Shiddat-e-Talab by Suneha Rauf NovelR50408 Shiddat-e-Talab Episode 2
No Download Link
Rate this Novel
Shiddat-e-Talab Episode 2
Shiddat-e-Talab by Suneha Rauf
صوفے پر وہ پڑا ہلکا ہلکا اب جھوم رہا تھا۔۔۔۔۔۔دنیا کی رنگینیوں میں کھوئے وہ اپنے وجود سے بے نیاز وہاں پڑا تھا۔
یزدانی ۔۔۔۔۔اٹھ۔۔۔۔تیرے باپ کا فون ہے۔۔۔۔اس کے دوست نے اسے ہلایا تو وہ جھٹکے سے اٹھ بیٹھا۔
جی پاپا۔۔۔۔اس نے اپنے لہجے کو حتیٰ الامکان نارمل کرنے کی کوشش کی۔
کہاں ہو۔۔۔؟
دوست کے گھر۔۔۔۔اس نے اپنی بیئرڈ پر ہاتھ پھیرا۔
اسی دوست کے گھر ریڈ پڑی تو کل کی سرخیوں میں ہو گا کہ ریٹائر ڈی ایس پی شوکت یزدانی کا اکلوتا بیٹا ایس ایچ او درید پزدانی بار میں موجود آخری صوفے پر جھومتے پائے گئے فون سے بھاری آواز گونجی۔
اس نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا۔۔۔۔
پاپا۔۔۔۔ان سب کی عادت ڈال لیں۔۔۔۔آپ کو میں یہیں ملوں گا اس نے دھیرے سے کہا۔
کوئی فضول بکواس نہیں۔۔۔ڈرائیور پہنچ رہا ہے۔۔۔سیدھا گھر پہنچو۔۔۔۔انہوں نے کہہ کر اسکی بات سنے بغیر فون کاٹ دیا۔
اس نے آخری نظر اسٹیج پر جھومتے لوگوں پر ڈالتے باہر کی طرف قدم بڑھائے، اپنے باپ کی بات کو مر کر بھی رد نہیں کر سکتا تھا۔
گھر پہنچا تو گھر ہمیشہ کی طرح اندھیرے میں ڈوبا تھا۔۔۔اس نے گہری سانس بھری اور اپنے کمرے کی طرف قدم بڑھائے۔
صاحب آپ کو بڑے صاب نے اپنے کمرے میں بلایا ہے ملازمہ کی آواز سنتے اس نے اپنے قدم ان کے کمرے کی طرف موڑے۔
دروازہ کھول کر اس نے سامنے دیکھا جہاں وہ اپنے بیڈ پر بیٹھے کسی کتاب کا مطالعہ کر رہے تھے۔
آپ نے بلایا ۔۔؟
بیٹھو۔۔۔۔انہوں نے اسے اپنے پاس بیٹھنے کا اشارہ کیا تو وہ خاموشی سے سر جھکا کر بیٹھ گیا۔
درید کب چھوڑو گے یہ سب۔۔۔۔۔؟
اپنی نوکری پر دھیان دو۔۔۔تمہیں عوام کی بھلائی کے لیے چنا گیا ہے اور تم یہ سب۔۔۔۔۔
نہیں نبھانا مجھے کوئی عہد اس قانون سے۔۔۔۔۔جو میری ماں کو انصاف نہ دلوا پایا۔۔۔۔اس نے درشتی سے ان کی بات کاٹتے کہا۔
تو ڈھونڈو۔۔۔۔۔۔اس شخص کو۔۔۔۔۔اس وردی کو کام میں لاؤ۔۔۔۔۔اسے اپنا پیشن بناؤ۔۔۔۔نہیں تو یہ کرسی تم سے جلد لے لوں گا میں ۔۔۔۔انہوں نے اسے تنبیہ کرتے کہا۔
جاؤ سو جاؤ۔۔۔۔انہوں نے کہا تو وہ شکستہ قدم لیے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح کے چار بجے اس کا فون مسلسل رنگ ہو رہا تھا۔۔۔۔۔اس نے فائیل سے نظر اٹھا کر دیکھا وہ اس وقت کہاں سوتا تھا۔
ہلے اس نے اگنور ہی کیا تھا لیکن مسلسل تیسری بیل پر اس نے فون اٹھایا۔
ہیلو۔۔۔۔اس کے گھمبیر آواز فون پر گونجی۔۔۔۔
ہی۔۔ہیلو۔۔۔اس۔۔۔اسلام علیکم!
