Shiddat-e-Talab by Suneha Rauf NovelR50408 Shiddat-e-Talab Episode 23
No Download Link
Rate this Novel
Shiddat-e-Talab Episode 23
Shiddat-e-Talab by Suneha Rauf
روز شام پانچ بجے باسط اپنی مصروف زندگی سے وقت نکال کر رباب یزدانی کو پڑھانے آتا تھا۔
رباب کو پڑھانا اتنا آسان بھی نہ تھا۔۔۔۔ شروع شروع میں اس نے اسے کافی تنگ کیا تھا لیکن اب وہ اسے ہینڈل کرنا سیکھ گیا تھا۔
وہ اسے کافی سنجیدگی سے پڑھا رہا تھا۔۔۔۔کیونکہ اس کے اکلوتے دوست نے اس پر یقین کر کے اس پر یہ بھاری زمہ داری ڈالی تھی۔
آغاز میں رباب نے درید کی طرح اسے سمجھتے اس سے لاڈ اٹھوانےچاہے تھے ۔۔۔۔۔باسط نے ایسا کیا بھی تھا لیکن اب وہ کافی سنجیدہ تھا اس کے ساتھ۔
اس کے مطابق استاد اور شاگرد کا ایسا ہی تعلق ہونا چاہیے ۔۔یہی وجہ تھی رباب اس سے ڈرتی تھی تھوڑا سا ۔۔اس کی رعب دار شخصیت ہی ایسی تھی۔
وہ بنا کوئی فضول بات کیے اسے سنجیدگی سے ایک سے تین بار سوال کرواتا اور اگر وہ پھر بھی نہ کرتی تو اسے ڈانٹ دیا کرتا تھا اکثر ۔۔۔
رباب اس کی ڈانٹ سن کر منہ بسوڑتی۔۔۔۔ایک آد بار اس نے درید کو بتایا تھا لیکن اس نے باسط کو ہی صحیح کہا تھا۔
زندگی کی رفتار ایسے ہی چلتی گئی اور تین سے چار جماعتیں اس نے باسط سے پڑھیں۔۔۔۔۔۔
اب وہ بڑی ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔ساتویں جماعت میں ہوئی تھی وہ اچھے نمبروں سے پاس ہو کر۔۔۔۔۔۔
اس کا دماغ اب نئی نئی شرارتیں سوچ کر اس پر عمل کرنے لگا تھا۔۔۔۔۔باسط کی شخصیت پہلے سے زیادہ رعب دار ہو چکی تھی۔
یہی وجہ تھی رباب یزدانی ایک ہی شخصیت سے ڈرتی تھی اور وہ تھا باسط ضیاء۔
ایسے ہی دن گزر رہے تھے۔۔۔۔۔رباب یزدانی نئی نئی باتیں سیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔اسے باسط اچھا لگتا تھا بیشک وہ ڈرتی تھی اس سے لیکن وہ اسے اپنی بھیو کے بعد بے حد پسند تھا۔
وہ آٹھویں جماعت میں تھی۔۔۔جب اس کی دوست نے اس سے پوچھا تھا کہ اس کا کوئی بوائے فرینڈ ہے۔
اس نے جواب نفی میں دیا تھا۔۔۔۔وہ شہر کے اچھے پرائیویٹ سکول میں جاتی تھی جہاں یہ سب باتیں عام تھیں۔
کیوں؟ بنا لو تم بھی۔۔۔۔دیکھو اتنے اچھے لڑکے ہیں ہماری کلاس میں اس کی دوست نے کہا۔
نہیں مجھے بس اپنے سر پسند ہیں ۔۔۔۔اس نے اپنی دوست کو بتایا جس نے نفی میں سر ہلاتے اس کی عقل پر ماتم کیا تھا۔
اس نے واپسی گھر جاتے باسط کے لیے ایک چاکلیٹ خریدی تھی اور اسے بوائے فرینڈ بننے کو کہا تھا۔
جس کے بعد اسے باسط کے ساتھ درید کی بھی کافی ڈانٹ سننی پڑی تھی۔
لیکن اس کے دل و دماغ نے یہ بات طے کر لی تھی کہ اسے باسط ضیاء ہی چاہیے بس۔۔۔۔وہ پڑھاتا تو وہ اسے دیکھتی رہتی تھی۔
وہ بچپن کی محبت تھا اس کی آج بھی آنکھوں میں اس کا عکس واضح تھا۔۔۔۔وہ خوش نصیب تھی کہ اسے اپنی بچپن کی محبت مل گئی تھی ۔۔۔۔پھر اس کے پیچھے باسط کا بدلہ ہی کیوں نہ تھا۔
