Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1

محبت عشق دھوکا اور فریب
قسط 01
از قلم انعم رئیس

ایک کہانی محبت کی ایک کہانی عشق کی ایک کہانی سچ کی ایک کہانی دھوکے کی ایک کہانی فریب کی ایک کہانی ظلم کی ہاں یہ کہانی ہے ایک انسان کی معاشرے کی ایک لڑکی کی……
ہزاروں لوگ بدقسمت ہوتے ہیں اس دنیا میں کچھ پیدا ہوتے ہی بدقسمت کہلائے جاتے ہیں اور کچھ لوگوں کو بڑی فرست سے بدقسمت بنایا جاتا ہے اچھی قسمت کی جھلک دکھا کر بدقسمتی نصیب میں لکھ دیتے ہیں …… قسمت یہ قسمت ہوتی کیا ہے سنا تو اسکے بارے میں بہت ہے پر یہ ہوتی کیا ہے قسمت محض ایک لفظ ہے لیکن ہوتی تو یہ کچھ نہیں ہم نے بیشتر لوگوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ وہ اپنی قسمت خود لکھیں گے ارے وہ کیا ہم سب اپنی قسمت (destiny) خود لکھتے ہیں ہم جو آج اپنے ساتھ کر رہیں ہیں نہ کل وہی آکر آپکے گلے کا پھندا بنتا ہے اور ہم میں سے کچھ بعض پرست لوگ تو ایسے ہیں جو اسے قسمت کا لکھا سمجھ لیتے ہیں…..ہونہہ….. حالانکہ کیا دھرا انکا خود کا ہی ہوتا ہے اسی لئے ہم سب اپنی قسمت خود لکھتے ہیں ورنہ اگر وہ خدا رب العزت ہماری قسمت لکھتا نہ تو آج ہم اتنے پیشیمان نہ ہوتے
ان الانسان لفی خسر
بے شک انسان خسارے میں ہے

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا
اگر اور جیتے رہتے، یہی انتظار ہوتا
تیرے وعدے پر جئے ہم، تو یہ جان جُھوٹ جانا
کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا!
یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح
کوئی چارہ ساز ہوتا، کوئی غم گسار ہوتا
یہ مسائل تصوّف، یہ ترا بیان غالب
تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا
(مرزا غالب)

💜💜

لالہ رخ زمان شاہ عرف لالی
شوخ چنچل اور بولنے میں توبہ ایک تو بولتی بہت ہے اوپر سے چیخ چیخ کر بولنے سے سر پھری اور دیوانوں کی فہرست میں آتی ہے اور اسی بات پر اپنی امی جان سے کبھی کبھار صلواتیں تو کیا پٹ پٹا بھی جاتی تھی یہ تو ہوگیا مزاج اب آتے ہیں صورت پر۔۔۔۔۔
بھولی سی صورت آنکھوں میں مستی👀
ہاں بھئی وہی والی صورت
گندمی رنگت بڑی بڑی ہیزل رنگ کی آنکھیں اور ان پر گھنی پلکوں کا سایہ اور ان میں بسنے والی شرارت چھوٹی سی کھڑی مغرور ناک چھوٹے چھوٹے سے گلابی ہونٹ اور ان پر رہنے والی ہمہ وقت مسکراہٹ اور چہرے پر چھائی معصومیت اور نور قد تھوڑا چھوٹا ہے ہیزل رنگ کے ہی لمبے سلکی بال خوبصورتی کا ایک نمونہ

اپنے گھر والوں سے بے پناہ محبت کرنے والی انکے لئے ہر حد سے گزر جانے والی اپنے باپ کا غرور اپنی ماں کیلئے (entertainment) کی دکان بقول لالی کہ اپنے بھائی کی جان اپنی بہن کی جگری دوست۔۔۔اور اپنے دوستوں پر جان دینے والی کراچی میں رہنے والی عشق و محبت پر یقین کرنے والی لیکن یہ یقین آگے جاکر بہت کچھ چھیننے والا ہے

