Shiddat-e-Talab by Suneha Rauf NovelR50408

Shiddat-e-Talab by Suneha Rauf NovelR50408 Shiddat-e-Talab Episode 28 (Last Episode Last Part)

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shiddat-e-Talab Episode 28 (Last Episode Last Part)

Shiddat-e-Talab by Suneha Rauf

تبریز شاہ اپنے فون پر لگ گیا اور وہ اپنے۔۔۔لیکن تھوڑی دیر بعد اسے بھی دیکھ لیتی جو مصروف دکھتا تھا۔

مجھے آئسکریم کھانی ہے۔

جواب نداد۔

شاہ مجھے آئسکریم کھانی ہے۔

کچھ لمحوں پہلے تمہیں آفر کی تھی میں نے لیکن تم نے جھٹلا دی تھی اب خاموشی سے بیٹھی رہو۔

پلیز نا میرا بہت دل کر رہا ہے وہ التجائی لہجے میں بولی تو تبریز شاہ اسے منع نہ کر پایا۔

میں لا دیتا ہوں۔

میں ساتھ جاؤں گی۔۔۔وہ فوراً سے پہلے بیڈ سے اتری اور اپنا دوپٹہ نکال کر اس کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔

کس خوشی میں؟

میں بھی جاؤں گی اپنی پسند سے لوں گی دو تین چار پانچ۔۔۔۔

اور تمہیں لگتا ہے میں اتنی تمہیں دلواوں گا؟ آیبرو اچکا کر اسے دیکھا وہ حسین ہو گئی تھی مزید۔

تو زیادہ لے لیں گے نا بعد کے لیے بھی وہ اس کا بازو تھامتی بولی۔

ٹھیک ہے بدلے میں مجھے کیا ملے گا؟ وہ فوراً اپنے مطلب پر آیا تھا۔

کیا ملے گا آپ بھی اپنی لے لینا ایک دو۔۔۔۔منت نے کندھے اچکائے۔

نہیں تم کیا دو گی وہ بتاؤ۔۔۔آخر تمہیں اسپیشل لے کر جا رہا پوں۔

امممم۔۔۔۔کیا چاہیے؟

قریب آؤ۔۔۔

منت نے قریب جاتے اسے دیکھا اب؟

کِس می!

اممم۔۔۔۔ویسے تو ابھی ہماری ناراضگی چل رہی ہے لیکن کوئی بات نہیں وہ کہتی اس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ گئی۔

ہاتھ ہٹاؤ مجھے دیکھنے تو دو۔

لو اس میں دیکھنا کیا ہے بھلا۔۔۔ایڑھیاں اوپر کرتے اس کے گال چومے اور ہٹی۔

تبریز شاہ نے اسے گھورا ۔۔۔ میں آ کر بتاؤ گا تمہیں۔۔۔چلو ابھی وہ گاڑی کی چابی لیتا اس کا ہاتھ تھامتا باہر نکل گیا۔

میری بات سنیں شاہ معافی شافی مجھ سے مانگنی ہیں تو ابھی مانگ لیں مجھے نیند آئی ہے میں نے گھر جا کر سونا ہے۔

آہاں۔۔۔تبریز شاہ نے اسے شوخ نگاہوں سے دیکھا جیسے اس کی بات نے لطف دیا ہو۔

اسے آئسکریم دلوائی۔۔۔۔جو وہ خوشی سے کھا رہی تھی۔۔۔اسی کے کہنے پر اور بھی ڈبے ہر فیلور کے خریدے گئے تھے۔

گھر آتے وہ تھک گئی تھی۔۔۔

مجھے اٹھا کر لے کر جائیں۔۔۔۔وہ اپنے بازو اٹھا کر اس کی طرف بڑھاتی بولی۔

ڈرامے نہ کرو اندر چلو!

میں تھک گئی ہوں نا۔۔!

گاڑی میں نے چلائی ہے تم نے نہیں! اور کھانے سے کوئی نہیں تھکتا اٹھو اب۔۔لیکن وہ آنکھوں کو فوراً گیلا کر گئی۔

خبردار تم روئی تو۔۔۔۔تبریز شاہ نے آگے بڑھتے اس کے قریب جھکتے اسے گود میں اٹھایا

تو منت کی دلکش ہنسی فضا میں چاروں طرف گونجی جس سے اس کا دل پل میں روشن ہوا۔

محبت میں سب سے زیادہ بہترین وہ لمحہ ہے جب آپ اپنے محبوب کو خوش دیکھیں پھر اس کی وجہ کوئی بھی ہو کیا فرق پڑتا ہے۔۔۔۔مسکراہٹ۔۔۔میرے نزدیک آپ کو جس شخص سے محبت ہے اس کی مسکراہٹ آپ کو دنیا کی بہترین مسکراہٹ لگتی ہے تبریز شاہ کو بھی ایسا ہی لگتا تھا۔

تمہیں اس ڈرامے بازی پر نیچے گرا سکتا ہوں میں وہ مصنوئی غصے سے بولا۔

ممکن ہی نہیں!