لیکن کالج میں اسے باسط نے پڑھانا چھوڑ دیا تھا کیونکہ اس کی اپنی ڈگری کے اہم سال چل رہے تھے اور پھر یونیورسٹی اس نے سب خود کیا تھا کچھ درید کی مدد سے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پتا ہے کیوں؟
انسان اپنی ضرورتوں کے بغیر نہیں رہ سکتا۔۔۔۔جیسے کھانا، پانی، چھت ضروری ہے ویسے ایک رشتے میں اعتبار، محبت، مان، عزت سب ضروری ہے۔
لوگ کہتے ہیں رشتے بنا محبت کے گزارے جا سکتے ہیں اگر صرف عزت ہو تو۔۔۔۔
اس عزت کا کیا کرنا جو دو دلوں کو نا جوڑ پائے۔۔۔؟ بس آپ کا دل جوڑنا تھا میں نے جو مجھے لگتا ہے میں جوڑ چکا ہوں۔۔۔
آپ کا شوہر، آپ کا محافظ ہونے کی خاطر میں نے آپ کا انتقام لے لیا۔۔آج اس رات کے بعد میں اس موضوع پر دوبارہ کبھی کوئی بات کوئی لفظ نہیں سننا چاہتا اس نے سنجیدگی سے اسے باور کروایا جو آنکھوں میں آنسو لیے اس کی باتیں سن رہی تھی۔
میرے بیٹے کو بھوکا سلایا یے آپ نے؟ اس نے سنجیدگی سے پوچھا تو ربائشہ حیران ہوئی۔
نہیں!
وہ پورا انگوٹھا منہ میں لے کر چوس رہا تھا۔۔۔اس کو بھوک لگی تھی وہ اسے اس موضوع سے ہٹا گیا تھا جو ان کی زندگی میں کانٹا اور دیوار بنا رہا تھا۔
کچھ باتیں کبھی بھی زیرِ بحث نہ لائیں جائیں تو بہتر ہیں، جو ہو گیا تھا وہ ماضی تھا اس نے اپنی بیوی کو انصاف دلایا تھا اس کی بیوی حقیقت سے آشنا ہو گئی تھی تو ان کی زندگیوں میں اس موضوع کی کوئی اہمیت نہ رہی تھی۔
درید نے اس کے باپ کے کیس میں اس کا نام ہٹوا دیا تھا اس کی بیوی کا نام کچہری، تھانوں اور وہاں موجود فائیلوں میں درج رہتا یہ اسے منظور نہ تھا۔
ایسا بچے کرتے ہیں درید ۔۔۔اس نے بیچارگی سے کہا جو اس پر الزام لگا رہا تھا۔
نہیں میں دوبارہ نہ دیکھو اسے ایسا کرتے۔۔۔۔۔اسے بھوک نہ لگے دوبارہ وہ سنجیدہ تھا۔
ربائشہ نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔۔۔
اب کیسا محسوس کر رہے ہیں؟ ربائشہ نے اس کے ماتھے پر بکھرے بالوں کو ہٹاتے ہوچھا۔
بڑی جلدی نہیں خیال آ گیا تمہیں؟
یہ تمہیں نہیں چلے گا اب۔۔۔۔آپ کہا کریں اب سے مجھے۔۔۔۔۔
عادت ہو گئی ہے اب۔۔۔درید نے لاپرواہی سے کہا۔
بالکل نہیں! آپ کہنے کی دوبارہ عادت ڈال لیں۔۔۔یہ زیادہ اچھا لگتا ہے اس نے کہا تو درید نے سر جھکایا جیسے کہہ رہا ہو جو حکم۔
مجھے کوئی تحفہ نہیں دیا آپ نے حالانکہ میں نے اپنی جان پر کھیل کر آپ کو اولاد دی ہے آپ کی وہ اس کے ساتھ لگ کر بیٹھتی ٹانگیں سمیٹتی اسے دیکھتی بولی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حال:
تاشہ کو اس نے دوبارہ ڈھونڈ نکلا تھا۔۔۔۔تبریز شاہ ایک ساتھ کئی کاموں میں مصروف ہو گیا تھا۔۔۔۔
درید نے اس سے اس کے باپ کے بلڈ ٹیسٹ کی رپورٹ لانے کا کہا تھا جو وہ دے چکا تھا اسے۔۔۔۔اب ناجانے کون سی حقیقت کھلنے والی تھی۔
