Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shiddat-e-Talab Episode 22

Shiddat-e-Talab by Suneha Rauf

تھوڑی دیر میں وہ سو گیا تھا۔۔۔۔لیکن ربائشہ جاگ رہی تھی۔۔۔۔

اپنے بیٹے کے رونے کی آواز سن کر ایک نظر درید کو دیکھا جو سو گیا تھا۔۔۔

جلدی سے اٹھ کر حازق کو اٹھایا اور کمرے سے نکل گئی۔۔۔۔اسے سونے دینا چاہتی تھی وہ۔۔۔جانتی تھی کہ ان دنوں وہ کتنا مصروف رہا تھا، کتنی تھکاوٹ کا شکار تھا وہ۔

باہر جاتے اس نے اپنے بیٹے کو یہاں سے وہاں چکر لگاتے خاموش کروایا اور پہروں اسے دیکھتی رہی۔

جیسے وہ درید کو اس کے سونے کے بعد دیکھا کرتی تھی۔۔۔۔۔وہ ہو بہو اپنے باپ پر گیا تھا۔

اس نے مطمئن سانس چھوری۔۔۔۔وہ یقین رکھتی تھی کہ ہر رات کے بعد سویرا ضرور ہو گا۔۔۔

کوئی رات کسی انسان کی زندگی میں ایسی نہیں جس کے بعد وہ زات اسے سویرے سے روشناس نہ کروائے۔۔۔اور غم میں قدرت نے بہت لطف رکھا تھا۔۔۔اس نے بیشک بہت مشکل وقت دیکھا تھا لیکن آج وہ اپنی زندگی میں اپنے شوہر اور اپنے بیٹے کے ساتھ خوش اور مطمئن تھی۔

اس نے حازق کو سلاتے اندر جا کر اس کے کوٹ میں لٹایا۔۔۔۔۔اور واپس باہر آئی۔

وہ اپنے اندر کے واحد درد کو باہر نکالنا چاہتی تھی۔۔۔وہ اکثر راتوں کو یہ سوچتے نہ سو پاتی تھی کہ اس رات کون تھا وہاں۔

درید یزدانی کے لمس سے وہ اچھے سے واقف تھی اور اس گزشتہ سال میں اس نے یہ جان لیا تھا کہ اس رات کوئی اور تھا۔

وہ درید یزدانی ہو ہی نہیں سکتا تھا۔۔۔۔اسے بس اب سچ تک پہنچنا تھا۔۔۔وہ سچ جو درید چاہتا تھا وہ خود جانے۔

وہ دائیں طرف بنے کمرے میں گئی جو عموماً استعمال میں نہ آتا تھا۔۔۔۔جہاں وہ واقعہ پیش آیا تھا۔۔ جہاں اس نے وہ کپڑے جو اس رات اس نے زیب تن کیے تھے دیکھتے وہ چیخی تھی۔

اس نے وہ کپڑے دوبارہ نکالے اور زہن میں دہرانے لگی کہ اس رات کیا ہوا تھا۔

اس رات اسے یاد ہے جب درید رات کی ڈیوٹی پر تھا آدھی رات کو اسے اپنے کمرے میں ہل چل محسوس ہوئی تو وہ خوف سے جاگ گئی تھی۔

کون ہے؟

جواب نا ملتے وہ اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی لیکن مخالف نے اسے جھٹکے سے بیڈ پر دھکا دیا اور منہ پر اپنا بھاری ہاتھ رکھتے اس کی آواز کو دبایا تھا۔

پھر اس کے دونوں ہاتھوں کو اسی کے دوپٹے سے باندھتے وہ شخص مسلسل اسے گرفت میں لینا چاہ رہا تھا جو مچل رہی تھی۔

اس شخص نے اس کی قمیض کو چاک کرتے اس کے بازو پر اپنی حوس مٹائی تھی۔۔۔۔

وہ منہ سے آوازیں نکلالے سر دائیں بائیں مارتی بے حال تھی۔۔۔آواز اس شخص نے نکلنے نہیں دی تھی۔۔۔۔

آنسو زارو قطار نکل رہے تھے۔۔۔۔اس نے چکراتے سر سے آخری بار رب کو یاد کیا تھا اور پھر وہ ہوش و حواس سے بیگانہ ہو گئی کیونکہ وہ شخص اس کی مخصوص رگ دبا چکا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس کی قمر برے طریقے سے درد کر رہی تھی لیکن وہ کہہ نا پائی۔۔۔۔تبریز شاہ کب کا سو چکا تھا۔۔۔وہ نیند سے بند ہوتی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔

اسے یاد آیا کیسے وہ یونیورسٹی میں اسے زخم بھی خود دیتا تھا اور مسیحائی بھی خود کرتا تھا۔۔۔

اسے یاد آیا جب ان کا نکاح ہوا تھا۔۔۔۔نکاح کے ساتھ اسے اپنے باپ کی موت بھی یاد آتی تھی۔

ماضی:

بابا۔۔۔۔۔!!

