Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shiddat-e-Talab Episode 11 (Part 2)

Shiddat-e-Talab by Suneha Rauf

باخدا آپ دور ہوئیں تو اب کی بار اپنا اچھا کھاسا نقصان کر بیٹھوں گا اس نے کہا تو وہ تھمی۔

وہ کیوں بے بس ہو رہی تھی اس کے سامنے ۔۔۔۔۔وہ دور ہوئی اور اس سے فاضلہ بنا کر لیٹ گئی۔۔۔۔۔

وہ بالکل کنارے پر فارمییلیٹی میں لیٹی تھی۔۔۔۔وہ نہیں جانتی تھی کہ صحیح کر رہی ہے یا غلط لیکن اس وقت وہ تھک چکی تھی۔

نیند میں جاتے اس نے خود کو اس کے حصار میں محسوس کیا تھا۔

صبح اس نے آنکھیں کھولیں تو وہ اس کے بے حد قریب تھی۔۔۔۔یہ اس کے شوہر کا پہلا لمس تھا جو اس نے دل سے محسوس کیا تھا۔

ماضی یاد آتے ہی وہ جھٹکے سے اٹھی تھی اس کے ایسا کرتے وہ کراہا تھا۔۔۔۔۔

میں معافی چاہتی ہوں۔۔۔۔۔۔وہ واپس پیچھے ہو کر لیٹی۔۔۔۔۔۔۔وہ سب بھولنا بھی چاہتی اور نہیں۔۔۔۔

کمرے کے خوابناک ماحول میں اس نے گہری سانس بھری۔۔۔۔۔

روبی۔۔۔۔۔۔اس نے سرگوشی کے سے انداز میں کہا تو اس کا دل تھما۔

مجھے واپس جانا ہے۔۔۔۔یہ سب ۔۔۔۔۔اس نے کچھ کہنا چاہا۔۔۔۔۔۔۔

ربائشہ درید یزدانی یہ وقت میرا ہے۔۔۔۔۔اس وقت کا پچھلے ایک سال سے انتظار کیا ہے میں نے۔۔۔۔۔۔۔اس ایک سال میں کتنا ڈھونڈا ہے میں نے تمہیں۔۔۔۔تمہیں اندازہ نہیں۔۔۔۔

کیوں۔۔۔۔۔؟اچانک مجھے ڈھونڈنے کی کیا پر گئی۔۔۔میں تو آپ کا دیا ایک پیسہ نہیں لائی تھی جو آپ۔واپسی۔۔۔۔

اس کی قمر پر گرفت سخت ہوئی تو اس نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا جس کے چہرے کے تاثرات جامد ہوئے تھے۔

اس پر بات کریں گے۔۔۔۔۔لیکن اس دن جس دن مجھے لگے گا کہ اب سہی وقت ہے۔۔۔۔۔

کیوں ۔۔۔۔۔؟کیا تب تک ہمت اکٹھی کر رہے ہو اپنے گناہ کو ماننے میں۔۔۔۔۔۔

روبی اتنا ہی بولو جتنا سہہ سکوں گی آخر میں اس نے گرفت کچھ اور سخت کرتے کہا لیکن مجال ہے جو اس لڑکی کے منہ سے سسکی بھی نکلی ہو۔

یہ پکڑ اس پکڑ کے سامنے کچھ بھی نہیں درید یزدانی جو ایک سال پہلے میں نے بیہوش ہونے سے پہلے اپنے وجود میں محسوس۔۔۔۔۔۔

اس سے پہلے کہ وہ بات ہوتی کرتی وہ اس کی بات وہ اپنے طریقے سے روک چکا تھا۔۔۔۔۔ان دونوں کے دل بے ہنگم انداز میں شور برپا کیے ہوئے تھے۔

وہ ہٹا تو بھی اس نے نظریں نہیں اٹھائیں تھیں۔۔۔۔میں بول چکا ہوں ربائشہ درید یزدانی کہ ایک دن۔۔۔۔جس دن سچ میں مجھے لگے گا کہ اب حقیقت بتانی ہے۔۔۔۔

کیسی حقیقت۔۔۔۔۔؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کل وہ شرافت سے اس کے آفس آ گئی تھی۔۔۔۔۔۔اس کا وہ روپ دوبارہ نہیں دیکھنا چاہتی تھی منت وقار۔

