Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 21

محبت عشق دھوکا اور فریب
قسط 21
از قلم انعم رئیس

‘یہ اسکارف ہاں یہ اسکارف لالی نے پہنا تھا اور یہ کس کے گھناؤنے چہرے کے راز فاش کررہی ہے’ پری لالی کو پہچان گئی تھی
پری دانیال زمان صاحب اور شبانہ بیگم نیوز چینل دیکھ رہے تھے پری نے سب کو اکھٹّا کیا تھا
‘میر گیلانی کہا ہے نہ اس نے’ شبانہ بیگم کو لگا شاید سننے میں غلطی ہوئی ہو
‘ہاں’ دانیال نے گہری سانس لی
‘لیکن یہ کر کیا رہی ہے ہو کیا رہا ہے یہ کونسا زبردستی کا نکاح اور یہ میر پر ایسے الزام کیوں لگا رہی ہے’ شبانہ بیگم کنفیوژ ہوگئیں تھی
‘ایک منٹ آپ لوگ ایس ایس پی میر گیلانی کو جانتے ہیں؟’ پری نے نیوز چینل پر میر کی تصویر کی طرف اشارہ کیا
‘لالہ رخ کا نکاح ہوا ہے اس سے’ زمان صاحب سر جھٹک کر گویا ہوئے
‘واٹ اس شخص کا آپ نے میری بہن سے نکاح کردیا’ پری تو سکتے میں چلی گئی تھی کون نہیں جانتا تھا میر گیلانی کو اور اسکے بے رحم دل کو پری کو تو لالی کی فکر ہوگئی تھی
‘اس شخص سے کیا مراد ہے تمہارا’ دانیال کو اپنے دوست کے بارے میں ایسے خیال پسند نہیں آئے تھے
‘بھائی یہ شخص دل کی جگہ پتھر رکھتا ہے فیلنگ لیس ہے بلکل ہی اور میری بچاری بہن کو اس خشک انسان کے ساتھ باندھ دیا’ پری نے رولا ڈالا
‘لیکن لالی نے یہ کیوں کیا ہے جانتی بھی ہے یہ کہ کیا ہوسکتا ہے اسکے ساتھ میر بھائی اپنی ڈیوٹی کیلئے بے حد حساس ہیں’ دانیال کو فکر جاگی
‘بےوقوفی پر بے وقوفی نہ جانے یہ کہاں کہاں ہمارا نام ڈبوئے گی’ شبانہ بیگم بھی پریشان ہوگئیں تھیں
‘مجھے لگتا ہے لالی نے یہ سب کچھ سوچ کر کیا ہے اتنا بڑا خطرہ تو وہ کبھی مول نہیں لے گی’ زمان صاحب لالی کی فطرت سے اچھے سے واقف تھے کسی سے بدلہ لینا ہو تو ایسا بدلہ لیتی تھی کہ سامنے والا حیران رہ جاتا اور دوبارہ اسے چھیڑنے کی غلطی نہ کرتا
‘کل یہی لڑکا لالی پر الزام لگا رہا تھا اور آج یہ اس پر الزام لگا رہی ہے کہیں یہ لڑکا تو جھوٹ نہیں بول رہا تھا کل’ شبانہ بیگم گھبرائیں کہیں کچھ غلط فیصلہ تو نہیں کردیا
‘نہیں اب ایسا بھی نہیں ہے یہ آدمی جتنا خشک مزاج ہے اتنا ہی اچھا بھی ہے آپ نے انکی بہادری کی داستانیں ابھی سنی نہیں ہیں’ پری اب میر کی سائیڈ ہوگئی تھی
‘ہاں امی صحیح کہہ رہی ہے یہ میر بھائی میرے دوست بھی ہیں کل ہی کی بات ہے لالی پولیس اسٹیشن گئی تھی تو انہوں نے ہی بتایا تھا مجھے’ دانیال نے سب کے سروں پر دھماکہ کیا
