Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shiddat-e-Talab Episode 20

Shiddat-e-Talab by Suneha Rauf

درید سے وہ مل آیا تھا۔۔۔۔لیکن ربائشہ سے نہیں ملا تھا، منت کو بھی وہ ربائشہ سے ملواتا لیکن ابھی حالات اتنے سازگار نہ تھے۔

وہ سارا دن گھر نہیں گیا تھا، درید کی حالت کافی بُری تھی کیونکہ ربائشہ کو ہوش نہ آیا تھا اس نے اپنے سورسز بھی لگائے تھے اور اچھی فی میل ڈاکٹر کو اندر بھیجا تھا، درید کے بیٹے کو اٹھاتے اسے مبارک دی تھی اور پھر سب خیریت کا سنتے ہی وہ گھر آیا تھا لیکن وہ سو چکی تھی۔

اس لیے بنا اسے تنگ کیے وہ بھی لیٹ گیا، بھوک تھی لیکن اسے اٹھانا نہیں چاہتا تھا۔

وہ صبح اٹھا تو وہ اس کے نزدیک ہی سو رہی تھی ایک ہاتھ اس کے سینے پر تھا اور دوسرا بیڈ پر پڑا تھا۔

تبریز اسے دیکھنے لگا، دل مطمئن تھا، وہ جو آگ اپنے لفظوں سے لگا گئی تھی اس نے اسے اسی کے وجود سے بجھائی تھی۔

منتتت! اس نے اسے آواز دی لیکن وہ گہری نیند میں تھی۔

منت اٹھو!

اس کے بالوں میں انگلیاں چلاتے تبریز نے اسے اٹھانا چاہا اور کمفرٹر مزید اس پر کھینچا۔

مجھے سردی لگ رہی ہے۔۔۔۔اے سی بند کریں۔۔۔وہ نیند میں بڑبڑائی۔۔۔۔

اٹھو۔۔۔۔مجھے جانا ہے۔۔۔۔ناشتہ تیار کرو۔۔۔۔

مجھے ۔۔سو۔۔۔سونا۔۔۔ہے۔۔۔

اٹھو۔۔۔شاباش میرے جانے کے بعد سو جانا۔۔۔۔تبریز نے اسے جھٹکے سے اٹھا کر بٹھایا اور اس کی شرٹ کا اوپری بٹن بند کیا۔

وہ نیند میں جھول کر اس کے سینے سے لگی۔۔۔۔لیکن تبریز اس کے بغیر ناشتہ کر کے نہیں جانا چاہتا تھا۔

منت تبریز شاہ اگر تم نہیں چاہتی ہو کہ میں تم میں کھو کر تمہیں بے حال کر کے آج گھر ہی رک جاؤں تو میرے فریش ہوتے تک ناشتہ تیار کرو وہ اس کے کان کے پاس بولا اور اسے جھٹکے سے کھڑا کیا۔

منت نے اس کی بات سنی۔۔۔تو کانپتے بمشکل آنکھوں کو کھولا اور کچن میں گئی۔

وہیں سنک سے منہ پر پانی کے چھپٹے مارے۔۔۔کچھ بھی تھا اسے ناشتہ کیے بغیر وہ نہیں بھیج سکتی تھی جانتی تھی اس نے ایسا کیا تو وہ سارا دن ہی بھوکا رہے گا کیونکہ اب اسے باہر کا کھانا بالکل پسند نہیں آتا تھا وہ اتنا تھک گیا تھا کھا کھا کر۔

اس کے دو پراٹھے بناتے، انڈے بنائے اور چائے اوپر رکھی۔۔۔۔نیند اب بھی بہت آرہی تھی۔

وہ کچن میں آ کر اپنی مخصوص جگہ پر بیٹھا اور اسے دیکھا جس کا رخ چولہے کی طرف تھا۔

بن گیا ہے ناشتہ؟

بس چائے رہ گئی ہے کیا آپ خود کپ میں ڈال لیں گے؟ وہ نیند میں ہی بولی تھی۔۔۔۔اب تک اسے جمائیاں آ رہیں تھیں۔

نہیں!

صاف انکار کیا تھا تبریز نے۔۔۔منت نے روتی شکل بنا کر اسے دیکھا کہ شاید وہ ترس کھا لے لیکن نہیں۔

اس کا ناشتہ آگے رکھا اور وہیں سامنے بیٹھ گئی۔۔۔۔۔چائے بنتے ہی اس کے کپ میں ڈالی اور اسے دی۔

واپس جانے لگی جب دیکھا وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔وہ واپس وہیں بیٹھ گئی۔۔۔جانتی تھی اس کو رخصت کیے بنا گئی تو وہ بستر سے اسے اٹھا کر لائے گا۔

وہ دروازے پر پہنچا تو وہ وہیں کچن کے دروازے پر کھڑی تھی۔

آ کیوں نہیں رہی ہو؟ سنجیدگی سے سوال پوچھا گیا۔

جائیں پلیز۔۔!

