No Download Link
Rate this Novel
Episode 7
محبت عشق دھوکا اور فریب
قسط 07
از قلم انعم رئیس
‘لالہ رخ آج کل تم کچھ پریشان سی رہنے لگی ہو خیریت تو ہے نہ زیادہ پریشان کرتی ہو مجھے سب ٹھیک تو ہے کوئی پریشانی کی بات ہے تو بتاؤ مجھے’ شبانہ بیگم نے چاولوں میں بھگار لگاتے ہوئے پوچھا
‘نہیں بس پڑھائی کا مسئلہ ہے اور کچھ نہیں’ لالی نے خیالات کو جھٹکا
‘پڑھائی اور تم ہا اصل بات کرو بکواس نہ کرو’ انہوں نے سر جھٹکا
‘اچھا چھوڑیں یہ بتائیں محبت کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے’ لالی نے لفظوں کا چناؤ کیا
‘کیوں دل لگا بیٹھی ہو کیا’ وہ مسکرائیں
‘ہمممم محبت پیچھے پڑ گئی ہے کسی کی’ لالی سنجیدگی سے گویا ہوئی شبانہ بیگم نے تاصوف سے اسے دیکھا سنجیدہ تو کبھی تھی ہی نہیں وہ تو کیا واقعی اسے محبت۔۔۔۔۔۔۔۔۔
‘محبت پیچھے پڑ گئی ہے یا خود محبت کے دھاگوں میں الجھ گئ ہو’ انہوں نے اپنے دل کا خدشہ بیان کیا
‘ڈر لگ رہا ہے کہیں بددعاؤں کے زیرِاثر نہ آجائیں’ ڈر سچ ثابت ہوا تھا شبانہ بیگم کا لیکن انکی بیٹی اس بات سے ناواقف تھی یا سچ سے بھاگ رہی تھی
‘ہمم بددعا اسے لگتی ہے جو حق پر نہ ہو اور میری بیٹی تو ہمیشہ حق پر فیصلہ کرتی ہے تو ڈر کیسا’ بات آگے بڑھائی
‘محبت میں آپ حق پر ہوں یہ نہ ہوں محبت آپ کو کہیں کا نہیں چھوڑتی آخر یہ محبت ہمارے ہی پیچھے کیوں پڑ گئی ہے’ وہ جھنجھلائی
‘ہاہاہاہا محبت تو اندھا کردینے کا ہنر رکھتی ہے پھر وہ یہ نہیں دیکھتی کہ سامنے غریب گھرانے کی معصوم بیٹی ہے یا امیر گھرانے کا بگڑا ہوا رئیس زادہ محبت تو خدا کی طرح بے نیاز ہوتی ہے جب ہوجاتی ہے تو کمبخت رگوں میں اتر جاتی ہے’ انہوں نے محبت بیان کی تو کیا سامنے بیٹھی ہوئی لڑکی محبت سے بے نیاز تھی
‘لیکن کیا ہم محبت کو بانٹ نہیں سکتے سمجھوتا وغیرہ’ لالی نے پریشانی ظاہر کی شبانہ بیگم تو حیرت زدہ سی رہ گئیں
‘شادی شدہ انسان سے محبت کر بیٹھی ہو کیا یا دو بچوں کے باپ سے’ آنکھوں میں پریشانی ابھری
‘لا ہولا ولا قوت۔۔۔۔اب ایسے بھی نہیں ہیں ہم کہ کسی کے حق پر ڈاکا ڈالیں’
‘تو کیا منگنی شدہ سے محبت کر بیٹھی ہو’ شبانہ بیگم پھر پریشان ہوئیں
‘اتنا گیا گزرا سمجھ رکھا ہے اپنی بیٹی کو حد ہوتی ہے’
‘جہاں حدیں ختم ہوتی ہیں وہاں سے تمہاری حدیں شروع ہوتی ہیں بیٹا جی اب یہی دیکھ لو نہ جانے کس دوغلے انسان سے محبت کر بیٹھی ہو’ غصے نے آن گھیرا تھا
‘دوغلا تونہ کہیں اسے وہ اسکا ہمیں دیکھ کر احترام کرنا دوسری لڑکیوں سے نظریں نیچے کرکے بات کرنا لیکن ہمیں دیکھ کر نظریں اٹھا لیتا ہے ہائے وہ اسکا حق جتانا دھیما مزاج ٹھہر ٹھہر کر بولنا لہجہ میں صبر کا عنصر بھی نمایاں ہے اور صورت بھی خوبصورت ہے لیکن اخلاق کی بات ہی الگ ہے’ لالی کھوئے کھوئے انداز میں بولی