تم نے آج سر شاہ کو دیکھا ہے۔۔؟

وہ وہاں سے گزرتی کہ سامنے موجود دو لڑکیوں کی آواز سنتے اس کے قدم ٹھٹکے۔۔۔

ہاں اور بلیک میں تو وہ کیا لگتے ہیں۔۔۔۔۔۔مائی فیورٹ کلر۔۔۔۔۔۔دوسری نے کہتے آہ بھری۔۔۔۔۔

میں کوشش کر رہی ہوں ہو سکتا ہے موقع مل جائے ساری زندگی کا نہیں کچھ لمحوں کا ہی سہی۔۔۔پہلی والی نے کہتے لوفرانہ انداز میں دوسری کو آنکھ ماری۔

منت کو دل میں کچھ ٹوٹتا محسوس ہوا۔۔۔۔وہ اپنے آپ کو دیکھتی ناجانے کیوں احساس کمتری کا شکار ہوئی تھی۔۔۔۔

وہ جانتی تھی کہ تبریز شاہ مردانہ وجاہت کا وہ شاہکار ہے جسے ہر کوئی چاہتا اور سراہتا ہے۔۔۔۔۔وہ حسین تھی بیشک لیکن شاید تبریز شاہ کے معیار کی نہیں۔۔۔۔۔

یہ حقیقت مانتے اس کی آنکھیں نم ہوئیں۔۔۔۔۔۔اس نے شکست زدہ قدم اس کے کیبن کی طرف بڑھائے۔

لیکن وہاں پہنچ کر اسے اندازہ ہوا کہ وہ دس منٹ لیٹ ہو چکی ہے اور میٹنگ سٹارٹ ہو گئی جے۔

وہ اندر آئی تو تبریز شاہ نے اس پر نگاہ تک نہ ڈالی اس کا سارا دھیان سامنے لگے پروجیکٹر پر چلتی سلائیڈ پر تھا۔

شاید وہ محسوس نہ کرتی لیکن اس گفتگو سننے کے بعد اس کے دل نے یہ شدت سے محسوس کیا تھا۔

پورے حال کی صرف اسی کے ساتھ والی سیٹ خالی تھی۔۔۔۔۔ظاہر سی بات ہے کمپنی کے اونر کے ساتھ بیٹھے گا بھی کوئی امپلوئے کیوں۔۔۔۔۔

وہ خاموشی سے جا کر بیٹھ گئی۔۔۔۔۔ابھی دس منٹ ہوئے تھے کہ اس کا دھیان اپنے ساتھ والی کرسی کے ہینڈل پر گیا جہاں اس کے ساتھ تبریز نے ہاتھ رکھا تھا بے دھیانی میں۔

اس نے اس کے ہاتھ کا اور اپنے ہاتھ کا موازنہ کیا اور جھٹ سے اپنا ہاتھ وہاں سے ہٹا لیا۔۔۔۔وہ سچ میں اس کے مقابلے کی نہیں۔۔۔۔۔

اس نے میٹنگ کا کوئی بھی پوائینٹ نوٹ نہیں کیا تھا کیونکہ اس کا دھیان ہی نہیں تھا۔۔۔۔

سب اٹھ کر چلے گئے تھے۔۔۔۔تبریز شاہ بھی اٹھتا اپنے مینیجر سے بات کر رہا تھا۔۔۔۔

منت کے مینیجر نے اسے دیکھتے اپنے قدم اس کی طرف بڑھائے۔۔۔اور اسے آج کے پوائینٹس بتانے لگا جسے وہ بے دھیانی میں سنتی رہی۔

اوکے میم۔۔۔۔؟ اس نے ناجانے کیا کہتے اپروول مانگا تھا۔۔۔۔

ہمممم۔۔۔۔۔۔اس نے کہتے اپنی چیزیں سمیٹی۔۔۔

بائے دا وے میم یو لوک بیوٹیفل ٹوڈے۔۔۔۔۔اس کے مینیجر نے کہا تو وہ ہلکا سا مسکرائی۔۔