منت یہاں آؤ!

ضد مت کیا کریں شاہ۔۔۔جائیں پلیز۔۔۔۔اب نیند تو خاک آنی تھی۔۔۔پرسوں کے مناظر یاد آتے وہ سنجیدہ ہوئی تھی۔

تمہیں میں پاگل لگ رہا ہوں جو تم سے مخاطب ہوں۔۔۔میرے جانے کے بعد سارا دن سوتی رہنا مجھے اعتراض نہیں ہے۔۔لیکن جو وقت میرا ہے وہ مجھے دیا کرو۔

اور کتنا وقت چاہیے آپ کو؟

آپ کے شکوے ہی ختم نہیں ہو رہے۔۔۔۔آپ تو زبردستی اپنا وقت لینا جانتے ہیں تبریز شاہ۔۔۔اس کا اشارہ پرسوں کی اس کی حرکت کی طرف تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس عورت کی بات سنتے درید نے جھٹکے سے اسے دیکھا تھا اور پھر سر جھکا گیا تھا۔

یہ سب رب کے ہاتھ میں ہے آپ جیسے لوگ اپنے اندازے نہیں لگایا کریں جواب باسط کی طرف سے آیا تھا۔

مجھے ملنا ہے اس سے۔۔۔۔۔ابھی اسی وقت۔۔۔۔اس نے نظر اٹھا کر باسط کو دیکھتے کہا۔

یہ ممکن نہیں ہے درید۔۔۔۔اس کا علاج چل رہا ہے وہ تمہیں اندر نہیں آنے دیں گے باسط نے اسے سمجھانا چاہا۔

پلیزز۔۔۔۔التجائی لہجہ تھا۔۔۔باسط مزید انکار نہ کر سکا اور ڈاکٹر سے درخواست کرنے پر اسے اندر جانے دیا گیا تھا۔

ڈاکٹرز کا کام ختم ہو گیا تھا انہوں نے کہا تھا کہ اسے اگر چند گھنٹوں میں ہوش آجاتا ہے تو وہ خطرے سے باہر ہے نہیں تو اس کی جان بچانا مشکل ہے۔

وہ وہیں بیٹھا رہا۔

اتنی ناانصافی اپنی ہی اولاد کے ساتھ ربائشہ درید یزدانی؟ اس نے اس کا ہاتھ تھامتے کہا آنکھیں نمکین پانی سے بھر گئی۔

میرا نہیں تو کم از کم اپنی اولاد کا تو احساس کرو جو آج ہی اس دنیا میں لائی ہو تم۔۔۔اسے کیسے تم اس حال میں چھوڑ سکتی ہو؟ وہ دھیرے سے کہتا اٹھا اور باہر نکل گیا۔

یہ کوئی فلم، افسانہ نہیں تھا جہاں اچانک سے سب بہتر ہو جائے۔۔۔۔وہ مسجد گیا تھا اور رب کے حضور جھکا تھا۔۔۔۔اس امید پر نہیں کہ اس دعا کے صدقے وہ بچ جائے گی بلکہ اس یقین کے بھروسے کہ اسے کچھ نہیں ہو گا۔

“وہ بچپن سے دعا کم مانگا کرتا تھا لیکن جب مانگتا تھا تو اس یقین سے مانگتا تھا کہ دعا قبولیت کا شرف پائے گی ہی ۔۔وہ کہا کرتا تھا اے رب تیرے علاؤہ دنیا میں کوئی ایسی زات ایسی طاقت نہیں جس سے ہم مانگ سکیں تو واحد زریعہ ہے تجھ سے مانگتے ہیں اور اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ تو ہمیں دھتکارے گا نہیں”

اور وہ تو وہ زات ہے جو ہماری ناممکن چیزوں پر مسکرا کر کُن فرما دیتا ہے بس اس کے معاملے میں بھی کُن ہو گئی تھی۔

وہ گھنٹوں بعد واپس آیا تو رباب نے اس کا بیٹا اسکے ہاتھ میں دیا۔۔۔۔۔

اپنی بیوی کو دکھا آئیں۔۔۔۔

اور تب سے پہلی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر بکھری تھی ۔۔۔۔۔اور الحمدللّٰہ پڑھ کر وہ اندر داخل ہوا۔

احساس ہے تمہیں وہ کب سے بھوکا ہے؟ درید نے اندر جاتے ہی اسے دیکھتے سخت لہجے میں کہا۔

درید۔۔۔۔۔لائیں اسے یہاں۔۔۔وہ لیٹے ہی تڑپتی بولی تھی۔

اب کیوں تڑپ رہی ہو۔۔۔۔؟

کتنے گھنٹے تو بیہوش تھی تم۔۔۔تب تمہیں اس کا خیال نہیں آیا؟ وہ سنجیدہ تھا اپنا غصہ وہ ایسے نکال رہا تھا۔

دریدددد پلیزززز۔۔۔۔!