آپ مجھے اور میرے بے بی کو نقصان نہیں پہنچا سکتے اس نے مان سے کہا تو وہ گھور کر رہ گیا وہ سچ کہہ رہی تھی۔

اندر جانے کے بعد وہ ایسے ہی لیٹ گئی تو وہ بھی اپنی جگہ پر آیا۔

منت اٹھو کپڑے بدلو۔۔۔! اسے نیند میں جاتا دیکھ وہ بولا۔

نہیں! مجھے سونا ہے!

یہ چبیں گے تمہیں تنگ ہو گی ساری رات۔۔۔۔اٹھو جلدی کرو۔۔۔تںریز شاہ نے زبردستی اسے اٹھا کر بھیجا تھا اور پھر اس کا انتظار کرتا اپنا تکیہ اس کے تکیہ کے ساتھ رکھتا لیٹ گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

درید۔۔۔۔

میں سن رہا ہوں۔۔۔وہ جانتا تھا وہ راتوں کو کروٹیں بدلتی رہی ہے بے چینی سے صرف اس کے نظرانداز کرنے پر۔

میں جانتی ہوں میں نے غلط کیا۔۔۔مجھے آپ کی بات ماننی چاہیے تھی۔۔۔۔

اچھا اور؟

اور یہ کہ سب میری وجہ سے ہوا۔۔۔

اور؟

اور حازق کی جان بھی میں نے اپنے ساتھ خطرے میں ڈالی۔۔۔

اور؟

اور یہ کہ حالات اس سے بھی برے ہو سکتے تھے۔۔۔۔

آپ کو لگتا ہے اس سے بڑا کچھ ہو سکتا تھا۔۔اگر تمہیں لگتا ہے کہ مجھے وہ بات نہیں پتا تو تم غلطی پر ہو۔۔۔

ربائشہ نے نگاہیں چرائی۔۔۔۔معافی مانگنا مشکل نہ تھا۔۔۔اس بات کا سامنا کرنا مشکل تھا جس پر وہ باز پرس کرنے لگا تھا۔

میں۔۔۔۔۔

کیا وضاحت دو گی؟

اتنا بڑا نقصان۔۔۔۔وہ نقصان جس کی بھرپائی ہم کبھی نہیں کر پائیں گے ربائشہ یزدانی۔۔۔وہ دھاڑا تو وہ اٹھ کر بیٹھ گئی۔

لیٹو واپس ۔۔۔۔!

مجھے افسوس۔۔۔۔

بس افسوس ہے۔۔۔۔میں اس رات سے سو نہیں پایا یہ جانتے ہوئے کہ میری بیوی اب کبھی دوبارہ ماں نہیں بن سکتی۔۔۔۔

یہ خبر اسے باسط نے دی تھی جب وہ ملتان میں تھا۔۔۔۔یہ سنتے وہ مزید ٹوٹ گیا تھا۔

میں درد میں رہی ہوں درید۔۔۔۔وہ کہتی رونے لگی تو وہ خاموش ہو گیا۔

اگر میں سب غلطیوں پر تمہیں معاف کر بھی دوں تو اس بات پر نہیں کہ اس دن تم نے میری بات کے خلاف جانے کی ہمت کی تھی۔

میں پشیمان ہوں بے حد۔۔۔

کیا تم وہ واز جوڑ پائی تھی؟

نہیں میں نے کوشش کی تھی۔۔۔

تو میں تمہیں کیسے معاف کر دوں؟ درید نے کہا تو وہ یک دم دور ہوتی بستر سے اتر کر دور کھڑی ہو گئی۔

ہاں ہاں۔۔!

میں ربائشہ درید یزدانی اس بات کا اعتراف کرتی ہوں کہ مجھ سے غلطی نہیں گناہ ہوا ہے میں نے اپنے مجازی خدا کی نافرمانی کی تھی اس کی کہی بات ٹھکرائی۔۔۔۔جس کی۔۔۔جس کی سزا مجھے مل گئی۔۔۔۔میں نے اپنی جان اپنے بیٹے کو خطرے میں ڈال دیا۔۔۔میں دوبارہ ماں نہیں بن سکتی۔۔۔۔

لیکن۔۔۔

لیکن۔۔

کیا آپ میری تکلیف کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔۔۔۔میرا دل اس دن سے میرا ساتھ نہیں دے رہا۔۔۔میری دھڑکنیں کبھی بڑھتی ہیں کبھی گھٹتی ہے یہ سوچتے کہ اگر سب کھو دیتی تو؟؟

اگر میرا بیٹا نہ مل پاتا تو۔۔۔؟

میں اپنی غلطی مانتی ہوں لیکن رب العالمین نے ایک اولاد دی ہے جس میں خوش ہوں۔۔۔۔بس اس بات کا دکھ اور افسوس میرے ساتھ قبر تک جائے گا کہ میں نے۔۔۔