‘اگر اتنا اچھا ہے تو سمجھوتا کیوں’ اسکے آگے لالی لاجواب ہوئی
‘اچھا تصویر تو دکھاؤ’
‘نہیں’
‘کیوں’
‘جو نہیں کرنا چاہتے تھے اب وہی کریں گے’
‘کیا’
”عشق ہے ہمارا وہ لیکن نصیب کسی اور کا ہے
قسمت کچھ کہتی ہے اور دل صبر مانگتا ہے
کہاں جا کر منّت مانگیں اسکے نام کی
ہر دربار اور ہر مزار اسے بھولنے کی دعا دیتا ہے”
‘مشکل صفر ہے’
‘محبت امتحان مانگتی ہے امّی’
‘لیکن تم تو بھولنے کا کہہ رہی تھیں’
‘کیا پتا نصیب ترس کھا کر ہماری جھولی میں ڈال دے ہماری محبت’
‘بھول جاؤگی اسے’
‘پہلی محبت کون بھولتا ہے’
‘آخر چاہتی کیا ہو’
‘فصیحہ کی خوشی’
‘فصیحہ کہاں سے آگئی’ شبانہ بیگم جھنجھلائیں
‘ہاہاہاہاہاہا دوست ہے ہماری آگے پیچھے دائیں بائیں ہر جگہ وہی ہے’ لالی کے لہجے میں محبت تھی
‘مطلب فصیحہ بھی……’ شبانہ بیگم نے بات ادھوری چھوڑی تو لالی نے اثبات میں گردن ہلائی
‘میری بچی خدا تمہیں صبر دے’ انہوں نے اسے سینے سے لگایا لالی کی آنکھ سے آنسو نکلا اور شبانہ بیگم کے دوپٹے میں جذب ہوگیا
‘آمین ثم آمین’ لالی کے دل سے آواز نکلی
💜💜
گیلانی ہاؤس پر آج کی صبح نئی امیدیں لے کر آئی تھی کیونکہ آج یہاں کہ سپوتوں کے نکاح تھے پورے گیلانی ہاؤس میں افراتفری کا ماحول تھا اور سب سے زیادہ تو وہ چار پاگل ہورہے تھے جیسے آج ہی رخصتی ہو میر بھی جنید اور علی کے ساتھ آپہنچا تھا تینوں میر کے کمرے میں تھے
آخر کار نکاح کا وقت آہی گیا دلہنیں بنی ہوئی رواحہ سحرش فاطمہ اور فریہا آسمان سے اتری ہوئی پریاں لگ رہی تھیں
چاروں نے ایک ہی جیسی ڈریسنگ کی تھی سفید رنگ کی سادہ سی گھیر والی فراک ٹخنوں سے اوپر تک اس پر گولڈن کڑاہی کیا لال رنگ کا دوپٹہ سائیڈ کی مانگ نکالی ہوئی تھی اور اسی سائیڈ پر جھومر چھوٹے چھوٹے سے ٹوپس اور گلے میں لال ہی رنگ کا نیکلیس (سفید ہمارا فیورٹ ہے اس لئیے نو گلہ اینڈ نو شکوہ😁)
اور دولہے اہم اہم حمدان سفیان وجدان اور ریان دوپٹوں سے ملتے جلتے مہرون رنگ کی واسکوٹ سفید کرتے پر کسی ریاست کے شہزادے لگ رہے تھے
میر نے کالے رنگ کی فٹ سی شلوار قمیض پہنی تھی جس سے کسرتی جسم نمایاں ہوا مضبوط بائیں ہاتھ پر بندھی قیمتی گھڑی بالوں کا مخصوص اسٹائل چال میں واضح غرور سنجیدہ چہرہ انتہا کا اکھڑ مزاج اور سڑیل ایس ایس پی آج پرنس چارم بنا ہوا تھا
علی سفید رنگ کی شلوار قمیض اور پیروں میں پشاوری چپل اڑسے گاؤں کا وڈیرہ لگ رہا تھا