درید کے مطابق سب کڑیاں آپس میں جڑی تھی۔۔۔لیکن یہ کیسے ممکن تھا یہ تو وقت بتاتا۔
ان سب میں عمر نکل گیا تھا اس کی وید سے اور اب وہ منت کو سب بتانے والا تھا۔۔۔۔تبریز شاہ کے پاس سارے ثبوت تھے اپنی بے گناہی کے اب لیکن کیا منت اسپر یقین کرے گی یہ سوال وہ ہمیشہ سوچتا تھا۔
وہ اٹھا تو وہ بیڈ سے ٹیک لگائے ہوئے تھی۔۔۔وہ مسکرایا ۔۔۔بیشک ساری رات ایسے بیٹھے وہ تھک گئی تھی لیکن تبریز شاہ کو مان بخشا تھا اس کی محبت نے۔
اس نے گھڑی پر وقت دیکھا جو صبح کے چار بجا رہی تھی اس نے اٹھتے اسے صحیح سے لٹایا اور خود بھی لیٹا لیکن دھیان اس کی طرف تھا۔
منت۔۔۔۔
منت نے نیند سے بھری آنکھیں کھول کر اسے دیکھا۔
مجھ سے باتیں کرو مجھے نیند نہیں آ رہی۔۔۔وہ مطلبی ہوا تھا خود پرسکون نیند لے کر اب دوبارہ اسے اٹھا رہا تھا۔
مجھے نیند آرہی ہے۔۔۔۔
میں کچھ نہیں جانتا۔۔۔مجھے تم سے باتیں کرنی ہیں۔۔۔۔وہ بضد ہوا تو منت نے اس کے گال پر ہاتھ رکھ کر اسے پچکارا جیسے وہ کوئی بچہ ہو۔
سو جائیں!
منتتت!! وہ سنجیدہ سا بولا۔
بیشک آپ ناراض ہو جائیں لیکن اس وقت مجھے سونا ہے کچھ بھی کر لیں وہ کہتی دوبارہ سو گئی تو وہ مسکرایا۔۔
یہ کہنا غلط نہ تھا کہ وہ اسے پاگل کر گئی تھی۔۔۔۔اس کے علاؤہ اسے کچھ سوجھتا ہی نہیں تھا۔
صبح اٹھتے منت نے یہاں وہاں دیکھا تو وہ نہیں تھا ۔۔۔۔شاید چلا گیا تھا وہ کسلمندی سے پڑی رہی۔۔۔۔لیکن اس کا فون مسلسل بج رہا تھا۔
اس نے نمبر دیکھا جو ان نون تھا۔۔۔اتنی صبح۔۔۔وہ جب تک اٹھاتی کہ کال آنا بند ہو گئی تھی باہر سے کچھ گرنے کی آواز آئی تو باہر گئی۔
اور کچن میں جا کر دیکھا جہاں وہ ناشتہ بنا رہا تھا۔۔۔کچن سارا بکھرا پڑا تھا۔۔۔۔اس نے حیرت سے اسے دیکھا۔
گڈ مارننگ! تبریز شاہ نے اسے دیکھے بنا کہا تو وہ مزید حیران ہوئی۔
آپ کو کیسا پتا کہ میں کھڑی ہوں؟ وہ اندر داخل ہوئی۔
مجھے تم محسوس ہو جاتی ہو۔۔۔آجاؤ آج میں ناشتہ بنا رہا ہوں۔۔۔۔تبریز شاہ اس کے قریب آیا اور اس کا ہاتھ تھام کر اندر لے کر گیا اور اپنے پاس شلف پر جگہ بنا کر اسے بٹھایا۔
واہ! اتنی کرم نوازیاں خیر ہے؟ منت نے شرارتی انداز میں استسفار کیا۔۔۔۔وہ خوش ہوئی تھی اسے ایسے دیکھ کر۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روز تم میرے لیے بناتی ہو۔۔۔آج میرا دل کیا کہ میں بناؤں تمہارے لیے وہ آج خوش تھا۔
کیا بنا رہے ہیں؟ منت نے اتنے بکھیرے کو دیکھتے پوچھا۔
تمہارے فیورٹ سینڈوچ بنا رہا ہوں۔۔۔تبریز نے مصروف سے انداز میں بوائل انڈے کو کاٹتے کہا۔
واہ! منت نے کٹے کھیرے کو اٹھا کر کھایا تو تبریز شاہ نے اسے گھورا۔
منہ ہاتھ دھو کر آؤ پہلے۔۔۔۔تب تک میں یہ سب سمیٹتا ہوں۔۔۔اس نے اس کے سینڈوچ کو پلیٹ میں رکھتے چائے کو دیکھتے کہا۔
