Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shiddat-e-Talab Episode 19

Shiddat-e-Talab by Suneha Rauf

اس لیے اس نے یہ سب کھیل کھیلا تھا۔۔۔۔اسے بمشکل وہاں سے نکال کر وہ یہاں پاکستان لایا تھا۔

اس شخص نے اپنی موت اپنے ہاتھوں سے لکھوائی تھی۔۔۔۔لیکن وہ اسے سزا یہاں پاکستان میں دینا چاہتا تھا۔

اس نے حکومت سے اس بارے میں کچھ بھی ڈسکس نہیں کیا تھا۔۔۔وہ یہ سب زاتی طور پر کر رہا تھا۔

کیونکہ اگر یہ بات سامنے آتی تو اسے ربائشہ کو سامنے لانا پڑتا۔۔۔۔اور پھر عدالت کے طرح طرح کے سوالات ۔۔۔۔

ربائشہ کو گھسیٹتے وہ ہرگز ہرگز نہیں دیکھنا چاہتا تھا اسی لیے اس نے یہ سب کیا تھا۔۔۔۔۔

اس کے باپ نے صحیح کہا تھا۔۔۔۔اسے یہ پیشہ اختیار نہیں کرنا چاہیے تھا۔۔۔۔کیونکہ یہاں سچے لوگوں کا ٹرانسفر اگلے دن ہی کر دیا جاتا ہے۔

وہ یہ سب چھوڑ دینا چاہتا تھا لیکن اس سے پہلے ہی اسے معلوم ہوا تھا کہ پروین۔۔۔۔۔ربائشہ کی ماں۔۔۔۔جیل سے بھاگ گئی ہے۔۔۔۔۔۔

اس نے ربائشہ کے بارے میں سب کچھ بہت سال پہلے ہی جان لیا تھا۔۔۔۔۔تب سے ہی وہ اس کے تایا اور ماں پر نظر رکھے ہوئے تھا۔

تایا۔۔۔۔۔تو نفسیاتی بن گیا تھا اور ایک روز سال پہلے جیل میں ہی اس نے خود کشی کر لی تھی۔

پروین نامی عورت پر سے اس کا دھیان تب ہٹا جب وہ دوسرے کیس میں پر گیا۔۔۔۔اس کا دھیان بھٹکا تھا اور وہ عورت بھاگ نکلی تھی۔

اس لیے اس کا کام سخت ہو گیا تھا۔۔۔۔اس نے ربائشہ کی سکیورٹی سخت کر دی تھی نا محسوسات انداز میں۔

ربائشہ کو وہ ان سب سے ابھی بہت دور رکھنا چاہتا تھا کہ ایک ہلکی سی خبر بھی اس کی صحت کے لیے بھاری ثابت ہو سکتی تھی۔

لیکن وہ جانتا تھا وہ عورت ربائشہ کو ضرور ڈھونڈے گی جس کی وجہ سے اسے اتنے سال جیل میں رہنا پڑا تھا۔

وہ وہاں سے نکل جاتی۔۔۔۔لیکن دو س پہلے جب درید نے ربائشہ کے بارے میں سب پتا کروایا تھا تو اس نے اس عورت پر پچھلے تمام کیس کھول کر اس کو عمر قید کی سزا سنوا کر وہ مطمئن ہو گیا تھا۔

لیکن اب۔۔۔۔

اب وہ جانتا تھا کہ ربائشہ کو وہ ڈھونڈے گی اور اپنا بدلہ لے گی۔۔۔۔۔وہ تھک گیا تھا ان سب میں ۔۔۔پرسکون زندگی چاہتا تھا جلد۔۔۔۔۔۔

وہ سارے کیس کھول بیٹھا تھا۔۔۔۔

ایک کیس جو اس سے اب بھی حل نہیں ہو رہا تھا وہ تھا اس کی ماں کا کیس۔۔۔۔۔

اس کے باپ نے اسے امید دلائی تھی کہ وہ ڈھونڈ سکتا ہے کہ کس نے اس کی ماں کو مارا ہے۔۔۔۔۔

وہ جتنا اپنی ماں کے کیس کو سنبھال رہا تھا وہ اتنا پیچیدہ ہوتا جا رہا تھا۔۔۔۔

اس نے سالوں کے بلڈ ٹیسٹ دوبارہ سے کروائے تھے۔۔۔۔۔اور وہ بلڈ ٹیسٹ تبریز کے باپ سے ملا تھا۔۔۔۔