‘لالہ رخ پولیس اسٹیشن گئی تھی’ زمان صاحب کا دل ڈوب کر ابھرا گھر کی عزت پولیس اسٹیشن میں یہ بات ہی بے چین کررہی تھی
دانیال نے سب کو ساری بات سے آگاہ کیا تو سب تھوڑا پرسکون ہوئے تھے لیکن ان لوگوں کو کیا پتا کہ یہاں تو معاملہ ہی پورا الگ ہے
💜💜

‘لالہ رخ’ علی بھاگتا ہوا اسکے پاس پہنچا
لالی نے آنکھیں کھولیں
‘تم یہاں کیا کررہی ہو اور یہ سب کیا ہورہا ہے’ علی نے لالی کو کرسی پر بٹھایا میر لب بھینچ گیا تھا اپنی کونسٹیبل کی یہ حالت دیکھ کر
‘ایک منٹ علی بھائی’ لالی نے ایک نظر علی کو دیکھ کر میر کی طرف متوجہ ہوئی
‘آپ’ شہادت کی انگلی سے میر کی طرف اشارہ کیا ‘اپنی کونسٹیبلز کو لڑنے کے طریقے بھی سکھائیں زرا ایسے کوئی ریمانڈ لیتا ہے’ لالی اٹھ کھڑی ہوئی اور ادھر ادھر چکر لگانے لگی حالانکہ جو اسکی حالت تھی اس میں کھڑا رہنا بھی مشکل تھا لیکن نہیں سامنے تو لالی تھی
علی لالی کی بات پر ٹھٹھکا اور میر کو بے یقینی سے دیکھا جو لالی کو کھا جانے والی نظروں سے گھور رہا تھا
میر لالی کی طرف بڑھا اور اسکا گلا دبوچ کر دیوار سے لگاگیا وہ اس وقت شدید طیش میں تھا اپنے اوپر لگے الزامات سن کر
‘میر کیا کررہا ہے چھوڑ اسے’ علی چیخا ابھی آگے بڑھتا کہ لالہ رخ نے ہاتھ کے اشارے سے منع کیا
‘میرا دل چاہ رہا ہے تمہیں زندہ گاڑدوں میرے دوست کو مار کر سکون نہیں ملا تمہیں’ میر دھاڑا اپنی گرفت اور مظبوط کی لالی کی گردن پر لالی کا دم گھٹنے لگا تھا آنکھوں سے پانی آنا شروع ہوگیا تھا ہمت پھر سے ختم ہورہی تھی لیکن اسے ابھی بھی نہیں ہارنا تھا لالی نے نظریں اٹھاکر میر کی آنکھوں میں دیکھا جسکی آنکھیں بےانتہا لال تھیں سانسیں اکھڑنے لگی تھیں لالی کی
لالی نے اپنا کانپتا ہاتھ اسکے سینے پر دل کے مقام پر رکھا اور دباؤ ڈالا میر کو لگا جیسے کسی نے اسکا دل مٹھی میں جکڑ لیا ہو ایک جھٹکے سے لالی کو چھوڑا وہ وہیں ٹیک لگاتی زمین سے بیٹھتی چلی گئی
میر کا ہاتھ بے اختیار اپنے دل پر گیا تھا وہ پیچھے ہوتا ٹیبل سے ٹکرایا علی میر کی طرف بڑھا اور ایک نظر لالی کو دیکھا کیا کیا تھا اس نے ایسا
‘کیا ہوا میر’ علی میر کی طرف بڑھا جو لالی کو دیکھ رہا تھا وہ گہرے گہرے سانس لے رہی تھی
‘کک…کچھ نن…نہیں ہواا انہیں بببس ہلکا سا دل کی مقام پر ہاتھ رکھ کر ہلائیں ااایس ایس پی صاحب ٹٹٹ…ٹھیک ہو جائیں گے’ لالی کو آکسیجن کی کمی لگی تھی فضا میں پاس پڑا اپنا بیگ اٹھایا پانی کی بوتل نکالی اور گٹاگٹ پانی کے گھونٹ چڑھائے