وہ ہسپتال کے کوریڈور میں بیٹھی چیخ رہی تھی۔۔۔۔آنکھوں سے آنسو گر رہے تھے، بال بکھرے تھے۔

تبریز شاہ بھاگتا اس کی طرف گیا تھا۔۔۔جیسے ہی اسے پتا چلا تھا منت کے والد وقار پر جان لیوا حملہ ہوا ہے اور وہ اس وقت ہسپتال میں ہیں۔

منت۔۔۔۔! اسے جا کر اٹھایا۔۔۔۔وہ چاہتا تھا اس کے آنسو صاف کرنا لیکن وہ یہ حق نہ رکھتا تھا۔۔۔

جانتا تھا اس کے باپ کے علاؤہ کوئی نہیں ہے اس کا۔۔۔لیکن جہاں تک وہ مسٹر وقار کو جانتا تھا وہ تو کافی سلجھے ہوئے انسان تھے اپنے کام سے کام رکھنے والے، بنا کسی دشمنی کے۔

تو ان پر حملہ اور وہ بھی قاتلانہ کہ وہ اس حال میں تھے کہ ڈاکٹرز نے جواب دے دیا تھا۔

اس نے روتی تڑپتی منت کو دیکھا اور پھر دل میں پختہ فیصلہ کرتا اٹھا اور ڈاکٹر سے ملنے گیا۔

ان کے پاس بہت کم وقت بچا ہے۔۔۔ ایسا تھا کہ ان کا بچ پانا مشکل ہے گولی ان کے سینے میں لگی

ہے جو نکال تو لی گئی ہے لیکن ان کا ہارٹ فیل ہوگیا ہے۔

ہم آخری بار ان سے مل سکتے ہیں؟ تبریز شاہ نے ضبط سے آنکھیں بھینچتے استسفار کیا تو اسے اجازت مل گئی۔

منت کو اٹھاتا وہ اندر لے کر گیا جو اپنے باپ کو نیم مردہ حالت میں دیکھتے ساکت رہ گئی تھی۔

شاہ۔۔۔!

اس نے تبریز شاہ کے ہاتھ کو سختی سے تھام لیا تو تبریز شاہ نے اس کے ہاتھ پر اپنی پکڑ سخت کی جیسے خود سے وعدہ کر رہا ہو کہ وہ یہ ہاتھ کبھی چھوٹنے نا دے گا۔

وقار حسن نے بمشکل آنکھیں کھولیں اور اپنے سامنے ساکت کھڑی اپنی اکلوتی اولاد کو دیکھا تو آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر گرا۔

بے بسی ہی بے بسی تھی۔۔۔۔اپنا کانپتا ہاتھ اٹھا کر انہوں نے منت کو جیسے بلانا چاہا تھا منت نے پاس جاتے ان کا ہاتھ تھاما اور پھر برداشت کے سارے پل توڑتی رو پڑی۔

میر۔۔۔میری۔۔۔جا۔۔۔ن۔۔۔۔!

بابا۔۔۔۔۔۔بابا۔۔۔وہ ان کے ہاتھ چومتی دیوانی ہی معلوم ہوتی تھی، اس بیٹی کے درد کا اندازہ کوئی لگا سکتا ہے جس کا واحد خونی رشتہ اسکی آنکھوں کے سامنے یوں بےدردی سے مار دیا جائے اور وہ اس وجود کو اپنے سامنے آخری سانسیں لیتا دیکھے۔

تبریز شاہ آگے بڑھا اور ان کے ہاتھ کے اوپر ہاتھ رکھا۔۔۔۔

یہ وقت شاید ٹھیک نہیں! لیکن اس کے بعد وقت نہیں ملے گا، میں آپ سے آپ کی بیٹی مانگنا چاہتا ہوں۔۔۔میں وعدہ کرتا ہوں اس کی حفاظت کروں گا۔۔۔۔اس نے تیزی سے کہا جیسے ہر حال میں وقار حسن کو یقین دلانا چاہتا ہو کہ وہ ایسا کرے گا۔