جی بولیں کس سے بات کرنی ہے؟؟اس نے جھنجھلا کر پوچھا۔۔۔۔
میں ۔۔۔رابی۔۔۔میرا مطلب ہے کہ تبریز شاہ سے بات ہو سکتی ہے ؟
تبریز شاہ ہیئر ۔۔۔۔بولیں کیا بات کرنی ہے۔۔۔۔؟؟
اس نے آنکھوں سے نظر کا چشمہ ہٹاتے کہا۔۔۔۔کسی لڑکی کا فون اسے وہ بھی صبح کے چار بجے یہ عام بات تھی۔
لڑکیاں اس سے شادی، ملاقات اور ناجانے کس کس چیز کی خواہش مند تھیں اس لیے اس کا نمبر کہیں نا کہیں سے ڈھونڈ کر ملا دیا کرتی تھی۔
جلدی بولو!
اس کی سخت آواز سنتے رابی نے تھوک نگلا۔۔۔۔کیا وہ ٹھیک کر رہی تھی۔۔
مجھے۔۔۔۔آپ کو کچھ۔۔۔بتا۔۔۔بتانا ہے وہ دھیمے سے بولی۔۔۔۔۔
دیکھو لڑکی جو بولنا ہے جلدی بولو۔۔۔۔تم میرے وقت کا ضیاح کر رہی ہو۔۔۔
ایکسکیوزمی!۔۔۔منت وقار کے ساتھ آپ ہیں؟نرس کی آواز سنسان کوریڈور میں گونجی۔
جی؟۔۔۔۔فون پر پکڑ ڈھیلی پڑی تھی۔
ان کو بلڈ کی ضرورت ہے۔۔۔۔۔۔فوراً انتظام کریں نہیں تو ان کی جان بھی جا سکتی ہے۔؟۔۔وہ کہہ کر جا چکی تھی۔۔۔رابی کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے پڑے۔
اس کا دھیان اس فون کال کی جانب سے ہٹ چکا تھا۔۔۔۔۔یہی اس کی غلطی ہونے والی تھی۔
تبریز شاہ بستر سے فوراً کھڑا ہوا تھا۔
طاہر ایک نمبر بھیج رہا ہوں ۔۔۔۔۔لوکیشن فوراً ٹریس کرو۔۔۔پندرہ منٹ ہیں تمہارے پاس۔۔۔۔
راشدہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔راشدہ۔۔۔۔۔۔
جی جی صاب۔۔۔۔وہ کھلی بند آنکھوں سے بھاگی چلی آئی۔
سامان پیک کر دو میرا۔۔۔۔اور زاہد کو بولو گاڑی نکالے۔۔۔۔۔۔
ہم آج ہی اس کے شہر جائیں گے اس نے کہتے ایک اور فون نمبر ملایا ۔۔۔۔۔
بلڈ کا نتظام کرو فوراً۔۔۔۔۔۔ہری آپ وہ چیخا۔۔۔
اتنی جلدی نہیں ۔۔۔۔منت وقار۔۔۔۔تبریز شاہ تمہیں ایسے تو نہیں مرنے دے گا۔۔۔۔بہت سے حساب نکلتے ہیں تمہاری طرف ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ خبر ضیاء تک بھی پہنچ چکی تھی۔۔۔۔۔وہ سمجھانے کے بعد بھی تاخیر کا کہہ رہی تھی۔۔۔اس نے مٹھی بھینچی۔
گھڑی پر وقت دیکھا جو رات کے ساڑھے بارہ بجا رہی تھی۔۔۔۔اس نے گاڑی کی چابی اٹھائی۔
ٹیڑھی کھیر ہو تم رباب یزدانی۔۔۔۔ایسے نہیں مانو گی۔۔۔۔
اسے دیکھتے واچ مین نے اندر آنے دیا تھا انہیں پتا تھا وہ درید کا دوست تھا۔
سر درید سر گھر نہیں ہیں۔۔۔ وہ بھاگا آیا تھا اسے اطلاع دینے۔
ہاں میں جانتا ہوں کاکا۔۔۔اس کے کمرے سے ایک فائیل لینے آیا ہوں اس نے جھوٹ بولتے قدم اندر کی طرف بڑھائے۔
وہ چاہتا تو چھپ کر آ سکتا تھا۔۔۔۔لیکن وہ ڈرتا نہ تھا کسی سے اور درید سے اب وہ دوری بڑھائے ہوئے تھا۔
جب تک وہ اپنی چال میں کامیاب نہ ہو جاتا وہ کچھ بھی خراب نہیں کرنا چاہتا تھا۔
گھر سارا اندھیرے میں ڈوبا تھا وہ اس کے کمرے میں آیا جو لاک نہ تھا اندر قدم رکھا تو اسے لگا وہ کسی بچے کے کمرے میں آیا ہے۔
سکائی بلو کلر کا فرنیچر،پینٹ سب دیوار کے ساتھ پڑے دو اس کے وجود سے بڑے ٹیڈی بئیر ۔۔۔۔۔۔
