Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shiddat-e-Talab Episode 7

Shiddat-e-Talab by Suneha Rauf

مہندی کہاں ہے تمہاری ۔۔۔۔باسط نے سختی سے استفسار کیا۔۔۔۔

مجھے الرجی ہو جاتی ہے۔۔۔۔اسی لیے نہیں لگوائی۔۔۔۔۔

تو اب لگوا لو۔۔۔۔۔۔کیونکہ مجھے پسند ہے۔۔۔۔۔باسط نے اس کا دوسرا ہاتھ تھامتے کہا۔

دونوں میں لگوانی ہے۔۔۔۔بلکہ پاؤں پر بھی لگوانی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔اس نے ایک اور آرڈر جاری کرتے کہا۔

رباب نے فوراً سر ہاں میں ہلایا تھا۔۔۔۔

اس کی پسند کا سنتے ہی اس نے دل میں سوچ لیا تھا کہ وہ لگوا لے گی۔۔۔۔۔۔

اب جاؤں۔۔۔۔۔؟اس نے اس کے ہاتھوں سے ہاتھ نکالتے کہا۔۔۔۔۔۔اس کے لمس سے اس کا سانس سینے میں ہی اٹکا تھا۔

چلو ۔۔۔۔۔۔اس نے کچھ سوچتے ساتھ ہی گاڑی کا دروازہ کھولا۔۔۔۔۔اور باہر نکلا۔۔۔

اندر جاتے وہ اپنے کمرے میں چلی گئی تھی بنا اسے دیکھے تو وہ درید کے کمرے کی طرف گیا۔۔۔۔۔

اس سے بات کرنے کے لیے۔۔۔۔اور آخر میں اس نے درید یزدانی کو رخصتی کے لیے منا ہی لیا تھا۔۔۔۔۔

اس کی پڑھائی۔۔۔۔۔؟

سب میں خود کروا لوں گا۔۔۔۔لیکن اب میں اکیلا نہیں جانا چاہتا۔۔۔۔

لیکن اسے کوئی کام نہیں آتا۔۔۔۔ضیاء وہ کیسے مینیج کرے گی۔۔۔۔

میں کام کروانے نہیں لے جا رہا۔۔۔۔۔صرف ساتھ لے کر جانا چاہتا ۔۔۔۔۔۔

اوکے۔۔۔مجھے اعتراض نہیں۔۔۔۔لیکن بابا سے مشورہ باقی ہے اور روبی کی مرضی شامل ہو گی اس میں تو ہی۔۔۔۔۔

اوکے اوکے۔۔۔۔۔سب سے پوچھ کے کل بتادے مجھے۔۔۔۔۔اس کا پاسپورٹ بھی بنوانا مجھے۔۔۔۔۔

اتنے دنوں میں کیسے۔۔۔؟درید سچ میں ابھی شادی نہیں چاہتا تھا اپنی بہن کی لیکن ایک طرف دوست تھا ۔۔۔۔۔وہ دوست جو ہر مشکل وقت میں ساتھ کھڑا تھا اس کے۔

سب ہو جائے گا۔۔۔۔بھورسہ رکھ۔۔۔۔۔اس نے درید کو گلے لگایا تو وہ کچھ ریلکس ہوا۔۔۔۔۔

واپسی پر گاڑی میں بیٹھے اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔۔۔۔۔پراسرار مسکراہٹ۔۔۔۔۔

میں تم سے تمہاری بہن کو بہت دور لے جاؤں گا۔۔۔درید یزدانی۔۔۔۔کہ وہ تمہیں اور تم اسے دیکھنے کو بھی ترسو گے۔

اگلے ہی روز اس کی پسند کا فیصلہ اسے سنا دیا تھا ۔۔۔۔۔شوکت یزدانی کو وہ منا چکا تھا۔۔۔۔

اور رباب کیسے منع کرتی ۔۔۔۔۔۔۔جب اسے اتنا ڈرایا گیا تھا۔۔۔۔۔۔باسط اسے دو بار فون کر کے پکا کر چکا تھا کہ وہ ہاں ہی کرے گی۔

اور پھر اس نے پاسپورٹ بنوایا تھا۔۔۔جو اس نے پہلے ہی بننے کے لیے دے دیا تھا۔۔۔۔۔وہ مکمل تیاری کے ساتھ سب کر رہا تھا۔

دوسری طرف رباب نے رو رو کر گھر سر پر اٹھایا تھا۔۔۔۔اسے پہلے نہیں معلوم تھا کہ وہ اسے اپنے ساتھ لے جائے گا۔۔۔۔۔۔