اس کی تڑپ کو محسوس کرتے وہ اس کے قریب گیا اور ان کے بیٹے کو اس کے ساتھ لٹایا جو یہاں وہاں دیکھتا منہ میں انگوٹھا ڈالے ہوا تھا۔

وہ نم آنکھوں سے مسکرا دی۔

دیکھ رہی ہو کتنا چلاک ہے یہ یہاں وہاں دیکھ رہا ہے اور اتنے بچے آنکھیں بھی مشکل سے کھولتے ہیں درید نے کہا تو ربائشہ نے درید کو دیکھا۔

جس کا بکھرا حلیہ اور سرخ ہوتی آنکھیں اس کی حالت کی گواہ تھیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تم مجھے غصہ دلا رہی ہو منت۔۔۔۔وہ چیزیں وہیں رکھتا دروازہ پھر سے بند کرتا اس کی طرف آیا۔

میں نے ایسا کچھ نہیں کہا کہ آپ کو غصہ آئے۔۔۔غصہ مجھے آنا چاہیے۔۔۔اس نے اپنی گردن اور گال کو آگے کرتے اسے دیکھایا جہاں اس نے زخم دیا تھا۔

تبریز شاہ کئی لمحے اسے دیکھتا رہا۔

تمہیں لگتا ہے ان سب کے لیے میں معافی مانگوں گا؟

آپ کو مانگنی چاہیے۔۔۔۔۔اس نے ہاتھ باندھتے اس کی آنکھوں میں دیکھتے کہا۔

تم جب میری زات کی نفی کرو گی تمہیں سزا ملے گی۔۔۔۔اور اس سزا کے بعد مجھ سے معافی اور شرمندگی کا تصور مت رکھنا چلو اب!

تبریز شاہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے ساتھ دروازے تک لے جانا چاہا لیکن وہ اپنی جگہ پر جمی رہی۔

تم کیوں چاہتی ہو کہ میں تمہارے دوسرے گال پر بھی ایسا ہی زخم دوں منت تبریز شاہ؟

آپ یونیورسٹی میں مجھ سے کیا چاہتے تھے؟ اچانک سوال آیا تھا۔

تمہارے باپ کے بزنس کے ٹرکس تک پہنچنا چاہتا تھا تمہارے زریعے۔۔۔۔اور کچھ پوچھنا ہے؟ وہ اس وقت بحث نہیں چاہتا تھا اس لیے سچ بتایا اسے۔

تو پھر پہنچے کیوں نہیں؟

میری دلچسپی نہیں رہی تھی ان سب میں؟

کیا تب ہی مجھ سے محبت ہو گئی تھی۔۔۔؟

تمہیں کس نے کہا مجھے تم سے محبت ہے؟ وہ بولا تو وہ ایک دم خاموش ہو گئی۔۔۔۔۔وہ کیوں ایسا بولتا تھا۔

اچھاااا!

اس کا مطلب کہ منت وقار کو بھی آپ میں دلچسپی نہیں لینی چاہیے؟

تم دلچسپی آج سے نہیں میری زات میں سالوں سے لے رہی ہو ۔۔۔۔اس لیے نہیں آنا چاہتی تھی نا میرے سامنے کہ کہیں میں تمہیں اس نام سے علیحدہ نہ کر دوں؟ وہ اسے لاجواب کر گیا تھا۔

اس شخص نے ہمیں علیحدہ کیوں کیا تھا؟ وہ تو آپ کا دوست تھا نا۔۔۔۔سالوں سے اس کے من میں یہ سوال تھا۔

ابھی مجھے جانا ہے ان سوالات کے جوابات بعد کے لیے رکھو اور ہاں۔۔۔منت وقار نہیں منت تبریز شاہ ہو اب تم یاد رکھنا!