نظریں دو قدم دور کھڑے شخص پر گئی جو نظروں میں جلا کر بھسم کر دینے کا تاثر لیے اسے ہی گھور رہا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ صبح اس کے جاگنے کے بعد اٹھی تھی۔۔۔۔وہ جا چکا تھا۔۔۔۔۔وہ کسملندی سے وہیں پڑی رہی۔

دس بجے اس نے اٹھ کر کمرے کو سمیٹا اور باہر نکلی۔۔۔۔کچن میں جا کر اپنے لیے ناشتہ بنایا۔۔۔۔کچن کے صاف ہونے سے اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ بھوکے پیٹ گیا ہے۔

لیکن اسے تو انڈا بریڈ کے علاؤہ کچھ نہیں بنانا آتا تھا۔۔۔۔۔اس کا دل چاہا تھا وہ اس کے لیے کھانا بنائے لیکن۔۔۔۔۔۔

خانساماں بھی آج نہیں آئی تھی کیوں اسے نہیں معلوم تھا۔۔۔۔شاید اس نے اپنے نا آنے کا باسط کو بتایا ہو۔۔۔

اس نے فوراً سے یوٹیوب کھولی اور نت نئی ریسیپیز کو دیکھتے دیکھتے ہی اس نے دو بجا دیے۔۔۔۔

وہ گھر آ جاتا اور اسے بھوک لگی ہوتی تو۔۔۔۔اسے پہلی بار افسوس ہوا کہ اسے کچھ بنانا کیوں نہیں آتا۔۔۔

اپنے گھر میں اسے نا کسی نے کہا تھا اور نہ ایسی کوئی سوچ اس کے دماغ میں آئی تھی۔

اب بھی اس نے فریزر سے چکن نکالا ۔۔۔۔وہ اپنا فیورٹ اچار گوشت بنانا چاہتی تھی۔

گوشت کو دھوتے اس نے منہ کے طرح طرح کے ڈیزائین بنائے تھے اور بلآخر وہ کامیاب ہو ہی گئی تھی۔

اس نے جیسے تیسے کر کے بنا لیا تھا۔۔۔۔اپنے لیے اس نے ساتھ میں فرائیڈ بھی بنائی تھی کیونکہ اس کا کھانے کو اچانک من ہوا تھا ۔۔رباب اور اس کی کریونگز۔۔۔۔

اس نے گھڑی دیکھتے بے چینی سے اس کا انتظار کیا جو شام کے چار بجا رہی تھی۔۔۔۔

اس نے ایک نظر بکھرے کچن کو دیکھا اور ایک نظر اپنے کپڑوں کو۔۔۔۔دونوں کے ہی حالات بُرے تھے۔

لیکن کافی تھکاوٹ ہو گئی تھی اس لیے کچن کو صاف نہ کیا اور شاور لینے چلی گئی۔

شاور لے کر اس نے سفید رنگ کا سٹریٹ کرتا اور ساتھ کیپری پہنی تھی۔۔

اف اس کا دوپٹہ تو ہے ہی نہیں۔۔۔۔پہننے کے بعد الماری میں اس سوٹ کا دوپٹہ نا ملنے پر اسے یاد آیا۔

ابھی وہ کچھ اور سوچتی کے فون پر بجنے والی رنگ ٹون نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا۔

فادی کا نمبر دیکھتے اس نے جھٹ سے فون اٹھایا اور وہیں بیٹھ گئی۔

وہ جو اسے سارے گھر میں ڈھونڈتے آیا تھا کچن کی حالت اور چولہے پر رکھے کھانے کو دیکھتے اس نے گہری سانس بھری۔

تو آج اس کی بیوی نے دن بھر محنت کی تھی۔۔۔۔ظاہر سی بات ہے اس کے لیے۔۔۔۔اس تھکاوٹ سے بھرے دن کے بعد اس بات کا اچھا تاثر پڑا تھا اس پر۔۔۔۔

اب رہنے بھی دو فادی تم۔۔۔۔۔۔اس نے کمرے کی طرف قدم بڑھائے لیکن اسے باہر سے ہی اس کی آواز سنائی دی اس کے قدم پل میں تھمے۔