یہ سب اس کے لیے نیا تھا ۔۔۔۔۔وہ اس وقت صرف سرفراز کو ہیڈل کر رہا تھا اس کے بعد کچھ کرتا۔

وہ وہاں آیا جہاں اسے رکھا گیا تھا۔۔۔۔۔۔اس کے سامنے کرسی رکھ کر بیٹھا اور اسے دیکھا اس کی آنکھوں سے آنسو گر رہے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چلو سونا نہیں ہے۔۔۔۔؟باسط نے اس سے مگ تھامتے پوچھا۔

نہیں ۔۔۔۔۔ابھی نہیں ۔۔۔۔

ابھی نہیں کی بچی مجھے صبح جانا بھی ہے۔۔۔۔۔

تو ایک چھٹی کر لیں آپ میرے لیے رباب نے اس کے کالر کو ٹھیک کرتے کہا۔

کیا چاہ رہی ہو رباب سیدھے طریقے سے بتاؤ۔۔۔۔وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ وہ کیا چاہتی ہے اس سے۔۔۔۔

آپ مجھ سے محبت کیوں نہیں کرتے باسط۔۔۔۔؟

اس نے اچانک آسمان کی طرف دیکھتے پوچھا تو وہ چونکا۔

واپس اس کے پاس آتے اس کی قمر کے گرد حصار بناتے اسے دیکھا جو انسکیور سی تھی۔

تمہیں کیوں لگتا ہے کہ مجھے تم سے محبت نہیں؟

کیونکہ آپ نے ایسا کبھی ظاہر نہیں کیا کبھی۔۔۔۔

محبت کو ظاہر کرنا ضروری ہے تمہیں کبھی میرے انداز سے محسوس نہیں ہوا۔۔۔۔

پتا نہیں ۔۔۔۔مجھے لفظی اقرار تو کبھی نہیں ملا۔۔۔۔۔وہ افسردہ تھی۔۔۔۔

مجھے نہیں لگتا لفظی اظہار ہمارے اس پاکیزہ رشتے میں ضروری ہے تم صرف میرے انداز سے جان لو۔۔۔۔۔وہ اس کے اسی کندھے پر لب رکھتا بولا۔

تو وہ خاموش ہو گئی۔۔۔۔۔

رباب۔۔۔۔۔

ہم۔۔۔۔۔۔

تم ضروری ہو یار۔۔۔۔اب سے نہیں بہت سالوں سے۔۔۔۔اور محبت کا باقاعدہ اظہار میں تب کروں گا جب تم مجھے کچھ دو گی۔۔۔۔

کیا۔۔۔۔؟ وہ یک دم پُرجوش دکھی تھی اسے۔

باسط نے اس کو خود کی طرف موڑا اور کھڑکی کے ساتھ لگایا۔۔۔۔

چھوڑو تم نہیں دے سکو گی ۔۔۔۔۔

کیوں نہیں دے سکوں گی۔۔۔میں ضرور دوں گی۔۔۔اس اظہار کے لیے میں کچھ بھی کروں گی۔۔۔۔وہ پرجوش تھی بے حد۔۔۔۔

میں کہہ رہا ہوں نا تمہاری صحت تمہیں اجازت نہیں دیتی وہ اس کے کمزور جسم کو نشانہ بنا گیا تھا جسے وہ فٹ کہتی تھی۔

یہ کمزور نہیں فٹ ہے ایک دم۔۔۔لڑکیاں مرتی ہیں ایسی قمر کے لیے وہ اترائی۔۔۔۔

اچھا چلو سوئیں۔۔۔۔

پلیز بتائیں نا ۔۔۔کیا چاہیئے ۔۔۔۔میں جلد ہی دوں گی۔۔۔۔۔پھر آپ نے اچھا سا گھٹنوں پر بیٹھ کر بالکل فیری ٹیل کی طرح اظہارِ محبت کرنا ہے مجھے سے۔۔۔۔

پکا بتادوں۔۔۔۔۔؟

ہاں جلدی کریں۔۔۔۔۔

اولاد چاہیے مجھے ہماری۔۔۔۔باسط نے کہتے اس کے بالوں میں چہرہ چھپایا۔۔۔رباب کا چہرہ گلابی ہوا۔۔۔۔۔