آؤ؟

آپ اتنے ضدی کیوں ہیں شاہ؟ وہ تھک جاتی تھی اس کی ضد کے آگے۔

کیونکہ میں چاہتا ہوں تم میری ضد پوری کرو۔۔۔۔اس نے کہا تو منت نے اسے دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔

تبریز شاہ نے اپنے انگوٹھے سے اس کے زخم پر مسیحائی پہنچائی۔

یعنی آپ شرمندہ ہیں؟ اس نے فوراً پوچھا۔

نہیں! زخم کی نوعیت جان رہا تھا۔۔۔کہ اگلا وار یہ برداشت کر پائیں گے یا نہیں ۔۔۔اس نے سنجیدگی سے کہتے اس کا گال تھپتھپایا اور اس کا ہاتھ تھام کر زبردستی دروازے تک لایا۔

آیت الکرسی تو پڑھ لو۔۔۔بھول گئی ہو؟ مر ور نہ جاؤں میں۔

خدا کا خوف کریں شاہ۔۔۔اس کا دل دہل گیا تھا۔۔۔اس نے روز کی طرح اس پر پھونک ماری تو وہ ہلکا سا مسکرایا۔

ٹیوب نکال کر رکھی ہے گال پر لگا لینا۔۔۔اور اب سو جاؤ میرے آنے تک مجھے فریش چاہیے ہو بالکل اور کپڑے بدل لو کل بھی یہی پہنے تھے تم نے۔۔۔وہ اسے جتلا گیا تھا کہ اس کی ایک ایک چیز پر اس کی نظر ہے۔

افففف۔۔۔یہ شخص ۔۔۔اس نے اس کے جانے کے بعد دروازے کو لاک کیا اور اندر آئی۔۔۔گھر آج گندا نہ تھا۔۔۔اور اسے تھکان بھی تھی اس لیے صرف آج پلاؤ بنانے کا سوچا اس کے بعد وہ سونا چاہتی تھی۔

جلدی سے پلاؤ بنایا۔۔۔پھر یاد آیا کہ مہاراجہ رائتے کے بغیر یہ نہیں کھائیں گے پھر رائتہ بنا کر فریج میں رکھا اور فریزر میں اس کی رس ملائی چیک کی جو موجود تھی۔

اس کی ہر چھوٹی بات کو اس نے حفظ کر لیا تھا ان چند دنوں میں ۔۔۔۔وہ دنیا کی ہر کوتاہی کر سکتی تھی لیکن تبریز شاہ کے معاملے میں اس کا وجود، اس کا دل،اس کا دماغ کبھی کوتاہی نہیں کر سکتا تھا۔

کچن سمیٹ کر ۔۔۔اس کی بات یاد آئی تو فریش ہو کر کپڑے بدلے اور سو گئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا میں نے بہت انتظار کروایا؟

ربائشہ نے اس سے پوچھا تو وہ محض اسے دیکھ کر رہ گیا۔

کبھی تمہیں بھی اتنا تڑپا کر پوچھوں گا میں کہ ربائشہ درید یزدانی کیا میں نے بہت ترپایا ہے تمہیں وہ سنجیدہ سا کہتا اٹھا اور باہر نکل گیا۔

اس نے گہری سانس بھری اور اپنے بیٹے کی طرف متوجہ ہوئی جو سو چکا تھا۔۔۔۔

وہ ہوبہو درید پر گیا تھا۔۔۔وہ مسکرائی۔۔۔۔کچھ تو مجھ سے چراتے اپنے بیٹے کے ہر نقش کو چومتے وہ اس سے شکوہ کر رہی تھی۔

باسط اندر آیا اور اس کے ماتھے پر پیار دیا۔۔۔۔تو وہ مسکرائی۔۔۔۔

رباب نے اسے دیکھتے آنکھیں جھکائیں۔۔۔۔۔خاموشی تھی اب ان کے درمیان جسے باسط کی آواز سے توڑا۔

یار ماموں پر تو گیا نہیں یہ۔۔۔باپ پر چلا گیا ہے سارا۔۔۔مجھ پر جاتا تو لڑکیاں مرتی اس پر۔۔۔۔باسط نے ماحول کو ہلکا کرنے کے لیے کہا۔

اب زیادہ مریں گی کیونکہ وہ میرے بھائی پر گیا ہے آپ فکر نہیں کریں۔۔۔۔رباب نے کہا تو سب مسکرا دیے۔

تو تم مجھے میرے جیسا دے دو نا؟ باسط نے اس کی طرف جھکتے کہا تو اس نے باسط کے کندھے پر دھپ لگائی۔

درید کہاں گئے ہیں؟ربائشہ نے پوچھا۔

مٹھائیاں بانٹ رہا ہے پاگلوں کی طرح۔۔۔۔۔ایک آدمی کو پکڑ کر دس بار پوچھ رہا ہے کہ آپ نے منہ میٹھا کیا ہے۔۔۔شوگر کروائے گا سب کو سالہ۔۔۔۔۔باسط نے چِڑھ کے کہا تو ربائشہ نے اسے گھورا۔

میں دیکھتا ہوں اسے۔۔۔۔۔باسط کہہ کر نکل گیا تو رباب دھیرے سے چلتی اس کے پاس آئی۔

سب سے پہلے اسے میں نے چوما ہے۔۔۔۔وہ پُرجوش انداز میں کہہ رہی تھی۔

تمہارا حق ہے تم اکلوتی پھپھو ہو میرے بیٹے کی؟

کیا تم نے اس کا نام سوچا ہے؟

اوہوں۔۔۔ابھی تک تو نہیں؟

کیا اس کا نام میں رکھوں؟ وہ پُرجوش تھی بہت۔۔۔ربائشہ اسے منع نہ کر پائی۔

بالکل!