انہوں نے اس نوجوان کی بات سنتے ایک نظر منت کو دیکھ جو آنکھیں جھکائے ہوئی تھی۔

اس کے علا۔۔۔۔ؤہ می۔۔۔۔رے پاس کو۔۔۔ئی راستہ نہیں۔۔۔میں نے اپنی بیٹ۔۔۔ٹی کو تمہیں دیا رب۔۔۔۔ کی امان میں وہ بولے تو منت نے انہیں نظریں اٹھا کر دیکھا۔

تبریز شاہ نے نکاح خواں کا انتظار کیا اور وقار حسین اپنی بیٹی کو قبول کرتے دیکھ وہ مسکرائے۔

رب کی۔۔۔ا۔۔۔اما۔۔۔ن۔۔میں۔۔۔انہوں نے منت کو کہا اور آنکھیں موند گئے۔۔۔۔

اس کے بعد منت کی دل دہلا دینے والی چیخیں تھیں۔۔۔۔.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ اس صدمے سے نہیں نکل پا رہی تھی کہ اس کا باپ اس کا واحد رشتہ بھی اسے چھوڑ گیا ہے۔۔۔۔

اسے نہیں پتا تھا ان پر جان لیوا حملہ ہوا ہے نا تبریز شاہ نے اسے یہ جاننے دیا تھا وہ اس حالت میں نہ تھی کہ وہ سب جان پاتی۔

تبریز شاہ نے اپنی طرف سے انکوائری کروائی تھی جس کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ سامنے نہیں آیا تھا وہ ان سب میں مصروف تھا جب منت کو اس سے دور کرنے کا سامان تیار کیا گیا۔

یونیورسٹی میں بہت سے لوگ ان کے نکاح کے بارے میں جان گئے تھے یہ سب پھیلانے والا کوئی اور نہیں وہی تھی جسے حسد تھا منت سے۔

تبریز شاہ کی جماعت میں لڑکا تھا عمر جس سے تبریز شاہ اکثر کوئی نا کوئی کام لیتا تھا اور بدلے میں اسے قیمت ادا کرتا تھا۔

یہ وہی لڑکا تھا جسے منت کی بنائی ہوئی اسائنمنٹ دی تھی اس نے۔۔۔۔عمر ایک نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والا انسان تھا جس کی دو بہنیں تھی ایک کا نکاح ہو چکا تھا اور ایک وہیں اس کے ساتھ پڑھتی تھی۔

وہ دونوں بہن بھائی اس بڑی یونیورسٹی میں اپنی قابلیت اور میرٹ پر آئے تھے۔

اس کی بہن تاشہ کو منت سے حسد تھا، کہ تبدیز شاہ اس کے پیچھے کیوں تھا اگر اسے سادگی پسند تھی تو وہ اس کے پیچھے کیوں نا تھا۔

یہ جلن، اور حسد اس حد تک بڑھ گیا تھا کہ وہ ان کو کسی بھی صورت علیحدہ کرنا چاہتی تھی اور جب اسے ان کے نکاح کا پتا چلا تو وہ اپنے آپ کو قابو میں نا رکھ سکی۔

اس نے پلین تیار کیا اس کا مقصد صرف تبریز شاہ کو اس حال تک پہنچانا تھا کہ وہ اسے قبول کر لے اور اس نے ویسا ہی کیا۔

اس نے تبریز شاہ کے آنے جانے پر نظر رکھی۔۔۔منت آج کل یونیورسٹی نہیں آرہی تھی اور تبریز شاہ کے بس کچھ آخری دن تھے یونیورسٹی میں اسے سب ابھی ہی کرنا تھا۔

اس نے کیفے میں تبریز شاہ کو بیٹھے دیکھا تو مسکراتی اس کے پاس گئی اور ساتھ بیٹھنے کی اجازت مانگی۔

تبریز شاہ عمر کی کافی مدد کیا کرتا تھا مالی طور پر تو اس کی بہن کو بیٹھنے کی اجازت دے دی۔

اس کی بہن نے اس سے اپنے سبجیکٹ میں مدد مانگی تھی اس کے مطابق آج اس کا ٹیسٹ تھا اور اسے دو ٹوپکس نہیں آتے تھے جو تبریز شاہ نے اسے سمجھائے۔

بدلے میں وہ ضد کرنے لگی کہ وہ اس سے کافی پیے کیونکہ اس نے اسے اتنا اچھا سمجھایا ہے۔۔۔تبرہز شاہ نے منع کیا لیکن وہ ڈٹی رہی تو اسے ماننا پڑا۔