اس کے رونے کو دیکھتے شوکت یزدانی بھی اپنے فیصلے پر دوبارہ نظر ثانی کرنا چاہتے تھے لیکن درید زبان دے چکا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ اس کے پیچھے چلتی واپس اوپر آئی۔۔۔۔۔ان کو دیکھتے گراؤنڈ میں موجود لڑکے لڑکیوں میں چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں تھیں۔

وہ سامنے نیلی شرٹ ۔۔۔۔جاؤ۔۔۔۔۔۔

میں کیسے۔۔۔۔۔؟

جاؤ نہیں تو اپنی سزا کو یاد کر لو۔۔۔۔۔

منت نے تھوک نگلتے آگے قدم بڑھائے۔۔۔

رکو۔۔۔۔۔

اس نے مڑ کر اسے دیکھا تو وہ قدم قدم چلتا اس کے نزدیک آیا۔

یہ جان لو کہ تمہاری قمر پر ہاتھ پھیرنے والا وہی شخص تھا۔۔۔۔۔اور تمہاری پچھلی زپ کو کھولنے کی کوشش بھی اسی نے کی تھی۔۔۔اس نے کہا اور کندھے اچکاتا پیچھے ہو گیا۔

منت نے صدمے سے اسے دیکھا۔۔۔۔۔اسے تو لگا تھا کہ بس کوئی پیچھے سے شرارت کر رہا۔۔۔۔ا

س کی آنکھیں سرخ اور نم بیک وقت ہوئی وہ تیزی سے چلتی آگے بڑھی۔

اس لڑکے کے پیچھے جا کر کھڑی ہوئی۔۔۔۔اور اس کی قمیض کو کندھے سے تھامتے اسے جھٹکے سے کھینچا۔

شرٹ کندھے سے ہلکی سے پھٹ گئی۔۔۔۔لڑکے نے پیچھے منہ کر کے اسے دیکھا۔۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا۔۔۔

چٹاخ۔۔۔۔چٹاخ۔۔۔۔۔اس کے دونوں گالوں پر منت وقار تماچے مار چکی تھی۔

اب تمام طلبہ رک کر اس منظر کو دیکھ رہے تھے۔۔۔۔۔

آئیندہ اپنے ان ہاتھوں سے اپنی ماں بہن کو تنگ کرنا۔۔۔۔۔اس نے اس کے ہاتھ پر تھوکتے کہا۔۔۔۔۔

اوئے۔۔۔۔۔وہ لڑکا بلبلا اٹھا۔۔۔۔

تا جانتی نہیں ہے میرا باپ کون ہے۔۔۔۔

کون ہے۔۔۔۔۔زرا بتاؤ۔۔۔۔کہیں پرائم مینسٹر تو نہیں۔۔۔۔پاکسان کے۔۔۔۔وہ اتنی ہمت کبھی نہ کرتی لیکن بات اس کی عزت کی تھی۔

اگر تب وہ اس کی زپ کھولنے میں کامیاب ہو جاتا تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

یہ سوچ ہی اس کے لیے سوہان روح تھی۔۔۔اس لیے بنا سوچے سمجھے جو دل میں آ رہا تھا وہ کر رہی تھی۔

وہ جو اسے ڑرپوک ہرنی سمجھا تھا۔۔۔اس کی اتنی ہمت پر اس کے لبوں کے کونے پر قاتلانہ مسکراہٹ چھائی۔

وقار انٹر پرائیسر کے سینیئر ۔۔۔۔۔۔

اوووو۔۔۔۔میں تو آدھی ادھوری انفارمیشن سنتے ہی ڈر گئی۔۔۔۔

تمہارے والد صاحب میرے باپ کے انڈر کام کرتے ہیں۔۔۔۔یہ جو عیاشی کرتے پھر رہے ہو نا ۔۔۔۔۔اپنے باپ سے کہہ کر اس یونیورسٹی تو کیا آنے والے چار پانچ سالوں میں کسی اچھی کمپنی میں نوکری کے دروازے تم پر بند کروا دوں گی۔۔۔۔۔سمجھے۔۔۔

وہ لڑکا اس کا آدھا تعارف اور اس کی ہمت دیکھ کر ہی سمجھ گیا تھا کہ وہ کسی بڑے باپ کی اولاد ہے۔۔۔۔

معافی مانگو۔۔۔۔۔

ایسا ممکن نہیں۔۔۔۔تم مجھے مار چکی ہو۔۔۔۔۔اور معافی کس چیز کی جب میں نے کچھ کیا نہیں۔۔۔۔اس لڑکے کو اب اپنی عزت بچانی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نے ساری رات اس کو آنکھوں میں بساتے کاٹی تھی اور پھر ناجانے کیسی اس کی آنکھ لگ گئی۔۔۔