💜💜

رابیعہ خان عرف رابی (خوبصورت ترین چڑیل)
مغرور مزاج سب کو اوقات میں رکھنا شاید پسندیدہ مشغلہ ہے انکا…..ہونہہ…. خوبصورتی اٹریکٹ کرتی ہے انہیں امیر گھرانے کی بگڑی ہوئی اولاد دینی دنیا سے دور ویسے تو مسلمان ہیں لیکن حقیقت میں کئی رنگ ہیں انکے پوری ناگن ہے توبہ جسے پانے کا سوچ لے پھر اسے پاکر چھوڑتی ہے اور نفرت بھی لیول کی کرتی ہے تو سوچو محبت میں تو کیا ہی کرے گی
گورا دودھیا رنگ بڑی بڑی ہرن جیسی آنکھیں جن میں کاجل کی لکیر سچ کا منہ بولتا آئینہ تھیں……اف…….. کھڑی ناک بھرے بھرے لال گال گلاب کی پنکھڑی جیسے ہونٹ آواز ایسی کے کانوں میں رس گھول دے دونوں گالوں پر پڑنے والے ڈمپل درمیانا قد شولڈر کٹ ڈائی بال اسکی خوبصورتی کو اور بڑھاتے تھے…..بس اور نہی لکھ سکتے اسکی خوبصورتی پر۔۔۔۔۔۔
اپنے باپ کی اکلوتی اولاد کروڑوں کی اکلوتی وارث اپنے باپ سے بے پناہ محبت کرنے والی چڑیل…..اوپس…..رابی🤭

💜💜

علی اسماعیل ہمدانی (ہینڈسم ڈاکٹر)
ڈاکٹر تو بہت ہوتے ہیں مگر ہینڈسم ڈاکٹر نہیں کیونکہ بعض لوگوں کی خوبصورتی میڈیکل پڑھتے پڑھتے ختم ہو جاتی ہے یہ موصوف پتہ نہیں کیسے بچ گئے خیر شوخ چنچل کھانے کے شوقین گھر کا آدھا سامان تو یہ کھا جاتے تھے۔۔۔۔
گندمی رنگت درمیانی کالے رنگ کی آنکھیں جن میں چھائی مستی کھڑی مغرور ناک 6 فٹ قد خوبصورت طرز سے چہرے پر سجی سنت رسول (صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم ) کسرتی جسم اتنا کھانے کے بعد بھی فٹ حد ہے
اپنی ماں کا پیارا بیٹا اپنے باپ کا دوست اور اپنے بھائیوں جیسے دوستوں پر جان دینے والا کراچی کے ایک ہاسپٹل میں ہارٹ سرجن

💜💜

جنید فروز غزالی
عشق نے کر دیا نکما غالب
ورنہ بندے بڑے کام کے تھے
یہ شعر حقیقتاً انہی کے لئے بنا ہے ہم نے اکثر سنا ہے کہ محبت میں اندھے ہو جاتے ہیں بلکل جی یہ بھی اندھے ہی ہیں
پتہ نہیں ایسا کیوں ہوتا ہے،
ہم جس پر اعتبار کرتے ہیں،
وہ ہمیں اندھا کیوں سمجھتا ہے۔
کم گو سب سے پیار کرنے والا رحم دل انسان عورتوں کی عزت کرنے والا اگر یہ عشق نہ کرتے تو ان میں کوئی کمی نہ تھی انکی سب لوگ عزت بھی بہت کرتے تھے
گندمی رنگت تیکھے نین نکوش اور چہرے پر سجی ہلکی داڑھی اور ہمہ وقت قائم رہنے والی سنجیدگی جو انہیں سب سے منفرد بناتی تھی
اپنی ماں کا چشم و چراغ اپنے دوستوں کی جان باپ کا سایہ محض 10 سال کی عمر میں ہی سر سے اٹھ گیا تھا تب سے آج تک اپنی ماں کو اکیلے سنبھالا وقت نے سنجیدہ کردیا ہزاروں دکھ سہے کراچی کی ایک کمپنی کے اونر لیکن عشق نے ابھی اور بھی بہت کچھ ہرانا تھا