ربائشہ درید یزدانی نے درید یزدانی کی بات ٹھکرائی۔۔۔وہ کہتے باہر نکل گئی۔

وہ وہیں بیٹھا ڑہا۔۔۔۔وہ اپنے دکھ میں کیسے بھول گیا تھا کہ جو اصل دکھ تھا وہ اسی کی زات کو تھا۔

جس نے وہ سب برداشت کیا جو بستر پر زندگی اور موت کی لڑائی لڑتی رہی، جو اب دوبارہ کبھی ماں جیسے رتنے پر فائز نہیں ہو سکے گی۔۔۔۔وہ ازیت میں تھی۔

وہ آدھے گھنٹے بعد سب سوچیں جھٹکتا باہر گیا جہاں وہ صوفے پر لیٹی تھی۔

درید اندر سے کمفرٹر لایا اے سی سلو کیا اور اس کے ساتھ ہی لیٹ گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں آگئی ہوں۔۔۔۔وہ لیٹتے اسے بتا گئی تو اس نے سر ہلایا۔

منت نے اس کا ہاتھ اپنے پیٹ پر سے گزارتے پیچھے رکھا اور روشن آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی۔

ایک دوسرے کو دیکھتے کئی لمحے سرک گئے پھر ہوش میں آتے تبریز شاہ پیچھے ہٹا اور سر پر بازو رکھتا آنکھیں موند گیا۔

وہ چاہتا تھا وہ اسے منائے۔۔۔۔یہ کام ہمیشہ اس نے کیا تھا۔۔۔وہ اس سے معافی نہیں چاہتا تھا لیکن وہ اسے منا تو سکتی تھی۔

اسکے دور جانے پر منت نے اسے حیرانی سے دیکھا۔۔آنکھوں کی چمک پل میں ماند پڑی تھی۔۔۔شاید اسنے اسے معاف نہیں کیا تھا۔

وہ بجھے دل سے کروٹ بدلتی یہی سوچتی سو گئی۔۔

وہ دونوں ایک دوسرے کا انتظار کیے کہ پہل کون کرے الگ سوچوں میں ڈوبے تھے۔

رات ڈیڑھ کے قریب اپنے نزدیک سسکیوں کو محسوس کرتے اس نے فوراً اٹھتے ساتھ لیمپ چلایا۔

زندگی؟ کیا ہوا طبیعت ٹھیک ہے وہ اسے یوں روتا دیکھ پاگل ہونے کے در پر تھا۔

تم ۔۔۔

تممم۔۔۔

مجھے بالکل پسند نہیں ہو۔۔۔۔

کیا ہو گیا ہے ۔۔۔وقت دیکھو۔۔۔بتاؤ مجھے کیا ہوا ہے وہ پریشان ہوتا اٹھ بیٹھا اور اسے بھی بٹھایا۔

مجھے تم سے محبت نہیں ہے۔۔۔۔اور تم سب سے بُرے شخص ہو۔

منت میں اس وقت مزاق کے موڈ میں ہرگز نہیں ہوں سمجھ رہی ہو اور بار بار رو کر کیا ثابت کرنا چاہتی ہو۔

منت نے جھٹکے سے سر اٹھاتے اسے دیکھا۔۔۔اس کا رونا اسے ڈرامہ لگ رہا تھا۔

سو جاؤ! منت نے کہتے آنسو صاف کیے، وہ بدل گیا تھا اب اسے دیکھ کر اس کی دلی کیفیت کو نہیں سمجھتا تھا وہ۔

کچھ چاہیے ہے؟ تبریز شاہ نے اس پر کمفرٹر درست کرتے کہا۔

نہیں!

اور پھر صبح جب وہ جاگا تو وہ کمرے میں نہیں تھی ۔۔۔۔وہ تیار ہوکر باہر گیا جہاں وہ ناشتے کی میز پر بیٹھی جوس پی رہی تھی۔

وہ بھی خاموشی سے بیٹھ گیا لیکن وہ کچھ بھی نہیں بولی۔

بریڈ لے لو ساتھ۔۔۔۔پھر دوا بھی لینی ہے۔

کھا چکی ہوں وہ کہتی اٹھ کر جا کر صوفے پر بیٹھ گئی تبریز شاہ نے اسے دیکھا وہ ناراض کیوں تھی اب۔

وہ ناشتہ کر کے اس کے پاس آیا اور ٹائی اس کے سامنے کی۔

باندھ دو۔

مجھے نہیں آتی۔۔۔۔وہ منہ بنا کر اسے نظرانداز کرتی بولی۔

تبریز شاہ نے اس کے ساتھ بیٹھتے جھٹکے سے اسے اپنی گود میں بٹھایا۔

ان سب کی وجہ جان سکتا ہوں؟

کن سب کی؟

مجھے نظرانداز کر کے اگر تم سمجھتی ہوں کہ میں سمجھوں گا نہیں تو غلط ہو۔

جانا نہیں ہے آپ نے؟

میری بات کا جواب دو۔

مجھے نہیں دینا۔۔۔اس نے ہٹ دھرمی سے کہا۔

تبریز شاہ نے کچھ لمحے اس دیکھا اور پھر کچھ سوچتے اس کے چہرے کو ہاتھوں کے پیالے میں تھاما اور اس کو لب کو اپنوں لبوں میں دبایا۔