اس کے وجود پر نظر پڑتے ہی اس کا غصہ پھر سے عود آیا تھا۔
اس کے پاس آتے اسے دیکھا جو بے ڈھنگے طریقے سے پورے بیڈ پر آڑھی ترچھی پری تھی۔۔۔۔۔کمفرٹر آدھا بیڈ پر آدھا زمین پر تھا۔۔۔۔اس کے اپنے بال بھی آدھے اس کے وجود کے نیچے تھے۔
سلیپنگ سوٹ میں وہ بیشک چھوئی موئی سے حسینہ لگ رہی تھی۔
باسط ضیاء اس کے بال مٹھی میں دباتے اس پر جھکا تھا۔۔۔۔
رباب کی نیند میں خلل اس کے چہرے پر پڑتی کسی کی جھلستی سانسوں نے ڈالا تھا۔
اس کے مندی مندی آنکھیں کھولیں تو اسے دیکھا جو کچھ فاصلے پر اس پر جھکا اسے ہی دیکھ کم گھور زیادہ رہا تھا
وہ جھٹکے سے اٹھ بیٹھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وقت نے کیسا ستم کیا تھا اس کے ساتھ اسے معلوم تھا اس کی ماں اس کی سگی نہیں لیکن کیا وہ انسانیت کے درجے سے بھی گر گئی تھی۔
اس نے ایک نظر اپنے تائے کی طرف دیکھا…. وہ تو سگا تھا نا… اس کے والد محترم کا بڑا بھائی.
اس نے آنکھیں میچی…. جو تکلیف سے سرخ پڑ رہیں تھی جو اور وہ ساکت بیٹھی تھی اس کے باپ کا وجود سامنے پڑا تھا۔
ماں اندر چلی گئی تھی فون کرنے شاید کسی کو لاش ہٹانے کے لیے بلانے کے لیے……
کیا اس کے باپ کا بدلہ نہیں لیا جائے گا… کیا اس دنیا میں انہیں بے موت مارے جانے پر انصاف نہیں ملے گا…
رب العزت کیا تیری اس دنیا میں کوئی ایسا شخص نہیں جو انصاف دلائے ہم غریبوں کو….. آج پہلی بار اسے اپنے غریب ہونے پر افسوس ہوا تھا۔
اس نے اپنے اردگرد دیکھا اس کی ماں اندر کمرے میں موجود فون پر کسی پر چلا رہی تھی اس کا تایا سامنے چارپائی پر نشے میں جھول رہا تھا۔
اس نے ایک نظر سب کو دیکھا اور آسمان کی طرف دیکھتے گیٹ کو عبور کرتی باہر نکل گئی۔
باہر نکلتے ہی اس نے اردگرد دیکھا شام کا وقت ہونے کے باعث عورتیں باہر ہی کھڑیں تھی کچھ چھتوں پر کھڑی آپس میں گفتگو میں مصروف تھیں.
اس نے ایک نظر ان سب کو دیکھا ان کی نظر بھی اس کے بکھرے حلیے پر گئی تھی ہمیشہ اسے ان سب نے اچھی حالت میں دیکھا تھا آج وہ بکھرے حلیے میں کھڑی تھی۔
ربائشہ بٹیا کیا ہوا…؟
ان میں سے ایک عورت جو دروازے پر کھڑی تھی بولی۔
اس نے خالی نظروں سے اسے دیکھا اس کی ایسی حالت ہر سب باہر نکل آئیں تھیں۔
ابو…..اس نے کہنے کے ساتھ اپنے گھر کے چھوٹے سے دروازے کو دیکھا سب اس کی طرف متوجہ ہوئی۔
کیا ہوا بیٹا بتائیں تو….. ان کی گلی کا آخری گھر جہاں وہ عمر رسیدہ عورت رہتی تھی وہ بولی جو کہیں سے ابھی واپس آئی تھی۔
اس نے مار دیا میرے ابو کو….. وہ دروازے کی طرف انگلی کرتی جزبات سے عاری لہجے میں بولی۔
کس نے……؟ کون… کیا کہہ رہی ہو..؟
سب نے قدم اس کے گھر کے دروازے کی طرف بڑھائے، ساتھ کھینچ کر اسے بھی لائے تھے۔
اندر کا منظر دیکھتے سب کی آنکھیں پھٹی۔۔۔۔اس کی ماں جو اندر تھی اب وہ بھی باہر نکل آئی۔۔۔۔
اتنے لوگوں کو دیکھ کر اس نے تھوک نگلا اور سوچنے لگی۔
یہ ۔۔۔۔اس لڑکی نے دیکھو۔۔۔کیا کیا۔۔۔۔!!