وہیں پر جنید نے سفید شلوار قمیض پر نیوی بلو کلر کی واسکوٹ پہنی تھی نرم مزاج خندہ پیشانی پر ایک بھی بل نہیں نظریں ہمیشہ کی طرح جھکی ہوئی وہاں موجود لوگ تو سمجھ سے باہر تھے دیکھیں تو دیکھیں کسے۔۔۔؟
💜💜
“رواحہ شیراز گیلانی بنتِ شیراز گیلانی آپکا نکاح حمدان گیلانی ولد انصار گیلانی کے ساتھ حق مہر پچیس لاکھ سکہ رائج الوقت طے کیا جاتا ہے کیا آپ کو قبول ہے”
‘قبول ہے’
‘کیا آپ کو قبول ہے’
‘قبول ہے’
‘کیا آپ کو قبول ہے’
‘ققق۔۔۔قبول ہے’ آخر میں ڈگمگائی لیکن سنبھلی اور بولی
💜💜
“سحرش شیراز گیلانی بنتِ شیراز گیلانی آپکا نکاح ریان گیلانی ولد انصار گیلانی کے ساتھ حق مہر پچیس لاکھ سکہ رائج الوقت طے کیا جاتا ہے کیا آپ کو قبول ہے”
‘قبول ہے’
‘کیا آپ کو قبول ہے’
‘قبول ہے’
‘کیا آپ کو قبول ہے’
‘قبول ہے’
💜💜
“فاطمہ فہیم گیلانی بنتِ فہیم گیلانی آپکا نکاح وجدان گیلانی ولد انصار گیلانی کے ساتھ حق مہر پچیس لاکھ سکہ رائج الوقت طے کیا جاتا ہے کیا آپ کو قبول ہے”
‘قبول ہے’
‘کیا آپ کو قبول ہے’
‘قبول ہے’
‘کیا آپ کو قبول ہے’
‘قبول ہے’
💜💜
“فریہا انصار گیلانی بنتِ انصار گیلانی آپکا نکاح سفیان گیلانی ولد فہیم گیلانی کے ساتھ حق مہر پچیس لاکھ سکہ رائج الوقت طے کیا جاتا ہے کیا آپ کو قبول ہے”
فری نے میر کا ہاتھ پکڑا کپکپاہٹ واضح تھی میر نے سینے سے لگایا
‘گڑیا جواب دو’
فری نے سر ہلایا تو میر کی آنکھوں میں نمی چمکی ریان وجدان اور حمدان بھی انہی کے پاس کھڑے تھے انصار صاحب نے فری کے سر پر ہاتھ رکھا تھا
‘کیا آپ کو قبول ہے’
‘ججج۔۔جی’ فری کی پکڑ میر کے ہاتھ پر مضبوط ہوئی
‘فری گڑیا کیا آپ کو قبول ہے’ انصار صاحب نے پوچھا
‘جی’
فری میر کے گلے کر خوب روئی تھی یہاں تک کہ وہ اسٹون مین بھی رو رہا تھا ان دونوں کو اس طرح دیکھ کر وہاں ہر ایک کی آنکھ اشک بار تھی
میر نے خود کو سنبھالا اور پھر فری کو
💜💜
اسکے بعد لڑکوں کا نکاح ہوا اور کچھ ہی دیر میں ہر جگہ مبارک باد کی سدائیں بلند ہوئیں تھیں
چاروں کے چہرے پر سے تو جیسے مسکراہٹ نے ڈیرہ ڈال لیا تھا
‘اتنا بھی نہ ہنسو کہ بتتیسی گر جائے’ علی بریانی کھاتے ہوئے جل کر بولا اسکی بات پر جنید کا قہقہ بلند ہوا
‘تم کیوں ہنس رہے ہو لگتا ہے تمہارا بھی نکاح ہونے والا ہے دوشیزہ پسند آگئی ہے کیا کوئی’ علی پھر بولا
(جنید نے ابھی تک کسی کو نہیں بتایا تھا کہ وہ رابیعہ سے محبت کرتا ہے)
‘نہیں لیکن تم کیوں جل رہے ہو ان بیچاروں سے’ جنید سنبھل کر بولا
‘بیچارے ماشاءاللہ سے نکاح شدہ ہوگئے ہیں ایک ہم تینوں ہیں چلو تیسرے کو تو اپنی نوکری سے ہی محبت ہوگئی ہے لیکن ہم دونوں کنوارے ہی مریں گے کیا’ علی نے دوہائی دی میر بھی وہیں آگیا
جاری ہے……………