یہ وہ قربت تھی جو اسے نئی زندگی بخشتی تھی اور وہ نجانے کتنے دن منت شاہ کے بغیر گزار چکا تھا۔

یہی بے کلی ان دونوں کو بے قرار کیے ہوئے تھی وہ پیچھے ہٹا تو وہ چہرہ جھکائے ہوئے تھی۔

تبریز شاہ نے پاؤں سامنے میز پر رکھے اور فرصت سے اسے دیکھنے لگا جو اب گلابی سی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آفس سے جلدی چھٹی لیتے اس نے آج سرپرائز پلین کیا تھا رباب کے لیے۔

پھولوں کا گلدستہ لیتے ہاٹل میں بکنگ کروائی۔۔۔اسکے لیے نیا جوڑا لیا۔۔۔اور گھر گیا اسے لینے۔

اٹھو ہم جا رہے ہیں۔

کہاں؟

بس چلو تو۔۔۔

نہیں میری طبیعت نہیں ٹھیک۔۔

اٹھو تو یار۔۔۔باسط اس کے بہانے میں آ کر اپنا پلین نہیں برباد کرنا چاہتا تھا اس لیے فوراً اٹھایا۔

یہ پکڑو بدل کر آؤ فورا۔۔۔

سوٹ اسے پکڑاتے کہا جو وہ حیرانی سے تھامتی واش روم میں بند ہو گئی۔

وہ بھی سفید رنگ کا ہی باربی فراک تھا۔۔۔۔لیکن زیادہ ہیوی نا تھا اس کا دوپٹہ اورگینزا کا تھا سرخ رنگ کا۔

وہ پہن کر آئی تو باسط نے آگے بڑھتے اس کا جائزہ لیا پھر اسے لپسٹک تھمائی جو وہ حیرانی سے دیکھنے لگی۔

باسط نے دیر ہونے کے باعث خود ہی اسکے ہونٹوں پر لگائی اور پیچھے ہٹا۔

وہ والا سوٹ دے دینا اب یہ نیا دلوا دیا ہے۔۔۔باسط نے کہا تو رباب نے اسے گھورا۔

اس کی سوئی وہیں اڑی تھی وہ جانتی تھی وہ سوٹ اب وہ دوبارہ نہیں پہن سکتی تھی کبھی۔

تیار ہو کر وہ اسے ہوٹل روم میں لایا جہاں ساری تیاری کروائی گئی تھی۔

بالکونی میں ڈیکوریشن کروائی تھی۔۔۔آج اس کی بیوی کی سالگرہ تھی اور وہ ہر سال سالگرہ بہت اچھے سے مناتی تھی وہ جانتا تھا۔

آپ کو یاد تھا۔۔۔کیک دیکھتے وہ چہکی۔

بالکل! بھول سکتا ہوں میں؟

تمہارا وہ بھائی بھی آنا چاہ رہا تھا میں نے منع کر دیا اچھا کیا اس کا سرپرائز خراب کر کے باسط نے مزے سے کہا تو رباب نے اسے گھورا۔

ان کے ساتھ کل کر لوں گی۔۔۔ابھی چلیں کیک کھانا ہے میں نے۔

اوکے بھوکی لڑکی جو حکم۔۔۔۔باسط اس کا دن اچھا کرنا چاہتا تھا بس۔

کل کے لیے معافی بھی مانگ لیں اب۔۔۔

کھانے کے بعد وہ دونوں وہیں پڑے جھولے پر بیٹھے تھے باسط اندر سے کمفرٹر لا کر ان دونوں پر ڈال چکا تھا۔

میری غلطی نہیں تھی۔

مرد اپنی غلطی کیوں نہیں مانتے وہ غصے میں معلوم ہوتی تھی۔

ٹھیک ہے میں نے مان لی۔۔۔معزرت۔۔۔لیکن اب وہ کبھی باہر بھی ملے تو۔۔۔

میں سمجھ گئی ہوں۔۔۔۔دوبارہ ایسا نہیں ہو گا رباب نے کہتے اسے اس موضوع سے ہٹانا چاہا۔

باسط نے اسے جھولے سے نیچے اتارا اور اس کے سامنے کھڑا ہوا۔۔۔

رباب نے آئیبرو اچکائی۔۔۔پوچھنا چایا کہ کیا ہوا؟

وہ گہرا سانس بھرتا گھٹنوں کے بل نیچے بیٹھا۔۔۔۔۔اور بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگا۔

رباب باسط ضیاء کا دلکش قہقہہ فضا میں گونجا۔

آؤ مائی گاااڈدڈڈڈ۔۔۔۔۔!!