اپنے ہی باپ کو مار دیا۔۔۔۔وہ جھٹ سے اس کے باپ کے پاس بیٹھتی بین کرنے کے انداز میں چیخی۔
ماحول میں سکتہ چھا گیا۔۔۔۔ربائشہ نے اس عورت کو دیکھا جو گرتی چلی جا رہی تھی۔
لوگوں میں اب چہ مگوئیاں ہونے لگی۔۔۔۔کچھ مرد حضرات بھی جمع ہو گئے تھے۔۔۔۔وہ جس کا سر کبھی ننگا نہیں ہوا تھا آج بکھرے بالوں کے ساتھ وہاں بے حال کھڑی تھی۔
اس دنیا میں اس کا ایک باپ ہی تھا جو اس پر نظرِ ثانی کیا کرتا تھا۔۔۔وہ اکلوتا سہارا بھی نہ بچا تھا اس کے پاس۔
پولیس کو فون کرو۔۔۔۔۔میرا منہ کیا دیکھ رہے ہو۔۔۔؟
وہ چلا کر بولی۔۔۔۔۔۔اس نے میرے شوہر کی جان لے لی۔۔۔۔۔وہ اونچی چیختی پاگل لگ رہی تھی۔
پروین بیگم بس کرو۔۔۔۔۔تمہاری بیٹی ہے وہ۔۔۔اور کوئی اپنے ہی باپ کو کیوں مارے گا۔۔۔؟
ایک ہمسائی عورت نے کہا۔
کیوں نہیں مارے گی۔۔۔۔۔یہ لڑکی اپنے عاشق کے ساتھ شادی کرنا چاہتی تھی۔۔۔اس کا باپ نہیں مان رہا تھا۔۔۔۔وہ چاہتا تھا کہ اس کی شادی میرے بھتیجے سے ہو۔۔۔۔لیکن نہیں اِسے امیر آدمی چاہیے تھا۔۔۔۔اس کے باپ نے منع کیا اور دیکھو اس نے نفرت اور اپنے دو ٹکے کی محبت کے زعم میں اپنے باپ کو ہی مار ڈالا۔
اب پورا محلہ کھڑا اس کی سوتیلی ماں کو اس کی کردار کشی کرتا دیکھ رہا تھا۔۔۔۔کچھ کی آنکھوں میں اس بیس سالہ لڑکی کے لیے تاسف تھا، کچھ کی نظر میں ہمدردی اور کچھ کی نظر میں شک۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کچھ گھنٹوں میں ملتان تھا۔۔۔۔لوکیشن ٹریس کر لی گئی تھی اس لیے وہ وہاں تھا۔
سر لوکیشن اب شو نہیں ہو رہی۔۔۔۔۔
ڈیممم۔۔۔۔۔۔۔
اس نے سامنے پڑا کافی کا مگ اٹھا کر پھینک دیا۔۔۔۔۔کافی اس کے ہاتھ پر بھی جھلکی تھی لیکن پرواہ کسے تھی۔
اس بار نہیں ۔۔۔۔۔۔!