تممم۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نے محسوس کیا تھا کہ وہ مسلسل اس سے دور ہو رہی ہے۔۔۔۔اس نے نیند میں ہی اس پر اپنا حصار تنگ کیا۔

چھوڑو۔۔۔۔۔۔

اب اپنے بازو پر اس کے ناخن محسوس کرتے وہ جھٹ سے ہوش کی دنیا میں واپس آیا تھا۔

تم نے۔۔۔۔۔۔میں یہاں۔۔۔۔۔وہ ہوش میں آتے ہی یہاں وہاں دیکھنے لگی۔۔۔۔اپنے آپ کو اپنے گھر کی چار دیواری میں نا پاتے وہ پاگل ہونے کو تھی۔

میں چھوڑ آتا ہوں۔۔۔۔۔۔وہ تیزی سے حرکت میں آیا اور فوراً سے کھڑا ہوا۔۔۔۔

میں یہاں کیسے۔۔۔۔تم لائے ہو نا۔۔۔۔۔۔وہ آپے سے باہر ہونے کو تھی۔

ہاں تمہاری طبیعت۔۔۔۔۔اس نے اسے دیکھا جو تیزی سے بیڈ سے اترتی کھڑی ہوئی تھی۔

تم نے پھر کچھ۔۔۔۔۔۔اے میرے خدا۔۔۔۔۔وہ اپنے سر پر ہاتھ مارتی ہزیانی کیفیت میں بولی۔

ریلکس رہو۔۔۔۔۔رابی۔۔۔۔چلو۔۔۔۔

اپنی زبان سے میرا نام تک نہ لینا درید یزدانی۔۔۔

تم اس دنیا کے آخری شخص بھی نہیں ہو گے جس کو میں دیکھنا یا سننا چاہو گی۔۔۔۔تمہاری ۔۔۔۔تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے یہاں لانے کی۔۔۔۔

ہمت کر لی تھی اب چلو۔۔۔۔۔اس نے فوراً آگے بڑھتے کہا۔

انسان کی فطرت کبھی نہیں بدلتی۔۔۔۔۔اس نے تمسخرانہ انداز میں کہا۔

رابی جانا ہے تو چھوڑ آتا ہوں۔۔۔۔اس کے بعد نہیں جاؤ گا۔۔۔۔اس نے تحمل سے کہا۔

ربائشہ حق نام ہے میرا۔۔۔۔تم سے بہتر کون جانتا ہے۔۔۔۔۔۔نام لو۔۔۔۔میں تمہاری کوئی لنگوٹیا یار نہیں ہوں جو اس طرح سے مجھ سے مخاطب ہو۔۔۔۔

اور۔۔۔

آ گئے نا اپنی اوقات پر مجھے میرے گھر سے راتوں رات اٹھا لائے۔۔۔۔اور یہاں یہ سب۔۔۔۔۔وہ غصے کی شدت سے پاگل ہوتی چلا رہی تھی۔

بکواس نہیں کرو۔۔۔۔۔۔۔رابی۔۔۔۔چلو اس نے آگے بڑھتے اس کا ہاتھ تھاما تھا۔

اپنے ان ہاتھوں سے چھونا مت مجھے کبھی۔۔۔۔۔نفرت ہے مجھے تم سے بے انتہا نفرت۔۔۔۔۔۔اس نے اسے دھکا دیتے کہا۔

نفرت ہے نا تو میں بتاتا ہوں تمہیں نفرت کرتے کس طرح ہیں۔۔۔۔۔۔درید اسے گھسیٹا اپنے ساتھ سیڑھیاں اترتا نیچے آیا۔

چھوڑو۔۔۔۔۔۔یزدانی۔۔۔۔۔وہ چیخ رہی تھی لیکن کوئی سننے والا نہ تھا۔

وہ اس کے لیے جتنا بھی پاگل سہی۔۔۔۔۔۔لیکن اس کی اتنی نفرت وہ برداشت نہیں کر سکتا تھا۔

ایک نا ایک دن وہ حقیقت جان جاتی۔۔۔۔لیکن تب تک کیا۔۔۔۔تب تک وہ اس کے جزبات کا قتل کر کے اسے زندہ درگور کردے گی۔

اسے بیسمنٹ میں لاتے اس نے اس کا ہاتھ چھوڑا۔۔۔۔۔۔

ربائشہ نے یہاں وہاں دیکھا۔۔۔۔۔آس پاس صرف اندھیرا تھا۔۔۔۔۔ہلکی روشنی میں اسے صرف کچھ چیزیں دکھائی دی تھیں اور وہ اس کی اپنی تھیں۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رباب کے رونے کا سنتے اس نے فون کیا تھا اسے۔۔۔۔وہ جو اب بھی رونے کا شغل کرتی اپنی پیکنگ کر رہی تھی بنا دیکھے فون اٹھایا۔