ہاہاہا۔۔۔۔۔دیکھا مجھے پتا تھا ۔۔۔۔باسط نے اسے دیکھتے اس کے ناک کو چوما۔۔۔

رباب نے آسمان کو دیکھتے دل میں دعا مانگی تھی ۔۔۔۔۔اس شخص نے جو مانگا تھا وہ اسے کیسے نہ دیتی۔۔۔۔یہ محبت تھی کہ محبوب جان بھی مانگے تو گریز نہیں وہ تو پھر اس سے اولاد چاہتا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تبریز شاہ اس وقت آپ میرے منہ مت لگیں مجھے اپنے گھر واپس جانا ہے۔۔۔

یہ تمہارا گھر ہے۔۔۔۔۔۔وہ اس کے نزدیک آتا فاصلے پر کھڑا ہو گیا۔

یہ میرا گھر تھا ہی نہیں کبھی نا آج، نہ کل۔۔۔اس سے پہلے کہ کوئی مجھے آ کر دھکے مار کر نکالے میں یہاں سے جانا چاہتی ہوں وہ انسکیور ہو رہی تھی۔

یہ تمہارا گھر ہے تمہارا ہی رہے گا۔۔۔۔باقی بحث صبح کریں گے ہم وہ اس وقت بات کو ٹال رہا تھا کیونکہ اسوقت وہ بس سونا چاہتا تھا۔

وہ باہر نکل گئی تو وہ جگہ سے کھڑا ہوتا تن فن کرتا اس کے پیچھے آیا جو ٹی وی لاؤنج میں پہنچ چکی تھی۔

اس کا ہاتھ تھامتا زبردستی کمرے میں لے کر گیا اور بستر پر دھکا دیا۔

ایک بار کی بکواس سمجھ میں نہیں آ رہی تمہارے۔۔۔۔۔۔نظر آ رہا ہے تھکا ہوا ہوں کچھ پل سکون کے چاہتا ہوں۔۔۔اس کے بعد سب بتادوں گا، ایک ہی بات بار بار دہرانے کا عادی نہیں ہوں میں ۔۔۔۔

اور میں ان سب کی عادی نہیں ہوں۔۔۔۔۔میں اپنے گھر کی عادی ہوں۔۔۔یہ میرا عارضی بسیرا تھا۔۔۔ایک سفر جو بیکار گیا۔۔۔۔

مطلب تم یہ کہنا چاہ رہی ہو کہ میرے ساتھ گزارہ تمہارا وقت بیکار گیا وہ ایک گھٹنہ بیڈ پر اس کے نزدیک رکھتا اس پر جھکا تھا۔

ہاں۔۔۔۔۔!منت نے اسے دیکھتے کہا۔۔۔۔آج وہ ایک ہی بار خود کے لیے کچھ کرنا چاہتی تھی۔۔۔

وہ شخص اب صرف اس کا نہیں رہا تھا۔۔۔اس محبت اس رشتے میں شرک کیا تھا اس نے۔۔۔۔جس کی معافی نہیں تھی اس کے نزدیک۔

کل خود کی زات کو رلتے دیکھنے سے اچھا تھا آج وہ خود کے لیے کچھ کرتی ۔۔۔

تبریز شاہ اٹھا دروازے کو ٹھا کی آواز سے بند کرتا بتیاں بجھاتا اس کی طرف آیا۔۔۔

اس کے تیور دیکھتے وہ رک گئی تھی اپنی جگہ سے اٹھتی کے وہ واپس اس پر جھکتا اس کے تمام راستے بند کر گیا تھا۔

تبریز شاہ نے دو لمحے ہلکی روشنی میں اس کے چہرے کو دیکھا اور پھر نرمی سے اپنے ہاتھوں کے ہالے میں اس کا چہرہ تھامتے اس پر جھکا۔

لیکن وہ سرعت سے اپنا سر بائیں طرف موڑ گئی تھی۔۔۔یہی اس کی سب سے بڑی غلطی ہوئی تھی۔

اب وہ اسکی گردن پر جھکا اپنی وحشت اس میں انڈیل رہا تھا۔۔۔

اس کے دانت اپنی جلد میں محسوس کرتے اسکے منہ سے سسکی نکلی تھی اسے دور کرنا چاہا تھا لیکن اس نے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام لیے تھے۔

تبریز ہٹیں پیچھے وہ چیخی تھی۔۔۔۔۔

تمہیں سب بیکار لگ رہا ہے نا بیوی۔۔۔۔میں، میرے ساتھ گزرا وقت، ہمارا رشتہ تو میں آج تفصیل سے تمہیں نفرت کرواتا ہوں ان سب سے۔۔۔۔

آپ سے نفرت تو مجھے ہو چکی تبریز ۔۔۔۔۔۔!