اس نے آنکھیں بند کر کے کھولی جن کی سرخی وقت کے ساتھ بڑھتی چلی جا رہی تھی۔
وہ لڑکی اسے زلیل کروا رہی تھی۔۔۔۔۔اپنے پیچھے اب سے نہیں ڈیڑھ سال سے۔۔۔۔۔وہ جب تک اس تک پہنچتا تھا وہ وہاں سے غائب ہو جاتی تھی۔
وہ کیوں بھاگ رہی تھی اس سے۔۔۔۔۔۔
کیوں منت تبریز شاہ۔۔۔۔کیوں۔۔۔؟ بھاگنا کیوں جب جانتی ہو کہ میری ہی دسترس میں آنا ہے تمہیں ۔۔۔۔۔
اب کی بار تمہیں ڈھونڈ لوں گا ۔۔۔اس نے خود کو باور کروایا۔۔۔۔۔
اسٹیشنز اور ائیر پورٹس دونوں پر وہ لڑکی نظر آئے تو تم لوگ بہتر طریقے سے جانتے ہو کیا کرنا ہے۔۔۔۔۔
جس سر۔۔۔۔۔۔اس کے لوگ پھیل گئے تھے ۔۔۔اس بار وہ خود آیا تھا سے ڈھونڈنے اب کی بار ممکن نہ تھا اس کا بچ پانا۔
لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ اب خود اس کے سامنے آجائے گی۔
اس نے فون نکالتے ایک فون ملایا۔۔۔۔
یزدانی۔۔۔۔
ہمم ۔۔۔۔۔
تو جانتا ہے نا ان دونوں کی لوکیشن۔۔۔۔؟
نہیں۔۔۔۔۔
تو جھوٹ بول رہا ہے ۔۔۔۔تیری بیوی ہے وہ۔۔۔۔مت بھول۔۔۔۔۔۔اور تو تو اس کے ہر رات اور صبح کی خبر رکھتا ہے۔
تبریز شاہ کو اندازہ ہوا گیا تھا کہ وہ لڑکی جس نے فون کیا تھا وہ درید کی بیوی تھی۔
لیکن کیا بتانا تھا اسے؟؟
پر یہ غلط ہے شاہ۔۔۔۔۔
کیا غلط ہے۔۔؟
میری بیوی ہے وہ۔۔۔اور تو نے بھی تو اپنی بیوی کی حفاظت کے لیے لاگ ہائیر کیے ہیں۔۔۔۔یہ جانتے ہوئے کہ اسے یہ سب نہیں چاہیے۔۔۔۔
شاہ میری بات سن۔۔۔۔
مجھے کچھ نہیں سننا۔۔۔۔۔لوکیشن بتا ہسپتال کی نہیں تو مجھے سارے ہسپتال چھاننے میں بھی کوئی مسئلہ نہیں۔۔۔۔۔
تو چھان لے۔۔۔۔میرے کندھے پر بندوق رکھ کر مت چلا۔۔۔
تجھے اس دوستی کی قسم درید۔۔۔۔جگہ کا نام بتا۔۔۔اس کی آواز کی تھکاوٹ محسوس کرتے اس نے فوراً اسے جگہ بتا دی تھی۔
بھیج رہا ہوں لوکیشن۔۔۔۔لیکن اس کے بعد جو ہوا اس کا زمیدار تو ہو گا۔۔۔۔۔یزدانی نے تھک کر کہا۔۔۔اب اپنے دوست کو تڑپتا بھی نہیں دیکھ سکتا تھا۔
اس کے لوکیشن بھیجتے ہی اس نے گاڑی دوڑائی تھی۔
ہسپتال پہنچتے ہی اس نے ریسیپشن سے پتا کیا تھا۔۔۔
منت تبریز شاہ یہاں ایڈمٹ ہیں؟
ویٹ کریں سر میں چیک کر کے آپ کو بتاتی ہوں۔۔
جلدی کریں وقت نہیں ہے میرے پاس اس نے کہا تو نرس نے اس سنجیدہ سے بارعب شخص کو دیکھ کر ہاتھوں کی انگلیاں تیزی سے دوڑائی کی بوڈ پر۔
نہیں سر۔۔۔۔
یہ ممکن نہیں۔۔۔۔دوبارہ چیک کرو۔۔۔۔
سر منت تبریز شاہ نہیں مگر منت وقار نام کی۔۔۔۔
کہاں ۔۔۔۔روم نمبر۔۔۔۔؟ وہ فوراً حرکت میں آیا تھا۔
روم نمبر ای سیون۔۔۔۔۔نرس کے کہنے سے پہلے وہ بھاگ گیا تھا۔
پورا ای بلاک چیک کیا تھا اس نے۔۔۔۔۔۔۔۔اور اس کمرے میں جہاں ڈاکٹروں نے اس کے ہونے کی تصدیق کی تھی وہ وہاں بھی نہیں تھی۔
ڈیم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔منتتتت۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے جا کر کیمراز کی فوٹیج چیک کی تھی جس سے پتا لگا تھا کہ کچھ لمحے پہلے چادر میں موجود دو عورتیں پیچھے کے گیٹ سے روانہ ہو گئیں تھی۔
دونوں کے چہرے واضح نہ تھے لیکن وہ جانتا تھا کہ یہ وہیں ہیں۔
اس نے سامنے لگی سکرین پر ہاتھ مارتے زمین پر گرائی۔۔۔۔۔۔۔وہ پاگل ہو رہا تھا۔۔۔۔
ایک ایک لمحے کا بدلہ لوں گا میں تم سے منت۔۔۔۔۔یاد رکھنا۔