مجھے اپنی آنکھوں پر یقین ہی نہیں آرہا۔۔۔اس ریاست کے بادشاہ محترم اس معمولی کنیز کے لیے زمین پر گھنٹوں کے بل بیٹھے ہیں جنہیں یہ سب پسند نہیں۔۔۔ہاہاہاہا۔۔۔۔بیشک یہ میری زندگی کا بہترین دن اور بہترین تحفہ ہے۔

تمہیں عزت راس ہی نہیں ہے۔۔۔وہ کہتا فوراً کھڑا ہوا۔

معافی چاہتی ہوں بادشاہ محترم۔۔۔۔آج جاری رکھیں۔

بالکل نہیں وہ کہتا جھولے پر بیٹھ گیا تو رباب بھی مسکراتی بیٹھ گئی۔

جو اس نے کر دیا تھا وہ کافی تھا۔۔۔وہ جانتی تھی وہ کتنا سادہ انسان تھا اس نے یہ سب رباب کی خوشی کے لیے کیا تھا۔

“ہر عام لڑکی کی طرح اس کے بھی کچھ خواب تھے۔۔۔لڑکی امیر ہو یا غریب، عام ہو یا خاص اپنی شادی کے خواب ہر کوئی دیکھتا ہے، ایک بہترین شخص ہر کوئی چاہتا ہے اور بس پھر آگے سب قسمتوں کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔

اس نے بھی ڈراموں فلموں میں یہ سب ہوتا دیکھا تھا اس لیے یہ ڈیمانڈ کی تھی اس نے۔

وہ جانتی تھی حقیقی زندگی میں یہ سب نہیں ہوتا لیکن اس نے ایسے ہی اپنی خواہش کا اظہار کر دیا تھا۔

جو اس کے شوہر نے پورا کیا تھا پھر بیشک کسی سین کی طرح کئی عہد یا لمبی تقریر نہیں کی تھی۔

لیکن وہ ایک لمحے میں اسے معتبر کر گیا تھا، اس کی خوشی کے لیے۔

ایک مرد اگر جھکانا جانتا ہے تو اسے اپنی بیوی کے آگے جھکنا بھی آنا چاہیے۔۔۔۔اگر ایک عورت اپنے آپ کو اپنے شوہر کی پسند کے مطابق ڈھال سکتی ہے تو مرد بھی بدلے میں یہ سب کر سکتا ہے۔

جیسے میں ہمیشہ کہتی ہوں یہ رشتہ برابری کا قائل ہے۔”

ٹھیک ہے آئی لو یو رباب نے اس کے آگے جھکتے کہا اور پھر اس کے دونوں گالوں پر بوسہ دیا تو وہ مسکرا پڑا۔

شکریہ!

کس لیے؟

سب کے لیے جو آج تک کیا تم نے میرے لیے۔۔۔میں اپنی زندگی میں خوش اور مطمئن ہوں سب ہے میرے پاس اور معلوم ہے وہ سب تم نے دیا ہے مجھے۔

رباب نے اس کے ہاتھ کی ہتھیلی کو چوما۔

آئی لو یو ٹو کہہ سکتے ہیں۔

ہاہاہا۔۔۔۔۔ٹھیک ہے میں نے مان لیا کہ رباب باسط ضیاء واحد عورت ہیں میری زندگی میں جو میرے دل میں بستی ہیں۔

“ہاہا۔۔۔۔بہت اچھے۔۔۔آہستہ آہستہ اور بہتر ہو جائیں گے۔”

باسط نے اس کے کندھے کو چوما تو وہ خاموش ہوئی۔۔۔اپنی گردن پر اس کی سانسیں وہ محسوس کر سکتی تھی۔

تم بہت مزیدار ہو۔۔۔

اور کیا مطلب ہوا اس بات کا۔

بس سمجھ جاؤ۔۔۔اس کے کندھے سے شرٹ سرکاتے وہاں دانتوں سے کاٹتے پھر ناک سہلاتے وہ بولا۔

دونوں کے قہقہے فضا میں گونجنے لگے تو آسمان پر چمکتے ستارے اور بھی حسین لگنے لگے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبح ہونے تک وہ انہیں سوچوں میں ڈوبا رہا تھا۔۔۔اگر غلطی ربائشہ کی تھی تو اس کی بھی تھی اسے پتا کرنا چاہیے تھا دس بجے ہی کہ وہ گئی ہے یا نہیں۔

یا اپنے کیمراز چیک کرنے چاہیے تھے جو اس نے لگوائے تھے۔۔۔۔

لیکن اب سب ہو گیا تھا ان سب کا کوئی مطلب نہیں تھا۔

اسے جاگتا دیکھ اس نے آنکھیں بند کر لیں۔۔۔۔

ربائشہ کئی لمحے اسے دیکھتی رہی پھر اس کے بالوں میں انگلیاں چلاتے اس کی بیئرڈ کو چھوتی اس کی ناک کو چھونے لگی پھر جھک کر اس کی آنکھوں کو چوم لیا۔