تاشہ اپنے پلین میں کامیاب ہوتی اس کی کافی میں نشہ آوار گالیاں ملا کر اسے پلا چکی تھی اور چھپ کر اس کی گاڑی تک اس کے پیچھے آئی۔

رکشے میں اس کا پیچھا کیا اور اس کے فلیٹ میں پہنچی اندر جانا ایک مرحلہ تھا لیکن چونکہ تبریز شاہ خود بھی نشے میں تھا اس لیے دروازہ لاک نہ کیا تھا اس نے۔

وہ اندر گھسی اور چھپ گئی۔۔۔۔تبریز شاہ بھاری ہوتے سر کو سنبھالتے حیران تھا اپنی حالت پر اور دروازے کا دھیان آتے ہی لاک لگا کر آیا اور بستر پر گر گیا اس کے بعد اسے کچھ بھی یاد نہ تھا۔

جب اسے ہوش آیا تب عمر اس کے گھر میں اس کے سامنے موجود تھا اور اسے دیکھ رہا تھا اس نے آنکھیں جھپکتے یہاں وہاں دیکھنے کی کوشش کی تو سامنے موجود اس لڑکی کو دیکھ کر ٹھٹکا۔

تم نے۔۔۔۔عمر چلایا۔۔۔۔

وہ اس کی بہن تاشہ تھی۔۔۔جس کی مدد کی تھی اس نے لیکن وہ یہاں۔۔۔اور پھر اس کا حلیہ۔۔۔اسے کچھ سمجھ نہ آرہا تھا۔۔

وہ اس کی شرٹ میں موجود تھی سامنے ہی روتی بلکتی۔۔۔۔۔وہ کئی لمحے کمرے کی چھت کو دیکھتا آنکھیں جھپکنے لگا جیسے یاد کر رہا ہو کہ اس نے کیا کیا تھا آخری بار۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دوبارہ ہوش میں آنے پر اس نے درید یزدانی کو اپنے سامنے پایا تھا اور پھر ہچکی لیتے وہ دوبارہ بیہوش ہو گئی تھی۔

اس نے اس کمرے کی ساری چیزوں کو چھانا ایسے کرتی وہ ڈری تھی اگر حقیقت کچھ اور ہوئی تو۔۔؟

ڈائری۔۔۔۔سامنے صندوق میں موجود ڈائری جس پر کافی گرد جمع تھی نکالا اور کھولا اندر جگہ جگہ پر کچھ لکھا تھا۔

یہ ڈائری درید یزدانی کی تھی۔۔۔۔جہاں وقتاً فوقتاً کچھ نا کچھ لفظ لکھے گئے تھے جس سے اندازہ ہوتا تھا کہ وہ باقاعدگی سے نہیں لکھتا صرف کبھی کبھی لکھتا تھا۔

وہ وہاں سے نکلتے دوسرے کمرے میں گئی اور جیسے جیسے پڑھتی گئی اس کے اوسان خطا ہوتے گئے۔۔۔

وہ درید کی ڈائری تھی۔۔۔۔جس میں حقیقت اس کے سامنے تھی۔۔۔۔

وہ بے قصور تھی تو درید یزدانی بھی بے قصور تھا وہ تو کسی اور لڑکی کی جگہ ماری گئی تھی بس۔۔۔

اس رات وہ حملہ رباب کے لیے تھا اس کے لیے نہیں اور پھر درید نے جو سب اس کے لیے کیا تھا۔

وہ ڈائری وہیں واپس رکھتی اس کمرے سے نکل گئی اور نیچے آ کر وہیں بیٹھ گئی۔۔۔خانسامان چلی گئی تھی۔

آنکھوں سے آنسو لڑیوں کی مانند گرنے لگے۔۔۔۔۔وہ سالوں اس شخص کو کوستی، باتیں سناتی آئی تھی جس نے اپنی زات پر سب برداشت کیا تھا اپنی بہن کے لیے، اس کے لیے

وہ شخص اسے اپنا گیا تھا۔۔۔۔کیا تھا کوئی مرد درید یزدانی جیسا جس نے ایک لڑکی جو دنیا کی نظر میں مجرم تھی اپنے باپ کی قاتل اسے اپنایا تھا۔

اگر وہ نا ہوتی اس رات تو اس کی جگہ رباب ہوتی۔۔۔۔اپنی جگہ رباب کو سوچتے بھی وہ کانپتی تھی۔۔۔حالات تب مختلف ہوتے۔