کس بات کا رونا آ رہا ہے تمہیں۔۔۔۔۔

دوسری طرف سے آواز سنتے اس نے فون کان سے ہٹاتے نمبر دیکھا۔

اس کا آدھا سانس اوپر کا اوپر اور نیچے کا نیچے ہی رہ گیا۔۔۔۔

بتاؤ۔۔۔۔۔کیا تم وہ پہلی لڑکی ہو جو اپنے شوہر کے ساتھ جا رہی ہو ۔۔۔۔اور ہم کون سا دوسرے ملک جا رہے ہیں دوسرے شہر جا رہے ہیں۔۔۔۔اس نے کہا تو وہ وہیں بیٹھ گئی۔

بولو اب۔۔۔۔۔

کیا بولوں۔۔۔۔وہ۔سوں سوں کرتی بولی۔۔۔۔۔

مہندی لگوا لی ہے۔۔۔۔۔باسط نے اس کے سوں سوں کو اگنور کرتے پوچھا۔۔۔۔

نہی۔۔۔نہیں۔۔۔۔

کس خوشی میں۔۔۔۔

بس جانے ہی والی تھی پارلر۔۔۔۔۔۔

میں بھیج رہا ہوں لڑکی۔۔۔۔۔۔اس نے کہتے فون کاٹا۔۔۔۔۔

رباب نے فون بند کرتے آنکھیں موندی۔۔۔۔کیا ہو رہا تھا اسے کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی۔۔۔۔

ایسا نہیں تھا کہ وہ ناخوش تھی۔۔۔۔لیکن اتنی جلدی سب۔۔۔۔۔۔اس نے رب کی رضا مان کر آنسو پونچھے۔

کہ وہ ہر حال میں شکر ادا کرنے پر یقین رکھتی تھی۔۔۔۔اور باسط ضیاء کو تو بچپن سے اس نے سوچا تھا۔

اس نے منہ دھویا اور اس مہندی والی لڑکی کا انتظار کیا۔۔۔۔۔

کیا تھا اگر اسے الرجی تھی۔۔۔۔لیکن لگوانی تو تھی اب۔۔۔۔

اس نے گہری سانس بھری۔۔۔۔۔اپنی آنے والی زندگی کے لیے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگلے ڈیڑھ گھنٹے میں اس کے ہاتھ پاؤں بھر کے وہ لڑکی جا چکی تھی۔۔۔۔۔

اس نے بے حد ضد کی تھی کہ صرف ہلکی ہلکی ٹکی بنائے لیکن وہ لڑکی سر نے کہا ہے ایسے کرنے کو کی رٹ لگائے بیٹھے تھی۔

اس نے ہر پتی پر باسط ضیاء کو کوسا تھا۔۔۔۔۔۔اب وہ اپنے ہاتھ پاؤں کو دیکھ رہی تھی جو رنگے جا چکے تھے۔

اب اسے بے انتہا بھوک لگی تھی کیونکہ صبح سے پیکنگ کرتے اس نے ناشتہ بھی نا کیا تھا۔

اب کھا بھی نہیں سکتی تھی کیونکہ اسے تیار ہونا تھا جس کے لیے اس کی کزن آ چکی تھی۔

شوکت یزدانی اور درید اسے کافی بار بلا چکے تھے لیکن بھوک نہیں ہے کا کہہ کر اس نے ٹال دیا تھا۔

آج ان کی مہندی تھی جو اکٹھے ہونا قرار پائی تھی کیونکہ باسط کے زیادہ رشتہ دار نہ تھے اس لیے اس نے یہاں آنا تھا۔

رباب نے اپنی مرضی سے گھونگھٹ کیا تھا۔۔۔جس سے اور کسی کو تو نہیں لیکن باسط ضیاء کو رہ رہ کر غصہ آرہا تھا۔

کھانا کھایا جا چکا تھا رسم ہوتے ہی اس نے درید کو بلا کر اپنے کمرے میں جانے کی فرمائش کی تھی۔

لڑکے اب سب ہلا گلا کر رہے تھے۔۔۔۔مہمان زیادہ نہ تھے اس لیے رسم بھی ہو چکی تھی دونوں کو آمنے سامنے بٹھایا گیا تھا اور ہلدی لگائی گئی تھی۔۔۔۔۔رباب نے ہلدی لگاتے گھونگھٹ ہٹا دیا تھا۔