میرے سوتے ہوئے کا فائیدہ اٹھا رہی ہو بیوی؟

ربائشہ اس کے یک دم بولنے سے ڈر گئی اور اٹھنے لگی لیکن وہ جھٹکے سے اپنے اوپر کرتے اپنے ہاتھ اس کی قمر پر باندھ گیا۔

میری بات سنو صرف۔۔۔۔۔

جو ہو گیا وہ بدلا نہیں جا سکتا ۔۔۔۔۔مجھے تم سے کوئی شکوہ نہیں ۔۔۔میں نے سب معاف کر دیا۔۔۔۔آج سے ہم ایک نئی زندگی کا آغاز کریں گے اپنے بیٹے کے ساتھ۔

اور وہ عورت؟

وہ مر گئی۔۔۔۔اور جان لو تمہارے شوہر نے تمہاری ہر آہ، ہر چیخ اور ہر آنسو کی سزا دی ہے ان سب کو۔۔۔۔

آئی لو یو۔۔۔۔

ہاہاہا۔۔۔۔۔یہ تو محض لفظ ہیں۔۔۔۔اور میں کوئی ٹین ایجرز لڑکا نہیں ہوں بیوی محترم جنہیں آپ ان لفظوں پر ٹرخا رہی ہیں۔

تو پھر۔۔؟

پھر یہ کہ قریب آؤ۔۔۔اتنی قریب کہ اپنی سانسوں میں میں تمہاری سانسیں سن سکوں۔۔۔۔اپنی خوشبو میں تمہاری مہک کو محسوس کر سکوں۔۔۔۔

افففف!

آپ جانتے ہیں میں یعنی ربائشہ درید یزدانی سو بار مر کر بھی زندہ ہو جائے تو یہ کام نہیں کر سکتی۔۔۔

کیوں؟ بیوی ہو میری۔۔۔۔

اور جان لو کہ تم میرا کوئی حکم نہیں ٹال سکتی۔۔۔

نہیں اس طرح کے ٹال سکتی ہوں۔۔۔

ٹھیک ہے تو مجھے موقع دو ۔۔۔۔۔

نہیں! حازق اٹھنے والا ہے مجھے نا پاتے رونے لگے گا وہ اٹھنے لگی تو درید نے اسے اپنے ساتھ کرتے اس کی آنکھوں میں دیکھا.

تم ہر بار مجھ سے ایسے کیوں شرماتی ہو بیوی۔۔۔۔

دریدددد ۔۔۔۔

آہستہ بولو یار۔۔۔۔اب ہم اکیلے نہیں ہیں کرایہ دار کیا سوچیں گے؟

ناشتہ کریں گے؟ اس کی بیرڈ پر ہاتھ پھیرتی وہ بولی۔

نہیں آج بس تمہیں کھانے کا ارادہ ہے وہ کہتا جھکا اور اس کے لبوں سے خود کو سیراب کرنے لگا۔

پیچھے ہوا تو وہ سرخ گلابی ہوتی نظریں جھکائے ہوئے اپنا تنفس برقرار رکھنا چاہ رہی تھی۔

ابھی وہ پہلے وار سے نا نکلی تھی کہ وہ اسکے بال گردن سے ہٹاتے اس کی گردن پر جھکا اور وہاں اپنے لب رکھنے لگا۔

درید ۔۔۔

شششش۔۔۔!

دریددد۔۔۔۔۔اس کا لمس اپنے اوپر بکھرتے دیکھ وہ اسے پھر سے پکار گئی۔

اگر مزید میری ناراضگی اور نظرانداز کرنے کو برداشت کر سکتی ہو تو بولو ابھی پیچھے ہٹ جاؤ گا ۔۔یہ میری سزا ہے اسے میں ایسے ہی دوں گا تمہیں۔۔

اور پھر وہ اس کی زات کو خود میں مشغول کرتا چلا گیا ۔۔۔۔۔اپنے چہرے پر درید کی محبت بھری پھوار وہ ہر سیکنڈ بڑھتی محسوس کر سکتی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ ناشتے کی میز پر آیا تو اسی بچے کو ربائشہ کے ساتھ بیٹھے دیکھ اس کا موڈ بدلا۔

ربائشہ نے اسے گھور اور اس کی پلیٹ تیار کرتی اسے پکڑانے لگی۔

حازق کو بھوک لگی ہے۔۔۔

وہ ابھی فیڈر پی کر دوبارہ سویا ہے انگوٹھے والی عادت اس کی نہیں جا رہی۔

عاشہ۔۔۔۔جوس تو دو ۔۔۔

درید نے اسے گھور کر دیکھا بدلے میں ربائشہ کا قہقہہ گونجا۔

بیٹا یہ آپ سے بڑی ہیں۔۔۔عاشہ نہیں آپی کہو۔۔

نہیں! یہ میری عاشہ ہیں۔۔۔۔وہ کافی ضدی معلوم ہوتا تھا۔

عاشہ تھینک یو۔۔۔۔کھانے پر بھی آؤں گا جوس تب بھی پیوں گا۔۔۔۔۔وہ کہتا کھڑا ہوا۔

ہاں اب ہمارے گھر کا آدھا راشن تو یہ کھا جائے گا وہ بڑبڑایا۔

عاشہ۔۔۔اپنی کِسی تو لے لو۔۔۔وہ اسے جھکنے کا کہہ رہا تھا۔

رابی ڈونٹ۔۔۔۔۔درید نے تنبیہ کی۔۔۔ربائشہ نے دونوں کو دیکھا کہاں پھنس گئی تھی وہ

کھانے پر آؤں گے نا تب دے دینا یہ انکل نہیں ہوں گے تب۔۔۔۔اس نے جھک کر اس کے کان میں کہا جو درید نے باخوبی سنا تھا۔۔۔