آج اس کے پاس درید یزدانی نہ ہوتا۔۔۔اس کی اولاد نہ ہوتی ۔۔اس پر قاتل کا لیبل ہوتا وہ جیل میں کہیں ہوتی یا شاید مر گئی ہوتی۔۔۔۔۔

قصور کس کا تھا ان سب میں جس کی سزا ان سب نے کاٹی تھی۔۔۔۔؟؟؟

حالات جو بھی تھے اسے بدلے میں رب نے درید یزدانی سے نوازا تھا۔۔۔جس نے سالوں کی خواری سہی تھی اسے ڈھونڈ نکالا تھا اسے محبت، مان، عزت،اپنا نام سب دیا تھا۔

رب کوئی بھی قربانی رائگاں نہیں جانے دیتا۔۔۔۔۔یہ بات درید اس پر واضح کر چکا تھا کہ وہ پاک تھی یعنی وہ وقت پر فرشتہ بنا کر بھیجا گیا تھا۔

اس نے آنکھیں بند کی۔۔۔رب نے اسے سب سے بچایا تھا اور وہ ناجانے کب سے دل میں یہ سب لیے بیٹھی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پانی ۔۔۔۔۔

پانی پینا ہے۔۔۔!

باسط ہاتھ دھو کر آیا تو وہ صوفے پر ہی بیٹھی تھی اسے دیکھ کر بولی تو باسط پانی لینے چلا گیا۔

پانی اسے تھمایا۔۔۔۔اور ساتھ بیٹھ گیا۔

کھانا نہیں کھائیں گے ہم؟ معصومیت ہی معصومیت تھی۔۔۔۔

رباب یہ اس وقت جتنی معصوم تم بن رہی ہو نا کاش حقیقت میں بھی ایسی ہی ہوتی تو مجھے کس بات کا غم ہوتا۔۔۔۔وہ آہ بھرتا بولا۔

توبہ کریں۔۔۔۔! آپ کو کون سا غم دیا ہے میں نے؟ وہ اس کے بال مٹھی میں دبوچے بولی۔

کوئی نہیں دیا۔۔۔(تم کافی نہیں ہو) وہ زیرِ لب بڑبڑایا۔۔۔۔جو وہ نہ سن سکیں نہیں تو ابھی تک اس کے سر کے آدھے بال رباب کے ہاتھ میں ہوتے۔

باسط نے اس کے لیے سوپ آرڈر کیا اور اپنا کھانا اور اب وہ بیٹھا نیوز سن رہا تھا جب کہ وہ دوبارہ اس کے ساتھ لگ کر بیٹھی اسے ہی دیکھ رہی تھی۔

مجھے دیکھیں۔۔۔۔وہ تھک کر بولی۔

بولو۔۔۔۔باسط نے ٹی وی سے ایک نظر ہٹاتے اسے دیکھا اور واپس ٹی وی پر نظریں جما لیں۔

رباب نے اس کے ہاتھ سے ریموٹ لیتے ٹی وی بند کیا اور اس کا رخ اپنی طرف کیا۔

مجھے بھی وقت چاہیے ہوتا ہے آپ کا۔۔۔۔

تمہیں ہی دیتا ہوں میں اپنا سارا وقت۔۔۔۔باسط نے اس کے ہاتھ سے ریموٹ لینا چاہا.

بالکل نہیں! آپ کی مصروفیت ہی بہت ہیں آپ مجھے نظرانداز کر جاتے ہیں ۔۔۔۔جیسے ابھی کر رہے ہیں رباب نے شکوہ کیا۔

حالانکہ ایسا کچھ نہ تھا۔۔۔وہ اسے اس کا ٹائم ضرور دیا کرتا تھا۔۔۔۔۔لیکن ہر بیوی کی طرح اسے بھی یہی غم لاحق تھا۔

بولو اب؟ باسط نے اپنا رخ اس کی طرف کرتے اسے اپنے نزدیک کھینچا جو ٹانگیں صوفے پر سمیٹے ہی بیٹھی تھی۔

اچھا! اب بتائیں کہ میں آپ کو کتنی اچھی لگتی ہوں؟ اسے کچھ سمجھ نہ آیا تو یہ یہی پوچھ لیا۔

تھوڑی تھوڑی۔۔۔وہ شرارت پر آمادہ تھا۔

ویسے آپ تو مجھے تھوڑے بھی پسند نہیں ہیں۔۔۔۔پر آپ نے زبردستی شادی کی ہے نبھانی تو پڑے گی وہ پتھر کا جواب اینٹ سے دے گئی تھی۔