حازق درید یزدانی۔۔۔۔کیسا ہے؟

بہت اچھا! ربائشہ نے کہا تو وہ مسکرائی۔۔۔اور پھر اس کے نزدیک بیٹھ کر اس کا ہاتھ تھام گئی۔

تم بہت اچھی ہو رابی۔۔۔۔۔میں شرمندہ ۔۔۔۔۔

کوئی بات نہیں۔۔۔۔میں نے اپنے بیٹے کے لیے ہر ایک انسان کو معاف کر دیا تھا۔۔۔۔اس نے رباب کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا تو وہ مطمئن ہوئی۔

تب تک درید اندر آ گیا تھا۔۔۔باسط بھی پیچھے ہی تھا۔

بھیو میں نے آپ کے بیٹے کا نام رکھ دیا ہے وہ چل کر اس کے پاس آئی تو درید نے اسے ساتھ لگایا۔

اچھا کیا میں نے تمہیں اجازت دی ہے؟ اس نے کہا تو رباب نے اسے دیکھا۔

میری غلطی تھی میں مانتی ہوں۔۔۔۔مجھے بھابھی کو وہ سب نہیں کہنا چاہیے تھا۔۔۔بس میں غصے میں تھی۔

گڑیا یہ بات جان لو کہ تمہاری اور اس کی اپنی اپنی جگہ ہے میرے دل میں۔۔۔۔۔اور وہ محبت ہے میری۔۔۔۔تمہیں وہ سب نہیں کہنا چاہیے تھا۔۔۔جو بھی تھا وہ ہم دونوں کا آپس کا معاملہ تھا جو میں خود سلجھانا چاہتا تھا۔

اب مجھے معافی کیسے ملے گی؟

معاف تمہیں رابی کر چکی ہے۔۔۔۔میں جانتا ہوں اسے؟ اس نے کہتے ربائشہ کو دیکھا جو انہیں دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔

اب بتاؤ میرے بیٹے کا نام کس خوشی میں رکھا ہے تم نے؟

میں اکلوتی پھپھو ہوں اس کی۔۔۔رابی نے اجازت دی تو میں نے رکھ دیا حازق درید یزدانی کیسا ہے؟

بہت خوب۔۔۔

لیکن یاد رکھو تمہارے بچوں کا نام اب میں رکھوں گا اپنے شوہر سے پوچھ لو۔۔۔۔ددید نے کہا تو رباب نے فوراً باسط کو دیکھا جو کندھے اچکا گیا۔

اوکے مجھے منظور ہے۔۔۔۔اس نے باسط کو نظرانداز کرتے کہا کیونکہ اس کے بیٹے کا نام اسے ہی رکھنا تھا۔

تم لوگ گھر جاؤ اب۔۔۔۔کل آجانا۔۔۔۔درید نے انہیں دیکھتے کہا تو باسط نے فوراً منع کیا۔

یہاں ایک سے زیادہ کو رکنے کی اجازت نہیں ہے۔۔۔زیادہ اپنے سورسز لگانے کی ضرورت نہیں ہے گھر جاؤ۔۔۔۔اس نے باسط کو براہِ راست کہا تو اس نے لب بھینچے لیکن شاید اس وقت ان کو اکیلا چھوڑنا زیادہ بہتر تھا اسی لیے رباب کو لے کر وہ گھر چلا گیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ درید اور ربائشہ کے پاس کافی دیر تک ٹہرے تھے۔۔۔۔رںاب ان کے بیٹے کو چومتی بار بار اسے دیکھ کر پرجوش ہوتی باسط کو دکھاتی۔

باسط اس کی ان حرکتوں پر مسکرا کر رہ جاتا۔۔۔وہ بہت خوش تھی اور وہ اسے دیکھ کر خوش تھا۔

وہ خوش اور مطمئن تھا اپنی زندگی میں۔۔۔۔رباب نے اسے خود میں اتنا الجھا دیا تھا کہ اسے کسی اور چیز کو سوچنے کا موقع ہی نہیں ملتا تھا۔

درید نے انہیں گھر بھیج دیا تھا لیکن رباب کا من ہی نہیں تھا گھر جانے کا۔۔۔باسط خود بھی نہیں آنا چاہتا تھا لیکن اب ربائشہ ٹھیک تھی اور وہ انہیں اکیلا چھوڑنا چاہتا تھا۔

رباب چلو۔۔۔!