باسط ضیاء سارے وقت سنجیدگی سے ہی بیٹھا رہا تھا۔۔۔رباب کا درید کو بلا کر کچھ کہنا اور پھر اٹھ کر چلے جانا اس نے سب دیکھا تھا۔

درید رباب کی تھکاوٹ کا اس کو بتا چکا تھا۔

وہ پچھلے دو گھنٹے سے لڑکوں کے درمیان بیٹھا تھا۔۔۔۔۔رات کے ایک بجے اس نے درید سے معزرت کی تھی اور جانے کے لیے اٹھا تھا کہ اب وہ بھی تھک گیا تھا۔

لیکن جانے سے پہلے وہ اس سے سے ایک بار ملنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔۔ اس کا پاسپورٹ اسے دینا تھا۔

اور اب پرسو رخصتی پر ہی ملاقات ہونی تھی ۔۔۔۔۔۔۔اس سے پہلے کچھ تو ڈوز دینا بنتا تھا اس ڈرپوک ہرنی کو۔

وہ سب کو کاموں میں مصروف دیکھ کر اٹھا اور اندر اس کے کمرے کی طرف گیا۔۔۔۔

باہر رکا۔۔۔۔تو اندر سے آواز آئی ۔۔۔۔۔مجھے بھوک لگی ہے مشی۔۔۔۔۔۔تمہیں تصویروں کی پڑی ہے۔۔۔۔۔

تو کھا لینا پہلے بنوا لو ہمارے ساتھ تصاویر۔۔۔ان لڑکیوں کو اپنی ہی پڑی تھی۔۔۔۔لیکن اس کا روہانسی چہرہ اور نو لفٹ کا بورڈ دیکھ کر سب اٹھ کر باہر نکلی۔

اس کے نکلتے ہی وہ دروازے سے ہٹ کر سائیڈ پر ہوا تھا جہاں اندھیرا تھا اس لیے کوئی اسے نا دیکھ سکا تھا۔

وہ اندر گیا اور جا کر اندر سے دروازہ لاک کیا تھا اور اس کا انتظار کیا جو واش روم میں تھی۔

اس نے دیکھا اس دن کے دلوائے اس کے گجرے سامنے سنگھار میز پر پڑے تھے ۔۔۔جس کے پھول سوکھ چکے تھے۔

اس کا دل عجیب سا ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔تب تک وہ آ چکی تھی اور اس کو دیکھا جو سامنے بیڈ پر آدھا لیٹا آدھا بیٹھا تھا۔

رباب نے اس کو دیکھا اور اپنے آپ کو۔۔۔۔۔شرمندگی سے اس کا سر جھکا۔۔۔۔۔۔کیونکہ وہ دوپٹہ واشروم میں جانے سے پہلے وہیں رکھ کر گئی تھی۔

اس نے دیکھا دوپٹہ اب آدھا ان مہراج کے نیچے تھا ۔۔۔۔جو بیٹھے ایسے تھے جیسے کسی سلطنت کے بادشاہ ہوں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دلچسپ۔۔۔۔۔تبریز شاہ مسکرایا ۔۔۔۔

اس نے فون پر انگلیاں چلائی اور اس لڑکے کو دکھائی۔۔۔۔ویڈیو میں صاف پتا چل رہا تھا کہ وہ واقعی وہ سب کر رہا تھا جو تبریر نے منت کو بتایا تھا۔

تبریز شاہ نے یہ ویڈیو صرف اسے دکھائی تھی۔۔۔کہ اس میں منت وقار انوولو تھی۔

وہ پیچھے ہٹا اور مڑ کر واپس جا کر اپنی سابقہ پوزیشن میں کھڑا ہو گیا۔۔۔۔۔

اس لڑکے نے تھوک نگلتے منت کو دیکھا جو اب چہرہ گھمائے تبریز شاہ کو دیکھ رہی تھی۔

آئیم سوری۔۔۔۔۔

ہم۔۔۔منت نے بے خیالی میں کہا۔۔۔۔

آواز نہیں پہنچی لوگوں تک۔۔۔۔تبیریز شاہ نے ہانک لگائی۔۔۔۔

میں معافی مانگتا ہوں۔۔۔۔اس لڑکے نے زرا اونچی آواز میں کہا تو منت مڑ کر واپس آ گئی۔۔۔۔اس سے زیادہ تماشے کی متحمل نہیں تھی وہ۔

اس سے پہلے کہ وہ پاس آتی تبریز شاہ جا چکا تھا۔۔۔۔اس نے بھی آخری لیکچر کو مس کرتے ڈروائیور کو فون کیا اور گھر چلی گئی۔

اس دن کے بعد سے تبریز شاہ اسے کم ہی نظر آیا تھا لیکن جب بھی آیا تھا اس سے کوئی نا کام کہہ دیتا تھا۔