اچھا۔۔! میں نے زبردستی کی تھی۔۔۔تو بچپن کی محبت تو تمہاری کوئی اور تھا ہے نا؟ باسط نے اسے گود میں بٹھاتے سختی سے پوچھا۔

آپ کو کیسے پتا چلا؟ رباب ہمیشہ سے یہ جواب جاننا چاہتی تھی۔

تمہاری آنکھیں تب بھی سب بتاتی تھیں اور اب بھی۔۔۔۔مختصر یہ کہ تمہاری آنکھوں میں صاف لکھا ہے کہ تمہیں یعنی رباب باسط کو باسط ضیاء سے بے حد محبت ہے۔۔۔۔وہ اسے تفصیل سے بتاتا اس کی لٹ کو اگلی پر گھماتا بولا۔

رباب کو اپنا ماضی یاد آیا کیسے وہ اسے پسند تھا بے حد ۔۔۔اس کی چھٹی کر لینے پر وہ کیسے اداس ہو جایا کرتی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تم نے میری بہن کے ساتھ۔۔۔۔۔عمر شدتِ غم سے چلا رہا تھا وہ اٹھ کھڑا ہوا اور حالات سمجھنے کی کوشش کرنے لگا۔

اور جو اسے سمجھ آ رہا تھا وہ وہ سمجھ کر بھی سمجھنا نہیں چاہتا تھا۔

یہ یہاں کیا کر رہی ہے؟

تم بتاؤ تم ساتھ لائے ہو۔۔۔کیا تم اسی لیے ہماری مدد کرتے رہے کہ ہماری ہی بہن پر تم گندی نیت رکھتے اور اپنی حواس مٹاتے۔

کیا بکواس ہے۔۔۔مجھے بالکل نہیں اندازہ کہ یہ یہاں کیسے آئی۔۔۔۔وہ چلایا۔

پھر تو تمہیں یہ بھی معلوم نہیں ہو گا کہ اس کی یہ حالت تم نے کی ہے عمر اپنی بہن کی حالت دیکھتا تڑپ رہا تھا۔

لیکن تبریز شاہ انکاری تھا۔۔۔۔ان سب سے۔۔۔عمر اس کی حیثیت کا نہیں تھا اس لیے زیادہ کچھ نہ کر سکا لیکن وہ منت کو بتا کر سب انہیں علیحدہ کرنا چاہتا تھا۔

وہ جانتا تھا تبریز شاہ مانے نا مانے اسے منت وقار سے محبت ہے اور وہ اس سے اس کی محبت کو دور کر دے گا بدلے میں۔

تبریز شاہ اب تک حیران تھا کہ وہ لڑکی اس کے گھر کے اندر کیسے پہنچی ۔۔وہ ان سب کی جانچ پڑتال کر رہا تھا جب عمر منت کے پاس گیا اور اسے اس کی حقیقت بتانے کی کوشش کرنے لگا۔

لیکن تبریز شاہ بروقت پہنچ گیا تھا اسی لیے وہ سب منت نا جان پائی لیکن اگلے روز یونیورسٹی میں سب کو پتا چل گیا تھا کہ تبریز شاہ نے منت وقار سے شادی اس کے باپ کی دولت کے لیے کی تھی۔

عمر نے اپنے ساتھ ہوئی تبریز شاہ کی فون کال کی ریکارڈنگ سب کو سنائی تھی جو تب کی تھی جب وہ منت وقار میں اس کے باپ کے بزنس ٹرکس کو جاننے کے لیے دلچسپی لے رہا تھا۔

اور اسنے منت کے باپ کی انفارمیشن نکالنے کو کہا تھا عمر کو۔۔۔۔یہ بات کافی پرانی تھی لیکن عمر نے اسے ہتھیار بنا کر منت کو سنائی تھی جسے سنتے وہ ٹوٹ گئی تھی۔

اور پھر وہ سب چھوڑتی وہاں سے چلی گئی۔۔۔۔اسے عمر نے یہ بھی بتایا تھا کہ تبریز شاہ اس کی دولت کے لیے اس کے ساتھ تھا ۔۔۔اس کا باپ منت کے باپ کو بزنس میں ہرانا چاہتا تھا۔

اسے محبت ہونے لگی تھی تبریز شاہ سے۔۔۔۔وہ بنا کچھ اس سے پوچھے اس کی صفائی سنے سب چھوڑتی وہاں سے دور چلی گئی تھی۔

