No Download Link
Rate this Novel
Last episode
محبت عشق دھوکا اور فریب ( season 1 )
قسط 33 حصہ دوم ( Last episode )
از قلم انعم رئیس
پلیزز ہمارا یقین کریں یار’ وہ ہاتھ جوڑ کر اس مغرور اور انا پرست انسان کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھی تھی اپنے عشق کی بھیک مانگ رہی تھی یہ وہ تھی جو ایسے انا پرست لوگوں کو اپنے پیر کے جوتے کی نوک پر رکھتی تھی اور آج وہ خود کسی کے پیر کی دھول بن گئی تھی وہ شخص اسے روندھنا چاہتا تھا
‘میں میر گیلانی ولد انصار گیلانی اپنے پورے ہوش و حواس میں لالہ رخ بنتِ اسابیل عثمانی کو طلاق دیتا ہوں
طلاق دیتا ہوں
طلاق دیتا ہوں’ اور یہاں لالی کے جڑے ہاتھ زمین کو لگے تھے روندھ گیا تھا وہ شہزادہ اسے اپنے پیروں تلے
‘لیکن میر طلاق تو ہوگی نہیں’ علی نے لالی کے چہرے پر نظریں ٹکراتے ہوئے کہا
‘کیوں’ میر نے پوچھا
‘کیونکہ تمہارا نکاح تو اس سے ہوا ہی نہیں تھا’ اور یہاں علی نے ایک اور دھماکہ کیا تھا لالی کہ سر پر لالی کی بے یقین نظریں میر کے چہرے پر تھیں
‘ہاں ایک اور سچ تو رہ ہی گیا وہ یہ کہ میں نے تم سے نکاح اوپس جھوٹا نکاح کیا تھا کیونکہ میں تم سے کوئی بھی رشتہ نہیں بنانا چاہتا تھا وہ مولوی یاد ہے جسے امان اللہ لایا تھا وہ مولوی بھی جھوٹا تھا میں نے اس میں اپنی پیدائشی تاریخ فون نمبر حتی کہ ساری معلومات غلط دی تھیں اور پھر وہ مولوی نکاح کی جو دعا ہوتی ہے وہی غلط پڑھ کر گیا تھا تو ہمارا نکاح کیسا ہوسکتا ہے میری بیوقوف شیرنی’ میر اسکے سامنے پنجوں کے بل بیٹھ کر بولا تھا تبھی حال میں رابیعہ خان داخل ہوئی تھی لالی اسے دیکھ کر سیدھی کھڑی ہوئی
‘ارے آؤ رابی اپنی کبھی نا ہونے والی سوکن سے ملو’ میر نے رابیعہ کو پاس بلایا تھا ہاتھ کے اشارے سے لالی رابی کو یہاں دیکھ کر سخت حیرت میں مبتلا ہوئی اور یہ سوکن…
میر کھڑا ہوا اور رابی کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اپنے بائیں کندھے سے اسکا دایاں کندھا جوڑا
‘Lala Rukh meet my wife Rabia Khan oops Rabia Gillani’
لالی کو لگا صرف اسکے ہونٹ ہلے ہوں اسکے کان سن ہوگئے تھے
‘پوچھو گی نہیں یہ نیک کام ہم نے کب کیا وہ یاد ہے جب میں نے تم سے اپنا بلیک تھری پیس سوٹ پریس کروایا تھا اسی دن ہم دونوں نے شادی کی تھی’ لالی کو اس دن کی تمام فلم اپنی آنکھوں کے سامنے گھومتی ہوئی محسوس ہوئی تھی یہ کونسے سچ تھے زمان بابا دانی بھیا اور امی نے کونسے گناہوں کی سزا دی تھی اسے یوں پھر اپنی ماں کی بددعا یاد آئی تو خود اذیتی سے مسکرا بھی دی رابیعہ نے حیرت سے اسکی مسکراہٹ دیکھی تھی پھر خود بھی مسکرائی شاید دماغ چل بسا ہے لالی کا
(تو جیت ہی گئی میں کہا تھا نہ میں چھیننا جانتی ہو میں نے جنید کی قربانی کو رائیگاں نہیں جانے دیا مل گیا آخر میر گیلانی مجھے جیت لی میں نے کائنات اور تم ہمیشہ کی طرح اکیلی ہی سڑو گی میری محبت کو چھیننے کے جرم میں لیکن شاید زندہ ہی نہ رہو) رابیعہ کی پرسوچ نگاہیں اسکے چہرے کو اسکین کررہیں تھیں
(میں اپنے دوست کے لیے ہر حد پار کر جاؤں گا پھر چاہے مجھے اس کیلئے گرنا ہی کیوں نہ پڑے اور پھر یہاں تو صرف جھوٹ بولنے تھے) علی حقارت سے سر جھٹک گیا
(تو فائنلی ختم ہوئی عشق کی کہانی) میر سوچ رہا تھا کہ اب وہ اسے تھپڑ مارے گی اور بددعا دے گی لیکن وہ یہ بھول گیا تھا کہ وہ لالی ہے وہ لالی جس نے اس کے لاڈ اٹھائے تھے