برتن بھی آپ دھوئیں گے آج۔۔۔اس نے مسکراتے کہا تو تبریز شاہ نے اسے گھورا جو زیادہ پھیل رہی تھی۔
جی نہیں! اور جاؤ جلدی۔
آفس نہیں گئے آج؟ منت نے اس کے قریب آتے کہا۔۔۔ہاتھ پیچھے باندھ رکھے تھے جس پر اس نے چپکے سے آٹا لگایا تھا۔
نہیں! آج شام میں میٹنگ ہے صرف ایک۔۔۔اس نے مصروف سے انداز میں بتایا۔
شاہ۔۔۔اس نے دھیمے لہجے میں کہا تو وہ اس کی طرف متوجہ ہوا۔
ہممم۔۔۔
منت نے اپنے ہاتھ اس کے گال پر رکھے اور اس کے ناک کو چومتے بھاگ گئی تو وہ حیران ہوا اور پھر اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔
وہ جب آئی تو وہ میز پر اس کا ناشتہ لگا رہا تھا۔۔۔منت کو حیرانی ہوئی اسے اپنا چہرہ اب بھی گندا محسوس نہیں ہوا تھا۔
میں فریش ہو کر آتا ہوں کھاؤ یہ۔۔۔
نہیں آپ بھی ساتھ بیٹھیں منت نے کہا۔
نہیں! کپڑے دیکھو میرے کتنے گندے ہو گئے ہیں ۔۔۔اس نے بنا تو لیا تھا لیکن اس کی نفیس طبیعت کو اب گندے کپڑے بے حد برے لگ رہے تھے۔
نہیں ابھی کھائیں میری ساتھ وہ آج اسی کی طرح اس سے ضد کر رہی تھی۔
منت ضد مت کرو۔۔۔۔
یہ میں آپ کو روز کہتی ہوں۔۔۔لیکن اس کے باوجود آپ مجھ سے اپنی ہی منواتے ہیں آج میری بھی مانیں اس نے کہا تو وہ گھور کر بیٹھ گیا تو وہ کھلکھائی۔
تمہاری تو جیسے میں نے کبھی کوئی بات مانی ہی نہیں ہے نا وہ اسے دیکھ کر رہ گیا لیکن وہ کھانے میں مصروف تھی۔
اور پھر اپنا کھایا سینڈوچ اس کے آگے کیا جو وہ کھا گیا تھا۔۔۔وہ اسے دیکھ کر رہ گئی وہ کتنا بدل گیا تھا اس کے لیے۔
تھینک یو بہت اچھا تھا۔۔۔وہ کہتی کھڑی ہوئی تو تبریز شاہ نے جھٹکے سے اسے میز پر بٹھایا ور اس کے آگے کھڑا ہوا۔
اچھے سے شکریہ بولو۔۔۔!
اچھے سے ہی بولا ہے۔۔۔وہ جھجھکی تھی اس کی گہری نظروں کے حصار سے۔۔
تبریز شاہ نے جھکتے اس کے بالوں پر بوسہ دیا تو اسے خود میں سکون اترتا محسوس کیا۔۔۔۔
شکریہ ہر چیز کے لیے مسٹر تبریز شاہ۔۔۔اس نے تبریز کے بال بگاڑتے کھلکھاتے کہا تو وہ مطمئن تھا اسے یوں خوش دیکھ کر۔
کیا خیال ہے اب بھی قائم ہو اپنی دوسری شادی کی اجازت پر تبریز شاہ نے آنکھوں میں شرارت لیے سنجیدہ انداز میں پوچھا۔
بالکل! میرے علاؤہ کسی سے دل لگا سکتے ہیں تو اجازت ہی اجازت ہے وہ پر یقین لہجے میں بولی۔
اور پلیز اب یہ مت بولیے گا کہ منت تمہیں کس نے کہا ہے مجھے تم سے محبت ہے وہ منہ بسوڑ کر اس کی نقل اتارنے لگی وہ کھڑا مسکراتا اسے دیکھتا رہا۔
کتنا خوش کن تھا اسے یوں اپنے ساتھ اپنے پاس دیکھنا جس کی چاہ دل نے سالوں سے کی تھی۔
اچھا یہاں آؤ۔۔۔
بالکل نہیں۔۔۔۔منت نے کہتے برتن اٹھائے تو تبریز شاہ نے اس کے پاس جاتے پیچھے سے اسے حصار میں لیا اور اس کے دوسرے بال پر ہلکا سا کاٹا۔
شاہہہہ۔۔۔۔اس کی آواز پر تبریز شاہ کا دلکش قہقہہ گونجا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے بدلے کتنی تکلیف اور زہنی پریشانی آپ نے مجھے دی ہے اس کا اندازاہ ہے آپ کو۔۔۔۔
