رہا تھا۔
کیا تمہیں مجھ سے محبت ہے؟ تبریز شاہ نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھرتے کہا اپنی گردن پر اس کی سانسوں کی تپش محسوس کر سکتا تھا وہ۔
اممم۔۔۔۔اور پھر خاموشی چھا گئی۔۔۔۔
بتاؤوو۔۔۔۔تبریز شاہ نے اس کے بال چہرے سے ہٹاتے پوچھا۔
ہاں مجھے آپ سے تب سے محبت ہے جب سے آپ نے مجھے نکاح میں لیا۔۔۔۔تب سے جب سے منت وقار سے میں منت تبریز شاہ بنی ۔۔۔میں نے ہر سانس کے ساتھ آپ کو چاہا ہے۔۔۔پتا ہے ربائشہ کہا کرتی تھی کہ منت تم اتنا ٹوٹ کر اس شخص کو نا چاہو۔۔۔اور میں ہمیشہ اس سے وجہ پوچھا کرتی تھی۔۔۔
وہ کہتی ہے کہ تم۔۔۔۔تبریز شاہ مجھے مجھ جتنی محبت نہیں دے سکتے اسی لیے۔۔۔۔
تبریز شاہ سانس روکے اس کی باتیں سن رہا تھا جو نیم عنودھی میں ٹہر ٹہر کر اسے سب بتا رہی تھی۔
ربائشہ کون ہے؟ تبریز شاہ نے پوچھا۔
میری بہن، میری دوست میری سب کچھ۔۔۔۔وہ دونوں ایک دن بھی ایک دوسرے سے بات کیے بغیر نہیں رہتی تھی لیکن اب وہ دونوں اتنا الجھ گئی تھی اپنے رشتوں میں کہ ایک دوسرے سے مل نہیں پا رہی تھیں لیکن منت جلد اس سے ملنے جانے والی تھی۔
ہممم۔۔۔۔اور ۔۔۔۔۔۔؟
میں نے ہر لمحے آپ کا انتظار کیا ہے۔۔۔۔لیکن کبھی آپ کو ڈھونڈا نہیں کیونکہ مجھے لگتا تھا آپ مجھ سے نفرت کرتے ہیں اور اپنا نام میرے نام کے آگے سے ہٹا دیں گے۔
لیکن جب میں آپ سے ملی آہستہ آہستہ مجھے احساس ہوا کہ شاید میں آپ کو مجبور کر دوں خود سے محبت کرنے کے لیے۔۔۔۔
لیکن۔۔۔۔
لیکن میں ناکام رہی۔۔۔۔آپ نے وہ سب جزبات ٹھکرا دیے۔۔۔۔ایک بار پھر مجھے زمین بوس کیا۔۔۔لیکن دیکھیں میں پھر بھی یہاں آپ کے قریب ہوں۔۔۔
آپ کا غصہ آپ کی نفرت مجھے سب منظور ہے۔۔۔میری محبت ان سب کو برداشت کرنے کا حوصلہ رکھتی ہے پر۔۔۔۔
پر۔۔۔؟وہ جو اسے دھیان سے سن رہا تھا چونکا۔۔۔۔
پر آپ صرف میرے ہیں۔۔۔۔تںریز شاہ کی ہر سانس پر منت کا نام ہے منت کا حق ہے۔۔۔اور جس دن آپ نے یہ حق کسی اور کو دے دیا اس دن منت آپ سے دور ہو جائے گی بہت دورررر۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سکون سے آ کر لیٹ گیا تھا۔۔۔۔آنکھوں کے سامنے وہ حسین چہرہ بار بار آ جاتا جو اس کی تھوڑی سی توجہ پر کیسے کھل گیا تھا۔
تم نے بہت زیادتی کی ہے میرے ساتھ رابی۔۔۔۔اس نے چھت کو گھورتے سوچا۔۔۔پانچ ماہ۔۔۔پانچ ماہ کا عرصہ چھوٹا نہیں تھا وہ اس کے لیے ترسا تھا ان پانچ مہینوں میں۔
دوا لی ہے؟ فون اٹھا کر اسے ملاتے اس نے پوچھا تھا؟
جی لے لی تھی۔۔۔
کیا کھا رہی ہو اب۔۔۔؟
اسے محسوس ہوا کہ وہ کچھ کھا رہی ہے۔۔۔