میر نے لالی کے مطابق دل پر ہاتھ رکھ کر ہلکا سا ہلایا تو وہ بلکل ٹھیک ہوگیا تھا یہ کیسا داؤ تھا یہ تو کبھی اس نے بھی نہیں سیکھا تھا ٹریننگ میں
‘کیا تم مجھے یہ بتاؤ گے کہ یہ سب کیا ہورہا ہے؟’ علی نے میر سے پوچھا
‘وہ لڑکی …وہ لڑکی کوئی اور نہیں یہی ہے’ میر کی بات پر علی کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا اسنے بے یقینی سے لالی کی طرف دیکھا جو اپنے بیگ میں کچھ ڈھونڈ رہی تھی
‘لالی’ علی نے لالی کو بلایا
‘ہماری کوئی غلطی نہیں ہے ہم نے تو بس رولز فولو کیے ہیں
According to Newton’s third law every action has an equal reaction’
لالی نے دانتوں کی نمائش کی
علی اور میر دونوں کو ہی کچھ سمجھ نہیں آیا تھا
‘مطلب یہ کہ انہوں نے کل ہمارے کردار پر کیچڑ اچھالی تھی ہم نے تو بس حساب برابر کیا ہے’ لالی ایسے بولی جیسے اس کیلئے یہ کوئی بڑی بات نہیں تھی
علی کیا کہتا وہ تو دونوں کو دیکھ کر رہ گیا دونوں ہی ایک سے بڑھ کر ایک تھے کہاں پھنس گیا تھا وہ
میر آگے بڑھا اور اپنے بیلٹ سے لگی ہتھ کڑی نکال کر لالہ رخ کے دونوں ہاتھوں میں پہنائی اور باہر لاکر اسے پولیس اسٹیشن میں بنے ایک ٹیمپرری جیل میں بند کردیا اس بار تو علی بھی کچھ نہیں بولا تھا اس بار وہ کچھ اور کرنے کا سوچ رہا تھا کیونکہ اب ایک ہی شخص تھا جو ان دونوں کو سنبھال سکتا تھا
لیکن کون؟
💜💜

چھوٹو آیا تھا آج پولیس اسٹیشن سب کو چائے پلانے لالی کے واقعے کو بھی دو دن گزر گئے تھے وہ ابھی تک سلاخوں کے پیچھے تھی نیا نیا تھا اس کیلئے سب اس لئے عجیب تھا لیکن انٹرسٹنگ بھی تھا اپنے پڑوسی بھائی سے دوستی بنالی تھی نہ جانے کون تھا کل رات کو ہی آیا تھا نشے میں ٹُن تھا اس نے لالی کو چھیڑنے کی کوشش کی تھی لالی نے بھی گھما کر ایک مارا تھا تب سے وہ اسے لالی باجی کہہ رہا تھا
میر بھی اپنے کیبن سے نکل کر باہر کھڑا تھا اور کچھ فائلز چیک کررہا تھا تبھی چھوٹو اسکے لئے چائے لایا تھا
‘بھائی لڑکیوں کو بھی بند کرتے ہیں آپ؟’ چھوٹو لالی کو دیکھ کر زور سے بول گیا
لالی جو اندر بیٹھی بور ہورہی تھی اس نے بھی اسکی آواز سن لی تھی
‘کیوں یہ مردانہ جیل ہے؟’ جواب لالی کی طرف سے آیا تھا
‘نہیں کبھی کسی لڑکی کو نہیں دیکھا تھا یہاں اسلئے’ چھوٹو نے سر کھجاتے ہوئے کہا
‘ارے اس میں کونسی کوئی بڑی بات ہے اب دیکھ لو اور شوق پورا کرلو’ لالی بات کو بڑھاوا دینا چاہتی تھی
‘چھوڑو اسے تم اور چائے دو’ میر نے چھوٹو سے کہا تو چھوٹو نے چائے کا کپ آگے بڑھایا
‘چھوٹو زہر بھی ملادیتے تھوڑا آسانی ہوجاتی اوپر جانے میں’ لالی کی زبان افف