بات نہ پلٹیں۔۔۔۔تحفہ نکالیں۔۔۔۔آج تک کوئی تحفہ نہیں دیا آپ نے مجھے۔۔۔۔
تو تم نے کون سا دیا ہے؟ اور مت بھولو بیٹا وہ میرا بھی ہے میرا کونٹریبیوشن بھی تھا اس میں۔
درید نے کہا تو ربائشہ نے توبہ کرتے کانوں کو ہاتھا لگایا تو لاؤنج میں درید یزدانی کا دلکش قہقہہ گونجا۔
کیا چاہیے ہے بولو؟ کیا ہی تھا اگر آپ ایک اچھے رومینٹک شوہر کی طرح آگے سے پوچھ لیتے لیکن نہیں آپ کو تو اپنی کونٹریبیوشن گنوانے کی پڑی ہے وہ بولی۔
سب ہے آپ کے پاس۔۔۔۔جب مجھے کچھ محسوس ہو گا کہ آپ کو اس چیز کی ضروت ہے تب دلوا دوں گا اور اچھے رومینٹک شوہر کی تعریف کیا ہے آپ کے نزدیک وہ اسے حصار میں لیتا سنجیدہ سا بولا۔
چھوڑیں آپ نے کون سا بن جانا ہے ویسا۔۔۔ربائشہ نے ناک بسوڑا۔۔۔۔
آگے تو جیسے میں آپ پر ظلم کرتا ہوں۔۔۔عورتیں ہوتی ہی ناشکری ہیں درید نے دہائی دی۔
ناشکری نہیں ہوں میں ۔۔۔
میں نے عورت بھی کہا ہے آپ کو۔۔۔۔۔۔درید نے اسے باور کروایا۔
عورت ہی ہوں میں۔۔۔۔لیکن ناشکری نہیں ہوں سمجھے آپ۔۔۔وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
اچھا یار! مان لیا کہاں جا رہی ہو یہیں بیٹھو۔۔۔۔
کھانا لینے۔۔۔۔کب کا کھایا ہوا ہے آپ نے۔۔۔۔احساس ہے آپ کو۔۔۔وہ غصہ ہوتی بولی اور کچن میں گھس گئی۔
وہ مطمئن تھا اس کی زندگی میں واحد خلش بھی آج دور ہو گئی تھی۔۔۔۔
کھانے کھانے کے بعد۔۔۔۔ددید نے اسے ساتھ بٹھاتے ناجانے کیا کیا باتیں کی تھیں وہ تب چونکا جب حازق کے رونے کی آواز سنی۔
اسے بھی ابھی رونا تھا۔۔۔اس نے منہ بناتے کہا تو ربائشہ نے حیرت سے اسے دیکھا جہاں چند لمحے پہلے وہ اسے بھوکا رکھنے پر ڈانٹ رہا تھا اور اب کہاں اس کے رونے پر وہ بدمزہ ہوا تھا۔
خدا کا خوف کریں۔۔۔۔درید اس نے دہائی دی اور فوراً اپنی بیٹے کو گود میں لیا۔
یہ میرا وقت تھا بیوی۔۔۔جو اس نے لے لیا ہے وہ کڑھتا مصنوئی ناراضگی سے اپنی جگہ پر لیٹ گیا۔
توبہ ہے۔۔۔۔آپ کو ہی تب سے وقت دے رہی تھی میں اور ابھی سو جائے گا میرا بیٹا۔۔۔۔اور واقع وہ دس منٹ میں سو گیا تھا۔
دیکھو اسے بھوک لگی ہے وہ پھر سے انگوٹھا چوس رہا ہے درید ان کی طرف ہی متوجہ تھا۔
اس کی گود میں اپنے بیٹے کو دیکھتے اس نے یہ منظر دل میں قید کیا تھا۔۔۔اس کی دنیا مکمل تھی۔
نہیں۔۔۔عادت ہے چھوٹ جائے گی ربائشہ نے اس کا انگوٹھا منہ سے نکالا اور اگلے ہی لمحے حازق درید یزدانی نے کمرے کو سر پر اٹھا لیا تھا اپنے رونے سے۔
ربائشہ نے درید کو گھورا جو معصوم بنتا حازق کو اس سے تھام کر اب کمرے میں یہاں سے وہاں چکر کاٹ رہا تھا۔
اس کے سونے پر اسے لٹاتے وہ اپنی جگہ پر آیا اور اسے دیکھا جو انہیں ہی دیکھ رہی تھی۔
تھک گئے ہیں؟ کچھ چھٹیاں لے لیں۔۔۔۔ربائشہ نے اس کی شرٹ کے اوپری بٹن کو بند کرتے کہا۔