لالی نے آنسو صاف کیے اور علی کی طرف قدم بڑھائے اور اسکے بلکل سامنے جاکر کھڑی ہوئی
‘ہم نے سنا ہے عشق کی دنیا میں آپ بھی قدم رکھ چکے ہیں لیکن حد یہ ہے کہ آپ اسکو نہیں جانتے یہ پھر جانتے ہیں’ لالی نے اپنی بات مکمل کرکے اسکی آنکھوں میں دیکھا جہاں صرف سوال تھے ‘مطلب نہیں جانتے’ لالی نے اپنا فون اٹھایا گیلری کا ایپ اوپن کیا اور اسکے ہاتھ میں پکڑایا ‘ہم نہیں چاہتے آپ عشق میں رانجھا بن جائیں لیں کیا یاد رکھیں گے کس سخی سے پالا پڑا ہے آپکا آپ نے صرف بہن بولا تھا لیکن ہم بہن ہونے کا فرض نبھا رہے تھے’ وہ اپنا فون اسکے حوالے کرتی میر کی طرف بڑھی تھی پیچھے علی نے بے چینی سے موبائل کھول کر دیکھا تو ساکت رہ گیا اس میں پری کی پکچرز تھیں اسکا کونٹیکٹ نمبر سب
‘ہئے میر اتنے بوجھ لگے تھے تو کہہ دیتے خود چل کر پولیس اسٹیشن آتے اور اپنا ناکردہ گناہ بھی قبول کرتے صرف آپ کیلئے لیکن اب ہم ایسا کچھ نہیں کریں گے اب ہم صرف تماشا دیکھیں گے اور ہاں رہی بات بددعا کی یا تھپڑ کی تو ہم یہ دونوں کام نہیں کریں گے ہمارے پرورش کرنے والے لوگ اتنے عام نہیں ہیں’ لالی کہتی ہوئی رابیعہ کی طرف مڑی جو اسے تنزیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی تبھی میر کے اشارے پر ایک کونسٹیبل لالی کی طرف بڑھی اور اسے ہتھکڑی پہنانے لگی
‘کبھی ہمارا دل کرا نہ بددعا دینے کا تو ہم دل کو سمجھائیں گے کہ جس کے پاس رابیعہ خان اوپس رابیعہ گیلانی جیسی بیوی ہو پھر اسکو بددعا نہیں دیا کرتے اب تو دعا دینے کا دل کررہا ہے ہمارا کیونکہ جس دن سچائی عیاں ہوئی نہ آپ دونوں ہر (رابیعہ اور میر پر اشارہ کیا) اس دن آپ دونوں ایک دوسرے کیلئے ہی خطرہ بن جائیں گے’ وہ اسے ہتھ کڑی پہنا چکی تھی لیکن یہ کیا ہتھکڑی کہ ساتھ آنکھوں پر پٹی بھی باندھی گئی تھی اور پیروں میں بیڑیاں بھی ڈال دی تھیں لیکن وہ آنکھیں بند ہونے سے پہلے کچھ بہت واضح دیکھ چکی تھی اور بی جان کے کمرے کی جلتی لائٹ تھی اور اوپر کھڑے وہ سارے لوگ تھے یقیناً میر نے سب کو سچائی بتا دی تھی
لالی کو اس گھر میں سر پر ہاتھ شفقت بھرا ہاتھ رکھ کر لایا گیا تھا اور اس گھر سے اسے نکالا تو نا تو وہ شفقت بھرا ہاتھ تھا نا نام کے ساتھ کسی کا نام تھا نا خوشی تھی بس آنکھوں پر بندھی وہ سیاہ پٹی ہاتھوں میں لگی ہتھ کڑی اور پاؤں میں پڑی بیڑیاں تھیں کتنا شور اٹھا تھا جب وہ اس گھر میں آئی تھی اور اب اتنا ہی سناٹا تھا کتنی خوش تھی وہ میر نے اسے آسمان سے زمین پر لا پٹخا تھا کیا یہ تھی ہماری اوقات تھوڑی ہی دیر میں لالی کو پولیس وین میں بٹھایا تو کسی نے اسکے کان میں سرگوشی کی تھی
“Happy Anniversary”
اور یہ سرگوشی میر گیلانی کی تھی
اداسیوں کا یہ موسم بدل بھی سکتا تھا
وہ چاہتا، تو میرے ساتھ چل بھی سکتا تھا
وہ شخص جسے تو نے چھوڑنے میں جلدی کی
ترے مزاج کے سانچے میں ڈھل بھی سکتا تھا
وہ جلد باز! خفا ہوکر چل دیا، ورنہ
تنازعات کا کچھ حل نکل بھی سکتا تھا
انا نے ہاتھ اٹھانے نہیں دیا
ورنہ میری دعا سے وہ پتھر پگھل بھی سکتا تھا
تمام عمر تیرا منتظر رہا محسن
یہ اور بات، کہ رستہ بدل بھی سکتا تھا
❤️
ہاں اچھے ہیں زندگی کے باب بہت
محبت عشق دھوکا اور فریب بہت
زندگی درخت ہے تو نصیب پتّے ہیں
کچھ پھل کڑوے ہیں تو کچھ ہیں میٹھے بہت
ختم شد………🥀