ڈبل روٹی اور جیم۔۔۔
کیوں۔۔۔تمہیں اب بھوک پھر سے لگ گئی ہے۔۔۔
درید آپ کیوں میرے کھانے کے پیچھے پڑ گئے ہیں وہ ناراض ہوئی۔۔۔
رابی تم وہاں میرے ساتھ کچھ گھنٹے پہلے ہی بہت کھا کر آئی ہو۔۔۔۔وہ حیران تھا پہلے وہ کھاتی نہیں تھی اور اب۔۔۔
تو مطلب بھوک لگے تو مر جاؤں۔۔۔وہ تیزی سے بول گئی لیکن احساس ہونے پر رکی۔۔۔
اپنا سامان پیک کرو میں کل لینے آؤں گا۔۔۔۔درید کی بھاری آواز گونجی۔
پر باسط۔۔۔؟
میری بیوی ہو تم۔۔۔۔۔۔۔اور تمہاری پہلی ترجیح میں ہونا چاہئے ہوں ہمیشہ سمجھ رہی ہو وہ ترجیح پر زور دیتا بولا اور آئیندہ اس زبان سے لفظ سوچ سمجھ کر ادا کرنا۔
تو ربائشہ نے تیزی سے سر ہلایا جیسے وہ سامنے بیٹھا ہو ۔۔۔۔۔۔اب دونوں خاموش تھے جیسے ایک دوسرے کی خاموشی کو سن رہے ہوں۔
میں نے اب تک کچھ بے بی کا نہیں خریدا وہ یاد آنے پر تیزی سے بولی۔
میں دلوادوں گا۔۔۔۔۔درید نے دوبدو جواب دیا۔
اور مجھے۔۔۔۔؟
کیا چاہئے تمہیں؟
سب۔۔۔۔وہ پُرجوش سی بولی۔۔۔۔
سب دلوا دوں گا اور بولو۔۔
آپ نے۔۔۔۔
میں بار بار معافی نہیں مانگوں گا۔۔۔درید جانتا تھا وہ پھر سے وہی سب دہرائے گی اور کہے گی کہ اس نے اس سے بدتمیزی کی تھی۔
رباب مجھے پسند کیوں نہیں کرتی وہ دھیمے سے بولی؟
کیا اس نے یہ خود بولا ہے کہ وہ تمہیں پسند نہیں کرتی درید نے بات گھمانا چاہی۔۔۔
نہیں مجھے محسوس ہوا ہے۔۔۔وہ کیوں مجھے پسند نہیں کرتی میں نے تو کچھ نہیں کیا وہ روہانسی ہوئی۔۔۔
درید کے پاس جواب نہ تھا۔۔۔۔
ہمیشہ میرے ساتھ ایسا ہوتا ہے۔۔۔۔پہلے وہ سب ۔۔۔۔۔۔۔وہ رکی۔۔۔۔اور پھر جب مجھے میرے بھائی نے میری محبت میں بچایا تو کوئی وجود مجھ سے نفرت کرنے لگا ہے ۔۔۔۔۔مجھے یہ سوچ کر نیند نہیں آتی درید کہ کوئی مجھے گناہگار سمجھتا ہے اپنا۔۔۔
آج بھی اس نے مجھے دیکھتے ایک لفظ تک نا بولا۔۔۔
ایسا نہیں ہے۔۔۔۔وہ ایسا کچھ نہیں سوچتی اور تم بھی یہ سب دماغ سے نکال دو۔۔۔درید نے اسے پرسکون کرنا چاہا۔۔۔۔اب وہ رباب سے ابھی اس بارے میں بات کرنا چاہتا تھا۔
آپ اسے سمجھائیں گے؟
ہممم۔۔۔۔۔۔۔اب خاموشی سے سو جاؤ صبح سامان سمیٹ لینا کل تمہیں واپس میرے پاس آنا ہے اور اپنے بھائی کو سمجھا دینا نہیں تو اس بات میرے ہاتھ سے بچے گا نہیں وہ۔۔۔۔
اور اب تم نے فون پر سکرولنگ کی تو میں انگلیاں توڑ دوں گا تمہاری رکھو فون اور سو فوراً ۔۔۔۔وہ جانتا تھا اسے ہر حد تک۔۔۔۔۔۔۔۔وہ منہ بسوڑتی لیٹ گئی اور کچھ ہی دیر میں سو گئی۔