تھک تو گیا ہوں۔۔۔۔۔اور یہ تھکاوٹ بس ایک ہی انسان اس دنیا میں اتار سکتا ہے اس نے کہتے ربائشہ کو دیکھا اور اس کی گود میں سر رکھا۔
ربائشہ نے جھکتے اس کے ماتھے پر لب رکھے۔۔۔۔۔
درید۔۔۔۔تھوڑی دیر بعد اس کی آواز گونجی۔۔۔
وہ۔۔۔مام۔۔۔عورت۔۔۔۔
جلد اپنے انجام کو پہنچ جائے گی وہ۔۔۔آپ اپنے گھر پر، مجھ پر اور میرے بیٹے پر دھیان دیں بس۔۔۔ اس نے کہا تو ربائشہ نے گہری سانس بھری۔
اگر وہ کہہ رہا تھا تو یعنی یہ اس کا مسئلہ نہیں تھا وہ خود ہی ہیڈل کر لیتا۔
اور وہ مجھے کہتا ہے کہ
اسے اس کے نام سے نہ پکاروں میں
یعنی کہ اپنی جاں کو
جاناں بھی نہ پکاروں میں؟
ویسے تو مجھے حفظ ہے
اس کے چہرے کا ہر نقش مگر۔۔۔
کیا اسے دیکھنے کے
روز جتن بھی نہ پالوں میں؟
اور اس کی تعریف میں
زمین آسمان کے قلابے ملائے ہیں میں نے۔۔
وہ پھر بھی اکثر پوچھتا ہے
کہ میں کیسا لگتا ہوں تمہیں؟
از قلم سُنیہا رؤف۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شام کو وہ اپنی میٹنگ پر چلا گیا تو منت گھر میں یہاں وہاں چکر کاٹنے لگی۔
اپنے فون پر سکرولنگ کرنے لگی جب اسے ایک نمبر سے فون آنے لگا۔
اسلام علیکم! مسز تبریز شاہ! کسی لڑکی کی آواز تھی۔
وعلیکم السلام!
پہچانا نہیں مجھے؟
نہیں۔۔۔!
میرا نامی گرامہ سارا۔۔۔۔اب پہچانا۔۔۔۔؟شاید تمہیں علم نہیں تمہارے شوہر کی ہونے والی بیوی ہوں میں۔
ہونے والی۔۔۔۔ ہو نہیں گئی۔۔۔نا ہو گی تم۔۔۔ منت نے اس کی بات پر مٹھیاں بھینچتے کہا۔
ہاہاہا۔۔۔۔انسان ہار دیکھ کر ایسے ہی بوکھلا جاتا ہے۔
اچھا مزاق تھا مس سارا۔۔۔۔لیکن یاد رکھیں آپ کیا آپ جیسی دس سارا کو بھی میرا شوہر دیکھنا پسند نہ کرے۔۔۔
سارا نے ہنکارا بھرا۔۔۔۔
منگنی کی ہے اس نے مجھ سے۔۔۔۔تمسخرانہ انداز تھا۔
ٹھیک ہے ہمت ہے تو مسٹر تبریز شاہ کے سامنے جائیں، اور پوچھیں کہ تم یا منت شاہ۔۔۔۔اس کا انداز چیلینج لیے ہوئے تھا۔
اور اگر اس نے مجھے چُنا تو؟
مر کر بھی نہیں! تبریز شاہ منت شاہ پر کسی کو فوقیت دے ہی نہیں سکتا۔۔۔پُر یقیقن لہجہ تھا۔
تمہاری غلط فہمی ہے۔۔۔۔سارا چیخی۔۔۔
آواز آہستہ رکھو۔۔۔! رکو لگتا ہے میرے شوہر گھر آگئے ہیں سننا ان کے الفاظ اور غیرت ہوئی نا تو دوبارہ مُڑ کر ہمارے گھر پر نظر نا ڈالنا۔
اسلام علیکم! منت نے اس کے پاس جاتے کہا۔
وعلیکم السلام! تبریز شاہ نے اسے ساتھ لگاتے اس کے بالوں پر بوسہ دیا۔
میں کیسی لگ رہی ہوں؟
یہ پوچھنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی تمہیں؟ میری آنکھوں میں ستائش نہیں دکھی تمہیں؟ تبریز شاہ اس کال سے بالکل انجان تھا۔
شاہ۔۔۔
ہم۔۔۔۔
منت شاہ یا کوئی اور؟
کیا ہو گیا ہے منت؟
بتائیں تو؟
ہر بار منت تبریز شاہ تم ہی۔۔۔بس خوش؟ کھانا لگاؤ میں آرہا ہوں۔۔۔وہ کہتا اس کے بال بگاڑتے چلا گیا۔