باسط تھوڑی دیر اور۔۔۔

وہ سو گیا ہے رباب۔۔۔۔اب ناجانے کتنی دیر تک سوتا رہے۔۔۔۔باسط نے اسے سمجھانا چاہا۔

ابھی اٹھ جائے گا نا پھر میں تھوڑا سا کھیل لوں گی پھر پکا چلیں گے اس نے کہا تو باسط نے اسے گھورا۔

آ رہی ہو یا اکیلا چلا جاؤں؟

اُف آ رہی ہوں۔۔۔وہ سوئے ہوئے حازق کو پیار کرنے لگی تو درید نے مسکرا کر اس کا ماتھا چوما اور وہ انہیں خدا حافظ بول کر باہر آ گئی۔

کھانا نہیں بنایا تھا آج میں نے کچھ بھی۔۔۔ڈنر کرتے ہیں کسی اچھی سے جگہ پر۔۔۔۔وہ پرجوشی سے بولی۔

بالکل نہیں! پیک کروا لیتا ہوں۔۔۔۔

آہ باسط کتنے بورنگ ہیں آپ۔۔۔۔۔وہاں بیٹھ کر کھاتے ہیں اتنا مزہ آئے گا۔

میں تمہیں کسی اور دن لے جاؤں گا رباب اس وقت تھک گیا ہوں بہت۔۔۔۔اس نے کہا تو رباب نے خاموشی سے سر ہلایا۔

ناراض ہو گئی ہو؟

اس کی خاموشی سے یہی اخذ کیا تھا باسط نے اسی لیے پوچھے بنا نا رہ سکا۔

نہیں آپ کی طرح نہیں ہوں میں۔۔۔۔اب آئس کریم بھی لے لیجئے گا آ ہی گئے ہیں تو۔۔۔اس نے کڑھتے کہا۔

وہ باہر گیا کھانا پیک کروانے لیکن پھر اس کا دل نہیں مانا واپس آیا اور گاڑی کا دروازہ کھولا۔

چلو آؤ بیٹھ کر کھا لیتے ہیں۔۔۔۔

نہیں!

کیوں نہیں!

آپ تھکے ہیں گھر جا کر ہی کھا لیں گے۔۔۔اس نے سادگی سے جواب دیا۔۔

نہیں تمہاری روتی شکل نہیں دیکھنی مجھے۔۔۔نہیں تو طعنے مارو گی کہ اس تاریخ کو میں نے باہر کھانا کھلانے کا بولا تھا آپ نے نہیں کھلایا تھا۔۔۔۔

افففف۔۔۔۔اتنے نخرے میں نے کبھی نہیں کیے۔۔۔۔وہ کہتی اتر گئی اور پھر انہوں نے کھانا کھایا اور آئس کریم دلاتے وہ اسے گاڑی میں واپس لایا تھا۔

شاپنگ بھی کرنی ہے مجھے کچھ رباب نے اسے دیکھتے شرارت سے کہا تو باسط نے اسے گھورا جو زیادہ ہی پھیل رہی تھی اب۔

آن لائن کا زمانہ ہے گھر بیٹھ کر کر لینا۔۔۔

اوکے آج ہی کر لوں گی وہ مسکراتی آئس کریم کھانے لگی اور وہ سامنے دیکھتا ڈرائیو کرنے لگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ آفس سے واپسی پر ان کے پاس آیا تھا۔۔منت کی شکوہ کرتی آنکھیں وہ بھولا نہیں تھا، وہ انسکیور ہو رہی تھی اس کو لے کر جو اسے قطعاً منظور نہ تھا۔

ڈیڈ میں ابھی شادی نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔

یہ منگنی صرف میں نے آپ کے کہنے پر کی ہے۔۔۔۔۔پھر یہ کوئی ڈیل ہو یا صرف آپ کی اپنے دوست سے دوستی مجھے فرق نہیں پڑتا۔

تبریز شاہ ۔۔۔۔ہوش میں تو ہو۔۔۔۔اور شادی کیوں نہیں کرنی کسی سے بھی تو کرنی ہے تو سارہ سے کیوں نہیں ۔۔۔۔۔۔؟ وہ دھاڑے تھے۔

وہ اسی لیے نہیں کہ مجھے کسی اور۔۔۔۔۔

کون۔۔۔۔وہ اٹھ کھڑے ہوئے۔۔۔۔

وقت آنے پر بتاؤں گا۔۔۔۔

خیر۔۔۔۔میری بلا سے کچھ بھی کرو۔۔۔۔لیکن یہ شادی تو ہو گی۔۔۔۔میں ڈیل کر چکا ہوں اس کے باپ سے۔۔۔۔۔