درید نے اب رباب سے بات کرنی تھی۔۔۔۔جو ہوا تھا اس میں ربائشہ کا قصور نہیں تھا وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کی بیوی اس گلٹ میں رہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور اگر اس بار بھی میرا ہاتھ جھٹکا گیا نا باسط تو میں خود کی طرف آپ کا بڑھا ہر ہاتھ روک دوں گی ہمیشہ کے لیے ۔۔۔۔۔۔اس نے کہا تو باسط کے ماتھے پر سلوٹیں بکھری۔
رباب نے بینڈیج کیا اور اٹھ کر واش روم میں بند ہو گئی۔۔۔۔ہاتھ دھو کر واپس آئی تو وہ سیدھا لیٹا چھت کو گھور رہا تھا۔
واپس آؤ۔۔۔۔
مجھے گھر جانا ہے اب۔۔۔۔وہ جو جانے کا ارادہ نہ رکھتی تھی پھر بھی بول گئی۔
دماغ سیٹ ہے۔۔۔رات کے تین بج رہے ہیں اور تم اتنی دور جاؤ گی میرے یا اپنے بھائی کے بغیر حالات دیکھیں ہیں تم نے اس وقت ملک کے۔۔۔؟
اور آئی کس کے ساتھ ہو۔۔۔؟
ڈرائیور کے ساتھ وہ ہلکی آواز میں بولی۔۔۔
تم اور تمہارا بھائی دونوں ہی دماغ سے پیدل ہو۔۔۔خاموشی سے آ کر لیٹو اور اب مجھے آواز نہ آئے تمہاری وہ کہتا ساتھ کا لیمپ بند کر گیا۔
لیکن اس کے باہر نکلتے ہی اس نے ہاتھ کا مکہ ساتھ پڑے اس کے تکیے پر مارا ۔۔۔۔۔
دس منٹ اس کا انتظار کرتے اسے لگا تھا وہ چلی گئی ہے لیکن دروازہ کھلنے پر اس نے گہری سانس بھری اور اس کی طرف سے پیٹھ کر کے سو گیا۔
وہ کافی دیر دیکھتی رہی ۔۔۔۔شاید اس کے سونے کے انتظار میں تھی ۔۔۔۔وہیں صوفے پر بیٹھی رہی اور جب اسے لگا کہ وہ سو گیا ہے تب ہلکے سے قدم اٹھاتی اس کی طرف آئی۔
نیچے گھٹنوں کے بل بیٹھتی وہ اسے دیکھنے لگی۔۔۔
تمہارے ہر گناہ پر میرا دل چاہا میں تمہیں سزا دوں بڑی سے بڑی سزا۔۔۔۔۔اسی لیے میں نے بنا سوچے خلا کا کیس دائر کروا دیا لیکن۔۔۔۔۔
تم سے دور جانا ہی سوہانِ روح ہے میرا دم گھٹتا ہے یہ سب سوچ کر۔۔۔۔یہ پانچ مہینے میں نے کیسے گزارے ہیں یہ میں اور میرا رب جانتا ہے۔
اس دن تمہاری میرے لیے شدت دیکھتے مجھے احساس ہوا کہ اس سفر پر شاید تم میرے ساتھ ہو یہی وجہ ہے آج میں سب بھولتی تمہارے پاس ہوں۔
تمہاری ہر تکلیف مجھے دل پر محسوس ہوتی ہے باسط ضیاء ۔۔۔۔۔۔۔جس سے میں خود بھی خائف ہوں مگر کیا کروں دل مانتا ہی نہیں ہے۔
اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے وہ اسے دیکھتے ناجانے کیا سوچ رہی تھی پھر جھک کر اس کی بینڈیج پر بوسہ دیا اور اسے دیکھا۔
تم زندگی کا حصول ہو رباب کا باسط ضیاء ۔۔۔۔۔۔اس کی آنکھیں چومتے وہ وہیں اس کے ساتھ لیٹ گئی اور ناجانے کب تک اسے دیکھتی رہی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تبریز شاہ نے جھٹکے سے اسے سیدھا کیا۔۔۔۔وہ نیند سے جاگی تھی۔۔۔بال چہرے پر پھر سے پھیل گئے تھے۔