وہ بھاگ گیا تو ربائشہ نے اسے دیکھا جو اسے گھورتا پاگل ہو رہا تھا۔

ہاہاہا۔۔۔۔وہ ایک بار پھر کھلکھا کر ہنسی۔۔۔درید نے آج ہی اس کا صدقہ دینے کا سوچا۔۔۔۔

کس بات کی ہنسی آرہی ہے اتنی؟

بس دیکھ رہی ہوں یہ مرد جو ٹین ایجرز نہیں ہے لیکن ان کی طرح حرکتیں کرتا ایک بچے سے جل رہا ہے۔

ہاہاہا۔۔ویری فنی۔۔۔جا رہا ہوں میں۔

وہ سامان لے کر دروازے تک پہنچا۔۔۔۔لیکن وہ اندر کمرے میں ہی رہی۔

ربائشہ۔۔۔۔

رابی۔۔۔۔

بیوی۔۔۔۔۔

کیاہوا گیا ہے ۔؟ وہ دوڑ کر اس کی طرف آئی۔

میری کِسی بھی دو اب؟ کیونکہ میں کھانے پر نہیں آؤں گا۔۔۔۔

افففف۔۔۔۔اس لیے بلایا ہے اندر آپ کا نواب زادہ اٹھ گیا ہے۔۔۔۔اب رو رو کر گلہ سکھا لے گا۔

ہاں تو دو میری مارننگ کِس اور جاؤ۔۔۔

خدا حافظ! وہ کہتی جانے لگی جب وہ اسے کھنچ کر اس کے گال پر بوسہ دیتا پیچھے ہٹا۔

خدا حافظ! وہ کہتا نکل گیا تو ربائشہ مسکراتی دروازہ بند کرتی اندر چلی گئی۔

یہی زندگی تھی جس کا خواب اس نے سالوں سے دیکھا تھا وہ خوش تھی بے حد۔۔۔۔

شکریہ اس زندگی کا میرے رب!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس کے ہاتھوں کی انگلیوں میں اپنی انگلیاں پھنسائی اور اسے دیکھا۔

کیا چاہ رہی ہو؟

کچھ نہیں!

میری طرف دیکھ کر بات کیا کرو! یہ میں آج آخری بار سمجھا رہا ہوں تمہیں۔

مجھ پر زیادہ رعب مت ڈالا کریں۔۔چوبیس گھنٹے مجھ پر غصہ کرتے ہیں آپ۔

اچھا! کب کیا ہے میں نے تم پر غصہ مجھے تو یاد نہیں پڑتا اور رعب تم ڈالتی ہو میری کیا مجال وہ ہاتھ کھڑا کرتا بری الزمہ ہوا۔

آپ مجھے بالکل پسند نہ۔۔۔

ابھی وہ بات مکمل کرتی کہ وہ اسے پھر سے خود پر جھکا گیا۔

دوبارہ یہ میں تمہارے منہ سے نا سنوں۔۔۔ہر بار معاف نہیں کروں گا میں وہ سختی سے کہنے لگا۔

اففف۔۔۔۔۔منت نے چہرے سے بال ہٹاتے اسے گھورا۔۔۔۔رات تک وہ اسے دیکھ کر سو گیا تھا اور اب اس کی جان نہیں بخش رہا تھا۔

جانا نہیں ہے آپ نے؟

نہیں! آج نہیں جا رہا ۔۔اور یہ کیا حلیہ بنایا ہے کل کی طرح تیار رہا کرو اس کے بال کال کے پیچھے اڑستے وہ بولا تو منت نے سر ہلایا۔

منت نے اس کے سینے پر سر رکھا تو وہ اسے حصار میں لے گیا۔

بولو میں سن رہا ہوں۔۔۔وہ جانتا تھا وہ اس سے بہت سی باتیں کرنا چاہتی ہے اسی لیے سب چھوڑ کر آج وہ اسے وقت دینے کا سوچ چکا تھا۔

آپ مجھ پر دھیان کیوں نہیں دیتے اب؟ وہ لہجے میں حسرت لیے بولی۔

تم کب کیا کھا رہی ہو؟ کیا کر رہی ہو دن میں کتنی بار کپڑے بدلتی ہو کتنی بار جوس پیتی ہو دوا کھائی یا نہیں کھائی سب جانتا ہوں اور تمہیں لگتا ہے میں تم پر دھیان نہیں دے رہا اسے تو صدمہ ہی لگا تھا یہ شکوہ سن کر۔