منت نے فون دوبارہ کان سے لگایا۔۔۔مجھے امید ہے تم سب سن چکی ہو۔۔۔ویسے میں اپنی زاتی زندگی کو لوگوں سے شئیر کرنا پسند نہیں کرتی لیکن یہ ضروری تھا۔
یو بِچ۔۔۔۔۔
زبان سنبھال کر۔۔۔اور دوبارہ کال مت کرنا۔۔۔منت نے کہتے کال کاٹ کر اس کا نمبر بلاک کر دیا اور اندر کی طرف بڑھی جہاں سے تبریز شاہ کی تیز آواز آنے لگی تھی۔
میں شادی نہیں کروں گا۔۔۔نا آج نا کل۔۔۔وہ دھاڑا۔۔۔ یقیناً فون کرنے والی ہستی اس کا باپ تھا۔
اس کا انجام جانتے ہو تم؟
مجھے دھمکائیں مت۔۔۔۔اور۔۔۔۔
منت کے آتے وہ خاموش ہوا لیکن منت پاس آ کر کھڑی ہو گئی تو اسے حصار میں لیتا اپنا غصہ قابو کرنے لگا۔
نا رکھیں کوئی رشتہ۔۔۔۔وہ سرد انداز میں بولا تو منت نے اس کا ہاتھ تھاما جیسے اسے روکنا چاہا ہو۔
تمہارا تمہاری ماں سے بھی کوئی رابطہ نہیں رہے گا۔۔۔۔شاہ نواز غلط انسان کو آزمانا چاہ رہے تھے۔
ماں۔۔۔۔وہ ماں جس نے مجھے پیدا تو کیا لیکن کبھی مُڑ کر نہیں دیکھا، میرا حال نہیں پوچھا صرف آپ کے اور پیسے کے پیچھے رہیں وہ۔۔۔مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا آپ دونوں سے۔۔۔۔سمجھے آپ اور بچہ نہیں ہوں میں یہ دھمکیاں مجھے مت دیں یاد رکھیں اتنا بڑا ایمپائر خود کھڑا کیا ہے میں نے جس کا پروفٹ زکوٰۃ کی طرح ملتا رہا ہے آپ کو۔۔۔۔۔اتنا میرے زور بازو میں دم ہے کہ میں آپ سے لڑ سکتا لیکن صرف لحاظ کیا لیکن آپ حد سے بڑھ رہے ہیں۔۔۔جو کر سکتے ہیں کریں۔۔۔۔
فون کاٹ کر اس نے گہرا سانس بھرا۔
شاید اب وقت آگیا تھا خود کے لیے لڑنے کا۔۔۔۔اگر وہ جو نام کے والدین تھے انہوں نے ساری زندگی اس کا ساتھ نہ دیا تھا تو آج وہ ان کی پرواہ کر کے اپنی زاتی زندگی اور قلبی سکون کو کیونکر تباہ کرتا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن وہ باسط کے درید سے ملنے آنے کا نتظار کرتی تھی اور جب وہ آتا تو چہکتی یہاں سے وہاں پھرتی تھی یہ بات درید تو نہیں لیکن باسط ضیاء آہستہ آہستہ جاننے لگا تھا۔
تب ہی اسے ربائشہ کے ساتھ ہوئی انہونی کا پتا چلا اور اس نے رباب کو مہرہ بنایا۔۔۔۔
لیکن وہ خود بھی ان جذبوں سے واقف ہو گیا تھا جس میں رباب پور پور ڈوبی تھی لیکن یہ بات وہ نہیں مانتا تھا۔
اور پھر اس نے رباب کو ربائشہ کی وجہ سے نکاح میں لیا۔۔۔۔۔لیکن آہستہ آہستہ وہ سب بھول کر رباب میں کھو گیا تھا۔۔۔۔۔اسی لیے اسے اس کی فاحد سے دوستی پسند نہیں تھی۔
سب یاد کرتے وہ دونوں مسکرا رہے تھے۔۔۔۔۔باسط اسے اس کی حرکتیں بتا رہا تھا جو وہ ماننے سے انکاری تھی لیکن اس کے گلال بکھیرتے گال اس بات کا ثبوت تھے کہ وہ یہ سب کر چکی ہے۔
باسط نے اس کے بالوں پر لب رکھے تو اس نے خود میں سکون اترتا محسوس کیا۔
کھانا کھاتے باسط نے اسے سونے کا کہا تھا اور خود کام کرنے لگا لیکن وہ وہیں بیٹھی تھی اس کے پاس کیونکہ اب نیند نہیں آ رہی تھی۔
باسط۔۔۔۔۔
ہممم۔۔۔۔۔۔
چلیں باہر چلتے ہیں!