‘اور سب سے پہلے وہ چائے میں تمہیں پلاتا اور تم ایک کام کرو پھر سے ٹیپ لگادو اسکے منہ پر’ میر نے ماریہ سے کہا
‘لڑکی اپنی سہیلی کا حال بھول گئی ہو کیا ویسے کیسی ہے وہ اب’ لالی مزے سے بولی تھی کیونکہ ماریہ کا رنگ سفید ہوگیا تھا کیسی لڑکی تھی پولیس والوں کو دھمکیاں دیتی تھی
‘تمہیں پتا ہے ایک قاتل کی سزا کیا ہوتی ہے’ میر نے سیل کے قریب جاکر سرسراتے لہجے میں کہا اس کے سوال سے پورا پولیس اسٹیشن خاموش ہوا تھا
‘موت’ لالی کا ایک لفظی جواب
‘اسکے بعد بھی پرسکون ہو’ میر کی بات پر لالی نے سر جھٹکا
‘نیا نیا قتل ہوا ہے نہ اسلئے’ لالی لاپرواہی سے بولی
اس انکشاف پر پورا پولیس اسٹیشن سکتے میں تھا یہ چھوٹی سی لڑکی قاتل ہے
‘کب مانو گی کہ تم نے قتل کیا ہے’ میر نے چائے کا گھونٹ بھرتے ہوئے کہا
‘ہم نے کوئی قتل نہیں کیا اگر کوئی ایسا ثبوت ہے جو ہمیں گناہگار ثابت کرتا ہے تو چڑھا دو پھانسی پر’ ازلی لاپرواہی
‘لیکن تم نے ابھی کہا کہ نیا نیا قتل ہوا ہے’ حارث جلدی سے بولا
‘ہم نے کہا تھا نیا نیا قتل ہوا ہے نیا نیا قتل کیا ہے یہ نہیں’ لالی کی بات پر سب کا سکتا ٹوٹا صحیح کہہ رہی تھی وہ
لالی نے دیکھا سب اسی کو دیکھ رہے تھے پھر اسے میر پر لگے الزام یاد آئے
‘ویسے ایک بات بتائیں ایس ایس پی صاحب الزام ہٹ گئے کیا آپ پر سے’ لالی نے آنکھوں کا فوکس میر کی طرف کیا
‘نہیں کوئی الزام نہیں ہٹا ویسے تو میں یہ سوچ رہا ہوں کہ سر کو کوئی لڑکی مل کیسے گئی خودکشی نہیں کی اس نے ابھی تک’ حارث نے پرسوچ لہجے میں کہا میر نے اسے گھورا
‘لڑکی مل نہیں رہی تھی تبھی زبردستی دھمکا کر شادی کی ہے ویسے بھی عمر ہوگئی ہے’ لالی نے میر کا مزاق اڑایا پولیس اسٹیشن میں دبی دبی ہنسی کی آوازیں گونجیں سب کی میر کا غصہ بڑھنے لگا تھا
‘ہاں تو دیکھو زرا سفید بال نکل آئے ہیں’ لالی نے اسکے کالے سیاہ گہنے بالوں پر چوٹ کی
‘عقل نے بھی ساتھ دینا بند کردیا ہے ورنہ اب تک اپنے اوپر لگے الزامات ختم کر چکے ہوتے کیوں ایس ایس پی صاحب’ لالی نے میر کو اکسایا
میر ابھی اسے کرارا سا جواب دیتا کہ اسکا فون بجا اس نے فون کان پر لگایا کمیشنر کا فون تھا
💜💜

علی نے اپنا کام کردیکھایا تھا اب وہ سوچ رہا تھا کہ آگے کیا ہونا ہے ایک سیر تھا تو دوسرا سوا سیر
میر نے لالی کو اسکے ماں باپ کے سامنے رسوا کیا لیکن لالی نے تو اسے پورے پاکستان میں بدنام کیا تھا
اب وہ صرف دعا کرسکتا تھا کہ ان دونوں کی نیّا پار لگ جائے اور یہ کام کرنے کے ساتھ ساتھ کھانے کا کام بھی بخوبی کررہا تھا