اس نے کہا تو تبریز شاہ نے جھٹکے سے سر اٹھاتے اسے دیکھا جس کی آنکھوں سے آنسو قطار بہ قطار بہہ رہے تھے۔

جس دن مجھے تمہاری آنکھوں میں نفرت دکھی اس دن تم میرے ہاتھوں ماری جاؤ گی وہ کہتا اس کے گال پر کاٹ گیا۔

تم یہ نہیں کر سکتے ۔۔۔۔۔۔وہ چیخی۔۔۔۔

تمیز مت بھولو اپنی منت ۔۔۔۔یہ میں برداشت نہیں کروں گا۔۔۔۔۔۔وہ دھاڑا۔۔۔۔۔

میں تمیز مت بھولو لیکن آپ اخلاقیات اور لحاظ سب بھول جائیں ۔۔۔۔کسی دوسری عورت سے منگنی کر لیں اور شادی کر کے یہاں اسی کمرے، اسی بستر۔۔۔۔۔

تبریز شاہ اس پر جھکا ۔۔۔۔۔اور اپنی وحشتیں اس میں انڈلینے لگا۔۔۔۔منت کی سسکیاں کمرے میں سنائی دینے لگی۔

اس کمرے تک رسائی صرف تمہاری ہے تمہاری ہی رہے گی اس کے کان کے پاس وہ بولا تو منت نے ہونٹ کاٹ ڈالے اپنے۔

کمرے میں معنی خیز خاموشی کا راج تھا۔۔۔۔منت کی اتھل پتھل ہوتی دھڑکنوں کا شور تھا۔

تبریز شاہ نے اپنی وحشت کو نرمی میں بدل دیا تھا۔۔۔۔اور اس پر بن موسم کی برسات کے طرح بکھرا اسے نرمی سے خود میں سما گیا تھا۔

اسے سمجھانا بہت ضروری تھا کہ اس کی جگہ کوئی اور نہیں لے گا، اسے بتانا بہت ضروری تھا کہ وہ تبریز شاہ کے لیے کیا ہے۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کون ہو تم اور کیا چاہتے ہو۔۔۔۔اسے دیکھتا وہ چیخا۔

ارے اتنی جلدی بھول گئے۔۔۔کہ میں کون ہوں چلو یاد کرواتا ہوں ۔۔۔۔۔یاد ہے دس سال پہلے میری بہن کو پڑھایا کرتے تھے تم۔۔۔

رباب یزدانی۔۔۔۔۔۔اس لڑکے نے آنکھیں کھول کر بند کیں تو درید نے تمسخر اڑاتی نظروں سے دیکھا۔

اسے میں نے کچھ نہیں کہا تھا جانے دو مجھے۔۔۔۔۔

اسے نہیں کہا تھا۔۔۔۔اس کا خمیازہ کسی اور نے بھگتا تھا۔۔۔۔۔اس رات تم نے رباب پر حملہ کیا تھا یہ جانے بنا کہ وہ رباب نہیں کوئی اور لڑکی ہے۔۔۔۔

لیکن اسے کچھ نہیں ہوا تھا وہ ایک بار پھر چیخا۔۔۔۔

کیونکہ میں نے ہونے نہیں دیا تھا۔۔۔۔درید اپنی جگہ سے کھڑا ہوا۔۔۔۔

جانتے ہو وہ لڑکی کون ہے۔۔۔؟ اس کے جلے پیر پر درید نے اپنا بھاری بوٹ رکھا تو وہ بلبلا اٹھا۔

بیوی ہے میری۔۔۔۔۔۔وہ آج تک مجھے اپنا گناہگار م

سجھتی آئی ہے کہ اس رات کو میں نے۔۔۔۔۔

کیوں کیا تو نے ایسا۔۔۔۔۔۔اب خاموشی سے بتا دیکھ تیرا جسم اور سکت نہیں رکھتا۔۔۔۔۔درید نے گرم ویکس کی بالٹی کو اس کے پاس رکھتے کہا۔

نہیں ۔۔۔یہ نہیں ۔۔۔

میں نے بدلہ لیا تھا۔۔۔تیری بہن نے اس لڑکے کو سب بتا دیا تھا۔۔۔۔۔۔وہ لڑکا ناجانے کیوں تیری بہن کو بچا رہا تھا۔۔۔۔اس نے اور تو نے مجھے نکال دیا۔۔لیکن۔۔۔۔