منت تبریز شاہ یہ حق تمہیں ملے نا ملے لیکن تم دور جانے کی ہمت تو کیا خیال بھی زہن میں مت لانا۔۔۔۔بہت سال خوار کیا ہے تم نے مجھے۔۔۔
تو پھر کیوں ۔۔۔کیوں آج اپنے گھر سے بے دخل ہونے کا کہا مجھے۔۔۔۔اس نے نیند سے بند ہوتی آنکھوں کو جھپکتے پوچھا۔
میں تمہیں جواب دینے کا پابند نہیں ہوں۔۔۔۔اٹھو جا کر سو جاؤ۔۔۔۔صبح میرے اٹھنے سے پہلے شکل گُم کر لینا اپنی۔۔۔۔وہ پل میں سب بھول جاتا تھا اسے آسمان سے زمین کر دیتا تھا۔
ایک دن۔۔۔۔ایک دن میں ان سب لہجوں، ان سب اذیتوں کا بدلہ آپ سے سود سمیت لوں گی تبریز شاہ اور اس دن آپ کی تڑپ بھی منت شاہ کا دل موم نہیں کر پائے گی وہ اس کے کارلر کو تھامتی چیخی۔۔۔۔
یہ سب بکواس ہے۔۔۔۔۔مجھے زندگی کے ہر لمحے پر تم میرے لیے موجود چاہیے ہو۔۔۔۔۔وہ خود غرضی کی انتہا پر تھا۔۔۔۔
منت کے لبوں پر طنزیہ مسکراہٹ آ کر دم توڑ گئی۔۔۔۔
اگر میرا حق مجھے نا ملا تو آپ کو آپ کے سارے حقوق و فرائض سے محروم کر دوں گی میں اس نے کہہ کر اٹھنا چاہا۔
تبریز شاہ نے اس کی قمر کے گرد ہاتھ باندھتے اسے جھٹکے سے خود پر جھکایا۔۔۔۔
یہ بھول ہے تمہاری منت شاہ کہ تم ایسا کر پاؤ گی۔۔۔۔یہ جان لو کے مرتے دم تک تمہارے وجود کے تمام حقوق و فرائض میرے لیے رہیں گے۔۔۔
تسلیم کر لیں شاہ۔۔۔کہ محبت ہے آپ کو۔۔۔۔۔منت نے اس کا چہرہ تھامتے بے چینی سے کہا۔
تبریز شاہ اسے چند لمحے دیکھتا رہا۔۔۔۔اس کے لہجے کی بے چینی اس سے مخفی نہ رہ سکی تھی۔
جاؤ۔۔۔۔
اس نے بنا اسے اپنے حصار سے آزاد کیے کہا تو منت اسے دیکھتی رہی اور خاموشی سے آنکھیں بند کرتے اس کی طرف جھکی اور اپنے ٹھنڈے پڑتے لب اس کی گرم پیشانی پر رکھے۔
تبریز شاہ نے آنکھیں بند کرتے اس کی لمس کو محسوس کیا تھا اس کی قمر پر گرفت اور سخت ہوئی تھی۔۔۔ان کے درمیان فاصلہ صرف باغی ہوتی ہوا کا تھا۔
وقت پر تسلیم کر لیں شاہو۔۔۔اس محبت کو۔۔۔میں دہرا رہی ہوں کہ وقت کے بعد آپ پچھتائیں گے۔
تمہارا سارا وقت میرا ہے۔۔۔پچھتانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔۔۔۔۔وہ دھیمے سے بولتا اس کے چہرے کو دیکھنے لگا۔
خود کی زات کو میرے نام کرتے معتبر کیوں نہیں کرتے مجھے شاہو۔۔۔۔منت نے اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھامتے کہا۔
کیونکہ ازیت ہم دونوں کے حصے میں آئے گی اور تم برادشت نہ کرتی بکھر جاؤ گی۔۔۔۔یہ سب مجھے نہیں دیکھنا ہے۔۔۔۔میں زندگی میں کتنا آگے بڑھ جاؤ یا کوئی بھی قدم اٹھاؤں یہ بات جان لو منت تبریز شاہ کہ تبریز شاہ کے علاؤہ تم کسی کی نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح اس کی آنکھ کھلی تو اس کے قریب ہی سوئی تھی۔۔۔۔۔وہ کئی لمحے اسے دیکھتا رہا۔