ابھی آج بھی وہ اس کی اسائنمنٹ بنا کر لائی تھی جو اس نے کل تھمائی تھی اسے۔۔۔۔

ساری رات نیند میں اونگنے کے باوجود اس نے اس کی اسائنمنٹ پوری کی تھی۔

اب بھی وہ جمائی لے رہی تھی کہ وہ سامنے سے آتا دکھا اسے اور پھر اس کے پاس آ کر کھڑا ہوا۔۔۔۔

کام کر لیا۔۔۔۔

ہم ۔۔۔۔اس نے اس کی فائیل آگے کی۔۔۔

تیریز شاہ نے کھولی اور ایک نظر دیکھتے واپس اسے دیکھا جس کی آنکھیں رات نیند پوری نہ ہونے کی گواہی دے رہی تھی۔

ظفر۔۔۔۔

اس نے اپنی کلاس کے لڑکے کو آواز دے کر بلایا۔

جی تبریز بھائی۔۔۔۔۔وہ اس سے چھوٹا تھا اور اس کی کافی عزت کرتا تھا ۔۔۔۔منت سب خاموشی سے دیکھ رہی تھی۔

اسائنمنٹ بنائی ہے سر خلیل کی۔۔۔۔۔۔اس نے فائیل پر نظر دوڑاتے کہا ۔

نہیں بھائی۔۔۔۔آپ کو پتا تو ہے ہماری بہن کا نکاح تھا تو بس مصروفیات۔۔۔۔

یہ لو۔۔۔۔اس نے اپنی فائیل آگے کی۔۔۔منت جو کب سے عدم دلچسپی لیے بیٹھی انہیں سن رہی تھی چونکی۔

بھائی یہ تو آپ کی۔۔۔۔

نہیں تم رکھ کو۔۔۔۔میں نے اپنی رات کو ہی بنائی ہے خود۔۔۔۔۔۔اچھے سے پڑھ لینا کسی اناڑی سے بنوائی ہے یہ نا ہو تمہارے نمبر کٹ جائیں۔۔۔۔

جی شکریہ بھائی۔۔۔وہ خوشی خوشی وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔

تبریز شاہ نے مڑ کر اسے دیکھا جو اپنی جگہ پر نہیں تھی۔۔۔۔۔وہ کچھ دور جاتی اسے دکھائی دی۔۔۔۔اس کی پشت سے اندازہ لگانا مشکل نہ تھا کہ وہ رو رہی تھی۔۔۔۔۔

اس نے آج پھر کوئی کلاس نہیں لی تھی۔۔۔۔۔تںریز شاہ کو اندازہ تھا کہ وہ اس کی پڑھائی خراب کر رہا ہے۔

کچھ سوچتے اس نے اپنی کلاس کی طرف قدم بڑھائے پھر کچھ سوچتے اپنے ڈرائیور کو فون کیا۔

جی سر وہ جا چکی ہیں۔۔۔۔

اوکے۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جس دن تم حقیقت جان گئی اس دن تم خود سے نظریں نہیں ملا پاؤ گی۔۔۔۔جیسے میں نہیں ملا پاتا۔۔۔۔۔

وہ رات میں آج تک نہیں بھول پایا۔۔۔۔۔اگر ان دوائوں کا سہارا تم نے لیا ہے تو میرا اندر بھی خالی ہے کہیں نا کہیں۔

ایک دن ۔۔۔۔۔۔ایک دن ربائشہ درید یزدانی۔۔۔۔۔وہ کہتا نیچے بیٹھتا چلا گیا۔۔۔۔۔

وہ بھی اندر بیٹھ گئی تھی۔۔۔۔۔۔اس کی نظر اس کے ان کپڑوں پر پڑی جو اس نے اس رات پہن رکھے تھے۔۔۔۔

اس کے چلانے کی آوازیں درید یزدانی نے باہر تک سنی تھی۔۔۔۔

لیکن اس کے لفظوں کی اتنی سزا تو بنتی تھی۔۔۔۔

اگر اس رات کی آگ اسے روز جلاتی تھی تو اس کا پورا حق تھا اس آگ میں خاک ہونے کا۔۔۔۔

گھنٹے گزر گئے تھے۔۔۔۔۔صبح سے شام ہو گئی تھی۔۔۔۔۔ان دو لوگوں نے اس دروازے کو سہارا بنایا تھا۔

درید یزدانی کو آج بھی یاد تھا۔۔۔۔کیسے اس شخص نے اتنی ہمت کی تھی۔۔۔

اور اس کے بعد جو ہوا تھا وہ چنگاری تھی۔۔۔۔۔جو اب تک بجھی نہ تھی۔۔۔۔

اندر سے کچھ آواز محسوس کرتے اس نے تیزی سے دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوا۔