اور دوسری طرف پری کے بارے میں بھی سوچ رہا تھا
‘پتا نہیں تم مجھے ملوگی بھی یا نہیں’ علی اپنے
خیالوں میں پری سے محو گفتگو تھا

اوہ میرے سپنوں کی رانی کب آئے گی تو
چلتی جائے زندگانی کب آئے گی تو
چلی آتو چلی آآآ
وہ گنگناتا ہوا پری کی تصویر دیکھ رہا تھا جو اسنے چھپکے سے اسی دن لے لیتی جب وہ پری سے ملا تھا
💜💜

‘ہمیں یقین نہیں آرہا کہ میر نے یہ حرکت کی ہے’ بی جان سخت شرمندہ تھیں اپنی تربیت پر
‘کیا کروں میں اس لڑکے کا سب سے زیادہ بھروسہ مجھے اس پر تھا لیکن اب لگ رہا ہے کہ سب سے بڑھا گدھا اور نالائق بھی یہی ہے’ انصار صاحب بھی شرمندہ تھے
انکی بات پر وجدان حمدان اور ریان نے اپنے کالر کھڑے کیے
انکے پاس میر کا نکاح نامہ آگیا تھا جو علی نے بھیجا تھا اور اس نے میر کے نکاح پر صداقت کی مہر لگائی تھی باقی یہ کہا تھا کہ وہ میر سے پوچھ لیں کیونکہ علی نے یہ سب بی جان کے سپرد کرنے کا سوچا تھا
بس تب سے نکاح نامہ ٹیبل پر رکھا تھا اور باقی سب اسکے پاس گول دائرہ بنا کر بیٹھے تھے اور ایک تنقیدی نظر نکاح نامے پر ڈال رہے تھے
‘لڑکی اور میر کی عمر میں فرق ہے بلکہ یہ تو اپنی فری کی عمر کی ہے’ ساجدہ بیگم نے نکاح نامے کو دیکھ کر کہا
‘ارے یہ تو میری ایج کی ہیں مطلب اب کوئی اور بھی ہوگا جو میرے برابر کا ہوگا’ فری خوش ہوگئی تھی کیونکہ سب اسے چھوٹا سمجھتے تھے
‘ اب میں نے سوچ لیا ہے مجھے کیا کرنا ہے بہت کرلی اس گدھے نے اپنی من مانی’ انصار صاحبِ باہر چلے گئے تھے انکے پیچھے شیراز صاحب اور فہیم صاحب بھی نکل گئے تھے
‘بی جان اب کیا ہوگا’ رواحہ آگے آئی
‘اب ہونا کیا ہے بڑی بہو آگئی ہے اس گھر کی لیکن ابھی تک سسرال نہیں آئی بس اب اسے ہی بلوانا ہے’ بی جان مسکرائیں
❤️

باہر شیراز صاحب انصار صاحب اور فہیم صاحب ضروری بات کررہے تھے
‘نہیں مجھے نہیں لگتا میر کوئی ایسی حرکت کرے گا یقیناً کوئی وجہ رہی ہوگی’ شیراز صاحب صاف گوئی سے بولے
‘جو بھی ہو لیکن اسے ایک دفعہ ہم لوگوں کو تو بتانا چاہئے تھا اب بچے اتنے بڑے ہوگئے ہیں کیا جو ہم سے چھپانے لگے’ انصار صاحب کو بھی میر کی طرح غصّہ بہت آتا تھا لیکن وہ اپنے غصے پر قابو پانا جانتے تھے
فہیم صاحب کا فون بجا تو دیکھا کمیشنر آصف کا فون تھا جو ان کے دوست بھی تھے
انصار صاحب نے فون پر کمیشنر صاحب کو سب سمجھا دیا تھا وہ بھی مان گئے تھے کیونکہ میر کی ریپوٹیشن خراب ہوگئی تھی کافی اس لئے اسے سزا تو دینی تھی
💜💜