ڈیل آپ نے کی ہے میں نے نہیں ۔۔۔۔۔

تم بھول رہے ہو میرے احسانات ۔۔۔۔۔۔۔وہ دھاڑے تو وہ اپنی جگہ سے کھڑا ہو گیا۔۔۔

کچھ نہیں بھولا۔۔۔اور یہ بھی نہیں بھولا کہ یہ سب پیسہ، گھر، بزنس میرے باپ کا تھا جو آپ کو مفت میں ملا۔۔۔۔

اور جتنا آپ نے میرے لیے ان سالوں میں کیا ہے اتنا میں نے آپ کو ان مہینوں میں لوٹایا بھی ہے وہ آج بول گیا تھا کیونکہ بولنا ضروری ہو گیا تھا۔

ناہنجار! باپ سے زبان لڑا رہے ہو۔۔۔۔۔کچھ بھی کر لو یہ شادی ہو گی نہیں تو میں اور تمہاری ماں تم سے کبھی نہیں ملیں گے اور نہ ہمارا مڑا ہوا منہ تم دیکھ پاؤ گے۔۔۔۔۔

میں دنیا کو چیخ کر بتاؤ گا کہ یہ وہ اولاد ہے جس کے لیے میں نے اتنا کچھ کیا، جس کو بزنس مین میں نے بنایا، اچھی یونیورسٹی میں پڑھایا۔۔۔اور کیا بولا یہ سب تمہارے باپ کا تھا۔۔۔۔۔ہاہاہا تمہارے باپ کا بزنس آخری سانسوں پر تھا میں نے بچایا آ کر۔۔۔یہ سب میرا ہے۔۔۔۔۔

وہ بنا کچھ کہے وہاں سے نکل آیا تھا تیز ڈرائیونگ کرتے وہ گھر پہنچا تھا۔۔۔

اس کا سر اس وقت درد سے پھٹ رہا تھا۔۔۔۔سکون نہیں مل رہا تھا اسے۔۔۔۔تو کیا وہ سب اپنے ہاتھوں سے تباہ کر گیا تھا۔

اسے خود پر بے حد غصہ آیا شاید یہ ہمت وہ پہلے کر لیتا تو پورا شہر اور اس کی بیوی اس منگنی کا نا جان پاتے کیونکہ وہ ایسا کچھ ہونے نا دیتا۔۔۔۔

وہ گھر آیا تو وہ وہیں موجود ٹی وی دیکھ رہی تھی وہ بنا دیکھے اسے اندر چلا گیا اور دورازہ بند کرتے بنا چینچ کیے بستر پر لیٹ گیا۔

وہ کئی لمحے سوچتی رہی پھر پانی کا گلاس لیتی اندر آئی لیکن اندر اندھیرا دیکھ کر چونکی۔۔۔۔

یہ کون سا وقت تھا سونے کا اس نے لائیٹ چلائی۔

بند کرو اسے اور دروازہ بند کرو۔۔۔۔۔وہ وہیں سے بولا۔۔۔

وہ بند کرتی اس کے پاس گئی اور اس کی آنکھوں سے بازو ہٹایا اور اسے دیکھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مجھے گھر جانا ہے؟

ابھی ممکن نہیں ہے۔۔۔کل شام تک ممکن ہو پائے گا۔۔۔کیا کھاؤ گی؟

مجھے گھر ہی جانا ہے یہاں نہیں رہنا وہ بضد ہوئی تو درید اس کے پاس آیا اور اس کے اوپر جھکا۔

تم مجھے پہلے ہی بہت زلیل کر چکی ہو ربائشہ درید یزدانی ۔۔۔۔اب زبان بند رکھو۔۔۔وہ پھنکارا تو وہ خاموش ہو گئی۔

کیا کھانا ہے؟ اس نے پیچھے ہٹتے اس پر چادر درست کرتے پوچھا۔

کچھ نہیں کھانا! وہ منہ بسوڑتی بولی اور آنکھیں موند لیں۔۔۔۔لیکن درید کی نظریں وہ مسلسل خود پر محسوس کر سکتی تھی۔

کیا مسئلہ ہے درید؟ وہ چڑ گئی۔۔

یہ سوال مجھے تم سے کرنا چاہیے کہ کیا مسئلہ ہے تمہیں؟ پیار کی زبان سمجھ میں نہیں آرہی تمہیں؟

مجھے باہر سے کھانا ہے کچھ وہ جلدی سے بولی تو درید نے اسے پھر سے گھورا۔۔۔۔

سوپ ملے گا اس وقت صرف تمہیں۔۔۔۔آرڑر کر دیا ہے میں نے۔۔۔

جب آرڑر کر دیا تھا تو مجھ سے کیوں پوچھا؟

درید نے اسے نظرانداز کیا اور اپنے فون پر میلز چیک کرنے لگا۔۔ہزار فکریں اس کے دماغ میں تھیں۔۔۔۔اس عورت کو جلد سے جلد پکڑنا تھا اب تو اس کی اولاد بھی تھی ربائشہ کے ساتھ۔۔۔۔اتنا نقصان برداشت نہیں کر سکتا تھا وہ۔۔