تم اسے جتنا بھی معصوم کہہ لو مجھے پتا ہے تمہیں زیادہ معصوم اور پیاری اور بھولی اور کیوٹ میں ہی لگتی ہوں۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بتائیں مجھے سب جاننا ہے۔۔۔۔۔سب کیوں ہوا۔۔۔۔میرے ساتھ کیا ہوا تھا۔۔۔۔؟کیا آپ نے سچ میں۔۔۔۔میری قیمت کیوں لگائی گئی۔۔۔۔سب جاننا ہے ۔۔۔۔پچھکے ایک سال سے ہر لمحے میں نے خود کی زات میں ان سوالوں کے جواب تلاشے ہیں اور ہر لمحے میرے حصے میں بے چینی مزید در آئی ہے۔۔۔۔۔کہتے اس کی ہچکیاں بندھ گئیں۔

درید یزدانی نے اس کی قمر کو سہلاتے اس ساتھ لگایا۔۔۔۔۔۔۔۔اور ناجانے کتنے ہی لمحے وہ ایسے ہی روتی رہی تھی۔

اگر میں کہوں اس رات سے لے کر تم اب تک محفوظ اور بالکل پاک ہو تو۔۔۔۔۔۔۔

تو میں آپ کی بات پر یقین کر لوں گی اس نے کہتے سر اس کے سینے پر رکھا۔۔۔۔۔ایک سال کافی تھا ان سب درد اور تکلیف کو برداشت کرنے کے لیے۔

اس کے شوہر نے اس کی پاکی کی گواہی دے دی تھی اور کیا چاہیے تھا۔۔۔۔۔

درید نے اس کے کندھے پر لب رکھے تو اس نے آخری سسکی بھری ۔۔۔۔

اس کے بالوں پر لب رکھتے اس نے اس نے چہرے کے ہر حصے کو چھوا تھا۔۔۔۔پیار سے عقیدت سے۔۔۔۔۔

اس کی قربت میں آتے ربائشہ سب بھول گئی تھی۔۔۔۔۔۔بھول گئی تھی کہ زندگی ابھی مزید زخم دینے والی ہے۔

درید ۔۔۔۔۔۔۔اس کے لبوں سے اپنا نام پہلی بار سنتے وہ تھما تھا۔

ہم۔۔۔۔۔

کیا آپ پھر سے چلے جائیں گیں۔۔۔۔۔

یقین کر کے دیکھ لیں۔۔۔۔۔۔اس نے کہتے اس پر اپنا حصار تنگ کیا تھا۔۔۔۔۔۔۔اور اسے نزدیک سے نزدیک تر کیا تھا۔۔۔۔

اپنے اور اس کے درمیان کے ہر ہر فاصلے کو اس نے محبت سے سمیٹا تھا۔۔۔۔ایسے جیسے وہ کوئی مومی گڑیا ہو جو سختی سے ٹوٹ جائے گی۔

ربائشہ کے لیے اس کا ہر لمس اس بات کا گواہ تھا کہ وہ کتنا تڑپا تھا اس کے لیے۔

صبح ان کی پرسکون تھی۔۔۔۔وہ اس کے کہنے پر اسے چھوڑ آیا تھا۔۔۔۔۔۔وہ سب سوچ بیٹھا تھا وہ اسے واپس لے جاتا۔۔۔۔۔

لیکن شام میں آنے والے فون سے اسے اپنی دنیا ہلتی نظر آئی۔۔۔۔۔۔اس کا باپ آئی سی یو میں تھا اور وہ یہاں۔۔۔۔

وہ بنا کسی کو بتائے بھاگا تھا وہاں سے۔۔۔۔۔۔یہاں آ کر وہ پھر سے مصروف ہوا تھا ۔۔۔۔

دو تین دن ربائشہ نے اس کا انتظار کیا تھا اور پھر اسے لگا زندگی واپس اسی ڈگر پر چل نکلی ہے۔۔۔۔

اس کے فلیٹ بھی گئی تھی جو اس کے سامان کے ساتھ پڑا تھا۔۔۔۔کوئی گارڑ بھی نہیں تھا۔۔۔۔وہ وہیں چیخ کر رو ری۔۔۔۔۔