کل رات وہ کیسے اس سے دور بیٹھی رہی تھی اور اب اس کے بے حد نزدیک تھی۔۔۔باسط نے اس کے بال سنوارے۔
رباب۔۔۔۔
ہممم۔۔۔
اٹھو۔۔۔۔مجھے آفس جانا ہے۔۔۔۔
تو آپ جائیں ۔۔۔۔
ناشتہ کون بنائے گا۔۔۔؟ باسط نے اس کے بالوں میں انگلیاں چلاتے کہا۔
امم۔۔۔۔۔کیا کھائیں گے۔۔۔۔؟
کچھ بھی بنادو ۔۔۔۔۔۔وہ دھیمے سے بات کر رہا تھا۔۔۔۔کیونکہ وہ جانتا تھا وہ پوری نیند میں ہے۔۔
اچھا میں بنا دیتی ہوں۔۔۔۔اس نے وہیں لیٹے کہا تو باسط کے چہرے پر مسکراہٹ بکھری۔۔۔۔
تم سوئی ہو رباب۔۔۔۔
نہیں ۔۔۔تو میں جاگ رہی ہوں۔۔۔۔۔رباب نے نیند میں ہی تیزی سے سر ہلایا۔
باسط نے دو لمحے اسے دیکھا اور پھر اپنی انگلی سے اس کی گردن پر لکیریں کھینچنے لگا۔
آج پانچ مہینوں بعد وہ اس کے نزدیک تھے۔۔۔اس کے احساسات ہی الگ تھے۔۔۔
مجھے گدگدی ہو رہی ہے باسط۔۔۔۔۔وہ کھلکھلائی۔۔۔اس کی مسکراہٹ باسط ضیاء کی سانسوں کی تپش اپنی گردن پر محسوس کرنے سے رکی تھی۔
اب وہ اس کی گردن پر جھکا تھا۔۔۔۔۔لیکن اس کے لمس میں شدت محسوس کرتے رباب نے اس کا کارلر تھاما۔
باسط ۔۔۔۔۔۔
تم پانچ مہینے دور رہی ہو۔۔۔۔کیا اس کی سزا تمہیں ملنی نہیں چاہیے۔۔۔۔؟
میں۔۔۔وہ۔۔۔ناشتہ۔۔۔۔
ششش۔۔۔خاموش رہو۔۔۔۔۔
تم کیس کب واپس لے رہی ہو؟ اسے جھٹکے سے اپنے اوپر جھکاتے وہ سنجیدگی سے بولا۔
لے لوں گی۔۔۔۔وہ منمنائی۔۔۔
کب دن اور تاریخ بتاؤ۔۔۔۔؟
کل۔۔۔۔۔کل کہہ دوں گی وکیل کو۔۔۔
کیوں آج کیوں نہیں؟؟ باسط نے اس کے بال پیچھے سے مٹھی میں قید کرتے اس کا سر اونچا کرتے کہا۔
آہ۔۔۔۔باسط مجھے درد ہو رہا ہے میری بال چھوڑیں۔۔۔۔
اچھا اس شخص کے ساتھ۔۔میرے منع کرنے کے باوجود ملنے پر درد نہیں ہوا تھا۔۔۔۔تمہیں ایک پل بھی خیال نہیں آیا کہ تمہارے شوہر کو وہ شخص ایک آنکھ نہیں بھاتا۔۔۔۔
اور جو شوہر نے بیوی کو کسی دوسرے شخص کے ساتھ ڈسکس کیا اس کا کیا۔۔۔۔۔؟
وہ لاجواب ہوا۔۔۔ اس کی آنکھوں میں دیکھا۔۔۔
اوکے۔۔۔آئیم سوری۔۔۔میری غلطی ہے۔۔۔۔۔میں ربائشہ کے معاملے میں بہت حساس ہوں رباب۔۔۔اس کا اس دنیا میں کوئی نہیں ہے۔۔۔باپ کو اس کی ماں نے مار دیا اور خود وہ جیل سے رہا ہو چکی ہے۔۔۔۔
لیکن ان سب میں میں کہاں قصور وار تھی جو مجھے سزا دی گئی۔۔۔۔۔؟رباب نے باسط سے پوچھا۔
میں معافی مانگ رہا ہوں رباب۔۔۔۔باسط نے اسے سمجھانا چاہا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا روک رہا ہے آپ کو۔۔۔میں موجود ہوں یہاں ۔۔۔۔رب العزت نے ہمارے نام کے ساتھ ہماری روحوں کو ملایا ہے اور کیا چاہتے ہیں۔