دوسری طرف میر کمیشنر صاحب کی باتیں سن رہا تھا اور سخت شرمندہ ہورہا تھا لالی تو بس اسکے تاسرات دیکھ رہی تھی اور دل ہی دل میں اپنی کامیابی پر خوش ہورہی تھی اسے لگ رہا تھا کہ اسے سسپینٹ کردیا ہے
‘سر لیکن’
‘بس میر اب تم واپسی کا سامان پیک کرو اور گھر کیلئے نکلو شکر کرو کہ تمہیں سسپینٹ نہیں کیا بس ٹرانسفر کیا ہے’ کمیشنر صاحب نے سخت لہجے میں کہا
(یہ سب انصار صاحب نے کہا تھا کہ میر کا ٹرانسفر کردیں لاہور میں)
‘اوکے سر’ وہ اور کہہ بھی کیا سکتا تھا
لالی نے اسے فون بند کرتے دیکھ جلدی سے بولی
‘اوہ چلو بھئی مبارک ہو تم سب کو اس کھڑوس اور سڑیل انسان سے تم لوگوں کا پیچھا چھوٹ گیا’ لالی خوشی سے چہکی
‘مطلب’ حارث نے پوچھا
‘ارے بھئی تمہارے سر کو سسپینٹ کردیا گیا ہے ایکسپائر ہوگئے اوہ ہمارا مطلب ہے کہ ریٹائر ہوگئے ہیں نہ اسلئے’ لالی کی بات سن کر سب نے میر کو دیکھا
‘بکواس بند کرو میں سسپینٹ نہیں ہوا ہوں بس ٹرانسفر ہوا ہے’ میر نے لالی کے ارمانوں پر بھر بھر کر پانی پھیرا
لیکن اس بات پر تو پورے پولیس اسٹیشن میں خوشی کا ماحول چھا گیا تھا سب کے چہروں سے خوشی چھلک رہی تھی میر اپنے کیبن میں کیا گیا لوگ تو ایک دوسرے سے گلے ملنے لگے تھے
لالی کو تو لگ رہا تھا جیسے آج عید ہے وہ سمجھ رہی تھی میر یہاں اسکو ایسے ہی چھوڑ کر چلا جائے گا پھر وہ رات کو بھاگ جائے گی جیل سے
‘دیکھا ہماری وجہ سے تم لوگ کتنا خوش ہوگئے نہ’ لالی سب کو خوش دیکھ کر چہکی ‘اوئے تم ڈرپوک پولیس والی ہمیں بھی کھول دو پھر ساتھ ملکر بھنگڑا ڈالیں گے’ لالی ماریہ سے بولی
‘سر ابھی گئے نہیں ہے یہیں ہیں تو سنو سب لوگ کل میری طرف سے پارٹی ہے’ یہ حارث تھا
‘ہوووووو’ اور اسکی بات پر چیخنے والی لالی تھی
‘کیا ہورہا ہے یہاں جا رہا ہوں مرا نہیں ہوں’ میر دھاڑا تو سب لوگ ادھر ادھر ہوئے
💜💜

میر کے پاس بی جان کی کال آئی تھی
‘سلام بی جان’
‘وسلام میر’ بی جان کی خفا خفا سی آواز تھی
‘کیا ہوا سب ٹھیک ہے’ میر نے پوچھا
‘آپ ہمیں یہ بتائیں کہ آپ کی زندگی میں ہماری کوئی اہمیت بھی ہے’ بی جان سخت خفا تھیں
‘بی جان کیا ہوگیا ہے کیسی باتیں کررہی ہیں آپ جانتی ہیں کہ میرے لئے آپ کتنی ضروری ہیں’ میر تڑپ ہی تو گیا تھا انکی بات پر
‘تو اس طرح جلد بازی میں نکاح کرنے کی کیا تُک بنتی ہے’ بی جان نے اسکے سر پر بمب پھوڑا ‘ارے نہ کوئی ڈھول بجا نہ کوئی شہنائی بجی نہ ہم لوگوں کو بلایا ارے میاں ہم پوچھتے ہیں کہ نکاح تھا یا سوگ تھا’ بی جان نے میر کو لتاڑا