💜💜

میر گیلانی
کچھ لوگ ہوتے ہیں جن کا مزاج اپنے کام کے مطابق ہوتا ہے بلکل جی یہ بھی وہی ہیں محترم ایس۔ایس۔پی ہیں اور آپ کو تو پتا ہے پولیس والے کیسے ہوتے ہیں سڑیل اکڑو گھمنڈی لیکن اپنی فیملی کیلئے ایک الگ ہی میر ہے جس میں صرف پیار ہی پیار ہے
سرخ و سفید رنگت درمیانی آنکھیں ان پر بڑی بڑی سایہ فگن پلکیں لال عنابی ہونٹ مغرور ناک گھنے بال اور چہرے پر سجی سنت (رسول صلی اللہ علیہ وسلم) جو آج کل فیشن میں آگئی ہے 6 فٹ 3 انچ قد اس پر کسرتی جسم۔۔۔۔
جوائن فیملی کا چراغ اپنے باپ سے بے پناہ محبت کرنے والا اپنے بھائیوں کیلئے انکی ماں اپنی اکلوتی بہن کا سب کچھ اپنے دوست جنید کے لئے جان دے دے تو علی کے لئے دل ہتھیلی پر رکھ دے امیر کبیر گھرانہ لاہور کے رہنے والے لیکن ٹرانسفر انکا کراچی میں ہوگیا تھا اور جگری دوست بھی وہیں تھے لیکن کبھی بھی چھٹّی لے کر گھر آجاتا تھا عشق و محبت کی دنیا سے دور بقول میر کے لیکن یہ قسمت بھی بہت کچھ سوچ بیٹھی ہے

💜💜

یہ منظر ہے ایک بار کا جہاں امیر امیر گھرانوں کے چشم و چراغ اسلام سے دوری اختیار کر کے لڑکیوں کے ساتھ ہر حد پار کر رہے تھے جہاں لڑکیاں تنگ لباس میں خود کو آسمان سے اتری پریاں سمجھ رہی تھیں شرم و حیا کہیں دور جا سوئی تھی عجیب اسلامی ملک ہے کہنے کو تو اسلامی ہے لیکن حرکتیں استغفرُللہ

انہی سب لڑکیوں میں وہ خوبصورت چڑیل بھی شامل تھی بلیک ٹائٹ جینز اس پر اسکائے کلر کی ہالف سلیوز شرٹ اور کھلے ڈائے بال میک اپ کے نام پر لائنز اور مسکارا لگا کر آنکھوں کو اور دلکش بنایا گیا تھا اور ہونٹوں پر پنک گلوس اور گالوں کو ہائی لائٹ کیا گیا تھا اُف ہزاروں آنکھیں اس پر تھیں لیکن وہ تھی ہی مغرور جانتی تھی کتنے لوگ اسے دیکھ رہے ہیں لیکن ہمیشہ کی طرح خود کو ہر چیز سے لاتعلق دکھایا یہ نہیں تھا کہ لالی حُسن میں رابیعہ سے کم ہو اسکے چہرے کا نور اور معصومیت اسکو منفرد بناتے تھے۔۔۔۔۔۔

اتنے میں جنید بار میں انٹر ہوا یہ نہیں تھا کہ وہ اس طرح کا لڑکا تھا بس یہ تو انکا عشق تھا رابی سے جو انہیں کھینچ لاتا تھا ایسی جگہوں پر کیونکہ وہ رابی کو اچھے سے جانتا تھا ناقابلِ قبول کپڑے پہن کر لوگوں کی توجہ کا مرکز بنتی تھی جو وہ نہیں چاہتا تھا عشق ہی اسکا اس قدر تھا (جنید نے رابی کو پہلی بار سڑک پر گاڑی خراب ہونے کی وجہ سے باہر ٹہلتے ہوئے دیکھا تب ہی موصوف دل ہار بیٹھے لیکن رابی کو جنید میں کوئی انٹرسٹ نہیں تھا کیونکہ وہ تو کسی اور پر دل ہار بیٹھی تھی لیکن پھر بھی وقت گزاری کیلئے جنید کو بوائے فرینڈ کے رتبے پر فائز کیا تھا اور جنید اسکو محبت مان بیٹھا تھا آہ۔۔۔۔۔۔۔محبت)