اس نے کہا تھا یقین کر کے دیکھ لیں۔۔۔وہ۔اس کا مان اور بھروسہ توڑ گیا تھا۔

وہ ایک بار پھر اسے دھوکا دے گیا تھا۔۔۔۔۔۔اس نے وہیں پیٹھتے حلق کے بل اس سے اپنی نفرت کا اظہار کیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا وہ صرف اسے پانا چاہتا تھا۔۔۔۔۔اسے اپنی بے قدری پر مزید رونا آیا۔۔۔۔۔۔

ایک اور بار نہیں درید یزدانی۔۔۔۔۔۔۔اب میں خود کو بے مول نہیں کروں گی۔۔۔۔میرا دل کہتا ہے تم واپس آؤ گے لیکن اب کی بار میں تمہیں نہیں ملوں گی۔۔۔۔۔تمہاری سزا یہی ہے کہ میں تم سے دور ہو جاؤں ۔۔۔۔۔لیکن میں جانتی ہوں تم مجھے پھر سے ڈھونڈ لو گے۔۔۔۔۔

وہ کہتے اٹھی اور وہاں سے نکلتی چلی گئی۔۔۔۔۔۔اس نے سکول جہاں وہ رہا کرتی تھی وہاں سے اپنا ٹرانسفر اسی کے شہر کروایا۔۔۔کہ اپنے شہر وہ اسے جلدی نہ ڈھونڈ پاتا اور وہاں چلی گئی۔

منت نے کافی ضد کی تھی اسی لیے اسے بھی ساتھ لے آئی وہ۔۔۔۔۔۔اب تو اب منت کا دکھ بھی اپنے جیسا لگتا تھا۔

ہفتے بعد درید واپس گیا تھا اور اسے پاگلوں کی طرح ڈھونڈا تھا لیکن ناکام رہا تھا۔

اس کے سکول جاتے وہاں سے پتا کرنا چاہا تھا لیکن انہوں نے بتانے سے منع کر دیا تھا کہ وہ خود منع کر کے گئی تھی۔

درید کو اس پر حد سے زیادہ غصہ تھا وہ پھر سے بدگمان ہو گئی تھی۔۔۔۔اب کی بار اسے کیسے مناتا۔۔۔۔جب وہ کچھ سہی کرنے کی نیت سے نکلتا تھا سب خراب ہو جاتا تھا۔

رباب کی شادی سے فارغ ہو کر وہ اس سے ملنے کا فیصلہ کر چکا تھا۔۔۔۔کیونکہ ایک مہینے کے اندر اندر وہ اسے ڈھونڈ چکا تھا۔

لیکن اب کی بار وہ چاہتا تھا کچھ بڑا نہ ہو۔۔۔۔۔۔۔لیکن اپنے باپ کی خراب طبیعت کا صدمہ اسے کافی دیر تک کچھ کرنے سے روک گیا تھا۔

رباب بھی یہاں نہیں تھی۔۔۔۔کوئی اس کے پاس نہ اتھا۔۔۔۔۔اور پھر وہ چار مہینوں بعد اس کو پھر سے زبردستی اپنے ساتھ لایا تھا۔

اسے وہ لڑکی چاہیے تھی۔۔۔۔اسے وہ چاہیے تھا یا نہیں اسے فرق نہیں پڑتا تھا۔۔۔۔۔اسے سکوں چاہیے تھے جو اس کے نزدیک صرف اسی عورت میں تھا۔

(امید ہے اب سب کی کنفیوژن دور ہو گئی ہو گی درید اور ربائشہ کو لے کر یہ ان کے ابھی ملنے سے چار مہینے پہلے کی ملاقات تھی جب وہ ایک سال بعد ملے تھے اور منت کی کہانی ان چار مہینوں بعد ہی شروع ہوئی تھی اسی شہر واپس آ کر۔۔۔۔یہ کنفیوژن مت پال لیجیے گا۔۔۔۔۔ان کی کہانی چلانی تھی اس لیے پہلے ہی شروع کر دی)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ اب واپس جانے کا ارادہ رکھتی تھی اس لیے نکل گئی۔۔۔۔۔وہ آج صرف اس میٹنگ کے لیے آئی تھی جو اس نے سنی تک نہیں تھی۔