‘بی جان آپ کو کیسے پتا چلا’ میر کے گلے میں گلٹی ابھری
‘مطلب آپ ہمیں یہ بات بتانا ہی نہیں چاہتے تھے’ بی جان نے اسکی چوری پکڑی
‘ارے نننن…نہیں نہیں میں تو آپ کو ہاں سرپرائز کرنا چاہتا تھا آپ لوگوں کو بہت جلدی تھی نہ میری شادی کی’ میر نے بات بنائی
‘بیٹا یہ سرپرائز کرنے والے کام آپکے نہیں ہیں’ وہ بھی بی جان تھیں
‘بی جان میں آکر آپ کو سب سچ بتادوں گا’ میر کو یہی ٹھیک لگا تھا
‘نہیں اب ہم سب سچ اپنی بہو سے جانیں گے کل کے کر آئے گا اپنے ساتھ نہیں تو گھر میں گھسنے نہیں دیں گے’ بی جان نے کہتے کے ساتھ ہی فون بند کیا
‘کہاں پھنس گیا ہوں میں لالہ رخ تمہاری وجہ سے میں ہر جگہ رسوا ہورہا ہوں اور وہاں سب کو کس نے بتائی یہ بات’ میر کا سوچ سوچ کر سر پھٹ رہا تھا
دوسری طرف لالی لاشعوری طور پر میر سے ہی محو گفتگو تھی
(تم نے ہمیں رسوا کیا تھا بدلہ پورا ہوا میر گیلانی)
💜💜

میر نے دانیال کو میسج کرکے لالہ رخ کا سامان منگوا لیا تھا فلیٹ پر ہی رات ہوگئی تھی لیکن اسے کچھ ضروری کام سے پولیس اسٹیشن جانا تھا بلکہ وہ لالہ رخ کو بھی ساتھ ہی لانے والا تھا تاکہ وہ ریڈی ہوسکے کل جانے سے پہلے

دوسری طرف لالی رات میں بھاگنے کے منصوبے بنا رہی تھی
جیسے ہی رات کا ایک بجا پورا پولیس اسٹیشن خاموش ہوگیا تھا صرف دو تین لوگوں کی ڈیوٹی ہوتی تھی رات میں جو اس وقت سو چکے تھے بھاگنا آسان تھا
اس نے اپنے بالوں میں سے ہئیر پن نکالی اور سیل پر لگے تالے میں ڈالی اور چھ بار گھمائی اور ٹک سے تالا کھل گیا تھا
واپس پیچھے گئی اپنی چادر اٹھائی اور سر پر اوڑھ کر نقاب کیا سیل سے باہر نکل کر تالا واپس سے بند کیا اسکے بعد ایویڈینس روم میں جاکر اپنا بیگ اٹھایا اور دبے پاؤں باہر نکلی
لالی نے ابھی گیٹ سے ایک قدم باہر ہی نکالا تھا کہ کسی نے اسے پیچھے کی طرف کھینچا
میر پولیس اسٹیشن آیا تھا لالی کو سَیل میں نہ دیکھ کر ٹھٹھک گیا تھا مطلب محترمہ بھاگ گئی ہیں وہ ابھی باہر نکلتا کہ ایویڈینس روم سے کسی کی آواز آئی وہ سمجھ گیا تھا وہ وہیں ہے اسکے کچھ دیر بعد وہ باہر نکلی اور میر کو نہ دیکھ سکی اس سے پہلے وہ پولیس اسٹیشن سے باہر نکلتی میر نے اسے پیچھے کی طرف کھینچا
لالی سنبھل نہ سکی اور میر کے سینے سے ٹکرائی
میر پلر کے اوٹ میں تھا اسطرح کے اسکی کمر دیوار سے لگی تھی
‘آہ…کون ہو تم اور گئی رات کو پولیس اسٹیشن میں کیا کررہے ہو’ لالہ رخ اندھیرے کی وجہ سے سامنے والے کو دیکھ نہیں پائی تھی