اور آج تک اس نے تبریز شاہ سے اس بات کا زکر نہیں کیا تھا ۔۔کیونکہ آہستہ آہستہ وہ جان گئی تھی کہ شاید یہ سب انہیں الگ کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔

کیونکہ اب وہ خود بھی جانا مانا بزنس مین تھا۔۔۔۔لیکن کافی حقیقتیں ابھی بھی کھلنا باقی تھیں۔

وہ تو یہ بھی نا جانتی تھی کہ اس کے باپ کا قتل ہوا تھا۔۔۔اسے یہی بتایا گیا تھا کہ اچانک ہونے والے ہارٹ اٹیک سے ان کی موت ہوئی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ابھی وہ اور آنسو بہاتی کہ نظریں اٹھائی تو وہ سامنے سنجیدہ سا کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔

ربائشہ جھٹکے سے کھڑی ہوئی اور اس کے سینے سے لگی زاروقطار رونے لگی درید نے اسے رونے دیا تھا یقیناً وہ حقیقت سے آشنا ہو گئی تھی۔

اور شاید یہی صحیح وقت تھا ۔۔۔اس کے بالوں میں ہاتھ چلاتے درید نے اسے خاموش کروایا۔

میرے پاس لفظ۔۔۔نہیں۔۔۔

میں نے تو کچھ پوچھا بھی نہیں آپ سے ربائشہ۔۔۔۔سالوں پہلا لہجہ۔۔۔۔وہ ساکت رہ گئی۔

آپ مجھے معاف نہیں ۔۔۔۔کریں۔۔۔۔میں معافی کی حقدار نہیں۔۔۔۔وہ شرمندہ تھی پشیماں تھی۔۔۔۔اس کے جزبات اس وقت کوئی نہیں سمجھ سکتا تھا۔

کیا اس انسان کو کوئی سمجھ سکتا ہے جس نے محبت کرتے ہوئے بھی اس شخص کے لیے اپنے دل میں یہ بات چھپا رکھی ہو۔۔۔۔۔جس نے اسے مجرم مانا ہو سالوں اور وہ شخص آپ کا محسن نکل آئے۔۔۔۔

اس رات وہ سب رباب کے لیے تھا۔۔۔۔آپ پھنس گئی۔۔۔۔وہ کہہ کر خاموش ہوا۔۔۔۔

میں اسے کبھی۔۔۔معاف۔۔۔۔۔

وہ اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے ربائشہ درید یزدانی۔۔۔درید نے اسے سامنے کرتے کہا جو حیرت سے اسے دیکھتی ششدد کھڑی رہی۔

کب۔۔۔۔کی۔۔کیسے؟

اس شخص کو اسی رات سے ڈھونڈنا شروع کر دیا تھا میں نے اور بس اپنی بیوی، اپنی بہن کے مجرم کو جہنم واصل کر کے میں نے وہ قصہ مٹا دیا۔

میں۔۔۔!

پشیمان ہیں؟

اس نے تیزی سے سر ہلایا۔۔۔۔

یاد ہے آپ نے پوچھا تھا کہ اب میں پہلے کی طرح آپ کو آپ کیوں نہیں بلاتا۔۔۔۔اور میں نے کہا تھا ابھی کچھ ادھار ہیں آپ کی طرف بس آج اس ادھار کو چکا دیا آپ نے سب حقیقت جان کر مجھے بری الزمہ کر کے۔۔۔۔درید نے اسے بتایا، وہ اس غم میں تھا کہ اس کی بیوی کے دل میں وہ واقعہ اب تک اپنے پنجے گاڑھے ہوئے ہے جس میں وہ بے قصور تھے۔

جس روز آپ کی قربت ملی تھی۔۔۔۔آپ کے لمس سے آشنا ہوئی تھی میں اسی دن جان گئی تھی کہ یہ لمس، یہ قربت، یہ سانسیں، یہ شخص وہ نہیں جس کی سزا میں نے اسے دی ہے۔۔۔۔۔وہ بولی۔

کہنے کو بہت کچھ تھا لیکن الفاظ نہ ملے تھے اس اپنے احساسات کو دکھانے کے لیے، وہ لرزتے وجود کے ساتھ اس کے سامنے موجود تھی۔

اس دنیا میں دو بے قصور لوگوں نے بلاوجہ کی سزا اگر کاٹی تھی تو بدلے میں انہیں ایک دوسرے کا ساتھ ملا تھا۔