مجھے ڈر ہے منت ۔۔۔۔مجھے لگتا ہے میں سب برباد کر دوں گا۔۔۔۔۔
مجھ سے بانٹ لیں جو دل میں ہے منت نے ایک آخری کوشش کی تھی لیکن خاموشی ہی جواب میں ملی تھی اسے۔
تو یعنی اذیت اور آزمائش دونوں آنے والی تھی۔
تبریز شاہ نے اس کے بال کان کے پیچھے اڑستے جھک کر اس کے کاندھے پر لب رکھے منت کا رواں رواں کانپ گیا تھا اس لمس پر۔۔۔۔
وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔۔۔۔۔جیسے آنے والے وقت کی ازیتوں سے کچھ دیر کے لیے رہائی چاہتے ہوں۔۔۔۔۔
یہ میرا گھر ہے نا تبریز ۔۔۔۔۔۔۔؟ اس نے کسی ڈر کے زیرِ اثر پوچھا۔۔۔۔۔
یہاں سب تمہارا ہے ۔۔۔اسے کہتے تبریز شاہ نے اپنا ناک اس کی گردن پر رکھ کر سہلایا۔
لیکن آپ نہیں ۔۔۔۔۔
اس کے دل سے صدا آئی لیکن وہ یہ لمحات خراب نہیں کرنا چاہتی تھی۔
ان دونوں کی سانسیں ایک دوسرے کی سانسوں سے الجھ رہی تھیں ۔۔۔۔ایک طوفان تھا جس نے اس گلاب کی ننھی کلی کو روند دینا تھا۔
مجھے نیند آ رہی ہے منت کی دھیمی آواز پر تبریز شاہ نے سر اٹھایا اور اس کی نیند سے بند ہوتی آنکھوں کو دیکھا اور انہیں چوم لیا۔
مجھے اس وقت تمہاری ساری توجہ اور وقت چاہیے۔۔۔سونے کی ہمت بھی مت کرنا۔۔۔۔اس نے اس کی قمر پر انگلیوں کی گرفت سخت کرتے کہا۔
میں نے آپ کے اتنے سارے پیسے ضائع کر دیے۔۔۔۔
مجھے پرواہ نہیں ۔۔۔۔
میں نے سب بے فضول میں منگوایا۔۔۔۔
کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔۔۔
کیا آپ نے باورچی خانہ دیکھا ہے وہ پُرجوش ہو کر پوچھنے لگی لیکن بدلے میں تبریز شاہ کی بہکتی نگاہوں کو دیکھتے وہ خاموش ہو گئی۔
اجازت ہے کہ میں تم تمہیں چند لمحوں کے لیے محسوس کر لوں؟ اس نے اتنے خوبصورت انداز میں پوچھا تھا کہ وہ وہیں تھم گئی۔
اس نے کتنے دن کتنے مہینے اور سال اس شخص کی زرا سی توجہ کے لیے ترستے گزارے تھے آج وہ اسے مل رہا تھا۔۔۔
منت نے آنکھیں بند کرتے اپنی اجازت کو اس کے سپرد کیا تو اس نے بے حد نرمی سے اس کو لبوں سے خود کو سیراب کیا تھا۔
لیکن لمحوں میں وہ نرمی عائیب ہو گئی تھی اب صرف شدت تھی۔۔۔۔منت نے اسے خود سے دور کرنا چاہا تھا لیکن وہ اس کے بازو قبضے میں لیتے اس کی مزاحمت روک چکا تھا۔
اپنی مرضی سے وہ پیچھے ہٹا اور اسے دیکھا جو گہرے گہرے سانس بھر رہی تھی۔
ابھی تمہیں تبریز شاہ پورا کا پورا چاہیے ۔۔۔۔چند لمحے تو خود کی جان پر مجھے برداشت نہیں کر پائی۔۔۔۔اس کی آنکھوں میں ہلکی سی نمی دیکھتے اس نے اس کی تھوڈی پکڑ کر جھٹکے سے اس کا سر اٹھایا تھا۔