سوپ آنے پر وہ اٹھ کر اس کے پاس آیا اور اپنی جگہ بنا کر بیٹھا اور اسے پلانے لگا۔۔۔۔

کھانا کھایا ہے آپ نے ربائشہ نے اس کے بال ماتھے سے پیچھے کرتے استسفار کیا لہجے میں فکر پوشیدہ تھی۔

درید نے اس کی بات کا جواب نہ دیا تو ربائشہ نے اسے گھورا۔۔۔۔آپ سے پوچھ رہی ہوں درید؟

نہیں!

وجہ جان سکتی ہوں۔۔۔صبح سے شام ہو گئی ہے آپ نے رات کو بھی ڈنر نہیں کیا تھا۔۔۔۔ربائشہ نے اسکے بالوں میں ہاتھ چلاتے کہا۔

دل نہیں کیا۔۔۔درید نے اپنے بیٹے کو گود میں لیتے اس کے ساتھ جگہ بنائی اور ٹیک لگا کر ٹانگیں سیدھی کیں۔

اٹھ جائے گا وہ۔۔۔۔۔درید کو اس کے چہرے کو جابجا چومتے دیکھ اس نے ٹوکا تھا جس کے بدلے میں اسے درید کی اک گھوری خاموش کروا گئی تھی۔

وہ کتنی دیر اس کی اپنی اولاد سے لاڈ دیکھتی رہی تھی جبکہ وہ خود کو نظرانداز ہونا بخوبی محسوس کر رہی تھی۔۔۔

پھر وہ رونے لگا تو درید بوکھلا گیا اور فوراً اسے ربائشہ کو پکڑانا چاہا۔

اب نہیں پکڑوں گی میں۔۔۔تب تو مجھے بہت گھورا تھا آپ نے اب کروائیں چپ۔۔۔ربائشہ کی طرف سے سفید انکار ہوتے دیکھ وہ اسے لے کر کھڑا ہو گیا اور یہاں وہاں چکر کاٹتے اسے خاموش کروانے لگا لیکن وہ خاموش نہیں ہو رہا تھا۔

درید نے بیچاری شکل بنا کر ربائشہ کو دیکھا تو اسے من ہی من میں ہنسی آئی پھر خود کو سیریس ظاہر کرتی اپنے بیٹے کو تھام گئی۔

درید واپس آتا اپنی سابقہ پوزیشن میں بیٹھ گیا اور اپنا سر ربائشہ کے کندھے پر رکھ کر آنکھیں موند لیں اس کا رواں رواں اس وقت درد کر رہا تھا۔

ربائشہ نے حازق کو سلاتے ساتھ کارٹ میں ڈالا جس کا انتظام بھی درید نے کروایا تھا اور پھر درید کی طرف متوجہ ہوئی۔

تھک گئے ہیں؟

تو گھر سے فریش ہو آئیں درید۔۔۔اس نے درید کے بالوں میں پھر سے انگلیاں پھیرتے کہا۔

نہیں میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔وہ آہستگی سے بولا۔

آپ ضد کیوں کر رہے ہیں؟ درید بچے نہیں ہیں آپ اور میں بھی بچی نہیں ہوں کہ چند لمحے اکیلے نہ رہ سکوں۔۔۔

بحث نہیں کرو رابی۔۔۔اس کا فائیدہ نہیں ہے۔۔۔تمہیں یہاں اکیلے چھوڑنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔۔۔اس لیے خاموش رہو۔

اچھا کھانا تو کھا لیں۔۔۔۔کچھ آرڈر کر لیں ۔۔اس نے کہا تو درید نے اس کی گردن میں منہ چھپایا جیسے کہنا چاہ رہا ہو کہ اب آواز حلق سے نہ نکلے۔

ربائشہ خاموشی سے اپنی چادر اس پر درست کرنے لگی تو درید نے اس کے گرد حصار بنایا۔۔۔۔

درید ہم گھر پر نہیں ہیں۔۔۔۔اس نے یاد کروانا چاہا لیکن وہ اس وقت کچھ بھی سننے کے موڈ میں نہیں تھا۔۔اس لیے آنکھیں موند گیا تو وہ خاموش ہو گئی۔

اور ویسے بھی یہ ان کا پرائیویٹ کمرہ تھا جو بک تھا اور وہ لاک بھی کر چکا تھا اس لیے زیادہ فکر کی بات نہ تھی۔