وہ سامنے دیوار کے ساتھ بیٹھی تھی۔۔۔۔ساتھ پڑی کرسی پر سے کیل کو کھینچ کر نکالا تھا اس نے اور اب اسے عجیب سے اندر سے دیکھ رہی تھی۔

درید یزدانی کا سانس سوکھا تھا۔۔۔۔وہ لڑکی پاگل تھی۔۔۔اور عنقریب اسے بھی پاگل کرنے والی تھی۔

وہ تیزی سے آگے بڑھا اور اس کے ہاتھ سے وہ کیل کھینچنا چاہا۔۔۔۔جو اس نے تیزی سے اس کے کاندھے میں گاڑا تھا۔

خون بھل کر باہر نکلنے لگا۔۔۔تو اس نے صدمے کی سی کیفیت سے نظریں اٹھائیں اور اس شخص کو دیکھا جو ہونٹ بھینچے ہوئے تھا۔

درید یزدانی نے اُف تک نہ کیا تھا۔۔۔

خو۔۔۔۔خون۔۔۔۔۔۔

خون ہے یہ۔۔۔۔۔اس نے اس کی توجہ اس کی طرف کروانی چاہی۔۔۔۔۔۔لیکن وہ اس کے ڈرے سہمے روپ کو دیکھ رہا تھا۔

تمہاری پہنچائی ہر تکلیف کو ایسے ہی سہتا آیا ہوں میں ربائشہ حق۔۔۔۔۔یاد رکھو جس دن میں نے حساب لینے کا آغاز کیا تم کہیں کی نہیں رہو گی۔۔۔۔۔اس کی گردن میں ہاتھ ڈالتے جھٹکے سے اس کے کان میں وہ پھنکارا۔

خون۔۔۔۔۔اب اس کی ہچکی بندھ گئی۔۔۔۔ان دونوں کا وجود پسینے میں نہا چکا تھا۔۔۔۔چہرے پسینے اور آنسوؤں سے نم تھے۔

مجھے تم پسند نہیں۔۔۔۔اس نے دھیمے سے کہا۔۔۔۔

تمہیں میں زہر بھی لگو نا۔۔۔۔تو یہ زہر تمہیں کھانا پڑے گا ربائشہ درید یزدانی۔۔۔

مجھے طلاق چاہیے۔۔۔۔۔اس نے ٹرانس کی سی کیفیت میں کہا۔

وہ جو کب کا تکلیف لبوں کے کونے کو دانت میں دبائے کھڑا تھا۔۔۔۔۔۔حرکت میں آیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میری موت بھی تمہیں میرے نام سے آزادی نہیں بخشے گی۔۔۔۔۔۔کیونکہ تمہیں ساتھ لے کر مروں گا میں۔۔۔۔

اگلی بار یہ الفاظ سنے میں نے تو گردن کاٹ کر یہیں کہیں دفن کر دوں گا کسی کو خبر بھی نا ہو گی۔۔۔۔۔اس نے جھٹکے سے اس کی گردن میں پیچھے سے ہاتھ ڈالتے اس کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑھتے کہا۔

چھوڑو۔۔۔۔وہ خوفزدہ تھی۔۔۔۔اس کے قریب آنے سے زیادہ اس کے خون کو دیکھتے۔

مجھے واپس چھوڑ کر آؤ۔۔۔۔۔

تم آج رات یہیں گزارو گی۔۔۔۔

یہ ممکن نہیں ہے۔۔۔۔

میں ممکن بنا دوں گا۔۔۔۔

میری زندگی تم جہنم بنا چکے ہو۔۔۔۔۔مزید مجھ پر زندگی حرام مت کرو۔۔۔۔

یہ جو گہرا گھاؤ تم نے دیا ہے اس کے ساتھ ڈرائیونگ نہیں کر پاؤں گا میں۔۔۔۔اس نےاس کی ہر بات کو اگنور کرتے باہر کی طرف قدم بڑھائے تو وہ تیزی سے پیچھے ہوئی۔

میں خود جا سکتی ہوں۔۔۔۔۔

کیا تم اپنی حفاظت کر سکتی ہو۔۔۔۔۔

نہیں جب تم سے نا خود کو بچا سکی تو باقیوں سے بھی اگر نہ بچا پاؤں تو کیا فرق پڑتا ہے ۔۔۔

ہاہاہا۔۔۔۔۔اچھا مزاق تھا اس نے کہتے بٹن دباتے اوٹومیٹک لاک لگائے تھے گھر کو۔۔۔۔۔۔۔جووہ جان گئی تھی۔