میر نے اپنے ہاتھ اسکی کمر پر باندھے اور پھر گھوم کر اسے دیوار سے لگایا ایک ہاتھ پلر پر رکھا جب کہ دوسرے سے اسکی کمر کو تھاما ہوا تھا
‘میں کون ہوں؟’ وہ لفظ چبا کر بولا
‘یاداشت چلی گئی ہے یا ہمیں گوگل سمجھ رکھا ہے’
لالی کبھی خاموش نہیں ہوسکتی یہ بات تو طے تھی
‘تو تم کون ہو؟’ اب کی بار میر نے سوال پوچھا
‘ہم ہم یہاں کے ایس ایس پی میر گیلانی کی بیوی ہیں’ اسکے لہجے میں غرور جھلک رہا تھا
میر کچھ پل تو اسے ایسے ہی دیکھتا رہا پھر سر جھٹکا لیکن اسے نہیں چھوڑا تھا بلکہ اسکی کمر پر رکھے اپنے ہاتھ کو مضبوطی سے جھٹکا تو وہ اسکے اور نزدیک ہوئی لالہ رخ کے دونوں ہاتھ میر کے سینے پر تھے
لالہ رخ ڈر گئی تھی اب تو آئے دن کچھ نہ کچھ نیا ہورہا ہوتا تھا اب پتا نہیں یہ کونسی مصیبت تھی
لالی کو میر نے پہلی بار اتنے نزدیک سے دیکھا تھا ہلکی ہلکی سی روشنی پڑ رہی تھی اسکے چہرے پر وہ کتنی معصوم تھی اب کی بار تو میر کا دل کہہ رہا تھا یہ قتل نہیں کرسکتی لیکن وہ تو صدا کا پولیس والا ثبوتوں پر بھروسہ کرتا تھا
‘دور ہٹو کیا بے ہودہ حرکت ہے یہ ہم اب…’ وہ کچھ کہتی کہ میر نے اس پر اسی کا حربہ آزمایا مخصوص رگ دبا کر بے ہوش کیا
وہ چکراکر گری میر اسے اپنی باہوں میں اٹھا کر گاڑی میں لایا فرنٹ ڈور کھولا اور اسے بٹھایا پھر اسکا سیٹ بیلٹ لگایا اور پھر خود ڈرائیونگ سی سیٹ پر بیٹھ کر گاڑی سٹارٹ کی اور فلیٹ کے راستے پر ڈالی
💜💜

وہ فلیٹ کے باہر کھڑا تھا دروازہ بند تھا لالی کو نیچے اتارا اور ایک ہاتھ اسکی کمر میں ڈالا اور اسکے دانوں بازو اپنی گردن میں ڈالے وہ تو شکر تھا کہ لوگ سوگئے تھے ورنہ آج اسکی عزت کا کباڑہ ہونا تھا
دروازہ کھولا اور لالی کو دوبارہ گود میں اٹھایا اور اندر داخل ہوا اپنے روم میں گیا اور لالی کو لٹایا اس پر کمفرٹر ڈالا اور باہر آگیا
ابھی وہ صوفے پر بیٹھا ہی تھا اسکا فون بجا علی کا فون تھا
‘میر’ علی کی آواز سنائی دی
‘ہاں بولو’ میر تھکا تھکا سا بولا
‘کل تم دونوں کے ساتھ میں بھی جاؤں گا’ علی نے آرام سے کہا
‘کیوں’
‘میں لالی کے معاملے میں تم پر بھروسہ نہیں کر…’ وہ ابھی کچھ کہتا کہ میر نے بات کاٹی
‘تمہیں کیسے پتا کہ میں کل واپس جارہا ہوں اور لالی بھی میرے ساتھ ہوگی’ میر الجھا ‘ تم نے نکاح کے بارے میں سب کو بتایا ہے ہے نہ’ میر بات کی تہہ تک پہنچ گیا تھا
‘ہاں کیونکہ میں جانتا ہوں تم ایک نمبر کے بددماغ شخص ہو کہیں اسے جان سے ہی نا ماردو’ علی چبا چبا کر بولا
‘اچھا ٹھیک ہے باقی باتیں کل ہوں گی اللّٰہ حافظ’ میر نے جلدی سے فون کاٹا

جاری ہے……………