تو نے انا کا مسئلہ بنا لیا۔۔۔درید چلایا۔۔۔۔یہ سب ریکارڈ ہو رہا تھا۔

نہیں ۔۔۔۔۔شاید میں جانے دیتا۔۔۔۔لیکن اس سالے نے میرے گھر آ کر مجھ پر ہاتھ اٹھایا۔۔۔۔سالہ بہن تیری تھی وہ کیوں بیچ میں پڑا۔۔۔۔

یہ نیا انکشاف تھا درید کے لیے۔۔۔۔۔تو اس کا مطلب باسط بچپن سے رباب۔۔۔۔۔۔

تم اس رات کیا لینے آئے تھے۔۔۔۔درید سب جانتا تھا لیکن پھر بھی اس سے پوچھنے لگا۔

میں ۔۔۔۔۔بدلہ لینے آیا تھا۔۔۔۔اس سالے نے مجھے میرے گھر آ کر مارا میں بھی گھر آ کر تیری بہن کی عزت لوٹنا چاہتا تھا لیکن میرے حساب میں غلطی ہو گئی۔

میں بھول گیا کہ یہ تیرا فلیٹ ہے گھر نہیں ۔۔۔۔لیکن لڑکی کی موجودگی سے اسے تیری بہن سمجھا تھا۔۔۔۔

اور پھر۔۔۔۔۔۔۔وہ خاموش ہوا۔۔۔۔

درید وہ لمحے کیسے بھول سکتا تھا جب اس نے دیکھا کوئی شخص اس لڑکی پر ہے جو اس کے گھر میں ہے اس کی نگرانی میں۔

وہ آگے بڑھا۔۔۔۔وہ لڑکی اب نیم بیہوشی کی حالت میں تھی۔۔۔۔۔۔سرفراز اس کے کپڑے ادھیڑ چکا تھا۔۔۔اس لڑکی کے گردن پر جا بجا نشان تھے۔۔۔۔۔

اگر وہ اس کے کمرے کے باہر سے نہ گزرتا تو شاید کچھ بہت بُرا ہو جاتا۔۔۔۔۔۔وہ اس لڑکی پر جھکا اس پر قابض تھا۔

درید نے یہ دیکھتے وحشت سے اس شخص کی پیٹھ کو دیکھا اور اسے دھکا دے کر اس پر سے ہٹایا۔۔۔۔۔

وہ دونوں آپس میں گتھم گتھا تھے لیکن لڑکی کی حالت خراب تھی۔۔۔۔(لڑکی ربائشہ تھی جو آغاز میں درید کے ساتھ اس کے فلیٹ پناہ لینے آئی تھی)۔

وہ لڑکا تو وہاں سے بھاگ نکلا۔۔۔۔لیکن ربائشہ کے نزدیک جب وہ آیا تب وہ کچھ کچھ ہوش میں تھی۔۔۔۔درید نے بیڈ سے کھینچ کر چادر اس پر دی تھی۔۔۔

لیکن اس نے روشنی میں درید کا چہرہ دیکھا تھا جو اس پر جھکا تھا۔۔۔۔۔۔

وہ سب ریکارڈ کرتے وہ اپنی جگہ سے اٹھا۔۔۔۔۔اور اس کے نزدیک آیا۔۔۔۔۔

اور اس بالٹی کو پاؤں کی ٹھوکر مارتے گرا دیا۔۔۔۔جیسے غلطی سے تو میرے گھر گھس آیا ویسے غلطی سے میں نے تجھے سری لنکا سے نکال کر یہاں بلایا اور یہاں تجھے جلا دیا۔۔۔۔۔

مجھے جانے دو۔۔۔۔وہ شخص چلا رہا تھا۔۔۔۔

ام ہم۔۔۔۔رو کر دکھا۔۔۔۔مجھے تیرے آنسو چاہیے ۔۔۔۔یہ آہیں نہیں ۔۔۔۔۔۔آنسو دیکھنے ہیں مجھے شاید تیرے آنسو تیری رہائی کا سامان بن جائیں۔

وہ شخص شاید نہ روتا لیکن گرم ویکس اس کے جسم کے ساتھ چپک گئی تھی۔۔۔۔وہ زمین سے اب اٹھ نہیں پا رہا تھا ۔۔۔

اس کا جلا جسم مزید جل رہا تھا۔۔۔۔اس کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے تو درید اپنی جگہ سے کھڑا ہوا۔۔۔۔

مجھے چھوڑ دو۔۔۔۔

کیا تو نے ان لڑکیوں کو چھوڑا جو تجھ سے ایسے ہی بھیک مانگا کرتی تھیں۔۔۔۔وہ عورتیں جنہیں تو ان کے شوہروں کے سامنے بے لباس کیا کرتا تھا۔