تبریز شاہ اپنے کمرے میں آ چکا تھا۔۔۔۔۔اسے لگا تھا وہ کچھ نہ کچھ ڈسکس کرنے ضرور آئے گی۔۔۔۔لیکن کھڑکی سے نیچے کا منظر دیکھا جہاں وہ جانے کی تیاریوں میں تھی۔۔۔۔۔

دیوار پر ہاتھ مارتے اس نے نمبر ملایا ۔۔۔۔۔نظریں اسی پر ٹکائے رکھیں۔

دو منٹ میں واپس مجھے میرے کیبن میں ملو مس منت ۔۔۔۔۔نہیں تو تمہارے آفس آ کر تفصیلی ملاقات سے تم بھی مجھے روک نہیں پاؤ گی سرد انداز میں کہتے فون رکھا۔

منت نے گہری سانس بھری اور پھر وہ دو منٹ میں اس کے کمرے کے باہر کھڑی تھی۔۔۔۔کہ کہیں وہ اپنی بات پوری نہ کر لیتا۔۔۔۔

اس بار اس نے اجازت مانگی تھی۔۔۔۔۔۔اور اندر داخل ہوئی جہاں وہ جبڑے بھینچے۔۔۔۔پیپرویٹ گھماتا اسے ہی سرخ نگاہوں سے گھور رہا تھا۔

آج تو اس نے ایسا کچھ نہ کیا تھا۔۔۔۔۔تو پھر سامنے موجود شخص کیوں اسے ایسے گھور رہا تھا۔۔۔۔اس نے حلق تر کیا۔

یہاں آؤ۔۔۔۔۔اس نے کہا تو وہ وہیں کھڑی اسے دیکھتی رہی۔۔۔۔

سنائی دے رہا ہے تمہیں۔۔۔۔۔۔اس نے اپنے سامنے پڑی چیزیں جھٹکے سے نیچے پھینکی تو اس کی ٹانگیں کانپی۔۔۔۔

چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اس کے پاس آئی۔۔۔۔۔

بیٹھو۔۔۔۔۔اس نے کہتے اسے دیکھا جو آنکھیں جھکائے اس کے بالکل پاس کھڑی تھی۔

اس کے کہنے پر منت نے دیکھا۔۔۔۔کرسی تو میز کے دوسری طرف رکھی تھی تو کہاں بیٹھنے کو اسے کہہ رہا تھا ۔۔۔۔

آئی سیڈ سٹ۔۔۔۔۔ہر بات کو تمہارے لیے دو بار کیوں دہرانا پڑتا ہے مجھے منت تبریز شاہ۔۔۔۔۔وہ جب چاہتا تھا اس کے نام کے آگے اپنا نام لگاتا تھا جب چاہتا تھا اسے منت وقار بنا دیتا تھا۔

میں۔۔۔کہ۔۔۔کہاں۔۔۔۔اس نے انگلیاں چٹکاتے کہا۔۔۔۔

اس شخص کی نگاہوں سے اسے اتنا ڈر کیوں لگتا تھا۔۔۔۔

تبریز شاہ نے کہتے اسے جھٹکے سے اپنی گود میں بٹھایا۔۔۔۔۔اس کا وزن نا ہونے کے برابر ہی تھا۔۔۔

تبریز شاہ نے اس پر گہری نگاہ ڈالی جو آسمانی رنگ کے جوڑے میں اس وقت کوئی معصوم پری ہی لگ رہی تھی۔

زہن میں فوراً اس کے مینیجر کے تعریفی جملے آئے تو اس کا جبڑا پکڑ کر منہ اپنی طرف کیا۔۔۔۔

بہت شوق ہے۔۔۔۔لوگوں سے تعریف وصولنے کا تو مجھے کہو ۔۔۔۔۔۔میں ایک ہی بار میں تمہارے حسن کو خراجِ تحسین پیش کر دیتا ہوں اس کے آنکھوں میں اپنی آنکھیں گاڑتے وہ غرایا۔۔۔۔