بالکل نہیں۔۔۔۔تمہاری طبیعت ابھی ٹھیک نہیں ہوئی۔۔۔
اچھا چلیں پھر مجھے فرائز کھانی ہیں۔۔۔۔اٹھیں۔۔۔
اب تم ٹھیک ہو جاؤ بنا لو۔۔۔اس نے مصروف سے انداز میں کہا۔
رباب نے اسے دیکھا جو کچھ پل پہلے کتنی تیماداری کر رہا تھا اور اب۔۔۔۔وہ اٹھی اور کچن کی طرف جانے لگی پھر دماغ میں خیال آتے ہی اس پر عمل کیا۔
اور لڑکھڑاتی نیچے گرنے لگی لیکن وہ اسے تھام گیا تھا۔۔۔۔۔
نظر نہیں آرہا ہے۔۔۔۔کام کر رہا ہوں۔۔۔کیوں تنگ کر رہی ہو۔۔۔باسط نے سخت نگاہوں سے اسے گھورا۔
وہ جان گیا تھا اس کی ڈرامے بازی کو۔
فرائیز بنا لیتے ہیں۔۔۔۔رںاب نے آنکھیں پٹپٹاتے کہا۔۔۔تو باسط اپنا لیپ ٹاپ بند کر آیا۔۔۔۔اس کی بیوی اس کا وقت چاہتی تھی۔
پھر وہ فرائی کرنے لگا۔۔۔کاٹ کر رباب نے ہی دی تھی۔۔۔اور پھر انہوں نے مووی دیکھی تھی اور باسط وہیں اس کے کندھے پر سر رکھے سو گیا تھا۔
رباب نے اسے دیکھا اور پھر مووی کو جو ابھی آدھی بچی تھی۔۔۔۔اس نے منہ بسوڑا۔۔۔
پوری دیکھ کر سو جاتے۔۔۔۔۔لیکن اب کل پر ڈالتے اس نے سب بند کیا کہ اس کی نیند خراب نہیں کرنا چاہتی تھی۔
باسط اٹھیں۔۔۔۔!
اندر چل کر سوئیں ۔۔۔اس نے باسط کو اٹھایا تو وہ اندر چلا گیا لیکن وہ وہیں بیٹھی فون پر لگ گئی۔
رباببببب۔۔۔۔۔۔
وہ سوئی جاگی کیفیت میں بھی کتنی دیر اس کا انتظار کرتا رہا تھا لیکن وہ تھی کہ آ ہی نہیں رہی تھی۔
جی۔۔۔۔!
وہ اٹھ کر اندر گئی جو نیند سے بھری آنکھوں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
چلو آؤ سو جاؤ۔۔۔۔
نہیں ابھی میں فون دیکھ رہی ہوں آپ سو جائیں۔۔۔۔اس نے کہتے باہر جانا چاہا۔
رباب واپس آؤ یار۔۔۔۔باسط نے زِچ ہوتے کہا۔۔۔وہ یہ بات کبھی کہتا نہیں تھا لیکن رباب کو خود سمجھنی چاہیے تھی کہ وہ اس کے بغیر نہیں سوتا۔
افففف۔۔۔۔باسط۔۔۔۔!
رباب نے کہتے پیر پٹکے اور آ کر لیٹ گئی۔۔۔اور فون پر اسکرولنگ کرنے لگی لیکن اب مسئلہ یہ تھا کہ فون کی روشنی باسط کے چہرے پر پڑ رہی تھی۔
باسط نے اس کے ہاتھ سے فون پکڑا اور اپنے پیچھے رکھا اور اسے حصار میں لیا۔
مجھے نیند نہیں آ رہی۔۔۔اب کہ وہ تیز لہجے میں بولی۔۔۔۔
باسط نے اس کے گال پر لب رکھے اور اس کے بالوں میں چہرا چھپایا۔۔۔۔
میں سو جاؤں۔۔۔۔پھر استعمال کر لینا۔۔۔۔لیکن باہر جا کر نہیں ۔۔۔یہیں کرنا۔۔۔باسط نے کہا تو وہ خاموش ہو گئی۔
اپنی گردن پر اس کی سانسوں کو محسوس کرتے وہ مسکرائی اور پھر اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگی اور اسکے سونے کے بعد بھی فون نا اٹھایا کہ اب سب بیکار تھا جب وہ سامنے تھا، پاس تھا۔