اس نے چاروں اطراف نظریں گھما کر رابی کو ڈھونڈا تو رابی ایک لڑکے کے ساتھ انتہائی قریب تھی اسکو دیکھ کر لگ رہا تھا کہ وہ نشے میں دُھت سامنے کھڑے لڑکے کی باہوں میں جھول رہی تھی اور وہ لڑکا بھی اسکی کمر میں بازو ڈالے اسکے بے حد نزدیک ہوکر اسکی گردن پر جھکا ہوا تھا یہ دیکھ کر جنید کا دماغ بھک سے اُڑا غصّے سے دماغ کی رگیں واضح ہوئیں تھیں اپنی متاعِ جاں کو کسی اور کی باہوں میں دیکھ کر اور وہ بھی اتنے نزدیک غصے میں تن فن کرتا اس لڑکے کے سر پر جا پہنچا اور رابی کو کھینچ کر اس کی باہوں سے الگ کیا اس طرح کرنے سے رابی اسکے سینے سے آلگی تھی آور ایک خونخوار نظر اس لڑکے پر ڈالی
‘She is Mine now get lost’
اور رابی کو اپنی بازوؤں میں اٹھا کر اپنی گاڑی میں لاکر فرنٹ سیٹ پر بیٹھایا اور خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھکر کار اسٹارٹ کی اس وقت غصّے سے برا حال تھا پہلے رابی کو اسکے گھر پہنچایا

پھر دوبارہ بار میں جا پہنچا اب تو ہڈّی پسلی توڑنے کا وقت تھا جیسے ہی وہ لڑکا بار سے نکلا اسکے پیچھے وہ بھی نکلا جنید نے پہلے اپنا منہ رومال سے ڈھکا پھر اسکے آگے آکر اسکا راستہ روکا روہن(لڑکا) اس سے بری طرح ٹکرایا اس نے سیچوئیشن سمجھنے کی کوشش کرنی چاہی کیونکہ وہ تھا نشے میں ٹُن اس سے پہلے کچھ سمجھتا ایک پنچ ناک پر آلگا وہ ناک سنبھالنے کی کوشش کرتا کہ جنید نے اسکے پیٹ میں ایک زور دار لات ماری وہ زمین پر جا گرا پھر اس پر ایک کے بعد ایک پنچ کی برسات کی منہ کا نقشہ بدلنے کے بعد سکون ملا تو نظر ہاتھ پر لگے زخم پر پڑی

💜💜

‘بس کردیں ڈاکٹر صاحب اور کتنا کھائیں گے’

‘تم تم میرے کھانے پر نظر لگا رہے ہو نوالے گن رہے ہو میرے اتنے سارے مریضوں کو دیکھ کر مجھے خود مریض جیسا فِیل ہورہا ہے کہیں میں مر ہی نہ جاؤں جاؤ ایک پلیٹ اور بریانی لے کر آؤ جلدی جاؤ اللّٰہ میرا بلڈ پریشر لو ہورہا ہے’ علی نے دوہائی دی

‘ تین پلیٹیں بریانی اور ایک پلیٹ کڑاھی آپ کھا چکے ہیں اب تو بلڈ پریشر نے بھی رفتار پکڑ لی ہوگی ہوٹل والے کے پاس بھی جاتے ہوئے مجھے شرم آتی ہے میں نہیں جاؤں گا آپ رحیم کو بھیج دیں’

‘ارے اس سے تھوڑی دیر پہلے سموسے منگوائے تھے نہ اب وہ دوبارہ نہیں جائے گا’

” کیاااااااااااا………..” ‘میں کام نہیں کروں گا اس ہسپتال میں وارڈ بوائے ہوں یہاں کا آپکا پرسنل سیکرٹری نہیں مجھے تو لگتا ہے آپ پر جن کا سایہ ہے میں کامران بنگالی بابا کا نمبر دوں گا آپ کو ایک جھاڑو ماریں گے سارے جن نکل جائیں گے مجھے تو دو تین جنوں کا سایہ لگتا ہے’

جاری ہے……….