کیا آپ کو معلوم ہے آپ مجھے بالکل پسند نہیں ۔۔۔۔۔؟؟
اس نے منہ بسوڑتے کہا اور اتھل پتھل ہوتی سانسوں سے سر اس کے کندھے پر رکھا۔
ہاہا۔۔۔تبریز شاہ کا زندگی سے بھرپور قہقہہ گونجا تو منت نے اس ہنسی کو برقرار رکھنے کی دعا دی۔
تم مجھے ہمیشہ میرے ایک اشارے پر اپنے لیے میسر چاہیے ہو منت تبریز شاہ ۔۔۔۔۔۔اس نے شدت پسندی سے کہا تو منت نے سر ہلایا اور پھر کچھ ہی دیر میں وہ سو گئی تھی۔
اگلی صبح کا اب تبریز شاہ نے بھی نہیں سوچا تھا۔۔۔۔اس وقت وہ صرف ان لمحوں کو محسوس کرنا چاہتا تھا۔
تمہاری خوشبو صرف میرے لیے ہے منت۔۔۔۔!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر آپ کو آگے کبھی چننا ہوا تو آپ اپنی بہن کو چنیں گے باسط۔۔۔
میری کوئی حیثیت نہیں ہے آپ کی نظر میں ۔۔۔۔۔وہ کہتی تیزی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
ایسی بات نہیں ہے۔۔۔۔میں اعتدال پسند ہوں۔۔۔۔۔لیکن اس نے اپنی ساری زندگی محرومیوں میں گزاری ہے تم نے آسائشوں میں ۔۔۔فرق بس اتنا ہے۔۔۔۔
رباب اس کی بات پوری سننے سے پہلے ہی واش روم میں بند ہو گئی تو اس نے گہرا سانس بھرا۔۔۔وہ کیوں ربائشہ سے اتنا بد زن تھی۔۔۔۔اگر وہ بیوی تھی تو ربائشہ اس کی وہ بہن تھی جس کی ہر تکلیف اسے دل پر محسوس ہوتی تھی۔
اس کا فون بجا تو اس نے فون اٹھایا اور خود بھی اٹھتا اپنے کپڑے نکالنے لگا۔
تمہاری بیوی اب تمہارے پاس ہے۔۔۔۔میں آج اپنی بیوی کو لینے آرہا ہوں۔۔۔۔
اس نے جو بنا نام دیکھے فون اٹھایا تھا ۔۔۔درید کی آواز سنتا وہ ٹیرس پر آ گیا۔
اور تمہیں ایسا کیوں لگتا ہے کہ میں ہونے دوں گا۔۔۔۔؟
باسط میں بحث کے موڈ میں نہیں ہوں۔۔۔۔اپنی بہن جسے شوق سے تم لائے تھے اس کا خیال تو رکھ نہیں پائے تم۔۔۔ہر دوسرا ڈاکٹر مجھے یہی سناتا ہے کہ اُس کی ڈائٹ ٹھیک نہیں ہے۔۔۔
میں بہتر جانتا ہوں اپنی بہن کو۔۔۔تم اپنے کام سے کام رکھو باسط ابھی بھی اسی ضد پر اڑا تھا۔
وہ میری بیوی ہے۔۔۔۔اور اولاد ہم دونوں کی آنے والی ہے اس دنیا میں ۔۔۔تم تو کیا کوئی قانون مجھے اسے لے جانے سے روک نہیں سکتا۔۔۔۔۔درید دھاڑا تھا۔۔۔۔
تم کچھ بھی کہہ لو۔۔۔۔ربائشہ یہاں سے نہیں جائے گی۔۔۔اس کے معاملے میں میں تم پر بھروسہ نہیں کر سکتا۔۔۔۔
اس کا معاملہ میں خود دیکھ لوں گا۔۔۔درید طنزیہ مسکراہا۔۔۔لیکن اب چونکے میری بہن تمہارے پاس ہے تو اسے کوئی تکلیف نہیں ہونی چاہئے۔
کیا میں نے اسے بلایا تھا۔۔۔۔؟؟
وہ خود آئی ہے۔۔۔اور اپنی بیوی کو میں نے کیسے رکھنا ہے مجھے مت سکھاؤ۔۔۔باسط نے کہتے فون کاٹا اور مُڑا تو وہ پیچھے کھڑی تھی۔