نہیں! آپ میری طرف دیکھا کریں مجھے سنا کریں بس! وہ اس کی بیرڈ پر ہاتھ رکھتی شدت سے بولی۔

تمہاری ہی سنتا ہوں زندگی کیا ہو گیا ہے؟

میں آپ سے ناراض ہوں۔۔۔ بلآخر اس نے بتایا۔

اور میں بھی۔۔۔

آپ مجھ سے ناراض نہیں ہو سکتے۔۔۔۔مردوں پر یہ کام اچھے نہیں لگتے صرف میں آپ سے ناراض ہوں گی اور آپ مجھے منائیں گے ہر بار۔

اوکے اوکے ۔۔۔جو حکم اور کچھ۔۔۔ اسے سامنے کرتے اس کے گالوں پر ہاتھ پھیرنے لگا جہاں سے زخم اب ختم ہو گئے تھے بس ہلکے نشان تھے۔

وہ لڑکی اب پھر سے تو نہیں آئے گی نا؟

ہاں بس تمہارے شوہر کو شادی کے پروپوزل ملے ہیں دو۔۔۔ایک تاشہ کی طرف سے اور دوسرا سارا کی طرف سے تو ایسا کرو کہ ان دونوں کو دیکھو اور ایک کو چُن لو تمہارا کام بھی آسان ہو جائے گا اور ابھی ایک ہی شادی افورڑ کر پاؤں گا تمہارے خرچے ہی بڑے ہیں پھر اس کے بھی ہو جائیں گے تیسری کا پھر کبھی۔۔

منت جو اسے سن رہی تھی فوراً اٹھی اور دور کھڑی ہوئی۔

میں سہی کہتی ہوں آئی ہیٹ یو۔۔۔۔تم جاؤ شادی کرو ایک نہیں دو تین کرو۔۔۔میں تمہیں کبھی نہیں ملوں گی وہ اپنی بات پر زور دیتی بولی۔

تبریز شاہ فوراً کھڑا ہوتا اس کے پاس گیا جو اندر کمرے میں چلی گئی تھی اس کے پیچھے ۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ بند کر کے لاک کرتی وہ اندر آتا اسے لے کر بیڈ پر گرا۔

اب وہ نیچے اور منت اوپر تھی۔

تبریز شاہ نے اسے ساتھ لٹایا اور اس کی طرف رخ موڑتا اسے دیکھنے لگا۔

شکریہ میری زندگی کو مکمل کرنے کا۔۔۔۔بہترین تحفے سے نوازنے کا۔۔۔اس کے ماتھے پر بوسہ دیتا وہ اسے معتبر کر گیا۔

منت نے اسے دیکھا جو آنکھوں میں ٹھاٹھے مارتا سمندر لیے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔

آپ خوش ہیں؟

بہت خوش! خوش لفظ بھی چھوٹا ہے زندگی اس پر جھکتے وہ اس کی خوشبو کو محسوس کرنے لگا۔

آپ نے مجھے نظرانداز کیا تھا پانچ دن مجھ سے بات نہیں کی میری طرف نہیں دیکھا۔

میں معافی مانگتا ہوں وہ کہتا اس کے چہرے پر جھکا اور اپنا لمس بکھیرنے لگا اس کے چہرے پر محبت کی بارشیں کرنے لگا۔

شاہ۔۔

ہمممم ۔۔

“میں نے زندگی میں صرف ایک ہی شخص کو چاہا اور بے پناہ چاہا ہے مجھے لگتا ہے اگر کوئی آپ کی مسکراہٹ اور آپ کی خاطر مجھ سے جان بھی مانگ لے تو مجھے فرق نہیں پڑے گا،میرے دل، میری روح پر آپ طاری ہیں مجھے اس دنیا میں آپ کے علاؤہ کچھ نہیں سوجتا۔۔۔میں نے ساری زندگی صرف اپنے لیے ایک دعا مانگی ہے ایک بہترین شخص کی اور وہ قبول ہو گئی مجھے آپ دیے گئے۔۔۔۔میں جب بھی سجدے میں جھکتی ہوں میرا دل مطمئن رہتا ہے مجھے رب العالمین سے ہر روز اور محبت ہو جاتی ہے جب میں ان نعمتوں کو دیکھتی ہوں جو اس نے آپ کی صورت میں مجھے دی ہیں۔۔۔مجھے لگتا ہے رب نے سب سے خوبصورت قسمت میری لکھی ہے آپ کو مجھے دے کر”

تبریز شاہ سانس روکے اس کے لفظ سن رہا تھا جو اسے معتبر کر گئے تھے وہ عموماً لفظوں کا سہارا نہیں لیا کرتی تھی لیکن آج وہ ظاہر کر گئی تھی کہ تبریز شاہ اس کے لیے کیا معنی رکھتا ہے۔

زندگی! تبریز شاہ نے اس کے بالوں کو چومتے اس کی آنکھیں چومی۔