درید یزدانی۔۔۔۔۔۔تم ایسا نہیں کر سکتے۔۔۔۔

میں کر چکا ہوں۔۔۔۔۔ اس نے واش روم میں جاتے شرٹ اتارتے شاور اون کیا تو وہیں تھم گئی۔

وہ کیسے زخم کو ٹھنڈے پانی سے ہی دھو رہا تھا لاپرواہی سے۔۔۔۔۔اس کے دل میں پل کے لیے ہمدردی آئی جسے اس نے سلا دیا۔

وہ وہیں بیٹھ گئی کیونکہ وہ دروازے سارے بند کر چکا تھا۔۔۔۔۔دروازوں پر محنت کرنا بیکار تھا اس لیے وہ تھک کر وہیں لیٹ گئی کہ کھانا اور دوا نہ لینے اب اس کا جسم تھک سا گیا تھا۔

اٹھو۔۔۔۔کھانا کھاؤ۔۔۔۔ وہ باہر آیا تو وہ بے سدھ پڑی تھی۔

مجھے کچھ نہیں کھانا۔۔۔۔مجھے گھر چھوڑ کر آؤ وہ تیزی سے اٹھی لیکن اس کا سر تیزی سے گھوما تھا۔

دوا لے آیا تھا رات میں ساری۔۔۔۔۔بدلوائی ہیں اب سے وہیں کھاؤ گی ۔۔۔۔۔اس کے علاؤہ کھانے کی ہرگز کوشش مت کرنا۔۔۔

تم میرے باپ مت بنو۔۔۔۔اس نے دکھتے سر کے ساتھ چیختے کہا تو وہ قدم قدم چلتا اس کے قریب آیا۔

باپ نہیں۔۔۔۔

لیکن شوہر ضرور بنوں گا۔۔۔۔۔۔ جو ہوں میں تمہارا۔

ہو لیکن زیادہ دیر نہیں رہو گے۔۔۔۔میں خلا۔۔۔۔

اس نے اس کی کہنی کو مڑوڑے قمر کے ساتھ لگایا۔۔۔۔۔ایک بار کی بات اپنے پلے باندھ لو مس ربائشہ درید یزدانی مجھ سے پیچھا کسی صورت نہیں چھڑوا سکتی تم۔۔۔۔۔اس طرح کے الفاظ میں دوبارہ تمہارے منہ سے نا سنو۔۔۔۔

چلو۔۔۔۔اسے گھسیٹتا اپنے ساتھ وہ کچن میں لایا تھا وہ اس کے ساتھ کٹی ڈور کی مانند چلی آئی۔

اس نے فریج سے آتا نکالا اور اس کے لیے اور اپنے روٹی بنائی۔۔۔۔۔وہ اکیلا رہتا یہ سب اچھے سے سیکھ گیا تھا۔۔۔

چائے بناتے اس کے آگے رکھی۔۔۔۔وہ جانتا تھا انڈے سے اسے الرجی ہے۔۔۔۔اس نے خاموشی سے بنا کچھ کہے کھایا کہ بھوک سے اب وہ نڈھال ہو رہی تھی۔

کھانا کھاتے اس نے وہیں میز پر سر رکھ دیا۔۔۔۔تو اٹھا اور اس کی دوا لینے گیا واپس آیا تو اپنی جگہ پر نہیں تھی

اس نے نظریں دوڑائیں تو وہ لاؤنج میں صوفے پر اوندھے منہ پڑی تھی۔

اس نے گہری سانس بھری۔۔۔۔وہ مشکل امتحان تھی۔۔۔۔اس کے پاس جاتے وہ گھٹنوں کے بل بیٹھا۔۔۔۔

وہ سو گئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔اتنی جلدی اس کو نیند نہ آتی تھی۔۔۔۔۔لیکن آج وہ سو گئی تھی۔۔۔۔وہ واپس گیا کمفرٹر لایا اور اس پر اوڑھا۔۔۔۔

اگر وہ دوا لیے بغیرسو گئی تھی تو اس سے اچھا کیا تھا۔۔۔۔اسے دوائیوں کی لت سے ہی تو نجات دلوانی تھی۔

ربائشہ درید یزدانی تم میرا قیمتی اساسہ ہو۔۔۔میرے جینے کی آخری اور واحد امنگ۔۔۔۔۔۔اس کے ماتھے سے بال ہٹاتے اس نے لب رکھے اور سب لوک کرتا باہر نکل گیا۔

اس کے جاگنے سے پہلے اسے پٹی کروا کر واپس آنا تھا کہ درد اب حد سے بڑھ رہا تھا۔