ناشتہ کیا کریں گے۔۔۔۔۔؟وہ سب سن چکی تھی لیکن ابھی بحث نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔
کچھ بھی بنالو۔۔۔۔باسط کہتا واش روم میں بند ہو گیا تو وہ بھی باورچی خانے کی طرف بڑھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ربائشہ صبح اٹھی تو خوش تھی بے حد۔۔۔۔آج وہ واپس چلی جاتی اپنے شوہر کے پاس۔۔۔۔
اس نے ایک ایک سامان رکھ لیا تھا اپنا۔۔۔۔اب بھی وہ یہاں وہاں چکر کاٹتی چیزیں دیکھ رہی تھی کہ کچھ رہ تو نہیں گیا۔
اس نے فون اٹھاتے درید کا نمبر ملایا۔۔۔۔۔دو تین بیل پر بھی اس نے فون نہیں اٹھایا تو اس نے ضد سے بار بار کرنا شروع کیا۔
رابی کیا ہو گیا ہے۔۔۔۔۔؟کیا مسئلہ ہے تمہارے ساتھ؟؟ وہ نیند میں بڑبڑایا۔
کب تک آئیں گے۔۔۔۔؟ربائشہ نے اس کی تمام باتوں کو نظرانداز کرتے کہا۔
ابھی چھ بجے ہیں ۔۔۔۔۔آج میٹنگ ہے آئی جی کے ساتھ واپسی پر لے لوں گا۔۔۔۔۔
نہیں پہلے مجھے لینے آئیں ۔۔۔۔۔وہ بضد ہوئی۔۔۔
پہلے ایسا ہی کرنا تھا۔۔۔۔لیکن آج کل ایک کیس حل کر رہا ہوں جس کے سلسلے میں میٹنگ ہے جانا ضروری ہے اسی لیے واپسی تک انتظار کرو۔۔۔۔
ربائشہ نے بنا کچھ کہے فون کاٹ دیا ۔۔اسے لگا تھا وہ دوبارہ کر کے اسے منائے گا لیکن وہ تو شاید دوسری طرف دوبارہ سو گیا تھا۔
اس نے دس پندرہ منٹ بعد تھک کر دوبارہ کال ملائی لیکن اب بھی نہیں اٹھا رہا تھا وہ۔۔۔۔۔
اُففف۔۔۔۔۔۔۔
ہممم۔۔۔کیا ہوا۔۔۔؟
چوتھی بیل پر اٹھاتے اس کی نیند میں ڈوبی آواز گونجی تو ربائشہ نے دانت کچلائے۔
سامان نہیں لا رہی میں ۔۔۔۔۔وہاں آ کر سب دوبارہ خریدو گی وہ چیخی۔۔۔۔۔
آہستہ بولو یار۔۔۔۔اور مت لانا دلوا دوں گا اور بتاؤ کچھ کہنا ہے۔۔۔۔۔؟
آپ میری بات دھیان سے کیوں نہیں سن رہے درید۔۔۔۔اس نے نم لہجے میں کہا تو وہ نیند سے بیدار ہوتا بیڈ سے ٹیک لگا کر بیٹھا۔
ربائشہ کیا ہو گیا ہے یار۔۔۔۔صبح کے سات بجے ہر عام انسان سوتا ہے اور میں بھی وہی کر رہا ہوں۔۔۔۔۔اور اٹھ گیا ہوں اب بولو دھیان سے سنوں گا سب۔۔۔۔
اب میری بات ختم ہو گئی ہے آپ سوئے سکون سے ربائشہ نے کہا تو درید نے ماتھا مسلا۔۔۔۔
کیا چیز تھی وہ۔۔۔۔۔۔۔۔اور وہ درید یزدانی جو کسی کی نا سنتا تھا آج اس کے لیے نیند کو بھگا کر اٹھ بیٹھا تھا۔
ناشتہ کر لیا ہے۔۔۔؟درید نے بات جاری رکھنا چاہی۔
نہیں ۔۔۔۔۔
اچھا چلو ناشتہ کرو اور دوا لو۔۔۔۔۔میں بھی فریش ہوتا ہوں۔۔۔
دیکھا دیکھا ۔۔۔۔آپ مجھ سے بات کرنا ہی نہیں چاہتے۔۔۔۔ربائشہ نے منہ بسوڑا اور کال کاٹ دی تو درید نے ماتھا پیٹا