وہ سری لنکا میں بھی اس کی کام کی تفصیل جانتا تھا۔۔۔اس نے گن ہولڈر سے گن نکالی اور اس پر ایک ہی گولی چلاتا باہر نکل گیا۔

ان جیسے لوگوں کا انجام یہی ہونا چاہیے تھا۔۔۔۔۔

ربائشہ درید یزدانی ۔۔۔۔۔۔۔تمہارے شوہر نے تمہارا بدلہ لے لیا وہ آسمان کی طرف دیکھتا مسکرایا۔

فون پر آنے والے میسیج کو پڑھتا وہ گھر دوڑا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبح وہ اس سے پہلے جاگ گئی تھی۔۔۔۔۔کمرے کی چھت پر نظریں ٹکائے وہ اسی کے حصار میں تھی۔

صبح بخیر بیوی ۔۔۔۔۔تبریز شاہ نے آنکھیں کھولتے اس کے بالوں پر بوسہ دیتے کہا لیکن منت نے کوئی رسپانس نہ دیا۔

تبریز شاہ نے اپنی گرفت اس پر سخت کی تھی اس کی توجہ خود کی طرف مبذول کروانے کی خاطر لیکن اس نے تبریز شاہ کو دیکھا بھی نہیں۔

منت تبریز شاہ تم اور تمہاری خوشبو تبریز شاہ کو ہر وقت،ہر لمحے خود میں چاہیے ہے تم ضروری نہیں فرض ہو مجھ پر۔۔۔۔اور ان چیزوں میں، میں تمہاری کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کروں گا وہ اس پر جھکا اس کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑھتا بول رہا تھا۔

مجھے واپس جانا ہے اپنے گھر۔۔۔۔۔۔اس کے جواب میں کل رات کی بات دہرائی تو تبریز شاہ نے سائیڈ میز سے فون اٹھایا اپنا۔

اسلام علیکم!

کچھ کام کہا تھا میں نے تم سے۔۔۔۔آج آفس میں ملو مجھ سے۔۔۔۔یہ گھر مجھے اپنی بیوی کے نام کروانا ہے۔۔۔۔منت تبریز شاہ ۔۔۔۔ہاں کاغزات تیار کرواؤ۔۔۔۔اوکے۔۔۔۔وہ اس پر جھکا ہی سب بات کر رہا تھا۔

منت نے بے یقینی سے اسے دیکھا تو تبریز شاہ نے اس کے کندھے پر سڑکی شرٹ کو ٹھیک کیا۔

یہ تمہارا گھر ہو گا اب سے۔۔۔۔اور یہ جملہ میرے سامنے دوبارہ نہیں دہرانا۔۔۔اٹھ کر ناشتہ بناؤ۔۔۔۔آفس جانا ہے مجھے۔۔۔۔۔

شاہ۔۔۔۔آج نہیں جائیں اس نے نم لہجے میں کہا تو تبریز شاہ نے اسے ساتھ لگائے دیکھا۔

کیا چاہ رہی ہو منت۔۔۔۔۔؟

مجھے دیں گے؟

بول کر تو دیکھو۔۔۔۔

اس لڑکی سے اپنا یہ رشتہ ختم کریں۔۔۔۔۔

ابھی نہیں کر سکتا۔۔۔۔

تو مجھ سے کر دیں پھر۔۔۔۔کیونکہ مجھے ایک بانٹا ہوا شخص نہیں چاہیے وہ چیخی تو وہ خاموش رہا۔۔۔۔

کیا آپ مجھے کسی کے ساتھ بانٹ سکتے ہیں اگر جواب ہاں ہے تو یہ کام میں بھی کر سکتی ہوں۔۔۔۔

تبریز شاہ کا ہاتھ اٹھا تھا۔۔۔۔۔۔منت نے آنکھیں میچی۔۔۔۔

اس کا ہاتھ ہوا میں معتل رہ گیا۔۔۔۔۔اس نے ان خوبصورت لمحات کی بھی توہین کر دی تھی۔

تبریز شاہ نے اسے دھکا دیا اور خود کمرے سے نکلتا چلا گیا۔۔۔منت وہیں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔۔۔

جب من ہلکا ہوا تو فریش ہو کر باہر نکلی۔۔۔وہ ساتھ والے کمرے میں تھا۔۔۔ناشتہ بنایا کیونکہ رات کو بھی تبریز نے ڈنر نہیں کیا تھا۔۔۔