شاہ۔۔۔درد۔۔۔ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔

اچھا تم بھی آشنا ہو اس جزبے سے ۔۔۔۔اس نے تمسخر اڑاتے انداز میں کہا تو منت کی آنکھیں نم ہوئیں۔۔۔۔جس جزبے کے ساتھ اس نے زندگی گزار دی وہ شخص پوچھ رہا تھا کہ اسے یہ بیماری لاحق ہے۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نے دروازے پر کھڑے اسے دیکھا جس کا رخ دوسری سمت تھا ۔۔۔۔فون اسپیکر پر تھا اور وہ اپنے کپڑوں کی تہہ لگاتی مصروف تھی۔

نم بال قمر پر بکھرے تھے۔۔۔۔۔وہ جو اس کو دیکھ رہا تھا اس کی کھنکتی ہنسی سے ہوش میں آیا۔

جی ہاں میڈم! مجھ معصوم نے مان لیا کہ رباب یزدانی ہی اس دنیا کی سب سے کیوٹ،حسین اور معصوم لڑکی ہیں۔۔۔۔۔۔دوسری طرف سے آواز گونجی۔۔۔۔

ہائے کیا کروں تم موقع ہی نہیں دیتی تمہارے گھر آ کر بات کرنے کا۔۔۔۔۔وہ بولا۔

کیا مطلب۔۔۔۔۔ اکثر فاحد رفیق حسن کی باتیں اس کے سر سے ایسے ہی گزر جایا کرتی تھی۔

تمہیں مانگنے۔۔۔۔۔۔

باسط ضیاء جو کب سے خود پر پل باندھے کھڑا تھا آگے بڑھا اور اس کا فون اٹھا کر سامنے دیوار پر دے مارا۔

وہ اس اچانک افتاد پر پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔۔جو قدم بڑھاتا اس کی طرف آیا۔

با۔۔۔باسط۔۔۔۔۔اس کی سرخ آنکھوں کو دیکھتے اس کا دل لرزا۔۔۔۔

وہ اس کا ہاتھ تھامتا اسے باہر لایا اور کچن میں موجود دوسرے دروازے کو کھولتے اسے باہر راہداری میں جھٹکے سے چھوڑا۔۔۔۔

باسط۔۔۔۔۔۔اس نے بے یقینی سے اسے دیکھا۔۔۔۔

جب دوسروں سے تعریفیں وصول کرنے اور دوستیاں بڑھانے کا بھوت اتر جائے گا تو بتا دینا۔۔۔۔اس نے دھاڑ سے کہتے دروازہ بند کیا جو جالی دار تھا۔

باسط ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔۔۔۔

اگر تم چاہتی ہو اس وقت غصے میں میں کچھ کر نا بیٹھوں تو آواز بند رکھنا رباب ضیاء۔۔۔۔

رباب شادی کے بعد آج پہلی بار اس کا پہلے والا غصہ دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔اس نے اندھیرا ہوتی راہداری کو دیکھا۔

یہ اس گھر کی باریک اور چھوٹی سے راہداری تھی جس کی دیوار پر صرف پودے لٹک رہے تھے۔

وہاں کی بتی بجھی تو اس نے چیخ کر باسط کو بلایا جو سامنے سے اسے جاتا دکھائی دیا جو کان لپیٹے چلا گیا تھا۔

باسط نے آتے شاور لیا۔۔۔۔وہ کتنی دیر ٹھنڈے پانی کے نیچے اپنے جلتے دل کو سکون پہنچانے کی کوشش کرتا رہا تھا لیکن ناکام رہا تھا۔

وہ کسی سے بھی بات کرتی لیکن اس شخص سے نہیں۔۔۔۔۔۔۔کیا وہ نہیں جانتا تھا کہ یونیورسٹی میں ان کا کپل کتنا مشہور تھا۔۔۔۔

آج اس شخص کے منہ سے اپنی بیوی جو عزت تھی اس کی۔۔۔۔اس کے منہ سے تعریفی جملے سن کر اسے اپنا آپ بے قابو ہوتا محسوس ہوا تھا۔

اس نے رباب کو وہاں بند کر کے اپنی نظروں سے دور کیا تھا۔۔۔۔کیا وہ بیوقوف تھی یا جان کر کر رہی تھی۔

کیا ایک مرد کی نظروں کی چمک نہیں پہچانتی تھی وہ۔۔۔۔۔کیا اس کے تعریفی جملات میں چھپی چنگاری کو وہ محسوس نہیں کر پائی تھی