رات کے بعد سویرا۔۔۔۔۔

میں تھک گیا ہوں کھڑا رہ کر۔۔۔۔درید نے کہا تو اس نے درید کو دیکھتے صوفے پر بیٹھنے کو کہا اور خود بھی بیٹھ گئی۔

لاونج میں اس وقت خاموشی تھی۔۔۔۔جزبات جیسے سارے اس خاموشی میں تھے۔

آپ مجھے معاف۔۔۔۔۔

آپ کو معاف کیا میرے دل نے، آپ کے کیے ہر جرم کو معاف کیا میں نے ربائشہ۔۔۔۔محبت میں محبوب سے غلطی کے اعتراف نہیں کروایا جاتا۔۔۔۔بس خاموشی سے اپنا احساس دلا کر جتلایا جاتا ہے کہ ضرورت کیا ہے۔۔۔۔میں آپ کی ضرورت بننا چاہتا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سالہ مرنا نہیں چاہیے اسے اتنے گھاؤ دو اس کی آہیں ساری رات یہاں گونجتی رہیں سامنے کرسی پر بیٹھے شخص نے کہا۔

تو ایسا نہیں کر سکتا تبریز۔۔۔۔۔عمر چلایا۔۔۔۔وہ اب پھر ان دونون کے درمیان آنا چاہ رہا تھا جب سے اسے پتا چلا تھا کہ منت واپس آ گئی ہے تبریز شاہ کے پاس وہ انہیں خوش نہیں دیکھنا چاہتا تھا اپنی بہن کا بدلہ لینا چاہتا تھا وہ جس نے اس کے بعد کبھی شادی کی ہی نہیں تھی اسے ان سب کا قصور وار تبریز شاہ لگتا تھا۔۔

میں کر سکتا نہیں کر رہا ہوں۔۔۔۔۔سگریٹ سلگاتے اس نے سامنے موجود شخص کو کہا۔

یاد رکھ میں جب بھی یہاں سے نکلا تیری بیوی کو وہ مواد دکھا دوں گا جو تو نے میری بہن۔۔۔

چٹاخ۔۔۔۔۔

پے در پے اس پر لاتوں اور مکوں کی برسات کرتے تبریز شاہ پیچھے ہٹا۔۔۔۔۔

تو بتائے گا میری بیوی کو۔۔۔۔۔میں نے کچھ نہیں کیا تھا۔۔۔تیری بہن کے ساتھ۔۔۔۔۔

میری بہن جھوٹ نہیں بول سکتی مجھ سے۔۔۔اور مت بھول اس کے بدن پر اس دن تیرا لباس اور تیرے دیے نشان تھے۔۔۔۔۔وہ شخص چلایا۔۔۔۔

نہیں۔۔۔۔یہ سب جھوٹ ہے۔۔۔۔مجھے کچھ یاد نہیں۔۔۔۔میں ایسا مر کر نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔تبریز شاہ نے نا میں سر ہلاتے کہا۔

تیری بیوی کے ساتھ بھی وہی ہو گا۔۔۔۔۔جو تو نے میری بہن کے ساتھ کیا۔۔۔۔اسی لیے میں نے تم لوگوں کو علیحدہ کر دیا۔۔۔۔۔عمر نے قہقہہ لگایا۔

اس کے قہقہے تبریز شاہ کو ہر جگہ سنائی دے رہے تھے۔۔۔۔وہ رات وہ کبھی نہیں یاد کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔جس کے بعد وہ ہر رات خود سے نظریں نہیں ملا پاتا تھا۔

جس دن میں یہاں سے نکلنے میں کامیاب ہو گیا تبریز شاہ اس دن منت تبریز شاہ یہ سچ جان جائے گی کہ اس کا شوہر کسی دوسری عورت۔۔۔۔۔

اس سے پہلے وہ اس پر پھر ہاتھ اٹھا چکا تھا۔۔۔۔۔۔یہ سب سننا قیامت خیز تھا۔۔۔۔ اور یہ سب سنتا وہ پاگل ہونے کو تھا۔۔۔۔

ہاہاہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تو صرف ہاتھ اٹھا سکتا ہے۔۔۔مجھے مار نہیں سکتا کیونکہ دی گریٹ مسٹر تبریز شاہ کسی بے قصور کو مار نہیں سکتا۔۔۔۔وہ شخص چلایا لیکن وہ وہاں سے نکلتا چلا گیا۔۔۔۔

وہاں سے نکلتے اس نے گاڑی میں بیٹھتے پانی پیا۔۔۔۔اگر کسی دن منت کو سب پتا چل گیا تو۔۔۔۔