اس کے لیے پراٹھے بنائے اس کی کافی رکھی اور اس کے کمرے کی طرف گئی۔

ناشتہ بن گیا ہے۔۔۔۔۔

خود کھا لو۔۔۔۔وہ بنا اسے دیکھے بولا۔

آپ کا بھی بنایا ہے فوراً باہر آئیں۔۔۔۔منت نے کہا تو اس نے جواب نہ دیا تو منت اس نے نزدیک آئی اور اس کا فون اس کے ہاتھ سے لیتی باہر نکل گئی۔

کچھ لمحے بعد وہ بھی باہر آیا اور خاموشی سے بیٹھ کر ناشتہ کرنے لگا۔۔۔۔۔منت نے اسے کافی دی جس پر ایک نگاہ ڈالے بغیر نکل گیا۔

کیونکہ اسے باسط کا فون آیا تھا اس وقت درید کو اس کی ضرورت تھی وہ اپنے سارے کام چھوڑتا ہسپتال گیا تھا۔

میں جانتی ہوں شاہ جو آپ نے کیا ہے اس کے پیچھے کوئی وجہ ہو گی۔۔۔۔لیکن وجہ کتنی بھی بڑی کیوں نہ ہو مجھے کسی صورت تبریز شاہ پر ایک آنکھ ایک نگاہ بھی کسی دوسری کی نہیں چاہیے وہ شدت پسندی سے بولی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ گھر آیا اور بھاگتا اپنے کمرے میں گیا جہاں وہ بے حال ہوتی پسینے میں نڈھال تھی۔

رابی۔۔۔۔اس کے نزدیک آتے درید نے اسے ہلایا۔۔۔

درید۔۔۔کو بلائیں۔۔۔۔وہ اب بھی ایک ہی بات دہرا رہی رہی تھی۔۔۔۔

رابی۔۔۔۔

دریددد۔۔۔کو۔۔۔۔

میں آ گیا ہوں۔۔۔۔میری طرف دیکھو۔۔۔۔

میرا منہ کیا دیکھ رہے ہو گاڑی نکالو۔۔۔۔۔آپ چادر نکالیں الماری میں سے۔۔۔۔اس نے گارڑ کو دیکھتے کہا اور پھر خانساماں کو دیکھتے ہدایت دی۔

اس کے بھاری وجود کو گود میں بھرتے وہ باہر کی طرف بھاگا تھا اور پھر ہسپتال وہ اسے کیسے لے کر گیا یہ ایک مشکل مرحلہ تھا۔

وہ بکھری حالت میں پسینے سے نڈھال وہاں کھڑا تھا۔۔۔رباب اور باسط بھی آگئے تھے۔

صبح کا دن معمول کے مطابق تھا۔۔۔۔۔وہ اپنے کاموں میں مصروف تھی جب اسے خانساماں نے فون کر کے ربائشہ کا بتایا تھا۔

اس نے فوراً باسط کو فون کیا اور اس کی حالت کا بتایا۔۔۔

تم تیار رہو۔۔۔۔میں آتا ہوں۔۔۔۔باسط نے اپنا سارا کام وہیں چھوڑا تھا۔۔۔۔

اس کی زندگی میں دو ہی تو صنفِ نازک تھیں ایک بہن اور دوسری بیوی۔۔۔۔۔

وہ پہلے گھر آیا رباب کو لیتا وہ ہسپتال بھاگا تھا۔۔۔۔وہاں جا کر اس نے درید کو یہاں وہاں چکر کاٹتے دیکھا تھا۔

ہزاروں اختلاف اور ناراضگی سہی لیکن اس وقت وہ اس کی حالت سمجھ سکتا تھا۔

رباب نے درید کے پاس جاتے اسے حوصلہ دیا تھا۔۔۔باسط ڈاکٹرز سے مل رہا تھا۔۔۔۔وہ بہتر سے بہتر ڈاکٹر اس وقت اپنی بہن کے لیے چاہتا تھا۔

لیکن اب تک انہیں کوئی اچھی خبر نہیں ملی تھی۔۔۔۔۔اس نے درید کا غصہ دیکھا تھا لیکن اس کی ہمت نہ ہوئی کہ آگے بڑھ کر اسے تھامتا۔۔۔۔

اس نے تبریز شاہ کو فون کر کے بھی ساری بات بتا دی تھی وہ بھی شاید آنے والا تھا۔۔۔۔

درید کے اس مشکل وقت میں وہ سب موجود ہونے ضروری تھے اور دو ہی دوست تو بنائے تھے درید یزدانی نے اپنی زندگی میں۔

بھائی وہ ٹھیک ہوں گی۔۔۔۔رباب نے کہا تو درید نے اسے ساتھ لگایا۔۔۔۔

وہ درید یزدانی کی زندگی کا مشکل ترین وقت تھا جو اس نے اس ہسپتال کے کوریڈور میں گزارا تھا۔

اور پھر اس مشکل مرحلے سے گزرتے وہ باہر آیا جب اسے معلوم ہوا تھا کہ رب العالمین نے اسے بیٹے سے نوازا ہے۔

ربائشہ کے بیٹے کو اس نے تھاما تھا۔۔۔۔درید نے تو اس کو دیکھا بھی نہیں تھا اس کا سارا دھیان اپنی بیوی کی طرف تھا جو اندر موجود تھی ناجانے کس حالت میں۔

اس نے ان کے بیٹے کو چومتے رباب جو پکڑایا جو اشتیاق سے اسے دیکھ رہی تھی اور چوم رہی تھی بار بار۔

اس نے تشکر کے احساس سے آسمان کی طرف دیکھا۔۔۔۔

میری بیوی کیسی ہیں؟ میں ان سے مل سکتا ہوں۔۔۔؟

نہیں ۔۔۔۔۔ڈاکٹر نے سر جھکائے درید یزدانی کو کہا۔

کیا مطلب ہے نہیں مل سکتا مجھے ابھی ملنا ہے۔۔۔۔وہ اٹھ کر کھڑا ہوا۔

آپ کو جیسے میں نے پہلے بھی بتایا تھا کہ ان کے کیس میں کافی کومپلیکیشنز ہیں ۔۔۔۔ابھی ہم پوری کوشش کر رہے ہیں اور۔۔۔۔

کیا بکواس ہے۔۔۔۔۔یہ سب سننے کے لیے نہیں بیٹھا میں ۔۔۔۔۔دس منٹ ہیں تم لوگوں کے پاس۔۔۔مجھے میری بیوی چاہیے اپنے سامنے وہ چیخ رہا تھا۔

باسط نے آگے آتے اسے قابو کیا تھا۔۔۔۔

دماغ خراب ہے تمہارا درید۔۔۔۔بیٹھو یہاں وہ تم سے بہتر جانتے ہیں ۔۔۔۔لیکن وہ کسی کے قابو میں نہیں آرہا تھا۔

درید کو آپے سے باہر ہوتے وہ خود کو روک نہیں پایا تھا اور اسے آگے بڑھ کر سنبھالا تھا ۔۔۔۔۔۔وہ اسے اس حال میں نہیں دیکھ سکتا تھا۔

درید کو اس کی جگہ پر بٹھاتے اس نے اس کے بیٹے کو اس کی گود میں دیا تھا۔

کچھ نہیں ہو گا تمہاری بیوی کو۔۔۔۔۔ڈاکٹرز کو ان کا کام کرنے دو۔۔۔سارے سینیر ڈاکٹرز کو بھیج دیا ہے میں نے اندر۔۔۔۔

رب کی زات پر بھروسہ رکھو۔۔۔اور اس زات پر توجہ دو جس کو تمہیں سونپتے تمہاری بیوی تکیلف میں ہے۔

اسے ضرور افسوس ہو گا یہ جانتے کہ اس کے بیٹے کو اس کے باپ نے دیکھا تک نہیں ۔۔۔۔

باسط کی بات سنتے اس نے اپنے بیٹے کو دیکھا تھا جو اس کی کاربن کاپی تھا۔۔۔۔بس آنکھیں اس کی ربائشہ پر گئی تھیں جو اسے سب سے زیادہ پسند آئیں تھیں۔

اس نے جھک کر اس کی آنکھیں چومی۔۔۔۔دل اب بھی وہیں اٹکا تھا۔۔۔۔وہ ایک لفظ تک ادا نہ کر پایا اور اپنے بیٹے کا ماتھا چومتے اسے رباب کو دیا اور پھر سے اٹھ کھڑا ہوا۔

باسط نے اسے گھورتے نفی میں سر ہلایا۔۔۔۔۔

آپ پلیز جائیں اندر اور جلدی کریں۔۔۔اپنے تمام سینیر ڈاکٹرز کو بلائیں باسط نے اطمینان سے کام لیا تھا۔

ایسے کیسز میں کوئی ایک ہی بچتا ہے یا ماں یا بچہ ان کے کانوں میں کسی کی آواز آئی تھی۔